67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 67:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں (پوری کائنات کی) بادشاہی ہے اور وہ ہرچیز پر قادر ہے

اللہ تعالیٰ نے موت وحیات کو پیدا کیا ہے تاکہ تمہارے اعمال کی آزمائش ہو سکے 2 ؎ زندگی کو حیات یا حیات کو زندگی کہنا تو روا بھی ہے اور جائز و درست بھی اور یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس کو پیدا کرنے سے کیا مطلب ہے اور یہ بات کہ موت بھی مخلوق ہے اور اس کو پیدا کیا گیا ہے۔ ذرا سمجھنا اس کا مشکل ہے لیکن اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ موت چیز کیا ہے تو اس طرح کی ساری مشکل ہوا ہوجاتی ہے۔ اگر زندگی کا سمجھنا مشکل نہیں تو موت کا سمجھنا کیوں مشکل ہے ؟ زندگی ہے تو امر الٰہی ہے اور موت ہے تو الٰہی ہے ۔ گویا امر ہی کا نام زندگی ہے اور امر ہی کا نام موت ہے۔ پھر ایک کو سمجھنا آسان ہو اور دوسری کو سمجھنا مشکل ، آخر کیوں اور کیسے ؟ ذرا مزید غور کریں کہ اٹھنا بیٹھنا ، چلنا پھرنا ، کھانا پینا کیا یہ سب زندگی کے نشانات ہیں اور اس کا نام زندگی ہے تو پھر جب کوئی آدمی اٹھ نہ سکے ، نہ بیٹھ سکے ، نہ چل سکے اور نہ پھر سکے ، نہ کھا سکے اور نہ ہی پی سکے تو یہ سب کچھ موت ہے۔ اگر کسی نے اٹھنا بیٹھنا ، چلنا پھرنا دیکھنا ہے تو کیا نہ اٹھنا ، نہ بیٹھنا ، نہ چلنا ، نہ پھرنا سے ناواقف ہے۔ پھر جو کہتا ہے کہ زندگی تو سمجھ میں آتی ہے کہ اس کی تخلیق ہے لیکن موت کی سمجھ نہیں آتی کہ یہ مخلوق ہے اور یہ کہ اگر مخلوق ہے تو کیسے ؟ حالانکہ زندگی بعد میں ہے اور موت زندگی سے پہلے کیونکہ عدم کے بعد زندگی اور زندگی کے بعد موت تو پھر عدم کیا ہے ؟ موت کا دوسرا نام عدم ہے۔ زیر نظر آیت پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے موت کی تخلیق کا پہلے ذکر فرمایا اور زندگی یا حیوۃ کی تخلیق کا بعد میں اور دوسری جگہ قرآن کریم میں ارشاد اس طرح فرمایا گیا ہے کہ : کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِ اللہ ِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَـاَحْیَاکُمْج ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ( 2 : 28) ” اے افرادنسل انسانی ! تم کس طرح اللہ تعالیٰ سے انکار کرسکتے ہو جب کہ حالت یہ ہے کہ تمہارا وجود نہ تھا یعنی تم مردہ تھے ، اس نے تم کو زندگی بخشی اور پھر وہی ہے جو زندگی کے بعد موت طاری کرتا ہے اور موت کے بعد دوبارہ زندگی بخشے گا اور بالآخر تم سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے “۔ وضاحت اس کی عروۃ الوثقیٰ جلد اول میں سورة البقرہ کی محولہ آیت میں ملے گی ۔ اس جگہ مقصود بیان یہ ہے کہ جس چیز کو اس آیت میں موت کہا گیا ہے وہی زیر نظر آیت میں عدم ہے گویا عدم کہو یا موت کہو مقصود دونوں کا ایک ہے اور موت پہلے ہے زندگی بعد میں اور پھر موت بھی اس کا راز ہے اور زندگی بھی اس کا راز اور موت و زندگی کا راز ہی انسان کو یہ بتاتا ہے کہ اس کا اور ہرچیز کا گویا ایک خالق ہے۔ فرمایا یہ موت کے بعد زندگی اور زندگی کے بعد موت اور پھر زندگی کیوں ؟ خود ہی اس کا جواب بھی ارشاد فرمایا کہ تمہاری انسانوں کی آزمائش کے لیے کہ تم میں کون اچھے اعمال کرتے ہے اور کون ہے جو اچھے اعمال نہیں کرتا اور اس طرح یہ بھی واضح کردیا کہ دنیا کی کسی چیز سے اس کا مواخذہ نہیں کہ کون کیا کر رہا ہے ، اور کون ہے جو اچھے اعمال نہیں کرتا اور اس طرح یہ بھی واضح کردیا کہ دنیا کی کسی چیز سے اس کا مواخذہ نہیں کہ کون کیا کر رہا ہے ، اس مواخذہ کا مستحق بھی صرف اور صرف انسان ہی ہے اور اسی کے لیے یہ آزمائش ہے اور یہ بات پیچھے بہت سی جگہوں پر عرض کی جا چکی ہے کہ اس ساری کائنات کی تخلیق کا ماحصل انسان ہے کیونکہ جو کچھ اس میں پیدا کیا گیا ہے سب کا سب انسانوں ہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور وہی اس سے استفادہ کرتے ہیں اور کسی چیز کے پیدا ہونے سے اس چیز کا کوئی فائدہ نہیں ہے خواہ وہ تمہاری یہ زمین ہے اور خواہ اس کے علاوہ دوسری زمینیں ۔ اس طرح خواہ سورج اور خواہ چاند اور خواہ دوسرے سیارے اور اس طرح اس کائنات کی ایک ایک مخلوق پر غور کرتے جائو سب کے سب بولتے جائیں گے اور ہر طرف سے تم کو آواز آئے گی کہ میرے ہونے سے میرا کچھ بھی فائدہ نہیں ہے جو فائدہ ہے سراسر انسان کا ہے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ وہ العزیز ہے اور مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی اس کے سامنے ایسا نہیں جس کا اس کے سامنے زور چلے ۔ وہ سارے زور آوروں سے زیادہ زور آور ہے۔ اس لیے کوئی ایسا نہیں کہ اس کو وہ پکڑ نہ سکے اور اسی طرح کوئی ایسا نہیں ہے جو اس کی پکڑ سے بچ سکے۔ اس کے لیے صفت غفور کا ذکر کر کے وضاحت فرما دی کہ جو لوگ اس کے قانون کے مطابق اس کی مغفرت کے مستحق ہوں گے ان کی وہ مغفرت فرما دے گا اور وہ کسی دوسرے کی سعی و سفارش کے بغیر ہی اس بخشش کے حق دار ہوں گے۔ آگے چلنے سے پہلے ایک بار پھر مختصر وقت کے لیے اس پر مزید غور و فکر کرتے چلیں کہ اگر کوئی انسان سچے دل اور صحیح اور درست نیت کے ساتھ صرف اور صرف آیت کے اس حصہ پر غور کرے کہ : ( لیبلوکم ایکم احسن عملاً ) تو اس کو دوسری کسی بات پر سوچنے کی ضرورت ہی شاید نہ رہ سکے کیونکہ جس دل میں یہ احساس پختہ ہوجائے کہ یہ دنیا اس کے لیے امتحان گاہ ہے اور یہ حیات مستعار ہے اس کے لیے امتحان کی مدت ہے جو مقرر کردی گئی ہے اور امتحان لینے والا وہ ممتحن (Examiner) ہے جس نے یہ کارخانہ بنایا ہے اور اس کا انتظام اب بھی اسی کے اپنے دست قدرت میں ہے اور انسانوں کی ایک ایک حرکت سے وہ واقف ہے اور کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اس کے علم سے باہر ہو اگر یہ یقین پیدا ہوجائے تو کم از کم وہ شخص جس کو یقین حاصل ہو وہ تو کمی بیشی کر ہی نہیں سکتا اور نہ اس کی رغبت کسی گناہ کے کام کی طرف ہو سکتی ہے۔ پھر اگر کوئی کمزوری اس سے سرزد ہو ہی جائے تو وہ فوراً توبہ کرتا ہے اور جب وہ توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی نہیں جو توبہ قبول کرنے والا ہو۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام ؓ کی جس طرح تربیت فرمائی انہی بیانات میں سے ایک بیان مختصر طور پر آپ بھی سنیں لیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” اپنی صحت کی حالت میں بیماری کے لئے ، اپنی جوانی کی حالت میں بڑھاپے کے لئے ، اپنے فرصت کے اوقات میں مصروفیت کے لئے اور جب تک یہ مستعار زندگی ہے موت کے لئے ذخیرہ جمع کرلو۔ اس لئے کہ تو نہیں جانتا کہ کل تیرا کیا نام ہوگا “ آپ ﷺ نے یہ نصیحت عبد اللہ بن عمر ؓ کو فرمائی تھی لیکن نصیحت کوئی بھی ہو وہ سب کو برابر فائدہ پہنچاتی ہے جو اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہئے۔
Ayahs 67:2–3

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے کام کرتا ہے اور وہ بڑے غلبہ والا بہت ہی بخشنے والا ہے

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

(اے دیکھنے والے تو اچھی طرح دیکھ کہ) اس نے درجہ بدرجہ سات آسمان بنائے تو رحمن کی پیدائش میں کوئی فرق نہ دیکھے گا ، ذرا دوبارہ آنکھ اٹھا کر دیکھ کیا تجھ کو کسی جگہ بھی کوئی رخنہ نظر آتا ہے

اللہ وہ ذات ہے جس نے سات آسمان بنائے جن میں کوئی خلل نہیں ہے 3 ؎ (طباقا) اوپر نیچے اور تہ بہ تہ اور تہ در تہ کو کہتے ہیں۔ یہ باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔ فعل اس کا طابق یطابق آتا ہے ” مطابقت “ اسماء متضائفہ میں سے ہے۔ اس کے معنی ہیں ایک چیز کو دوسری چیز کے اوپر اس طرح رکھنا کہ اندازہ درست رہے اور وہ بالکل اس کے اوپر آئے۔ طباق ایک شے کو دوسری شے پر اس طرح رکھنے کو کہتے ہیں کہ اوپر کی چیز نیچے کی چیز کو ڈھانپ لے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اوپر کی چیز نیچے کی چیز سے اتنی بڑی ہونی چاہئے کہ اس کو ڈھانپ سکے اور پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بیان تھا اور یہ اس کی قدرت کی مدلل دلیل ہے اور بیان کیا جا رہا ہے کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جس کی قدرت کاملہ کی یہ کرشمہ سازی ہے کہ اس نے سات آسمانوں کو تہ بہ تہ اور اوپر نیچے بنا دیا ہے اور وہ ایک دوسرے سے بالکل جدا جدا ہیں اور ان کی صورت بکھری ہوئی نہیں بلکہ نہایت عمدگی کے ساتھ اوپر والے نے ان کو تخلیق کیا ہے اور ہر اوپر والے نے نیچے والے کو مکمل طور پر ڈھانپ رکھا ہے اور انسانوں کو دعوت دی گئی ہے کہ اے انسانوں اپنا سارا زور عقل و فکر اور طاقت وقدرت اور قوت خرچ کرنے کے بعد بھی کوئی تم میں سے ان کی آفرنیش میں خلل اور کمی و بیشی کو نہیں نکال سکے گا۔ ایک بار نہیں ، بارہا نگاہ اٹھا کر دیکھو تمہاری نگاہ تھک جائے گی لیکن ان میں کہیں بھی تم کوئی رخنہ تلاش نہیں کر پائو گے۔ (فطور) اسم فعل ہے جس کے معنی رخنہ ، شگاف اور عیب کے کئے جاتے ہیں۔ کس حدی اور چیلنج کے ساتھ دعوت دی گئی ہے کہ تمہارے اندر جتنا زور ہے سارا صرف کرلو لیکن تم اس میں کسی طرح کا کوئی رخنہ ، شگاف ، دراڑ اور کسی طرح کا عیب نہیں تلاش کر پائو گے لیکن اس کے باوجود تم اس کی قدرت کاملہ اور اس کی تخلیق کو تسلیم نہ کرو تو تمہاری مرضی کی بات ہے لیکن تمہاری یہ مرضی اور یہ ہٹ دھرمی آخر کب تک رہے گی ؟ اس وقت تک جب تک تم کو جو مہلت دی گئی ہے اس کو پورا نہ کرلو اور پھر جونہی وہ مہلت پوری ہوگئی تو تم کو واپس بلا لیا جائے گا اور تمہاری جگہ دوسروں کو آزمائش کے اس میدان میں اتار دیا جائے گا اور یہ سلسلہ برابر چلتا رہے گا جب تک اس کا چلتے جانا اللہ کو منظور ہے اور یہ دعوت اسی طرح سب کے لئے جاری رہے گی کہ آئے اور آزمائے ہم کو جس کا جی چاہے ، اور جو سوال ہم نے اٹھایا ہے کہ کوئی تمہارے پاس ایسا ہے جو اس میں دراڑ ، شگاف اور رخنہ یا عیب دکھا دے۔ سائنس چاہے کتنی ترقی کرتی جائے جو کچھ اس نے کیا ہے اس کو ایک سو سے مزید ضرب دی جائے تو بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کا جواب دے سکے۔
Ayah 67:4

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

پھر بار بار آنکھ اٹھا کر دیکھ (ہر بار) تیری نگاہ ناکام تھک کر تیری طرف لوٹ آئے گی (لیکن کوئی فتور نظر نہیں آئے گا)

فرمایا بار بار آنکھ اٹھا کر دیکھو تمہاری نگاہ تھک جائے گی لیکن تم کسی کی نشاندہی نہیں کرسکو گے 4 ؎ دنیا کے اندر یہ ترقیاں اور یہ ایجادات جو اس وقت تک ہوچکی ہیں بلاشبہ اس وقت نہیں تھیں جب یہ اعلان کیا گیا تھا لیکن قرآن کریم کے ابدی تسلیم ہونے کے ثبوت میں یہ بات بالکل کافی ہے کہ ان حالات میں جو اس نے اعلان کیا آج تک بدستور وہ اسی حالت میں موجود ہے اور رہتی دنیا تک موجود رہے گا۔ سائنس چاہے جتنی ترقی کرلے اور آسمان و زمین کی مخلوق کا آپس میں الحاق (Colloboration) شروع ہوجائے جو ابھی تک دریافت بھی نہیں ہوسکی اور پھر یہ اوپر اور نیچے کی ساری مخلوق مل کر اس کا کوئی توڑ پیش کرنے کی کوشش کرے یقینا مخلوق خالق کے سامنے کمزور نکلے گی اور اس کا نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا۔ جو چیلنج کیا گیا ہے اس کا توڑ ممکن ہی نہیں ہے۔ زیر نظر آیت میں کس صفائی اور کس غیر مبہم طریقہ سے کہا جا رہا ہے کہ تم اپنی نظریں اٹھائو اور پھر بار بار اٹھائو تمہاری نظریں خائب و خاسر واپس لوٹ آئیں گی اور تم تھک ہار کر بیٹھ جائو گے لیکن تمہیں کوئی عیب تلاش کرنے میں کامیابی نہیں ہوگی۔ جو ہم نے بنا دیا ہے اس سے بہتر کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ کیا کوئی عقل و فکر اس کا اندازہ لگا سکتی ہے کہ اس دنیا میں رہنے والا انسان جو دنیا تمہارے اس سورج سے بھی کئی گنا چھوٹی ہے اور جب افلاک کے اندر یہ اتنا بڑا سورج ایسا نظر آتا ہے جیسے رات کے اندھیرے میں اڑتا اور پھرتا ہوا جگنو پھر کوئی کہے کہ ان افلاک اور ان خلائقوں کی وسعت کا کوئی اندازہ لگائے اور سمجھے کہ زمینی پیمائش کی طرح اس کو ماپا جاسکتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے اور خصوصا جو چیز اس وقت بیان ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ انسان چاہے کتنی سعی و کوشش اس سلسلہ میں کرے وہ نہ اس پھیلائو کا احصار کرسکتا ہے اور نہ یہ ثابت کرسکتا ہے کہ اگر یہ چیز اس طرح کی بجائے اس طرح ہوتی تو حالات کو اس طرح رکھا جاسکتا تھا یا اس تخلیق کے اندر فلاں فلاں کمی رہ گئی ہے اور پھر یہ بھی کہ اگر کوئی سرپھرا اس طرح کی بات کہہ بھی دے تو وہ محض ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر ہوگی جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوگی اور نہ ہی اس میں کسی ردوبدل کی کوئی گنجائش پیدا ہوگی۔ خیر یہ تو بڑی بڑی چیزیں ہیں اور پھر یہ بھی کہ وہ خارج از وجود ہیں۔ انسان صرف اپنے اس ڈھانچہ پر ہی غور کر کے دیکھے جس ڈھانچے کی قد و قامت 5 سے 6 فٹ تک ہے اور جس کا وزن ایک سے دو من تک ہو سکتا ہے اور اس کو عالم صغیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کہ اس عالم کبیر کے اندر جو کچھ ہے اور جو جو چیزیں اس وقت تک ایجاد ہو کر انسان کے سامنے آئی ہیں اور جو ابھی آئیں گی صرف اور صرف یہ ہے کہ اس ڈھانچے کے کاسہ سر کے اندر موجود ہے اور پھر کاسہ سر کا اگر اندازہ لگایا جائے تو اس کے اندر جو فلاپی (Floppy) موجود ہے جس میں یہ سب کچھ موجود ہے شاید اس کا وزن چند ماشوں میں نکلے یا ممکن ہے کہ یہ چند کا سابقہ بھی اس کے ساتھ نہ رہے۔ یہ اس کاریگر کی کاریگری ہے کہ اس نے اتنے چھوٹے سے ڈھانچے کے اندر صرف ایک نقطہ کی حیثیت میں سب کچھ رکھ دیا ہے اور اس کو انسان ترقی دیتے دیتے کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا ہے اور ابھی معلوم ہی نہیں ہے کہ وہ کہاں تک پہنچے گا لیکن اس عالم صغیر کے بنانے والے نے اس کے تجربات کے لئے یہ عالم کبیر بھی پیدا فرما دیا اور پھر اس عالم کبیر کے لئے جو انتہا مقرر کی اس کا عالم یہ ہے کہ آج تک اس کے شروع اور آخر کا کوئی اندازہ نہ لگا سکا۔ سات زمینوں میں سے یہ ایک زمین جو اس نے دریافت نہیں کی بلکہ اس کو اس کے اندر پیدا کیا گیا اس کو ماپ کر وہ پھولا نہیں سماتا اور باقی پر چھ کے وجود کے متعلق بھی ابھی وہ ناواقف ہے اور پھر جس خلا کے اندر یہ سب کچھ موجود ہے اس کا اندازہ کیا وہ خاک لگائے گا اور جو کچھ وہ اس سلسلہ میں کہہ چکا ہے اور جو کچھ کہے گا سب کا سب اندھیرے میں ٹکروں کے سوا کچھ نہیں ہے اور زیر نظر آیت میں یہی بات بیان کی گئی ہے اور انسان کی کم مائیگی ، بےبسی اور کم ظرفی کا بیان ہے جو سو فیصد صحیح ہے۔
Ayah 67:5

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا ہے اور ان کو شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بنایا ہے اور ہم نے ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے

آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین کرنے کا بیان اور شیاطین کو روکنے کی وضاحت 5 ؎ قرآن کریم کے نظریہ کے مطابق جب سات آسمان ہیں تو ان میں ایک کا نام آسمان دنیا رکھا گیا ہے اس لئے کہ یہ اس دنیا میں رہنے والوں کی حد نظر کا آخر ہے اور زیر نظر آیت میں بیان کیا جا رہا ہے کہ ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے زینت دی ہے اور یہ زینت تم کو تمہاری آنکھوں سے واضح نظر آرہی ہے کیونکہ یہی وہ آسمان ہے جو ہماری نظروں کے قریب تر ہے اور اس کو آسمان اول بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے اندر قندیلوں کی طرح لٹکتے اور سیر کرتے کروڑوں کی تعداد میں ستارے نظر آ رہے ہیں اور جب سے انسان نے اس دنیا میں قدم رکھا ہے اور ان کو جس طرح وہ گردش میں دیکھ رہا ہے کروڑوں سال گزرنے کے باوجود وہ اس میں ایک ذرہ بھر فرق ثابت نہیں کرسکا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ جب کروڑوں سالوں میں کوئی ایک انسان ہی نہ رہا تو وہ فرق آخر بتائے گا تو کیا بتائے گا ؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس عرصہ میں کسی ایک انسان کا زندہ وجاوید رہنا ضروری نہیں ہے بلکہ انسانوں کی کروڑہا نسلیں گزرنے کیب عد بھی اور اس پر حساب ترتیب دینے کے بعد جب کوئی فرق نظر نہیں آیا تو اس کو تجربات کی زبان میں بیان کیا جا رہا ہے اور تجربات کی زبان ہر انسان اپنے اس مختصر دور زندگی میں بھی استعمال کرتا ہے اور اسی زبان میں ہم اس کا استعمال کر رہے ہیں اور پھر یہ سارے نام تو ہمارے رکھے ہوئے ہیں کہ زحل ہے اور یہ مشتری ہے اور اس کو زہرہ کہتے ہیں ، اس کا نام ثریا ہے اور اس کو قطب ستارہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ دب اکبر اور یہ دب اصغر ہے۔ ان کو ستارے کہتے ہیں اور یہ سیارگان ہیں۔ پھر سیاروں سے قسمتیں جوڑنے والے قسمت جوڑنے کے چکر میں ہے اور اس کے اثرات مرتب کرتے نظر آتے ہیں حالانکہ انسان یہ نہیں سوچتا کہ جب اللہ کے رسول نے ایک بار یہ ارشاد فرما دیا کہ ان سیاروں ، چاند اور سورج کا انسانی زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور پھر جو انسان اللہ تعالیٰ کے رسول کو اللہ کا رسول بھی مانے اور یہ بھی تسلیم کرے ان ستاروں اور سیاروں کا تعلق ہماری زندگی کے حالات میں اتار چڑھائو کے ساتھ ہے تو اس سے زیادہ منکر بھی کوئی دوسرا ہو سکتا ہے۔ اقبال (رح) کا ایک شعر ہے جو اس بات کا مصداق ہے ؎ ستارہ میری قسمت کا حال بتائے گا کیا وہ تو خود گردش افلاک میں ہے گم افلاک کے اندر جو کچھ ہے ، اس کی تاثیرات جو ایک دوسرے سے وابستہ ہیں وہ تو ابدی اور ہمیشہ کے لئے ان میں ردوبدل ممکن ہی نہیں کیونکہ اگر ان میں ردوبدل ہوگا تو اس سے سارا عالم دنیا متاثر ہوگا اور کسی ایک انسان کی زندگی کو متاثر ہونے اور دوسرے کی زندگی کے متاثر نہ ہونے یا کسی ایک انسان کی زندگی میں مثبت اثر کرنے اور دوسرے انسان کی زندگی میں منفی اثر کرنے سے نظام کے اندر ردوبدل تسلیم کرنا ہوگا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس دنیا کے اندر اس طرح کی تبدیلیاں تو ہر روز رونما ہونی تسلیم کی گئی ہے ؟ بات عالم کی ہو رہی ہے اور یہ درمیان میں اس خاص سیارے کا ذکر کس طرح پیدا ہوگیا ؟ اس طرح کی تبدیلیاں بھی یکساں ہیں جو عالم صغیر کے اندر بھی ہوتی رہتی ہیں لیکن یہ ضمنی چیزیں اصولوں سے تعلق نہیں رکھتیں۔ انسان کبھی بیمار ہوتا ہے ، کبھی اس کو گرمی کا شکار ہونا پڑتا ہے اور کبھی سردی کا ، کبھی اس کے اندر ہی اندر سے خارش پیدا ہوجاتی ہے اور کبھی پھوڑے اور پھنسیاں اس کو آدباتی ہیں لیکن ان تبدیلیوں کو اصولی تبدیلیاں نہیں کہتے اس وقت بات عالم دنیا کی ہے نہ کہ کسی ایک سیارے ، ستارے ، چاند اور زمین کی۔ مطلب یہ ہے کہ انسان جو ان چیزوں سے فوائد حاصل کر رہا ہے اس سے انکار نہیں کیونکہ انسان کے فوائد حاصل کرنے ہی کے لئے تو یہ عالم کبیر تشکیل دیا گیا ہے اور اس کے لئے تقریباً ہر دسویں آیت میں ضرور ذکر بھی آیا ہوگا۔ انسان کے فائدوں کے لئے تو ان کا وجود بنایا گیا ہے کہ ہر انسان کے لئے موسموں کے تغیر و تبدل ، گرمی ، سردی اور اس کے لئے فصلوں اور باغوں کے پکانے اور ان میں رس بھرنے ، ان کو میٹھا بنانے اور انسان کے قابل استعمال بنانے میں وہ زبردست کام کر رہے ہیں اور اس میں شیطانوں کے مار بھگانے کا انتظام بھی موجود ہے۔ (رجوما) آلات سنگ باری۔ رجم کی جمع رجم اصل میں مصدر ہے اور جس چیز کے ذریعہ سنگسار کیا جائے اس کے لئے بطور اسم مستعمل ہے۔ آسمان دنیا کے کام گنواتے ہوئے جن باتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے ان میں سے ایک تو ستاروں کا بنایا جانا مراد ہے کہ آسمان کے اندر ستارے ، سیارے ، سورج اور چاند سب کے لئے بنائے گئے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس طرح کسی کپڑے ، چادر یا کسی دوسری چیز کے ساتھ کوئی چیز آویزاں کی جاتی ہے اسی طرح ان کے ساتھ ستارے وغیرہ آویزاں کئے گئے ہیں ، نہیں اور ہرگز نہیں مطلب یہ ہے کہ ہماری زمین اور ہماری حد نظر کے درمیان جو خلا اور فضا ہے اس فضا کے اندر یہ سب تیر رہے ہیں جن کو ہم اپنی تفہیم کے لئے ان ناموں سے تعبیر کرتے ہیں اور اس خلاء اور فضا کو آسمان الدنیا سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس آسمان میں دوسری بات جو اس جگہ فرمائی گئی وہ رجوم للشیاطین یعنی جو اس فضا میں کسی طرح کی چھیڑ خوانی کریں گے ان کے لئے انتظام مکمل کردیا گیا ہے کہ ان کو بھگا کر یا تو اس فضا سے نکال دیا جائے یا اس کے اندر ان کو بھسم کر کے رکھ دیا جائے۔ یہ تو ان کی مداخلت کے نتیجے میں ہے اور ان شیاطین کے لئے جو بھڑکائی گئی آگ کا عذاب ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔ اس کی وضاحت ہم چونکہ پیچھے کئی ایک مقامات پر کرچکے ہیں مثلاً عروۃ الوثقی جلد پنجم میں سورة الحجر کی آیت 16 ، 17 ، جلد ششم سورة الشعرا کی آیات 210 ، 212 ، جلد ہفتم سورة الصفت کی آیت 6 ، 7 ، 8 جلد ہشتم سورة الطور کی آیت 10 ، 14 میں اور ابھی سورة جن میں اس کی مزید وضاحت آئے گی۔ اس لئے آپ گزشتہ آیات کا مطالعہ اس سلسلہ میں ایک بار کرلیں اور پھر مزید تفسیر کو سورة الجن کی آیات 9 ، 10 کی تفسیر پر بھی نگاہ ڈال لیں۔ جو لوگ اپنے رب کا انکار کرتے ہیں ان کا انتظار بھی عذاب الٰہی کر رہا ہے 6 ؎ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ اس کائنات میں جو کچھ ہے ان سب کا خالق ، مالک اور رازق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں تو پھر اس مخلوق میں کافر بھی ہیں اور اپنے اللہ کو جو سب کا حقیقی رب تسلیم کریں یا نہ کریں ان کے لئے عذاب جہنم بھی تیار کھڑا ہے اور ظاہر ہے کہ دوزخ کا عذاب ایک بہت ہی بری چیز ہے اور یہ بھی کہ ان انکار کرنے والوں میں انسان ہوں یا انسانوں کی دوسری شاخ کے لوگ جو جن کے نام سے معروف کئے گئے ہیں۔
Ayahs 67:6–7

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے پروردگار کے منکر ہیں ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو وہ اس کا دھاڑنا سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہو گی

جب وہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو دوزخ دھاڑے گی اور جوش مارے گی 7 ؎ جب کفار کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تو دوزخ دھاڑے گی اور یہ وہ کیفیت ہے جب آگ کے الائو جل رہے ہوں اور ان پر ایندھن کی بجائے تیل ، چربی اور اس طرح کی دوسری چیزیں جن میں دہنیت ہوتی ہے ڈالی جائیں تو آگ بھڑکتی ہے اور اس کے بھڑکنے کی آواز کو دھاڑنے سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ منظر بہت ہی خطرناک منظر ہوگا۔ اس کے شعلے جوش مار رہے ہوں گے جس سے ایک خوفناک اور مکروہ شور اٹھ رہا ہوگا اور دیکھنے والوں کو اس طرح محسوس ہوگا کہ گویا دوزخ کے شعلے اور دہکتے ہوئے انگارے بےقابو ہو رہے ہیں اور شدت غضب سے نہ معلوم ابھی کہاں سے کہاں پہنچ جائیں گے اور جب دیکھنے والوں کی حالت یہ ہوگی اور جو اس کے اندر جلائے جا رہے ہیں ان کی حالت کیا ہوگی اس کے اوپر مزید تصور کرو کہ جب وہ آگ میں جلنے کے باوجود موت کی لپیٹ میں بھی نہیں آئیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ موت ان پر وارد نہیں ہوگی کیونکہ موت کو موت دی جا چکی ہوگی جیسا کہ پیچھے بہت سے مقامات پر اس کا ذکر گزر چکا۔ (شھیقا) شھیق دھاڑنے ، چلانے اور سائیں سائیں کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس آواز کو بھی جو آواز زبردست بھی ہو کہ اس سے ڈر آئے اور خطرناک بھی ہو اور اس طرح گدھے کی آواز کو بھی شھیق کہا جاتا ہے۔ (تفور) وہ اچھلے گی ، وہ اچھلتی ہے ، وہ جوش کرتی ہے ، وہ جوش کرے گی۔ فور کا استعمال آگ کے ، ہنڈیا کے اور غصہ کے جوش مارنے اور ابلنے کے لئے بولا جاتا ہے گویا یہ وہ حالت ہے جو آج کل کے لحاظ سے ککر (Cooker) میں کھانا پکانے کے بعد اس کی نپل کو اوپر اٹھا دیا جاتا ہے تو جو منظر پیدا ہوتا ہے اس سے آپ خوب واقف ہوں گے اور اس برتن کا بھی خیال کر کے اور پھر اس دوزخ کا بھی جس میں دنیا کے اول روز سے شروع کر کے آخر روز تک کے سارے لوگوں کی بہت بڑی اکثریت اس میں داخل کی گئی ہوگی اس کا اپنا حجم کیا ہوگا اور اس حجم کے ککر (Cooker) میں جو کچھ ڈالا جائے گا اس کا حشر کیا ہوگا اور پھر اتنے بڑے برتن کا نپل اٹھانے سے جو شور ہوگا اور جو بھاپ خارج ہوگی اس کا تصور کر کے دیکھ لو اگر کرسکتے ہو۔
Ayah 67:8

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

گویا مارے غضب کے پھٹ پڑے گی جب بھی اس میں (منکرین کا) کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو ان سے دوزخ کے محافظ پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہ آیا تھا ؟

اس میں ڈالے جانے والوں سے محافظ جو سوال کریں گے ، اس کا ذکر 8 ؎ (تمیز) وہ پھٹ جائے ، وہ پھٹ پڑے تمیز سے جس کے معنی ایک دوسرے سے جدا ہونے اور پھٹ جانے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ واحد مونث غائب اصل میں یہ تتمیز تھا اور اس کی ایک تاء کو حذف کردیا گیا۔ قریب ہے کہ وہ غصہ سے پھٹ پڑے۔ یہ اس کی ہیئت اور ہیبت کا ذکر کیا جا رہا ہے اور فرمایا جب کبھی اس میں کسی گروہ کو لا کر ڈالا جائے گا تو اس کے دربان ہر گروہ اور ہر جماعت سے سوال کریں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں گیا تھا۔ اور ظاہر ہے کہ ایسے موقع پر جو اس طرح کا سوال پوچھا جاتا ہے تو وہ کسی لاعلمی کے لئے یا کسی لاعلمی کو دور کرنے کے لئے نہیں پوچھا جاتا بلکہ اس سوال کا مقصد سوال کئے جانے والے کی سرزنش کرنا اور اس کو شرم دلانا ہوتا ہے اور عین اس موقع پر ایسا سوال اتنا بڑا کوڑا ہے کہ جس سے زیادہ بڑا کوڑا اور ممکن ہی نہیں ہے اس لئے کہتے ہیں کہ اس وقت اگر زمین شق ہوجائے تو وہ آدمی اس میں غرق ہونے کو زندگی پر ترجیح دے دے۔ یہ اتنی بڑی بات ہے لیکن اس وقت وہ بدبخت ان دربانوں کو جواب دیں گے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Ayah 67:9

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

وہ کہیں گے کیوں نہیں بلاشبہ ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا پھر ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور ہم نے صاف صاف کہہ دیا کہ اللہ نے کوئی چیز نہیں اتاری ، تم خود ہی بڑی غلطی میں مبتلا ہو

وہ دوزخ کے دربانوں کو جواب دیں گے کہ نذیر تو آیا تھا لیکن ہم نے اس کی بات نہیں مانی تھی 9 ؎ جھوٹ بولنے کے عادی لوگوں کو بھی کبھی سچ بولنا پڑتا ہے اور وہ بولتے ہیں لیکن ایسے موقع پر سچ بولنے والوں کے متعلق کبھی کسی نے ان کے سچ کو نہیں سراہا کہ واہ بھائی انہوں نے تو کتنی سچی بات کہہ دی ہے یا کردی ہے کیوں ؟ اس لئے کہ انسان ساری زندگی سچ بولتا ہے تو بعض اوقات اس کا ایک ہی جھوٹ اس کے سارے سچوں پر پانی پھیر دیتا ہے اور لوگ جھوٹ جھوٹ کا نعرہ بلند کردیتے ہیں۔ ان لوگوں کی ساری زندگی جھوٹ میں گزری ہوگی لیکن اس وقت وہ جو بات کہیں گے وہ سو فیصد سچ ہوگا اور وہ کہیں گے کہ کیوں نہیں بلاشبہ ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے اس کا انتظام کیا تھا اور اس نے ہمیں بار بار باور کرانے کی پوری پوری کوشش کی تھی۔ انبیاء و رسل نے اللہ تعالیٰ کے کلام کو پڑھ پڑھ کر ہم کو سنایا اور انہوں نے بھی ہمارے سمجھانے کے لئے ساری کوشش کی لیکن ہم نے ان کو جھٹلایا اور خوب جھٹلایا اور ان کے رو در رو اور برملا کہا کہ تم لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے کچھ نہیں اتارا تم جو کچھ کہہ رہے ہو سراسر جھوٹ کا پلندہ ہے۔ جو تم لوگ اللہ کے لئے باندھ رہے ہو اور اس طرح کی بہت سی باتیں کہہ کر ہم نے ان کو ٹال دیا اور ان کی ایک بھی نہ مانی۔
Ayah 67:10

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے کاش کہ ! ہم سنتے ہوتے اور عقل سے کام لیتے ہوتے تو (آج) ہم دوزخیوں میں نہ ہوتے

کاش کہ ہم نے ان باتوں کو سنا ہوتا اور آج ہم دوزخ میں نہ ہوتے 10 ؎ وہ دوزخ کے دربانوں کو گویا خیر خواہ سمجھیں گے کہ شاید آج اس طرح کے اعتراف اور سچی بات کہنے سے بھی کچھ ہم کو فائدہ مل جائے اور ان لوگوں کو ہم پر رحم آجائے۔ اس لئے وہ ان کو جواب دیں گے اور کہیں گے کہ افسوس ہم ان کی باتوں پر دھیان دیتے اور ان کی باتوں کو گوش ہوش سے سنتے اور ان کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو آج ہم اس طرح دوزخ میں نہ گرائے جاتے۔ بہرحال وہ اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے کہ بدبخت تو ہم ہی تھے جو جان بوجھ کر ان کی باتوں کو جھٹلاتے رہے اور ان کی طرف نازل کئے جانے والے روشن دلائل کی ہم نے ذرہ بھی پروا نہ کی۔ اگر ہمارے بخت درست ہوتے تو ان کی باتوں پر کان دھرتے اور دوزخ میں جلائے جانے والوں میں سے نہ ہوتے۔ اگر عقل انسانی تیز ہو تو وہ ایک بات کانوں کے ساتھ سننے سے پہلے ہی سمجھ لی جاتی ہے لیکن جب عقل کا جنازہ نکل جاتا ہے تو آدمی بار بار سنائی گئی بات پر کان نہیں دھرتا اور اس کو سنتا ہے تو بھی اس طرح سنتا ہے کہ گویا اس نے کچھ نہیں سنا کیونکہ وہ ہر سنی بات کو ان سنی کردیتا ہے اور اس بات کا وہ لوگ اس وقت اقرار کریں گے جب اقرار کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور ایسے لوگوں کی اس دنیا میں کوئی کمی نہیں ہے بلکہ اکثریت کی یہی حالت رہی ہے ، آج بھی ہے اور رہے گی کہ سن کر بلکہ بعض اوقات سمجھ کر پھر اس کی طرف سے آنکھیں بند کرلی جاتی ہیں جیسا کہ آدمی نے کچھ بھی نہ سنا ہو۔ بہرحال اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا چاہئے کہ اللہ کرے کسی مسلمان کی حالت ایسی نہ ہو اور اگر ہو تو وہ مسلمان نہ ہو۔ (آمین)
Ayah 67:11

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

پس وہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے ، بس اب دوزخ والے دور ہو جائیں

اس طرح وہ لوگ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے لیکن اس اعتراف کا ان کو کچھ فائدہ نہ ہو گا 11 ؎ جیسا کہ اوپر آپ نے دیکھا کہ وہ اپنے گناہوں کا برملا اعتراف کریں گے اور اس سے جو فائدہ ہوگا وہ ان کا نہیں بلکہ ان کو دیکھنے والوں کا ہوگا کہ ان کو اچھی طرح معلوم ہوگا تو ان لوگوں کو جو پکڑا گیا ہے اور اس طرح نہایت بےدردی کے ساتھ جو دوزخ میں گرایا جا رہا ہے تو یہ بغیر کسی مقصد کے نہیں ہے بلکہ جو کچھ ہوا ہے وہ ان کے گناہوں اور ان کے عملوں کی وجہ سے ہوا ہے اور یہ بات ان کے اس طرح کے اعتراف سے ثابت ہوجائے کہ یہ اپنے جرم کا تو اس وقت بھی اقرار کر رہے ہیں حالانکہ اس وقت ان سے جرم کیا اعتراف کرایا نہیں جا رہا بلکہ وہ خود ہی اعتراف کرتے ہوں گے۔ ان کے خیال میں یہ ہوگا کہ شاید اس وقت کا سچ ہم کو کچھ فائدہ دے لیکن اعتراف جرم سے کبھی جرم کم نہیں ہوجاتا خصوصاً جب کہ سزا سنائی جا چکی ہو ، یہ وہی مثال ہے کہ کسی کو گولی لگ گئی اور ٹانگ اڑ گئی لیکن وہ زور زور سے چلا رہا ہے کہ خدا کرے جھوٹ ہی ہو۔ مطلب یہ ہے کہ جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا اور اب ان کے لئے اعتراف کرنا نہ کرنا برابر ہے اور یہ بھی کہ ان لوگوں کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے کہ یہ ذرا بھر بھی اپنی دوزخ کو ڈھیل دے سکیں۔ یہ دنیا کی جیل (Jail) نہیں ہے جہاں بڑے بڑے لوگوں کے لئے ساری عیاشیوں کے سامان موجود ہوں اور ان کو باہر کے خطرات سے بچا کر حکومت اپنی نگرانی میں A اور B کلاس میں رکھ رہی ہو کہ تم ادھر بیٹھ کر عیاشیاں کرو اور بےفکر رہو تم ہماری نگرانی میں ہو کیونکہ ہمارے عوام کی حالت بھی یہی ہے کہ ان کے اختلاف کی آگ اسی وقت بھڑکتی ہے جب وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا مخالف اب ہمارے دائو میں ہے اور جب ان کا وہ دائو نہ چل رہا ہو تو اس وقت کھسیانی بلی بنے رہتے ہیں اور حاشیہ برداروں میں بیٹھ کر ہاں جی ! ہاں جی ! کرتے ہیں۔ فرمایا وہ اپنے گناہوں کا اعتراف تو کریں گے لیکن دوزخ کے دربان ان کو پھٹکار دیں گے اور وہ ہٹو دور ہٹو کی آوازیں بلند کر رہے ہوں گے۔
Ayah 67:12

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور بہت بڑا اجر ہے

اللہ تعالیٰ سے بن دیکھے ڈرنے والوں کے لئے بخشش خداوندی ہے 12 ؎ قرآن کریم میں اکثر جگہ جہاں دوزخیوں کا ذکر کیا جاتا ہے ساتھ ہی اہل جنت کا ذکر بھی ضرور کیا جاتا ہے اور اس طرح اگر اہل جنت کا ذکر کیا جاتا ہو تو ساتھ ساتھ اہل دوزخ کی طرف بھی ایک دو آیات کریمات بیان کردی جاتی ہیں تاکہ دونوں کا تقابل بھی ہوتا رہے۔ اگر اہل دوزخ ہیں تو ان کو افسوس ہوتا رہے کہ کاش ہم اہل جنت ہوتے اور اگر وہ اہل جنت ہیں تو اللہ تعالیٰ کا مزید احسان اور شکریہ ادا کریں کہ اللہ نے ان کو اس دھکتی ہوئی آگ سے بچا لیا۔ یہی بات اس جگہ بھی کی ہے کہ پیچھے بدنصیبوں اور محروموں کا ذکر کیا جا رہا تھا اور اب ان کے ذکر کے ساتھ ہی سعادت مندوں اور خوش نصیبوں کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے اور اس جگہ ان کی ایک خاص صفت بیان کی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کو بغیر دیکھے مانتے تھے اور اس کے عذاب کی خبر سنتے ہی لرزہ براندام ہوجاتے تھے اور ان کو جن حالات کا بھی سامنا ہوتا تھا اور بلاشبہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کان ، آنکھیں اور دل بلکہ اپنے سارے اعضاء وجوارح سے کام لیا ہے جو ان سے لینا چاہئے تھا اور کوئی بات بھی ایسی نہیں کہی جو ان کے کہنے کا حق نہ تھا اور اس طرح انہوں نے اس کائنات کے ایک ایک ذرہ پر غوروخوض کیا اور ہر ذرہ نے ان کے سامنے توحید الٰہی کے دفتر کھول کر رکھ دیئے اور یہ بات بلاشبہ حق ہے کہ جس بندے کے دل میں اس کے خالق ومالک کی خشیت پیدا کردی جائے اور اس کے شعور میں یہ چراغ روشن ہوجائے تو اس کے عمل کی دنیا میں خواہ وہ جلوت میں ہو یا خلوت میں کوئی تاریک گوشہ باقی نہیں رہتا جس میں چھپ کر وہ کوئی گناہ کرسکے اور وہ چاہے تو گناہ نہیں کرسکتا اور جو گناہ کرسکتا یا آپ یوں کہیں کہ جس سے گناہ صادر ہوتے دیر ہی نہیں لگتی اس کے دل میں اللہ کا ڈر یقینا پیدا نہیں ہوتا اور اگر وہ اس بات کا مدعی ہے تو اس کا یہ قول صحیح نہیں ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا ڈر جو اس کے دل میں بغیر دیکھے خوف پیدا کردیتا ہے وہ خوف اگر کسی کے دل میں نہ ہو تو اس کو دیکھنے سے بھی پیدا نہیں ہوتا۔ فرمایا یہی وہ لوگ ہیں اللہ تعالیٰ کی مغفرت ان کا استقبال کرتی ہے اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت اجر محفوظ کردیا گیا ہے اور اگر بشری کمزوری اس کے اندر کوئی وقتی طور پر باقی بھی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور بخشش ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور وہ ان سے معاف کردی جاتی ہے اور یہ بھی کہ اس پر ایسا پردہ پڑتا ہے کہ معاف کرنے والے کے سوا اس کو کوئی نہیں جانتا۔
Ayah 67:13

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

اور تم اپنی بات پوشیدہ رکھو یا ظاہر کرو بلاشبہ وہ (اللہ رب ذوالجلال والاکرام) دلوں کے راز بھی خوب جانتا ہے

تم اپنی بات پوشیدہ رکھو یا ظاہر کرو وہ تو دلوں کے رازوں سے بھی واقف ہے۔ 13 ؎ تم میں سے کوئی شخص اپنی باتوں کو اس طرح چھپائے کہ وہ کسی پر بھی ان کو ظاہر نہ ہونے دے یا وہ اپنی باتوں کو ظاہر کرے دونوں صورتیں اللہ تعالیٰ کے لئے یکساں ہیں وہ ہر انسان کی باتوں کو جانتا ہے ، ان کو بھی جن کو چھپا کر رکھا جاتا ہے اور ان کو بھی جن کو وہ ظاہر کرتا ہے۔ وہ سب کو یکساں جانتا ہے ، کوئی خواہ کتنے ہی راز میں رکھی گئی ہو اس سے پوشیدہ نہیں رکھی جاسکتی۔ زبان سے کہی ہوئی بات تو خیر کہی گئی ہوتی ہے وہ تو سینوں کے رازوں تک سے واقف ہے اور جو خیالات و افکار ابھی انگڑایاں لے رہے ہوتے ہیں ان سے بھی وہ آگاہ ہوتا ہے۔ منکرین چاہے اس کو تسلیم نہ کریں لیکن ایمان والے اس سے انکار نہیں کرسکتے۔
Ayah 67:14

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

بھلا جس نے پیدا کیا ، کیا وہ نہ جانے گا اور وہ تو بڑا ہی باریک بیں بڑا ہی باخبر ہے

بھلا جس نے پیدا کیا ہے وہ نہیں جانے گا وہ تو بڑاہی باریک بیں ہے 14 ؎ زیر نظر آیت بھی گزشتہ آیت کی وضاحت کر رہی ہے اور کفار کی غلط فہمیوں کا ازالہ کر رہی ہے اور مخالفین و معاندین سے استفساراً پوچھا جا رہا ہے کہ بھلا یہ تو بتائو کہ وہ ذات بھی نہیں جانتی جس نے خود انسان کی تخلیق کی ہے اور اس کے اندر جو کچھ ودیعت کیا گیا ہے وہ اس سے خوب واقف ہے۔ اس سے زیادہ اور کون واقف حال ہو سکتا ہے۔ کائنات کی ہرچیز کا جب وہ خالق ہے اور ہرچیز میں حسب حالات مختلف صلاحیتیں اور خاصیتیں اور اثرات اسی نے تو ودیعت کئے ہیں تو پھر یہ کیسے مان لیا جائے کہ اسے اس بات کی خبر نہیں کہ کون کیا کر رہا ہے اور اس کی دی ہوئی قوتوں سے وہ کس طرح کام لے رہا ہے یہ تو نہایت تعجب کی بات ہے اور عقل سلیم اس کو کبھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ ایک ذات جو خالق ہے اور مخلوق کو اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ وہ خالق ہے اور پھر اس کے تصور میں یہ بات نہ آئے (اللطیف) اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت ہے اور یہ صیغہ صفت مشبہ حالت رفع ہے۔ جس کے معنی ہیں نہایت باریک بیں ، دقیقہ رس اور دقیقہ کا جاننے والا۔ رقت نظر اور حسن تدبیر سے کام کرنے والا۔ بندوں پر مہربان ، نیکیوں کی توفیق دینے والا ، کسی جسم کے لطیف ہونے کا معنی ہے نازک ہونا ، باریک ہونا اور اللہ تعالیٰ کی یہ صفت جس سے یہ بات سمجھانا مطلوب ہے کہ وہ واقف اسرار ہے اور پوشیدہ سے پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے اور نہایت مہربان اور بھلائی کرنے والا ہے۔
Ayah 67:15

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے نرم بنا دیا پس تم اس کے راستوں پر چلو پھرو اور اس کے رزق میں سے کھاؤ پیو اور اس کی طرف دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے

وہی ہے جس نے زمین کو ایسا نرم بنا دیا کہ تم جو کام اس سے لیتے ہو وہ دیتی چلی جاتی ہے 15 ؎ (ذلولا) صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور اس کا مادہ ذل ل ہے ذلول رام ، نرم ، مطیع اور ہموار پست۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نہایت نرم ، مطیع اور فرمانبردار بنا دیا ہے کہ تم اپنی مرضی کے مطابق جو کام اس سے لینا چاہتے ہو وہ دیین چلی جاتی ہے۔ (مناکبھا) جمع منتہی الجموع مضاف ھا ضمیر واحد مونث مضاف الیہ منکب واحد اس کے اطراف و جوانب کیونکہ منکب کے اصل معنی جانب ہی کے ہیں اس لئے آدمی کے کندھوں کو بھی منکبین کہتے ہیں نکب اور نکوب پھرجانا ، مڑ جانا اور نکبہ رنج اور سخیی کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس اللہ نے اس زمین کو تمہارے لئے نہایت نرم بنا دیا ہے تم اس کے راستوں میں جہاں تک چلنا چاہتے ہو چلتے جائو اور اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے رزق سے خوب کھائو اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس طرح بنایا ہے کہ انسان اس پر آسانی اور سہولت کے ساتھ چل سکتا ہے اور جو کام اس سے لینا چاہے لے سکتا ہے نہ تو یہ ساری کی ساری سخت پتھریلی ہے اور نہ ہی ساری کی ساری دلدل ہے کہ اس پر چلنا دشوار ہوجائے اور انسان کے لئے یہ کتنے کام دیتی ہے کہ اس میں جو پہاڑ پیدا کئے ہیں تو پہاڑوں کے اندر انسان کی خاطر دفینے محفوظ کردیئے ہیں جو کروڑوں اور اربوں سالوں سے اسی طرح دفن ہوئے چلے آ رہے ہیں۔ انسان جب اپنی عقل و فکر سے کام لیتا ہے اور ان دفینوں کی ٹوہ کرتا ہے اور ان کو حاصل کرنے کے کھوج میں نکلتا ہے تو یہ راہیں اس کے لئے آسان ہوتی چلی جاتی ہیں اور آج تک بیسیوں چیزوں کو وہ ان پہاڑوں سے حاصل کرچکا ہے اور ابھی نہ معلوم کہ کیا کیا چیزیں ان کے اندر اور اس کی تہوں میں محفوظ پڑی ہیں جن کی جستجو اس نے نہیں کی اور کسی وقت بھی ان کا انکشاف ہو سکتا ہے۔ اس ایک سو سال کے اندر جو کچھ اس زمین نے انسان کے سامنے پیش کیا وہ ہزاروں اور لاکھوں سال اس سے پوشیدہ رکھا گیا تھا پھر انسان اس سلسلہ کے لئے چلا تو زمین نے بہت کچھ انکشافات کردیئے اور ابھی معلوم نہیں کہ اور کیا کچھ زمین نے انسان کے لئے مخفی رکھا ہے اور کون کون سی راہیں ہیں جن میں انسان ابھی ایک قدم نہیں چلا اور کن راستوں میں اس کو ابھی چلنا ہے اور کب چلنا ہے ؟ قرآن کریم نے صرف ایک لفظ استعمال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو انسان کے لئے نرم اور مطیع و فرمانبردار بنا دیا ہے اب تک اس لفظ کی کتنی تشریح ہوچکی ہے اور کتنی ابھی ہونا باقی ہے اور کس کس طرح کا رزق وہ انسان کے سامنے پیش کرچکی ہے اور کتنے رزق ہیں جن کو ابھی تک اس نے مخفی رکھا ہے اور کب تک ان کو ظاہر ہونا ہے یہ علم الٰہی میں ہے اور جونہی اس کا وقت آئے گا تو یہ رزق کے مزید خزانے انسان کے سامنے رکھ دے گی اور پھر انسان کی توجہ اس طرف مبذول کرا دی ہے کہ اے انسان تو صرف اور صرف اس زمین کے خزانوں اور دفینوں میں مگن ہو کر نہ رہ جا اس لئے کہ تیرا انجام کار اللہ تعالیٰ کی طرف مڑ کر جانا ضروری اور نہایت ہی ضروری ہے کیونکہ جو زندگی تجھے عطا کی گئی ہے اس کی مدت اتنی لمبی نہیں رکھی گئی اور انسانوں کو ایک سو سال کے اندر تقریباً تبدیل کردیا جانا ضروری ہے کیونکہ یہی طریقہ پیچھے سے چلا آ رہا ہے اور اس دنیا کی ہر ایک چیز کو فنا ہے اور ایک روز آئے گا کہ یہ دفتر سارے کا سارا لپیٹ دیا جائے گا جس طرح تمہاری آنکھوں کے سامنے ہر روز ایک دفتری کام کرنے والا پھیلاتا ہے اور پھر اس کو سمیٹ دیتا ہے۔ انسان کی زندگی بھی مختصر اور اس کے دفتر کا وقت بھی مختصر اور اللہ تعالیٰ کے دن کی مدت جب تمہارے گنے گئے پچاس ہزار سال کا ایک دن ہو تو تم خود ہی غور کرلو کہ اس کے ایک منٹ اور ساعت کی مدت کتنی ہوگی۔ بہرحال یہ بات تم اچھی طرح ذہن نشین کرلو کہ ہر انسان کو انجام کار اسی رب کریم کی طرف لوٹ کر جانا نہایت ضروری ہے اور کسی کے لئے معیاد اور وقت کی حد مقرر نہیں کی گئی۔
Ayah 67:16

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم اس سے جو آسمانوں میں ہے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تم کو کہیں زمین میں دھنسا نہ دے ؟ پس (دیکھ لو کہ) وہ چکر کھا رہی ہے (گردش میں ہے)

کیا تم اللہ رب کریم سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا ہی نہ دے 16 ؎ (تمور) کا ہے (تمور) ترتج و تھتز زمین کے ہچکولے کھانے اور تھرتھرانے کو کہتے ہیں اور یہ صورت وہاں کے لوگوں سے پوچھو جہاں کے لوگ سخت زلزلہ سے کبھی دوچار ہوئے ہوں۔ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے قمر و جلال کی اطلاع دی ہے اور اس طرح لوگوں کو ڈرایا ہے کہ تم اچھے بھلے جب اپنے کام کاج میں مصروف ہوتے ہو تم نے کبھی نہیں دیکھا کہ اچانک اندر ہی کے مادوں کی حرکت کے باعث زمین کس طرح کانپ جاتی ہے اور ایک حصہ زمین پر جو کچھ ہوتا ہے وہ سب کا سب کانپ کر رہ جاتا ہے۔ یہ تو عام زلزلہ ہی ہوتا ہے اگر یہ زلزلہ ذرا شدید ہوجائے تو پھر کیا ہو ؟ اس لئے تم کو ڈرایا جا رہا ہے کہ تم اس ذات سے بےخوف اور نڈر نہ ہو جائو جو آسمانوں میں ہے اگر وہ تم پر ایک ایسا زلزلہ بھیج دے جس سے زمین کانپ جائے اور کانپ کر شق ہوجائے اور تم اس زمین پر بسنے والے اس کے اندر دھنس کر رہ جائو تو آخر کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو ایسا کرنے سے روک لے گا۔ مطلب یہ ہے کہ تم لوگ جو اس دیدہ دلیری سے کفر و شرک پر اڑے ہوئے ہو اور بڑی بےباکی اور بےحیائی سے فسق و فجور کا بازار تم نے گرم کر رکھا ہے کیا تم کو کبھی اس بات کا خیال تک نہیں آیا کہ آسمانوں کا خالق اگر تاہفرے کرتوتوں کے باعث ناراض ہوگیا اور اس نے تم کو زمین میں غرق کردیا تو پھر تمہارا آخر حال کیا ہوگا ؟ اور کون آئے گا ایسے آڑے وقت میں جو تم کو اس کے عذاب سے بچا لے گا ؟ یہ بات اس وقت کے مکہ کے مشرکوں سے پوچھی جا رہی تھی لیکن اگر یہ آج کے مشرکوں سے پوچھی جائے تو وہ ایک ہی سانس میں بیسیوں نام پڑھ دیں گے اور اگر ایسا نہیں تو بیسیوں لوگوں پر یہ سوال کر کے دیکھو وہ مختلف لوگوں کے بچا لینے کا یقین رکھتے نظر آئیں گے۔ قرآن کریم نے ان سے سوالیہ انداز میں بات پوچھی ہے اور بےخوف ہونے پر تعجب کیا ہے لیکن آج کے مشرکوں کو نہ تو اس میں کوئی تعجب ہے اور نہ ہی وہ صاف صاف کسی کا نام لے دینے سے چوکیں گے اور پھر ان کو منوانے کے لئے ایک دو سوال مزید بڑھانا پڑیں گے تب جا کر کہیں ان کو خاموشی ہوگی یہ اس لئے ہم نے عرض کیا ہے تاکہ معلوم ہوجائے۔ بلاشبہ آج کے مشرکوں کا شرک اس وقت کے مشرکوں سے بہت مختلف اور بہت واضح حیثیت رکھتا ہے لیکن ہمارے مذہبی پروہت ان کو شرک کہتے ہیں اور پرزور الفاظ میں کہتے ہیں اور ان کو مشرک کہنے کے لئے وہ کسی حال میں بھی تیار نہیں کیونکہ ان کے ساتھ ان کی اپنی اغراض وابستہ ہیں اور ان کی غرض اتنی صاف بات کہنے نہیں دیتی اور نہ ہی ان میں اتنی جرأت باقی رہ گئی ہے بلکہ ان میں اکثر و بیشتر ایسے ہیں جو ان مشرکوں کے وکیل ہیں اور انہوں نے ان سے بھاری فیس وصول کی ہے کہ ہم تم کو مشرک نہیں بننے دیں گے تم چاہو جتنے بھی شرک کرتے جائو۔ جائو ہماری طرف سے تم کو کھلی چھیہ ہے۔ اس طرح اگر مکہ کے مشرک اس معاملہ سے بےخوف تھے تو آج کے مشرک ایسے کاموں کو توحید کا کام سمجھتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول پھر رسول اللہ ﷺ کے توسط سے بہت سے مزید لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے چھڑانے والا کہتے ہیں اور وہ برملا کہتے ہیں کہ ؎ پکڑے خدا تو چھڑائے محمد ﷺ محمد ﷺ کے پکڑے چھڑا کوئی نہیں سکدا گویا وہ مخلوق کی پکڑ خدائی پکڑ سے زیادہ مضبوط سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسا کیوں نہ ہو جب حکومت طاقت کا سرچمشہ اللہ کے بجائے عوام کو سمجھتا ہے تو پھر عوام کو بھی تو حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بجائے مخلوق کو طاقتور سمجھیں۔ وہ اگر ایسا کریں گے تو دونوں کی قدریں مشترک ہوں گی اور دونوں مخلوق کو خالق کے مقابلہ میں زیادہ زور آور سمجھنے میں ہم خیال اور ہم مشرب ہوں گے۔
Ayah 67:17

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

کیا تم اس سے جو آسمانوں میں ہے بےخوف ہوگئے کہ وہ تم پر تند ہوا چلائے ؟ تب تم جانو گے کہ میرا ڈرانا کیسا تھا

17 ؎ گزشتہ آیت میں زمین کی طرف سے عذاب کے اٹھ کھڑے ہونے کا ذکر تھا اور اس کے نتیجے میں ان کو غرق ہونے کے عذاب سے ڈرایا گیا تھا اور زیر نظر آیت میں آسمان کی طرف سے کسی عذاب کے نازل ہوجانے کا خوف دلایا جا رہا ہے اور مراد یہی ہے کہ انسانوں کو ہر لحاظ سے احکام خداوندی کی پابندی لازم ہے اور ان کو عذاب الٰہی سے نچنت ہو کر زندگی نہیں گزارنا چاہئے بلکہ قانون الٰہی کے تابع ہو کر رہنا چاہئے۔ یہ زندگی تو سب کی عارضی زندگی ہے نہ اس میں اچھوں کو باقی رہنا ہے اور نہ بروں کو لیکن اتنی بات تو یقینی ہے کہ نیک لوگ بحمد اللہ یہاں بھی سرخرو ہوں گے اور آخرت میں بھی وہ کامیاب و کامران ہوں گے اور بروں کا انجام اس جگہ بھی خراب ہے اور آخرت کی بربادی بھی ان کا مقدر ہوگی۔ (حاصبا) ہر اس آفت کو کہتے ہیں جو زمین کے اندر سے نہیں بلکہ زمین و آسمان کے اس خلا سے پیدا ہوجائے مثلاً تیز و تند ہوا ہے جس میں پتھر اور مٹی ہو۔ ایسی سخت لو بیے مراد ہو سکتی ہے جو سخت گرمی کے باعث ہر ایک چیز کو جلا کر رکھ دے اور ظاہر ہے کہ گرمی سورج کی تمازت ہی سے پیدا ہوتی ہے اور اس سے مراد وہ کہر اور پالا بھی ہو سکتا ہے جو زمین کی چیزوں کو جوہری بھری نظر آتی ہے ایک ہی رات میں جلا کر رکھ دیتا ہے اور آسمان سے اترنے والے وہ اولے بھی ہو سکتے ہیں جن کے اترنے سے زمین کی ساری فصلیں اور باغات تباہ و برباد ہو کر رہ جاتے ہیں۔ بہرحال اس سے مراد ہر وہ آفت ہو سکتی ہے جس کا تعلق زمین کے اندر کے حالات کے ساتھ نہ پایا جاتا ہو۔ فرمایا اگر کوئی اس طرح کی آفت نازل ہوجائے گی تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ کا ڈرانا کیسا ہی ڈرانا ہے اور وہ کس طرح نچنت ہونے والوں کو مہبوت بنا کر رکھ دیتا ہے اگر اس کی مزید وضاحت چاہتے ہوں تو سورة الاعراف اور سورة ہود ، سورة الشعراء وغیرہ میں مختلف قوموں اور ان کے نبیوں کے حالات و واقعات کو پڑھو تو تم کو اس کی شہادت روز روشن کی طرح مل جائیں گی اور تمہارے سارے وہم دور ہوجائیں گے اور یقین ہوجائے گا کہ جب حکم الٰہی آجاتا ہے تو پھر وہ کسی کا لحاظ نہیں کرتا جو اس کی زد میں آتا ہے وہ تباہ و برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔
Ayah 67:18

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ جھٹلا چکے ہیں پھر (غور کرو کہ) ان پر میرا عذاب کیسے ہوا ؟

پہلے لوگوں نے جو جھٹلایا تھا تو ان کے جھٹلانے ہی کو نگاہ میں رکھو تو بات واضح ہو جائے 18 ؎ انبیاء و رسل (علیہم السلام) کی مخالفت شروع سے ہوتی چلی آرہی ہے اور ان کے مخالفین بھی دو ہی طرح کے رہے ہیں ایک وہ جو منکرین و معاندین تھے اور دوسرے وہ جنہوں نے بظاہر ان کو مانا اور تسلیم کیا لیکن اندر سے مخالفت کرتے رہے۔ آپ کے وقت میں بھی دونوں طرح کے مخالف موجود تھے خصوصاً مدنی زندگی میں بعض ایسے بھی تھے جو دعویٰ ایمان تو کرتے تھے لیکن آپ ﷺ کی مخالفت اور مسلمانوں کی مخالفت کا کوئی موقع بھی انہوں نے خالی نہ جانے دیا۔ یہی بات زیر نظر آیت میں کیر جا رہی ہے کہ تم لوگ پہلے نہیں جنہوں نے ہمارے رسول کی مخالفت کی ہو بلکہ تم سے پہلے بہت سی قوموں نے ہمارے رسولوں اور نبیوں کی مخالفت کی ہے اور جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ ہمارے نبی و رسول ہیں اس طرح وہ بھی تھے پھر اس سے اندازہ لگایا کہ جب ہم نے ہر نبی و رسول کی مخالفت کرنے والوں کا رگڑا کیا ہے اور ان کو تہس نہس کرتے رہے ہیں تو اگر تم نے مخالفت اسی طرح جاری رکھی تو تمہارے لئے کوئی نیا قانون نہیں بنائیں گے بلکہ اسی طرح تمہارے دفتر کو بھی لپیٹ دیا جائے گا جس طرح ان کے دفتروں کو لپیٹا گیا تھا۔ تم تو دور دراز کے سفر کرتے رہتے ہو کیونکہ تاجر پیشہ لوگ ہو اب اگر کہیں تمہارا گزر لوط کی بستیوں پر سے ہو تو سای بحر لوط جس کو تم لوگ بحرمیت بھی کہتے ہو ذرا پوچھ دیکھنا کہ تیری تاریخ کیا ہے اور اسی طرح بابل اور نینویٰ کے کھنڈرات سے پوچھ لینا کہ تمہارے بسنے والوں پر کیا بیتی تھی اور آج اگر تم اتنی دور نہیں جاسکتے کہ راستے تم نے خود ہی مسدود کر لئے ہیں تو چلو اہل پاکستان ذرا موہنجوداڑو اور ہڑپہ سے برآمد ہونے والی شکستہ دیواروں ہی سے پوچھ دیکھو کہ تم پر کیا بیتی اور تم پر کیا افتاد پڑی کہ اتنی عظیم ثقافت اور اتنے اعلیٰ تمدن کے باوجود تم کو لوح ہستی سے حرف غلط کی طرح کیوں مٹا دیا گیا۔ اگر تم نے کان لگا کر سنا اور اس طرح سننے کی صلاحیت تم میں موجود ہوتی تو وہ تم کو بتائیں گے کہ ہمارے بسانے والوں نے اپنے خالق حقیقی سے کیونکر منہ موڑ لیا تھا اور ان کو سمجھانے والے جب سمجھاتے تھے تو وہ ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے تھے اور جو کچھ وہ بتائیں تم وہی یاد رکھو اور بہتر ہے کہ ان شرارتوں سے تم باز آ جائو جو تم کر رہے ہو اگر باز نہ آئے تو سنت اللہ یہی ہے کہ اس نے آج تک ایسے غافلوں کو کبھی نہیں چھوڑا اور وہ تم کو بھی نہیں چھوڑے گی۔ اللہ تعالیٰ کے غضب کے بہت سے نشانات کو اب بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے اور مزید قریب رہ کر قدرت خداوندی کا نظارہ کرنا چاہتے ہو تو یہ تمہارے نزدیک شاہی قلعہ پڑتا ہے اس کا نظارہ کر دیکھو اگر تمہارے پاس بینا آنکھ اور دل میں غور کی ذرا بھی کرن موجود ہے تو وہ اپنی ساری داستان سنا دے گا کہ میرے مکینوں نے مجھے کس طرح آباد کیا تھا اور خدائی ہاتھ نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔ اگر اندازہ کرسکتے ہو تو میرے ان کھنڈرات ہی سے کرلو جو تم کو بتا رہے ہیں کہ ؎ کھنڈرات بتا رہے ہیں کہ عمارت عجیب تھی
Ayah 67:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے سروں پر پرندوں کو پر پھیلائے نہیں دیکھا جو کبھی سمیٹ لیتے ہیں (حالانکہ) ان کو رحمن کے سوا کوئی نہیں جو تھامے ہوئے ہو ؟ بلاشبہ وہ ہرچیز کو دیکھ رہا ہے

کیا انہوں نے اپنے سروں کے اوپر کبھی پرندوں کو اڑتے نہیں دیکھا ؟ 19 ؎ غور و فکر ہی ایک چیز ہے جو انسان کو انسان بناتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد اپنے ماحلو میں دیکھتا رہے اور ایک ایک چیز پر غور کرے کہ وہ کیوں ہے اور کیسے ہے ؟ وہ خود قائم ہے یا اس کا کوئی قائم کرنے والا ہے۔ اگر کوئی قائم کرنے والا ہے تو وہ کون ہے ؟ زیر نظر آیت میں لوگوں کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ کیا تم نے کبھی ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو تمہارے سروں پر اور تمہارے اردگرد تم کو اڑتے نظر آ رہے ہیں ، کبھی پر کھولتے ہیں اور کبھی سمیٹتے ہیں لیکن نہ تو پر پھیلاتے ہوئے گرتے ہیں اور نہ ہی ان کو ساکن کرتے ہوئے گرتے ہیں۔ آخر ان کو اللہ تعالیٰ کے سوا جو رحمن بھی ہے کون ہے جس نے روک رکھا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ ان پرندوں کو اڑنے کے لئے موزوں پر کس نے دیئے ہیں۔ اس فضا میں یہ ہوا کس نے بھر دی ہے ، ان پرندوں کو پروں سے اڑنا کس نے سکھایا ہے اور ان کی فطرت میں یہ بات کس نے رکھ دی ہے کہ اس طرح ان کو کھولنے اور سمیٹنے سے یہ ہوا تم کو زمین پر پھینک نہیں دے گی بلکہ اس وقت تک تم کو تھامے رکھے گی جب تک تمہارے ارادے میں اڑنا ہوگا اور یہ ارادہ تم کو کس نے دیا ہے اور یہ ڈھنگ کس نے سکھایا ہے ؟ ان سارے سوالوں کا جواب ایک اور صرف ایک ہے کہ ” اللہ تعالیٰ ہی نے ان پرندوں کو بنایا ہے اور اسی نے ان کے اندر یہ صلاحیت رکھی ہے اس ہوا کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی ان کو روک کر رکھنے والا ہے اور اسی نے یہ سارے انتظامات کئے ہیں ، وہی اللہ ہے ، وہی رحمن ہے۔ یہ بات قبل ازیں بہت دفعہ عرض کی جا چکی ہے کہ رحمن کے نام سے مکہ کے لوگ بہت الرجک تھے اور انہوں نے برملا کہہ دیا تھا کہ یہ رحمن کون ہے جس کا نام لیا جاتا ہے ؟ تو ان کی تفہیم کرائی گئی کہ رحمن اللہ تعالیٰ ہی کا صفاتی نام ہے جیسا کہ اس کے اور بھی بہت سے نام ہیں اور اس کے بعد جس بات سے ان کو چڑ تھی اس کو بار بار قرآن کریم نے استعمال کیا ، کیوں ؟ اس لئے کہ صحیح اور درست بات کو کسی کے چڑنے سے چھوڑا نہیں جاسکتا اور جس کو چڑ ہو اس سے الجھنے کی بھی ضرورت نہیں ہاں ! خاموشی کے ساتھ اس بات کو اور اس کام کو کرتے چلے جانا ہے لاریب یہ صحیح ہے کہ کسی کو مت چھیڑو لیکن یہ موقف بھی ہرگز ہرگز نہ بدلو۔ جس کو حق سمجھتے ہو اس کو کسی مصلحت کے تحت نہ چھپائو اور نہ باطل کے ساتھ ملائو اور ان پاپولر لوگوں کی بات بالکل تسلیم نہ کرو لیکن یہ تسلیم نہ کرنا اپنے عمل سے ثابت کرو نہ کہ کسی بحث سے اور یاد رکھو کہ بحث و تمحیث میں الجھنے والے نکمے اور بدعمل لوگ ہوتے ہیں اگر تم نے یہ بات یاد رکھی تو انشاء اللہ العزیز رحمن کا ذکر بار بار آنے کی اصل حقیقت کو تم جان جائو گے اور اس کے ساتھ ہی مزید بہت سی چیزوں سے پردہ اٹھ جائے گا۔
Ayah 67:20

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

بھلا کون ہے جو تمہارا لشکر بن کر رحمن کے سوا تمہاری مدد کرسکے ؟ بلاشبہ (اس کے) منکر دھوکے میں پڑے ہیں

کیا تمہارے پاس کوئی لشکر ہے جو رحمن کے سوا تمہاری مدد کرسکے ؟ 20 ؎ وہ لوگ جو حق کی مخالفت اور باطل کی موافقت میں دن رات کوشیاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ حق اور باطل دونوں کو ملا کر یا باطل کو حق کے نیچے چھپا کر اپنا الو سیدھا کریں کیا ان کے پاس کوئی ایسا لشکر ہے جو رحمن کے خلاف ان کی مدد کے لئے تیار کھڑا ہے اور ان کے حکم کے انتظار میں ہے کہ جونہی رحمن کی طرف سے ان کے وارنٹ گرفتاری نکلیں گے تو وہ وارنٹ لانے والوں کو وارنٹوں کے ساتھ ہی بھسم کر کے رکھ دیں گے اور اس جس کی حمایت میں ایسا کریں گے وہ رحمن کے عذاب سے بچ جائے گا۔ فرمایا کان کھول کر سن لو کہ نہ کوئی تھا ، نہ ہے اور نہ ہی کوئی ایسا ہوگا۔ یہ بات عقیدہ کی نہیں بلاشبہ ایسا عقیدہ تو کوئی نہیں رکھتا لیکن اس طرح کے عمل کرنے والوں کی کمی آج تو یقینا نہیں ہے اس وقت اگر کوئی ہزاروں میں ایک تھا تو اس وقت ایک ہزار سے نو سو ننانویں ایسے مل سکتے ہیں جو عملی طور پر رحمن کے مقابلہ میں ہیں اگرچہ وہ زبانی طور پر تسلیم نہ کریں اور ایسے کافروں کی کوئی کمی نہیں ہے جو شروع سے لے کر آج تک اس دھوکے میں مبتلا ہیں کہ عملی مخالفت بھی کرتے ہیں اور تسلیم بھی بالکل نہیں کرتے۔ ذرا غور کریں کہ ہم مسلمان ہیں یہ ہمارا دعویٰ ہے اور اسی دعویٰ پر جان دینے کیلئے ہمارا ہر ایک فرد تیار ہے لیکن عملی حالت یہ ہے کہ کوئی شخص کوئی کام بھی ہدایات الٰہی کے مطابق کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ رواج کے مطابق کرنے والے موجود ہیں۔ خاندان اور برادری کی خاطر کام کرنے والے موجود ہیں۔ اپنے اپنے مکتب فکر کے لئے کام کرنے والے موجود ہیں۔ اپنے پیروں ، بزرگوں ، لیڈروں کی خوشنودی کے لئے کام کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن تیار نہیں تو صرف اس کام کے لئے نہیں جس کا حکم رحمن نے دیا ہے۔ اس طرح گویا وہ خود دھوکا باز ہیں اور دوسروں کو دھوکا میں مبتلا کر رکھا ہے اور یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ دوسروں کو دھوکا میں مبتلا کرنے والا خود دھوکا میں مبتلا ہوتا ہے اور اس بات کو نہیں سمجھتا یا سمجھنے کیلئے کبھی تیار نہیں ہوتا اب یہ فیصلہ تم خود کرلو کہ کافر ہی اس دھوکا میں مبتلا ہیں یا جو اس دھوکا میں مبتلا ہوں ان ہی کو کافر کہا جاتا ہے اور اگر تم پہلی بات کہو گے تو میرا ذہن دوسری کو قبول کرتا ہے جو قرآن کریم کی منشا ہے وہ کسی قرآن جاننے والے سے پوچھ لو اور بہتر ہے کہ ہم نے آپ کو ایک کسوٹی پرکھنے کی بتائی تھی اس پر رکھ کر دیکھ لو اور یہ کسوٹی ہم نے غزوۃ الوثقی جلد ہفتم میں سورة النمل کی آیت 4 کے تحت درج کردی ہے ، وہاں سے ملاحظہ فرما لیں۔