Ayah 70:1(70:1) سال سائل : سال ماضی واحد مذکر غائب سؤال (باب فتح) مصدر بمعنی سوال کرنا، دریافت کرنا۔ مانگنا۔ طلب کرنا۔ سائل اسی مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ سوال کرنے والا۔ پوچھنے والا۔ سأل سائل کی پوچھنے والے نے پوچھا۔
بعذاب واقع ب بمعنی عن ہے۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فسئل بہ خبیرا (25:59) تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کرلو۔ عذاب واقع موصوف و صفت دونوں مل کر مفعول ثانی سأل کے، مفعول اول محذوف ہے ای سأل اللہ سائل کسی (یا ایک) سوال کرنے والے نے اللہ سے سوال کیا ۔ واقع اسم فاعل صیغہ واحد مذکر وقع باب فتح مصدر سے بمعنی نازل ہونے والا۔
فائدہ : اس سورت کا شان نزول یہ ہے جسے نسائی اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ یہ عذاب کا سوال کرنے والا نضر بن حارث ابن کلدہ کافر تھا۔ سورة الحاقۃ سن کر اس سنگدل نے ازراہ تمسخر کرتے تھے۔ ان کے فکر میں قیامت کا آنا ایک امر محال تھا۔ اس لئے انکار کے طور پر سوال کرتے تھے اس پر یہ سورة مبارکہ نازل ہوئی جس میں اس دن کی ہیبت ناک کیفیت اور اس عذاب کا آنا مذکور ہے جو کسی تدبیر سے ٹالے نہیں ٹلے گا۔
سائل نضربن حارث تھا مگر اس ذلیل کا نام نہیں لیا گیا کیونکہ وہ اس قابل نہ تھا۔ یا یہ کہ قرآن میں یہ عادت نہیں کہ معائب میں کسی کا نام لیا جائے۔ (تفسیر حقانی)
Ayah 70:2(70:2) للکافرین : اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :َ
(1) یہ عذاب کی دوسری صفت ہے یعنی وہ عذاب جو کافروں پر نازل ہونے والا ہے۔
(2) یہ واقع سے متعلق ہے یعنی کافروں پر نازل ہونے والا۔
(3) یہ سوال محذوف کا جواب ہے، سوال ہوگا کہ کن لوگوں پر واقع ہوگا تو سوال کا یہ جواب ہوگا کہ کافروں پر واقع ہوگا۔
اور لیس لہ دافع عذاب کی صفت ہوگا یا جواب کے دائرہ میں آئے گا (مظہری) ۔ لیس لہ دافع : من اللہ۔ چونکہ اللہ کا ارادہ عذاب سے متعلق ہوجائے گا اس لئے خدا کی طرف سے اس عذاب کو دفع کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ (مظہری)
Ayah 70:3(70:3) من اللہ ذی المعارج : مضاف مضاف الیہ مل کر صفت ہے اللہ کی۔ اللہ اور ذی المعارج بحالت جر ہیں بوجہ ب حرف جار کے عمل کے۔ المعارج : عروج (باب نصر) مصدر سے اسم آلہ جمع کا صیغہ ہے اس کا مفرد مفرج اور معراج ہے بمعنی سیڑھی، العروج کے معنی اوپر چڑھنے کے ہیں جیسا کہ اگلی آیت 4 میں تعرج الملئکۃ والروح ۔۔ الخ آیا ہے۔ (فرشتے اور روح اس کی طرف اس دن چڑھ رہے ہوں گے) ۔
لیس لہ دافع من اللہ ذی المعارج کا ترجمہ ہوگا :۔ جس کو اللہ ذی مراتب کی طرف سے کوئی دفع نہیں کرسکتا۔ اللہ کو ذی المعارج اس لئے کہا کہ جملہ درجات عالیہ اسی کے ہاتھ میں ہیں جس کو چاہے عطا کرے۔ اور یہ بھی کہ وہ خود بلند مرتبوں والا ہے اس تک پہنچنے کے لئے ایمان و اعمال و خلوص کی سیڑھیاں درکار ہیں۔
Ayah 70:4(70:4) تعرج : مضارع واحد مؤنث غائب عروج (باب نصر) مصدر۔ وہ چڑھتی ہے وہ چڑھے گی۔ الروح : سے مراد کون ہے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ اکثریت کے نزدیک اس سے مراد حضرت جبریل (علیہ السلام) ہیں جیسا کہ آیت ہذا میں ہے اور کئی جگہوں پر بھی اسی معنی میں قرآن مجید میں آیا ہے مثلاً نزل بہ الروح الامین (26:193) اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔
شیخ جلال الدین سیوطی (رح) تعالیٰ نے اس کے علاوہ آٹھ اور معانی ذکر کئے ہیں۔
(1) امر۔ وروح منہ (5:171) اور اس کا امر ہے۔
(2) وحی۔ ینزل المئکۃ بالروح (16:2) اتارتا ہے فرشتے وحی لے کر۔
(3) قرآن۔ اوحینا الیک روحا من امرنا (42:52) ہم نے وحی کی تیری طرف قرآن کی اپنے حکم سے۔
(4) رحمت۔ وایدھم بروح منہ (58:22) اور ان کی مدد کی اپنی رحمت سے۔
(5) فروح وریحان (56:89) پس زندگی ہے اور روزی ہے۔ روح کو اکثر نے ر کی زہر سے پڑھا ہے لیکن بعض نے ضمہ سے بھی پڑھا ہے۔
(6) ایک عظیم المرتبت فرشتہ۔ یوم یقوم الروح (78:38) جس دن کھڑا ہو فرشتہ روح نامی۔
(7) ایک خاص فرشتوں کا لشکر : تنزل الملئکۃ والروح فیہا (97:4) اترتے ہیں فرشتے اور ان کا خاص لشکر اس میں۔
(8) روح بدن ۔ جان ۔ ویسئلونک عن الروح (17:85) اور تجھ سے پوچھتے ہیں جان کے متعلق۔
الیہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے یعنی اللہ کی طرف چڑھ کر جائیں گے یا چڑھتے ہیں۔ اس کی تشریح کرتے ہوئے صاحب تفہیم القرآن رقمطراز ہیں :۔
یہ سارا مضمون متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین نہیں کئے جاسکتے، ہم نہ تو فرشتوں کی ھقیقت کو جانتے ہیں نہ ان کے چڑھنے کی کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں نہ یہ بات ہمارے ذہن کی گرفت میں آسکتی ہے کہ وہ زینے کیسے ہیں جن پر فرشتے چڑھتے ہیں اور انہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ تصور کرسکتے ہیں کہ وہ کسی خاص مقام پر جلوہ افروز ہے کیونکہ اس کی ذات زمان و مکان کی قید سے منزہ ہے۔ (تفہیم القرآن جلد ششم)
تعرج الملئکۃ ۔۔ الف سنۃ جملہ مستانفہ ہے اور معارج کی بلندیوں اور طوالت کے بیان میں آیا ہے۔ استئناف لبیان ارتفاع تلک المعارج وبعد مدارھا (بیضاوی)
ترجمہ ہوگا :۔ فرشتے اور روح (ان زینوں پر) خدا کی طرف ایک دن میں چڑھتے ہیں (اور) اس دن کی مقدار (دنیا کے) پچاس ہزار سالوں کے برابر ہے۔
مقدارہ مضاف مضاف الیہ ہ ضمیر واحد مذکر غائب یوم کے لئے ہے۔
فائدہ : یہاں ایک دن کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر بتائی گئی ہے اور سورة حج میں (22:47) ایک دن کی مقدار ایک ہزار سال بتائی گئی ہے۔ یہ کوئی مقررہ پیمانہ نہیں ہے محض انسان کو یہ بات ذہن نشین کرانے کے لئے ہے کہ دنیاوی پیمانے انسان کی اپنی محدود رسائی ذہن کی پیداوار ہیں جو قدرت کے پیمانوں کے آگے ہیچ ہیں۔
Ayah 70:5(70:5) فاصبر صبرا جمیلا :سببیہ ہے اصبر فعل امر واحد مذکر حاضر صبر (باب نصر) مصدر سے تو صبر کر۔ صبرا مفعول مطلق موصوف۔ جملیا صفت۔ جمیل بروزن فعیل جمال سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ خوب۔ خوب تر ۔
مطلب یہ ہے کہ اگرچہ سوال کرنے والے نے استہزار پوچھا تھا ورنہ قیامت کے روز جزاو سزا پر تو اس کا اعتقاد نہیں تھا۔ لیکن جواب میں بتادیا گیا کہ عذاب فی الواقع آنے والا ہے کافروں پر اور اس کے آنے کو کوئی روک نہیں سکے گا اس لئے اے رسول کریم ﷺ آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں بلکہ ان کی کرتوتوں پر صبر کیجئے یہ سب اپنے کیفر کردار کو ضرور پہنچیں گے۔
Ayah 70:6(70:6) انھم یرونہ بعیدا : ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع عذاب ہے۔ بعیدا ، بعد سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ وہ عذاب کو امکان سے بعید یا عقل سے دور جانتے ہیں ان کے خیال میں عذاب کا احتمال اگر آتا بھی ہے تو ضعیف ہوتا ہے۔
Ayah 70:7(70:7) ونراہ قریبا : واؤ عاطفہ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے نری مضارع جمع متکلم رؤیۃ (باب فتح) مصدر سے ۔ ہم دیکھتے ہیں۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع عذاب ہے اور ہم عذاب کو قریب الوقوع دیکھ رہے ہیں ۔ کیونکہ جو چیز آنے والی یقینی ہو تو وہ قریب ہی ہے۔ بعیدا ، قریبا دونوں ضمیر مفعول ہ سے حال ہیں۔
Ayah 70:8(70:8) یوم تکون السماء کالمہل : یوم بوجہ قریبا کی ظرفیت کے منصوب ہے تقدیر کلام یوں ہے۔
ونراہ قریبا یوم تکون السماء کالمہل اور ہم اس (عذاب) کو قریب ہی دیکھ رہے ہیں۔ اس روز آسمان (پگھل کر) تانبے جیسا ہوجائے گا۔ کالمہل : ک تشبیہ کا ہے مہل پگھلا ہوا تانبا۔ یا اور کوئی دھات، تیل کی تلچھٹ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔
کالمہل یغلی فی البطون (44:45) جیسے پگھلا ہوا تانبا پیٹوں میں کھولے گا۔ المہل کے اصل معنی حلم و سکون کے ہیں اور مہل فی فعلہ کے معنی ہیں اس نے سکون سے کام لیا۔ اور امہلتہ کے معنی کسی کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کے ہیں۔
چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فمہل الکفرین امہلہم رویدا (86:17) تو تم کافروں کو مہلت دو پس چند روز ہی مہلت دو
Ayah 70:9(70:9) وتکون الجبال کالعھن اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ ہے۔ اور پہاڑ اون کی طرح ہوجائیں گے۔
Ayah 70:10(70:10) ولا یسئل حمیم حمیما : یہ جملہ بھی معطوف ہے اس کا عطف بھی آیت نمبر 8 پر ہے اور کوئی دوست کسی دوست کا حال نہیں پوچھے گا۔
Ayah 70:11(70:11) یبصرونھم : مضارع مجہول جمع مذکر غائب تبصیر (تفعیل) مصدر ہم ضمیر جمع مذکر غائب مفعول۔ وہ ان کو دکھائے جائیں گے۔ ان کا ایک دوسرے سے تعارف کرایا جائے گا۔ یبصروں ای یتعارفون (جلالین)
یبصرونھم ہر دو حمیم۔ حمیما (فاعل و مفعول سے حال ہے۔
فائدہ : حمیما پر وقف ” صلے “ ہے جو الوصل اولی (ملا کر پڑھنا بہتر ہے) کا اختصار ہے اور یبصرونھم پر وقف مطلق کی علامت ہے اس پر ٹھہرنا چاہیے۔ لہٰذا یبصرونھم کا تعلق آیت نمبر 10 سے ہے۔
یود المجرم۔ جملہ مستانفہ ہے۔ مجرم چاہے گا۔ ۔۔ یود مضارع واحد مذکر غائب۔ مودۃ (باب سمع) سے مصدر۔ بمعنی پسند کرنا۔ خواہش کرنا۔ آرزو کرنا۔ چاہنا۔ المجرم ای المشرک۔
لو یفتدی من عذاب یومئذ بینہ : لو حرف تمناء کاش، یفتدی مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ افتداء (افتعال) مصدر افتدی من کسی چیز سے بچنا۔ اور افتدی۔۔ ب فدیہ دینا۔ لو یفتدی من عذاب یومئذ ببنیہ۔ کاش و عذاب سے بچ جائے اپنے بیٹوں کو فدیہ میں دے کر۔
عذاب یومئذ : یوم اسم ظرف ، مجرور۔ مضاف : اذ مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر عذاب (مضاف) کا مضاف الیہ اس دن کے عذاب سے۔ ب حرف جار بمعنی بدلے میں۔ بنیہ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور۔ اپنے بیٹوں کے بدلہ میں۔
آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ کاش وہ بچ سکے اس دن کے عذاب سے اپنے بیٹوں کو بدلہ میں دے کر۔
المجرم فاعل یود فعل لویفتدی ۔۔ ببنیہ جملہ مفعول ہوگا۔
لو بمعنی ان بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ مشرک چاہے گا کہ وہ اپنے بیتوں کو بدلہ میں دے کر اس دن کے عذاب سے بچ جائے۔
Ayah 70:12(70:12) وصاحبتہ اور اپنی بیوی کو بدلہ میں دے کر۔ واخیہ اور اپنے بھائی کو بدلہ میں دے کر۔
صاحبتہ واخیہ کا عطف ببنیہ پر ہے۔
Ayah 70:13(70:13) وفصیلتہ التی تؤیہ۔ اس کا عطف بھی ببینہ پر ہے اور (کہ وہ بچ جائے اس دن کے عذاب سے) اپنے خاندان کو فدیہ میں دے کر جو خاندان اسے (مشکل میں) پناہ دیتا تھا۔ فصیلتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ ایک جدی گھرانہ۔ ایک دادا کی اولاد۔
تؤیہ : تؤی۔ مضارع واحد مؤنث غائب ایواء (افعال) مصدر اوی مادہ بمعنی ٹھکانا دینا۔ جگہ دینا۔ پناہ دینا۔ اسی مادہ سے (باب ضرب) سے اوی ، یاوی، اوی و ماوی بمعنی کسی جگہ پر نزول کرنا یا پناہ حاصل کرنا ہے۔
Ayah 70:14(70:14) ومن فی الارض جمیعا : من موصولہ ہے فی الارض اس کا صلہ۔ یا سارے (جن و انس) جو زمین پر ہیں۔ من کا عطف بھی بنیہ پر ہے۔ اور چاہے گا کہ زمین پر جو جن و انس بستے ہیں وہ سب فدیہ میں دے کر اس دن کے عذاب سے بچ جائے۔
ثم ینجیہ : ثم حرف عطف سے ینجی مضارع واحد مذکر غائب۔ انجاء (افعال) مصدر سے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا فاعل الافتداء محذوف ہے پھر یہ افتداء اس کو بچالے۔
Ayah 70:15(70:15) کلا : جمہور کے نزدیک یہ حرف بسیط ہے۔ لیکن بعض کے نزدیک یہ ک تشبیہ اور لا نافیہ سے مرکب ہے حالت ترکیب میں ک اور ل کے انفرادی معنی باقی نہ رہے اس لئے لام کو مشدد کیا گیا۔ کلا۔ یعنی مذکورہ بالا تمام چیزوں کو اپنے عوض میں دے کر عذاب سے بچ جائے گا۔ یہ ہرگز نہ ہوگا۔
سیبویہ، خلیل ، مبرد، زجاج اور اکثر بصری ادیبوں کے نزدیک کلا کے معنی صرف ردع اور روکنے کے ہیں۔ (خواہ بطور زجر و توبیخ کے ہو یا بطور ترتیب اور ادب آموزی کے) اس لئے ان علماء کے نزدیک قرآن مجید کے تمام 33 مقامات میں جس جس جگہ کلا آیا ہے ہر جگہ کلا پر وقف کرنا جائز ہے۔ اور بعد کو اؤنے والا کلام نئے سرے سے شروع ہوتا ہے بعض لوگ تو یہاں تک قائل ہیں کہ چونکہ کفار مکہ سخت سرکش تھے اور تہدید آمیز کلام انہیں کے لئے زیادہ نازل ہوا ہے اور کلا کے معنی بھی تہدید اور زجر کے ہیں اس لئے جن سورتوں میں کلا آیا ہے ان کی اکثر آیات کو مکہ ہی سمجھنا چاہیے۔
انھا لظی : انھا۔ بیشک وہ۔ بیشک بات یہ ہے۔ ان حرف مشبہ بالفعل ھا ضمیر واحد مؤنث غائب (ضمیر قصہ) لظی ، ان کی خبر۔ ھا ضمیر اس نار کی طرف راجع ہے جو معنی لفظ عذاب سے معلوم ہو رہی ہے۔ لظی اسم علم ہے اس صورت میں اس سے مراد دوزخ میں دوسرے دوجے کے دوزخ کا نام ہے۔ مصدر بھی ہوسکتا ہے بمعنی آگ بھڑکنا۔ اسم مصدر بھی۔ بمعنی بغیر دھویں کے اٹھتا ہوا شعلہ، لپٹ، بھڑک۔ یعنی ایسی آگ جس میں شعلے بھڑک رہے ہوں گے۔
مطلب یہ کہ بیشک وہ ایسی آگ ہوگی جو بھڑک رہی ہوگی اور شدت التہاب کا یہ اثر ہوگا کہ دھویں کے بغیر ہوگی۔
Ayah 70:16(70:16) نزاعۃ للشوی : ان کی خبرثانی، مصدر کا صیغہ ہے نزع (باب ضرب) مصدر۔ سخت کھینچنے والی۔ ادھیڑ دینے والی۔
نزع الشیء کے معنی کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھینچنے کے ہیں قرآن مجید میں ہے تنزع الناس کانھم اعجاز نخل منقعرہ (54:20) وہ لوگوں کو اس طرح اکھیڑے ڈالتی تھی گو یا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں۔
اسی مادہ ن ز ع سے تنازع (تفاعل) باہم خصومت کرنا۔ باہم ایک دوسرے کو کھینچنا کے ہیں۔
شوی کے مختلف معانی ہیں :۔ کلیجہ، منہ کی کھال، سر کی کھال، اطراف بدن (یعنی بدن کے وہ حصے جن پر ضرب لگنے سے موت واقع نہیں ہوتی۔ مثلاً ہاتھ ، پاؤں) وغیرہ۔ شوی ، شواۃ کی جمع ہے جیسے نوی نواۃ کی جمع ہے۔ اس کے مختلف معانی کے لحاظ سے علماء نے اس کے مختلف معانی کئے ہیں۔
(1) سر کی کھال اتار دینے والی۔ (مجاہد)
(2) دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کو اکھاڑ کر جدا کردینے والی۔۔
(3) ہڈیوں سے گوشت اتار دینے والی۔ (ابراہیم بن مہاجر)
(4) پٹھوں کو کھینچ لینے والی ۔ (ابن عباس ؓ )
(5) انسان کے گوشت اور پست کو ہڈیوں سے ادھیڑ لینے والی۔ وغیرہ۔
Ayah 70:17(70:17) تدعوا من ادبر و تولی۔ تدعوا مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب دعاء (باب نصر) مصدر۔ وہ پکارے گی۔ وہ بلائے گی۔ وہ پکارتی ہے وہ بلاتی ہے (زبان حال سے یاز بان قال سے) واللہ اعلم بالصواب۔
من موصولہ ادبر سلہ، صلہ اور موصول مل کر مفعول تدعوا کا۔ ادبر ماضی معروف کا صیغہ واحد مذکر غائب ادبار (افعال) مصدر۔ اس نے پیٹھ پھیری۔ یعنی دوزخ کی آگ ہر اس شخص کو پکارے گی جس نے دنیا میں حق سے منہ موڑا تھا۔ الی یا مشرک الی یا منافق، ادھر آ اے مشرک ادھر آ اے منافق۔
وتولی کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ تولی ماضی واحد مذکر غائب تولی (تفعل) مصدر۔ اور جس نے پیٹھ پھیری۔ یا منہ موڑا۔
Ayah 70:18(70:18) وجمع فاوعی : اس کا عطف بھی من ادبر پر ہے واؤ عاطفہ ہے۔ جمع ای جمع مال الدنیا۔ اور دنیا کا مال اکٹھا کیا۔ فاوعی میں فاء تعقیب کا ہے اوعی۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر ایعاء (افعال) مصدر سے۔ جس کے معنی مال و اسباب کو کسی چیز میں محفوظ کر رکھنے کے ہیں۔ وجمع فاوعی : اور (دوزخ کی آگ اس کو بھی پکارے گی) جس نے دنیا کا مال اکٹھا کیا پھر محفوظ کرکے اسے بند کرلیا اور جہاں اسے خرچ کرنا چاہیے تھا وہاں خرچ نہ کیا۔
الوعاء کے معنی بوری یا تھیلہ کے ہیں جس میں دوسری چیزیں اکٹھی کرکے رکھی جاتی ہیں اس کی جمع ادعیۃ ہے۔
قرآن مجید میں ہے :۔ ثم استخرجھا من وعاء اخیہ (12:76) پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ وعی مادہ
Ayah 70:19(70:19) ہلوعا : ہلع (باب سمع) مصدر سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ علماء تفسیر نے اس نے کئی معانی لئے ہیں۔ بہت بےصبرا۔ تھوڑدلا۔ ناجائز چیز کی حرص کرنے والا۔ سخت کنجوس۔ تنگ دل ۔
عکرمہ نے کہا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے ہلوعا کا مطلب پوچھا گیا۔ تو انہوں نے فرمایا : ھو کما قال اللہ تعالیٰ ۔ اذا مسہ الشر جزوعا واذا مسہ الخیر منوعا۔ آیات 20-21 سورة ہذا۔ اس کا مطلب وہی ہے جو ان آیات کا ہے۔
علامہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں :۔ بہرحال انسان پیدائشی طور پر صفت ہلع کے ساتھ متصف ہے۔ اگر بالفعل متصف کہا جائے گا تو یہ آیت حال مودرہ ہوگی۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ آدمی کے اندر خصلت ھلع پیدا کی گئی ہے جو اس خصلت کا سرچشمہ ہے تو اس صورت میں یہ آیت حال محققہ ہوگی۔ بہرحال کلام سابق کی علت اس آیت میں بیان کی گئی ہے ! (تفسیر مظہری)
Ayah 70:20(70:20) اذا مسہ الشر جزوعا : اذا ظرف زمان ہے بمعنی جب، مس ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ مس (باب نصر) مصدر سے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب الانسان کے لئے۔
الشر جس سے سب کو نفرت ہو وہ شر ہے جیسے غریبی، فاقہ، بیماری ، مصیبت، وغیرہ یہ خبر کی ضد ہے۔ ہر وہ چیز جو سب کو پسند ہو خیر ہے۔ مثلاً مال و دولت، صحت، اولاد، کشائش رزق وغیرہ۔
جزوعا : جزع (باب سمع) مصدر سے (بمعنی گھبرا جانا) بروزن فعول صفت مشبہ کا صیغہ ہے گھبرا جانے والا اضطراب کرنے والا
امام راغب المفردات میں رقم طراز ہیں :۔
الجزع۔ بےصبری ۔ قرآن مجید میں ہے ! سواء علینا اجرعنا ام صبرنا (14:21) اب ہم گھرائیں یا صبر کریں۔ ہمارے حق میں برابر ہے ۔ یہ حزن سے خاص ہے کیونکہ جزع خاص کر اس غم کو کہتے ہیں کہ انسان جس چیز کے درپے ہو وہ اس سے پھر جائے اور اس سے قطع تعلق کرلے۔
جزوعا ھلوعا کی طرح حال ہے۔
Ayah 70:21(70:21) واذا مسہ الخیر منوعا : اس کا عطف آیت سابقہ پر ہے۔ منوعا جزوعا کی طرح ہے منوعا منع سے باب فتح سے مصدر۔ مبالغہ کا صیغہ ہے بہت روکنے والا۔ بڑا کنجوس۔
Ayah 70:22(70:22) الا المصلین : الا استثنائیہ متصلہ : المصلین مستثنیٰ ۔ الانسان (آیت 19) مستثنیٰ منہ۔ الانسان میں الف لام جنس ہے یا استغراقی ہے۔ لفظ انسان اگرچہ مفرد ہے، لیکن معنوی اعتبار سے جمع ہے اسی لئے الا المصلین میں الا استثناء متصلہ آیا ہے۔ و مثلہ قولہ تعالیٰ والعصر ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعملوا الصلحت (103:1-3) اضواء البیان۔
مولانا پانی پتی تحریر فرماتے ہیں :۔ مصلی سے مراد کامل مومن ہے جیسے آیت وما کان اللہ لیضیع ایمانکم (2:143) میں ایمان سے مراد نماز ہے۔ کیونکہ مومن کے مراتب میں چوٹی کا درجہ نماز ہی ہے ۔ یہی مومن کی معراج اور دین کا ستون ہے۔ (تفسیر مظہری)
Ayahs 70:23–24(70:23) الذین ھم علی صلوتھم وائمون : یہ المصلین کی صفت ہے جو اپنی نمازوں میں مداومت اور استقامت کرتے ہیں ای لا یقضونھا ابدا ما داموا احیاء جب تک زندہ رہتے ہیں نماز قضاء نہیں کرتے۔ (الیسر والتفاسیر)
حضرت عائشہ ام المؤمنین ؓ سے ایک حدیث مرفوعا مذکور ہے :۔ احب الاعمال الی اللہ ادومھا ولو قل : اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل اس پر استقامت ہے خواہ وہ عمل چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔
حضرت عقبہ ؓ نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نماز میں دائیں بائیں اور پیچھے نہیں دیکھتے۔
احمد اور ابو داؤد، نسائی۔ دارمی نے حضرت ابوذر ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :۔ کہ بندہ جب تک نماز کے اندر ادھر ادھر التفات کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی طرف سے توجہ ہٹا لیتا ہے۔
الانسان الھلوع کی مستثنیات کی یہ پہلی صفت ہے یعنی جو لوگ اپنی نمازوں کو استقامت و مداومت اور توجہ سے پڑھتے ہیں وہ الانسان الہلوع کی جنس سے مستثنیٰ ہیں ۔
Ayah 70:25(70:25) للسائل والمحروم۔
یہ متذکرہ بالا مستثنیات کی دوسری صفت ہے اور وہ لوگ بھی جنس الانسان ہلوہا سے مستثنیٰ ہے جن کے اموال میں سائل اور محروم کے لئے ایک متعین حصہ ہے جیسے زکوۃ اور مقررہ صدقات۔ یا وہ مال جو انسان قربت الٰہی کے حصول کے لئے یا اپنے سے غریب و نادار لوگوں کو ازراہ ہمدردی وقتا فوقتا دیتا رہتا ہے اور اس مقصد کے لئے اپنے اموال سے ایک معین رقم کا استعمال اپنے اوپر لازم کرلیتا ہے
محروم سے مراد وہ شخص ہے جو ازحد ضرور تمند ہونے کے باوجود بھی کسی کے آگے دست سوال درانہ کرنے سے ہچکچاتا ہو۔
Ayah 70:26(70:26) والذین یصدقون بیوم الدین۔ یہ مستثنیات کی تیسری صفت ہے جو روز جزاء کی تصدیق کرتے ہیں۔
یصدقون مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب تصدیق (تفعیل) مصدر سے۔ وہ تصدیق کرتے ہیں۔ وہ سچا مانتے ہیں۔
Ayah 70:27(70:27) والذین ھم من عذاب ربھم مشفقون : یہ مستثنیت کی صفت چہارم ہے۔ مشفقون اشفاق (افعال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ ڈرنے والے۔ اور جو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔
Ayah 70:28(70:28) ان عذاب ربھم غیر مامون۔ یہ جملہ معترضہ تذییلی ہے۔ جملہ سابقہ میں عذاب ربھم کی وضاحت میں اس کی شدت اور ہمہ گیری کو ذہن نشین کرانے کے لئے آیا ہے۔ ان حرف مشبہ بالفعل (حرف تاکید) عذاب اسم ان (منصوب) مضاف ربھم مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ عذاب کا۔ غیر مامون ان کی خبر۔ مامون امن (باب سمع) مصدر سے اسم مفعول واحد مذکر کا صیغہ
یعنی ایسا عذاب جس کا اندیشہ برابر لگے رہنا چاہیے۔ اس کی طرف سے نڈر ہو کر نہ بیٹھنا چاہیے۔ ناقابل بےخوفی۔ خطرناک۔
ان کے رب کا عذاب بےخطر چیز نہیں کیونکہ اس کو روکنے اور دفع کرنے کی کسی میں قدرت نہیں۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ ء امنتم من فی السماء (67:16) کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نڈر (بیخوف) ہو ۔
Ayah 70:29(70:29) والذین ھم لفروجھم حفظون ۔ مستثنیت کی پانچویں صفت ہے اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
فروجھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ فروج جمع ہے فرج کی الفرج والفرجۃ کے معنی دو چیزوں کے درمیانی شگاف کے ہیں۔ جیسے امر کی جمع امور ہے۔
جیسے دیوار میں شگاف یا دونوں ٹانگوں کے درمیان کی کشادگی۔ کنایہ کے طور پر فرج کا لفظ شرم گاہ پر بولا جاتا ہے اور کثرت استعمال کی وجہ سے اسے حقیقی معنی سمجھا جاتا ہے۔
بمعنی شگاف قرآن مجید میں ہے وما لہا من فروج (50:6) اور اس میں کہیں شگاف تک نہیں۔
اور دوسری جگہ آیا ہے :۔ واذا السماء فرجت (77:9) اور جب آسمان پھٹ جائے۔ یہاں فرجت بمعنی انشقت ہے۔
حفظون ۔ حفظ (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ حافظ کی جمع۔ نیز اس کی جمع حفاظ بھی ہے۔ نگہبانی کرنے والے۔ حفاظت کرنے والے۔ نگاہ رکھنے والے۔
مطلب یہ کہ اپنی شرمگاہوں کو ایسی جگہوں اور ایسے طریق سے استعمال کرنے ست باز رہتے ہیں جہاں سے شرع نے منع کر رکھا ہے۔ اگلی آیت میں اس کی تفصیل ہے۔
Ayah 70:30(70:30) الی علی ازواجھم اوما ملکت ایمانھم : یعنی اپنی شرم گاہوں کو بجز اپنی بیویوں کے اور لونڈیوں کے جنہیں مردوں کے دائیں ہاتھوں نے ملکیت میں لیا بچائے رکھتے ہیں۔
یہ استثناء مفرغ ہے یعنی اس کا مستثنیٰ منہ مذکور نہیں (لیکن یہ استثناء مفرغ تو کلام منفی میں ہوتا ہے اور یہ کلام مثبت ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بظاہر یہ کلام مثبت ہے لیکن حقیقت میں منفی ہے) حفظ کے اندر نفی کا معنی ہے یعنی وہ لوگ اپنی شرم گاہوں کو اپنی بیویوں کے علاوہ استعمال نہیں کرتے۔
او بمعنی یا۔ ما بمعنی من ہے۔ آدمی ذی عقل ہوتا ہے خواہ وہ آزاد ہو یا غلام اور ذی عقل کے لئے عربی میں من آتا ہے ما نہیں آتا۔ لیکن یہاں ما آیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ کفر کی دنیوی سزا دینے کے لئے شریعت نے باندی غلام کو جانور قرار دیا ہے اسی لئے ان کی خریدوفرخت اور ان سے خدمت لینی جائز رکھی ہے (تفسیر مظہری)
ما ملکت ایمانھم : لے لفظی معنی ہیں۔ وہ جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ ہیں محاورہ میں اس سے مراد شرعی مملوکہ، غلام اور کنزیں ہیں جن کا اب مدت دراز سے ہندوستان بلکہ دنیا کے اکثر ملکوں میں کہیں وجود نہیں ہے۔ اسیران جنگ کا معاملہ ہمیشہ ایک اہم اور دشوار رہا ہے۔ یعنی یہ کہ جو مرد اور عورتیں شکست خوردہ غنیم کے ہاں سے گرفتار ہوکر آئیں ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جائے ؟ انہیں کہاں اور کیسے رکھا جائے کسی نے اس کا حل جبری مزدوری یا بیگار کو نکالا۔ کسی نے کچھ اور۔
لیکن ہماری شریعت اسلامیہ نے یہ حکم دیا کہ بجائے اس کے کہ ایک بڑی آبادی کا بار حکومت پر ڈالا جائے اس تعداد کو افراد پر تقسیم کیا جائے اور ہر فرد اس نودارد کو اپنے خاندان کا ایک جزء بنائے اس سے کام ہر قسم کا لے۔ یقینا لے لیکن اس کے آرام کا بھی ہر طرح خیال رکھے اور ان میں جو عورتیں ہوں ان سے ہم بستری کا حق بھی حاصل ہے اس کا قیدی ہوکر آنا یہ خود اعلان نکاح کا قائم مقام ہے اس کے ہوتے ہوئے مزید کسی ایجاب و قبول اور شاہدین کی ضرورت نہیں اور یہ لوگ آسان شرائط پر اپنی آزادی ہر وقت خرید سکتے ہیں (شرائط کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں ملے گی) بلکہ ان کے آزاد کرنے کی فضیلیں، اور اس کے لئے طرح طرح کی ترغیبات خود قرآن مجید میں ہی درج ہیں اور حدیث میں تو اور زائد ہیں۔
حیرت ہے کہ ایسے سیدھے اور شریفانہ، حکیمانہ قانون سے شرمانے اور اسے غیروں سے چھپانے کی ضرورت تجدد زدہ مسلمان محسوس کرتے ہیں شاید اس لئے کہ ان کی ذہن معا انگریزی کے لفظ اور ان ساری سختیوں کی طرف منتقل ہوجاتا ہے جو اس لفظ کے تخیل کے ساتھ وابستہ ہیں۔ حالانکہ ہمارے ہاں تو غلاموں اور غلام زادوں نے بار ہا بادشاہتیں کی ہیں اور امراء تو ان کی کثرت سے ہوئے ہیں۔ اور دینی حیثیت سے بڑے بڑے علماء فقہاء دائمہ فن ان میں تابعین کے زمانہ سے ہی پیدا ہونے لگے تھے۔ کنیز کے حقوق بیوی سے کمتر ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کا ادا کرنا بھی قدرۃ سہل ہے ۔ (تفسیر ماجدی 4:3 حاشیہ نمبر 429)
فانھم غیر ملومین : غیر حرف استثناء ملومین مستثنیٰ ۔ (غیر کے بعد مستثنیٰ مجرور ہوتا ہے) ملومین لوم (باب نصر) مصدر سے اسم مفعول (بحالت جر) جمع مذکر صیغہ ہے بمعنی ملامت کئے گئے۔ ملامت زدہ۔
فانھم غیر ملومین : ای فانھم علی ترک الحفظ غیر ملومین تو وہ اس ترک حفظ پر سزاوار ملامت نہیں۔ یعنی اپنی شرمگاہوں کو اپنی بیویوں اور کنیزوں سے محفوظ نہ رکھنا اور شرعی طور پر ان سے قربت کرنا جائز ہے اور قابل مذمت فعل نہیں ہے۔
Ayah 70:31(70:31) فمن ابتغی وراء ذلک جملہ شرطیہ ہےعاطفہ۔ من شرطیہ (بمعنی جمع) جس نے (جنہوں نے) ابتغی۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ابتغاء (افتعال) مصدر سے۔ اس نے چاہا۔ اس نے تلاش کیا۔
وراء اصل میں مصدر ہے اس کا معنی ہے آڑ۔ حد فاصل۔ کسی چیز کا آگے ہونا۔ پیچھے ہونا۔ علاوہ۔ سوا ہونا۔ فصل اور حد بندی پر دلالت کرتا ہے۔ اس لئے سب معنی میں مستعمل ہے۔
ذلک سے مراد اپنی بیویوں اور باندیوں کے علاوہ کسی اور سے یا کسی غیر مقام میں اپنی شرمگاہوں کو استعمال کرنا ہے۔
وراء ذلک۔ مضاف مضاف الیہ مل کر ابتغی کا مفعول۔
فاولئک ہم العادون :جواب شرط اور جملہ جواب شرط ہے۔ اولئک اسم اشارہ جمع مذکر۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع اولئک ہے ضمیر کو تاکید کے لئے اور تخصیص کے لئے لایا گیا ہے۔
العادون حد سے گزرنے والے۔ حد سے بڑھنے والے۔ حد سے نکلنے والے۔ عدو (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ داع کی جمع بحالت رفع۔
ترجمہ ہوگا :۔ سو وہی لوگ ہیں حد سے بڑھنے والے (نیز ملاحظہ ہو 23:5-6-7)
Ayah 70:32(70:32) والذین ہم لامانتھم وعدھم راعون ۔ الانسان الہلوع کے مستثنیت کی چھٹی صفت ہے۔ اور جو اپنی امانتوں اور اقراروں کا پاس کرتے ہیں۔
راعون۔ اسم فاعل جمع مذکر کا صیغہ ہے رعایۃ ورعی (باب فتح) مصدر سے الرعی اصل میں حیوان یعنی جاندار چیز کی حفاظت کو کہتے ہیں خواہ غذاء کے ذریعہ ہو جو اس کیء زندگی کی محافظ ہے یا اس سے دمشن کو دفع کرنے کے ذریعہ ہو۔
اور رعیتہ کے معنی کسی کی نگرانی کرنے کے ہیں اور ارعیتہ کے معنی ہیں میں نے اس کے سامنے چارہ ڈالا۔ اور رعی چارہ یاگھاس کو کہتے ہیں اور مرعی (ظرف مکان) چراگاہ اور گھاس یا چارہ ہے۔
قرآن مجید میں ہے اخرج منھا ماء ھا ومرعھا (79:31) اس میں سے اس کا پانی اور چارہ نکالا۔ اور رعایۃ بمعنی حفاظت اور نگہداشت ہے۔ قرآن مجید میں ہے :۔ فما رعوھا حق رعایتھا (57:27) لیکن جیسے اس کی نگہداشت کرنی چاہیے تھی انہوں نے نہ کی۔ اور رعی الامبر رعیتہ رعایۃ : اپنی رعایا پر سیاست رانی کرنا۔
راعون، راعی کی جمع ہے بحالت رفع ہے۔ اصل میں راعیون تھا۔ ی مفوہم ماقبل مکسور ی کا ضمہ ع کو دیا۔ یا اور واؤ دو ساکن جمع ہوئے ی ساقط کردی گئی۔ راعون ہوگیا۔ نگہداشت رکھنے والے۔ نگرانی کرنے والے۔ نیز ملاحظہ ہو 23:8 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 70:33(70:33) والذین ھم بشھدتھم قائمون۔ یہ الانسان الہلوع کے زمرہ سے جو مستثنیٰ ہیں ان کی ساتویں صفت ہے۔ اور وہ جو اپنی شہادتوں پر قائم رہتے ہیں ۔
Ayah 70:34(70:34) والذین ہم علی صلوتھم یحافظون۔ یہ مستثنیت کی آٹھویں صفت ہے۔ اور جو اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔
علامہ پانی پتی (رح) رقمطراز ہیں :۔ ” یعنی نماز کے اوقات، ارکان۔ سنن اور مستحبات کی نگہداشت کرتے ہیں ۔ کسی (ضروری رکن یا سنت کو یا وقت) کو فوت نہیں ہونے دیتے۔
نماز کا تذکرہ دو جگہ آیا ہے :۔ شروع میں اور یہاں آخر میں اور دونوں جگہ تذکرہ کا طریقہ جدا جدا ہے۔ تکرار ذکر بتارہا ہے کہ دوسرے ارکان اسلام کے مقابلہ میں نماز کو اہمیت حاصل ہے۔
یحافظون ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ محافظۃ (مفاعلۃ) مصدر ۔ وہ پابندی کرتے ہیں۔ وہ نگرانی رکھتے ہیں۔ نیز ملاحظہ ہو 23:9 متذکرۃ الصدر۔
Ayah 70:35(70:35) اولئک فی جنت مکرمون : اولیک اسم اشارہ جمع مذکر، مراد موصوفین اول تا ہشتم ، مذکورہ بالا جو الانسان الہلوع سے مستثنیٰ ہیں۔ فی جنت مکرمون ۔ ھما خبران۔ یہ دونوں اولئک کی خبریں ہیں۔ (مدارک) یہی لوگ باغہائے بہشت میں عزت و اکرام سے ہوں گے۔
مکرمون اکرام (افعال) مصدر سے اسم مفعول (بحالت رفع) جمع مذکر کا صیغہ ہے۔
Ayah 70:36(70:36) فمال الذین کفروا قبلک مھطعین :سببیہ۔ ما استگہامیہ لام حرف جر۔ الذین کفروا موصول و صلہ مل کر، مجرور۔ قبلک مضاف مضاف الیہ۔ تیری جانب ۔
مھطعین : صاحب قاموس نے لکھا ہے۔ ھطع ھطوعا وھطعا۔ تیزی کے ساتھ کسی کی طرف رخ کرکے دوڑتے ہوئے اپنی نظر کو کسی چیز پر جمائے ہوئے آیا۔ اور کسی روکاوٹ کی پرواہ نہ کی۔ یعنی ھطع ثلاثی مجرد کو باب فتح سے قرار دیا گیا ہے اور اس کا مصدر فطع وھطوع ہے۔ لیکن مھطعین مصدر اھطاع (باب افعال) سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ اھطع کا معنی ہے گردن بڑھائی سر اٹھایا۔ مھطعین حال ہے الذین کفروا سے۔
ترجمہ ہوگا :۔ پس کافروں کو کیا ہوگیا ہے (یا کیا وجہ ہے کہ کافر لوگ) گردن بڑھائے سر اٹھائے تیری طرف دوڑے چلے آتے ہیں
بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ :۔
کافروں کی ایک جماعت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جمع ہوکر کلام مبارک سنتی تھی مگر استہزاء اور تکذیب کرتی تھی ان کو تنبیہ کرنے کے لئے اس آیت کا نزول ہوا۔ اور اللہ نے فرمایا کہ۔ کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ آپ کے پاس بیٹھتے آپ کو دیکھتے (اور کلام سنتے) ہیں مگر فائدہ حاصل نہیں کرتے۔
اکثر مفسرین نے حروف کی کمی بیشی کے ساتھ آیت کا یہی مطلب لیا ہے لیکن علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں یوں رقمطراز ہیں کہ :۔
(جو ہدایت رسول کریم ﷺ لے کر آئے تھے کفار کے سامنے تھی) اور آپ کے کھلے معجزے بھی اپنی آنکھوں سے وہ دیکھ رہے تھے پھر باوجود ان تمام باتوں کے وہ بھاگ جاتے تھے۔ اور ٹولیاں ٹولیاں ہوکر دائیں بائیں کرا جاتے تھے جیسے اور جگہ قرآن مجید میں ہے فما لہم عن التذکرۃ معرضین (74:49) (ان کو کیا ہوا ہے کہ نصیحت سے روگرداں ہیں) یہاں بھی اس طرح فرمایا ہے کہ ان کفار کو کیا ہوگیا ہے یہ نفرت کرکے کیوں تیرے پاس سے بھاگے جا رہے ہیں ۔ کیوں دائیں بائیں سرکتے جاتے ہیں۔ اور کیا وجہ ہے کہ وہ متفرق طور پر اختلاف کے ساتھ ادھر ادھر ہو رہے ہیں۔
صاحب اضواء البیان اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔
ای بال اولئک الکفار المنصرفین عنک متفرقین ۔۔ وکذلک ھنا فہم متفرقون عنہ ﷺ جماعات من کل جھۃ عن الیمین وعن الشمال ۔۔ کقولہ تعالیٰ فمالہم عن التذکرۃ معرضین۔ ان کفار کو کیا ہوگیا ہے کہ ٹولے ٹولے ہوکر آپ کے پاس سے کھسک جاتے ہیں۔۔ اور اس طرح وہ ہر طرف سے دائیں بائیں سے گروہوں کی صورت میں آپ سے الگ ہوجاتے ہیں۔
Ayah 70:37(70:37) عن الیمین وعن الشمال عزین جمع عزۃ کی (بحالت نصب) الگ الگ ٹولے۔
قاموس میں ہے :۔ عزۃ بروزن عدۃ آدمیوں کا گروہ۔ عزون جمع (بحالت رفع)
عزین کا نصب بوجہ الذین کفروا سے حال ہونے کے ہے۔ رن الیمین وعن الشمال متعلق بہ مھطعین۔ یعنی کوئی گروہ دائیں سے چلا آرہا ہے اور کوئی گروہ بائیں سے چلا آ رہا ہے) ۔
Ayah 70:38(70:38) ایطمع : ہمزہ استفہامیہ۔ انکاریہ ہے۔ یعنی ان کو یہ طمع نہ کرنا چاہیے۔ یطمع مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب طمع (باب فتح) مصدر سے۔ وہ امید رکھتا ہے۔ وہ لالچ رکھتا ہے۔ وہ خواہش رکھتا ہے۔
کل امری منہم۔ مضاف مضاف الیہ ہر آدمی منہم میں ضمیر ھم جمع مذکر غائب الذین کفروا کی طرف راجع ہے کیا ان میں سے ہر آدمی یہ امید رکھتا ہے۔
ان مصدریہ۔ یدخل مضارع مجہول صیغہ واحد مذکر غائب منصوب بوجہ عمل ان۔
جنۃ نعیم : جنۃ مفعول یدخل کا۔ مضاف نعیم مضاف الیہ۔ نعمت و راحت ۔ راحت و نعمت کے باغ۔ یہ مفعول ہے یطمع کا۔
Ayah 70:39(70:39) کلا ہرگز نہیں۔ نیز ملاحظہ ہو 70:15 متذکرۃ الصدر۔
انا خلقنھم مما یعلمون۔ ہم نے ان کو اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں۔ یعنی کیا ان میں سے ہر ایک کو طمع ہے کہ وہ جنت نعیم میں داخل کیا جائے گا ؟ یہ ہرگز نہ ہوگا کس لئے کہ ہم نے ان کو ایسی چیز سے پیدا کیا ہے کہ اس کو وہ بھی جانتے ہیں ۔ یعنی منی سے جو کہ نہایت ہی حقیر ہے پھر اس عالم قدس میں بغیر اس کے کہ آثار بہیمیہ کو قوائے روحانیہ و ملکوتیہ۔ ایمان و اعمال صالحہ سے جلا دے کر مٹا نہ دے کس طرح سے جاسکتا ہے۔
ابن کثیر نے اس کی تائید میں امام حسن بصری (رح) کا قول نقل کیا ہے :۔
سچ ہے کہ گندہ انسان جب تک ایمان اور عمل صالح سے نورانیت اور پاکیزگی نہ حاصل کرلے محض مال اور دنیاوی حشمت و جاہ کی وجہ سے اس عالم قدس تک نہیں پہنچ سکتا وہ پاک جگہ ناپاکوں کے لئے نہیں ہے۔
Ayah 70:40(70:40) فلا اقسم برب المشرق والمغرب انا لقدرون ۔ ۔