70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 70:1–3

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

ایک مانگنے والے نے عذاب مانگا ہے جو ضرور واقع ہونے والا ہے

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

کافروں پر، کوئی اسے دفع کرنے والا نہیں۔

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

(وہ عذاب) اللہ کی طرف سے ہوگا جو بلندیوں کا مالک ہے۔

[1] عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ مانگنے والا نضر بن الحارث المکی تھا جس نے دعا کی تھی کہ یارب، اگر یہ قرآن حق ہو اور تیرا کلام ہو تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھر برسا یا دردناک عذاب بھیج۔ اسی کا جواب یہاں دیا گیا ہے۔
Ayah 70:4

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

فرشتے اور روح اس کے پاس چڑھ کر جائیں گے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار (دنیا کے) پچاس ہزار سال (کے برابر) ہے۔

[2] یعنی جبرائیل علیہ السلام۔ [3] یہ باتیں متشابہات کی نوعیت کی ہیں۔ ان کا ادراک ہمارے لئے ناممکن ہے۔ ایسی باتوں میں صحابہ کرام ؓ کا مسلک یہ ہے کہ ان پر ایمان لایا جائے کہ ان سے جو کچھ اللہ تعالیٰ کی مراد ہے وہ حق ہے اور بس۔ مزید فکر کرنا گمراہی کو دعوت دینا ہے۔ [4] مراد ہے روز قیامت۔
Ayahs 70:5–18

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، ) تم (ان لوگوں کے استہزا پر) صبر کرو (اور صبر بھی) صبر جمیل۔

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

بیشک یہ لوگ اس (دن) کو بعید (ازقیاس) سمجھتے ہیں

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہمارے نزدیک یہ (نہ صرف ممکن بلکہ) قریب (الوقوع) ہے۔

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

(وہ عذاب اس دن ہوگا) جس دن آسمان (رنگ میں) تیل کی تلچھٹ جیسا ہوجائے گا۔

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور پہاڑ رنگین اون کے مانند ہوجائیں گے۔

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور کوئی (جگری) دوست (اپنے جگری) دوست کو نہ پوچھے گا۔

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

(حالانکہ) وہ ایک دوسرے کو دکھا دئیے جائیں گے۔ مجرم تمنا کرے گا کہ کاش اس دن کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنے بیٹوں کو۔

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اور اپنے کنبے کو جو ( وقت پڑنے پر) اس کو پناہ دیا کرتا تھا۔

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور تمام (انسان) جو زمین میں ہیں (سب کو فدیے میں دے دے) پھر (یہ فدیہ) اسے (عذاب سے) نجات دلا دے۔

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

ہرگز نہیں، وہ بھڑکتی ہوئی آگ (کی لپٹ ایسی) ہوگی۔

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

کہ (دور ہی سے مجرموں کی) کھال چاٹ جائے گی

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

(اور) ہر اس شخص کو پکارے گی جس نے (دنیا میں حق سے) روگردانی کی اور پیٹھ پھیری۔

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور (ساری عمر) مال جمع کیا اور (اللہ کی راہ میں خرچ نہ کیا بلکہ) سینت سینت کر رکھا۔

[5] یعنی ایسا صبر جس میں شکوہ و شکایت کا نام بھی نہ ہو۔
Ayahs 70:19–25

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ انسان بےصبرا پیدا کیا گیا ہے۔

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے۔

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

مگر وہ نماز پڑھنے والے (ایسے نہیں)

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو اپنی نماز کے پابند ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

اور جن کے مال میں ایک معین حق ہے۔

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

سائل کا اور محروم کا۔

[6] اللہ تعالیٰ نے انسان کی سرشت میں متضاد داعیات رکھے ہیں۔ مثلاً خیرو صلاح کے داعیات کے ساتھ شر و فساد کے داعیات، اور یہ چاہا کہ وہ اس کے احکام کے مطابق جس کی تعلیم اس کو انبیاء کے ذریعے دی گئی ہے، ان متضاد داعیات کے اندر توازن و ہم آہنگی پیدا کرے اور ان کو اس کی مرضی اور اس کے قوانین کا پابند بنائے۔ بےصبری جو جلد بازی ہی کی ایک شکل ہے بجائے خود مذموم نہیں ہے۔ مذموم اگر ہے تو اس کا بےموقع یا غیر معتدل ظہور ہے۔ اگر یہ چیز انسان پر اس طرح غالب ہوجائے کہ دوسرے مقابل داعیات اس کے آگے مغلوب ہوجائیں تو ایسی صورت میں یہ کہنا بالکل مطابق حال ہوگا کہ اس کی تخلیق گویا اس عنصر سے ہوئی ہے۔
Ayahs 70:26–36

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

اور جو روز جزا کی تصدیق کرتے رہتے ہیں،

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

اور جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں۔

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

بیشک ان کے رب کا عذاب نڈر ہونے کی چیز ہے بھی نہیں،

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

سوائے اپنی بیویوں یا اپنے ہاتھ کے مال کے کہ (ان کے زناشوی یعنی میاں بیوی کے تعلقات میں) ان پر کوئی الزام نہیں۔

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

لیکن جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں تو ایسے ہی لوگ حد سے گزر جانے والے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد (وپیمان) کا پاس رکھتے ہیں،

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

اور جو اپنی گواہیوں میں (راست بازی پر) قائم رہتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

یہی لوگ عزت کے ساتھ (بہشت کے) باغوں میں (داخل) ہوں گے۔

فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ Open ayah 70:36 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر، ) ان کافروں کو کیا ہوا کہ وہ تمہاری طرف دوڑے چلے آ رہے ہیں

[7] یعنی روز جزا کا یقین رکھتے ہیں اور یہ بنیادی عقیدہ ان کے تمام نیک اعمال کا محرک ہے۔
Ayahs 70:37–38

عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ Open ayah 70:37 in the Quran reader

دائیں اور بائیں طرف سے ٹولیاں بن بن کر (چلے آ رہے ہیں) ؟

اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ Open ayah 70:38 in the Quran reader

کیا ان میں سے ہر ایک یہ طمع کرتا ہے کہ وہ (اہل ایمان کی طرح) نعمت بھری جنت میں داخل کردیا جائے گا ؟

[8] یہ سن کر نبی ﷺ کے نادار و مفلوک الحال ساتھی تو جنت میں براجمان ہوں گے اور عزت و جاہ کے حامل قریش مکہ دوزخ کا ایندھن بنیں گے، کفار مکہ کے تن بدن میں آگ لگ جاتی اور وہ گروہ در گروہ آوازے پر آوازے کسنے کے لئے آپ پر پل پڑتے تھے۔
Ayah 70:39

كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 70:39 in the Quran reader

ہرگز نہیں، ہم نے پیدا کیا ہے ان کو اس چیز سے جسے یہ (خود) جانتے ہیں۔

[9] کفار مکہ جب غریب مسلمانوں سے ملتے تو ان کو نظر حقارت سے دیکھتے اور آپس میں کہتے کہ اگر ایسے ذلیل بہشت میں جائیں گے تو ہم ان سے پہلے جا داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے خیال کی تردید کردی اور فرمایا کہ تم خود جانتے ہو کہ کیسی حقیر اور گندی چیز (یعنی نطفہ) سے تمہاری پیدائش ہے۔ لیکن جو چیز انسان کے لئے موجب فوقیت ہے اور جس چیز کی وجہ سے وہ جنت میں جانے کی توقع کرسکتا ہے وہ اس کی پیدائشی شرافت نہیں بلکہ ایمانی شرافت ہے جو اہل ایمان کو حاصل ہے اور تم کافر اس سے خالی ہو۔