70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 70:1–2

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

مانگا ایک مانگنے والے نے عذاب پڑنے والا

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

منکروں کے واسطے کوئی نہیں اس کو ہٹانے والاف 3

3 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی پیغمبر نے تم پر عذاب مانگا ہے وہ کسی سے نہ ہٹایا جائے گا۔ " یا عذاب مانگنے والے کفار ہوں جو کہا کرتے تھے کہ آخر جس عذاب کا وعدہ ہے وہ جلدی کیوں نہیں آتا، اے اللہ ! اگر محمد ﷺ کا کہنا سچ ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے۔ یہ باتیں انکار و تمسخر کی راہ سے کہتے تھے اس پر فرمایا کہ عذاب مانگنے والے ایک ایسی آفت مانگ رہے ہیں جو بالیقین ان پر پڑنے والی ہے کسی کے روکے رک نہیں سکتی۔ کفار کی انتہائی حماقت یا شوخ چشمی ہے جو ایسی چیز کا اپنی طرف سے مطالبہ کرتے ہیں۔
Ayah 70:3

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

آئی اللہ کی طرف سے جو چڑھتے درجوں والا ہے4

4 یعنی فرشتے اور مومنین کی روحیں تمام آسمانوں کو درجہ بدرجہ طے کر کے اس کی بارگاہ قرب تک چڑھتی ہیں، یا اس کے بندے اس کے حکموں کی تابعداری میں جان و دل سے کوشش کر کے اور اچھی خصلتوں سے آراستہ ہو کر قرب و وصول کے روحانی مرتبوں اور درجوں سے ترقی کرتے ہوئے اس کی حضوری سے مشرف ہوتے ہیں اور وہ درجے مسافت کی دوری اور نزدیکی میں مختلف اور متفاوت ہیں۔ بعض ایسے ہیں کہ ایک پلک مارنے میں ان کے سبب سے ترقی ہوسکتی ہے جیسے اسلام کا کلمہ زبان سے کہنا، اور بعض ایسے ہیں کہ ایک ساعت میں ان سے ترقی حاصل ہوتی ہے جیسے نماز ادا کرنا، اور بعض سے پورے ایک دن میں، جیسے روزہ، یا ایک مہینہ میں، جیسے پورے رمضان کے روزے، یا ایک سال میں جیسے حج ادا کرنا و علی ہذا القیاس۔ اور اسی طرح فرشتوں اور روحوں کا عروج جو کسی کام پر مقرر ہیں اس کام سے فراغت پانے کے بعد مختلف و متفاوت ہے اور اس خدا وند قدس کی تد بیہ و انتظام کا اتار چڑھاؤ بیشمار درجے رکھتا ہے۔
Ayah 70:4

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

چڑھیں گے اس کی طرف فرشتے اور روح5 اس دن میں جس کا لنباؤ پچاس ہزار برس ہے6

5 یعنی فرشتے اور لوگوں کی روحیں پیشی کے لیے حاضر ہوں گی۔ 6 پچاس ہزار برس کا دن قیامت کا ہے۔ یعنی پہلی مرتبہ صور پھونکنے کے وقت سے لے کر بہشتیوں کے بہشت میں، اور دوزخیوں کے دوزخ میں قرار پکڑنے تک پچاس ہزار برس کی مدت ہوگی اور کل فرشتے اور تمام قسم کی مخلوقات کی روحیں اس تدبیر میں بطور خدمت گار کے شریک ہونگی۔ پھر اس بڑے کام کے سرانجام کی مدت گزرنے پر ان کو عروج ہوگا۔ (تنبیہ) حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا " خدا کی قسم ایماندار آدمی کو وہ (اتنا لمبا) دن ایسا چھوٹا معلوم ہوگا جتنی دیر میں ایک نماز فرض ادا کرلیتا ہے۔ "
Ayah 70:5

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

سو تو صبر کر بھلی طرح کا صبر کرنا7

7 یعنی یہ کافر اگر ازراہ انکار و تمسخر عذاب کے لیے جلدی مچائیں، تب بھی آپ جلدی نہ کریں بلکہ صبرو استقلال سے رہیں، نہ تنگدل ہوں، نہ حرف شکایت زبان پر آئے آپ کا صبر اور ان کا تمسخر ضرور رنگ لائے گا۔
Ayahs 70:6–7

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

وہ دیکھتے ہیں اس کو دور

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہم دیکھتے ہیں اس کو نزدیک8

8 یعنی ان کے خیال میں قیامت کا آنا بعید ازمکان اور دورازعقل ہے۔ اور ہم کو اس قدر قریب نظر آرہی ہے گویا آئی رکھی ہے۔
Ayah 70:8

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

جس دن ہوگا آسمان جیسے تانبا پگھلا ہوا9

9 بعض نے " مہل " کا ترجمہ تیل کی تلچھٹ سے کیا ہے۔
Ayah 70:9

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور ہوں گے پہاڑ جیسے اون رنگی ہوئی10

10 اون مختلف رنگ کی ہوتی ہے اور پہاڑوں کی رنگتیں بھی مختلف ہیں۔ کما قال تعالیٰ (ۭوَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِيْضٌ وَّحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَغَرَابِيْبُ سُوْدٌ) 35 ۔ فاطر :27) دوسری جگہ فرمایا " کَالْعِہْنِ الْمَنْفُوْشِ " (القارعہ) یعنی پہاڑ دھنکی ہوئی اون کی طرح اڑتے پھریں گے۔
Ayahs 70:10–11

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور نہ پوچھے گا دوست دار دوست دار کو

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

سب نظر آجائیں گی ان کو11 چاہے گا گناہگار کسی طرح چھڑوائی میں دے کر اس دن کے عذاب سے اپنے بیٹے کو

11 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " سب نظر آجائیں گے۔ یعنی دوستی ان کو نکمی تھی۔ " ایک دوسرے کا حال دیکھے گا۔ مگر کچھ مدد و حمایت نہ کرسکے گا۔ ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی۔
Ayahs 70:12–15

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اور اپنی ساتھ والی کو اور اپنے بھائی کو

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اور اپنے گھرانے کو جس میں رہتا تھا

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور جتنے زمین پر ہیں سب کو پھر اپنے آپ کو بچا لے

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

ہرگز نہیں12 وہ تپتی ہوئی آگ ہے

12 یعنی چاہے گا کہ بس چلے تو سارے کٹم بلکہ ساری دنیا کو فدیہ میں دے کر اپنی جان بچا لے۔ مگر یہ ممکن نہ ہوگا۔
Ayah 70:16

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

کھینچ لینے والی کلیجہ13

13 یعنی وہ آگ مجرم کو کہاں چھوڑتی ہے۔ وہ تو کھال اتار کر اندر سے کلیجہ نکال لیتی ہے۔
Ayahs 70:17–18

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

پکارتی ہے اس کو جس نے پیٹھ پھیرلی اور پھر کر چلا گیا

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور جوڑا اور سینت کر رکھا1

1 یعنی دوزخ کی طرف سے ایک کشش اور پکار ہوگی۔ بس جتنے لوگ دنیا میں حق کی طرف سے پیٹھ پھیر کر چل دیے تھے اور عمل صالح کی طرف سے اعراض کرتے اور مال سمیٹنے اور سینت کر رکھنے میں مشغول رہے تھے۔ وہ سب دوزخ کی طرف کھنچے چلے آئیں گے۔ بعض آثار میں ہے کہ دوزخ اول زبان قال سے پکارے گی " اِلَیَّ یَا کَافِرْ ، اِلَیَّ یَا مُنَافِقِ ، اِلَیَّ یَا جَامِعُ الْمَالِ " (یعنی او کافر ! او منافق ! او مال سمیٹ کر رکھنے والے ! ادھر آ) لوگ ادھر ادھر بھاگیں گے۔ اس کے بعد ایک بہت لمبی گردن نکلے گی جو کفار کو چن چن کر اس طرح اٹھا لے گی جیسے جانور زمین سے دانہ اٹھا لیتا ہے۔ (العیاذ باللہ)
Ayahs 70:19–21

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

بیشک آدمی بنا ہے جی کا کچا

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب پہنچے اس کو برائی تو بےصبرا

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب پہنچے اس کو بھلائی تو بےتوفیقا2

2 یعنی کسی طرف پختگی اور ہمت نہیں دکھلاتا۔ فقر فاقہ، بیماری اور سختی آئے تو بےصبرہو کر گھبرا اٹھے، بلکہ مایوس ہوجائے گویا اب کوئی سبیل مصیبت سے نکلنے کی باقی نہیں رہی اور مال و دولت تندرستی اور فراخی ملے تو نیکی کے لیے ہاتھ نہ اٹھے، اور مالک کے راستہ میں خرچ کرنے کی توفیق نہ ہو۔ ہاں وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جن کا ذکر آگے آتا ہے۔
Ayahs 70:22–23

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

مگر وہ نمازی

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو اپنی نماز پر قائم ہیں3

3 یعنی گنڈے دار نہیں بلکہ مداومت و التزام سے نماز پڑھتے ہیں اور نماز کی حالت میں نہایت سکون کے ساتھ برابر اپنی نماز ہی کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔
Ayahs 70:24–25

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

مانگنے والے اور ہارے ہوئے کا4

4 سورۃ " المومنون " میں اس کی تفسیر گزر چکی۔
Ayah 70:26

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

اور جو یقین کرتے ہیں انصاف کے دن پر5

5 یعنی اس یقین کی بناء پر اچھے کام کرتے ہیں جو اس دن کام آئیں۔
Ayah 70:27

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

اور جو لوگ کہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں6

6 یعنی اس سے ڈر کر برائیوں کو چھوڑتے ہیں۔
Ayah 70:28

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

بیشک ان کے رب کے عذاب سے کسی کو نڈر نہ ہونا چاہیے7

7 یعنی اللہ کا عذاب ایسی چیز نہیں کہ بندہ اس کی طرف سے مامون اور بےفکر ہو کر بیٹھ رہے۔
Ayahs 70:29–31

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

اور جو اپنی شہوت کی جگہ کو تھامتے ہیں

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

مگر اپنی جوروؤں سے یا اپنے ہاتھ کے مال سے سو ان پر نہیں کچھ الاہنا

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

پھر جو کوئی ڈھونڈے اس کے سوا سو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے8

8 یعنی بیوی اور باندی کے سوا جو اور کوئی جگہ قضائے شہوت کے لیے ڈھونڈے وہ حد اعتدال اور حد جواز سے باہر قدم نکالتا ہے۔
Ayah 70:32

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور جو لوگ کہ اپنی امانتوں اور اپنے قول کو نباہتے ہیں9

9 اس میں اللہ کے اور بندوں کے سب حقوق آگئے۔ کیونکہ آدمی کے پاس جس قدر قوتیں ہیں سب اللہ کی امانت ہیں۔ ان کو اسی کی بتلائے ہوئے مواقع میں خرچ کرنا چاہیے۔ اور جو قول وقرار ازل میں باندھ چکا ہے اس سے پھرنا نہیں چاہیے۔
Ayah 70:33

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

اور جو اپنی گواہیوں پر سیدھے ہیں10

10 یعنی ضرورت پڑے تو بلا کم وکاست اور بےرورعایت گواہی دیتے ہیں۔ حق پوشی نہیں کرتے۔
Ayah 70:34

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور جو اپنی نماز سے خبردار ہیں11

11 یعنی نمازوں کے اوقات اور شروط و آداب کی خبر رکھتے ہیں اور اس کی صورت و حقیقت کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں۔
Ayah 70:35

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

وہی لوگ ہیں باغوں میں عزت سے12

12 جنتیوں کی یہ آٹھ صفتیں ہوئیں جن کو نماز سے شروع ہی پر ختم کیا گیا ہے۔ تامعلوم ہو کہ نماز اللہ کے ہاں کس قدر مہتم بالشان عبادت ہے جس میں یہ صفات ہوں گی وہ " ہلوع " (کچے دل کا) نہ ہوگا بلکہ عزم وہمت والا ہوگا۔
Ayahs 70:36–39

فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ Open ayah 70:36 in the Quran reader

پھر کیا ہوا ہے منکروں کو تیری طرف دوڑتے ہوئے آتے ہیں

عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ Open ayah 70:37 in the Quran reader

داہنے سے اور بائیں سے غول کے غول

اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ Open ayah 70:38 in the Quran reader

کیا طمع رکھتا ہے ہر ایک شخص ان میں کہ داخل ہوجائے نعمت کے باغ میں

كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 70:39 in the Quran reader

ہرگز نہیں1 ہم نے ان کو بنایا ہے جس سے وہ بھی جانتے ہیں2

1 یعنی قرآن کی تلاوت اور جنت کا ذکر سن کر کفار ہر طرف سے ٹولیاں بنا کر تیری طرف امڈے چلے آتے ہیں۔ پھر ہنسی اور ٹھٹھا کرتے ہیں، کیا اس کے باوجود یہ بھی طمع رکھتے ہیں کہ وہ سب جنت کے باغوں میں داخل کیے جائیں گے ؟ جیسا کہ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہم کو لوٹ کر خدا کی طرف جانا ہوا تو وہاں بھی ہمارے لیے بہتری ہی بہتری ہے۔ ہرگز نہیں۔ اس خداوند عادل و حکیم کے ہاں ایسا اندھیر نہیں ہوسکتا۔ (تنبیہ) ابن کثیر نے ان آیات کا مطلب یہ لیا ہے کہ تیری طرف کے ان منکروں کو کیا ہوا کہ تیزی کے ساتھ دوڑے چلے جاتے ہیں داہنے اور بائیں، غول کے غول، یعنی قرآن سن کر ایسے کیوں بدکتے اور بھاگتے ہیں۔ پھر کیا اس وحشت و نفرت کے باوجود یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ ان میں ہر شخص بےکھٹکے جنت میں جا گھسے گا ؟ ہرگز نہیں۔ وہذا کما قال تعالیٰ (فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ 49؀ۙ كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌ 50؀ۙ فَرَّتْ مِنْ قَ سورة 51؀ۭ ) 74 ۔ المدثر :51-50-49)2 یعنی مٹی جیسی حقیر یا مٹی جیسی گھناؤنی چیز سے پیدا ہوا وہ کہاں لائق ہے بہشت کے۔ مگر ہاں جب ایمان کی بدولت پاک و صاف اور معظم و مکرم ہو۔ اور ممکن ہے (اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا يَعْلَمُوْنَ ) 70 ۔ المعارج :69) سے اشارہ ہو۔ (اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًا) 70 ۔ المعارج :19) کی طرف جو چند آیات پہلے اسی سورت میں آچکی ہیں۔ یعنی وہ پیدا تو ہوا ہے ان صفات پر اور (اِلَّا الْمُصَلِّيْنَ 22؀ۙ الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْ دَاۗىِٕمُوْنَ ) 70 ۔ المعارج :22) کے استثناء میں اپنے کو شامل نہ کیا۔ پھر بہشت کا مستحق کیسے ہو، اس تقدیر پر " مِمَّا یَعْلَمُوْنَ " کی ترکیب (خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ) 21 ۔ الانبیآء :37) کے قبیل سے ہوگی۔
Ayah 70:40

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ Open ayah 70:40 in the Quran reader

سو میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی3 تحقیق ہم کرسکتے ہیں

3 آفتاب ہر روز ایک نئے نقطہ سے طلوع ہوتا اور نئے نقطہ پر غروب ہوتا ہے۔ ان کو " مشارق " و " مغارب " کہا۔