Ayahs 70:1–7ترکیب : سأل قرء الجمہور بالھمزۃ من السوال وھو متضمن بمعنی الدعاء ولذا عدی بالباء وقریٔ بغیر ھمزۃ وھوا مامن باب التخفیف والمعنی واحد اومن السیلان والمعنی سال واوفی جہنم یقال لہ سائل کماقال زید بن ثابت ویؤیدہ قرأۃ ابن عباس سال سیل ای اندفع وا وب عذاب واقع بعذاب والباء بمعنی عن کقولہ فاسئل بہ خبیرا وھومفعول ثان لسال والمفعول الاول محذوف ای اللہ اوالنبی سال یتعدی الی مفعولین ویجوزالاقتصاء علی احدھما قالہ ابوعلی الفارسی للکافرین الجاء متعلق بواقع ویمکن ان یتعلق بثالت ویکون صفۃ افریٰ بعذاب والاولیٰ واقع لیس لہ الخ صفۃ اخریٰ لعذاب اوحال منہ او مستانفۃ من اللہ متعلق بواقع ای بواقع ویمکن ان یتعلق بثابت ویکون صفۃ اخرٰی بعذاب والاولٰی واقع لیس لہ الخ صفۃ اخرٰی بعذاباو ھال منہ او مستانفۃ من اللہ متعلق بواقع ای واقع من حبۃ سبحانہ او متعلق بدافع ای لیس لہ دافع من جھتہ تعالیٰ ذی المعارج صفۃ اللّٰہ تعالیٰ جمع معرج بفتح المیم وھو موضع الصعود تعرج الملائکۃ استیناف لبیان ارتفاع تلک المعارج علی التمثیل والتخییل فی یوم متعلق بتعرج وقیل بواقع وقیل بسال اذاجعل من السیلان والضمیر فی یرونہ ونراہ للعذاب اولیوم القیامۃ۔
تفسیر : قرطبی کہتے ہیں یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی۔ ابن عباس و ابن زبیر ؓ کا بھی یہی قول ہے اور مضامین بھی اسی کے مؤید ہیں۔
شان نزول : نسائی اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ عذاب کا سوال کرنے والا نضربن حارث بن کلدہ کافر تھا۔ سورة الحاقہ سن کر اس سنگدل نے تمسخر شروع کردیا اور کہنے لگا اگر یہ حق ہے تو یہ ضرور ہم پر عذاب آئے اور اسی طرح سے اور سیاہ باطن لوگ بھی تمسخر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ عذاب کیوں نہیں آتا ؟ ان کے فکر میں قیامت کا آنا ایک امر محال تھا اس لیے انکار کے طور پر سوال کرتے تھے۔ اس پر یہ سورة مبارکہ نازل ہوئی جس میں اس دن کی ہیبت ناک کیفیت اور اس عذاب کا آنا مذکور ہے جو کسی تدبیر سے ٹالے نہیں ٹلے گا۔
مناسبت : اور مناسبت کی وجہ بھی سورة الحاقہ سے ظاہر ہے۔ کس لیے کہ اس سورة میں اسی حاقہ کی تفصیل و تاکید ہے اور یہ بھی ہے کہ وہ حاقہ ایسا ہے کہ جس کے دن کی درازی پچاس ہزار برس کی ہے۔ اور یہ بھی کہ حاقہ یعنی قیامت کا سر بھی اسی سورة میں بیان کردیا گیا کہ دراصل وہ دن ملائکہ اور ارواح کے عالم اجسام سے فراغت پا کر اپنی اصل کی طرف رجوع کرنے کا دن ہے۔ وہ اس دن اس کی طرف چڑھیں گے۔ تعرج الملائکۃ الخ گویا اس عالم کی بنائِ تعمیر و بقا و تدابیر میں جو مصروف تھے (کوئی فرشتہ ابر سے، کوئی ہوا سے، کوئی پانی سے متعلق تھا۔ پھر جمادات، نباتات، حیوانات پر، ارواح مجردہ معین تھے کہ وہ ان کی تولید و تغذیہ وغیرہ کا بندوست کرتے تھے کر ات افلاک و آفتاب و سیارت کو حرکت دے رہے تھے جن کو حکما نفوس فلکیہ وغیرہ کہتے ہیں) اس دن یہ عالم خراب ہوجاوے گا اور وہ سب فارغ ہوجاویں گے اور چونکہ وہ نورانی ہیں حق سبحانہ تعالیٰ کی بارگاہ قدس کی طرف عروج و صعود کر جاویں گے اور بھی وجوہ مناسبت ہیں جو غورو فکر کرنے سے ظاہر ہوسکتے ہیں۔
فقال سال سائل بعد اب واقع کہ کسی سوال کرنے والے یعنی درخواست کرنے والے نے عذاب کی درخواست کی جو پڑنے والا ہے۔ سائل نضر بن حارث تھا۔ مگر اس ذلیل کا نام نہیں لیا گیا کیونکہ وہ اس قابل نہ تھا۔ یا یہ کہ قرآن مجید کی عادت نہیں کہ مصائب میں کسی کا نام لیا جائے اور نیز یہ بھی ہے کہ نام لینے میں ایک شخص کا تعین ہوجاتا ہے اور اب تعمیم ہے تاکہ ہر ایک ایسی بات کا خواستگار جو کمال حماقت اور دلیری کر کے ایک آنے والی مصیبت کو بلاتا ہے اور اس کی خبردینے والے کی شکر گزاری کی جگہ تضحیک کرنا چاہتا ہے اس آیت کا مصداق سمجھا جاوے سال کے بعد فاعل سائل کا اظہار کیا لطف دے رہا ہے جس کو بلغاء پسند کرتے ہیں۔ اور اس مانگنے والے نے کیا مانگا ؟ عذاب اور عذاب بھی کیسا واقع جو قطعاً آنے والا ہے۔
بعض مفسرین کہتے ہیں سوال کرنے والے آنحضرت ﷺ تھے کہ آپ ﷺ کو جب کفار کی تکذیب و تمسخر سے رنج ہوا تو بارگاہِ الٰہی میں سوال کیا الٰہی ان پر عذاب کا تازیانہ نازل کر تاکہ ان کی سرکشی ٹوٹے۔ دعا آپ ﷺ کی قبول ہوئی اور قریش پر سات برس کا وہ جگر خراش قحط پڑا کہ ہڈیوں اور مردار تک کھانے کی نوبت آئی اور چلا اٹھے اس لیے بعد میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے فاصبر صبرا جمیلا دعا کے اثر ظاہر ہونے میں جلدی نہ کرو بلکہ صبر کرو اور اس میں قدرے تنبیہ بھی ہے کہ ایذا کی برداشت کرو بددعا نہ کیا کرو جب ناصح مشفق ناامید ہوجاتا ہے اور اس کو بےحد ایذائیں پہنچتی ہیں تو وہ اس ناپاک قوم کے لیے بددعا بھی کردیا کرتا ہے۔ یہ بھی ایک انسانی خاصیت ہے اور اس میں مصلحت بھی ہوتی ہے کہ یہ بےثمر درخت کٹ جائیں تو اور عمدہ ثمردار پیدا ہوں۔ اس لیے حضرت نوح (علیہ السلام) نے بھی عذاب کی درخواست کی تھی جس پر طوفان آیا اور دنیا غرقاب ہوئی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے لیے بددعا کی تھی۔ اس تقدیر پر سائل سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں اور تنکیر تعظیم کے لیے ہی اور لفظ واقع میں اور اسی طرح اس کے بعد کے جملوں میں للکافرین اور لیس لہ واقع میں کہ اس کو کوئی ٹال نہیں سکتا اور من اللہ ذی المعارج میں کہ وہ عذاب اللہ کی طرف سے ہوگا جو بڑا بلند مرتبہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کو اجابت کی تسلی بھی ہے کہ وہ ضرور ہو کر رہے گا جس میں عذاب دنیا کی طرف اور عذاب آخرت کی طرف اشارہ ہے۔ دنیا میں قحط آیا ‘ بدر میں مارے گئے ‘ مسلمانوں کے ہاتھ میں مسخر ہوئے۔ آخرت کا عذاب تعرج الملائکۃ و الروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ میں بتایا گیا اور پھر آپ کو تنبیہ اور جلد عذاب نہ آنے پر دلاسا بھی دیتا ہے فاصبر صبرا جمیلا کہ خوب اور عمدہ طور پر صبر کر یہ جو کچھ بھی کہیں کہنے دے۔ اور اگر سائل نضر بن حارث قرار دیا جائے تو عذاب واقع الخ میں عذاب آنے کا قطعی اشارہ کر کے فاصبر صبرا جمیلا میں آنحضرت ﷺ کو تسلی اور صبر کا حکم دیتا ہے۔ یہاں تک کہ تفسیر سال سوال کے معنی میں لیے جانے پر تھی جیسا کہ جمہور کا قول ہے خواہ سال کو ہمزہ کے اظہار سے پڑھیں یا تخفیف کر کے مگر بعض نے سال کو سیلان کے معنی میں لیا ہے تب یہ معنی ہوں گے کہ کفار کے لیے عذاب واقع ہونے والا بہ پڑا دریا کی طرح امڈا آرہا ہے۔ پھر آگے اس کی تشریح ہے واقع للکافرین کہ وہ عذاب کافروں کے لیے ہونے والا ہے۔ کفر باعث اس عذاب کا ہی کوئی کافر کیوں نہ ہو سب کو وہ عذاب پیش آنے والا ہے لیس لہ واقع اس کو کوئی دفع کرنے والا نہیں من اللہ ذی المعارج اور وہ عذاب کس کی طرف سے ہوگا جو کسی کے ٹالے نہ ٹلے گا ؟ اللہ کی طرف سے جو رتبوں والا ہے معارج معرج کی جمع چڑھنے کی جگہ۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے و معارج علیھا یظہرون مفسرین کے اس کی تفسیر میں چند اقوال ہیں :
(1) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کے معنی ہیں سادات اور ان کو معارج اس لیے کہا کہ ان میں فرشتے چڑھا کرتے ہیں۔
(2) قتادہ کہتے ہیں فضائل و نعماء کو کہ یہ لوگوں کی طرف مختلف طور پر پہنچتے ہیں۔
(3) معارج سے درجات مراد ہیں جو دنیا و آخرت میں لوگوں کو مختلف طور پر عطا ہوئے اور ہوں گے۔
(4) بعض کہتے ہیں بندوں کے اعمال و ادراکات ہیں کہ ان کے سبب اس کے بندے مراتب درجات میں ترقی کر کے اس تک پہنچتے ہیں اور وہ متفاوت ہیں اور مراتب قرب حق بھی مراد ہوسکتے ہیں جن کو عارفان راہ حق طے کر جاتے ہیں۔ انسانی بقا و فنا بھی معارج ہیں جن کو طے کرتے کرتے مقصود تک پہونچتا ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ ہی رتبہ اور فضائل عطا کرنے والا ہے آخرت میں اور دنیا میں بھی ایمانداروں کو اور یہ کہ عالم میں اس کا فیضان وسائل سے پہنچتا ہے جیسا کہ ایک جگہ فرماتا ہے فالمقسمات امرا فالمدبدات امرا۔ پس ذی المعارج میں ان ارواح مختلفہ کی طرف اشارہ ہے جو ارتفاع مراتب حاجات کے لیے اس عالم میں بمنزلہ سیڑھیوں کے ہیں اور نزول آثار رحمت کے لیے بمنزلہ منازل کے ہیں اور اللہ کو ذی المعارج اس لیے کہا کہ یہ درجات اسی کے ہاتھ میں ہیں جس کو چاہے عطا کرے اور یہ بھی کہ وہ خود بلند مرتبوں والا ہے بہت بلند شان ہے۔ اس تک پہنچنے کے لیے ایمان و اعمال و خلوص کی سیڑھیاں درکار ہیں۔ اس لیے اس کے بعد فرماتا ہے تعرج الملائکۃ والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ کہ فرشتے اور روح اس کی طرف چڑھیں گے اس دن کہ جس کی مقدار پچاس ہزار برس کی ہے۔ روح سے مراد بعض کے نزدیک جبرئیل (علیہ السلام) ہیں ان کی عظمت کے لیے ان کو ملائکہ سے جداگانہ بلفظ روح بیان کیا جاتا ہے جیسا کہ اس آیت میں تنزل الملائکۃ والروح و قول تعالیٰ یوم یقوم الروح والملائکۃ صفا اور ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ روح درجہ نزول میں اول اور صعود میں آخر ہے اور اسی جگہ بعض اہل کشف نے کہا ہے کہ روح نور عظیم ہے اور وہ جمیع انوار سے جلالِ الٰہی کے قریب تر ہے اور اسی سے تمام ارواح ملائکہ اور ارواح بشریہ جو تمام ارواح سے اخیر درجہ میں ہیں پھیلتی ہیں اور دونوں طرفوں کے درمیان معارج مراتب ارواح ملکیہ و مدارج منازل انوار قدسیہ کے ہیں اور ان کی مقدار حق سبحانہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بعض کہتے ہیں روح سے مراد ایک اور چیز ہے یعنی نورعظیم جیسا کہ ابھی معلوم ہوا۔ بعض کہتے ارواح بشریہ مراد ہیں۔ بعض کہتے ہیں جمیع اراوح حیوانیہ و نباتیہ و فلکیہ وغیرہ۔ تعرج سے مراد اوپر چڑھنا جیسا کہ جمہور کا قول ہے۔ بعض کہتے ہیں عروج حسی مراد نہیں بلکہ عروج رتبتہً ۔ یعنی اسرار ملائکہ اور روح کو خداوند کے نزدیک عروج یعنی بلند مرتبہ حاصل ہوگا۔ فی یوم سے مراد جمہور کے نزدیک قیامت کا دن ہے۔ بعض کہتے ہیں دنیا کا دن ہے مقدارہ خمسین الف سنۃ پچاس ہزار برس کی و رازی جمہور کے نزدیک دراصل ہوگی لیکن ایمانداروں کے حق میں نہ ہوگی۔ دلیل اس پر آیت اصحاب الجنۃ یومئذ خیر مستقرا و احسن مقیلا ہے اور یہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے جو ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ کسی نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ یا حضرت پچاس ہزار برس کی درازی اس دن کی بڑی درازی ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اس کی قسم کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ مومن پر بہت کم ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ دن نماز پڑھنے کے وقت کے برابر ہوگا۔ (اخرجہ احمد و ابویعلیٰ و ابن جریرو ابن ابی حاتم و البیہقی فی البعث) لیکن اس کی سند میں وراج اور ابی الہثیم دوراوی ضعیف ہیں۔ اسی طرح ابوہریرہ ؓ سے بھی مروی ہے کہ اس دن کی درازی مومن پر اس قدر ہوگی کہ جس قدر عصر اور ظہر کا وقت ہے (اخرجہ ابن ابی حاتم و الحاکم و البیہقی) بعض کہتے ہیں عدد حقیقۃ مراد نہیں بلکہ درازی اس تقدیر پر اس آیت اور اس آیت سورة سجدہ میں یدبرالامر من السماء الی الارض ثم یعرج الیہ فی یوم کان مقدرہ الف سنۃ مما تعدون کچھ بھی منافات نہیں کس لیے کہ اسی درازی کو کبھی ہزار برس سے کبھی زیادہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اول تقدیر پر مطابقت یوں ہوگی کہ دنیا سے لے کر اول آسمان تک مقدار رفعت ہزار برس ہے اور اسفل عالم سے لے کر انتہا عرش تک پچاس ہزار۔ پس سورة سجدہ میں اول رفعت بیان ہوئی اور اس سورة میں دوسری کچھ بھی منافات نہیں۔
بعض علماء کہتے ہیں کثرت اندوہ و رنج مراد ہے اور رنج واندوہ کے دن کی درازی محاورہ میں بہت بڑی بیان کی جاتی ہے۔ شب فراق اور روز جدائی و ایام مصیبت کی درازی ہزاروں برسوں کی بیان کرنا کمال بلاغت اور قوم کی بول چال کی رعایت ہے نہ جھوٹ نہ مبالغہ۔
(1) ان اقوال پر لحاظ کر کے آیت کے معنی میں چند اقوال ہیں۔ (1) یہ کہ ملائکہ اور ارواح (جو اس عالم کی تدبیر و تصرف میں مصروف و معین تھے جن کی طرف ذی المعارج میں اشارہ تھا کس لیے کہ ہر چیز عالم کے ساتھ ایک فرشتہ اور روح مدبرحق سبحانہ کی طرف سے معین ہے۔ وہی اس مادہ کو اس قوالب میں ڈھال رہے ہیں اور وہ بحکم الٰہی ان کے نمو اور بقا اور استکمال و تولید و تناسل و توالد کے محافظ ہیں) ۔ سب اپنے اپنے کاموں سے فارغ ہوجائیں گے اور چونکہ وہ نور ہیں۔ اپنے حیز اصلی نور الانوار حق سبحانہ تعالیٰ کی بارگاہ قدس تک چڑھیں گے اور وہ بارگاہ عالم ناسوتی سے بہت بلند ہے یہاں تک کہ اگر کوئی تیزرفتار چڑھ کر جائے تو پچاس ہزار برس میں بھی وہاں تک نہ پہنچے۔ اور یہ کس دن ہوگا قیامت کے دن جو بڑا مصیبت کا دن ہوگا۔ اس تقدیر پر فی یوم تعرج کے متعلق ہوگا۔
(2) یہ کہ اس روز جو بڑے سے بڑا عاقل اور ذکی فیصلہ کرنے بیٹھے تو پچاس ہزار برس میں بھی فیصلہ نہ کرسکے اور وہ ایام دنیا کے آدھے دن میں کر دے گا۔ اور اس دن ملائکہ اور روح اپنے اپنے مواضع و مواقع رفعت میں بہت جلد عروج کر جائیں گے۔ اگر اور کوئی وہاں تک چڑھے تو پچاس ہزار برس میں چڑھ سکے۔ یہ وہب اور مفسرین کی ایک جماعت کا قول ہے۔
(3) ابی مسلم 1 ؎ کہتے ہیں یہ دنیا کا تمام دن ہے جس کی ابتداء اول آفرینش اور انتہا آخر فنا ہے۔ پھر حق سبحانہ نے بیان فرما دیا کہ دنیا کے دن میں ملائکہ کا عروج و نزول ضرور ہے اور اس دن کی مقدار پچاس ہزار برس ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم کو قیامت کا دن وقت معلوم ہوجائے کس لیے کہ نہیں معلوم کہ اس دن میں سے کس قدر گزر گیا اور کس قدر باقی رہا۔ تفسیر کبیر
(4) صاحب عرائس فرماتے ہیں کہ ملائکہ اور روح کے عالم ملکوت میں مقامات معینہ ہیں پھر جب کوئی فرشتہ موقع نزول سے مرتبہ معلومہ کی طرف چڑھتا ہے تو ایک ایسے دن بھر میں چڑھتا ہے کہ جس کی مقدار ہمارے نزدیک پچاس ہزار برس کے مساوی ہے اور وہ تو ایک ساعت سے بھی کم میں چڑھ جاتے ہیں اور حق کے لیے کوئی مکان اور منتہٰی نہیں کہ جہاں مخلوق چڑھ کر جاتی ہو بلکہ اس کی عزت و جلال کا ظہور
1 ؎ یعنی ابتدائِ آفرنیش سے لے کر فنا تک تمام ایام دنیا کو ایک دن سمجھے جس کی مقدار پچاس ہزار برس کی ہے۔ 12 منہ
ہر ذرہ سے عیاں ہے پھر جب قرب و بعد مسافت نہیں اور افہام اور اوہام اٹھادے تو روح کے حق سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ وصال میں کچھ دیر نہیں۔ اس کے بعد فرماتا ہے فاصبر صبر اجمیلا کہ اے نبی ! عمدہ صبر کر تیرے جھٹلانے والوں کو عذاب مقرر ہے۔ سہل فرماتے ہیں، صبر جمیل رضا ہے بغیر شکوے کے انہم یرونہ بعیدا کس لیے کہ وہ اس کے معتقد نہیں ونراہ قریبا کس لیے کہ وہ دن ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔
Ayahs 70:8–18ترکیب : یوم ناصبہ قریبا والتقدیر ونراہ قریبا یوم یکون کذاو یمکن ان یکون بدلا عن فی یوم ان علق بہ ولایسئل قراء الجمہور مبینا للفاعل فالمفعول الثانی محذوف ای لایسل حمیم حمیما نصرہ ولاشفاعتہ وقریٔ مبنیا للمفعول علی اسقاط حرف الجرای لایسئل حمیم عن حمیم این حمیمک وکیف حالہ الحمیم القریب یبصرونہم یقال بصرت بہ ابصرویقال بصرت ازید بکذافاذا حذفت الجارقلت بصر فی زید کذا۔ استیناف اوحال وجمع الضمیرین لعموم الحمیم لکونہ واقعافی سیاق النفی۔ لو یفتدی (بمعنی ان والجملۃ مفعول یود المجرم فاعلہ و من معطوف علی نبیہ والجملۃ حال من احد الضمیرین فی یبصرونہم او استیناف ثم ینجیہ عطف علی یفتدی ای یودلویفتدی ثم ینجیہ الافتداء والعطف بثم الاستبعاد کلا روع للجرم انھا
الضمیر للفار او مبھم یسفرہ نطی وھو خبرواو بدل اوالقصۃ نزاۃ قرء الجمہور بالرفع علی أنھا خبرتان ‘ لان و اخبر مبتداء محذوف او تکون لظی بدلامن الضمیر المنصوب ونزاعۃ خبران وقریٔ بالنصب علی الحال والشویٔ الاطراف او جمع شواۃ کنویٰ ونواۃ وہی جلدۃ الراس۔
تفسیر : اس دن کی درازی بیان فرما کر اس کی اور تشریح ہولناک حالات سے کرتا ہے اور یہ بھی بتاتا جاتا ہے کہ آج جو اس دن کے منکر ہیں اور دنیا ہی پر دلدادہ اور فریفتہ ہیں اس روز ان کی یہ حالت ہوگی گویا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے۔ فقال : (1) یوم تکون السماء کالمہل کہ جس دن آسمان پگھلے تانبے جیسے ہوجائیں گے۔ عکرمہ وغیرہ کہتے ہیں مہل تیل کی تلچھٹ کو کہتے ہیں اور یہی ابن عباس ؓ عنھما کا قول ہے۔ سماوات پر جب فساد طاری ہوگا تو ان کا مادہ ایسی رنگتوں میں آجائے گا۔ پہلے اس گھر کی چھت آسمان توڑے جائیں گے پھر نیچے کی نوبت آئے گی۔ (2) وتکون الجبال کالعہن اور پہاڑ رنگی ہوئی پشم کی طرح ہو کر اڑتے پھریں گے۔ پہاڑ بعض سیاہ بعض سرخ، بعض سفید ہیں جب ان کے ریزے ریزے ہو کر باہم مل جائیں گے تو رنگین نظر آئیں گے اس لیے عہن سے پوری تشبیہ ہے۔ اپنی اپنی پڑی ہوگی (3) یبصرونہم باہم دیکھ کر کوئی التفات نہ کرے گا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں یہ جملہ ملائکہ کی طرف رجوع ہے کہ ملائکہ ہر ایک نیک و بد کو دیکھیں گے کوئی چھپ نہ سکے گا، دوست کا دوست کو پوچھنا تو درکنا بلکہ (4) یود المجرم الخ گنہگار آرزو کرے گا کہ کاش مجھے چھوڑ دیا جائے اور میرے بدلہ میں میری اولاد اور بیوی اور بھائیوں اور کنبے کو جو اس کے مددگار دنیا میں تھے اور جو کچھ مال و حشمت دنیا پر ہے سب لے لے۔ انہیں لوگوں کے لیے تو دنیا جمع کرتا اور خدا سے غافل تھا مگر نہ چھوٹے گا کس لیے کہ انھا جہنم کی آگ شعلہ مارتی ہوگی، جھلستی ہوگی، زبان حال سے وہ خود یا اس کے داروغہ پکاریں گے ان دو گروہوں کو (1) من ادبرو تولیٰ جس نے خدا سے منہ پھیرا اور نبی (علیہ السلام) سے پھر گیا۔ (2) وجمع فاوعی مال جمع کیا کہ کسی حقدار کا حق نہ دیا بلکہ سمیٹ کر رکھ لیا اور جمع کرنے میں حلال و حرام کی بھی کچھ پروا نہ کی۔ معاذاللہ ایک کفر روگردانی اس پر یہ طمع و حرص و مردم آزاری یہ ہے مجرم۔
Ayahs 70:19–35ترکیب : ھلوعا حال مقدرۃ من الانسان الھلع اشد الحرص یقال ھلع الرجل یھلع ھلعا وھلا عا فھو ھالع دھلوع وکذاجزوعاد منوعا حالان و اذالاولیٰ ظرف لجز وعا والاخریٰ لمنوعا الا المصلین استثناء من الجنس والمستثنیٰ منہ الانسان وھو جنس فی جنات ظرف لمکرومون۔
تفسیر : اور یہ مال جمع کرنا اور کنجوسی کرنا اس لیے ہے کہ ان الانسان خلق ھلوعا۔ انسان (بعض کہتے ہیں اس سے مراد کفار ہیں) فطرتی طور پر لالچی اور بےصبر پیدا ہوا ہے۔ اس کمبخت کی دور اندیشی اور اس کی زیرکی (جو خداوند عالم کی طرف سے بہ نسبت اور حیوانات کے زیادہ ملی تھی) اس کو بخل اور لالچ پر آمادہ کرتی ہے اور بڑے بڑے خیالات اور امیدیں بندھاتی ہے کہ سینکڑوں برسوں کا انتظام کرتا ہے اور اپنی عمر رواں کی بےثباتی سے بیخبر ہو کر دنیا ہی میں محو ہوجاتا ہے۔ یہ حالت آخرت اور حق سبحانہ سے غافل کرنے والی ہے۔ اس سے باز رہنے کو یہ اس کی جبلت بیان فرمائی جاتی ہے۔ ابن عباس ؓ سے کسی نے ہلوع کے معنی دریافت کئے فرمایا آپ ہی حق سبحانہ ٗ اس کی تفسیر کرتا ہے کہ اذامسہ الشر جزوعاً الخ جب اس کو برائی پہنچتی ہے، بیماری، تنگدستی، زن و فرزند و اقارب کی موت یا کسی مقصود میں ناکامی ‘ جنگ اور خصومت عدالتی میں شکست ‘ مال و جاہ کا زوال وغیرہ کوئی بات پیش آجاتی ہے تو فریاد کرنے لگتا ہے، صبر وشکیبائی کو کھو بیٹھتا ہے، کفر کے کلمات اور خدا کا گلہ و شکوہ کا آغاز کرتا ہے۔ الغرض خدا پاک سے امید کی رسی کو کاٹ ڈالتا ہے۔ یہ بھی بری حالت ہے جو اس کے ضعف ایمان اور خدائے ذوالجلال پر توکل نہ کرنے کی دلیل ہے۔ واذامسہ الخیر منوعا اور جب خیر تندرستی اولاد، مال و جاہ و عزت میں کامیابی حاصل ہوجاتی ہے تو ہاتھ روک لیتا ہے کہ بس اب ہی نعمت حاصل ہوگئی، اتفاقی بات تھی روز روز کہاں حاصل ہوتی ہے۔ اس کو روک کر رکھو۔ اس میں سے حقداروں کا حق ادا نہ کرو۔ گویا یہ اس نعمت کو خدائے پاک کا عطیہ نہیں سمجھتا بلکہ اپنی محنت و کوشش اور بخت و اتفاق کی یاوری خیال کرتا ہے۔ یہ بھی نامحمود حالت ہے جس کو ایمان کی روشنی سے کچھ بھی بہرہ نہیں۔
پھر فرمایا کہ اس مکروہ حالت سے آٹھ گروہ مستثنیٰ ہیں اور ان کو جہنم نہ بلائے گی۔ فقال : (1) الا المصلین مگر نمازی۔ صرف ایک بار یا دو بار نماز پڑھنا کافی نہیں بلکہ الذین ھم علیٰ صلوٰتہم دائمون وہ جو اپنی نمازیں ہمیشہ ادا کئے چلے جاتے ہیں، کبھی ترک نہیں کرتے۔ یہ فرقہ سب فرقوں سے اول ذکر ہوا اور یہ ہے بھی اول اور یہ اس لیے مستثنیٰ ہے کہ نماز بندے اور خداوند تعالیٰ میں ایک اعلیٰ رابطہ ہے جو اس کو پنجگانہ اس کی بارگاہ تک باریابی کا موقع دیتی ہے۔ بھلا جو پانچ وقت دن رات میں حضور قلب اور دلی نیاز سے اس کے سامنے جائے گا اس کی روح پر اس کے انوار کا پر توا کیونکر نہ پڑے گا اور اس کی یہ ظلمت کیونکر دور نہ ہوگی اور اس کا سختی و نرمی میں سے اپنے قادر مطلق پر کیونکر توکل نہ ہوگا ؟ اور جو پنجگانہ اس کے دربار میں حاضر ہو کر اس کے آگے سرِنیاز خم کرتا ہے اس پر اس کی کیونکر رحمت نہ ہوگی۔ وہ ضرور آخرت کی بلائوں سے اس کی برکت سے نجات پائے گا۔ (2) والذین فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم کہ جن کے مال میں سائل اور محروم یعنی بےسوال کا جو نہ مانگنے کی وجہ سے محروم رہ جاتا ہے۔ حق ہے اور حق بھی کیسا معلوم کہ اس نے کھول دیا ہے کہ اس قدر دیا کروں گا یہ نہیں کہ کبھی دیا اور کبھی نہ دیا بلکہ ایک حصہ معین کردیا۔ قتادہ و محمد بن سیرین وغیرہ علماء فرماتے ہیں کہ حق معلوم سے مراد زکوٰۃ 1 ؎ ہے جو خدا تعالیٰ
کی طرف سے معلوم و معین کیا گیا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں زکوٰۃ کے بعد اگر اور نہ دے تو اس پر کچھ الزام نہیں۔ مجاہد اور عطاء و نخعی وغیرہ فرماتے ہیں صدقات واجبہ کے علاوہ خیر و خیرات مراد ہے کس لیے کہ صدقات واجبہ زکوٰۃ و صدقات کے مصارف بیان فرما دیے گئے ہیں اور اس کا مصرف سائل و محروم بیان فرمایا۔ فی اموالھم جمع کا صیغہ بتا رہا ہے کہ سب مالوں میں خیرات جاری رہے۔ زراعت میں سے، مواشی میں سے، تجارت میں سے، نقد میں سے جس طرح ممکن ہو نفع پہنچاتے ہیں۔ مکان ہیں تو مفت ان میں مساکین و غرباء کو رہنے دیتے ہیں، مہمان اتارتے ہیں۔ ان کی گاڑی اور گھوڑوں کو حاجت والے مانگ کرلے جاتے ہیں۔ ان کے کپڑوں اور ہتھیاروں اور کتابوں اور دیگر اشیاء سے نفع اٹھاتے ہیں۔ یہ کریم النفس دریغ نہیں کرتے۔ حق کا لفظ کہہ رہا ہے کہ ایسے درماندوں کا ان کے مال میں بڑا زور ہے اور حصہ معین ہے جیسا شریکوں کا ہوتا ہے ان کے دامن ہمیشہ مسکینوں کے ہاتھ میں رہا کرتے ہیں۔
سائل تو معلوم ہوتا ہے مگر محروم کے معنی میں علماء کے متعدد قول ہے۔ (1) تو وہی جو ہم نے پہلے بیان کیا بےزبان ‘ منہ بند۔
1 ؎ صدقہ الفطر اور نفقات واجبہ بھی اس میں شامل ہیں۔ 12 منہ
(2) بعض کہتے ہیں محروم بےزبان جانور ہیں، کچھ نہیں کہتے اس لیے محروم رہ جاتے ہیں۔ ان پر رحم کرنا اور ان کو اپنی کھیتی، پانی یا نقد مال سے نفع پہنچانا چاہیے (اس سے یہ مراد نہیں کہ گائے بیل کی پرستش کی جائے) ۔ (3) بعض کہتے ہیں محروم وہ مصیبت زدہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں حالانکہ ان کو دینا زیادہ ثواب ہے کس لیے کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ مسکین وہ نہیں کہ جو لقمہ یا دو لقمہ یا ایک چھوارا یا دو چھوارے مانگ مانگ کرلے جائے بلکہ وہ جو حاجتمند ہے اور کسی سے سوال نہیں کرتا۔ باوجود اس کے سائل کو مقدم اس لیے کیا کہ یہ نفس الامر میں ہر جگہ پہلے پہنچا کرتا ہے۔ افسوس ہے ان سائلوں پر کہ جنہوں نے اس کو دائمی پیشہ بنا لیا ہے اور اس کے ساتھ اظہار کرامت و ولایت کا بھی دعویٰ کرتے ہیں۔ افسوس صد افسوس۔ فائدہ : نماز بدنی و روحانی عبادت تھی اس کے بعد مالی عبادت بھی ضرور ہے اس لیے اس دوسرے جملہ کو اس کے بعد بیان فرما کر جتلا دیا کہ نری نماز کافی نہیں، مال میں سے خیرات و صدقات بھی دیا کرو ؎
بخیل اربود زاہد بحروبر بہشتی نبا شد بحکم خبر
(3) والذین یصدقون بیوم الدین وہ جو جزا کے دن کو سچا جانتے ہیں اس میں سب نیکیوں کی طرف اشارہ ہے اور ہر قسم کی بدی سے بچنے کی طرف ایماء ہے۔ کس لیے کہ جو شخص کہ جزا کے دن کا معتقد ہوگا وہ جو نیکی کرے گا، دل کھول کر کرے گا۔ غرباء کو دینا، اقارب و ضعفاء پر رحم کرنا یہ جملہ اور اس کے بعد کا جملہ پہلے اور آیندہ احکام کے لیے تاکید کا فائدہ بخشتا ہے۔ (4) والذین ھم من عذاب ربہم مشفقون وہ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرا کرتے ہیں کس لیے ان عذاب ربہم غیرمامون ان کے رب کے عذاب کا کچھ ٹھیک نہیں کہ کب اور کس وقت نازل ہوجائے، اس سے نڈر رہنا نہ چاہیے۔ پہلا جملہ عذاب اور ثواب آخرت کے خوف وامید کی وجہ سے نیکی پر ابھارنے والا بدی سے روکنے والا تھا۔ مگر انسانی حرص و طمع و شہوت کبھی اس قدر دور دراز کی سزا یا جزا سے غافل کر کے بدی میں ڈال دیتے ہیں مگر جب اس کو برے کام پر دنیا ہی میں تازیانے پڑنے کا خوف دلایا جاتا ہے کہ آخرت تو آخرت دنیا ہی میں ایسے بدکاموں کی سزا مل جاتی ہے (بیماری، تنگدستی، بےعزتی، کوئی ناگہانی مصیبت، ارضی و سماوی، عامہ یا خاصہ ‘ قحط و بائ ‘ تسلط حکام ظالم و غلبہ اعداء یا موت لخت جگر و خانہ خرابی وغیرہ) تو بہت جلد متنبہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے اس کے بعد ان عذاب ربھم غیرمامون بھی سنا دیا اور دنیا میں اعمالِ بد پر سزا آنا یقینی بات ہے۔ بارہا مشاہدہ ہوا ہے اور ہر روز ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کوئی کور باطن اس سزا کو من اللہ نہ سمجھے اور اسباب کی طرف منسوب کرے مگر عاقل جب غور کر کے دیکھے گا تو اسباب کا سلسلہ بھی اسی مسبب الاسباب کے ہاتھ میں دیکھے گا۔ یہاں تک یہ چار اوصاف ذکر ہوئے ان میں دو پہلے قوت عملیہ کی تکمیل کے لیے تھے اور چونکہ مقصود تر تھے اس لیے ان کو مقدم کیا اور یہ دونوں اخیر قوت نظریہ کی تکمیل کے لیے ہیں اور یہ دونوں ان دونوں کے لیے محرک ہیں۔
اس کے بعد چار فریق اور بیان فرماتا ہے۔ جن میں چار صفات حقوق العباد کے ملحوظ رکھنے اور تمدن اور نظام عالم کے قائم رکھنے کے لیے بیان فرمائے اور ان چاروں میں اخیر جملہ تہذیب روحانی کے لیے بھی ایک رکن اعظم ہے اور اسی پر صفات کا اتمام ہے فقال (1) والذین ھم لفروجہم حافظون الاعلیٰ ازواجہم اوماملکت ایمانہم فانہم غیرملومین کہ وہ جو اپنے ستر خاص کو محفوظ رکھتے ہیں کسی پر نہیں کھولتے یعنی جماع نہیں کرتے مگر اسی قدر پر بس کرنا انسان کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ دھرنا تھا۔ کس لیے کہ انسان میں یہ ایک ایسی قوۃ رکھی ہے کہ اس کو مجبور و مقہور کردیتی ہے اور اس کے حواس و عقل میں اپنے غلبہ کے وقت فتور ڈال دیتی ہے اور اسی لیے یہ تجرد اسلام میں کوئی عمدہ بات نہیں۔ گو عیسائیوں کے راہبوں اور ہنود کے گشائیوں جوگیوں میں عمدہ عبادت اور نفس کے ساتھ اعلیٰ درجہ کا مقابلہ ہے۔ اس لیے اس کے بعد اس حکیم مطلق نے دو جگہ کے لیے اجازت دیدی۔ (1) الاعلیٰ ازواجہم اول بیوی کے لئے۔ مرد کو اپنی بیوی سے جماع درست ہے کس لیے کہ بیوی کو زوج اس کا جوڑا کہتے ہیں جو دونوں کے ملنے سے امور خانہ داری سرانجام سر پاتے ہیں اس کے اندر بھی خدا تعالیٰ نے یہ مادہ رکھا ہے۔ اگر مرد اس پر ازار نہ کھولے تو اس کی حاجت روا نہ ہو اس کے لیے فتنے میں پڑنے کا خوف ہے پھر باہم اتحاد قائم نہ رہے۔ دوم مرد و عورت کی محبت باہمی کا جس پر تمام خانہ داری موقوف ہے بیشتر اسی اختلاط پر مدار ہے۔ بیوی کون ہے اور کیا شرطیں ہیں۔ اس کو عرف پر چھوڑ دیا اور قرآن میں متعدد جگہ بتلایا گیا۔ سوم نسل انسانی کا بقاء منشاء خداوندی ہے اور وہ بجز اس کے عادتاً ہو نہیں سکتا۔
(2) اوماملکت ایمانہم لونڈیوں پر جو مردوں کے ہاتھ کا مال ہیں یہاں بھی جماع کرنا ممنوع نہیں۔ لونڈی غلام بنانے کا دستور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت سے بھی پایا جاتا ہے۔ توریت موجودہ میں لونڈی غلاموں کے احکام مذکور ہیں۔ دیکھو کتاب استثنیٰ کا 21 باب 10 درس میں کتاب مذکور 2 باب کا 13 درس ” اور جب خداوند تیرا خدا اسے تیرے قبضے میں کر دے تو وہاں کے ہر ایک مرد کو تلوار کی دھار سے قتل کر “۔ (4) ” مگر عورتیں اور لڑکوں اور مواشی کو اور جو کچھ اس شہر میں ہو اس کی ساری لوٹ اپنے لیے لے “۔ کتاب مذکور کا 15 باب 12 تا 17 جملہ جس میں غلام لونڈیوں کے رکھنے اور آزاد کرنے کا صاف حکم ہے اور 21 باب میں صحبت کرنے کی اجازت ہے۔
آج کل کی عیسائی قومیں اس کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتی اور اہل اسلام پر عیب لگاتی ہیں مگر ان کو معلوم رہے کہ اسلام میں لونڈی غلاموں کے حقوق عیسائی آزاد رعیت سے زیادہ ملحوظ ہیں۔ لونڈی جب مرد کا مال ہے اور گھر میں رہ کر کاروبار کرتی ہے اگر اس کا کسی سے نکاح نہیں کیا گیا تو اس کے ساتھ ہم بستری بھی اس پر ترحم اور اولاد کی ماں کہلانے کے لیے عزت دینا ہے۔
متعہ کی حرمت : فمن ابتغیٰ وراء ذٰلک فاولئک ھم العادون جو ان دونوں طریقوں کے سوا قضائِ شہوت کے لیے اور طریقہ عمل میں لائے وہ حد سے تجاوز کرنے والا سرکش اور خدا کا باغی ہے۔ متعہ کی ہوئی عورت بھی اس آیت سے حرام ثابت ہوتی ہے۔ کس لیے کہ وہ نہ بیوی ہے کوئی حق زوجیت ‘ میراث و نان و پارچہ وغیرہ اس کے لیے ثابت نہیں نہ لونڈی ہے اور اسی طرح وطی فی الدبر بھی ممنوع ہے (خواہ وہ لڑکے سے ہو خواہ غیر عورت سے ہو خواہ اپنی بیوی یا لونڈی سے ہو) کس لیے کہ وہ بیوی ہے نہ لونڈی اور جلق لگانا اور عورت کو عورت سے مساحقت کرنا اور عورت کو اس کام کے لیے نوکر رکھنا یا مخفی آشنائی کرنا یا اجرت دے کر یہ فعل کرنا سب ممنوع ہیں۔ (2) والذین ھم لاماناتہم وعہدھم راعون وہ جو اپنی امانتوں اور عہدوں کی رعایت رکھتے ہیں۔ امانت کی کئی قسمیں ہیں (1) اللہ تعالیٰ کی امانت اس کے عطاکردہ قویٰ اور احوال ہیں ان کو بےجا صرف نہ کرنا چاہیے۔ (2) بات کی امانت۔ آقا اور میاں کے مال کی امانت۔ (3) علماء کے پاس علم امانت ہے، اس کو نہ چھپائیں۔ اسی طرح عہد بھی کئی قسم کا ہے۔ خدا کا عہد کہ اسی کی عبادت کریں گے، باہمی بندوں کے جائز عہدخاوند و بیوی کا باہمی مودت و حسن معاشرت کا عہد جو لفظ نکاح سے قائم ہوتا ہے، سب کی رعایت لازم ہے۔
(3) والذین ھم بشہاداتہم قائمون وہ جو اپنی گواہی پر قائم ہیں یعنی گواہی ادا کرنے میں نہ کسی کی رعایت کرتے ہیں نہ کسی سے ڈرتے ہیں اس سے انتظام عالم کا قیام اور حقوق عباد کا تحفظ تام ہے۔ لفظ قائم بتلا رہا ہے کہ نہ تو گواہی چھپائی جائے کہ کہہ دے میں نہیں جانتا اور نہ حیلہ بہانے سے کنارہ کشی کرے۔ دونوں کبیرہ گناہ ہیں۔ کس لیے کہ اس میں حقوق العباد تلف ہوتے ہیں اور یہ سب سے زیادہ گناہ ہے کہ جھوٹی گواہی دے۔ حقوق العباد کی شہادت کی سوا توحید و رسالت کی گواہی بھی ہر ایماندار پر واجب ہے۔
(4) والذین ھم علیٰ صلوٰتہم یحافظون وہ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، ہمیشہ پڑھنا جو پہلے مذکور ہوا تھا اور بات ہے اور محافظت رکھنا جو یہاں مذکور ہے اور بات ہے۔ کس لیے کہ محافظت کے معنی شرائط و ارکان کی بجاآوری اور مفسدات و مکروہات سے بچنا ہے اور اہتمام کرنا اور حضور قلب سے ادا کرنا۔ جن میں یہ آٹھ صفات ہیں اولئک فی جنات مکرمون وہی لوگ مرنے کے بعد دوسرے جہان میں باغوں میں عزت سے رہا کریں گے۔ وہاں کی عزت اور وہاں کے دائمی عیش اور آیات میں مفصل مذکور ہیں۔