Ayahs 70:1–3ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، ایک سوال کرنے والے یعنی ایک مانگنے والے نے کافروں پر ایسے اللہ کی طرف سے واقع ہونے والا عذاب مانگا جس کو اللہ کی طرف سے کوئی دفع کرنے والا نہیں وہ نضر بن حارث ہے اس نے کہا اے اللہ ! اگر یہ حق ہے (الآیۃ) من اللہ، واقع سے متعلق ہے کہ جو ملائکہ کے لئے سیڑھیوں والا ہے اور وہ آسمان ہے جس کی طرف فرشتے اور روح یعنی جبرئیل چڑھتے ہیں (تعرج) تا اور یا کے ساتھ یعنی اس کے حکم کے نازل ہونے کی جگہ کہ وہ آسمان ہے ایسے دن میں (فی یوم) محذوف کے متعلق ہے یعنی ان پر قیامت کے دن میں عذاب واقع ہوگا اور اس دن کی مقدار کافر کی نسبت سے تکالیف کے اس دن میں لاحق ہونے کی وجہ سے پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی رہا مومن تو اس کے لئے ایک فرض نماز کے وقت سے بھی کم مدت ہوگی جس کو وہ دنیا میں پڑھا کرتا تھا، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے، سو آپ ﷺ صبر کیجئے یہ حکم جہاد کے حکم کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے، یعنی جس میں جزع فزع (شکوہ و شکایت نہ ہو) بیشک یہ لوگ اس عذاب کو بعید یعنی ناممکن الوقوع سمجھ رہے ہیں، اور ہم اس کو قریب یعنی لامحالہ عنقریب واقع ہونے والا سمجھ رہے ہیں (یہ عذاب اس دن) واقع ہوگا جس دن آسمان پگھلی ہوئی چاندی کے مانند ہوجائے گا اور پہاڑ ہلکے اور ہوا کے ذریعہ اڑنے میں اون کے مانند ہوجائیں گے اور ہر شخص کے اپنے حالات میں مبتلا ہونے کی وجہ سے دوست دوست کی (بھی) بات نہ پوچھے گا یعنی قرابت دار قرابت دار کی بات نہ پوچھے گا حالانکہ ایک دوسرے کو دکھا دیئے جائیں گے یعنی دوست آپس میں ایک دوسرے کو دیکھ لیں گے اور ایک دوسرے کو پہچان بھی لیں گے، مگر بات نہ کریں گے (یبصرونھم) جملہ مسانفہ ہے مجرم چاہے گا یعنی کافر تمنا کرے گا کہ اس کے عذاب کے بدلے فدیہ میں (یومئذ) میم کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ اپنے بیٹوں کو اور اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو اور اپنے کنبے، کنبے کو فصیلہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ فرد کنبے ہی سے جدا ہوتا ہے جو اس کو پناہ دیتے ہیں یعنی اپنے ساتھ ملا لیتا ہے اور روئے زمین کے سب لوگوں کو دینا چاہے گا تاکہ یہ فدیہ دینا اس کو نجات دلا دے اس کا عطف یفتدی پر ہے مگر ہرگز ایسا نہ ہوگا یہ اس کی تمنا کا رد ہے یقینا وہ شعلہ والی آگ ہے لظی جہنم کا نام ہے اس لئے کہ وہ شعلہ زن ہوگی، یعنی کفار پر شعلہ زن ہوگی جو سر کی کھال کو کھینچنے والی ہوگی شوی، شواۃ کی جمع ہے اور وہ سر کی کھال ہے، وہ ہر اس شخص کو پکارے گی جو ایمان سے پیٹھ پھیرتا ہے اور سرتابی کرتا ہے وہ کہے گی (الی الی) میری طرف آئو ! میری طرف آئو ! ، اور مال جمع کر کے سنبھال کر رکھتا ہے (ذخیرہ کرتا ہے) یعنی اس کو تجوری میں بند کر کے رکھتا ہے اور اس میں سے اللہ کا حق ادا نہیں کرتا نسان کم ہمت پیدا کیا گیا ہے یہ حال مقدرہ ہے اور (ھلوع) کی تفسیر (اذا مسہ الشر جزوعا) ہے جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو تکلیف لاحق ہونے کے وقت جزع فزع (واویلا) کرنے لگتا ہے اور جب اس کو فارغ البالی حاصل ہوتی ہے یعنی مال حاصل ہوتا ہے تو اس مال میں حقوق اللہ سے بخیلی کرنے لگتا ہے مگر وہ نمازی یعنی مومن جو اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور ان کے مالوں میں سوالی اور غیر سوالی کے لئے حق ہے اور وہ زکوٰۃ ہے، محروم وہ شخص ہے جو سوال سے اجتناب کرے اور وہ جو جزاء کے دن کا اعتقاد رکھتے ہیں اور اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں واقعی ان کے رب کا عذاب بےخوف ہونے کی چیز نہیں اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، مگر بیویوں سے اور باندیوں سے کیونکہ ان پر کوئی ملامت نہیں، ہاں جو ان کے علاوہ کا طلبگار ہو ایسے ہی حلال سے حرام کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں اور جو اپنی امانتوں کا اور اپنے قول وقرار کا پاس رکھتے ہیں جس میں ان سے مؤاخذہ ہو اور ایک قرأت میں (امانتھم) مفرد ہے یعنی جس چیز پر ان کو امین بنایا جائے خواہ وہ امر دین سے ہو یا امر دنیا سے اور وہ لوگ جو اپنی شہادتوں کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنے والے ہیں اور ایک قرأت میں شہادت جمع کے صیغہ کے ساتھ ہے یعنی گواہی ٹھیک ٹھیک ادا کرتے ہیں اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی ان کے اوقات میں ادا کر کے حفاظت کرتے ہیں ایسے ہی لوگ جنت میں باعزت داخل ہوں گے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : للکافرین لام تعلیل کا بھی ہوسکتا ہے ای نازل من اجل الکافرین یا بمعنی علی ہے ای واقع علی الکافرین۔
قولہ : لیس لہ دافع یا تو یہ عذاب کی صفت ثانی ہے یا عذاب سے حال ہے یا جملہ مستانفہ ہے، اگر جملہ مستانفہ ہوگا تو عامل و معمول کے درمیان جملہ معترضہ ہوگا۔
قولہ : معارج، معرج کی جمع ہے بمعنی سیڑھی۔
قولہ : جبرئیل اس میں اشارہ ہے کہ والروح یہ عطف خاص علی العام کے قبیل سے ہے، اس لئے کہ جبرئیل (علیہ السلام) ملائکہ میں شامل ہیں۔
قولہ : الی مھبط امرہ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : آیت سے مفہوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک خاص مقام میں ہیں اور ملائکہ اس کی طرف صعود کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ جسم و مکان سے بری اور پاک ہے۔
جواب : کلام حذف مضاف کے ساتھ ہے ای الی محل ھبوط امرہ یعنی اللہ کے امر کے اترنے کی جگہ کی طرف چڑھتے ہیں نہ کہ اللہ کی طرف۔
قولہ : انھم یرونہ بعیدا، ای یعتقدونہ محالا۔
قولہ : لو بمعنی ان، یعنی لو ان مصدریہ کے معنی میں ہے اسی لئے لو کے جواب کی ضرورت نہیں ہے۔
قولہ : تضمہ، ای فی النسب۔
قولہ : انھا، ای النار مقصد ضمیر کے مرجع کی تعیین ہے۔
سوال : ھا ضمیر کا مرجع مفسر علام نے النار کو قرار دیا ہے حالانکہ النار سابق میں کہیں مذکور نہیں ہے۔
جواب : النار کا لفظ اگرچہ سابق میں صراحۃً مذکور نہیں ہے مگر العذاب سے مفہوم ہے۔
قولہ : لظی، ان کی خبر اول اور نزاعۃ خبر ثانی ہے۔
قولہ : لظی علمیت اور تانیث کی وجہ سے غیر منصرف ہے۔
قولہ : خلق ھلوعا یہ حال مقدرہ ہے اس لئے کہ انسان بوقت پیدائش اس صفت سے متصف نہیں ہوتا۔
تفسیر و تشریح
شان نزول :
سال سائل سوال کبھی کسی چیز کی تحقیق کے لئے بھی ہوتا ہے اس وقت اس کا صلہ عن استعمال ہوتا ہے اور کبھی سوال بمعنی درخواست استعمال ہوتا ہے اس صورت میں اس کا صلہ با آتا ہے یہاں ایسا ہی ہے سال سائل بعذاب ایک سوال کرنے والے نے عذاب کی درخواست کی، یہ سائل کون تھا ؟ اور اس نے عذاب کا سوال کیوں کیا تھا ؟ نسائی اور ابن ابی حاتم اور حکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ عذاب کا سوال کرنے والا شخص نضر بن حارث بن کلدہ تھا، جس نے قرآن اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب میں اس جرأت سے کام لیا کہ کہنے لگا ” اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء او ائتنا بعذاب الیم (انفال) یعنی یہ دعاء کی کہ اے اللہ ! اگر یہ قرآن آپ کی طرف سے حق ہے تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی درد ناک عذاب بھیج دے، اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر میں اس کو مسلمانوں کے ہاتھوں عذاب دیا، آگے اس عذاب کی کچھ حقیقت کا بیان ہے کہ یہ عذاب کافروں پر ضرور واقع ہو کر رہے گا اس عذاب کو دفع کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔
Ayahs 70:4–18فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ یہ جملہ فعل محذوف سے متعلق ہے ای یقع فی یوم کان مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب جس کا ذکر اوپر آیا ہے کافروں پر ضرور واقع ہو کر رہے گا، اس کا وقوع اس روز ہوگا کہ جس کی مدت پچاس ہزار سال ہوگی حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق سوال کیا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی کہ یہ دن کتنا دراز ہوگا ؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ یہ دن مومن پر ایک فرض نماز ادا کرنے کے وقت سے بھی کم ہوگا، یہ بطور تمثیل کے مومنین پر اس وقت کے ہلکا ہونے کا بیان ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ قیامت کا دن ظہر اور عصر کے درمیانی وقت سے بھی کم ہوگا۔
قیامت کا دن ایک ہزار سال کا ہوگا یا پچاس ہزار سال :
سوال : اس آیت میں روز قیامت کی مقدار پچاس ہزار سال بتائی گئی ہے اور سورة تنزیل السجدہ کی آیت میں ایک ہزار سال کا ذکر ہے، بظاہر ان دونوں آیتوں کے مضمون میں تعارض اور تضاد ہے ؟
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ یہ مدت مختلف لوگوں کے اعتبار سے ہے کسی کے لئے پچاس ہزار سال کی اور کسی کے لئے ایک ہزار سال کی اور کسی کے لئے ایک فرض نماز کے وقت کی مقدار ہوگی، اور وقت کی درازی عذاب کی شدت وخفت کے اعتبار سے کم و بیش معلوم ہوگی۔
Ayahs 70:19–35ان الانسان خلق ھلوعا، ھلوع کے لفظی معنی ہیں حریص، بےصبرا، کم ہمت، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ھلوع وہ شخص ہے جو کہ مال حرام کی حرص میں مبتلا ہو، یہاں یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ جب انسان کو پیدا ہی اس حال میں کیا گیا ہے تو پھر اس کا کیا قصور ؟ وہ مجرم کیوں قرار دیا گیا ؟ وجہ یہ ہے کہ مراد اس سے انسانی فطرت اور جبلت میں رکھی ہوئی استعداد اور مادہ ہے تو حق تعالیٰ نے انسان میں ہر خیر و شر کا مادہ اور استعداد بھی رکھی ہے اور شر و فساد کی بھی اور اس کو عقل و ہوش بھی عطا فرمائے ہیں اور اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ ہر ایک کا انجام بھی بتادیا، اب انسان کو اختیار ہے کہ دونوں قسم کی صلاحیتوں میں سے جس کو چاہے بروئے کار لئے اور جس کو چاہے نہ لائے : لہٰذا یہ جو کچھ بھی کرے گا اپنے اختیار سے کرے گا اور اسی اختیار کی بناء پر اس کو جزا یا سزا ملے گی۔
Ayahs 70:36–38ترجمہ : کافروں کو کیا ہوا کہ تمہاری طرف دائیں اور بائیں طرف سے گھورتے ہوئے جماعتیں بن بن کر چلے آرہے ہیں، مھطعین، کفروا سے حال ہے عزین بھی کفروا سے حال ہے، یعنی جماعت اور حلقے بنا بنا کر مومنین سے استہزاء کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر یہ جنت میں داخل ہوں گے تو ہم یقینا ان سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے، کیا ان میں کا ہر شخص اس بات کی خواہش رکھتا ہے کہ نعمتوں کی جنت میں داخل کرلیا جائے گا ؟ یہ ہرگز نہ ہوگا یہ ان کی دخول جنت کی تردید ہے ہم نے ان کو دوسروں کے مانند اس چیز سے پیدا کیا ہے جو ان کو معلوم ہے یعنی نطفوں سے، لہٰذا اس بنا پر جنت کی طمع نہیں کرسکتے ہاں البتہ جنت کی طمع تقوے کی بنا پر کرسکتے ہیں، پھر میں قسم کھاتا ہوں لا زائدہ شمس و قمر اور تمام ستاروں کے مشرقوں اور مغربوں کے رب کی ہم اس پر قادر ہیں کہ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں، اور ہم اس کام سے عاجز نہیں ہیں تو آپ ﷺ ان کو اسی شغل باطل اور دنیا کی تفریح میں رہنے دیجئے، یہاں تک کہ ان کو ان کے اس دن سے سابقہ پڑے کہ جس دن میں ان سے عذاب کا وعدہ کیا جاتا ہے جس دن یہ قبروں سے نکل کر محشر کی جانب دوڑیں گے جیسے کسی پرستش گاہ کی طرف دوڑے جاتے ہوں اور ایک قرأت میں دونوں حرفوں کے ضمہ کے ساتھ ہے، وہ شئی جس کو نصب کیا گیا ہو جیسا کہ علم یا پرچم ان کی آنکھیں نیچے کو جھکی ہوں گی (اور) ان پر ذلت چھائی ہوگی یہ ہے ان کا وہ دن جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا (ذلک) مبتداء ہے اور اس کا مابعد خبر ہے، اور مراد اس سے قیامت کا دن ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : فمال الذی کفروا لام جارہ، مصحف امام کے رسم الخط کی اتباع میں الگ لکھا گیا ہے، ما مبتداء ہے اور الذین کفروا اس کی خبر ہے ای فای شیء حملھم علی نظرھم الیک۔
قولہ : مھطعین ای مسرعین، اھطاع سے اسم فاعل جمع مذکر، سر جھکائے نظر جمائے تیزی سے دوڑنے والے۔
قولہ : عزین یہ عزۃ کی جمع ہے اور عزۃ بمعنی جماعت ہے۔
قولہ : انا لقادرون یہ مقسم علیہ ہے۔
قولہ : وما نحن بمسبوقین یہ مقسم علیہ کا جز ہے۔
قولہ : یلقوا، یلاقوا کی تفسیر یلقوا سے کر کے اشارہ کردیا کہ باب مفاعلہ اپنی اصل پر نہیں ہے۔
قولہ : یوم یخرجون یہ یومھم الذی سے بدل البعض ہے۔
قولہ : ذلک الیوم مبتداء اور الذین الخ خبر ہے۔
تفسیر و تشریح
فمال الذی کفروا قبلک مھطعین یہ آپ ﷺ کے زمانہ کے کافروں کا ذکر ہے کہ وہ آپ کی مجلس میں دوڑے دوڑے آتے، لیکن آپ کی باتیں سن کر عمل کرنے کے بجائے ان کا مذاق اڑاتے اور ٹولیوں میں بٹ جاتے اور دعویٰ یہ کرتے کہ اگر مسلمان جنت میں گئے تو ہم ان سے پہلے جنت میں جائیں گے اللہ نے اگلی آیت میں ان کے اس زعم باطل کی تردید فرمائی ہے، یعنی یہ کیسے ممکن ہے کہ مومن اور کافر دونوں جنت میں جائیں، رسول کو ماننے والے اور نہ ماننے والے تصدیق کرنے والے، اور تصدیق نہ کرنے والے دونوں برابر ہوجائیں، ایسا کبھی نہیں ہوسکتا، مطلب یہ ہے کہ خدا کی جنت تو ان لوگوں کے لئے ہے جن کی صفات ابھی بیان کی گئی ہیں، اب کیا یہ لوگ جو حق بات سننا تک گوارا نہیں کرتے اور حق کی آواز کو دبا دینے کے لئے دوڑے چلے آرہے ہیں، کیا ایسے لوگ جنت کے امیدوار ہوسکتے ہیں ؟