Ayahs 70:1–3سال سائل بعذات واقع۔ نافع اور ابن عامر نے سال سائل پڑھا ہے (1) یعنی ہمزہ کے بغیر پڑھا ہے باقی قراء نے ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ جس نے اسے ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے تو اس وقت یہ سوال سے مشتق ہوگا۔ باء کے بارے میں جائز ہے کہ یہ زائدہ ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ عن کے معین میں ہو۔ سوال، دعا کے معنی میں ہوگا یعنی ایک دعوت دینے والے نے عذاب کو دعوت دی، یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے مروی ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : دعا علی فلاں بانویل دعا علیہ بالعذاب یہ جملہ بولا جاتا ہے : دعوت زیداً یعنی میں نے اس کے حاض رہونے کی التماس کی مراد ہوگا ایک التماس کرنے والے نے کافروں کے لئے عذاب کیا لتماس کی۔ قیامت کے روز لامحالہ ان پر واقع ہوگا۔ اس تعبیر کی بنا پر باء زائدہ ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : تثبت بالدھن (المومنون : 20) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وھزی الیک بجذع النخلۃ (مریم : 25) یہ تاکید ہے یعنی ایک سائل نے واقع ہونے والے عذاب لے بارے میں سوال کیا۔
للکفرین الام علی کے معنی میں ہے۔ سوال کرنے والے نضر بن حارث تھا (2) اللہ تعالیٰ نے اس کے سوالوں کا یوں ذکر کیا : اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء اوئینا بعذاب الیم۔ (النفال) اس کا سوال پورا ہوا غزوہ بدر کے موقع پر اسے اور عقبہ بی ابی معیط کو اتنقام میں قتل کیا گیا اس کے علاوہ کسی کو اتنقام میں قتل نہیں کیا گیا : یہ حضرت ابن عباس اور مجاہد کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں سائل حارث بن نعمان فہری تھا اس کی وجہ یہ بنی کہ جب اسے نبی کریم ﷺ کا حضر علی شیر خدا کے بارے میں یہ فرمان پہنچا، من کنت مولاہ فعلی مولاہ (1) وہ اپنی اونٹنی پر سوار ہوا وہ آیا یہاں تک کہ اس نے اپنی سواری ابطح میں بٹھائی پھر کہا : اے محمد ! ﷺ تو نے ہمیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں حکم دیا کہ ہم لا الا الہ اللہ کی وانک رسول اللہ کی گواہی دیں تو ہم نے وہ بات آپ ﷺ سے قبول کی، ہم پانچ نمازیں پڑھیں تو ہم نے آپ ﷺ سے وہ بات قبول کی، ہم اپنے اموال کی زکوۃ دیں تو ہم نے وہ بات آپ ﷺ سے قبول کی ہر سال ہم رضمان شریف کیر وزے رکھیں تو ہم نے وہ بات آپ ﷺ سے قبول کی، ہم حج کریں تو ہم نے وہ بات آپ ﷺ سے قبول کی پھر آپ ﷺ اس بات پر بھی راضی نہ ہوئے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنے چچا زاد کو ہم پر فضیت دی۔ کیا یہ ایسی بات ہے جو آپ ﷺ نے پانی جانب سے کی ہے یا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے “ حارث مڑا وہ کہہ رہا تھا : اے اللہ ! اگر وہ حق ہے جو محمد ﷺ کہتے ہیں تو ہم پر آسمان سے پتھر برسایا کوئی اور درد ناک عذاب لے آ۔ اللہ کی قسم ! وہ اپنی اونٹنی تک نہیں پہنچا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک پھتر مارا جو اس کے دماغ کو لگا تو وہ اس کی دبر سے نکل گیا تو اسے قتل کردیا تو یہ آیت نازل ہوئی سال سائل بعذاب واقع۔ (٭) ایک قول یہ کیا گیا ہے : قریش کے کفار کی جماعت کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے کافروں کے خلاف عذاب کا سوال کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں آپ ﷺ نے عذاب کا مطالبہ کیا اور عرض کی کہ اللہ تعالیٰ اسے کفار پرو اقع کرے وہ لامحالہ ان پر واقع ہوگا۔ کلام اس ارشاد تک فاصبر صبراً جمیلاً ۔ تک ممتد ہے یعنی جلدی نہ کیجیے عذاب بالکل قریب ہے جب باء امن کے معنی میں ہو، یہ قتادہ کا قول ہے تو سائل یہ سوال کرتا ہے کہ عذاب کس کو واقع ہوگا یا کب واقع ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فسئل بہ خبیراً ۔ (الفرقان) اس آیت میں بھی باء عن کے معنی میں ہے۔ علقمہ نے کہا :
فان تسالونی بالنساء بصیر بادواء النساء طبیب (2)
اگر تم مجھ سے عورتوں کے بارے میں پوچھو تو عورتوں کی بیماریوں کو جاننے والا طبیب ہوں۔
اگر تم مجھ سے عورتوں کے بارے میں پوچھو تو عورتوں کی بیماریوں کو جاننے وا ا طبیب ہوں۔
یہاں بھی بالنساء عن النسئا کے معنی میں ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : حرجنا نسال عن فلان و بفلان یعنی باء اور عن دونوں صلے اسعتمال ہوتے ہیں۔ معنی ہوگا انہوں نے سوال کیا کس پر عذاب واقع ہوگا اور کس کے لئے واقع ہوگا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : للکفرین کافروں پر یا کافروں کے لئے۔ ابو علی اور دوسرے علماء نے کہا، جب یہ سوال سے مشتق ہو تو اس کی اصل یہ ہے کہ وہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوگا، ایک مفعول پر اقتصار کرنا جائز ہے۔ جب ان دونوں میں سے ایک مفعول پر اقتصار ہو تو جائز ہوگا کہ حرف جار کے ساتھ اس کی طرف متعدی ہو تو تقدیر کلام یہ ہوگی : سائل نے نبی کریم ﷺ یا مسلمانوں سے واقع ہونے والے عذاب کے بارے میں سوال کیا۔ جس نے اسے ہمزہ کے بغیر پڑھا ہے تو اس کے نزدیک دو توج ہیں ہوں گی (1) یہ سوال کی لغت ہے، یہ قریش کی لغت ہے عرب کہتے ہی سال، یسال۔ جس سرح نال، ینال۔ خاف، یخاف ہے دوسری توجیہ یہ ہے کہ یہ سیلان سے مشتق ہے۔ حضرت ابن عباس کی قرات اس کی تائید کرتی ہے سال، سل۔ عبدالرحمٰن بن زید نے کہا، سال وادمن اودیۃ جھنم جسے سائل کہتے ہیں : یہ حضرت زید بن ثابت کا قول ہے۔ ثعلبی نے کہا، پہلا قول زیادہ اچھا ہے جس طرح اعشی ہمزہ کی تخفیف کرتے ہوئے کہتے ہیں :
سالتانی الطلاق اذ راتانی قل مالی قد جئتمانی بنکر
ان دونوں نے مجھ سے طلاق کا سوال کیا جب ان دونوں نے مجھے دیکھا کہ میرا مال کم ہو یا ہے تحقیق تم دونوں میرے پاس عجیب و غریب بات لائے ہو۔
صحاح میں ہے اخفش نے کہا، یہ جملہ بولا جاتا ہے خرجنا نسال عن فلان و بفلان بعض اوقات اس کے ہمزہ میں تخفیف کردی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے : سال یسال کہا :
ومرھق سال امتاعاب باء صدتہ
محل استدلال سال ہے مرھق اسے کہتے ہیں جس کو قتل کرنے کے لئے پکڑالیا گیا ہو۔ اصدہ ضمہ کے ساتھ ہے ایسی چھوٹی قمیص جسے کپڑے کے نیچے پہنا جاتا ہے۔ مہدوی نے کہا، جس نے سال پڑھا ہے اس کے لئے جائز ہے کہ وہ ہمزہ میں تخفیف کرے کہ اسے الف سے بدل دے یہ خلاف قیاس بدل ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ الف وائو سے بدلا ہوا ہو، یہ اس کی لغت کے مطباق ہے جو یہ کہے : سلت اسال، جس طرح خفت، اخاف ہے۔ نحاس نے کہا : سیبویہ نے سلت اسال حکایت کیا ہے جس طرح خفت اخاف ہے یہ سالت کے معنی میں ہے یہ شعر پڑھا :
سالت ھذیل رسول اللہ فاحشۃ ضلت ھذیل بما سالت ولم تصب (1)
ہذیل نے رسول اللہ ﷺ سے فحش سوال کیا ہذیل سوال کے باعث گمراہ ہوگیا اس نے صحیح راہ نہ پائی۔
یہ کہا جاتا ہے، یہ دونوں برابر ہیں۔ مہدوی نے کہا، یہ بھی جائز ہے کہ یہ یاء سے بدلا ہوا ہو یہ سال، یسیل سے مشتق ہے تو سایل جہنم میں ایک وادی ہوئی۔ پہلے قول کے مطاق سائل کا ہمزہ اصلی ہوگا اور دوسرے قول کے مطابق وائو کا بدل ہوگا اور تیسرے قول کے مطابق یاء کا بدل ہوگا۔ قشیری نے کہا، سائل مہموز ہے کیونکہ جب یہ ہمزہ کے ساتھ ہو تو یہ مہموز ہوگا اگر ہمزہ کے ساتھ نہ ہو تو بھی مہموز ہی ہوگا جس طرح قائل اور خئاف ہے کیونکہ جب فعل کے عین کلمہ میں علال کا قاعدہ جاری ہو تو اسم فاعل میں بھی اعلال کا قاعدہ جاری ہوتا ہے التباس کے خوف سے حذف کے ساتھ اعلال جاری نہیں ہوگا تو اسے ہمزہ کے ساتھ بدل دیا جائیگا تیرے لئے یہ جائز ہے کہ تو ہمزہ میں تخفیف کرے یہاں تک کہ وہ بین بین ہوجائے۔
واقع وہ عذاب کفار پر واقع ہوگا۔ یہ امر واضح کیا کہ یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوگا جو معارج والا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : سال سآئل بعذات واقع۔ پوچھا : کس کے لئے ؟ فرمایا : کافروں کے لئے (1) کا ذین میں جو لام ہے یہ واقع کے متعلق ہے۔ فراء نے کہا، تقدیر کلام یوں ہے بعذاب للکافرین واقع اس اعتبار سے واقع، عذاب کی صفت ہوگی۔ لام عذاب کے لئے داخل ہوا واقع کے لئے داخل نہیں ہوا، یعنی یہ عذاب آخرت میں کافروں کے لئے ہے۔ کوئی بھی ان سے اس عذاب کو دور نہیں کرسکے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لام، علی کے معنی میں ہے۔ معنی ہے کافروں پر واقع ہوگا۔ روایت بیان کی گئی ہے حضرت ابی کی قرأت میں یہ اسی طرح ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عن کے معنی میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کافروں سے اس عذاب کو دور کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ یعنی یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے جو معارج والا ہے۔ جو علو، فاضل درجات والا اور نعمتوں والا ہے، یہ حضر ابن عباس اور قتادہ کا قول ہے۔ معارج سے مراد مخلقو کے اوپر اس کے انعام کے مراتب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ عظمت و علاو الا ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد آسمان کے معارج ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ملائکہ کے معارج ہیں کیونکہ ملائکہ آسمان کی طرف بلند ہوتے ہیں تو اپنی صفت اس سے بیان کی (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : معارج سے مراد بالا خانے ہیں یعنی وہ بالا خانوں کا مالک ہے یعنی اس نے اپنے الویاء کے لئے جنت میں بالا خانے بتائے ہیں۔ عبداللہ نے ذی المعاریج پڑھا ہے۔ یوں کہا جاتا ہے : معرج معراج معارج اور معاریج جس طرح مفتاح اور مفاتیح ہے۔ معارج سے مراد درجات ہیں اسی سے معارج علیھا یظھرون۔ (زخرف) ہے۔ تعرج الملئکۃ ول اور ح وہ معارج میں بلند ہوتے ہیں (3) جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بنائے ہیں۔ حضرت ابن مسعود ان کے اصحاب، سلمی اور کسائی نے یعرج قرأت کی ہے ارادہ جمع کا کیا ہے کیونکہ ان کا قول ہے ملائکہ کو مذکر ذکر کرو، انہیں مونث نہ گردانوں۔ باقی قراء نے جماعت کا ارادہ کرتے ہوئے تاء کے ساتھ قرأت کی ہے۔ الروح سے مراد حضرت جبرائیل امین ہے (4) یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : نزل بہ الروح الامین۔ (الشعرائ) ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ ایک فرشتہ ہے جو بہت سی عظیم مخلوق ہے۔ ابو صالح نے کہا، یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے، لوگوں کی شکل و صورت پر ہے مگر وہ انسان نہیں۔ قبیصہ بن زویب نے کہا، یہ میت کی روح ہے جب اسے قبض کا جائے۔
الیہ اس مکان کی طرف جوان کا محل ہے، وہ آسمان میں ہے کیونکہ وہ اس کی نیکی اور کرامت کا محل ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قول کی طرح ہے انی ذاھب الی ربی (الصافات : 99) یعنی اس جگہ کی طرف جانے والا ہوں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، الیہ کی ضمیر سے مراد اس کا عرش ہے۔
Ayah 70:4فی یوم کان مقتدارہ خمسین الف سنۃ۔ وہب، کلبی اور محمد بن اسحاق نے کہا، ملائکہ کا عروج اس مکان کی طرف ہوگا جو ان کا محل ہے۔ اتنے وقت میں ہوگا کہ اگر کوئی اور اوپر چڑھے تو اس کو ایک ہزار سال کا عرصہ لگتا۔ وہب نے یہ بھی کہا، زمین کے پست ترین حصہ سے عرش تک پہچ اس ہزار سال کی مسافت ہے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ اس آیت اور سورة سجدہ کی آیت فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ (السجدہ : 5) میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ اس آیت میں زمین کی پست ترین جگہ سے اس کے امر کی انتہا اور آسمانوں سے اوپر اس کے امر کی انتہا میں پچاس ہزار سال کا عرصہ حائل ہے اور الم۔ تنزیل میں فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ میں مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے امر کا نزول آسمان دنیا سے زمین تک اور زمین سے آسمان تک ایک دن میں ہوتا ہے۔ وہ مقدار ایک ہزار سال ہے کیونکہ زمین اور آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔
مجاہد، حکم اور عکرمہ سے مروی ہے، یہ دنیا کی عمر کی مدت ہے جب سے اسے پیدا کیا گیا ہے اس وقت سے لے کر جب تک یہ باقی رہے گی وہ پچاس ہزار سال ہیں (1) کوئی نہیں جانتا کہ کتنا عرصہ گزر چکا ہے اور کتنا باقی ہے، صرف اللہ تعالیٰ کی ذات جاتنی ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : مراد یوم قیامت ہے یعنی جس میں وہ فیصلہ فرمائے گا۔ اگر مخلقو اس کی ذمہ دار ہوتی تو پچاس ہزار سال لگ جاتے، یہ قول عکرمہ، کلبی اور محمد بن کعب نے کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : میں اسی ساعت فارغ ہوجاتا ہوں۔ حضرت حسن بصری نے کہا، اس سے مراد یوم قیامت ہے لیکن یوم قیامت ضم نہ ہوگا (2) مراد حساب کے لئے ان کا کھڑا ہونا ہے۔ وہ دنی دنیا کے پچسا ہزار سال کے برابر ہے۔ پھر جنتی اور جہنمی اپنے اپنے ٹھکانوں میں قرار پا جائیں گے۔ یمان نے کہا : اس سے مراد یوم قیامت ہے (3) اس میں پچسا موطن ہیں۔ ہر موطن ہزار سال کا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : مراد یوم قیامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اسے پچسا ہزار سال کے برابر کردیا ہے، پھر انہیں ہمیشہ کیلئے جہنم میں داخل کیا جائے گا۔
میں کہتا ہوں : اس آیت کی تعبیر میں جو اقوال کئے گئے ہیں ان میں سے سب سے اچھا قول ہے، اس کی دلیل وہ روایت ہے جسے قاسم بن اصبغ نے حضرت ابو سعید خدری سے بیان کیا ہے۔ (4) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ “ میں نے پوچھا : یہ کتنا لمبا ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! وہ دن مومن پر خفیف ہوگا یہاں تک کہ دنیا میں جتنے وقت میں وہ فرض نماز پڑھا کرتا تھا اس سے زیادہ خفیف ہوگا۔ ‘ نحاس نے اس قول کی صحت پر اس روایت سے استدلال کیا ہے جسے سہیل نے اپنے باپ سے وہ حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں :” ہر وہ شخص جس نے اپنے مال کی زکوۃ نہ دی اللہ تعالیٰ اسے جہنم کا ساپن بنا دے گا جس کے ساتھ اس کی پیشانی، اس کی پشت اور پہلوئوں کو داغا جائے گا۔ ایسے دن میں جس کی مقدارپ چ اس ہزار سال ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے سے فارغ ہوجائے گا۔ “ (5) کہا : یہ اس امر پر دال ہے کہ مراد یوم قیامت ہے۔ ابراہیم تیمی نے کہا : مومن کے اوپر یہ دن اتنا ہی طویل ہوگا جس قدر ظہر اور عصر کا فاصلہ ہے۔ یہی معنی حضرت معاذ سے مروی ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں :” اللہ تعالیٰ تمہارا محاسبہ اتنے وقت میں کرے گا جتنا وقت دو نمازوں کے درمیان ہوتا ہے۔ “ (6) اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنا نام سریع الحساب۔ (البقرہ) اور اسرع الحسبین۔ (الانعام) رکھا ہے، ماوردی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بلکہ فراغت نصف دن میں ہوگی جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اصحب الجنۃ یومئذ خیر مستقراواحسن مقیلاً ۔ (الفرقان) یہ مخلقوات کے فہم کے حساب سے ہے ورنہ کوئی کام اللہ تعالیٰ کو کسی کام سے غافل نہیں کرتا جس طرح وہ ایک ساعت میں رزق عطا فرماتا ہے اسی طرح ایک ساعت میں حساب بھی کرلیتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ماخلقکم ولابعثکم الا کنفس واحدۃ (نعمان : 28 )
حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ان سے اس آیت کے بارے میں اور فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ (السجدہ) کے بارے میں پوچھا گیا۔ فرمایا : یہا ی سے دن ہیں اللہ تعالیٰ نے جن کا نام رکھا ہے وہ ان کے بارے میں خوب جانتا ہے کہ وہ کیا ہیں ؟ میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ میں کوئی ایسی بات کروں جن کے بارے میں آگاہ نہ ہوں۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : خمسین الف سنۃ کے الفاظ بطور تمثیل کے ہیں۔ یہ میدان محشر میں مدت کے لمبا ہونے کی پہچان کرائی گئی ہے جو انسان وہاں مشکلات پائے گا۔ عرب شدت کے ایام کی صفت طول سے بیان کرتے اور خوشی کے دنوں کی صفت قصر سے بیان کرتے۔ شاعر نے کہا :
ویم کظل الرمع قصر طولہ دم الزق عنا واصطفاق المزاھر
کتنے ہی دن ہیں جو نیزے کے سایہ کی طرح ہیں شراب اور بربط کے تاروں کے ہلنے نے ہم پر اس کی طوالت کو مختصر کردیا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام میں تقدیم و تاخیر ہے معنی ہے سائل نے ایسے عذاب کا سوال کیا جو کافروں پرو اقع ہونے والا تھا، اس کو روکنے والا کوئی نہیں (1) وہ ایسے دن میں ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ ملائکہ اور روح اس کی طرف عروج کرتے ہیں، یہی وہ قول ہے جس کو ہم نے اختیار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی توفیق دینے والی ہے۔
Ayahs 70:5–7فاصبر صبراً جمیلاً ۔ آپ ﷺ کی قوم جو آپ کو اذیتیں دے رہی ہے اس پر صبر کیجیے۔ صبر جمیل سے مراد یہ ہے ایسا صبر جس میں جزع نہ ہو اور نہ ہی غیر اللہ کے ہاں شکوہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ قوم میں مصیبت والا ہو مگر یہ معلمو نہ ہو کہ وہ کون ہے۔ معنی قریب قریب ہے۔ ابن زید نے کہا، یہ آیت سیف کے ساتھ منسوخ ہے۔
انھم یرونہ بعیداً ۔ مراد اہل مکہ ہیں۔ وہ جہنم کے عذاب کو بعید خیال کرتے ہیں یعنی وہ ہوگا ہی نہیں۔ ونرہ قریباً ۔ کیونکہ جو عذاب واقع ہونے والا ہوتا ہے وہ قریب ہی ہوتا ہے (2) اعمش نے کہا، وہ بعث کو بعید خیال کترے ہیں کیونکہ وہ اس پر ایمان نہیں رکھتے۔ گویا وہ اسے محال ہونے کے اعتبار سے بعید خیال کرتے ہیں جس طرح تو اس آدمی کو کہتا ہے جس سے بحث کرتا ہے، ھذا بعید لایکون۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اس دن کو بعید خیال کرتے ہیں اور ہم اسے قریب جانتے ہیں کیونکہ رویۃ موجود کے متعلق ہے۔ تیرے اس قول کی طرح ہے : الشافعی یری فی ھذہ المسئلۃ کذا وکذا۔
Ayah 70:8یوم تکون السمآء کالمھل۔ یوم میں عالم واقع ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی یقع بھم العذاب یوم۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا عامل نرئہ یا یبصضرونھم یا قریب سے بدل ہوگا۔ مھل سے مراد تیل کی تلچھٹ ہے (1) یہ حضرت ابن عباس اور دوسروں کا قول ہے۔ حضرت ابن مسعود نے کہا، سیسہ، تانبا یا چاندی میں سے جسے پگھلا یا گیا ہو (2) مجاہد نے کہا، کالمھل سے مراد خالص پیپ ہے جو خون اور کچلہو سے ملی پیپ سے بنی ہو۔ سورة دخان اور سورة کہف میں اس بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔
Ayahs 70:9–10وتکون الجبال کالعھن۔ پہاڑ ہوجائیں گے رگنی ہوئی اون کی طرح۔ اون کو عھن اس وقت کہتے ہیں جب وہ رنگی ہوئی ہو۔ حضرت حسن بصری نے کہا، پہاڑ سرخ اون کی طرح ہوجائیں گے۔ یہ اونوں میں سے کمزور ترین اون ہوتی ہے۔
اس معنی میں زہیر کا قول ہے :
کان فتات العھن فی کل منزل
فتاب کا معنی ٹکڑے۔ العھن سے مراد سرخ اون ہے۔ اس کی واحد عھنہ ہے، گویا سرخ اون کے ٹکڑے ہر جگہ ہیں۔
ایک قول یہ کیا گیا : العھن سے مراد رگن دار اون ہے۔ پہاڑوں کو اس سے تشبیہ دی جا رہی ہے کیونکہ پہاڑوں کے مختلف رنگ ہوتے ہیں معنی ہے پہاڑ سختی کے بعد نرم ہوجائیں گے اور اجتماع کے بعد بکھر جائیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، سب سے پہلے پہاڑ جمع شدہ ریت کی طرح ہو اجئیں گے، پھر دھنی ہوئی رنگدار اون کی طرح ہوجائیں گے، پھر بکھرے ہئے ذرات کی طرح ہوجائیں گے۔
ولایسئل حمیم حمیماً ۔ کوئی جگر دوست اپنے دوست سے حال نہیں پوچھے گا کیونکہ ہر ایک انسان اپنے ذاتی مسائل میں ہی مصروف ہوگا، یہ قتادہ کا قول ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لکل امری منھم یومئذ شان یعنیہ۔ (عبس) ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام یوں ہے لایسئال حمیم عن حمیم حرف جار کو حذف کردیا گیا اور فعل کو مفعول کے ساتھ ملا دیا گیا۔ عام قرأت یسئال یاء کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ شیبہ اور بزی نے عاصم سے ولایسئال قرأت نقل کی ہے کہ یہ مجہول کا صیغہ ہے یعنی کسی دوست سے اس کے دوست کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا اور کسی قریبی رشتہ دار سے اس کے قریبی رشتہ دار کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا بلکہ ہر ایک انسان سے اس کے اپنے علم کے بارے میں پوچھا جائے گا، اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کل نفس بما کسبت رھینۃ۔ (المدثر)
Ayahs 70:11–14یبصرونھم وہ انہیں دکھائی دیں گے قیامت میں کوئی مخلوق نہیں ہوگی مگر وہ اپنے ساتھی کے سامنے ہوگی (1) وہ جن ہو یا انسان ہو۔ انسا نپانے باپ، اپنے بھائی، اپنے قریبی رشتہ دار اور اپنے قبیلہ کو دیکھے گا، وہ اس کا حال نہیں پوچھے گا اور نہ اس سے بات کرے گا کیونکہ وہ اپنی ہی پریشانیوں میں مگن ہوگا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : وہ ایک گھڑی کے لئے ایک دوسرے سے متعارف ہوں گے (2) وہ اس گھڑی کے بعد ایک دوسرے سے متعارف نہیں ہوں گے۔ بعض روایات میں ہے : لوگ اپنی جان پہچان والے لوگوں سے بھاگیں گے کیونکہ انہیں خوف ہوگا کہ جو زیادتیاں انہوں نے کی ہیں ان کے بارے میں ان سے مطالبہ ہوگا۔ اس تعبیر کی بنا پر یبصرنھم کی ضمیر کفار کے لئے ہوگی اور ھم ضمیر اقرباء کے لئے ہوگی۔ مجاہد نے کہا : معنی ہے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ مومنوں کو کفار دکھائے گا۔ اس اعتبار سے وائو ضمیر مومنین کے لئے اور ھم ضمیر کفار کے لئے ہوگی۔ ابن زید نے کہا، وہ کفار کو جہنم میں دکھائے گا جنہوں نے انہیں دنیا میں گمراہ کیا تھا۔ یبصرونھم وائو ضمیر پیروکاروں کے لئے اور ھم ضمیر قائدین کے لئے ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ مظلوم کو ظالم اور قمتول کو قاتل دکھائے گا (3) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یبصرونھم کی ضمیر ملائکہ کی طرف لوٹ رہی ہے، یعنی فرشتے ان کے اقوال پہچانیں گے اور ہر فریق کو اس طرف ہانک کرلے جائیں گے جو ان کے مناسب ہے۔ یبصرونھم پر کلام مکمل ہوئی، پھر فرمایا : یود المجرم یعنی کافر تمنا کرے گا (4) لویفتدی من عذاب یومئذ جہنم کے عذاب سے بچنے کیلئے وہ چیز فدیہ کر دے جو دنیا میں اس کے لئے سب سے عزیز تھی (5) خواہ وہ اس کے قریبی رشتہ دار ہوں تو وہ اس پر قادر نہیں ہوگا، پھر ان کا ذکر کیا اور فرمایا : بینیہ۔ وصاحبتہ واحیہ۔ وفضلیتہ التی تو یہ۔ صاحبتہ سے مراد اس کی بیوی ہے۔ فضیلتہ سے مراد اس کا قبیلہ ہے جو اس کی مدد کرتا تھا، یہ مجاہد اور ابن زید کا قول ہے۔ امام مالک نے کہا، اس سے مراد اس کی ماں ہے جو اس کو پالتی تھی، ماوردی نے اسے بیان کیا ہے (6) اشہب نے اسے اس سے روایت کیا ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا، فصیلہ، قبیلہ سے چھوٹا ہوتا ہے (7) ثعلب نے کہا، وہ اس کے قریبی ابٓاء و اجداد ہیں۔ مبرد نے کہا، فصیلہ سے مراد جسم کے اعضاء کا ایک ٹکڑا ہے۔ یہ قبیلہ سے چھوٹا ہوتا ہے۔ انسان کی نسل کو فصیلہ کہتے ہیں۔ اسے اپنے بعض کے ساتھ تشبیہ دی۔ قبیلہ اور اس کے غیر میں گفتگو سورة حجرات میں گزر چکی ہے۔ یہاں ایک مسئلہ ہے : جب اس نے اپنا مال فصیلہ پر وقف کیا یا فصیلہ کے لئے وصیت کی جس نے عموم کا دعویٰ کیا اس نے اس لفظ کو عشیرہ پر معمول کیا جس نے اسے خصوص پر محمول کیا (1) اس نے اسے آباء پر محمول کیا، قریبی پھر قریبی۔ پہلی تعبیر نطق میں اکثر مراد لی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ تو یہ کا معنی ہے وہ اس سے ملاتا ہے اور اگر خوف ہو تو اسے امن دیتا ہے۔
ومن فی الارض جمیعاً وہ پسند کرتا ہے کہ اگر ان کو بطور فدیہ دینے سے نجات ملے تو وہ فدیہ کے طور پر دے دے ثم ینجیہ۔ پھر وہ فدیہ اسے خلاصی دے۔ یہاں اضمار ضروری ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وانہ لفس (الانعام : 121) اصل میں ان اکلہ لفسق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یود المجرم فاء کے ساتھ جواب کا تقاضا کرتا ہے جس طرح اس ارشاد میں ہے : ودوالوتد ھن فیدھنون۔ (القلم) اس میں فیدھنن کا جواب ہے۔ اس آیت میں جواب ثم ینجیہ۔ ہے کیونکہ یہ حروف عطف میں سے ہے۔ تقدیر یہ ہوگی یود المجرم لویفتدی فینجیہ الافتداء ہے۔
Ayahs 70:15–16کلا کلا کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ یہ حقا کے معنی میں ہوتا ہے اور لا کیم عنی میں بھی ہوتا ہے۔ یہاں یہ دونوں امور کا احتمال رکھتا ہے۔ جب یہ حقا کے معنی میں ہے تو کلام ینجیہ پر مکمل ہوگی اور جب یہ لا کے منی میں ہے تو کلام اسی پر مکمل ہوگی، یعنی فدیہ دینا اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات نہیں دے گا، پھر فرمایا : انھالطی۔ یعنی یہ جہنم ہے جس کی آگ بھڑک رہی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فانذرتکم ناراتالظی۔ (اللیل) لظی یہ تلظی سے مشتق ہے اور التظاء النار سے مراد آگ کا بھڑکنا ہے اور تلظیھا سے مراد بھی اس کا بھڑکنا ہے۔ اس کی اصل لفظ ہے یعنی عذبا کے دائمی ہنے کی وجہ سے دائمی ہوگی اس کی ایک ظاء کو یاء سے بدل دیا تو لطی باقی رہ گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جہنم کے طقبقات میں سے یہ دوسرا گڑھا ہے۔ یہ اسم مونث معرفہ ہے، اسلئے یہ غیر منصرف ہوگا۔
نزاعۃ للشوی۔ ابو جعفر، شیبہ، نافع اور عاصم نے ابوبکر کی روایت میں اعمش، ابوعمرو، حمزہ اور کسائی نے نزاعۃ کو مرفوع پڑھا ہے۔ ابو عمرو نے عاصم سے نزاعۃ کو مصنوب نقل کیا ہے جس نے اس لفظ کو رفع دیا ہے اس کے نزدیک اس کی پانچ وجوہ ہو سکتی ہیں۔ (1) لظی کو ان کی خبر بنایا جائے اور نزاعۃ سے پہلے ہی ضمیر مبتدا محذوف ہو۔ اس صورت میں لظی پر وقف مستحسن ہوگا۔ (2) لظفی اور نزاعۃ دونوں ان کی خبریں ہوں جس طرح تو کہتا ہے، انہ خلق مخاصم (3) نزاعۃ لظی کا بدل ہو اور لظی ان کی خبر ہو۔ (4) لظی ان کے اسم سے بدل ہو اور نزاعۃ ان کی خبر ہو۔ (5) انھا کی ضمیر ضمیر قصہ ہو لظی مبتدا ہو اور نزاعۃ مبتدا کی خبر ہو اور جملہ ان کی خبر ہو۔ تقدیر کلام یہ ہوگی ان القصہ والخبرلظی، نزاعۃ للشوی۔ جس نے نزاعۃ کو نصب دی اس کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ لظی پر وقف کرے اور نزاعۃ کو لظی سے الگ کر کے نصب دے کیونکہ یہ نکرہ ہے جو معرفہ کے ساتھ متصل ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ حال موکدہ ہونے کی بنا پر منصوب ہو جس طرح فرمایا : وھو الحق مصدقاً (البقرہ : 91) یہ بھی جائز ہے کہ وہ اس معنی کی بنا منصوب ہو انھا تتلظی نزاعۃ یعنی اس حال میں کہ وہ چمڑے کو ادھیڑنے والی ہے۔ اس میں عامل وہ معنی ہے جس پر کلام دلالت کرتی ہے وہ تلظی ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ حال و اس بنا پر کہ یہ مکذبین کی حالت بیان کر رہا ہو جبکہ ان کے حال کی خبر دی گئی۔ یہ بھی جائز ہے کہ ماقبل سے قطع کرنے کے ساتھ اسے نصب دی گئی ہو جس طرح تو کہتا ہے : مررت بزید العاقل الفاضل نصب کی بھی یہ پانچ صورتیں ہیں۔ شوی یہ شواق کی کی جم ہے۔ اس سے مراد سر کی جلد ہے۔ اعشی نے کہا :
قالت قتیلۃ مالہ قد جللت شیباً شواتہ (1)
قتیلہ نے کہا، اسے کیا ہوگیا ہے اس کے سر کی چمڑی سفید بالوں کی وجہ سے معزز ہوگئی ہے۔
صحاح میں ہے : شوی یہ شواۃ کی جمع ہے جس کا معنی سر کی چمڑی ہے (2) شوی سے مراد انسانوں کے دونوں ہاتھ، دونوں پائوں اور سر ہیں اور ہر وہ عضو جس پر زخم لگنے سے قتل واقع نہ ہو۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : رماہ فاشواہ اس نے اسے تیر مارا اور ایسی جگہ نہ لگا جو اس کو قتل کردیتا ہے۔ ہلذی نے کہا :
فان من القول التی لاشوی لھا
بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو خطا نہیں جاتیں بلکہ ٹاگرٹ پر جا لگتی ہیں اورق تل کر کے رکھ دیتی ہیں۔ اعشی نے کہا :
قالت قتبلۃ مالہ قد جللت شیباً شواتہ (3)
ابوعبید نے کہا، ابو خطاب اخفش نے ابو عمرو بن علاء کے سامنے یہ شعر پڑھا تو ابو عمر نے اسے کہا، تو نے اس میں تصحیف کی ہے۔ یہ شواتہ کی جگہ سراقہ ہے۔ ابو خطاب خاموش ہوگیا۔ پھر اس نے ہمیں کہا بلکہ اس نے اس میں تصحیف کی ہے۔ بیشک اصل میں شواتہ ہی ہے۔ شوی الفرس سے مراد اس کے پائوں ہیں کیونکہ یہ کہا جاتا ہے : عبل الشوی مضبوط پائوں والا۔ یہ لفظ سر کے لئے نہیں بولا جاتا کیونکہ انہوں نے گھوڑے کی صفت یوں بیان کی : اسالۃ الخدین وعتیق الوجہ اس سے مراد اس کی رقت ہے۔ شوی سے مراد ادنیٰ درجے کا مال ہے۔ شوی سے مراد ایسی شی ہے جو کم درجہ کی اور تھوڑی ہو۔ ثابت بنانی اور حضتر حسن بصری نے کہا نزاعۃ للشویٰ سے مراد ہے چہرے کی عزت والی جگہیں کو بھون دینے والی (4) ابوالعالیہ نے کہا : شوی سے مراد چہرے کے محاسن ہیں۔ قتادہ نے کہا : خلقت کے مکارم اور اس کی اطراف ہیں۔ ضحاک نے کہا : وہ گوشت اور جلد کو ہڈیوں سے الگ کر دے گی یہاں تک ان میں سے کوئی چیز نہ چھوڑے گی۔ کسائی نے کہا، اس سے مراد جوڑ ہیں۔ ایک امام نے کہا، اس سے مراد چاروں پائے اور چمڑا ہے۔
ابو صالح نے کہا، ہاتھوں اور پائوں کے اطراف (5) ۔ شاعر نے کہا :
اذا نظرث عرفت الفخر منھا وعینیھا ولم تعرف شواھا
جب تو دیکھے گا تو اس سے اور اس کی آنکھوں سے فخر پہچان لے گا اور تو اس کی اطراف کو نہیں پہچانے گا۔
حضرت حسن بصری نے کہا : شوی کا معنی کھو پڑی ہے۔ (1)
Ayah 70:17تدعوا من ادبروتولی۔ دنیا میں جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کی طاعت سے رو گردانی کی اور ایمان سے پھر لظی اسے اپنی طرف کھینچے گی۔ اس کا بلاتا یوں ہوگا، اے مشرک ! میری طرف آ۔ اے کافر ! میری طرف آ۔ حضر ابن عباس نے کہا : وہ فصیح زبان سے کافروں اور منفاقوں کو بلائے گی۔ اے کافر ! میرے طرف آ۔ ایم نافق میرے طرف آ۔ پھر وہ انہیں یوں اچک لے گی جس طرح پرندہ دانے کو اچک لیتا ہے۔ ثعلب نے کہا، قدعو کا معنی ہلاک کرنا ہے۔ عرب کہتے ہیں : دعا ک اللہ اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کر دے۔ خلیل نے کہا، یہ تعالوا کی طرح دعوت نہیں ہوگی بلکہ اس کی انہیں دعوت یہ ہوگی کہ وہ ان کو عذاب دینے پر قادر ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، داعی جہنم کے داور غے ہوں گے۔ ان کی دعوت کو جہنم کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ضرب المثل ہے یعنی جس نے پیٹھ پھیری اور اس سے روگردانی کی اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا، گویا جہنم ان کو بلانے والی ہے (2) ، اسی کی مثل شاعر کا قول ہے :
ولقد ھبطنا الودیین فواد باً یدعو الانیس بہ العضیض الا بکم
ہم دو وادیوں میں اترے ان میں سے ایک وادی ایسی تھی کہ مکھی اس سے انس رکھنے والے کو دعوت دے رہی تھی۔ الخصیض الابکم سے مراد مکھی ہے، وہ دعوت نہیں دیتی اس کے پروں کی بھبھناہٹ نے اس پر آگاہ کیا اور اس کی طرف دعوت دی۔
میں کہتا ہوں : پہلا قول حقیقت پر مبنی ہے جس کی وضاحت ایٓات قرآنیہ اور اخبار صحیحہ سے گزر چکی ہے۔ قشیری نے کہا : لظی کی دعوت اس طرح ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اس میں زندگی پیدا کر دے گا جب و عورت دے گی قیامت کے روز خارق للعادۃ امور کا وقوع بہت زیادہ ہے۔
Ayah 70:18وجمع فاوعی۔ مال کو جمع کیا اور اسے برتن میں محفوظ کیا اور اللہ تعالیٰ کے حق کو روک لیا پس وہ جمع کرنے والے بھی ہیں اور منع کرنے والے بھی ہیں۔ حکم نے کہا : عبداللہ بن حکیم اپنے تھیلے کا منہ نہ باندھتے تھے وہ کہتے میں نے اللہ تعالیٰ کو ارشاد فرماتے ہئوے سنا وجمع فاوعی
Ayahs 70:19–21ان الانسان خلق ھلوعا۔ یاں انسان سیم راد کافر ہے (و) یہ ضحاک سے مروی ہے۔ لغت میں ھدع سے مراد شدید حرص بری طرح جزع فزع اور فحش تریں اسلوب (4) اسی طرح قتادہ، مجاہد اور دوسرے علماء کا قول ہے اس کا باب یوں چلتا ہے ھدع یھدع فھو ھلع وھلوع یہ کثرت کے معنی پر دال ہے اس کا معنی ہے وہ خیر و شر پر صبر کرتا یہاں تک دونوں صورتوں میں ایسا کام کرتا ہے جو مناسب نہیں ہوتا ۔ عکرمہ نے کہا، اس سے مراد اندرونگی تنگی اور غم ہے (1) ضحاک نے کہا، اس سے مراد وہ شخص ہے جو سیر نہ ہوتا ہو۔ منوع سے مراد وہ شخص ہے جو مال پائے تو اللہ تعالیٰ کا حق روک لے۔ ابن کیسان نے کہا : اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا وہ اس چیز کو پسند کرتا ہو جو اسے خوش اور راضی کرے اور اس سے دور بھگاتا ہے جو اسے ناپسند ہو اور اس کو ناراض کرے (2) پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو پابند کیا کہ جس چیز کو وہ پسند کرتا ہے اس کو خرچ کرے اور جس کو ناپسند کرتا ہے اس پر صبر کرے۔ ابوعبید نے کہا، ھلوع وہ شخص ہوتا ہے جب اسے خیر پہنچتی ہے تو وہ شکر بجا نہیں لاتا اور جب تکلیف پہنچتی ہے تو صبر نہیں کرتا، یہ ثعلب کا قول ہے۔ ثعلب نے یہ بھی کہا : اللہ تعالیٰ نے ھلوع کی تفسیر بیان یک ہے وہ وہ شخص ہے جب اسے شر پہنچتی ہے تو شدید جزع قزع کا اظہار کرتا ہے اور جب اسے بھلائی پہنچتی ہے تو وہ بخل سے کام لیتا ہے اور لوگوں سے اسے روک لیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” بندے کو جو عطا کیا گیا ہے ان میں سے سب سے برا ایسا بخل ہے جو بےقرار کرنے والا ہو اور ایسی بزدلی ہے جو دل نکالنے والی ہو۔ “ (3) عرب کہتے ہیں : ناقۃ ھلواعۃ وھلواع۔ جب وہ تیز رفتار ہو اور ہلکی ہو۔ شاعر نے کہا :
صکاء ذعلبۃ اذا استدبر تھا حرج اذا استقبل تھا ھلواع
صکاء یہ اونٹنی کا صوف نہیں بلکہ شتر مرغ کا صوف ہے اونٹنی کو شتر مرغ سے تشبیہ دی ذعلب اور ذعلبہ سے مراد تیز رفتار اونٹنی ہے، ھلواع بھی تیزر فتار اونٹنی کے لئے بولا گیا ہے۔
جزوعا اور منوعاً دونوں ھلوع کی صفت ہیں اس شرط پر کہ یہ دونوں اذا سے ارادہ میں مقدم ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے :
یہ کان مضمرہ کی خبر ہیں۔
Ayahs 70:22–23الا المصلین۔ یہ اس پر دال ہے کہ اس سے ماقبل کلام کفار کے بارے میں ہے۔ انسان اسم جنس ہے اس کی دلیل استثناء ہے جو اس کے بعد ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان الانسان لفی خسر۔ الا الذین امنوا (العصر) نخعی نے کہا، مصلین سے مراد فرض نماز ادا کرن والے ہیں۔ حضرت ابن مسعود نے کہا، جو نماز کو وقت پر ادا کرتے ہیں جاں تک اس کو ترک کرنے کا تعلق ہے تو یہ کفر ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد صحابہ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد عام مومن ہیں کیونکہ وہ زیادہ جزع فزع پر غالب آجاتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے رب پر اعتماد اور یقین ہوتا ہے الذین ھم علی صلاتھم دا آئمون۔ یعنی اپنے وقت پر نمازوں کو ادا کرتے ہیں۔ عقبہ بن عامر نے کہا : یہی وہ لوگ ہیں جب نماز ادا کرتے ہیں تو دائیں اور بائیں متوجہ نہیں ہوتے۔ دائم کا معنی ساکن ہے اسی معنی میں یہ ارشاد ہے : نھی عن البول فی الماء الدائم کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے منع کیا۔ ابن جریج اور حضرت حسن بصری نے کہا، مراد وہ لوگ ہیں جو نقلی نماز زیادہ پڑھتے ہیں (2)
Ayahs 70:24–33والذین فی اموالھم حق معلوم۔ اس سے مراد فرض زکوۃ ہے، یہ قتادہ اور ابن سیرین کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : زکوۃ کے علاوہ مراد ہے۔ علی بن ابی طلحہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے ہا، صلہ رحمی کرنا اور بوجھ اٹھانا ہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ حق کی صفت معلمو سے لگائی ہے۔ زکوۃ کے علاوہ معلوم نہیں، وہ تو ضرورت کے مطباق ہوتا ہے جبکہ اس میں کمی و بیشی ہوتی رہتی ہے۔ للسآئل و المحروم۔ سورة زاریات میں یہ بات پہلے گزر چیک ہے۔ والذین یصدقون بیوم الذین۔ یعنی یوم جزاء مراد قیامت کا دن ہے۔ اس بارے میں بحث سورة فاتحہ میں گزر چکی ہے۔ وہ الذین ھم من عذاب ربھم مشفقون۔ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں۔ ان عذاب ربھم غیر مامون۔ حضرت ابن عباس نے کہ، جس نے شرک کیا اور اللہ تعالیٰ کے انبیاء کو جھٹلایا وہ اس کے عذاب سے امن میں نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : کوئی بھی عذاب سے امن میں نہیں بلکہ ہر کسی پر واجب ہے کہ اس سے ڈرے۔ والذین ھم لفروجھم حفظون۔ الا علی آزواجھم اوماملکت ایمانھم فانم غیر ملومنین۔ فمن ابتغی ورآء ذلک فائولئک ھم العدون۔ اس بارے میں گفتگو سورة مومن کی آیت قد افلح المومنون۔ میں گزرچ کی ہے۔ والذین ھم لا منتھم وعھدھم راعون۔ اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ والذین ھم یشھدتھم قآئمون۔ خواہ وہ گواہی انہیں قریبی رشتہ دار یا دور کے رشتہ دار کے خلفا دینی پڑے۔ وہ حاکم کے پاس گواہی دیتے ہیں (1) وہ اسے چھپاتے نہیں اور نہ ہی اس میں تبدیلی کرتے ہیں۔ شہادت اور اس کے احکام کے بارے میں گفتگو سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، گواہیان یہ ہیں ان اللہ واحدہ لاشریک لہ وان محمد عبدہ و رسولہ لامنتھم واحد کا صیغہ بھی پڑھا گیا ہے، یہ ابن کثیر اور ابن محیصن کی قرأت ہے۔ الامنۃ اسم جنس ہے۔ اس میں دین کی امانات داخل ہوجاتی ہیں۔ شرعی احکام بھی اماتنیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے بندوں کو امین بنایا ہے۔ اس میں بندوں کی امانتیں بھی داخل ہوجاتی ہیں۔ یہ سب سورة نساء میں گزر چکا ہے۔ عباس دوری نے ابو عمرو اور یعقوب سے بشاھداتھم جمع کا صیغہ پڑھا ہے۔ باقی قرئا نے بشھادتم واحد کا صیغہ پڑھا ہے۔ مصدر بعض اوقات مفرد کا معنی دیتا ہے اگرچہ جمع کے صیغہ کی طرف مضاف ہو جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ان انکر الاصوات لصوت الخمیر۔ (لقمان) فراء نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان و اقیموا الشھادۃ للہ (الطلاق : 2) بشھدتھم واحد کے صیغہ پر دال ہے۔
Ayahs 70:34–35والذین ھم علی صلاتھم یحافظون۔ قتادہ نے کہا، علی صلاتھم سے مراد نماز کے وضو، اس کے رکوع اور اس کے سجدہ کی محخافظت کرتے ہیں۔ ابن جریج نے کہا، مراد نفلی نماز ہے۔ سورة مومنون میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ دوام مخافظت کے خلاف ہے اس پر ان کے دوام کا مطلب ہے کہ وہ اس کی ادائیگی پر محافظت کرتے ہیں اس میں کوئی نقص واقع نہیں کرتے اور اس کی ادائیگی میں غفلت کر کے کسی اور شغل میں مصروف نہیں ہوتے۔ اس پر محافظت کا مطلب ہے اس کا وضو اچھی طرح کرتے ہیں، وقت پر نماز ادا کرتے ہیں، اس کے ارکان کو قائم کرتے ہیں اور اس کی سنتوں اور آداب کو مکمل کرتے ہیں اور اس کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں۔ ضائع ہونے کی صورت یہ ہے کہ وہ گناہوں کا ارتکاب کریں۔ دوام نفس نماز کی طرف راجع ہے اور محافظت کا تعلق اس کے احوال سے ہے اولئک فی جنت مکرمون۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کی کرامتوں کے ساتھ انہیں عزت دی ہے۔
Ayah 70:36فمال الذین کفروا قبلک مھطعین۔ احفش نے کہا (2) مھطعین کا معین ہے جلدی جلدی آتے ہیں۔ ایک شاعر نے کہا :
شاعر نے کہا
بمکۃ اھلھا ولقد اراھم الیہ مھطعین الی السماع
مکہ مکرمہ میں اس کے مکین ہیں، میں انہیں دیکھتا ہوں کہ وہ بات سننے کے لئے جلدی کرتے ہیں۔ معنی ہے انہیں کیا ہوگیا ہے وہ آپ ﷺ کی طرف جلدی کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کے اردگرد بیٹھتے ہیں اور آپ ﷺ انہیں جو حکم دیتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں کیا گیا ہے۔ وہ آپ ﷺ کو جھٹلانے میں جلدی کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کفار کو کیا ہوگیا وہ آپ ﷺ کی بات سننے میں جلدی کرتے ہیں تاکہ وہ آپ ﷺ کی عیب جوئی کریں اور آپ ﷺ کا مذاق اڑائیں۔ عطیہ نے کہا : مھطعین کا معنی ہے وہ اعراض کرتے ہیں
کلبی نے کہا، وہ تعجب سے آپ ﷺ کو دیکھتے ہیں۔ قتادہ نے کہا، وہ قصد کرتے ہیں۔ معنی قریب قریب ہے۔ انہیں کیا ہوگیا ہے وہ آپ ﷺ کی طرف جلدی کرتے ہیں، اس حال میں کہ وہ اپنی گردنوں کو لمبا کئے ہوتے ہیں اور لگاتار آپ ﷺ کو دیکھے جا رہے ہیں۔ یہ دشمن کی نظر ہوتی ہے۔ یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ یہ آیت استہزاء کرنے والے منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر تو ہوتے مگر ایمان نہ لاتے قبلک کا معنی ہے آپ ﷺ کی طرف۔
Ayahs 70:37–39عن الیمین وعن الشمال عزین۔ وہنبی کریم ﷺ کی دائیں اور بائیں جانب سے حلقے بناتے ہوئے اور جماعت ور جماعت۔ عزین کا معنی ہے مختلف جماعتیں، یہ ابو عبید کا قول ہے۔ اسی معنی میں نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے، آپ ﷺ اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے، آپ ﷺ نے انہیں مختلف حلقے بناتے ہوئے دیکھا۔ فرمایا : مالی اراکم عزین الاتصفون کما تصف الملائکۃ عند ربھا، قالوا وکیف تصف اللائ کہ عند ربھا ؟ قال : یتمون الصفوف الائون ویتراضون فی الصف (1) امام مسلم اور دوسرے علماء نے اسے روایت کیا ہے۔
فرمایا : کیا وجہ ہے میں تمہیں مختلف حلقے بناتے ہوئے دیکھتا ہوں کیا تم اس طرح صفیں نہیں بنائو گے جس طرح فرشتے اپنے رب کے ہاں صفیں بناتے ہیں صحابہ نے عرض کیا : فرشتے اپنے رب کے ہاں کیسے صفیں بناتے ہیں ؟ فرمایا : وہ پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے سے مل کر بیٹھتے ہیں۔ شاعر نے کہا :
ترانا عندہ واللیل داج علی ابوابہ حلقاً عزینا (2)
تو ہمیں اس کے ہاں اس کے دروازوں پر مختلف حلقوں کی صورت میں دیکھتا ہے جبکہ رات انتہائی تاریک ہوتی ہے۔
راعی نے کہا :
اخلیفۃ الرحمٰن ان عشیرتی اممی سراتھم الیک عزینا
اے رحمٰن کے خلیفہ ! بیشک میرا خاندان گروہ گروہ تیری طرف راتوں کو چلتے ہوئے آتا ہے۔
کمیت نے کہا۔
ونحن وجندل باغ ترکنا کتائب جندل شتی عزینا
ہم نے جندل کے لشکروں کو مختلف گروہوں کی صورت میں چھوڑا جبکہ جندل بغاوت کرنے والا تھا۔
عزین کا واحد عزۃ ہے۔ وائو، نون کے ساتھ اس کی جمع بنائی گئی تاکہ اس سے جو حرف حذف ہے اس کا یہ عرض بنا جائے۔ اصل میں یہ عزھۃ تھا۔ اسی میں وہی تعلیل جاری ہوگی جو سنۃ میں جاری ہوئی، اس کے نزدیک جس نے اس کی اصل سنھۃ بنائی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کی اصل عزوۃ ہے۔ یہ عزاہ، یعزوہ سے مشتق ہے جب وہ اسے کسی اور کی طرف منسوب کرے۔ ان جماعتوں میں سے ہر ایک دوسری کی طرف منسوب ہے۔ یہاں جو حرف حذف ہے وہ واو ہے۔ صحاح میں اس طرح ہے عزۃ سے مراد لوگوں کا ایک فرقہ ہے، ھاء، یاء کا عوض ہے۔ اس کی جمع عزی، فعل کے وزن پر ہے۔ اس کی جمع عزون اور عزون کے وزن پر آتی ہے۔ انہوں نے اس کی جمع عزات نہیں بنائی جس طرح انہوں نے ثبات کہی۔ اصمعی نے کہا : یہ جملہ بولا جاتا ہے فی الدارعزون یعنی لوگوں کی مختلف قسمیں ہیں۔ عن الیمیمن و عن الشمال یہ مھطعین کے متعلق ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ عزین کے متعلق ہو جس طرح تیرا قول ہے : اخذتہ عن زید۔
ایطمع کل امری منھم ان یدخل جنۃ نعیم۔ مفسرین نے کہا : مشرک نبی کریم ﷺ کے اردگرد جمع ہوجاتے، آپ ﷺ کی گفتگو سنتے، اس کو جھٹلاتے، آپ پر جھوٹ بولتے اور آپ ﷺ کے صحابہ سے استہزاء کرتے اور کہتے : اگر یہ جنت میں داخل ہوئے تو ہم ان سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے، اگر انہیں جنت کی کوئی چیز دی گی تو ہمیں ان سے زیادہ چیز دی جائے گی۔ تو یہ آیت ایطمع نازل ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : استہزاء کرنے والوں کے پانچ گروہ تھے۔
حضرت حسن بصری، حضرت طلحہ بن مصرف اور اعرج نے ان یدخل قرأت کی ہے، یاء پر زبر اور خاء پر پیش ہے۔ یہ معروف کا صیغہ ہے۔ مفضل نے اسے عاصم سے روایت کیا ہے باقی نے اسے مجہول کا صیغہ پڑھا ہے۔
کلا وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے پھر نئے سرے سے کلام شروع کی اور فرمایا : ان خلقنھم مما یعلمون۔ یعنی وہ جانتے ہیں کہ انہیں ایک نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کے لوتھڑا سے پیدا کیا گیا ہے جس طرح اس کی ساری جنس کو پیدا کیا گیا۔ انہیں کوئی فضیلت نہیں جس کے باعث وہ جنت کے مستحق بنیں، جنت کا مستحق تو ایمان، عمل صالح اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بنا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ مسلمان فقراء کا مذاق اڑایا کرتے اور ان پر تکبر کرتے تو فرمایا : انا خلقنھم مما یعلمون۔ انہیں تکبر کرنا مناسب نہیں قتادہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : اے انسان ! تو ایک گندے قطرہ سے پیدا کیا گیا ہے : تو اللہ سے ڈر۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ مطرف بن عبداللہ بن شخیر نے مہلب بن ابی صفرہ کو خز (ریشم) کی چادر اور جبہ میں اکڑ کر چلتے ہوئے دیکھا تو اسے فرمایا : اے اللہ کے بندے ! یہ کیسی چال ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ؟ مہلب نے مطرف سے کہا : کیا تو مجھے پہچانتا ہے ؟ فرمایا : ہاں تیرا آغاز گندے نطفہ سے ہے اور تیری انتہاء بدبو دار لاشہ ہے، اس کے درمیان تو غلاظت کو اٹھائے ہوئے ہے۔ مہلب چلا گیا اور اس کو ترک کردیا۔ محمود وراق نے اسی مضمون کو اشعار میں بیان کیا ہے :
عجبت من معجب بصورتہ وکان فی الاصل نطفۃ مذرۃ
وھوغذا بعد حسن صورتہ یصیر فی اللحد جیفۃ قذرۃ
وھو علی تیھہ ونخوتہ مابین ثوبیہ یحمل العذرۃ
میں اس آدمی پر متعجب ہوا جس کی صورت پر تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اصل میں وہ ایک گندا نطفہ ہے۔ وہ کل حسن صورت کے باوجود و لحد میں بدبودار لاشہ ہوگا۔ وہ اپنے تکبر اور نخوت کے باوجود اپنے کپڑوں کے درمیان غلاظت اٹھائے ہوئے ہوتا ہے۔ ایک شاعر نے کہا :
ھل فی ابن آدم غیر الراس مکرمۃ وھو بخمس من الاوساخ مضروب
انف یسیل واذن ریحھا سھک والعین مرمصۃ والشغر ملھوب
یابن التراب وما کول التراب غداً قصر فانک ماکول و مشروب
کیا سر کے علاوہ انسان میں عزت والی شی ہے جبکہ اس میں پانچ میل والی چیزیں ہیں۔ ناک بہتی ہے، کان کی بو ناپسندیدہ ہے، آنکھ میں کیچڑ ہوتا ہے اور دانتوں پر میل ہے۔ اے مٹی سے جنم لینے والے ! اور کل جس کو مٹی کھا جائے گی ! اپنے آپ کو پست رکھ تجھے کھلایا جاتا ہے اور پلایا جاتا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اس مقصد کے لئے جسے وہ جانتے ہیں۔ وہ امر، نہی، ثواب اور عقاب ہے جس طرح شاعر کے قول میں من اجلیہ ہے، یہ اعشی کا قول ہے : ازمعت من آل لیلی ابتکارا کیا تو نے آل لیلی کے لئے جلدی کا قصد کیا ہے۔