Explained with ayahs 8–18
عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل مھل کے ہوجائے، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہوجائے، اور پہاڑ ایسے ہوجائیں جیسے دھنی ہوئی اون، یہی فرمان اور جگہ ہے آیت (وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ ۙ) 70۔ المعارج :9) پھر فرماتا ہے کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
سورة الْمَعَارِج 11
یعنی ایسا نہ ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں رہے ہوں گے اس لیے نہ پوچھیں گے نہیں، ہر ایک آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں گا کہ دوسرے پر کیا بن رہی ہے اور پھر وہ اسے نہ پوچھے گا، کیونکہ اس کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
وَلَا يَسْـَٔــلُ حَمِيْمٌ حَمِـيْمًا ښ يُّبَصَّرُوْنَهُم حمیم کے معنی گہرے اور مخلص دوست کے ہیں قیامت کی شدت کا بیان ہے کہ اس روز کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا، مدد کرنا تو درکنار، آگے یہ بھی بتلادیا کہ یہ نہ پوچھنا اس لئے نہیں کہ وہ دوست سامنے نہیں ہوگا بلکہ قدرت الٰہیہ ان سب کو ایک دوسرے کے سامنے بھی کر دے گی، مگر ہر شخص نفسی نفسی کے عالم میں ہوگا کوئی کسنی دوسرے کی تکلیف و راحت کی طرف التفات نہ کرسکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
یعنی اس دن وہ ایک دوسرے سے اوجھل نہیں ہوں گے کہ ان کے اندر حمیت و حمایت کا جذبہ نہ ابھرے۔ بلکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے اور یہ ساری مصیبت ان پر ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے گزرے گی لیکن وقت ایسی نفسی نفسی کا ہو گا کہ کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو گا۔ سورۂ عبس آیت ۳۴ میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے۔ وہاں، ان شاء اللہ، اس کی پوری وضاحت ہو جائے گی۔
’یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ بِبَنِیْہِ ۵ وَصَاحِبَتِہِ وَأَخِیْہِ ۵ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤِْیْہِ ۵ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنۡجِیْہِ‘۔ اس دن کا عذاب ایسا ہولناک ہو گا کہ گنہگار متمنی ہوں گے کہ کاش!…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
11۔ 1 لیکن سب کو اپنی اپنی پڑی ہوگی، اس لئے تعارف اور شناخت کے باوجود ایک دوسرے کو نہیں پوچھیں گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
3: اس دن سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک قیامت کا دن ہے جو کافروں کو حساب و کتاب کی سختی کی وجہ سے پچاس ہزار سال کا محسوس ہوگا، ان حضرات کا کہنا ہے کہ اسی دن کو سورة تنزیل السجدہ : 5 میں ایک ہزار سال کے برابر قرار دیا گیا ہے، وہ اس لیے کہ حساب و کتاب کی سختی کی نوعیت کے لحاظ سے کسی کو وہ ایک ہزار سال کا معلوم ہوگا، اور جس کسی کو اور زیادہ سختی اٹھانی ہوگی، اسے پچاس ہزار سال کا معلوم ہوگا۔ لیکن اس آیت کی ایک دوسری تفسیر یہ ہے کہ کفار کے سامنے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے کفر کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا یا آخرت میں عذاب آئے گا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ اتنے دن گذر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
ولا یسئل ............................ ینجیہ (41) (07 : 01 تا 41) ” کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ اس کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کو ، اپنی بیوی کو ، اپنے بھائی کو ، اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا ، اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دے دے اور یہ تدبیرا سے نجات دلادے “۔
لوگ اس دن نہایت پریشان ہوں گے اور ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی۔ کوئی شخص اپنے سوا کسی دوسرے کی طرف ملتفت ہونے کا موقعہ نہ پائے گا۔ اور اس کے شعور میں کسی غیر کے لئے کوئی وسعت نہ ہوگی ، جگری دوست بھی جگری دوست کو نہ پوچھے گا ، ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
11 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " سب نظر آجائیں گے۔ یعنی دوستی ان کو نکمی تھی۔ " ایک دوسرے کا حال دیکھے گا۔ مگر کچھ مدد و حمایت نہ کرسکے گا۔ ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
آیات 1 1 تا 14{ یُّــبَصَّرُوْنَہُمْ ط } ”وہ سب انہیں دکھائے جائیں گے۔“
وہاں مشکل میں پھنسے ہوئے ہر شخص کو اس کے دوست احباب ‘ والدین ‘ بیوی بچے غرض اس کے سب پیارے دکھا بھی دیے جائیں گے تاکہ اس کی حسرت میں مزید اضافہ ہو۔
{ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَـوْ یَـفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍم بِبَنِیْہِ - وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ - وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُـئْوِیْہِ - وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًالا ثُمَّ یُنْجِیْہِ۔ } ”اس روز مجرم چاہے گا کہ کاش وہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے فدیے میں دے دے اپنے بیٹوں کو ‘ اور اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو ‘ اور اپنے کنبے کو جو اسے پناہ دیتا تھا ‘ اور روئے زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
8 دکھائے اس لیے جائیں گے کہ بھلا آج بھی وہ ایک دوسرے کو اپنی ہمدردیاں جتاتے ہیں یا نہیں ؟ جیسا کہ دنیا میں جتایا کرتے تھے۔ مگر اس دن یہ دوست ایک دوسرے سے بات تک کرنے کے روا دار نہ ہونگے۔ ہر ایک کو اپنی ہی فکر دامنگیر ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
6۔ یعنی ایسی نفسی نفسی اس وقت پڑی ہوگی کہ غیر تو کیا کام آئیں گے خود اپنے قریبی بھی بات تک نہ پوچھیں گے۔ (آیت) ” یوم “۔ یعنی کافروں پر یہ عذاب اس دن واقع ہوگا، جس کی کیفیت اب بیان ہورہی ہے۔ امتداد یوم حشر کا بیان ابھی ہوچکا ہے۔ اب تفصیلات اس روز کے اشتداد کی بیان ہورہی ہیں۔ (آیت) ” کالمھل “۔ یعنی تلچھٹ کی طرح سیاہی مائل انتہائی سرخی کے ڈانڈے سیاہی سے مل جاتے ہیں۔ اس لئے اس بیان اور (آیت) ” کانت السمآء وردۃ کالدھان “۔ میں کوئی تناقص نہیں۔ اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ سرخی اور میلان بسیاہی یہ (2) مختلف رنگتیں (2) مختلف حالتوں کی ہوں۔ (آیت) ” السمآء کالمھل “۔ الجبال کالعھن “۔ جب آسمان اور پہاڑ جیسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–18
فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ یہ جملہ فعل محذوف سے متعلق ہے ای یقع فی یوم کان مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب جس کا ذکر اوپر آیا ہے کافروں پر ضرور واقع ہو کر رہے گا، اس کا وقوع اس روز ہوگا کہ جس کی مدت پچاس ہزار سال ہوگی حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق سوال کیا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی کہ یہ دن کتنا دراز ہوگا ؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ یہ دن مومن پر ایک فرض نماز ادا کرنے کے وقت سے بھی کم ہوگا، یہ بطور تمثیل کے مومنین پر اس وقت کے ہلکا ہونے کا بیان ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ قیامت کا…
Read the full tafseer →یبصرونھم . یہ حمیم کی صفت ہے یا الگ جملہ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سوال سے مانع عدم حضور نہ ہوگا بلکہ نہ
پوچھنے کی یہ وجہ ہوگی کہ ہر شخص کو اپنی ہی پڑی ہوگی یا مشاہدۂ حال کی وجہ سے سوال ہی (دماغ سے) غائب ہوجائے گا۔ چہرہ کا اتار چڑھاؤ اور نیلا پیلا ہونا سوال کرنے ہی نہ دے گا (غرض یہ کہ گہرے دوست نظروں کے سامنے ہوں گے مگر ان کے احوال کی پرستش کوئی نہ کرسکے گا) بغوی نے لکھا ہے کہ قیام کے دن تمام جن و انس نظروں کے سامنے ہوں گے باپ ‘ بھائی ‘ عزیز ‘ دوست سب کو آدمی آنکھوں کے سامنے دیکھے گا مگر اپنی مصیبت میں ایسا مشغول ہوگا کہ دوسرے کو پوچھ نہ سکے گا۔
بعض نے یبصرونھم کا معنی یعرفونھم کہا ہے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
(9۔ 13) اور اس روز کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا باوجوی کہ ایک دوسرے کو دکھا بھی دیے جائیں گے مگر اپنی مشغولیت کی وجہ سے ایک دوسرے کو نہیں پہچانیں گے۔
کافر یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھی یا نضر بن حارث اور اس کے ساتھ اس بات کی تمنا کریں گے کہ قیامت کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے اپنے بیٹوں کو اور بیوی کو اور بھائی کو اور کنبہ کو جن میں وہ رہتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
ولایسئل حمیم حمیاً…: کوئی دوست کسی دوست کو نہیں پوچھے گا، اس لئے نہیں کہ وہ دکھائی نہیں دے رہا ہوگا، بلکہ ”یبضرونھم“ ہر شخص کو اس کے عزیز دوست دکھلائے جا رہے ہوں گے اور آنکھوں کے سامنے ہوں گے۔ نہ پوچھنے کی وجہ یہ ہوگی کہ ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی، مجرم دنیا میں جن جن پر اپنی جان قربان کرتا تھا اس دن سب کو، بلکہ تمام دنیا کے لوگوں کو پانی جان بچانے کے لئے عذاب الٰہی کے حاولے کردینا پسند کرے گا۔ اس مقام پر رشتہ داروں کی ترتیب میں پہلے ان کا ذکر کیا جو سب سے زیادہ محبوب ہیں، یعنی بیٹے، بیوی، بھئای، خاندان اور سورة عبس (34 تا 36) میں اس کا الٹ ہے۔ ”فصیلتہ“ خاندان، کنبہ، کیونکہ وہ قبیلے سے جدا ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
یبصرونھم وہ انہیں دکھائی دیں گے قیامت میں کوئی مخلوق نہیں ہوگی مگر وہ اپنے ساتھی کے سامنے ہوگی (1) وہ جن ہو یا انسان ہو۔ انسا نپانے باپ، اپنے بھائی، اپنے قریبی رشتہ دار اور اپنے قبیلہ کو دیکھے گا، وہ اس کا حال نہیں پوچھے گا اور نہ اس سے بات کرے گا کیونکہ وہ اپنی ہی پریشانیوں میں مگن ہوگا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : وہ ایک گھڑی کے لئے ایک دوسرے سے متعارف ہوں گے (2) وہ اس گھڑی کے بعد ایک دوسرے سے متعارف نہیں ہوں گے۔ بعض روایات میں ہے : لوگ اپنی جان پہچان والے لوگوں سے بھاگیں گے کیونکہ انہیں خوف ہوگا کہ جو زیادتیاں انہوں نے کی ہیں ان کے بارے میں ان سے مطالبہ ہوگا۔ اس تعبیر کی بنا پر یبصرنھم کی ضمیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
7۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یبصرونہم یعنی ان کا بعض بعض کو پہچانے گا اور وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانی گے۔ پھر وہ ایک دوسرے سے بھاگے جائیں گے۔
Read the full tafseer →[يُّبَصَّرُوْنَهُمْ ۭ: ان (دوستوں) کو دکھائے جائیں گے وہ سب (دوست)][ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ : تمنا کریں گے سارے مجرم ][ لَوْ يَفْتَدِيْ : کاش وہ خود کو چھڑا لیں ][ مِنْ عَذَابِ يَوْمِىِٕذٍۢ: اس دن کے عذاب سے ][ بِبَنِيْهِ : بدلے میں دے کر اپنے بیٹے کو ]
(آیت۔ 11) بَظَرَ (باب تفعیل) کے دو مفعول آتے ہیں۔ کس کو دکھایا اور کیا دکھایا۔ یہاں اس کا مضارع مجہول آیا ہے۔ یُبَصَّرُوْنَ میں شامل ھُمْ کی ضمیر اس کا مفعول اوّل ہے جواب نائب فاعل کہلائے گا اور یہ ضمیر حَمِیْمٌ کے لیے ہے۔ اس کے آگے ھُمْ کی ضمیر مفعولی اس کے مفعول ثانی کے لیے ہے۔ یہ ضمیر حَمِیْمًا کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
﴿ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِيْ مِنْ عَذَابِ يَوْمِىِٕذٍۭ بِبَنِيْهِۙ0011 وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِيْهِۙ0012 وَ فَصِيْلَتِهِ الَّتِيْ تُـْٔوِيْهِۙ0013 وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا 1ۙ ثُمَّ يُنْجِيْهِۙ0014﴾ (مجرم شخص آرزو کرے گا کاش اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنے بیٹوں کو اور اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو اور اپنے کنبہ کو جو اسے ٹھکانہ دیتا تھا اور تمام اہل زمین کو اپنی جان کے بدلہ میں دے کر عذاب سے چھٹکارا پالے) مطلب یہ ہے کہ اس دن سب کو اپنی اپنی پڑی ہوگی اور ایسی نفسا نفسی ہوگی کہ انسان دنیا میں جن لوگوں پر جان دیتا تھا ان کو اپنی جان کے عوض عذاب میں ڈال کر اپنی جان بچانے کی تمنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–35
مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔
مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
5:۔ ” یود المجرم لو یفتدی “ سے لے کر ” ثم ینجیہ “ تک یود کا مفعول ہے۔ قیامت کا منظر ایسا ہولناک اور عبرتناک ہوگا کہ اس دن مشرک کی تمنا ہوگی کہ آج وہ اپنے بیٹوں کو، اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو، اپنے خاندان کو جو دنیا میں اس کا ناصر و حامی تھا، بلکہ دنیا میں رہنے والی ساری مخلوق کو بطور فدیہ دے کر عذاب سے اپنی جان بچالے۔ ” کلا “ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوگا اور عذاب سے کسی طرح کا بھی چھٹکارہ نہیں ہو سکے گا۔ ” انہا لظی “ وہ دوزخ کی آگ بھڑکتا ہوا شعلہ ہوگی اور دوزخیوں کی کھال ادھیڑ دے گی جنہوں نے دنیا میں دین حق سے منہ پھیرا اور اعراض کیا مال و دولت کا ذخیرہ کیا اور راہ حق میں اس کو کرچ نہ کیا، وہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
کوائف اور مضامین :
اس سورة کا نام المعارج ہے۔ اس کی تیسری آیت میں معارج کا لفظ ہے جس سے اس سورة کا نام لیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کے دو رکوع چوالیس آیتیں ، دو سو سولہ کلمات اور آٹھ سو اکسٹھ حروف ہیں۔ اس کے مضامین گزشتہ سورة الحاقہ سے ملتے ہیں۔ اس سورة کے ابتدا میں قیامت کا ذکر ہے ۔ آخر رکوع میں نبوت اور رسالت کا انکار کرنے والوں کا رد ہے۔ اس سورة میں بھی زیادہ تر قیامت کے بارے میں ارشادات ہیں۔
سابقہ سورة سے ربط :
اس سے پہلی سورة میں بیان ہوا کہ مشرکین جن کو قیامت کے روز بائیں ہاتھ میں اعمالنامہ ملے گا۔ وہ بڑا افسوس کریں گے۔ اور جہنم میں داخل ہونے کی وجہ یہ بیان کریں گے کہ…
Read the full tafseer →يُّبَصَّرُوْنَہُمْ 0 ۭ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِيْ مِنْ عَذَابِ يَوْمِىِٕذٍؚبِبَنِيْہِ 11 ۙ
بصر
البَصَر يقال للجارحة الناظرة، نحو قوله تعالی: كَلَمْحِ الْبَصَرِ [ النحل/ 77] ، ووَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10]
( ب ص ر) البصر
کے معنی آنکھ کے ہیں جیسے فرمایا ؛کلمح البصر (54 ۔ 50) آنکھ کے جھپکنے کی طرح ۔
وَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] اور جب آنگھیں پھر گئیں ۔ نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
ترکیب : یوم ناصبہ قریبا والتقدیر ونراہ قریبا یوم یکون کذاو یمکن ان یکون بدلا عن فی یوم ان علق بہ ولایسئل قراء الجمہور مبینا للفاعل فالمفعول الثانی محذوف ای لایسل حمیم حمیما نصرہ ولاشفاعتہ وقریٔ مبنیا للمفعول علی اسقاط حرف الجرای لایسئل حمیم عن حمیم این حمیمک وکیف حالہ الحمیم القریب یبصرونہم یقال بصرت بہ ابصرویقال بصرت ازید بکذافاذا حذفت الجارقلت بصر فی زید کذا۔ استیناف اوحال وجمع الضمیرین لعموم الحمیم لکونہ واقعافی سیاق النفی۔ لو یفتدی (بمعنی ان والجملۃ مفعول یود المجرم فاعلہ و من معطوف علی نبیہ والجملۃ حال من احد الضمیرین فی یبصرونہم او استیناف ثم ینجیہ عطف علی یفتدی ای یودلویفتدی ثم ینجیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
وَلاَ یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا۔ یُّـبَـصَّرُوْنَہُمْ ط یَوَدُّالْمُجْرِمُ لَوْیَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ م بِبَنِیْہِ ۔ وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ ۔ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُـْٔوِیْہِ ۔ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا لا ثُمَّ یُنْجِیْہِ ۔ کَلاَّ ط اِنَّھَا لَظٰی۔ نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی۔ (المعارج : 10 تا 16)
(اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا۔ حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے، مجرم تمنا کرے گا کہ کاش اس دن کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے فدیہ میں دے دے اپنی اولاد کو۔ اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو۔ اور اپنے اس کنبہ کو جو اس کو پناہ دیتا رہا ہے۔ اور روئے زمین کے سب لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–18
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن آسمان تابنے کی مانند ہوجائے گا اور پہاڑ دھنی اوئی روئی کی طرح ہوں گے اس دن باہمی محبتیں ختم اور رشتے ناطے ٹوٹ جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا فرمایا تو اس کے وجود میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور مہربانی کرنے کا جذبہ بھی پیدا فرمایا اور ایک دوسرے کے ساتھ لوگوں کے رشتے ناطے جوڑ دیئے، اسی ہمدردی اور رشتے ناطوں کی بنیاد پر دنیا کا نظام قائم اور چل رہا ہے۔ لیکن قیامت کے دن مجرموں کی ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور رشتے ناطے ختم ہوجائیں گے، کیونکہ رب ذوالجلال کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کی خبر نہیں لے گا۔ حالانکہ وہ ایک دوسرے کو…
Read the full tafseer →1 1 : یُّبَصَّرُوْنَھُمْ (باوجودیکہ وہ ایک دوسرے کو دکھا بھی دیئے جائیں گے)
نحو : یہ حمیمًا کی صفت ہے۔ وہ قریبی دکھائے جائیں گے اور پہچان کرائے جائیں گے نمبر 2۔ یہ جملہ مستانفہ ہے گویا کہ جب یہ کہہ دیا گیا : ولا یسأل حمیم حمیمًا تو اس پر سوال پیدا ہوا کہ شاید کہ وہ اس کو دیکھ نہ پائے۔ تو جواب دیا گیا وہ ایک دوسرے کو دکھلا دیے جائیں گے۔ لیکن اپنی مشغولیت کی وجہ سے ایک دوسرے سے پوچھ بھی نہ سکیں گے۔ یبصرونھم کی وائوؔ یہ پہلے حمیم کی طرف راجع ہے ھمؔ حمیم ثانی کی طرف لوٹنے والی ضمیر ہے۔ وہ گہرے دوست دوسرے دوستوں کو اچھی طرح دیکھیں گے ایک دوسرے سے چھپے ہوئے نہ ہونگے۔
ضمیر جمع کی وجہ :
دونوں ضمائر…
Read the full tafseer →10 ۔” ولا یسال حمیم حمیما “ بزی نے ابن کثیر (رح) سے ” لا یسئل “ پڑھا ہے یاء کے پیش کے ساتھ یعنی دوست سے دوست کے بارے میں نہ پوچھا جائے گا یعنی یہ نہ کہا جائے گا تیرا دوست کہاں ہے ؟ اور دیگر حضرات نے یاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی کسی قریبی شخص سے اس کے قریبی لوگوں کے بارے میں نہ پوچھا جائے گا اس کے اپنی حالت میں مشغول ہونے کی وجہ سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
8۔ 18۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں پہلے صور سے لے کر دوزخ میں جانے تک کا حال فرمایا تاکہ ان عذاب کے جلدی کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ دنیا میں اگر ان پر کسی عذاب کے آنے کا اللہ کا حکم نہ بھی ہوا تو قیامت کے دن ایسے جزا و سزا کے منکر لوگوں پر سخت عذاب آنے والا ہے جس کے چھٹکارے کے بدلے میں یہ لوگ اپنے بی بی بچوں اور ساری دنیا کو دینے پر آمادہ ہوجائیں گے۔ جب بھی ان کا چھٹکارا نہ ہوگا۔ مھل کے معنی پگھلا ہوا تانبا۔
عھن کے معنی رنگین دھنی ہوئی اون جو نہایت ہلکی ہوجاتی ہے اور ہوا میں بہت جلدی اڑ جاتی ہے۔ اس دن ہر ایک کو اپنی جان کی ایی پڑی ہوگی کہ ایک دوسرا دیکھے…
Read the full tafseer →(یود المجرم) جس پر عذاب کا استحقاق ثابت ہوچکا ہوگا خواہش کرے گا (لویفتدی من عذاب یومئذ ببنیہ۔ وصاحبتہ) کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں اپنے بیٹے اور اپنی بیوی دے دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
9 قیامت کے دن کی نفسا نفسی کی تصویر کا ذکر وبیان : سو اس یوم عظیم کی نفسا نفسی کی تصویر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز کوئی گہرا دوست اپنے دوست کے بارے میں کچھ نہیں پوچھے گا حالانکہ ان کو ایک دوسرے کو دکھایا بھی جائے گا اور یہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانتے بھی ہوں گے (قالہ ابن عباس ‘ در منشؤر) مگر اس کے باوجود کوئی کسی سے پوچھے گا بھی نہیں ‘ کہ نفسا نفسی کے اس عالم میں ہر کسی کو اپنی ہی پڑی ہوگی کسی کو کسی کا ہوش نہیں رہے گا " لکل امرء منھم یومئذ شان یغنیہ " (عبوس :37) ۔ سو جو گہرے اور جگری دوست دنیا میں ایک دوسرے کیلئے اپنی جان تک چھڑکنے کو تیار ہوجایا کرتے تھے اس روز وہ ایک دوسرے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–21
صبر کی تلقین، قیامت کی سختی اور سزائیں
تشریح : حدیث پاک میں ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے یہ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری بعثت کے بعد قیامت اب اتنی نزدیک ہے جتنی میری یہ دو انگلیاں ایک دوسری کے نزدیک ہیں ( قیامت نزدیک آپہنچی ہے) ۔ (بخاری )
قیامت کے ممکنہ حالات اور زمین کی ہر طرح سے تباہی کے واقعات اور اسباب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ انسانوں کے لئے تو قیامت اس وقت ہی آجاتی ہے جب وہ مرتے ہیں۔ میدان حشر میں اس قدر دہشت اور افراتفری پھیلی ہوئی ہوگی کہ کوئی کسی کو پہنچانے گا بھی نہیں بلکہ ہر ایک کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔ اور بےبسی کا یہ عالم ہوگا کہ گناہوں کے بدلے جو سزاء ملے گی اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–34
سورة المعارج۔
آیات 1 تا 35۔
اسرار ومعارف۔
مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔
مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔
جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
ف 5 مصیبت یعنی محتاجی اور بیماری وغیرہ
Read the full tafseer →(70:11) یبصرونھم : مضارع مجہول جمع مذکر غائب تبصیر (تفعیل) مصدر ہم ضمیر جمع مذکر غائب مفعول۔ وہ ان کو دکھائے جائیں گے۔ ان کا ایک دوسرے سے تعارف کرایا جائے گا۔ یبصروں ای یتعارفون (جلالین)
یبصرونھم ہر دو حمیم۔ حمیما (فاعل و مفعول سے حال ہے۔
فائدہ : حمیما پر وقف ” صلے “ ہے جو الوصل اولی (ملا کر پڑھنا بہتر ہے) کا اختصار ہے اور یبصرونھم پر وقف مطلق کی علامت ہے اس پر ٹھہرنا چاہیے۔ لہٰذا یبصرونھم کا تعلق آیت نمبر 10 سے ہے۔
یود المجرم۔ جملہ مستانفہ ہے۔ مجرم چاہے گا۔ ۔۔ یود مضارع واحد مذکر غائب۔ مودۃ (باب سمع) سے مصدر۔ بمعنی پسند کرنا۔ خواہش کرنا۔ آرزو کرنا۔ چاہنا۔ المجرم ای المشرک۔
لو یفتدی من عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔
سال۔ سوال کیا۔ مانگا۔ ذی المعارج۔ زینوں والا۔ خمیسین الف۔ پچاس ہزار۔ المھل۔ دھنکی ہوئی روئی۔ فصیلۃ ۔ کنبہ۔ خاندان۔ توی۔ وہ رہتا ہے۔ لظی۔ بھڑکتی آگے۔ نزاعۃ۔ کھینچنے والی۔ الشوی۔ کھال اور اس کا ٹکڑا۔ اوعی۔ سنبھال کر رکھتا ہے۔
تشریح : کفار مکہ اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی مانگنے کے بجائے اس کے عذاب اور قیامت آنے کی جلدی کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اس عذاب اور قیامت کا سوال کریں یا نہ کریں وہ تو بہرحال اپنے وقت پر واقع ہو کر رہے گے اور جب قیامت کے دن کفار ومشرکین پر عذاب آئے گا تو وہ اس قدر بھیانک اور سخت عذاب ہوگا جس کو ساری دنیا مل کر بھی نہ ٹال سکے گی کیونکہ یہ عذاب اس اللہ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
قیامت کا ذکر اور دوزخ کی ہولناکی۔
(ف 1) اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں پہلے صور سے لے کر دوزخ میں جانے تک کا حال فرمایا تاکہ ان عذاب کے جلدی کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ دنیا میں اگر ان پر کسی عذاب کے آنے ک اللہ کا حکم نہ بھی ہوا ، تو قیامت کے دن ایسے جزا وسزا کے منکرلوگوں پر وہ سخت عذاب آنے والا ہے ، جس کے چھٹکارے کے بدلے میں یہ لوگ اپنی بی بی بچوں اور ساری دنیا کو دینے پر آمادہ ہوجائیں گے جب بھی ان کا چھٹکارا نہ ہوگا۔
” لعھن “ کے معانی رنگینی دھنی ہوئی اون جو نہایت ملکی ہوجاتی ہے اور ہوا میں بہت جلدی اڑجاتی ہے، اس دن ہر ایک کو اپنی جان کی ایسی پڑی ہوگی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–18
[5] یعنی ایسا صبر جس میں شکوہ و شکایت کا نام بھی نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
ف 1: آج یہ لوگ اس واقعہ کا مضحکہ اڑاتے ہیں ۔ مگر اس وقت یہ چاہیں گے کہ فدیہ میں اپنے بیٹوں کو دے دیں ۔ اور بچ جائیں ۔ اپنی بیوی اور بھائی کو قربان کردیں ۔ اور نجات حاصل کرلیں ۔ اپنے کنبے کو اور ساری دنیا کودے دیں ۔ اور کسی طرح عذاب الٰہی سے چھوٹ جائیں ۔
Read the full tafseer →(11) حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھا بھی دیئے جائیں گے مجرم یعنی مشرک اس بات کی تمنا کرے گا کہ کسی طرح اس دن کے عذاب سے چھٹکارا پانے کے لئے اپنے بیٹوں کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ف 5۔ یعنی ایک دوسرے کو دیکھیں گے مگر کوئی کسی کی ہمدردی نہ کرے گا۔
Read the full tafseer →وہ ایک دوسرے کو دیکھیں گے اور گنہگار چاہیں گے کہ اولاد کو پیش کر کے خود پیچھے ہٹ جائیں
11 ؎ گزشتہ آیت میں کسی گہرے دوست کے لئے بھی کسی کا خون نہ کھولنے کا ذکر تھا ، زیر نظر آیت میں ایک شبہ کے ازالہ کے لئے کہ اس سے کوئی آدمی یہ نہ سمجھے کہ شاید اس دوست نے دوسرے دوست کو دیکھا ہی نہ ہو کہ میرا دوست عذاب کی زد میں ہے فرمایا نہیں ایسی بات نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہوں گے ، پہچانتے ہوں گے اور دیکھ کر ، پہچان کر ایک دوسرے کے ساتھ بات کرنے کے لئے اور کسی طرح کے اشارہ ہی سے پوچھنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوں گے اور پھر مزید شبہ کو دور کرنے کے لئے ارشاد فرمایا کہ مجرم اس روز خواہش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا يُبَصَّرُونَهُمْ (and no friend will ask about any friend, (though) they will be made to see each other....70:10, 11). The word hamim means a 'sincere friend'. The context describes the horrors of the Day of Resurrection. On that Day, no bosom friend will inquire about his friend - let alone helping him. This is not because they will not be able to see each other. The Divine power, in fact, will make them see each other. Every person will be in a state of 'each for himself. No person will be able to pay heed to the comfort or discomfort, pleasure or pain of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
11 Not so that they will not see each other, therefore they will not ask after each other's welfare, but each will be seeing the other in agony and distress, yet will ignore him, being wholly preoccupied with his own torment.
Read the full tafseer →