70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayahs 70:1–3

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

مانگا ایک مانگنے والے نے ایک ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہو

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

کافروں کے لیے جس کو کوئی ٹال نہ سکے گا۔

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

(وہ عذاب اپنے وقت پر آئے گا) اس اللہ کی طرف سے جو بہت بلند درجات والا ہے۔

آیت 1 ‘ 2{ سَاَلَ سَآئِلٌم بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ - لِّلْکٰفِرِیْنَ لَـیْسَ لَہٗ دَافِعٌ۔ } ”مانگا ایک مانگنے والے نے ایک ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہو ‘ کافروں کے لیے ‘ جس کو کوئی ٹال نہ سکے گا۔“ یہاں سَاَلَ سَآئِلٌسے کون مراد ہے ؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ میری رائے بہت پہلے سے یہ تھی کہ یہ عذاب طلب کرنے والے خود حضور ﷺ ہیں ‘ لیکن مجھے اپنی رائے پر اطمینان اس وقت ہوا جب مجھے معلوم ہوا کہ شاہ عبدالقادر دہلوی رح کی رائے بھی یہی ہے۔ عام مفسرین میں سے بہت کم لوگ شاہ صاحب رح کی اس رائے سے متفق ہیں کہ اس آیت میں حضور ﷺ کی خواہش یا دعا کا ذکر ہے۔ اس آیت کو سمجھنے کے لیے دراصل اس دور کا نقشہ ذہن میں لانا ضروری ہے جب حضور ﷺ پر ہر طرف سے طرح طرح کے الزامات کی بوچھاڑ ہو رہی تھی اور مکہ کی گلیوں میں آپ ﷺ کو شاعر ‘ مجنون ‘ ساحر اور کذاب جیسے ناموں سے پکارا جارہا تھا معاذ اللہ۔ اعلانِ نبوت کے بعد تین سال تک تو یوں سمجھئے کہ پورے شہر کی مخالفت کا نشانہ صرف حضور ﷺ کی ذات تھی۔ مشرکین کا خیال تھا کہ اگر وہ آپ ﷺ کی قوت ارادی اور ہمت توڑنے یا کسی بھی طریقے سے آپ ﷺ کو آپ ﷺ کے موقف سے ہٹانے میں کامیاب ہوگئے تو یہ تحریک خود بخود ختم ہوجائے گی۔ چناچہ اس دور میں عام اہل ایمان کو نظرانداز کر کے صرف آپ ﷺ کی ذات کو نشانے پر رکھا گیا تھا۔ اس دوران اگرچہ آپ ﷺ کو کوئی جسمانی اذیت تو نہ پہنچائی گئی لیکن باقاعدہ ایک منظم مہم کے تحت آپ ﷺ کے خلاف ذہنی ‘ نفسیاتی اور جذباتی تشدد کی انتہا کردی گئی۔ ان لوگوں کی اس مذموم مہم کی وجہ سے حضور ﷺ مسلسل ایک کرب اور تکلیف کی کیفیت میں تھے۔ اس کا اندازہ ان الفاظ اور جملوں سے بھی ہوتا ہے جو اس دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں آپ ﷺ کی تسلی کے لیے جگہ جگہ آئے ہیں۔ بہرحال حضور ﷺ بھی تو آخر انسان تھے۔ مسلسل شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرتے ہوئے ردّعمل کے طور پر آپ ﷺ کے دل میں ایسی خواہش کا پیدا ہونا ایک فطری امر تھا کہ اب ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آجانا چاہیے۔ چناچہ ان آیات میں آپ ﷺ کی اسی خواہش یا دعا کا ذکر ہے۔ اس حوالے سے یہاں یہ نکتہ بھی مدنظر رہے کہ اس سورت کا سورة نوح کے ساتھ جوڑے کا تعلق ہے اور سورة نوح میں بھی حضرت نوح علیہ السلام کی اس دعا کا ذکر ہے جس میں آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اپنی قوم کے لیے سخت عذاب مانگا تھا۔ گویا ان دونوں سورتوں کے اس مضمون کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اس تعلق میں یہ مناسبت بھی بہت اہم ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام پہلے رسول اور حضور ﷺ آخری رسول ہیں۔ 1
Ayah 70:4

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

چڑھتے ہیں فرشتے اور روح اس کی جانب ایک دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے۔

آیت 4{ تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَـیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ۔ } ”چڑھتے ہیں فرشتے اور روح اس کی جانب ایک دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے۔“ یہ آیت ہمارے لیے آیات متشابہات میں سے ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہ اللہ تعالیٰ کے ”ذِی الْمَعَارِجِ“ ہونے کی وضاحت ہے کہ اس کی بارگاہِ بلند تک پہنچنے کے لیے فرشتوں اور جبریل علیہ السلام کو بھی پچاس ہزار سال کی مسافت کے برابر فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ پچاس ہزار برس کے دن سے یہاں قیامت کا دن مراد ہے جو کفار کے لیے تو بہت طویل اور سخت ہوگا ‘ البتہ اہل ایمان کو وہ دن ایسے محسوس ہوگا جیسے انہوں نے دن کا کچھ حصہ یا ایک فرض نماز ادا کرنے کے برابر وقت گزارا ہو۔ حضرت ابوسعید خدری رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے بارے میں پوچھا گیا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ اِنَّـہٗ لَیُخَفَّفُ عَلَی الْمُؤْمِنِ حَتّٰی یَـکُوْنَ اَھْوَنَ عَلَیْہِ مِنْ صَلَاۃٍ مَکْتُوْبَۃٍ یُصَلِّیْھَا فِی الدُّنْیَا ”اس ذات کی قسم جس کے دست ِ قدرت میں میری جان ہے ! یہ دن مومن کے لیے بہت مختصر کردیا جائے گا ‘ یہاں تک کہ جتنے وقت میں وہ دنیا میں ایک فرض نماز ادا کرتا ہے اس سے بھی اسے مختصر معلوم ہوگا۔“
Ayah 70:5

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

تو آپ ﷺ بڑی خوبصورتی سے صبر کیجیے۔

آیت 5{ فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا۔ } ”تو آپ ﷺ بڑی خوبصورتی سے صبر کیجیے۔“ یہ ہے وہ اصل پیغام جو ان آیات کے ذریعے حضور ﷺ کو دینا مقصود تھا ‘ کہ ابھی تو سفر کا آغاز ہوا ہے ‘ آنے والا وقت اور بھی کٹھن ہوگا۔ لہٰذا آپ ﷺ اپنے راستے میں آنے والی ہر مشکل کا صبر اور استقامت کے ساتھ سامنا کریں۔ اس سے پہلے سورة القلم میں بھی آپ ﷺ کو ایسی ہی ہدایت کی گئی ہے : { فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلَا تَـکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوْتِ 7} آیت 48 ”تو آپ ﷺ انتظار کیجیے اپنے رب کے حکم کا ‘ اور دیکھئے ! آپ ﷺ اس مچھلی والے کی طرح نہ ہوجایئے گا !“
Ayahs 70:6–10

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

یہ لوگ تو اس (عذاب) کو دور سمجھ رہے ہیں

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہم اسے نہایت قریب دیکھ رہے ہیں۔

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

جس دن آسمان ہوجائے گا جیسے پگھلا ہوا تانبا۔

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور پہاڑ ایسے ہوجائیں گے جیسے دھنکی ہوئی روئی (یا رنگی ہوئی اُون)۔

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور کوئی دوست کسی دوسرے دوست کا حال نہیں پوچھے گا۔

آیت 6 ‘ 7{ اِنَّہُمْ یَرَوْنَہٗ بَعِیْدًا - وَّنَرٰٹہُ قَرِیْبًا۔ } ”یہ لوگ تو اس عذاب کو دور سمجھ رہے ہیں ‘ اور ہم اسے نہایت قریب دیکھ رہے ہیں۔“ ظاہر ہے انسان تو صرف اپنے سامنے کی چیز کو ہی دیکھ سکتا ہے ‘ مستقبل میں جھانکنا تو اس کے بس میں نہیں ہے۔ اسی لیے مستقبل کی چیزیں یا خبریں اسے عام طور پر دور محسوس ہوتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے تو مستقبل وغیرہ کچھ نہیں اور نہ ہی کوئی چیز اس سے غائب ہے۔ وہ تو ہرچیز کو بیک وقت اپنے سامنے دیکھ رہا ہے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ سڑک پر سفر کرتے ہوئے ایک شخص صرف اسی شہر یا مقام کو دیکھ سکتا ہے جو اس کے سامنے ہے جبکہ اس سے اگلا شہر مستقبل میں ہونے کی وجہ سے اس کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جو شخص ہوائی جہاز پر سفر کر رہا ہے وہ ان دونوں شہروں کو بیک وقت اپنے سامنے دیکھ سکتا ہے۔ بقول آئن سٹائن every thing is relative کہ دنیا کی ہرچیز کسی دوسری چیز سے متعلق و مشروط ہے۔ چناچہ کسی بھی چیز یا صورت حال کو صرف ایک ہی زاویے سے دیکھ کر کوئی رائے قائم نہیں کر لینی چاہیے۔ دنیا میں ہمارے اعتبار سے بھی قریب اور بعید relative ہیں ‘ جبکہ اللہ تعالیٰ کے لیے تو کوئی شے بھی بعید نہیں ‘ ہرچیز اس کے سامنے ہے۔ ماضی ‘ حال اور مستقبل آنِ واحد میں اس کے سامنے موجود ہیں۔
Ayahs 70:11–14

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

وہ سب انہیں دکھائے جائیں گے۔ اس روز مجرم چاہے گا کہ کاش وہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے فدیے میں دے دے اپنے بیٹوں کو

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اور اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اور اپنے کنبے کو جو اسے پناہ دیتا تھا

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کو پھر یہ (فدیہ) اس کو بچا لے !

آیات 1 1 تا 14{ یُّــبَصَّرُوْنَہُمْ ط } ”وہ سب انہیں دکھائے جائیں گے۔“ وہاں مشکل میں پھنسے ہوئے ہر شخص کو اس کے دوست احباب ‘ والدین ‘ بیوی بچے غرض اس کے سب پیارے دکھا بھی دیے جائیں گے تاکہ اس کی حسرت میں مزید اضافہ ہو۔ { یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَـوْ یَـفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍم بِبَنِیْہِ - وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ - وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُـئْوِیْہِ - وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًالا ثُمَّ یُنْجِیْہِ۔ } ”اس روز مجرم چاہے گا کہ کاش وہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے فدیے میں دے دے اپنے بیٹوں کو ‘ اور اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو ‘ اور اپنے کنبے کو جو اسے پناہ دیتا تھا ‘ اور روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کو ‘ پھر یہ فدیہ اس کو بچا لے !“ یہ اس کیفیت کی ایک جھلک ہے جس کے بارے میں ہمارے ہاں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اس روز نفسانفسی کا عالم ہوگا۔ ہر شخص کو اپنی فکر ہوگی اور وہ چاہے گا کہ خواہ اس کے بیوی بچوں اور عزیز و اقارب سمیت سب کو عذاب میں جھونک دیا جائے لیکن اسے چھوڑ دیا جائے۔ اس کیفیت کا بالکل ایسا ہی نقشہ سورة عبس کی ان آیات میں بھی دکھایا گیا ہے : { یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْئُ مِنْ اَخِیْہِ رض وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ - وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ - لِکُلِّ امْرِیٍٔ مِّنْہُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ۔ } ”اس دن بھاگے گا انسان اپنے بھائی سے ‘ اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے ‘ اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے۔ اس دن ان میں سے ہر انسان کی ایسی حالت ہوگی جو اسے دوسروں سے بیخبر کر دے گی“۔ احادیث میں آتا ہے کہ اس روز اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر - بھی نَفْسِیْ نَفْسِیْ پکار رہے ہوں گے۔
Ayah 70:15

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

ہرگز نہیں ! اب تو یہ بھڑکتی ہوئی آگ ہی ہے۔

آیت 15{ کَلَّاط اِنَّہَا لَظٰی۔ } ”ہرگز نہیں ! اب تو یہ بھڑکتی ہوئی آگ ہی ہے۔“ آج تم سے نہ تو کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا ‘ اور نہ ہی کوئی تمہاری مدد کو آئے گا۔ آج جہنم کی اس شعلہ فشاں آگ کا سامنا تمہیں خود ہی کرنا ہوگا۔ جیسا کہ سورة مریم کی اس آیت میں واضح کیا گیا ہے : { وَکُلُّہُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا۔ } ”اور قیامت کے دن سب کے سب آنے والے ہیں اس کے پاس اکیلے اکیلے۔“
Ayah 70:16

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

جو کلیجوں کو کھینچ لے گی۔

آیت 16{ نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی۔ } ”جو کلیجوں کو کھینچ لے گی۔“ شدت کے اعتبار سے جہنم کی آگ کا دنیا کی آگ سے کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ سورة الہمزہ میں جہنم کی آگ کی ایک خصوصیت یہ بتائی گئی ہے : { تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَۃِ۔ } کہ وہ براہ راست دلوں میں جلن پیدا کرے گی۔ آج کل اس کیفیت کو ultra violet rays کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ ان شعاعوں کی حرارت کھال کے اندر پہنچ کر اپنا اثر دکھاتی ہے۔
Ayah 70:17

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

وہ پکارے گی ہر اس شخص کو جس نے پیٹھ موڑ لی تھی اور رُخ پھیرلیا تھا

جہنم کی آگ ہر اس شخص کو پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر شکارکرے گی جس نے حق سے اعراض کیا تھا اور اللہ کے کلام کو پس ِپشت ڈال دیا تھا۔ دین کی دعوت اور نبی کریم ﷺ کے مشن کو کبھی لائق اعتناء نہیں سمجھا تھا۔
Ayah 70:18

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور جو مال جمع کرتا رہا پھر اسے سینت سینت کر رکھتا رہا۔

آیت 18{ وَجَمَعَ فَاَوْعٰی۔ } ”اور جو مال جمع کرتا رہا پھر اسے سینت سینت کر رکھتا رہا۔“ جس نے اپنی ساری زندگی مال جمع کرنے اور اسے سنبھال سنبھال کر رکھنے میں بتادی تھی۔
Ayah 70:19

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

یقینا انسان پیدا کیا گیا ہے تھڑدلا۔

آیت 19{ اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ہَلُوْعًا۔ } ”یقینا انسان پیدا کیا گیا ہے تھڑدلا۔“ یہ انسان کی فطری اور جبلی کمزوری ہے کہ وہ تھڑدلا اور بےصبرا ہے۔ قرآن مجید میں انسان کی کئی اور کمزوریوں کا ذکر بھی آیا ہے ‘ مثلاً : { وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا۔ } النساء کہ انسان فطری طور پر کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ سورة الاحزاب کی آیت 72 میں انسان کو ظَلُوْمًا جَھُوْلًا قرار دیا گیا ہے ‘ جبکہ سورة الانبیاء کی آیت 37 میں انسان کی طبعی عجلت پسندی کا ذکر آیا ہے : { خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍط }۔ ظاہر ہے ایک انسان جسم اور روح سے مرکب ہے۔ انسان کے جسم کا تعلق عالم خلق سے ہے ‘ جبکہ انسانی روح کا تعلق عالم امر سے ہے : { وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِط قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ } بنی اسراء یل : 85 ”اور اے نبی ﷺ ! یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں روح کے بارے میں۔ آپ فرما دیجیے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے“۔ چناچہ مذکورہ سب کمزوریوں کا تعلق انسان کی جسمانی خلقت سے ہے۔ جہاں تک انسانی وجود کے اصل حصے یعنی اس کی روح کا تعلق ہے ‘ بنیادی طور پر اس کا مقام بہت بلند ہے اور اس میں ایسی کوئی کمزوری نہیں ہے۔ انسان کی تخلیق کے اس پہلو کا ذکر سورة التین کی اس آیت میں آیا ہے : { لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ۔ } ”بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا“۔ لیکن افسوس کہ ہم انسانوں کی اکثریت اپنی روح سے بیگانہ ہوچکی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اللہ کی یاد سے غفلت ہے۔ جو انسان اللہ تعالیٰ سے غافل ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ سزا کے طور پر اسے خود اپنی ذات روح سے غافل کردیتا ہے۔ سورة الحشر کی آیت 19 میں اہل ایمان کو اس حوالے سے یوں متنبہ کیا گیا ہے : { وَلَا تَـکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰٹہُمْ اَنْفُسَہُمْط } ”اے مسلمانو دیکھنا ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں اپنے آپ سے غافل کردیا۔“
Ayah 70:20

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا ہے۔

اگلی دو آیات ہَلُوْعًاکی وضاحت پر مشتمل ہیں : آیت 20{ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوْعًا۔ } ”جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا ہے۔“ جب کوئی انسان اپنی روح سے بیگانہ ہوجاتا ہے تو وہ نرا حیوان بن کر رہ جاتا ہے۔ ایسے حیوان نما انسان کو جب کسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ صبر کرنے کی بجائے فوراً چیخنا چلانا شروع کردیتا ہے اور جزع فزع کرنے لگتا ہے۔
Ayah 70:21

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت بخیل بن جاتا ہے۔

آیت 21{ وَّاِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا۔ } ”اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت بخیل بن جاتا ہے۔“ جب اسے کشادگی حاصل ہوتی ہے تو سب کچھ سمیٹ کر اپنے ہی پاس رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اب اگلی آیات میں ان انسانی کمزوریوں پر قابو پانے کے لیے راہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ اپنے مضمون کے اعتبار سے ان آیات آیت 22 تا 35 کا سورة المومنون کی ابتدائی گیارہ آیات کے ساتھ خصوصی تعلق ہے۔ قرآن مجید کے یہ دو مقامات نہ صرف باہم مشابہ ہیں بلکہ ”اَلْقُرْآنُ یُفَسِّرُ بَعْضَہٗ بَعْضًا“ کے اصول کے مطابق ایک مقام کی بعض آیات دوسرے مقام کی بعض آیات کی وضاحت بھی کرتی ہیں۔ یہاں ضمنی طور پر یہ بھی جان لیجیے کہ ہمارے ”مطالعہ قرآن حکیم کا منتخب نصاب“ کے تیسرے حصے کا پہلا سبق ان ہی دو مقامات کی آیات سورۃ المومنون کی ابتدائی گیارہ آیات اور زیر مطالعہ سورة کی آیت 22 سے آیت 35 تک چودہ آیات پر مشتمل ہے۔ ان آیات میں دراصل بندئہ مومن کی سیرت و کردار کے ان اوصاف کی فہرست دی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مطلوب اور پسندیدہ ہیں۔ گویا یہ اوصاف وہ اینٹیں ہیں جنہیں کام میں لا کر ایک بندئہ مومن کو اپنی سیرت کی عمارت تعمیر کرنا ہے۔ اگر یہ اینٹیں کچی ہوں گی تو ان سے بنائی گئی عمارت کمزور اور بودی ہونے کے باعث کفر و الحاد کے سیلاب کا سامنا نہیں کرسکے گی۔ چناچہ سیل باطل کی بلاخیزیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان ”اینٹوں“ کو خوب پختہ کر کے اپنی سیرت کی عمارت استوار کریں۔ بقول اکبر الٰہ آبادی : ؎ تو آگ میں جل اور خاک میں مل ‘ جب خشت بنے تب کام چلے ان خام دلوں کے عنصر پر بنیاد نہ رکھ ‘ تعمیر نہ کر ! بہرحال گزشتہ آیات میں جن انسانی کمزوریوں کا ذکر ہے ‘ عمومی طور پر انسان ان میں مبتلا ہو کر ان کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لیکن یہ پیدائشی کمزوریاں ناقابل تغیر و تبدل نہیں ‘ بلکہ انسان ان سے نجات پاسکتا ہے۔ چناچہ مندرجہ ذیل اوصاف کے حامل لوگ ان سے مستثنیٰ ہیں :
Ayah 70:22

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

سوائے نمازیوں کے۔

آیت 22 { اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ۔ } ”سوائے نمازیوں کے۔“ ان کمزوریوں اور خامیوں سے محفوظ رکھنے والی ایک چیز نماز ہے۔ گویا نماز تعمیر سیرت کی بنیاد کا پہلا پتھر ہے۔ لیکن صرف وہ نماز جو خاص اہتمام سے مداومت کے ساتھ ادا کی جاتی ہو۔ چناچہ مذکورہ استثناء کے اہل صرف وہی نمازی ہوں گے :
Ayah 70:23

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو اپنی نمازوں پر مداومت کرتے ہیں۔

آیت 23{ الَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَاتِہِمْ دَآئِمُوْنَ۔ } ”جو اپنی نمازوں پر مداومت کرتے ہیں۔“ یعنی وہ لوگ جو اپنے روز مرہ معمولات میں نماز کو اوّلین ترجیح دیتے ہیں اور کبھی اس میں کوتاہی نہیں کرتے۔ چناچہ ایسے ”نمازی“ اس وصف کے مصداق نہیں بن سکتے جو ”فارغ وقت“ میں تو نماز ادا کرلیتے ہیں لیکن جب کوئی اور مصروفیت ہو تو انہیں نماز کا خیال تک نہیں آتا ‘ اور نہ ہی انہیں نماز کے ضائع ہوجانے کا دکھ ہوتا ہے۔ اس آیت کے مشابہ سورة المومنون میں یہ آیت ہے : { الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْْ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوْنَ۔ } ”وہ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرنے والے ہیں۔“
Ayahs 70:24–25

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

اور وہ جن کے اموال میں معین حق ہے

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

مانگنے والے کا اور محروم کا۔

آیت 24 ‘ 25{ وَالَّذِیْنَ فِیْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ - لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ۔ } ”اور وہ جن کے اموال میں معین حق ہے ‘ مانگنے والے کا اور محروم کا۔“ ایسے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ جو کچھ انہوں نے کمایا ہے یا جو کچھ بھی انہیں مل گیا ہے وہ سب ان کا ہے ‘ بلکہ وہ اپنے اموال میں سے ایک معین حصہ معاشرے کے ان محروم اور نادار افراد کے لیے مختص کیے رکھتے ہیں جو اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے دوسروں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے۔ دراصل اللہ تعالیٰ آزمائش کے لیے بعض لوگوں کے حصے کا کچھ رزق بعض دوسرے لوگوں کے رزق میں شامل کردیتا ہے۔ چناچہ متمول افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے اموال میں سے مساکین و فقراء کا حصہ الگ کر کے ”حق بہ حق دار رسید“ کے اصول کے تحت خود ان تک پہنچانے کا اہتمام کریں۔ یاد رہے سورة المومنون میں اس آیت کے مقابل یہ آیت ہے : { وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِلزَّکٰوۃِ فٰـعِلُوْنَ۔ } ”اور وہ جو ہر دم اپنے تزکیے کی طرف متوجہ رہنے والے ہیں“۔ ان دونوں آیات پر غور کرنے سے یہ نکتہ واضح ہوتا ہے کہ زکوٰۃ غرباء و مساکین کا حق ادا کردینے سے نہ صرف بقیہ مال پاک ہوجاتا ہے بلکہ یہ انفاق انسان کے تزکیہ باطن کا باعث بھی بنتا ہے۔ اس نکتے کی وضاحت سورة الحدید کی آیت 17 اور 18 کے ضمن میں بھی کی جا چکی ہے۔ دراصل مال کی محبت جب کسی دل میں گھر جاتی ہے تو یوں سمجھ لیجیے کہ اس دل میں گندگی کے انبار لگ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں دل کی صفائی یعنی تزکیہ باطن کا موثر ترین طریقہ یہی ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعے مال کی محبت کو دل سے نکالا جائے۔ لیکن اس کے برعکس اگر کوئی شخص اپنے مال کو تو سینت سینت کر رکھتا ہے اور محض مراقبوں کے بل پر اپنے باطن اور نفس کا ”تزکیہ“ چاہتا ہے وہ گویا سراب کے پیچھے بھاگ بھاگ کر خود کو ہلکان کر رہا ہے۔
Ayahs 70:26–31

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

اور جو فیصلے کے دن کی تصدیق کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

اور جو اپنے رب کے عذاب سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

یقینا ان کے رب کا عذاب ایسا نہیں ہے کہ کوئی اس سے نڈرہو جائے۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

سوائے اپنی بیویوں یا اپنی لونڈیوں کے تو ان لوگوں پر کوئی ملامت نہیں۔

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

تو جو کوئی بھی اس کے علاوہ کچھ چاہے گا تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔

آیت 26{ وَالَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۔ } ”اور جو فیصلے کے دن کی تصدیق کرتے ہیں۔“ زیر مطالعہ آیات کی سورة المومنون کی ابتدائی آیات کے ساتھ مناسبت کے حوالے سے اس آیت کا تعلق سورة المومنون کی اس آیت سے ہے : { وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ۔ } ”اور جو لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں“۔ گویا زیر مطالعہ آیت سورة المومنون کی مذکورہ آیت کی وضاحت کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے لغویات سے اعراض کیوں کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ وہ قیامت اور جزا و سزا کے دن پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے جو شخص آخرت پر یقین رکھتا ہے اس کے لیے تو اس زندگی کا ایک ایک لمحہ امر کبھی نہ مرنے والا ‘ دائمی ہے۔ بظاہر تو انسان کی یہ زندگی فانی finite ہے ‘ لیکن درحقیقت بالقوہ potentially یہ دائمی infinite ہے۔ اس لیے کہ اس فانی زندگی کے اعمال کا نتیجہ آخرت کی دوامی زندگی میں نکلے گا۔ دنیا میں انسان اچھے برے جو اعمال بھی کمائے گا ‘ ان اعمال کے اثرات و نتائج آخرت کی زندگی میں ہمیشہ ہمیش کے لیے ہوں گے۔ چناچہ آخرت کی دوامی زندگی کے لیے جو پونجی انسان کو درکار ہے وہ تو دنیوی زندگی کے ”اوقات“ میں ہی کمائی جاسکتی ہے۔ سورة العصر کی پہلی آیت میں تیزی سے گزرتے ہوئے وقت کی قسم کے پردے میں بھی دراصل یہی فلسفہ بیان ہوا ہے۔ گویا انسان کا اصل سرمایہ اس کی مہلت ِعمر یعنی زندگی کے وہ قیمتی لمحات ہیں جو تیزی سے اس کے ہاتھ سے نکلے جا رہے ہیں ؎ غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی گردوں نے گھڑی عمر کی اِک اور گھٹا دی !
Ayah 70:32

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس کرنے والے ہیں۔

آیت 32{ وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رٰعُوْنَ۔ } ”اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس کرنے والے ہیں۔“ یہ چاروں آیات سورة المومنون میں بھی آیت 5 ‘ 6 ‘ 7 اور 8 کے طور پر جوں کی توں آئی ہیں۔ البتہ اگلی آیت میں اہل ایمان کی سیرت کی ایک اضافی صفت کا ذکر ہے جو سورة المومنون کی مذکورہ آیات میں بیان نہیں ہوئی :
Ayahs 70:33–36

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جو اپنی نماز کی محافظت کرتے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جو جنتوں میں ہوں گے اور وہاں ان کا اعزازو اکرام ہوگا۔

فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ Open ayah 70:36 in the Quran reader

تو (اے نبی ﷺ !) ان کافروں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ آپ کی طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔

آیت 33{ وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِشَہٰدٰتِہِمْ قَآئِمُوْنَ۔ } ”اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔“ دراصل گواہی بھی ایک امانت ہے اور جو شخص غلط گواہی دیتا ہے یا گواہی کو چھپا لیتا ہے وہ امانت میں خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ سورة البقرۃ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِط } آیت 140 ”اور کان کھول کر سن لو اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جس کے پاس اللہ کی طرف سے ایک گواہی تھی جسے اس نے چھپالیا ؟“ علمائے یہود کے پاس نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت کے بارے میں اللہ کی طرف سے گواہی تھی ‘ انہوں نے اس گواہی کو چھپا کر اللہ کی امانت میں خیانت کی۔ سورة البقرۃ کی اس آیت میں اسی گواہی کو چھپانے کا ذکر ہے۔
Ayahs 70:37–38

عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ Open ayah 70:37 in the Quran reader

دائیں اور بائیں سے غول در غول۔

اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ Open ayah 70:38 in the Quran reader

کیا ان میں سے ہر ایک واقعتا اس کا خواہش مند ہے کہ وہ نعمت بھری جنت میں داخل کیا جائے گا ؟

آیت 37{ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ۔ } ”دائیں اور بائیں سے غول در غول۔“ دراصل مشرکین کو ہر وقت یہ دھڑکا لگتا رہتا تھا کہ جس کسی نے بھی حضور ﷺ سے قرآن سن لیا وہ ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ اس لیے حضور ﷺ جب لوگوں کو قرآن سنانے کے لیے کہیں کھڑے ہوتے تو وہ ہر طرف سے دوڑیں لگا کر آپ ﷺ کے پاس پہنچ جاتے۔ ایسا دراصل وہ لوگوں کو حضور ﷺ کے گرد جمع ہونے سے روکنے کے لیے کرتے تھے ‘ تاکہ وہ آپ ﷺ کی زبان مبارک سے قرآن نہ سن سکیں۔
Ayah 70:39

كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 70:39 in the Quran reader

ہرگز نہیں ! ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اس چیز سے جس کو وہ جانتے ہیں۔

آیت 39{ کَلَّاطاِنَّا خَلَقْنٰـہُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ۔ } ”ہرگز نہیں ! ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اس چیز سے جس کو وہ جانتے ہیں۔“ یعنی ہر انسان جانتا ہے کہ اس کی تخلیق گندے پانی کی ایک بوند سے ہوئی ہے۔
Ayah 70:40

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ Open ayah 70:40 in the Quran reader

تو نہیں ! قسم ہے مجھے مشرقوں اور مغربوں کے ربّ کی

آیت 40{ فَلَآ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ } ”تو نہیں ! قسم ہے مجھے مشرقوں اور مغربوں کے ربّ کی“ قرآن مجید میں صیغہ واحد کے طور پر تو مشرق اور مغرب کا ذکر بہت مرتبہ آیا ہے۔ سورة الرحمن کی آیت 17 میں رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَیْنِبھی ہے ‘ جبکہ آیت زیر مطالعہ میں دونوں سمتوں کے لیے جمع کے صیغے آئے ہیں۔ مشرق و مغرب سے متعلق ان تینوں صیغوں واحد ‘ تثنیہ اور جمع کی وضاحت سورة الرحمن کی آیت 17 کے تحت کی جا چکی ہے۔ { اِنَّا لَقٰدِرُوْنَ۔ } ”یقینا ہم قادر ہیں۔“