70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 70:1

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

مانگا، ایک مانگنے والے نے عذاب کو جو کافروں پر واقع ہونے والا ہے،1۔

1۔ (کہ آخر وہ آکیوں نہیں چکتا جس کا اتنی مدت سے وعدہ کیا جارہا ہے) (آیت) ” سال سآئل “۔ یہ سوال اور مطالبہ ظاہر ہے کہ تضحیک وتعریض کی راہ سے تھا۔ روایتوں میں آتا ہے کہ یہ کہنے والا نضر بن الحارث المکی تھا۔ بعض روایتوں میں ابوجہل کا نام آیا ہے۔ (آیت) ” بعذاب “۔ ب یہاں عن کے مرادف ہے۔
Ayahs 70:2–3

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

جس کا کوئی دفع کرنے والا نہیں ،

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

اور جو) اللہ کی طرف سے ہوگا (جو) زینوں کا مالک (ہے) ،2۔

2۔ (یعنی آسمانوں کا مالک) (آیت) ” ذی المعارج “۔ معرج جس کی جمع معارج ہے اس کے لفظی معنی آلہ عروج یاسیڑھی کے ہیں یہاں مراد آسمانوں سے ہے جو ایک کے اوپر ایک ہیں اور اس پر فرشتے چڑھتے اترتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” من اللہ “۔ اس کا تعلق لفظ متصل دافع سے بھی سمجھا گیا ہے۔ اور آیت ماقبل کے لفظ واقع سے بھی، یعنی یہ مراد بھی لی جاسکتی ہے کہ اس عذاب کا اللہ کی طرف سے کوئی روکنے والا نہیں۔ اور یہ مراد بھی کہ وہ عذاب کافروں پر اللہ کی طرف سے واقع ہوگا اور حاصل دونوں ترکیبوں کا ایک ہی ہے۔ اہل لطائف ومشائخ صوفیہ نے کہا ہے کہ اللہ کی صفت (آیت) ” ذی المعارج “۔ لانے میں (2) دونکتے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ اس میں طالب سالک کے لئے تسکین و تسلی ہے کہ وہ اپنی سعی وستعداد کے مطابق جس مقام پر بھی قدم رکھے گا، ذات کبریائی اس کی پذیرائی کرے گی، دوسرے یہ کہ اس میں طالب سالک کی شوق افزائی کی ہے کہ وہ جس منزل پر پہنچ چکا ہو، اس پر قناعت نہ کرے، بلکہ آگے ہی بڑھتے رہنے کی کوشش کرے !
Ayah 70:4

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

فرشتے اور روحیں اس کے پاس چڑھ کرجائیں گی، ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی،3۔

3۔ (اس دنیا کی مقدار مدت کے حساب سے) اتنی طویل مدت (جیسا کہ سیاق اشارہ کررہا ہے) کافروں ہی کو معلوم ہوگی، اور ان کے حق میں یہ امتداد، اشتداد ہی کی طرح خود ایک عذاب الیم ہوگا۔ رہے اہل ایمان، جن کی شان میں بار بار (آیت) ” لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔ اور ” لا یحزنھم الفزع الاکبر “۔ اور ” ھم من فزع یومئذ امنون “۔ وغیرہ کی بشارتیں قرآن مجید میں آچکی ہیں۔ حسب تصریح احادیث یوم حشر ان کے لئے بالکل ہلکا پھلکا ہوگا۔ (آیت) ” تعرج المآئکۃ والروح “۔ یہ فرشتے اور ارواح انہیں آسمانی زینوں سے چڑھتے اترتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” الروح “۔ روح بطور اسم جنس کے آیا ہے۔ اور مراد اہل ایمان کی روحیں ہیں۔ الیہ مراد عالم بالا کے وہ مقامات ہیں جو فرشتوں اور روحوں کے منتہائے عروج ہیں۔ اے الی عرشہ ومھبط امرہ (مدارک) لفظ الی سے حق تعالیٰ کی تجسیم ومکانیت پر استدلال سرتاسر لغو ہے الی کا منسوب الیہ جب کبھی بھی غیر مادی یا غیر مکانی ہوتا ہے تو الی کے مفہوم میں صرف توجہ والتفات شامل رہتا ہے۔ مثلا الی الکفر “۔ الی الایمان، الی الخیر “۔ وغیرہ میں، اور خود قرآن مجید کی اس قسم کی آیات میں۔ (آیت) ” والیہ یرجع الامر کلہ “۔ والی اللہ ترجع الامور “۔ وغیرہ۔ فلیس المراد منہ المکان بل المراد انتہاء الامر الی مرادہ (کبیر)
Ayah 70:5

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

سو آپ صبر کیجئے اور صبر بھی جمیل،4۔

4۔ جس میں شکوہ وشکایت کا نام بھی نہ ہو۔ (آیت) ” فاصبر “۔ یعنی آپ معاندین کے طنز و استہزاء پر صبر کرتے رہیے۔
Ayahs 70:6–7

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

یہ لوگ اس دن کو دور دیکھ رہے ہیں ،

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں،5۔

5۔ (اور انہیں اس کے قرب سے آگاہ بھی کرتے جاتے ہیں۔ ) (آیت) ” نراہ قریبا “۔ حق تعالیٰ کا دیکھنا چونکہ ہمیشہ مطابق واقع ہی ہوتا ہے۔ اس لئے گویا یہ بتادیا کہ وہ دن واقعۃ بہت ہی قریب آلگا ہے۔ (آیت) ” انھم یرونہ بعیدا “۔ ان کا اس دن کو دور سمجھنا تمامتر ان کی ارادی غفلت ومدہوشی کا نتیجہ ہے۔ (آیت) ” بعیدا۔ قریبا “۔ بعید سے مراد بعید از قدرت اور قریب سے مراد اندرون قدرت لی گئی ہے۔ فالمراد بالبعید البعید من الامکان وبالقریب القریب منہ (کبیر)
Ayahs 70:8–11

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

جس دن کہ آسمان کی تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوجائے گا ،

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور پہاڑ رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے ،

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا ،

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

حالانکہ وہ انہیں دکھا بھی دئیے جائیں گے،6۔ مجرم (تو اس روز بس) اس کی تمنا کرے گا کہ اس روز کے عذاب سے چھوٹنے کیلئے اپنے بدلہ میں فدیہ دے دے، اپنے بیٹوں کو

6۔ یعنی ایسی نفسی نفسی اس وقت پڑی ہوگی کہ غیر تو کیا کام آئیں گے خود اپنے قریبی بھی بات تک نہ پوچھیں گے۔ (آیت) ” یوم “۔ یعنی کافروں پر یہ عذاب اس دن واقع ہوگا، جس کی کیفیت اب بیان ہورہی ہے۔ امتداد یوم حشر کا بیان ابھی ہوچکا ہے۔ اب تفصیلات اس روز کے اشتداد کی بیان ہورہی ہیں۔ (آیت) ” کالمھل “۔ یعنی تلچھٹ کی طرح سیاہی مائل انتہائی سرخی کے ڈانڈے سیاہی سے مل جاتے ہیں۔ اس لئے اس بیان اور (آیت) ” کانت السمآء وردۃ کالدھان “۔ میں کوئی تناقص نہیں۔ اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ سرخی اور میلان بسیاہی یہ (2) مختلف رنگتیں (2) مختلف حالتوں کی ہوں۔ (آیت) ” السمآء کالمھل “۔ الجبال کالعھن “۔ جب آسمان اور پہاڑ جیسی زبردست اور مستحکم چیزیں یوں نکمی نکل جائیں گی تو دوسری موجودات کا کیا ذکر ! (آیت) ” تکون الجبال کالعھن “۔ پہاڑوں کی تشبیہ رنگین اون سے شاید اس لئے دی گئی کہ پہاڑ بھی مختلف رنگ کے ہوتے ہیں۔
Ayahs 70:12–14

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اور اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو ،

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اور اپنے کنبہ کو جس میں وہ بسر کرتا ہے،

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور تمام اہل زمین کو (کہ) پھر (یہ فدیہ) اسے (عذاب سے) بچا لے،7۔

7۔ (آیت) ” المجرم “۔ مجرم سے مراد کافر ہے۔ اے المشرک (معالم۔ مدارک) المجرم ھو الکافر (کبیر) کافروں کی حالت اس روز یہ ہوگی کہ دنیا میں جس جس پر جان فدا کرتے تھے، ان تک کو اپنی جان بچانے کے لئے عذاب الہی کے حوالے کرتے جائیں گے۔
Ayahs 70:15–18

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

یہ ہرگز نہ ہوگا وہ آگ ایسی شعلہ زن ہے ،

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

کہ کھال (تک) اتار دے گی،

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

اور وہ اس شخص کو بلاوا دے گی جس نے پیٹھ پھیری ہوگی اور روگردانی کی ہوگی ،

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور (مال) جمع کیا ہوگا، اور اس کو اٹھا اٹھا رکھا ہوگا،8۔

8۔ (دوسروں کا حق کاٹ کاٹ کر) (آیت) ” کلا ..... للشوی “۔ ذکر دوزخ کی دہکتی ہوئی آگ کا ہے کہ وہ کسی کی رورعایت کرنا کیا جانے۔ اور اس کے سامنے ذکر عوض وفدیہ کا کیسا ! (آیت) ” اوعی “۔ کنایہ ہے کمال بخل سے۔ یہ ضرور نہیں کہ کوئی شخص واقعۃ اپنے نقد ومال کو اٹھا اٹھا کر الماریوں اور تجوریوں کے اندر سمیٹ کر رکھے۔ (آیت) ” من ادبر وتولی “۔ یعنی جب دنیا میں ایمان وطاعت کی طرف بلائے جاتے تھے تو بلانے والے کی طرف سے اور اعراض ونفرت کرتے ہوئے بھاگتے تھے۔ مطلب دونوں آیتوں کو ملا کر یہ ہوا کہ حقوق اللہ وحقوق العباد دونوں کو کافر نے دنیا میں ضائع کیا، اور اس سے فساد عقائد اور فساد اخلاق دونوں کی جانب اشارہ ہوگیا۔ کافر کے نفس عذاب کے لئے تو کفر ہی کافی ہے عذاب میں مزید اشتداد البتہ فروع کی بناء پر ہوگا۔
Ayahs 70:19–21

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

انسان بےہمت پیدا ہوا ہے ،

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

کہ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو جزع فزع کرنے لگتا ہے،

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب اسے خوشحالی ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے،9۔

9۔ (آیت) ” الانسان “۔ انسان سے اس سیاق میں مراد کافر انسان ہے جیسا کہ معا بعد اہل ایمان کے استثناء سے ظاہر ہورہا ہے۔ (آیت) ” ھلوعا “۔ اس بدہمتی سے مراد طبعی، جبلی بدہمتی مراد نہیں بلکہ اس کے اختیاری واکتسابی آثار مادی مراد ہیں۔ (آیت) ” جزوعا “۔ یعنی جزع فزع کرنے میں قدم حد اباحت سے آگے بڑھا رہتا ہے۔ (آیت) ” منوعا “۔ یعنی ادائے حق ضروری میں بھی بخل کرنے لگتا ہے۔
Ayahs 70:22–26

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

ہاں البتہ وہ نمازی ،

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

اس حکم میں داخل نہیں) جو اپنی نماز میں برابر لگے رہتے ہیں ،

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

اور جو اپنے مال میں حق رکھتے ہیں جانا ہوا سوالی ،

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

اور بےسوالی (سب) کا ،

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

اور جو جزاء کے دن کی تصدیق کرتے رہتے ہیں،10۔

10۔ اور اس بنیادی عقیدۂ تصدیق سے اہل ایمان کے سارے اعمال طاعت کی شاخیں ہوگئی ہیں۔ (آیت) ” الذین ..... دآئمون “۔ یعنی اپنی نمازوں کی پوری محافظت و مداومت رکھتے ہیں۔ انہیں کبھی ناغہ نہیں ہونے دیتے۔ عن عائشۃ ؓ قالت کان احب الصلوۃ الی رسول اللہ ﷺ مادیم علیہ (جصاص) قیل المراد بذلک الذین اذا عملوا عملا اداموا علیہ واثبتوہ (ابن کثیر) یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں۔ کہ ہر وقت نماز کے خیال میں لگے رہتے ہیں کہ ادھر وقت آئے اور ادھر نماز شروع کردیں۔ عن ابن مسعود ؓ قال دائمون علی مواقیتھا (جصاص) قیل معناہ یحافظون علی اوقا تھا وواجباتھا قال ابن مسعود ؓ ومسروق وابراھیم النخعی (ابن کثیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ نمازیوں کا ہلوع یعنی بدہمت نہ ہونا دلیل ہے اس کی کہ طاعات کو قوت قلب و تحمل شدائد میں دخل عظیم ہے۔ اور اس اثر کا مشاہدہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ (آیت) ” فی ..... المحروم “۔ طاعات بدنی کا اجمالی ذکر ابھی نماز کے ضمن میں آچکا ہے۔ طاعات مالی کا ذکر اب آرہا ہے۔ (آیت) ” حق معلوم “۔ یعنی وہ حق جو شرعا معین ہے یا عقلا مسلم ہے۔ (آیت) ” للسآئل والمحروم “۔ یعنی جس کا جو درجہ شریعت نے مقرر کردیا ہے کہ بس اس کے مطابق وماتحت۔ (آیت) ” المحروم “۔ محروم کی تشریح میں کہا گیا ہے کہ ہر وہ شخص ہے جو کوئی زریعہ معاش نہ رکھتا ہو۔ عن ابن عباس ؓ المحروم الذی لایستقیم لہ تجارۃ (جصاص) قال ابو قلابۃ المحروم من ذھب مالہ (جصاص) اے الذی لم یوسع علیہ الرزق کما وسع علی غیرہ (راغب)
Ayahs 70:27–31

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرتے رہنے والے ہیں ،

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

بیشک ان کے پروردگار کا عذاب نڈر رہنے والی چیز ہے بھی نہیں،

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے شرمگاہوں کو محفوظ رکھنے والے ہیں،

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

ہاں اگر اپنی بیویوں اور باندیوں سے (حفاظت نہ کریں) تو ان پر کوئی ملامت نہیں ،

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

البتہ جو کوئی اس کے علاوہ (شہوت رانی کا) طلبگار ہوا، تو یہ لو حد (شرعی) سے نکل جانے والے ہیں،11۔

11۔ ان سب آیتوں کے لئے ملاحظہ ہوں سورة ال مومن ون (پ 18) کے پہلے رکوع کے ابتدائی حواشی ، (آیت) ” لفروجھم حفظون “۔ اس سے ادھر اشارہ ہوگیا کہ علاوہ حرامکارہ کے اس کے مبادی ومقدمات بھی ناجائز ہیں۔ (آیت) ” فمن ..... العدون “۔ اس آیت نے غیر طبعی اور غیر شرعی شہوت رانی کی ساری صورتوں کو حرام قرار دے دیا۔ وھذہ الایۃ تدل علی حرمۃ المتعۃ ووطیء الذکر ان والبھائم والاستمناء بالکف (مدارک)
Ayah 70:32

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا خیال رکھنے والے ہیں،

12۔ (ٹھیک ٹھیک اور بغیر کمی بیشی کے، بغیر کسی کی رورعایت کے، بلاکسی دباؤ یا لالچ کا اثر لئے ہوئے) (آیت) ” لامنتھم “۔ یعنی ان امانتوں کا خیال رکھنے والے جو انہوں نے اپنی سپردگی میں لی ہیں۔ (آیت) ” وعھدھم “۔ یعنی ان عہدوں کو پورا کرنے والے جو وہ دوسروں سے کرچکے ہیں۔
Ayahs 70:33–35

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی گواہیوں کے ادا کرنے والے ہیں،12۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی نمازوں کی پابندی رکھتے ہیں،

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

یہی لوگ بہشتوں میں عزت سے داخل ہوگے،13۔

13۔ محققین نے کہا ہے کہ اعمال حسنہ کی فہرست کو شروع بھی نماز کے ذکر سے کرنا اور ختم بھی اسی کرنا اس کی دلیل ہے کہ اعمال طاعت میں اولین وعظیم ترین اہمیت نماز ہی کو حاصل ہے۔ فافتح الکلام بذکرالصلوۃ واختتمہ بذکرھا فدل علی الاعتناء بھا والتنویہ بشرفھا (ابن کثیر)
Ayahs 70:36–37

فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ Open ayah 70:36 in the Quran reader

تو ان کافروں کو کیا ہوا ہے کہ آپ دوڑے چلے آتے ہیں ،

عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ Open ayah 70:37 in the Quran reader

داہنے اور بائیں سے ٹولیاں بن بن کر،14۔

14۔ (ان مضامین وتعلیمات کی تصدیق کے لئے نہیں بلکہ الٹے ان کی تکذیب وتضحیک کیلئے) (آیت) ” فمال الذین کفروا “۔ ف۔ سے ادھر اشارہ ہوگیا کہ ان موجبات سعادت وشقاوت کی پوری تحقیق ہوجانے کے بعد بھی۔
Ayahs 70:38–39

اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ Open ayah 70:38 in the Quran reader

کیا ان میں سے ہر شخص اس کی ہوس رکھتا ہے کہ آسائش کی جنت میں داخل ہو کر لیاجائے گا ؟ ،

كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 70:39 in the Quran reader

ہرگز نہیں، ہم نے انہیں پیدا کیا ہے اس چیز سے جس سے سب واقف ہی ہیں،15۔

15۔ (اور پھر بھی یہ امکان بعث میں شک ہی کئے جاتے ہیں۔ اور ہماری قدرت پر ذرا غور نہیں کرتے) (آیت) ” ایطمع “۔ اس سے ادھر اشارہ ہوگیا کہ اپنی حماقت وسفاہت سے یہ اپنی ہی کو حق پر سمجھے ہوئے اس خیال خام میں ہیں کہ مرنے کے بعد ان کے لئے چین ہی چین ہے۔ (آیت) ” کلا “۔ موجبات عذاب کے تحقق کے ساتھ عیش بعد الموت کیسے جمع ہوسکتا ہے ! (آیت) ” ممایعلمون “۔ یعنی نطفہ جیسی حقیر چیز سے۔
Ayah 70:40

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ Open ayah 70:40 in the Quran reader

تو میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے پروردگار کی،16۔ کہ ہم ان پر قادر ہیں ،

16۔ (یعنی خود اپنی) آگے ذکر قدرت کاملہ کا ہے اس مناسبت سے یہاں اپنا ایک اسم وصفی لاکر گویا اسی وصف کو بطور شہادت کے پیش کیا ہے۔ مشارق جمع ہے مشرق کی اور مغارب جمع ہے مغرب کی۔ آفتاب کے طلوع و غروب کے نقاط سال میں برابر بدلتے رہتے ہیں، جیسا کہ علم ہئیت کے ہر طالب علم پر واضح ہے۔ قرآن مجید نے ہر ہر نقطہ طلوع کو ایک مشرق اور ہر ہر نقطہ غروب کو ایک مغرب قرار دے کر اسی فلکیاتی حقیقت کی جانب اشارہ کردیا۔ مشرک اور جاہلی قوموں نے مشرق، اور مغرب، جنوب مشرق، ، جنوب مغرب، شمال، شمال مغرب، شمال مشرق وغیرہ کے جو الگ الگ دیوتا، یا، لوک بال تجویز کر رکھے تھے، اسی ایک نام (آیت) ” رب المشرق والمغرب “۔ کو لاکر قرآن نے اس سارے عقیدہ کی تردید کردی کہ یہ کیا مہملات و خرافات ہیں۔ ہر سمت اور ہر جہت کا مالک وہی ایک پروردگار برحق ہے۔