70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsسراج البیان

Ayahs 70:1–3

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

ایک مانگنے والے نے وعدہ عذاب مانگا جو واقع ہونے والا ہے

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

وہ کافروں کے لئے ہے اس کو کوئی ہٹا نہیں سکتا

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

عذاب اس اللہ کی طرف سے جو سیڑھیوں (ف 1) والا ہے

سورة المعارج 1: سال سائل سے یا تو کوئی ایک شخص مراد ہے ۔ جیسا کہ بعض روایات میں آتا ہے ۔ کہ نضرین حارث نے مطالبہ کیا تھا ۔ کہ وہ عذاب جس کا آپ وعدہ کرتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں ۔ کہ تکذیب کی صورت میں اس کا آنا ناگریز ہے ۔ وہ کیوں نہیں آتا ۔ وہ آئے اور ہم کو فنا کے گھاٹ اتاردے ۔ یا کوئی شخص مراد نہیں ہے ۔ بلکہ پوری قوم مراد ہے ۔ کہ نزول وعید کی پیشگوئی کو سن کر ان کے دلوں میں شکوک پیدا ہوئے ۔ اور انہوں نے ان شکوک کا مذکرہ ایک دوسرے سے کیا ۔ اس پر اس سورت میں سال سائل کے انداز میں جواب مرحمت فرمایا گیا ب عذاب واقع میں (با) ظن کے معنے میں ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں دوسری جگہ بھی آئا ہے ۔ فاسئل بہ یچلوا حالانکہ غرض یہ کہ فاسئل عنہ خبیرا ۔ ایک شعر ہے ؎ فان تسئلونی با النساء فانطن بصیرا بارعاء النساء طبیب مقصد یہ ہے ۔ چونکہ بتقاضائے کرم و بخشش عذاب کے آنے میں تاخیر ہورہی ہے ۔ اس لئے یہ لوگ شک وارتعاب کا اظہار کررہے ہیں ۔ حالانکہ جس کے نوح میں کوئی استحالہ نہیں ۔ جب وہ آجائے گا ۔ اس کو دنیا کی کوئی قوت ہٹا نہیں سکتی ۔ نادان یہ نہیں سوچتے ۔ کہ جس خدا نے اس بزم رنگین کو سجایا ہے ۔ وہ اس کو برباد کردینے پر کیوں قادر نہیں ۔ اگر وہ چاہے کہ اس ساری کائنات کو بوجہ اس کی نافرمانیوں کے ہلاک کردے ۔ تو کون ہے ۔ جو اسکے اس ارادے میں مزاحم ہوسکے اس کے بعد ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ وہ خدا جس کی جانب سے یہ عذاب آنے والا ہے ۔ وہ سراسر عفو وکرم کا مالک ہے ۔ اس لئے وہ مہلت دیتا ہے ۔ اور تم ہو کہ اس کی مہربانی سے بالکل ناجائز استفادہ کرتے ہو ۔ حالانکہ اس کا تقاضا یہ ہونا چاہیے ۔ کہ تم لوگ ذیاممنونیت سے اس کے سامنے جھک جاؤ۔ اور اس کی حمدوثنا کے زمزموں سے عالم انسانی کو نج پیدا کردو ۔ باقی صفحہ حل لغات :۔ بدی المعارج ۔ حضرت قتادہ کہتے ہیں ذی اسف انسل وقسعم ۔ یعنی صاحب بخشش وکرم بعیدا ۔ عقل وامکان سے دور حکیم ۔ دوست ۔
Ayah 70:4

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

فرشتے اور روح (جبرائیل) اس کی طرف چڑھتے ہیں ۔ اس دن میں وہ عذاب ہوگا ۔ جس کی مقدار پچاس (ف 2) ہزار برس کی ہے

ف 2: ابو مسلم کے نزدیک اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ اس میں دنیا کی عمر کی طرف اشارہ ہے ۔ یعنی فرشتوں کے ابتدائی نزول سے لے کر آخری عروج وصعود تک کا عرصہ پچاس ہزار سال ہے ۔ 3: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ لوگ اس عذاب کو بعید اور مستفید قرار دیتے ہیں ۔ مگر ہم یہ سمجھتے ہیں ۔ کہ یہ بالکل قریب ہے ۔ وہ دن آنے والا ہے جب یہ آسمان تیل کی تلچھٹ جیسا سرخ ہوجائے گا ۔ پہاڑ باوجود اپنی صلابت کے رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے ۔ اس وقت کوئی دوست کسی دوست کے کام نہیں آسکے گا ۔
Ayahs 70:5–11

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

پس تو اچھی طرح صبر کر

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

وہ اسے دور دیکھتے ہیں

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہم اسے قریب دیکھتے ہیں

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

جس دن آسمان پگھلے تانبے کی مانند ہوجائے گا

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور پہاڑ ایسے ہوں گے جیسے رنگی ہوئی اون

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

حالانکہ انہیں دکھلائے جائیں گے ۔ مجرم آرزو کریگا کہ کاش اس دن کے عذاب سے چھوٹنے (ف 1) کے عوض اپنے بیٹے دیدے

ف 1: آج یہ لوگ اس واقعہ کا مضحکہ اڑاتے ہیں ۔ مگر اس وقت یہ چاہیں گے کہ فدیہ میں اپنے بیٹوں کو دے دیں ۔ اور بچ جائیں ۔ اپنی بیوی اور بھائی کو قربان کردیں ۔ اور نجات حاصل کرلیں ۔ اپنے کنبے کو اور ساری دنیا کودے دیں ۔ اور کسی طرح عذاب الٰہی سے چھوٹ جائیں ۔
Ayahs 70:12–35

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اور اپنی بیوی اور اپنا بھائی

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اور اپنا سارا گھرانا جس میں رہتا تھا

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور جتنے زمین میں ہیں (وہ سب دے ڈالے) پھر یہ فدیہ اسے چھڑائے

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

ہرگز نہ چھوٹے گا

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

وہ تپتی آگ ہے منہ کی کھال کھینچنے والی

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

وہ آگ اس آدمی کو جس نے پیٹھ پھیری اور منہ موڑا پکارتی ہے

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور جس نے مال جمع کرکے بند رکھا

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

بیشک آدمی جی کا کچا پیدا کیا گیا ہے

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو بےچین ہوجاتا ہے

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب اسے بھلائی پہنچتی ہے تو بخیل بےتوفیق بن جاتا ہے

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

مگر نمازی لوگ

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو اپنی نماز پر قائم ہیں

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

اور وہ جن کے مالوں میں حصہ مقرر ہے

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

منگتے اور ہارے کا

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

اور جو انصاف کے دن کا یقین رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

اور اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

بیشک ان کے رب کا عذاب وہ چیز ہے جس نڈر نہیں ہونا چاہیے

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت رکھتے ہیں

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

مگر اپنی بیویوں یا اپنے ہاتھ کے مال (باندیوں) سے کہ اس میں ان پر الزام نہیں

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

پھر جو کوئی اس کے سوا ڈھونڈے تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

اور اپنی گواہیوں پر قائم رہتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور جو اپنی نماز سے خبردار ہیں

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

وہی لوگ عزت سے باغوں میں ہوں گے

نمازی کی سیرت 2: قرآن حکیم یہ خوبی شان امتیاز رکھتی ہے ۔ کہ اس میں حقائق نفسیات کا بھی مذکر ہے ۔ یعنی اس کتاب علم ومعرفت میں یہ بھی بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی فطرت کیا ہے ؟ فرمایا ۔ اس میں ایک ہم گیر عیب یہ ہے ۔ کہ یہ کم ہمت اور بےصبر ہے ۔ اگر اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو بلبلا اٹھتا ہے ۔ اور نالہ وشیون سے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے ۔ اور جہاں بیٹھتا ہے اسی بات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ کہ میں بہت مصیبت زدہ ہوں ۔ مجھ کو فلک ستم شیوہ نے بہت دکھ پہنچایا ہے ۔ اور اگر برے دن پھرجائیں اور آسودہ حال ہوجائے ۔ تو پھر انتہا درجے کا بخیل اور ممسک ہوجاتا ہے ۔ پائی پائی کو گنتا ہے ۔ اور پیسے پیسے کا حساب رکھتا ہے ۔ اور اگر کوئی محتاج اور فقیر اس کے دروازے پر دستک دے اور صدقہ اور خیرات کی آرزو رکھے ۔ تو اس کو مایوس کرکے لوٹاتا ہے ۔ اور کہتا ہے ۔ کہ میں نے جو دولت حاصل کی ہے اپنی محنت اور قابلیت سے کی ہے تم کو کیوں دوں ۔ اور تمہارے خدا کا کیا احترام کروں ۔ جاؤ خود کماؤ ۔ اور خود کھاؤ۔ ہاں نمازی اس عیب سے یک قلم بری ہوتے ہیں ۔ خدائے آسمان و زمین کی عبادت کی وجہ سے ان کا ظرف عالی ہوجاتا ہے ۔ ان کا تعلق چونکہ بڑی سرکار سے ہوتا ہے ۔ اس لئے قلب میں وسعت اور حوصلہ مندی نمایاں ہوتی ہے ۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں ۔ جو وقع اس ذوق عبودیت کے جذبہ کو برقرار رکھتے ہیں ۔ ان کے مال و دولت میں مانگتے ہوں اور محتاجوں کا ایک مقرر حصہ ہوتا ہے ۔ یہ بیشک اس متعین مقدار کو اور نہیں کرلیتے ۔ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے ۔ ان کو دروازے سے مایوس ہوکر نہیں لوٹتا ۔ ان کے دل میں خدا کا خوف ہوتا ہے ۔ یہ قیامت پر ایمان رکھتے ہیں ۔ اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہی ۔ اور کیوں نہ ڈریں ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی وقت بھی انسان آفات سماوی وارضی کی طرف سے محفوظ نہیں ہے ۔ یہ عفیف اور پاکباز ہوتے ہیں ۔ اور جنسیات پر پورا پورا ضبط واختیار رکھتے ہیں ۔ اور بجز اپنی رفیقہ حیات یا مملوکہ کے اور کسی سے صنفی تعلق نہیں رکھتے ۔ یہ اس لئے فرمایا ۔ کہ بالکل قطع تعلق اور جنسیات سے علیحدگی معاف نہیں ہے جبکہ رہبانیت ہے جس کو اسلام ہرگز پسند نہیں کرتا ۔ عقاف کے معنے اسلام میں یہ ہیں کہ بیوی تو موجود ہے ۔ مگر اس کے سوا اور کسی عورت سے جنسی تعلق نہ ہو ۔ ان میں یہ خوبی بھی ہوتی ہے انکو امانت اور عہد کا بہت پاس ہوتا ہے ۔ اور گواہی پر اپنی مضبوطی کے ساتھ قائم رہتے ہیں ۔ اور پھر نمازوں پر کامل توجہ مبذول کرتے ہیں ۔ اور خشیت و خضوع کے ساتھ اس فرض کو ادا کرتے ہیں ۔ یہی لوگ عنداللہ مکرم اور مضتحر ہیں ۔ اور جن کے دائمی رہنے کی جگہ باغات ہیں ۔ واضح رہے کہ قرآن کی ان آیات میں عام انسانوں سے نمازی کو مستثنیٰ قرار دیا ہے ۔ اور فرمایا ہے ۔ کہ اس کی فضیلت ان عام انسانوں سے الگ ہوتی ہیں ۔ اور پھر ان کی تفصیل بیان فرمائی ہے ۔ جس سے بادنی تامل معلوم ہوجاتا ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نمازی کی کتنی عزت و حرمت ہے اور وہ نمازی سے کن عادات واخلاق کا متوقع ہے ۔ نمازی کو یہاں بطور ایک صاحب سیرت انسان کے بیان کیا ہے ۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں ۔ کہ مسلمانوں کے لئے صرف یہ کافی نہیں ہے ۔ کہ قبلہ رو ہوکر مسجد میں اس کے سامنے کھڑے ہوجائیں ۔ اور چند مقررہ حرکات کو معرض عمل میں لے آئیں ۔ بلکہ ضرورت اس بات کی ہے ۔ کہ نماز کی حقیقی اہمیت کو سمجھیں ۔ اور اس کے ظاہر کے ساتھ اس کی معنویت کو بھی اپنے میں پیدا کریں ۔ اس کو پر جائے عادت اختیار نہ جریں ۔ بلکہ اصلاح وترفع کی ایک تحریک سمجھیں نتیجہ یہ ہوگا ۔ کہ مندرجہ بالا تمام خوبیاں خود بخود پیدا ہوجائیں گی ۔ حل لغات :۔ فضیلۃ ۔ کنبہ ھولعا ۔ کم ظرف ۔ نہایت حریص ۔ بےصبر جزوعا ۔ گھبرا اٹھنے والا متوعا بخیل وممسک ۔ حل لغات :۔ مشفقون ۔ ڈرتے ہیں العدون ۔ حد شرعی سے تجاوز کرنے والا ۔