Ayah 70:1سال سائل . ایک مانگنے والے نے درخواست کی۔ یہ مانگنے والا نضر بن حارث تھا۔ اس نے کہا تھا اے اللہ ! اگر یہ
تیری طرف سے واقعی ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا ‘ یا کوئی اور دکھ والا عذاب ہم پر لے آ۔ (ابن عباس ؓ حسب بیان نسائی و ابن ابی حاتم)
ابن ابی حاتم نے سدی کی روایت سے بیان کیا کہ وہ (مطلوبہ) عذاب بروز بدر آیا۔ اوّل روایت کی بناء پر سوال سے مراد یہی دعا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ سالؔ کا مفعول عذاب کو بواسطۂ باء قرار دیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حسب قراءت نافع سال (الف کے ساتھ) ہو (سال نہ ہو) اس وقت سیلان (بہنا) سے مشتق ہوگا۔ سائلٌ بہنے والا (یعنی نالا) مطلب یہ کہ عذاب وادی سے بہہ نکلا۔ مراد یہ ہے کہ عذاب کا وقوع متحقق ہوگیا (عذاب یقینی آگیا) دنیا میں بصورت قتل بدر اور آخرت میں عذاب دوزخ۔ بغوی نے کہا : سائل جہنم میں ایک وادی (پہاڑی نالہ) ہے۔ عبدالرحمن بن زید بن اسلم کی طرف اس قول کی نسبت کی جاتی ہے۔
ابن المنذر نے بیان کیا کہ حسن بصری (رح) نے فرمایا کہ سال ‘ سائل بعذاب واقع نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا : کس پر عذاب آئے گا ؟ اس پر اللہ نے نازل فرمایا : للکافرین لیس لہ دافع۔ اس تشریح کی بناء پر سوال (دعاء کے طور پر نہ ہوگا بلکہ) پوچھنے کے لیے ہوگا اور بعذاب میں باء بمعنی عن ہوگی لیکن سوال چونکہ اہم چیز کو متضمن ہے اس لیے بجائے عن کے باء ذکر کیا گیا (یعنی پوچھنے والے نے عذاب کے متعلق دریافت کیا) ۔
بعذاب واقع . واقع عذاب کی صفت ہے۔
Ayah 70:2للکافرین . یہ عذاب کی دوسری صفت ہے یا و اقع سے متعلق ہے اور اگر یہ سوال ہو کہ کن لوگوں پر عذاب واقع ہوگا
تو سوال کا یہ جواب ہوگا (کہ کافروں پر واقع ہوگا) اور لیس لہ دافع عذاب کی صفت ہوگا یا جواب کے دائرہ میں آئے گا۔
لیس لہ دافع من اللہ . چونکہ اللہ کا ارادہ عذاب سے متعلق ہوجائے گا اس لیے خدا کی طرف سے اس عذاب کو
دفع کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔
Ayah 70:3ذی المعارج . اللہ کی صفت ہے یعنی ترقیات والا اللہ۔ سعید بن جبیرنے تشریح میں فرمایا : درجات والا اللہ۔ میں کہتا
ہوں درجات سے مراد ہیں۔ بےکیف قرب الٰہی کے وہ مراتب جن پر انبیاء و ملائکہ اور اولیاء فائز ہوتے ہیں اور قبول کے وہ درجات جہاں تک پاکیزہ کلمات اور نیک اعمال کو بلندی نصیب ہوتی ہے یا مراد ہیں دارالثواب میں ترقیات اور جنت میں مراتب۔ حضرت عبادہ بن صامت کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت کے اندر سو درجات ہیں۔ ہر درجہ کا دوسرے درجہ سے فصل (باعتبار بلندی) اتنا ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان۔ فردوس کا درجہ سب سے اونچا ہے۔ اسی سے جنت کے چاروں دریا پھوٹ کر نکلتے ہیں۔ اس سے اوپر عرش ہے جب تم اللہ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کیا کرو۔ (ترمذی)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی ایسی ہی روایت آئی ہے اس روایت میں ہے کہ دو درجات کے درمیان سو سال (کی راہ) کے بقدر فصل ہے۔ حضرت ابوسعید خدری ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت والے باہم بالاخانوں والوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم مشرقی یا مغربی افق پر چمکدار ستاروں کو دیکھتے ہو کیونکہ ان کے آپس میں درجات کا تفاوت ہوگا۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ اس مرتبہ پر تو انبیاء کے علاوہ کوئی نہیں پہنچے گا۔ فرمایا : کیوں نہیں پہنچے گا۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور پیغمبروں کی انہوں نے تصدیق کی (وہ ان مراتب پر فائز ہوں گے) ۔ (مسلم و بخاری)
حضرت ابن مسعود ؓ نے المعارج کی تفسیر السماوات کی ہے (آسمانوں والا اللہ) کیونکہ فرشتے آسمانوں پر چڑھتے ہیں (اس لیے ہر آسمان ملائکہ کے چڑھنے کا زینہ ہوگیا) قتادہ نے انعامات ترجمہ کیا ہے (نعمتوں والا خدا) ۔
Ayah 70:4تعرج الملائکۃ والروح . یہ المعارج کی صفت ہے اور رابطہ محذوف ہے۔ اصل کلام تھا ترج فیھا الملائکہ
والروح الیہ۔ روح سے مراد جبرئیل ہیں ‘ مرتبہ کی بزرگی یا تمام ملائکہ سے زیادہ عظمت جسمانی رکھنے کی وجہ سے ملائکہ سے الگ الروح کو ذکر کیا۔
میں کہتا ہوں یہ بھی احتمال ہے کہ الروح سے مراد روح انسانی ہو جس کا تعلق عالم امر سے ہے۔ اس وقت عروج روح کے یہ معنی ہوں گے کہ دوری اور غفلت کی پستی سے نکل کر قرب و حضور کے مراتب کی طرف انبیاء اور اولیاء کی روحیں چڑھتی ہیں۔
الیہ . اللہ کی طرف یا اللہ کے عرش کی طرف۔
فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ . اس کا تعلق فصل محذوف سے ہے جس پر لفظ واقع دلالت کر
رہا ہے۔ یعنی اس روز جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے ‘ ان پر عذاب واقع ہوگا مراد روز قیامت۔ بیہقی نے باسناد عکرمہ حضرت ابن عباس کا یہی قول نقل کیا ہے۔ یمان نے کہا : قیامت کے دن پچاس منزلیں ہوں گی۔ ہر منزل ہزار برس کی ہوگی۔ بخاری و مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کنز والا اپنے کنز (جمع کیا ہوا سونا ‘ چاندی) کی زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا قیامت کے دن دوزخ کی آگ میں اس کنز کو تپا کر سلیاں بنا کر اس کے دونوں پہلووں اور پیشانی پر داغ لگائے جائیں گے۔ یہ اس وقت تک ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا اس روز جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہوگی فیصلہ کر دے ‘ پھر اس کو جنت یا دوزخ کا راستہ بتادیا جائے گا اور جو اونٹوں والا اونٹوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا تو قیامت کے دن چٹیل میدان میں اس کو پچھاڑا جائے گا اور سب اونٹوں کی اس پر آمدورفت ہوگی۔ اونٹ کا کوئی بچہ بھی باقی نہیں رہے گا۔ سب اپنے موزوں (قدموں) سے اس کو روندیں گے اور منہ سے کاٹیں گے۔ پہلی جماعت اس پر سے گزر جائے گی تو دوسری لوٹا کر لائی جائے گی (اور یہ پامالی) اس دن ہوگی جس کی مقدار پچاس ہزار برس کی ہوگی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا فیصلہ کر دے گا اور جنت یا دوزخ کا راستہ بتادیا جائے گا اور جو بکریوں والا بکریوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا تو اس کو چٹیل میدان میں پچھاڑ کر بکریوں کو اس پر گزارا جائے گا ہر بکری موجود ہوگی ‘ کوئی سینگ مڑی یا منڈی یا سینگ ٹوٹی نہ ہوگی۔ یہ بکریاں اس کو سینگوں سے ماریں گی اور کھروں سے روندیں گی اسی طرح جیسا کہ اونٹوں کے بیان میں گزر گیا۔ پہلی جماعت گزر چکے گی تو پچھلی جماعت کو پھر (اس پر) لوٹا کر لایا جائے گا (اور یہ پامالی) اس روز ہوگی جس کی مقدار پچاس ہزار برس کی ہوگی یہاں تک کہ اللہ بندوں کا فیصلہ کر دے گا اور جنت یا دوزخ کا راستہ بتادیا جائے گا۔
احمد ‘ ابو یعلی ‘ ابن حبان اور بیہقی نے حسن اسناد کے ساتھ حضرت ابوسعید خدری ؓ کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس روز کے متعلق دریافت کیا گیا جس کی مقدار پچاس ہزار برس کی ہوگی کہ وہ دن کس قدر لمبا ہوگا ؟ فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ دن مؤمن کے لیے ہلکا ہوگا یہاں تک کہ دنیا میں جو فرض نماز پڑھتا تھا اتنے وقت سے بھی اس کے لیے آسان (یعنی کم) ہوگا۔ میں کہتا ہوں اس توجیہ کی بناء پر دونوں آیات میں کوئی تعارض نہیں رہتا۔ ایک یہی آیت (جس میں پچاس ہزار برس کی مقدار بیان کی ہے) دوسری تنزیل السجدہ والی آیت : یدبر الامر من السمآء الی الارض ثم یعرج الیہ فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون (اس آیت میں ایک ہزار سال کی مقدار بیان کی ہے) کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ مختلف امور کے متعلق حکم دیتا ہے اور جبرئیل اس حکم کو لے کر آسمان سے زمین تک آتے ہیں پھر چڑھ کر اللہ تک جاتے ہیں۔ اس آمدورفت میں دنیا کا ایک دن صرف ہوتا ہے حالانکہ مقدار مسافت ایک ہزار برس کے برابر طے ہوجاتی ہے کیونکہ آسمان سے زمین کا بعد پانچ سو برس کی راہ کے برابر ہے۔ پانچ سو برس جانے کے اور پانچ سو برس آنے کے یعنی آمدورفت کی اس مسافت کو اگر کوئی آدمی طے کرے تو ایک ہزار برس میں طے کرے گا۔ مگر ملائکہ ایک دن میں بلکہ اس سے بھی کم مدت میں طے کرلیتے ہیں۔
آیت یعرج الیہ فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون کی تشریح میں حضرت ابن عباس کا قول بسند ابو طلحہٗ بیہقی نے نقل کیا ہے کہ یہ دنیا میں ہوتا ہے ملائکہ ہزار برس کی مسافت ایک دن میں طے کرلیتے ہیں اور آیت : فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ کے متعلق حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ قیامت کا دن ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ کافروں کیلئے پچاس ہزار برس کا کر دیگا۔
بعض لوگوں کا قول ہے کہ دونوں آیتوں میں قیامت کا دن ہی مراد ہے۔ بعض کے لیے قیامت کا دن لمبا ہوگا ‘ بعض کے لیے چھوٹا۔ یہاں تک کہ مؤمنوں کے لیے صلوٰۃ فرض سے بھی زیادہ آسان (یعنی کم) ہوگا۔
حاکم اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت مرفوعاً اور موقوفاً بیان کی ہے کہ مؤمنوں کے لیے قیامت کا دن اتنا ہوگا جتنا ظہر و عصر کے درمیان ہوتا ہے اس قول پر تنزیل السجدہ والی آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ آسمان سے زمین تک نظم احکام (روزانہ) مدت ایام دنیا تک کرتا رہے گا پھر دنیا کے فنا ہونے اور ہر حاکم کا حکم اور ہر آمر کا امر ختم ہوجانے کے بعد ہر حکم اور نظم کا رجوع (براہ راست) قیامت کے دن اللہ ہی کی طرف ہوجائے گا اور قیامت کے دن کی مقدار ایک ہزار سال ہوگی۔
بعض لوگوں نے کہا کہ فی یوم دونوں آیتوں میں یعرج سے متعلق ہے۔ اس صورت میں دونوں آیتوں کا تعارض اس طرح دور کیا جائے گا کہ سورة تنزیل کی آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ آسمان سے زمین تک تدبیر امر ایک دن میں ہوتی ہے حالانکہ یہ درمیانی سیر ایک ہزار برس کے برابر ہوتی ہے۔ پانچ سو برس نزول (ملائکہ) کے اور پانچ سو برس چڑھنے کے اور اس سورت میں اس جگہ ساتویں زمین کی تہ سے لے کر ساتویں آسمان کے اوپر تک جتنی مسافت ہوتی ہے اس کو طے کرنے کی مدت بیان کی ہے۔ یہ مسافت پچاس ہزار برس کی ہے۔ لیث نے مجاہد کا یہی قول نقل کیا ہے۔ (بغوی) محمد بن اسحاق نے بیان کیا کہ اگر آدمی حسب معمول دنیا سے عرش تک جائے تو پچاس ہزار برس چلتے رہنا ہوگا۔
اسی وجہ سے صوفیاء نے کہا کہ صوفی کو فناء قلب کا مرتبہ اللہ کی کشش سے نبی ﷺ اور مشائخ کے وسیلے سے حاصل ہوتا ہے لیکن شیخ کی کشش کے بغیر اگر خود عبادت اور ریاضت سے اس مرتبہ پر پہنچنا چاہے گا تو پچاس ہزار برس میں پہنچے گا اور پچاس ہزار برس تک زندہ رہنا بلکہ دنیا کا باقی رہنا ہی تصور کی رسائی سے باہر ہے تو لامحالہ کسی شیخ کی وساطت سے اور الٰہی کشش کے بغیر معمولاً فناء قلب محال ہے۔ ہاں غیر معمولی طور پر بغیر توسط شیخ کے براہ راست روحانی کشش جیسا کہ بعض اویسی فرقہ والوں کو ہوجاتی ہے ممکن ہے (مگر وہاں بھی توسط نبی کی ضرورت ہے) ۔
Ayah 70:5فاصبر صبرا جمیلا . پس اے محمد ! تکذیب کفار پر خوبی کے ساتھ صبر کرو۔ تمہاری طرف سے عجلت پسندی ‘
اضطراب اور بےصبری محسوس بھی نہ ہو۔ فاء سببی ہے اسکا تعلق سأل سے ہے۔ کافروں کی طرف سے سوال (اور مطالبہ عذاب) محض ضد اور استہزاء کی وجہ سے تھا اور اس سے حضور کبیدہ خاطر ہوتے تھے۔ اس لیے حکم دیا کہ آپ ان کے سوال سے تنگ دل نہ ہوں اور ان پر عذاب آنے کی جلدی نہ کریں۔
یا سأل (بروایت نافع) سیلان سے مشتق ہے۔ اس وقت مطلب یہ ہوگا کہ آپ صبر کریں ‘ عذاب ان کو بہا لے جائے گا۔ عذاب کا وقت قریب ہے۔
Ayah 70:6انھم یرونہ بعیدا . کافر عذاب کو امکان سے بعید یا عقل سے دور جانتے ہیں ‘ ان کے خیال میں عذاب کا احتمال (اگر
آتا بھی ہے تو) ضعیف ہوتا ہے۔
Ayah 70:7و نراہ قریبا . اور ہم عذاب کو قریب الوقوع دیکھ رہے ہیں کیونکہ جو چیز آنے والی (یقینی) ہو وہ قریب ہی ہے۔
Ayah 70:8یوم تکون السماء کالمھل . المھل پگھلایا ہوا تانبا یا کوئی اور دھات یا تیل کی تلچھٹ۔ بیہقی نے ابن مسعود کا
قول نقل کیا ہے کہ آسمان کے رنگ مختلف ہوں گے (کبھی) مہل کی طرح (کبھی) سرخ تیل کی تلچھٹ کی طرح اور کمزور ہو کر پھٹ جائیگا۔
Ayah 70:9و تکون الجبال کالعھن . پہاڑ رنگ برنگ کے اون کی طرح ہوجائیں گے کیونکہ پہاڑوں کے رنگ مختلف ہیں ‘
جب ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں اڑیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ رنگین اون ہوا میں اڑ رہا ہے۔
Ayah 70:10ولا یسئل حمیم حمیما . ہر شخص اپنی مصیبت میں ایسا مبتلا ہوگا کہ کوئی اپنے گہرے دوست کو بھی نہیں پوچھے گا۔
Ayah 70:11یبصرونھم . یہ حمیم کی صفت ہے یا الگ جملہ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سوال سے مانع عدم حضور نہ ہوگا بلکہ نہ
پوچھنے کی یہ وجہ ہوگی کہ ہر شخص کو اپنی ہی پڑی ہوگی یا مشاہدۂ حال کی وجہ سے سوال ہی (دماغ سے) غائب ہوجائے گا۔ چہرہ کا اتار چڑھاؤ اور نیلا پیلا ہونا سوال کرنے ہی نہ دے گا (غرض یہ کہ گہرے دوست نظروں کے سامنے ہوں گے مگر ان کے احوال کی پرستش کوئی نہ کرسکے گا) بغوی نے لکھا ہے کہ قیام کے دن تمام جن و انس نظروں کے سامنے ہوں گے باپ ‘ بھائی ‘ عزیز ‘ دوست سب کو آدمی آنکھوں کے سامنے دیکھے گا مگر اپنی مصیبت میں ایسا مشغول ہوگا کہ دوسرے کو پوچھ نہ سکے گا۔
بعض نے یبصرونھم کا معنی یعرفونھم کہا ہے یعنی دوست ‘ دوستوں کو پہچانیں گے۔ مؤمن کی شناخت چہرہ کے گورے ہونے سے اور کافر کی پہچان اس کا منہ کالا ہونے سے ہوجائے گی۔
یوم المجرد ......
الارض جمیعا .
مجرم یعنی مشرک تمنا کرے گا کہ اپنی او لاد ‘ بیوی ‘ بھائی اور خاندان جس میں یہ پیدا ہوا ہے اور تمام جن و انس جو زمین پر آباد ہیں سب کو عذاب قیامت کے عوض دے کر رہائی پا جائے۔
یود یعنی آرزو کرے گا۔ مجرم ‘ مشرک مطلب یہ ہے کہ مشرک اپنی مصیبت میں ایسا گرفتار ہوگا کہ عذاب سے چھوٹنے کے لیے اپنے قریب ترین اعزاء اور محبوب ترین اشخاص کو اپنے عوض پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔ عزیزوں اور دوستوں کی خبر گیری اور جستجوئے حال کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ اس مطلب کی بناء پر آیت : لا یسئل حمیم حمیمًا کافروں کے ساتھ مخصوص ہوگی۔ رہے مؤمن تو وہ اپنے دو ستوں کی خبر گیری کریں گے اور ان کے لیے شفاعت بھی کریں گے۔ بکثرت احادیث بطور تواتر معنوی اس مفہوم کو ثابت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی بھی اپنے واضح حق کے لیے اتنا نہیں جھگڑتا جتنا قیامت کے دن مؤمن اپنے دوزخی بھائیوں کی رہائی کے لیے اللہ سے جھگڑیں گے اور عرض کریں گے کہ پروردگار ! (یہ تو ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے ‘ الخ۔ (متفق علیہ) حضرت ابوسعید خدری ؓ سے اس معنی میں ایک طویل حدیث مروی ہے۔
Ayah 70:12صاحٖبۃ سے مراد ہے بیوی۔
Ayah 70:13فضیلۃ وہ قبیلہ جس کا ایک جزء منفصل آدمی خود ہوتا ہے۔ التی ترویہ سے یہ مراد ہے کہ وہ قبیلہ جو مصائب کے وقت پناہ دیتا تھا۔
Ayah 70:14من فی الارض سے مراد ہیں جن و انس اور ساری مخلوق۔
ثم ینجیہ کلا کلا یعنی مذکورۂ بالا تمام چیزوں کو اپنے عوض دے دینا اس کو عذاب سے بچا لے ؟ ایسا ہرگز نہ ہوگا۔
Ayah 70:15کلا کا لفظ مشرک کو تمنا سے روک دینے کے لیے آیا ہے۔
انھا لظی . انھا میں ضمیر قصہ ہے یا اس نار کی طرف راجع ہے جو معنیً لفظ عذاب سے معلوم ہو رہی ہے یا ضمیر مبہم ہے
جسکی تفسیر لفظ لظٰی (خاص بھڑک) سے کی۔ بغوی نے کہا : جہنم کے دوسرے درجہ کا نام لظٰیہے کیونکہ اس میں خالص التہاب اور بھڑک ہے۔
Ayah 70:16نزاعۃ للشوی . شوٰی دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں یعنی وہ آگ ہاتھوں اور پاؤں کو اکھاڑ کر جدا کردینے والی
ہوگی یا شوٰی ‘ شواۃٌ کی جمع ہے اور شواۃ کا معنی ہے سر کی کھال۔ (مجاہد) یعنی سر کی کھال اتار دینے والی ‘ یا ہڈیوں سے گوشت اتار دینے والی (ابراہیم بن مہاجر) سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے پٹھوں کو کھینچ لینے والی ہوگی۔ کلبی نے کہا : سارے دماغ کو کھاجائے گی اور پھر دماغ ویسا ہی ہوجائے گا ‘ جیسا تھا۔
Ayah 70:17تدعون ادبر و تولی . حق سے پشت پھیرنے والوں کو اور طاعت سے روگردانی کرنے والوں کو وہ آگ پکارے
گی اور کہے گی : اے منافق ! ادھر آ ‘ اے مشرک ! میرے پاس آ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کافروں اور منافقوں کو ان کے نام لے کر فصیح زبان سے پکارے گی اور اس طرح اچک لے گی جیسے پرندہ دانہ کو اچک لیتا ہے۔
Ayah 70:18وجمع فاوعی . اور اس کو پکارے گی جس نے مال کو جمع کیا اور ظروف میں بھر کر روک کر رکھا اور اس میں سے اللہ کا
حق ادا نہیں کیا۔
Ayah 70:19ان الانسان خلق ھلوعا . ھَلُوْعٌ ناجائز چیزوں کی حرص کرنے والا (سدی بروایت ابو صالح از ابن عباس ؓ
سخت کنجوس (سعید بن جبیر) تھڑ دلا (عکرمہ) بےصبرا (قتادہ) تنگ دل (مقاتل) ھُلْعٌ کا معنی ہے شدت حرص اور قلت صبر لیکن عطیہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اگلی آیت (یعنی اذا مسہ سے منوعًا تک) ھلوعًا کی تشریح ہے۔
بہرحال انسان پیدائشی طور پر صفت ھلح کے ساتھ متصف ہے۔ اگر بالفعل متصف کہا جائے گا تو یہ آیت حال مقدرہ ہوگی اور اگر یہ کہا جائے کہ آدمی کے اندر خصلت ھلع پیدا کی گئی ہے اور اس خصلت کا تقاضا ہے کہ انسان کی سرشت میں وہ ذلیل قوّت موجود ہو جو اس خصلت کا سرچشمہ ہے تو اس صورت میں یہ آیت حال محققہ ہوگی۔ بہرحال کلام سابق کی علت اس آیت میں بیان کی گئی ہے۔
Ayah 70:20اذا مسہ الشرجزوعا
. جب کوئی مصیبت آدمی کو چھو جاتی ہے تو بےصبر ہو
جاتا ہے
Ayah 70:21واذا مسہ الخیر منوعا
اور ذرا مال کا کچھ لگاؤ ہوجاتا ہے تو روک کر رکھتا ہے
‘ نہ شکر کرتا ہے ‘ نہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر آدمی کو مال سے بھری ہوئی دو وادیاں مل جائیں ‘ تب بھی وہ تیسری کا خواستگار ہوتا ہے۔ آدمی کے پیٹ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھرتی اور جو اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اللہ بھی اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ (متفق علیہ) انس کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : آدمی بوڑھا ہوجاتا ہے مگر دو چیزیں اسکی جوان ہوجاتی ہیں ‘ مال کی حرص اور (درازء) عمر کی حرص۔ (متفق علیہ)
Ayah 70:22الا المصلین . سوائے کامل مؤمنوں کے مصلی سے مراد ہے کامل مؤمن جیسے آیت : وما کان اللہ لیصیع
ایمانکم میں ایمان سے مراد ہے نماز کیونکہ مؤمن کے مراتب میں چوٹی کا درجہ نماز ہی ہے۔ یہی مؤمن کی معراج ہے اور دین کا ستون ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی (رح) نے فرمایا جن مراتب کا حصول آدمی کے لیے ممکن ہے ان میں سب سے اونچا مرتبہ نماز کا ہے۔
الانسان میں الف لام جنسی یا استغراقی ہے۔ لفظ انسان اگرچہ مفرد ہے مگر معنوی اعتبار سے جمع ہے۔ اسی وجہ سے الاَّ الْمُصَلِّیْنَ میں الاَّ استثنائیہ متصلہ آیا ہے۔
یا یوں مطلب قرار دیا ہے کہ مجرم حق وطاعت سے روگردانی کرتا اور پشت موڑتا ہے کیونکہ جنس انسان یا انسان کا ہر فرد تخلیقی طور پر تھڑ دلا اور حریص واقع ہوا ہے۔ ہاں وہ کامل ایماندار جن کے اندر ایسے اوصاف موجود ہیں جو نشاندہی کر رہے ہیں کہ وہ ہمہ تن اللہ کی طاعت میں ڈوبے رہتے ہیں ‘ مخلوق پر مہربانی کرتے ہیں ‘ جزا و سزا پر ان کا ایمان ہے۔ عذاب کا خوف ہے ‘ حرص و ہوا کو شکست دے چکے ہیں ‘ دنیا کو آخرت پر ترجیح نہیں دیتے۔ ایسے لوگوں کی سرشت حرص و بخل اور بےصبری پر نہیں ہوئی بلکہ ان کی تخلیق میں دکھ پر صبر اور سکھ پر شکر داخل ہے اور یہی صبر و شکر ان کو جنت میں لے جائے گا۔
مسلم نے بروایت حبیب بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مؤمن کا معاملہ بھی عجیب ہے ‘ اس کا ہر کام خیر ہی خیر ہے مگر یہ بات اس مؤمن کے سوا کسی کو حاصل نہیں کہ اگر اس کو سکھ پہنچتا ہے تو شکر کرتا ہے اور یہ سکھ اس کے لیے خیر ہوجاتا ہے اور اگر اس کو دکھ پہنچتا ہے تو صبر کرتا ہے اور یہ دکھ اس کے لیے خیر ہوجاتا ہے۔ اس تفسیر کی بناء پر یہ آیت (اپنے مفہوم کے لحاظ سے) ویسی ہی ہوگی جیسی آیت : ان الا نسان لفی خسر الا الذین امنوا و عملوا الصّٰلحٰت ..... ہے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ استثناء کو منقطع قرار دیا جائے اور الانسان کے الف لام کو عہدی کہا جائے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جو مجرم روگردانی کرتا اور حق وطاعت سے منہ موڑتا ہے وہی تخلیقاً ھلوع ہوتا ہے لیکن وہ مؤمن جس کے اندر مذکورۂ (ذیل) اوصاف ہوں اس کو تخلیقاً اعزاز جنت کا اہل بنایا گیا ہے۔ دونوں تفسیروں کی صورت میں آیت بہرحال یہ بتارہی ہے کہ اصل خلقت کے اعتبار سے انسانوں کی اہلیت میں اختلاف ہے جیسا کہ حضرت مجدد صاحب (رح) نے فرمایا ہے کہ خصوصیاتِ مؤمن کے مبادی (اصول) وہ تشخصات ہیں جو (اللہ کے) اسم ہادی کے افراد (اور مظاہر) ہیں اور خصوصیات کفار کے مبادی وہ تشخصات ہیں جو (اللہ کے) اسم مضل (گمراہ بنانے والا) کے افراد (اور مظاہر) ہیں (یعنی ہادی اور مضل اللہ کے دو اوصاف ہیں جن کے کچھ خصوصی پر تو اور مظاہر ہیں ‘ ان کی حیثیت ویسی ہی ہے جیسی جزئیات اور افراد کلی کی ہوتی ہے یہی تشخصات اور افراد اس دنیا میں اپنا مصداق رکھتے ہیں اور خارج میں جس جس کے اندر ہدایت کرنے یا گمراہ بنانے کی قوت ہوتی ہے اس کا سرچشمہ اور مبداء صفات الٰہیہ (ہادی اور مضل) کے یہی مخصوص مظاہر اور افراد ہوتے ہیں) ۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لوگ (مختلف) کانیں ہیں جیسے سونے اور چاندی کی کانیں ہوتی ہیں تم میں سے جو جاہلیت میں بہتر (اعلیٰ ) تھے ‘ وہی اسلام میں بھی بہتر ہیں۔
حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے کچھ (لوگ) جنت کے قابل کیے جب وہ اپنے آباء کی پشت میں تھے ‘ اسی وقت ان کو جنت کے قابل بنا دیا تھا اور کچھ لوگوں کو دوزخ کے قابل بنایا ‘ جب وہ اپنے آباء کی پشت میں تھے اسی وقت ان کو دوزخ کے قابل بنا دیا تھا۔ (مسلم) اس مبحث کی بہت زیادہ احادیث آئی ہیں۔ 1
..............
1 اگر تم سے کہا جائے کہ فلاں پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل گیا تو صحیح مان لینا لیکن اگر کہا جائے کہ فلاں شخص نے اپنی سرشت اور فطرت کو چھوڑ دیا تو صحیح نہ ماننا۔ آدمی ساری عمر جنت والوں کے کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت سے اس کا فاصلہ بالشت بھر رہ جاتا ہے۔ آخر میں کوئی کام ایسا کر بیٹھتا ہے کہ ساری عمر کا کیا کرایا برباد ہوجاتا ہے۔ تقدیر کا لکھا غالب آتا ہے اور وہ دوزخی ہوجاتا ہے۔ اسی طرح آدمی ساری عمر دوزخیوں کے جیسے کام کرتا ہے یہاں تک کہ اس سے دوزخ بالشت بھر دور رہ جاتی ہے۔ آخر میں کوئی ایسا کام کر گزرتا ہے کہ ساری عمر کی غلط کاریاں دھل جاتی ہیں۔ تقدیر کا لکھا غالب آتا ہے اور وہ جنت .......236
Ayah 70:23الذین ھم علی صلوتھم دائمون . یعنی وہ نمازی جو نماز کے اندر ہمیشہ سجدہ کے مقام پر نظر رکھتے اور دل سے خدا کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔ اسی مضمون کو سورة مؤمنون کی آیت : الذین ھم فی صلٰوتھم خٰشعون میں بیان فرمایا ہے۔ اس توضیح پر آئندہ آیت : والذین ھم علٰی صلٰوتھم یُحٰفظون موجب تکرار مضمون نہیں (دونوں کا مضمون جدا جدا ہے) کیونکہ اوّل الذکر آیت میں دوام سے مراد ہے ‘ دوام حضور جو نماز کے آداب و ارکان اور شرائط کی نگہداشت سے حاصل ہوتا ہے۔ بغوی نے اپنی سند سے بیان کیا ہے کہ ابو الخیر نے حضرت عقبہ بن عامر سے دریافت کیا کہ آیت : الذین ھم علٰی صلٰوتھم دائمون کا یہ مطلب ہے کہ وہ ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں ؟ حضرت عقبہ نے فرمایا : نہیں ‘ یہ مطلب نہیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ وہ نماز میں دائیں ‘ بائیں اور پیچھے نہیں دیکھتے۔ احمد ‘ ابوداؤد ‘ نسائی اور دارمی نے حضرت ابوذر کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : نماز کے اندر بندہ جب تک ادھر ادھر نہیں دیکھتا اللہ برابر اس کی طرف متوجہ رہتا ہے جب بندہ ادھراُدھر التفات کرتا ہے تو اللہ بھی (اس کی طرف سے) پھرجاتا ہے۔ بیہقی نے سنن کبیر میں حضرت انس کی روایت نقل کی ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا : انس ؓ اپنی نظر سجدہ کی جگہ رکھا کرو۔ ترمذی نے حضرت انس ؓ کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نماز میں ادھر ادھر دیکھنا تباہی ہے۔
فائدہ حضور قلب حاصل کرنے اور وسوسوں کو دور کرنے میں سجدہ گاہ پر نظر قائم رکھنے کو بڑا اثر آفریں دخل ہے۔
Ayah 70:24والذین فی اموالھم حق معلوم . یعنی جن کے مال میں حق معین ہے جیسے زکوٰۃ اور مقررہ صدقات۔
Ayah 70:25للسائل والمحروم . مانگنے والے کا بھی اور نہ مانگنے والے کا بھی یعنی اس شخص کا بھی جو سوال کرے اور اس شخص کا
بھی جو سو ال نہ کرنے کی وجہ سے اکثر محروم رہتا ہے۔
Ayah 70:26والذین یصدقون بیوم الدین . کیونکہ اگر یوم جزاء کو واقعی طور پر کوئی سچا جانتا اور صحیح مانتا ہو تو پھر دکھ میں بے
صبر نہ ہوگا بلکہ بامید ثواب صبر کرے گا اور سکھ میں ناشکرا نہ ہوگا (معلوم ہوا کہ صبر و شکر کی جڑ یوم جزا کی تصدیق ہے) ۔
Ayah 70:27والذین ھم من عذاب ربھم مشفقون . یعنی ان کو عذاب سے ڈر اپنی جان کے لیے لگا رہتا ہے۔ بیم و اُمید
تصدیق و ایمان کا تقاضا ہے۔
Ayah 70:28ان عذاب ربھم جیر مامون اللہ کا عذاب بےخطر چیز نہیں کیونکہ اسکو روکنے اور رفع کرنے کی کسی میں قدرت نہیں۔
Ayah 70:29والذن ھم لفروجھم حفظون . (الفروج جمع ہے) الفرج مفرد ہے۔ اس کا معنی ہے مرد یا عورت کی
..............
........236 میں چلا جاتا ہے۔ اس طرح کے مضمون کی احادیث بکثرت آئی ہیں بلکہ تقدیر خیر و شر پر ایمان جزء ایمان ہے پھر کیا تعلیم و تربیت بیکار ہے۔ تعلیم و تربیت سے اگرچہ تقدیر نہیں بدلتی ‘ تخلیق میں تغیر نہیں آتا۔ فطرت نہیں پلٹتی لیکن سلسلۂ اسباب کا تسلسل علت و معلول کا ربط اور تبلیغ و صحبت کا اثر فطری ہے۔ دواء اپنا اثر رکھتی ہے اگرچہ موت سے نہیں بچاتی۔ عدل و انصاف سے صلاح عالم اور ظلم و جور سے تباہی وابستہ ہے اگرچہ انصاف موجب بقاء اور ذریعہ دوام نہیں ‘ نہ ظلم سے نسل انسانی کا آج تک خاتمہ ہوسکا۔ بات حقیقت میں یہی ہے کہ جب کسی چیز کی ترقی نقطۂ عروج تک ہوجاتی ہے تو فطرت کا تقاضا ہے اور تقدیر خداوندی ہے کہ پھر وہ چیز پستی کی طرف مائل ہو ‘ ہر حرکت کی انتہا سکون پر ہر اور سکون کا اختتام حرکت سے ہوتا ہے۔ رات کی تہ بہ تہ تاریکی نور کا پیش خیمہ اور سورج کا انتہائی عروج ‘ زوال کا مقدمہ ہوتا ہے۔ خیر و شر کا بھی تسلسل فطری ہے۔ خیر کا آخری درجہ مبدء شر اور شر کا انتہائی نقطہ مقدمہ خیر ہے۔ تعلیم و تربیت کا مقصود محض اعانت فطرت ہے خیر کو آخری نقطہ تک پہنچانا ہے شر کر روئے زمین سے قطعاً محو کردینا مقصود نہیں ہے ‘ نہ یہ ممکن ہے کہ کفر کی تاریکی اور گناہوں کی ظلمت کو بالکل ختم کردیا جائے۔ اصل غرض تصرف خیر اور ہزیمت شر میں مدد کرنی ہے ‘ فطرت کو بدلنا مقصود نہیں ‘ نہ سرشت کی تبدیلی کا مکان ہے بھیڑیا آدمی نہیں ہوسکتا خواہ معلم اوّل اس کو تعلیم دے نہ آدمی بھیڑیا بن سکتا ہے ‘ خواہ سارے جہان کی طاغوتی طاقتیں برسر اغواء آجائیں ‘ آدمی ماں کے پیٹ سے شقی یا سعید پیدا ہوتا ہے۔ سعادت و شقاوت فطری ہے مگر تعلیم و ترتیب مقتضائے فطرت ہے موجب سعادت و شقاوت نہیں محض سبب مددگار ہے۔
شرمگاہ ‘ حفاظت شرمگاہ سے مراد ہے خواہش نفس کے موافق (مطلق العنانی کے ساتھ) استعمال نہ کرنا۔
Ayah 70:30الا علی ازواجھم . یعنی اپنی شرمگاہوں کو اپنی بیویوں کے علاوہ سب سے بچائے رکھتے ہیں۔ یہ استثناء مفرغ
ہے (لیکن استثناء مفرغ تو کلام منفی میں ہوتا ہے اور یہ کلام مثبت ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ بظاہر یہ کلام مثبت ہے ‘ حقیقت میں منفی ہے) حفظ کے اندر نفی کا معنی ہے (یعنی وہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو بیویوں کے علاوہ استعمال نہیں کرتے) علٰی ازواجھم میں علٰی یا بمعنی مِنْ ہے اس وقت اس کا تعلق حافظون سے ہوگا جیسے احفظ علٰی عنان فرسی میں عَلٰی بمعنی من ہے۔
یا علی ازواجھم حال ہے اور علٰی (پر) اپنے حقیقی معنی میں ہے یعنی تمام احوال میں وہ اپنی شرمگاہوں کو بچائے رکھتے ہیں مگر حالت زوجیت وغیرہ میں نہیں بچاتے۔
وما ملکت ایمانھم . آدمی ذی عقل ہوتا ہے خواہ آزاد ہو یا غلام اور ذی عقل کے لیے عربی میں مَنْ آتا ہے مَا
نہیں آتا لیکن یہاں مَا آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کفر کی (دنیوی) سزا دینے کے لیے شریعت نے باندی غلام کو جانور قرار دیا ہے اسی لیے ان کی خریدو فروخت اور ان سے خدمت لینی جائز رکھی ہے۔
آیت میں مملوک سے مراد باندیاں ہیں ‘ غلام مراد نہیں ہیں۔ اغلام ‘ غلام کے ساتھ بھی جائز نہیں۔ ہم سورة بقرہ میں آیت : و یسئلونک عن المحیض قل ھو اذی کی تفسیر کے ذیل میں لواطت کی حرمت ‘ قیاس اور احادیث سے ثابت کرچکے ہیں۔
سوال اس آیت میں لفظ ما ملکت ایمانھم عام ہے ‘ غلاموں کو بھی شامل ہے اور باندیوں کو بھی ‘ تو صراحت قرآنی پر حدیث یا قیاس کو کس طرح ترجیح دی جاسکتی ہے (اور جس چیز کو قرآن نے حلال قرار دیا ہے اسکو حدیث یا قیاس سے کس طرح حرام بنایا جاسکتا ہے) ۔
جواب باتفاق علماء آیت کا حکم عام نہیں ہے حالت حیض اور ایام ظہار میں اپنی بیوی سے بھی قربت جائز نہیں ‘ نہ اس باندی سے صحبت جائز ہے جس سے رشتہ رضاعت (دودھ کی شرکت) ہو اس صورت میں اخبار احاد اور قیاس سے تخصیص جائز ہے۔ کسی عورت کے لیے اپنے مملوک غلام سے قربت صنفی جائز نہیں کیونکہ لفظ علیٰ بتارہا ہے کہ مملوک کو مالک سے نیچے ہونا چاہیے اور یہ کہ مملوک کا مرتبہ مالک سے کم ہو اگر کوئی مالکہ غلام کو استعمال کرے گی تو یہ بات نہ ہوگی (فاعل منفعل سے اعلیٰ اور بالا 1 ہوتا ہے) ۔
فانھم غیر ملومین . یہ مضمون استثناء کی علت کا بیان ہے۔ بیوی اور باندی سے اپنی شرمگاہ کو محفوظ نہ رکھنا اور شرعی
طور پر ان سے قربت کرنا بقاء نسل کی غرض سے جائز ہے۔
کلام کی رفتار بتارہی ہے کہ اصل یہی ہے کہ مرد کی عورت سے صنفی قربت حرام ہے۔ اس کا جواز چند شرائط سے وابستہ ہے (مثلاً ) نکاح ہو یا ملکیت۔ علاقہ ‘ جزئیت نہ ہو ( یعنی نہ سلسلہ اولاد ہو نہ سلسلہ آباء و امہات) حیض و نفاس سے طہارت ہو۔ مقام تولید ہو (یعنی زنانہ شرمگاہ) مقام ناقابل تولید نہ ہو یعنی لواطت نہ کی جائے۔
Ayah 70:31فمن ابتغی وراء ذلک فاولئک ھم العادون . یعنی بیویوں اور باندیوں کے سوا (کسی سے یا غیر
مقام میں) کرنے کے جو لوگ طلبگار ہوں گے وہی کامل طور پر حد (شرعی) سے تجاوز کرنے والے ہیں کیونکہ اللہ نے جو کچھ انکے لیے حلال کیا تھا ‘ اس پر انہوں نے بس نہیں کیا بلکہ فعل حرام کے مرتکب ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر کوئی شخص کسی (اجنبی) عورت کو دیکھ کر
......
1 معالج طبی اور عادت فطری کا تقاضا ہے کہ فاعل اعلیٰ اور بالا ہو۔ بقاء صحت مردانہ اور زنانہ اعصاب کا ضعف سے بچاؤ اور فطرت حیرانی کا یہی دستور العمل ہے۔ فحش پرست ‘ دشمنان صحت نے اپنی دماغی آوارگی اور نظری بےلگامی کے جو طریقے ہر ملک میں جاری کر رکھے ہیں ہر دانش مند ‘ شریف النفس ‘ انسان کی طبیعت ان کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے اور معاشرہ و سماج کے لیے تباہ کن سمجھتی ہے۔ حضرت قاضی صاحب (رح) نے دستور سماجی ‘ ضابطہ طبی اور شرافت اخلاقی کے زیر اثر فاعل کو اعلیٰ اور بالا قرار دیا ہے اور اسی پر دلالت آیت کی صراحت کی ہے۔ 12
پسند کرلے تو اٹھ کر اپنی بیوی کے پاس چلا جائے کیونکہ بیوی کے پاس بھی ویسی ہی چیز ہے جیسی اس عورت کے پاس ہے۔
(دارمی بروایت حضرت ابن مسعود ؓ
مسئلہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ متعہ حرام ہے کیونکہ متعہ والی عورت زوجہ نہیں ہوتی جو لوگ متعہ کے حلال ہونے کے قائل ہیں وہ بھی متعہ کی وجہ سے استحقاق میراث کے قائل نہیں (اگر متعہ والی عورت بیوی ہوجاتی تو اس کو بیوی کی طرح ‘ میراث ہونی چاہیے تھی) بغوی نے اس آیت سے مشت زنی کی حرمت پر استدلال کیا ہے۔ دوسرے علماء کا بھی یہی قول ہے کہ (مشت زنی حرام ہے) ابن جریج نے عطاء کا قول نقل کیا ہے کہ مشت زنی مکروہ ہے۔ عطاء نے یہ بھی فرمایا : میں نے سنا ہے کہ کچھ لوگوں کا حشر ایسی حالت میں ہوگا کہ ان کے ہاتھ حاملہ ہوں گے ‘ میرا خیال ہے کہ یہ مشت زنی کرنے والے ہوں گے۔
سعید بن جبیر نے فرمایا : ایک گروہ کو اللہ عذاب دے گا کیونکہ وہ اپنی شرمگاہوں سے کھیلتے ہوں گے ‘ میں کہتا ہوں اس سلسلہ میں حضرت انس ؓ کی روایت کردہ ایک حدیث بھی آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اپنے ہاتھ سے نکاح کیا ‘ وہ ملعون ہے۔ ازدی نے یہ حدیث الضعفاء میں نقل کی ہے اور ابن جوزی نے اپنے مشہور جزئیہ میں حسن بن عرفہ کی اسناد سے ان الفاظ میں روایت کی ہے کہ سات شخص ہیں جن کی طرف اللہ نظر (رحمت) نہ فرمائے گا ‘ ان میں ایک مشت زن کو قرار دیا ہے مگر اس روایت کی اسناد کمزور ہے۔
Ayah 70:32والذین ھم لامانتھم وعھدھم راعون . یعنی وہ لوگ جو امانتوں کی حفاظت کرتے اور ان کے مالکوں کو پہنچا دیتے ہیں ‘ کچھ امانتیں تو خدا اور بندہ کے درمیان ہیں جیسے نماز ‘ روزہ ‘ غسل جنابت اور وہ تمام احکام جن کا تعلق محض حق اللہ سے ہے اور ان کو بجا لانا واجب ہے۔ ہر کمال وجود ‘ تمام لوازم حیات ‘ بیرونی اور اندرونی نعمتیں وغیرہ ان ساری چیزوں کی عطاء کی نسبت خدا کی طرف کرنی چاہیے۔ یہ بات جاننا اور ماننا لازم ہے کہ یہ سب کچھ الٰہی عطیہ اور خداوندی امانت ہے جو عاریۃً اللہ نے ہم کو دی ہے۔ ہم پیدائش کے وقت ایسے ہی تہی دست مفلس تھے جیسا مانگے کا کپڑا پہننے والا بذات خود برہنہ ہوتا ہے۔ کپڑے کا مالک نہیں ہوتا۔ بندہ کو یقین رکھنا چاہیے کہ بزرگی اور عظمت ‘ اللہ کا خصوصی لباس ہے۔ کسی کے لیے جائز نہیں کہ اس لباس کی خدا سے کشا کش کرے۔ اگر نعمتیں مل جائیں تو (عنایت کا) شکر اور چھن جائیں تو صبر کرنا لازم ہے۔ کچھ امانتیں بندوں کی آپس میں ہوتی ہیں جیسے ودیعت۔ سرمایہ (خواہ تجارتی ہو جیسے مضاربت اور ایجنسی میں ہوتا ہے یا بطور قرض ہو) اور عاریت (مستعار چیزیں) ان سب کی پوری ادائیگی انسان پر لازم ہے۔ دوسری شق ہے حفاظت عہد یعنی اپنے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کرتے ہیں۔ عہد کی دو قسمیں ہیں : ایک وہ جو بندوں نے ازل کے دن خدا سے کیا تھا اور اس کے علاوہ بھی بعض عہود الٰہیہ ہیں مثلاً اللہ نے اہل کتاب سے وعدہ لیا تھا کہ صفات رسول اللہ ﷺ کو کھول کر بیان کریں گے ‘ مخفی نہ رکھیں گے۔ دوسری قسم انسانوں کے آپس کے وہ معاہدات ہیں جو باہمی معاملات اور معاشرہ و سماج میں کیے جاتے ہیں۔ ان سب کی نگہداشت واجب ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (عملی) منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ بات کرے تو جھوٹ بولے ‘ وعدہ کرے تو پورا نہ کرے ‘ اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ اس حدیث کے وسط میں مسلم نے یہ الفاظ زیادہ نقل کیے ہیں کہ خواہ روزہ ‘ نماز ادا کرتا ہو اور مسلمان ہونے کا دعویدار بھی ہو۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : چار باتیں ہیں جن کے اندر یہ چاروں ہونگی وہ (عملاً ) خالص منافق ہوگا اور جس کے اندر ایک خصلت ہوگی اس میں نفاق کی ایک بات رہے گی تاوقتیکہ اس کو ترک نہ کر دے۔ اگر اسکے پاس امانت رکھی جائے تو (اس میں) خیانت کرے ‘ بات کہے تو جھوٹ بولے ‘ وعدہ کرے تو اسکے خلاف کرے اور جھگڑے کے وقت گالیاں بکے۔
ابوداؤد نے نقل کیا ہے کہ عبداللہ ؓ بن ابی الحسماء نے کہا : حضور ؓ کے نبی ہونے سے پہلے میں نے آپ ﷺ سے کچھ خریدو فروخت کی۔ آپ کو کچھ دینا میرے ذمہ باقی رہ گیا۔ میں نے وعدہ کرلیا کہ (ابھی) اسی جگہ لا کردیتا ہوں ‘ جانے کے بعد میں بھول گیا ‘ تین روز کے بعد وعدہ یاد آیا اور میں لوٹ کر آیا تو دیکھا آپ ﷺ اسی جگہ موجود ہیں (مجھے دیکھ کر) فرمایا : تم نے مجھے دکھ دیا میں تین روز سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔
Ayah 70:33والذین ھم بشھداتھم قائمون . یعنی جو لوگ صداقت کے ساتھ شہادتیں ادا کرتے ہیں ‘ نہ شہادت کو
چھپاتے ہیں ‘ نہ بدلتے ہیں ‘ نہ اس سلسلے میں کسی برا کہنے والے کے برا کہنے سے ڈرتے ہیں خواہ شہادت کا تعلق محض حق خداوندی سے ہو جیسے شہادت توحید و رسالت اور رسول اللہ ﷺ کے اوصاف کے متعلق تورات کی شہادت کا اظہار اور رمضان کا چاند دیکھنے کی شہادت اور حدود خدواندی قائم کرنے کی شہادت وغیرہ یا حقوق عباد کے سلسلہ کی شہادت ہو جیسے باہمی لین دین وغیرہ کی شہادت ‘ شہادت میں عموم ہے کسی کے خلاف ہو خواہ اپنے اقرباء اور والدین بلکہ اپنی ذات ہی کے خلاف ہو۔
Ayah 70:34والذین ھم علی علی صلوتھم یحافظون . یعنی نماز کے اوقات ‘ ارکان سنن اور مستحبات کی نگہداشت
کرتے ہیں کسی (ضروری رکن یا سنت یا وقت) کو فوت نہیں ہونے دیتے۔
نماز کا تذکرہ دو جگہ آیا ہے شروع میں اور (یہاں) آخر میں اور دونوں جگہ تذکرہ کا طریقہ جدا جدا ہے تکرار ذکر بتارہا ہے کہ دوسرے ارکان اسلام کے مقابلہ میں نماز کو اہمیت حاصل ہے۔
Ayah 70:35اولئک فی جنت مکرمون . یعنی مذکورہ بالا صفات کے حامل جنتوں میں عزت یافتہ ہوں گے۔
Ayah 70:36فمال الذین کفروا قبلک مھطعین . فما میں فاء سببی اور ما سوالیہ تنبیہ و زجر کیلئے ہے۔ بغوی نے لکھا ہے
لکھا ہے کہ کافروں کی ایک جماعت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جمع ہو کر کلام مبارک سنتی تھی۔ مگر استہزاء اور تکذیب کرتی تھی۔ انکو تنبیہ کرنے کیلئے اس آیت کا نزول ہوا اور اللہ نے فرمایا : کیا وجہ ہے یہ لوگ آپ ﷺ کے پاس بیٹھتے ‘ آپ ﷺ کو دیکھتے (اور کلام سنتے) ہیں مگر فائدہ حاصل نہیں کرتے۔
مُھْطِعِیْنَ : یعنی آپ کی طرف نظریں اٹھائے ‘ گردنیں بڑھائے ‘ تیزی کے ساتھ جھپٹتے ہوئے آتے ہیں۔ (بغوی)
صاحب قاموس نے لکھا ہے : ھَطَعَ ھَطُوْعًا وَ ھَطْعًا تیزی کے ساتھ کسی طرف رخ کر کے ڈرتا ہوا اور اپنی نظر کو کسی چیز پر جمائے ہوئے آیا اور کسی رکاوٹ کی پروا نہ کی (یعنی ھطع ثلاثی مجرد کو باب فتح سے قرار دیا گیا اور اس کا مصدر ھطوع اور ھطعٌ ہے) ۔
اور اھطع (ثلاثی مزید ‘ باب افعال جس سے مھطعین اسم فاعل بصیغۂ جمع ہے) کا معنی گردن بڑھائی ‘ سر اٹھایا۔
Ayah 70:37عن الیمین و عن الشمال عزین . عزین جمع ہے عزۃٌ کی۔ الگ الگ ٹولے۔ (صحاح جوہری) قاموس میں ہے : عزۃٌ بروزن عدۃٌ آدمیوں کا گروہ۔
Ayah 70:38ایطمع کل امری منھم ان یدخل جنۃ نعیم . کافروں کی نظر میں قیامت آنی محال تھی اور وہ کہتے تھے کہ بالفرض اگر آ بھی گئی تو جس طرح ہم دنیا میں افضل (مالدار اور راحت آگیں زندگیوں والے) ہیں ‘ اسی طرح قیامت میں بھی ہم اعلیٰ اور بالا ہوں گے۔ کافروں کے اس خیال کا رد مذکورہ آیت میں کردیا۔ ہمزۂ انکاری ہے یعنی بغیر ایمان اور عمل صالح کے کیا ان کو جنت میں داخل ہونے کی امید ہے ‘ ایسا نہیں ہوسکتا۔
Ayah 70:39کلا . بےحقیقت اور بیہودہ امید سے (اس لفظ کے ذریعہ) بازداشت کی گئی ہے یعنی انکو ہرگز ایسا بیہودہ خیال نہ رکھنا چاہیے۔
انا خلقناھم ممایعلمون . یہاں تخلیق اوّل کا ذکر کر کے تخلیق دوئم ( حشر) پر استدلال ہے۔ استحالۂ حشر کے دعوے کا ابطال اور بغیر ایمان کے جنت میں داخل ہونے کی امید منقطع کرنے کی وجہ کا بیان ہے۔ مطلب یہ کہ ہم نے انکو گندے نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے بنایا ‘ ان میں سے کوئی چیز اعزاز کی خواستگار ہے نہ عالم قدس میں داخلہ کے شایان ‘ اسلئے جو شخص ایمان اور اطاعت سے اپنے نفس کی (تخلیقی) کمی کو پورا نہ کریگا اور اللہ کے پسندیدہ اوصاف سے آراستہ نہ ہوجائیگا وہ جنت میں داخلے کے قابل نہ ہوگا۔
بغوی نے اپنی سند سے بروایت حضرت بشر بن حجاش بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز اپنی ہتھیلی پر تھوک کر اس پر انگلی رکھی اور فرمایا : اللہ ارشاد فرماتا ہے ‘ اے آدم کے بچے ! کیا تو مجھے عاجز بنا سکتا ہے ‘ حالانکہ میں نے تجھے ایسی (حقیر) چیز سے بنایا یہاں تک کہ میں نے تیری تخلیق درست اور ساخت ہموار کردی اور تو دو چادریں پہن کر چلنے لگا پھر تو نے (کمائی کر کے) مال جمع کیا اور روک کر رکھا آخر جب جان ہنسلی کی ہڈی میں آکر چلنے لگی تو اس وقت تو نے کہا : (موت اور خدا کی ہمہ گیر قدرت) حق ہے۔ اب حق (کے اقرار) کا وقت کہاں رہا یا آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس غرض سے تم کو پیدا کیا گیا ہے اس کو تم جانتے ہو ‘ اللہ نے خود فرمایا ہے : وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون۔ جن و انس کو ہم نے محض اپنی معرفت کے لیے پیدا کیا ہے۔ لہٰذا جو شخص علم و عمل سے اپنے نفس کی تکمیل نہ کر پایا ہو وہ اہل کمال کے مراتب تک پہنچنے کی طمع کیسے رکھ سکتا ہے۔
Ayah 70:40فلا قسم برب المشارق والمغارب . المشارق اور المغارب سے مراد ہیں ستاروں کے طلوع و غروب کے
مقامات یا روزانہ چاند و سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات۔
انا لقادرون
یعنی ہم کو قدرت حاصل ہے