Ayahs 70:1–21۔ فریابی وعبد بن حمید والنسائی وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت سال سائل ایک سوال کرنے والے نے سوال کیا یعنی نضر بن حارث نے اور اس نے یہ کہا تھا اے اللہ اگر یہ حق ہے تیرے پاس تو ہم پر پتھر برسادیجیے اور فرمایا آیت للکفرین لیس لہ دافع من اللہ ذی المعارج۔ یعنی اس عذاب کے بارے میں جو ہو کر رہنے والا ہے۔ آیت للکفرین لیس لہ دافع من اللہ ذی المعارج۔ یعنی یہ تیار ہے کافروں کے لیے کہ اس کو کوئی ٹالنے والا نہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ہے جو درجات کا مالک ہے۔
2۔ ابن المنذر نے زید بن اسلم (رح) سے اس طرح روایت کیا۔
سورۃ المعارج کا شان نزول
3۔ ابن ابی حاتم نے سدی رحمۃ اللہ علہ سے آیت سال سائل کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت مکہ میں نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی اور اس نے کہا تھا اے اللہ اگر یہ حق ہے آپ کی طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے اور اسے عذاب بدر کے دن ہوا۔
4۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت بعذاب واقع سے مراد ہے کہ دنیا میں ان کا یہ کہنا آخرت میں واقع ہوگا کہ اے اللہ اگر ہی تیری جانب سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے اور یہ کہنے والا نضر بن حارث تھا۔
5۔ ابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت سال سائل بعذاب واقع کے نازل ہونے پر لوگوں نے کہا کس پر عذاب واقع ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا۔ آیت للکفرین لیس لہ دافع یعنی کافروں پر کہ پھر اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں ہوگا۔
6۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت سال سائل سے مراد ہے کہ دعا کی ایک دعا کرنے والے نے بعذاب واقع اس عذاب کے بارے میں جو آخرت میں واقع ہوگا اور ان کا یہ کہنا تھا اے اللہ ! اگر یہ حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسائیے یا ہم پر دردناک عذاب لے آ۔
7۔ عبد بن حمید نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ عبد نزار میں سے کسی آدمی نے جس کا حارث بن علقمہ کہا جاتا تھا۔ اے اللہ اگر یہ حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دیجیے یا ہم پر دردناک عذاب لے آئیے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وقالوا ربنا عجل لنا قطنا قبل یوم الحساب (ص۔ آیت 16) اور کہتے ہیں اے رب ! ہمارے ہمارا حصہ ہمیں حساب کے دن سے پہلے ہی دے دے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ولقد جئتمونا فرادا (الانعام آیت 94) اور البتہ تم ہمارے پاس ایک ایک ہو کر آگئے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا سال سائل بعذاب واقع یعنی وہ آدمی جس نے کہا اگر یہ حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر پتھر برسا دے۔ اور وہ آدمی جس نے کہا آیت ربنا عجل لنا قطنا (ص آیت 16) اور یہ وہی آدمی ہے جس نے عذاب کا مطالبہ تھا جو واقع ہو کر رہے گا۔
8۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت سال سائل میں سال جہنم میں ایک وادی ہے۔
Ayah 70:39۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ذی المعارج سے مراد ہے وہ ذات جو بلندیوں والی اور فضیلتوں والی ہے۔
10۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابو الشیخ نے العظمہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ذی المعارج سے مراد ہے کہ آسمان کی بلندیوں کا مالک ہے۔
11۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ذی المعارج سے مراد ہے فضیلتوں اور نعمتوں والا۔
12۔ احمد وابن خزیمہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا لبیک ذی المعارج میں حاضر ہوں اے بلندیوں کے مالک۔ اور فرمایا بیشک وہ بلندیوں والے ہیں اور ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ ایسا نہ کہا کرتے تھے۔
Ayah 70:413۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اس طرح پڑھا آیت یعرج الملئکۃ تاء کے ساتھ۔
14۔ عبد بن حمید نے ابو اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ آیت تعرج المئکۃ یاء کے ساتھ پڑھتے تھ۔
15۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہے سے مراد ہے کہ اس امر کی انتہا زمینوں کے نیچے سے لے کر ساتویں آسمانوں کے اوپر کی انتہا تک ہے۔ اور فرمایا آیت مقدارہ خمسین الف سنۃ اور اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے اور وہ دن جس کی مقدار ایک ہزار سال ہے یعنی آسمانوں سے زمین کی طرف نازل ہونے اور زمین سے آسمان کی طرف امر کا بلند ہونا ایک دن میں ہے اور اس کی مقدار ہے ایک ہزار سال ہے کیونکہ آسمان اور زمین کے درمیان پانچ سو سال کا راستہ ہے۔
16۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہر زمین کی موٹائی پانچ سو سال کی ہے اور اس طرح چودہ ہزار سال میں کیونکہ ساتوں آسمان اور عرش کے درمیان چھتیس ہزار سال کا فاصلہ ہے۔ اسی کو فرمایا آیت فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ۔
17۔ ابن المنذر اور بیہقی نے البعث والنشور میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ اس دن میں ج کی مقدار ایک ہزار سال ہوگی تمہاری گنتی سے۔ سے مراد ہے کہ یہ مقدار دنیا کی ہے اور فرمایا تعرف المئکۃ والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ۔ اور آیت فی یوم کان مقدرہ خمسین الف سنۃ کہ ان دونوں آیات سے قیامت کا دن مراد کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کافروں کے لیے پچاس ہزار سال کے برابر بنایا ہے۔
18۔ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے آیت فی یوم کان مقدرہ خمسین الف سنۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اگر تم اس کا اندازہ لگاؤ تو تمہارے دنیا کے دنوں کے مطابق پچاس ہزار سال کا وہ دن ہے یعنی قیامت کا دن۔
19۔ ابن مردویہ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ابن عباس ؓ سے ان آیات کے بارے میں پوچھا یعنی یہ آیات فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ۔ ویدبر الامر من السماء الی الارض۔ اور ہو کام کی تدبیر کرتا ہے آسمان سے زمین کی طرف پھر اس کی طرف عروج کرتا ہے۔ آیت یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون۔ اور آیت ویستعجلونک بالعذاب ولن یخلف اللہ وعدہ۔ وان یوم عند ربک کالف سنۃ مما تعدون۔ اور وہ جلدی کرتے ہیں آپ سے عذاب کی اور اللہ تعالیٰ ہرگز اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں فرمائیں گے اور ایک دن تیرے رب کے نزدیک گویا کہ ایک ہزار سال ہے تمہارے گنتی سے پھر فرمایا قیامت کے دن کا حساب پچاس ہزار سال ہے اور اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا گیا چھ دنوں میں اور ہر دن ہزار سال کا تھا اور وہ کام تدبیر کرتا ہے آسمان سے زمین کی طرف۔ پھر وہ اس کی طرف عروج کرتا ہے۔ آیت فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ اس دن میں جس کی مقدار ہزار سال ہے اور یہ مدت مسافت ہے۔
20۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے مجاہد و عکرمہ رحمہما اللہ سے آیت فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ کے یہ دنیا اپنی ابتداء سے لے کر اپنی انتہاء تک ایک دن ہے جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی قیامت کے دن۔
21۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابو الشیخ نے العظمہ میں وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ مسافت زمین کے نیچے سے لے کر عرش تک ہے۔
22۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ کے بارے میں روایت کیا کہ قیام کے دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی۔
قیامت کا دن کتنا لمبا ہوگا
23۔ احمد وابو یعلی وابن جریر وابن حبان اور بیہقی نے البعث میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے آیت فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ کے بارے میں پوچھا گیا کہ کتنا لمبا یہ دن ہوگا۔ تو آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے البتہ یہ دن مومن کے لیے انتہائی ہلکا ہوگا۔ یہاں تک کہ اس فرض نماز سے بھی اس پر زیادہ ہلکا ہوگا جو وہ اس کو دنیا میں پڑھتا ہے۔
24۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا کہ قیامت کے دن اتنی مقدار ہوگی جتنی ظہر اور عصر کے درمیانی وقت ہے۔
25۔ عبد بن حمید نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ قیامت کے دن کی بےچینی سخت ہوگی یہاں تک کہ کافر کو پسینے کی لگام دی جائے گی پوچھا گیا اس دن مومن کہاں ہوں گے ؟ فرمایا ان کے لیے سونے کی کرسیاں رکھی جائیں گی اور ان پر بادلوں کا سایہ کیا جائے گا اور ان پر اس دن کو چھوٹا کردیا جائے گا اور یہ آسان کردیا جائے گا یہاں تک کہ ایک دن کی طرح ہوجائے گا تمہارے ان دنوں میں سے۔
26۔ عبد بن حمید نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ وہ دن ان پر ایک فرض نماز کی طرح ہوجائے گا۔ یعنی وہ پچاس ہزار کا دن ایک فرض نماز کے پڑھنے کے وقوت کے برابر ہوجائے گا۔
27۔ ابن ابی حاتم والحاکم و بیہقی نے البعث میں ابوہریرہ ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ قیامت کا دن ایمان والوں پر صرف اتنا لمبا ہوگا جتنا ظہر اور عصر کے درمیان وقت ہے۔
Ayah 70:528۔ الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت صبرا جمیلا آپ اچھی طرح سے صبر کیے رہیں یعنی میرے علاوہ کسی سے شکایت نہ کرو۔
29۔ الحکیم الترمذی نے عبدالاعلیٰ بن الحجاج (رح) سے آیت فاصبر صبرا جمیلا کے بارے میں روایت کیا کہ ایک مصیبت والا قوم میں اس طرح ہو کہ نہ پہچانا جائے کہ وہ کون ہے۔
Ayahs 70:6–71۔ عبد بن حمید نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ آیت انہم یرونہ بعیدا۔ بیشک وہ اسے دور سے دیکھتے ہیں۔ یعنی قیامت کو۔
2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آتی انہم یرونہ بعیدا۔ یعنی کافر اسے اپنی تکذیب کی وجہ سے دور دیکھتے ہیں آیت ونرہ قریبا اور ہم اسے قریب دیکھتے ہیں یعنی ہم اسے سچ ہونے کے سبب قریب دیکھ رہے ہیں۔
Ayahs 70:8–93۔ احمد وعبد بن حمید وابن المنذر والخطیب فی المتفق والمفترق اور ضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یوم تکون السماء کالمہل جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہوگا یعنی اب آسمان سبز رنگ کا ہے۔ اور بیشک قیامت کے دن وہ سرخ رنگ میں بدل جائے گا۔
4۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یوم تکون السماء کالمہل کے بارے میں بتائیے فرمایا کہ قیامت کے دن کے خوف سے آسمان تیل کی تلچھٹ اور بیڈی کی سیاہی کی مانند ہوجائے گا۔ پھر فرمایا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا۔
تنا دی بہ القسم الصموم کانہا تبطنت الاقراب من عرق مہلا
ترجمہ : کھولتا ہوا گرم پانی اس سے ظاہر ہورا ہے گویا کہ پہلو ہڈیوں سے پگھل کر اندر گھس گئے ہیں
5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم تکون السماء کالمہل سے مراد ہے تیل کی تلچھٹ وتکون الجبال کالعہن المنفوش۔ اور پہاڑ دھنی ہوئی رنگدار روئی کی طرح ہوں گے جیسے اون آیت یبصرونہم۔ وہ انہیں دکھائے جائیں گے یعنی مومن کافروں کو دیکھیں گے۔
کافر دوست ایک دوسرے کو نہ پوچھے گا۔
Ayah 70:106۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا یسئل حمیم حمیما اور کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا یعنی ہر انسان لوگون سے بےپرواہ ہو کر اپنی ذات میں مشغول ہوگا آیت یبصرونہم کہ وہ ان کو دیکھیں گے یعنی تم ضرور جان لو گے اللہ کی قسم ! قیامت کے دن ایک قوم دوسری قوم کو ضرور پہچانے گی اور لوگ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے۔ آیت یود المجرم لویفتدی۔ مجرم چاہے گا کاش وہ فدیہ دے کر چھوٹ جائے۔ پھر فرمایا کہ وہ قیامت کے دن تمنا کرے گا کہ وہ سب سے محبوب چیز کا فدیہ دیتا اور پھر اس کے بعد سب سے زیادہ محبوب اور زیادہ قریبی اپنے اہل و عیال اور اپنے خاندان میں سے فدیہ دے سکتا اور یہ اس دن کی شدت اور سختی کی وجہ سے ہوگا۔
Ayahs 70:11–127۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یبصرونہم یعنی ان کا بعض بعض کو پہچانے گا اور وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانی گے۔ پھر وہ ایک دوسرے سے بھاگے جائیں گے۔
Ayahs 70:13–158۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وفصیلتہ سے مراد ہے اس کا کنبہ
9۔ ابن المنذر نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ آیت وفصیلتہ التی تو ویہ اور اپنے اس کنبے کو جو اسے پناہ دیتا تھا یعنی وہ اس کا قبیلہ کہ جس کی طرف وہ منسوب کیا جاتا تھا۔
10۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد رحمہ الہ سے روایت کیا کہ آیت وفصیلتہ سے مراد ہے اس کا قبیلہ آیت نزاعۃ الشوی۔ کھالوں کو اتارنے والی یعنی وہ آگ سب کی جلد کو نوچ لے گی۔ آیت تدعو من ادبر وتولی۔ اس کو بلائے گی جس نے پیٹھ پھیری اور منہ موڑا یعنی حق سے آیت وجمع فاوعی اور مال جمع کیا اور گن گن کر رکھا یعنی مال جمع کرتا رہاہ
Ayahs 70:16–1811۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت نزعۃ للشوی سے مراد ہے کہ وہ ام الراس یعنی دماغ کو جڑ کو نوچ لے گی۔
12۔ عبدالرزاق وعبد ببن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ آگ اس کی کھوپڑی اور اس کے چہرے کے حسن کو اتاردے گی آیت تدعوا من ادبر یعنی جس نے اللہ کی اطاعت سے پیٹھ پھیری اس کو بلائے گی۔ وتولی اور جس نے اللہ کی کتاب سے اور اس کے حق سے منہ موڑا آیت وجمع فاوعدی یعنی برائی کے لیے بہت سا مال جمع کرتا رہا
13۔ عبد بن حمید نے قرعہ بن خالد (رح) آیت نزاعۃ للشوی کے بارے میں روایت کیا کہ وہ کھوپڑی کی کھال کو اتار دے گا اور اس میں سے ہر چیز کو جلادے گا اور اس کا دل باقری رہا جائے گا اس حال میں کہ وہ پکا ہوگا۔
14۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت نزاعۃ للشی یعنی اطراف کو بھون ڈالے گی۔
15۔ ابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت نزاعۃ للشوی یعنی سر کی جلد کو جلاڈالے گی۔
16۔ ابن المنذر نے ثابت ؓ سے روایت کیا کہ آیت نزاعۃ للشوی سے مراد ہے کہ آدم کے بیٹے کے چہرے کے محاسن و مکارم۔
17۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت نزاعۃ للشوی یعنی پنڈلوں کے گوشت کو اتار دے گی۔
19۔ ابن سعد نے حکم (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن حکیم اپنے تھیلے کو نہیں باندھتے تھے اور کہتے تھے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا آیت وجمع فاوعی کہ اس نے مال کو جمع کیا اور گن گن کر رکھا۔
Ayahs 70:19–211۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے آیت ہلوعا کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت اذا مسہ الشر جزوعا واذا مسہ الخیر منوعا جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو چلا اٹھتا ہے اور جب اسے مال ملتا ہے تو بڑا بخیل بن جاتا ہے پس ہلوع ہے۔
2۔ طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انفع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ان الانسان خلق ہلوعا کے بارے میں بتائیے تو فرمایا اس سے مراد ہے سخت تنگ دل اور گھبرانے والا۔ یہ ابو جہل بن ہشام کے بارے میں نازل ہوئی۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے بشر بن ابی حازم کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
لا مانعا للیتیم بخلقہ ولا مکبا بخلقہ ہلعا
ترجمہ : اپنی فطر کے سبب وہ کسی یتین کی حمایت نہیں کرتا اور نہ ہی وہ اپنی فطر کے سبب کسی گھبرا جانے والے کو پچھاڑ سکتا ہے
3۔ ابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ان الانسان خلق ہلوعا کے بارے میں پوچھا یعنی انسان کم ہمت پیدا کیا گیا فرمایا اس کے بعد وہ آیات پڑھو تو انہوں نے پڑھا آیت اذا مسہ الشر جزوعا واذا مسہ الخیر منوعا۔ فرمایا اس طرح انسانوں کو پیدا کیا گیا۔
ہلوعا کی تفسیر
4۔ ابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ہلوعا سے مراد ہے بخیل اور گھبرا جانے والا
5۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ہلوعا سے مراد ہے تنگ دل
6۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہلوعا سے مراد ہے تنگ دل
6۔ عبد الرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہلوعا سے مراد ہے سخت گھبراجانے والا
7۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہلوعا سے مراد ہے لالچی اور حریص۔
8۔ ابن المنذر نے حصین بن عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ ہلوعا سے مراد ہے حریص۔
9۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ہلوعا سے مراد ہے وہ آدمی ہے جو مال کے جمع کرنے سے سیر نہ ہوتا ہو۔
10۔ دیلمی نے علی ؓ سے مرفوعاً روایت کیا کہ لکھا جاتا ہے مریض کا کراہنا۔ اگر وہ صابر رہا تو اس کا کراہنا نیکیاں ہوں گی اور اگر گھبراتا رہا تو بےصبرا لکھا جائے گا اور اس کے لیے کوئی اجر نہ ہوگا۔
Ayah 70:2211۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت الا المصلین الذین ہم علی صلاتہم دائمون۔ مگر وہ نمازی جو اپنی نماز پر ہمیشہ قائم ہیں۔ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ دانیال (علیہ السلام) نے محمد ﷺ کی امت کی تعریف کی۔ اور فرمایا کہ وہ ہمیشہ نماز پڑھیں گے اگر قوم نوح نماز پڑھتی تو غرق نہ کیے جاتے یا قوم عاد نماز پڑھتی تو ان پر بانجھ ہوا نہ بھیجی جاتی۔ اور قوم ثمود نماز پڑھتی تو ان کو خوفناک آواز نہ پکڑتی۔ قتادہ (رح) نے فرمایا تم نماز کو لازم پکڑو کیونکہ وہ مومنین کے اچھے اخلاق میں سے اچھا اخلاق ہے۔
Ayah 70:2312۔ عبد بن حمید نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا کہ آیت الذین ہم علی صلاتہم دائمون سے مراد ہے فرض نماز۔
13۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت الذین ہم علی صلاتہم دائمون سے مراد ہے وہ اپنی نمازیں ان کے اپنے اوقات پر ادا کرتے ہیں۔
14۔ عبد بن حمید نے مسروق (رح) سے اسی طرح روایت کیا
15۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ آیت الذین ہم علی صلاتہم دائمون سے مراد ہے کہ جو اپنی نماز میں ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتا۔
16۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ آیت الذین ہم علی صلاتہم دائمون سے مراد ہے کہ وہ لوگ جب نماز پڑھتے ہیں تو ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتے۔
17۔ ابن المنذر نے ابوالخیر (رح) سے روایت کیا کہ عقبہ بن عامر ؓ نے ان سے فرمایا کون ہے جو آیت الذین ہم علی صلاتہم دائمون۔ ہم نے عرض کیا جو ہمیشہ نمازیں پڑھتے ہیں فرمایا یہ مطلب نہیں لیکن وہ لوگ جب نماز پڑھتے ہیں تو دائیں اور بائیں طرف متوجہ نہیں ہوتے۔
دائمی عمل اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے
ٍ 18۔ ابن حبان نے ابو سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ مجھے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اتنا عمل کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتے۔ یہاں تک کہ تم اکتا جاؤ۔ پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سب سے محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔ اور جب آپ نماز پڑھتے تو اس پر ہمیشگی اختیار فرماتے تھے ابو سلمہ ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت الذین ہم علی صلاتہم دائمون۔
Ayahs 70:24–3519۔ عبد بن حمید نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین فی اموالہم حق معلوم اور وہ جن کے مالوں میں حصہ معین ہے یعنی وہ لوگ جو اپنے مالوں سے اس وقت دیتے ہیں جب عطیات نکالے جاتے ہیں۔
Ayah 70:3620۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فمال الذین کفرو قبلک مہطعین پس کافروں کو کیا ہوگیا کہ آپ کی طرف دوڑے آرہے ہیں یعنی وہ آپ کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہے ہیں آیت عن الیمین وعن الشمال عزین۔ دائیں اور بائیں سے ٹولیا بنا کر یعنی غصہ کرتے ہوئے لوگوں سے دائیں اور بائیں طرف منہ پھیرتے ہوئے اور اس کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے۔
21۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فمال الذین کفرو قبلک مہطعین سے مراد ہے کہ ان کافروں کو کیا ہوا کہ وہ آپ کی طرف قصد کرتے ہوئے بھاگے آرہے ہیں۔ آیت عن الیمین وعن الشمال عزین یعنی نبی ﷺ کے ارد گرد گروہ درگروہ حالانکہ نہ وہ اللہ کی کتاب میں رغبت رکھتے ہیں اور نہ اس کے ذکر میں۔
22۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت فمال الذین کفروا قبلک مہطعین۔ یعنی وہ بھاگتے ہوئے آرہے ہیں آیت عن الیمین وعن الشمال عزین۔ یعنی وہ گروہ در گروہ دائیں اور بائیں طرف سے آرہے ہیں اور کہہ رہے ہیں یہ آدمی کیا کہتا ہے۔
23۔ طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت عن الیمین وعن الشمال عزین۔ کے بارے میں مجھے بتائیے۔ فرمایا اس سے مراد ہے ساتھیوں کی جماعت کا حلقہ بنا کر بیٹھنا پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں۔ فرمایا کیا تو نے عبید بن احوص کو نہیں سنا کہ وہ کہتا ہے
Ayah 70:37فاجء وا مہر عین الیہ حتی یکونوا حول منبرہ عزین
ترجمہ : پس وہ اس کی طرف تیزی سے دوڑتے ہوئے آئے یہاں تک کہ اس کے منبر کے ارگرد حلقہ بنائے کھڑے ہوگئے
24۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت عن الیمین وعن الشمال عزین یعنی نبی صلی اللہ ﷺ دائیں جانب سے اور آپ کی بائیں جانب سے عزین یعنی گوٹ مار کر بیٹھنے والوں کی مجلسیں جن میں تھوڑے تھوڑے افراد ہوں۔
25۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ عزین سے مراد ہے مجلسوں کے حلقے۔
26۔ عبد بن حمید نے عبادہ بن انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے اور فرمایا کیا ہے میرے لیے کہ میں تم کو دیکھتا ہوں عزین یعنی جاہلیت کے حلقوں کی طرح حلقے بنائے ہوئے ہر آدمی اپنے بھائی کے پیچھے بیٹھے۔
27۔ عبد بن حمید ومسلم وابوداوٗد والنسائی وابن مردویہ نے جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس مسجد میں تشریف لائے اور ہم متفرق حلقے بنائے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا کیا ہے میرے لیے کہ میں تم کو دیکھ رہا ہوں عزین یعنی متفرق حلقوں میں۔
28۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ ایک جلوس کی شکل میں حلقہ حلقہ بنا کر نکلے آپ نے فرمایا کیا ہے میرے لیے کہ میں تم کو متفرق حلقوں میں دیکھ رہا ہوں۔
Ayah 70:3829۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت ایطمع کل امرء منہم ان یدخل جنۃ کیا ان میں سے ہر آدمی یہ امید رکھتا ہے کہ وہ جنت میں داخل ہوگا میں یدخل کی یار کو مرفوع پڑھا۔
30۔ عبد بن حمید نے ابو معمر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں ان یدخل میں اء کو منصوب اور خاء کو مرفوع پڑھا۔
31۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ایطمع کل امرء منہم ان یدخل جنۃ کیا ہر آدمی ان میں سے یہ امید رکھتا ہے کہ وہ جنت نعیم میں داخل ہوگا۔ یعنی ہرگز تو ایسا کرنے والا نہیں۔ پھر ان کی پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا آیت انا خلقنہم مما یعلمون۔ ہم نے ان کو پیدا کیا ان چیزوں میں سے جو وہ جانتے ہیں یعنی وہی نطفہ جس سے انسان کو پیدا کیا گیا۔
Ayah 70:3932۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا انا خلقنہم مما یعلمون۔ بلاشبہ اے ابن آدم تو گندگی سے پیدا کیا گیا۔ سو تو اللہ سے ڈرتا رہے۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت تمام مخلوق کو محیط ہے
33۔ بیہقی نے نے شعب الایمان میں بشیر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت فمال الذین کفرو قبلک مہطعین عبارت سے لے کر آیت کلا انا خلقنہم ممایعلمون تک پڑھی پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہتھیلی مبارک پر تھوکا اور اس پر اپنی انگلی مبارک کو رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے ابن آدم تو مجھے کہا عاجز کرسکتا ہے حالانکہ میں تجھے اس کی مثل سے پیدا کیا۔ یہاں تک کہ جب میں نے تجھ کو مضطوط اور تندرست بنادیا اور تو دوچاروں کے درمیان چلنے لگا۔ اور زمین کو تیرے لیے متین بنادیا تو نے مال جمع کیا اور خرچ کرنے سے روکے رکھا۔ یہاں تک کہ جب روح ہنسلی تک پہنچی تو نے کہا میں اب صدقہ کرتا ہوں اور اب وہ صدقہ کے برتن کہاں ہیں۔