70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة المعارج سورة نمبر 70 کل رکوع 2 آیات 44 الفاظ و کلمات 241 حروف 1095 مقام نزول مکہ مکرمہ تعارف : جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیامت، آخرت، جنت اور جہنم کا ذکر فرماتے تو کفار مکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ وہ قیامت جس کا ذکر کثرت سے کیا جاتا ہے اور وہ عذاب جو نازل کیا جاسکتا ہے آکر اس کے آنے میں کیا رکاوٹ ہے ؟ اس جگہ کافروں میں سے ایک خاص آدمی کا ذکر کیا گی ا ہے جو مال و دولت، اپنے بیٹوں، بھائیوں ، دوستوں اور خاندان کے افراد کی کثرت پر ناز کرتے ہوئے ایک دن یہاں تک کہہ بیٹھا ” الٰہی ! اگر یہ حق تیری ہی طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر شدید عذاب کو لے آ۔ “ مفسرین نے اس کا نام نضر ابن حارث ابن کلدہ بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار اور اس خاص شخص کا ذکر کیے بغیر فرمایا ہے کہ مانگنے والا ایک ایسی چیز کو مانگ رہا ہے جو بہت جلد واقع ہونے والی ہے لیکن جب وہ دن آئے گا تو کافروں کے لئے بدترین اور سخت ترین دن ہوگا جو کسی کے ٹالنے سے ٹل نہ سکے گا۔ یہ اعلان اس ذات کی طرف سے ہے جو عروج کے زینوں کا مالک ہے۔ فرشتے اور جبرائیل امین بھی اللہ کے پاس حاضر ہوتے ہیں تو اس دن کی مقدار و مسافت پچاس ہزار سال ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی غلط سلط، بےہودہ باتوں پر صبر کیجئے اور صبر بھی وہ صبر جس میں کسی قسم کا شکوہ اور شکایت نہ ہو۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب ان جیسے لوگ اپنے انجام کو دیکھ لیں گے۔ فرمایا کہ یہ لوگ جس قیامت کے دن کو بہت دور کی چیز سمجھ رہے ہیں ہم اسے بہت قریب دیکھ رہے ہیں۔ فرمایا کہ اس دن آسمان تیل کی تلچھٹ جیسا اور پہاڑ رنگ برنگ کی دھنکی ہوئی روئی جیسے ہوجائیں گے۔ کوئی جگری اور گہرا دوست بھی دوسرے گہرے دوست کو نہ پوچھے گا حالانکہ ان کا آمنا سامنا بھی ہوگا۔ اس دن مجرم عذاب الٰہی سے بچنے کے لئے اپنی اولاد، بیوی، بھائی اور کنبہ کے وہ لوگ جن میں رہا کرتا تھا ان کو اور روئے زمین کی ہر چیز کو دے کر اس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرے گا لیکن وہ بھی اس عذاب سے نہ بچ سکے گا۔ اس کو ایسی بھڑکتی آگ میں ڈالا جائے گا جو اس کی کھال تک کھینچ لے گی اور وہ جہنم ہر اس شخص کے لئے ہے جس نے حق سے منہ موڑا ہوگا اور مال کو اٹھا اٹھا کر رکھتا اور جمع کرتا ہوگا۔ وہ شخص جس کا یہ حال ہے کہ جب کوئی مصیبت اس کو گھیر لیتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور جب اسے خوشحالی مل جاتی ہے تو وہ بخل اور کنجوسی کرنے لگتا ہے۔ لیکن وہ لوگ اس دن اللہ کے عذاب سے بچ جائیں گے اور جنت کی راحتوں سے لطف اندوز ہوں گے جو… ١۔ ہمیشہ نمازوں کی پابندی اور اہتمام کرتے ہیں۔ ٢۔ جن کے مالوں میں سوالی اور غیر سوایل سب کا حق ہوتا ہے یعنی کوئی محروم نہیں رہتا۔ ٣۔ جو قیامت کے دن کو برحق ماننے کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ ٤۔ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ ٥۔ جو لوگ اپنی بیویوں اور باندیوں کے سوا ہر جگہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ٦۔ جو امانتوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ٧۔ جو اپنے ہر وعدے کو پورا کرتے ہیں۔ ٨۔ جو اپنی نمازوں کی تمام شرائط اور آداب کا لحاط کرکے ان کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان سب لوگوں کو پورے اعزازو اکرام سے جنتوں میں رہنے کا حکم دیا جائے گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ منکرین دائیں اور بائیں سے جو اسلام کا مذاق اڑانے گروہ در گروہ چلے آرہے ہیں ان کا گمان یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک نعمت بھری جنتوں میں پہنچ جائے گا ؟ ہر گر نہیں۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کو ہم نے جس چیز سے پیدا کیا ہے یعنی ایک حقیر نطفہ سے۔ مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم ہم اس بات پر پوری طرح قدرت رکھتے ہیں کہ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ آئیں ۔ یہ ہمیں ہر انہیں سکتے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو بےہودہ باتوں اور مشغلوں میں لگا رہنے دیجئے۔ وہ وقت دور نہیں ہے یہ اس قیامت کے دن میں پہنچ جائیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ اپنی قبروں سے نکل کر اس طرح دوڑ رہے ہوں گے جیسے اپنے بتوں کی طرف دوڑ کر جاتے ہیں۔ اس دن ان کی نظریں نیچی ہوں گی۔ ان پر ذلت چھا رہی ہوں گی۔ اسی دن کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔

Ayahs 70:1–18

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

مانگنے والے نے اس عذاب کو مانگا جو (کافروں پر) واقع ہونے والا ہے۔

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

کافروں سے اس عذاب کو ٹالنے والا کوئی نہیں ہے۔

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

یہ (عذاب) اس کی طرف سے ہوگا جو بلند درجات رکھنے والا ہے۔

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

اس کے فرشتے اور روح (جبرائیل امین) اس کی طرف ایک ایسے دن میں چڑھ کر جاتے ہیں۔ جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے اور صبر جمیل بھی ( جس میں شکوہ نہ ہو) ۔

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

(بےشک وہ کفار) اس دن کو دور سمجھ رہے ہیں

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہم اس کو قریب دیکھ رہے ہیں۔

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

اس دن آسمان تانبے کی طرح پگھلا ہوا ہوگا۔

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور پہاڑ رنگین (دھنکی ہوئی) اون کی طرح ہوجائیں گے۔

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

کوئی دوست کسی دوست کو نہ پوچھے گا۔

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم (گناہ گار) اس دن تمنا کریں گے کہ اس عذاب سے نجات کے لئے اپنے بیٹوں کو،

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اپنی بیوی اور بھائی کو اپنے

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اس کنبے اور برادری کے لوگوں کو جن میں وہ رہا کرتے تے

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور زمین کے سب لوگوں کو اپنے فدیہ میں دے دیں تاکہ وہ نجات حاصل کرسکیں ۔

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

ایسا ہرگز نہ ہوگا۔ بیشک وہ ( جہنم) شعلہ مارتی ہوئی ایسی آگ ہوگی

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

جو جسم کی کھال کھینچنے والی ہوگی۔

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

وہ ہر (اس شخص کو اپنی طرف) بلاتی ہوگی جس نے سچائیوں سے منہ اور پیٹھ کو موڑا ہوگا

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور جس نے مال جمع کیا ہوگا اور اس کو محفوظ جگہ رکھتا ہوگا۔

لغات القرآن۔ سال۔ سوال کیا۔ مانگا۔ ذی المعارج۔ زینوں والا۔ خمیسین الف۔ پچاس ہزار۔ المھل۔ دھنکی ہوئی روئی۔ فصیلۃ ۔ کنبہ۔ خاندان۔ توی۔ وہ رہتا ہے۔ لظی۔ بھڑکتی آگے۔ نزاعۃ۔ کھینچنے والی۔ الشوی۔ کھال اور اس کا ٹکڑا۔ اوعی۔ سنبھال کر رکھتا ہے۔ تشریح : کفار مکہ اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی مانگنے کے بجائے اس کے عذاب اور قیامت آنے کی جلدی کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اس عذاب اور قیامت کا سوال کریں یا نہ کریں وہ تو بہرحال اپنے وقت پر واقع ہو کر رہے گے اور جب قیامت کے دن کفار ومشرکین پر عذاب آئے گا تو وہ اس قدر بھیانک اور سخت عذاب ہوگا جس کو ساری دنیا مل کر بھی نہ ٹال سکے گی کیونکہ یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے ہوگا جو بلندو برتر درجات رکھنے والا ہے۔ جس کی قدرت و طاقت اتنی زبردست ہے کہ جب دنیا کے پچاس ہزار سال گزرتے ہیں تو اس کا ایک دن گذرتا ہے لیکن اس کے فرشتے اور جبرئیل امین ایک لمحہ میں اس کی بارگاہ میں پہنچ کر ہر شخص کے تمام انامہ اعمال اللہ تک پہنچاتے ہیں اور اسی طرح اس کے احکامات کو دنیا میں آکر نافذ کرتے ہیں۔ یہی اس کا نظام کائنات ہے ویسے اللہ کا علم کسی ذریعہ کا محتاج نہیں ہے اسے درخت سے گرنے والے ایک ایک پتہ کا بھی علم ہر آن حاصل ہے۔ وہی عالم الغیب و الشھادہ ہے یعنی ہر کھلے چھپے کا اس کو پوری طرح علم ہے۔ یہ آیات اپنے معانی کے لحاظ سے عام ہیں لیکن مفسرین نے ان آیات کی تشریح میں نضر ابن حارچ ابن کلدہ کی اس بات کا ذکر کیا ہے جو اس نے کہی تھی۔ سورة الانفال آیت نمبر 32 میں اس کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ ” الٰہی ! (یہ نبی ﷺ جو کچھ کہہ رہے ہیں) اگر وہ حق ہے اور آپ کی طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادیجئے یا ہم پر درد ناک عذاب کو لے آئیے۔ اسی طرح کا مطالبہ سورة یونس، سورة الانبیائ، سورة النحل، سورة سبا، سورة یسیٰن اور سورة ملک میں بھی کفار کی طرف سے کیا گیا ہے۔ یعنی ہم تو یہ سن سن کر تنگ آچکے ہیں کہ اگر ہم نے اللہ کا حکم نہ مانا تو ہم پر عذاب آجاے گا یا قیامت ٹوٹ پڑے گی وہ کہتے تھے کہ اگر عذاب یا قیامت کو آنا ہے تو اس کو آجانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قیامت کب آئے گی اس کا علم تو اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے البتہ ان کفار کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ جب وہ قیامت آئے گی تو اس وقت ان کفارو مشرکین سے عذاب کو ٹالنے والا کوئی نہ ہوگا۔ قیامت کا دن بڑا ہولناک دن ہوگا آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح سرخ ہوجائے گا۔ بڑے بڑے پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کی طرح اڑتے پھریں گے۔ پورے نظام کائنات کو توڑ کر درہم برہم کردیا جائے گا۔ اس ان کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ ہر شخص کے عزیز رشتہ دار اور گہرے دوست ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے لیکن ہر ایک کو اپنی اپنی پری ہوگی اور کوئی کسی کی مدد نہ کرسکے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ شعلے برساتی جہنم اور عذاب کو دیکھیں گے اور جہنم کی آگ ان کی کھال تک کھینچ لے گی اس وقت یہ کہہ اٹھیں گے الٰہی ! ہمارے بیٹے، بیوی، خاندان اور برادری والے جن کے درمیان ہم رہا کرتے تھے اور وہ مال و دولت جو ہم نے جمع کر کے رکھا ہوا تھا وہ سب کچھ ہم سے لے کر ہمیں اس عذاب سے بچا لیجئے۔ اس وقت ان کی حسرت کی انتہا ہوگی جب ان سے کہا جائے گا کہ آج ہر شخص کو اپنے کئے ہوئے اعمال پر جزا اور سزا دی جائے گی یہاں کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا اور اللہ کے سوا کوئی اس ہولناک عذاب سے نجات دینے والا نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ کفار کی باتوں سے پریشان نہ ہوں بلکہ صبرو تحمل اور صبر جمیل ( جس میں کوئی شکوہ شکایت نہ ہو) کا مظاہرہ کیجئے جو آپ کی شایان شان ہے کیونکہ ہر وہ شخص جس نے سچائیوں سے منہ پھیرا اور پیٹھ کو موڑا ہوگا اس کو ایسا شدید عذاب دیا جائے گا جس کا وہ اس دنیا میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یہ لوگ قیامت کے دن کو دور سمجھ رہے ہیں حالانکہ قیامت تو بہت قریب ہے کیونکہ موت کے ساتھ ہی ہر شخص کی قیامت شروع ہوجاتی ہے اور موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں ہے۔ زیر مطالعہ آیات سے متعلق چند باتیں۔ 1۔ ایک مومن کو ہر حال میں عافیت اور سلامی مانگتے رہنا چاہیے اور اس کی زبان پر یہی دعا ہونی چاہیے الٰہی ! ہمیں دنیا اور آخرت میں عافیت نصیب فرمائیے گا اور ہمیں جہنم کی آ گے سے محفوظ رکھئے گا۔ 2۔ صبر و تحمل اور برداشت سب سے اچھی عادت ہے لیکن ایسا صبر جمیل جس میں کسی سے شکوہ اور شکایت نہ ہو یہ آدمی کی اعلیٰ ترین صفت ہے۔ 3۔ قیامت آدمی سے دور نہیں ہے بلکہ انتہائی قریب ہے کیونکہ موت آتے ہی آدمی کی قیامت شروع ہوجاتی ہے یہ قیامت صغری ہے۔ قیامت کبریٰ وہ ہے جب اس پوری کائنات کی بساط کو لپیٹ دیا جائے گا اور سوائے اللہ کی ذات کے ہر چیز فنا ہوجائے گی۔ 4۔ قیامت کا دن بڑا ہولناک دن ہوگا اس سے ہر وقت پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ وہاں کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ نبی کریم ﷺ اور جس کو اللہ شفاعت کی اجازت دیں گے وہ بھی اسی شخص کی شفاعت فرمائیں گے جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان موجود ہوگا لیکن جو بعدعات و خرافات میں اپنے ایمان کو ضائع کرچکا ہوگا اس کی شفاعت نہ کی جائے گی اور وہ شفاعت سے محروم رہے گا۔ 5۔ قیامت کے دن آدمی کے وہی مال کام آئے گا جو اس نے دنیا میں حلال طریقے پر جمع کرکے جائز طریقے سے خرچ کیا ہوگ الیکن وہ مال جو اس نے حرام طریقے پر کمایا ہے وہ اس کے لئے جہنم کی آگ بن جائے گا اور وہ اس کے کسی کام نہ آسکے گا۔ اللہ ہم سب کو رزق حلال نصیب فرمائے اور جہنم کی آگ سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔ 6۔ قیامت کے دن اللہ و رسول کا نکار کرنیو الوں کے لئے بہت طویل ہوگا۔ ممکن ہے وہ دن ایک ہزار سال کا ہو لیکن قیامت کا دن مومن کے لئے بہت ہلکا اور مختصر ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کا طویل ترین دن مومن کے لئے صرف اس قدر ہوگا جتنے وقت میں ایک نماز پڑھی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم پر بھی اس دن کو مختصر اور آسان فرما دے ۔ آمین۔
Ayahs 70:19–35

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

بیشک انسان بڑا بےصبرا (کم ہمت) بنایا گیا ہے۔

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا جاتا ہے

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب اس کو کوئی خیر اور بھلائی پہنچتی ہے تو وہ بخل اور کنجوسی کرنے لگتا ہے۔

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

سوائے ان نماز پڑھنے والوں کے

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو اپنی نمازوں کا ہمیشہ اہتمام (پابندی ) کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنے مالوں میں سوال کرنے والوں کا حق رکھتے ہیں

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

اور سوال سے بچنے والوں کا بھی حصہ رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

اور وہ جو انصاف کے دن (قیامت) کی تصدیق کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

اور جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں۔

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

بیشک ان کے رب کا عذاب بےخوف ہونے کی چیز نہیں ہے۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

سوائے اپنی بیویوں اور اپنی مملوکہ عورتوں (باندیوں) کے جن سے محفوظ نہ رکھنے میں ان پر کوئی الزام نہیں ہے۔

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

پھر جو ( اپنی بیویوں اور باندیوں کے علاوہ) دوسرے راستے تلاش کرتے ہیں تو ایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور وہ لوگ (جو ان کے پاس رکھی ہوئی) امانتوں کی حفاظت اور اپنے عہد معاہدوں کی پابندی کرنے والے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنی گواہیوں کو ٹھیک طور پر ادا کرنے والے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جو جنتوں میں عزت و احترام سے (داخل) ہوں گے۔

لغات القرآن۔ ھلوعا۔ بزدل۔ ڈرپوک۔ جزوعا۔ گھبرا جانے والا۔ منوعا۔ ہاتھ روک لینے والا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آدمی کو بڑی عظمتوں اور زبردست صلاحیتوں سے نواز ہے وہ جب کائنات میں آگے بڑھتا ہے تو خشکی، تری اور فضاؤں پر حکمرانی کرنے لگتا ہے لیکن اس کی تخلیق اور فطرت میں کچھ کمزوریاں بھی رکھ دی گئی ہیں۔ اگر وہ ان کمزوریوں پر قابو پا لے تو پھر وہ دنیا میں سربلند اور آخرت کی نجات کا مستحق بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ آدمی اپنے بےانتہا صلاحیتوں کے باوجود بہت بےصبرا، کم ہمت اور تنگ دل واقع ہوا ہے۔ اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور جب اس کو خیر اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو وہ بخل اور کنجوسی کرنے اور اپنے آپ کو دوسروں سے بلند تر اور عزت دار سمجھے لگتا ہے۔ لیکن فرمایا کہ وہ لوگ جو اپنی فطری کمزورویوں پر قابو پا لیتے ہیں اور اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری اختیار کرتے ہیں وہ بدحالی اور خوشحالی ہر دور میں ہمت و جرأت اور سخاوت کا پیکرہوتے ہیں۔ وہ کون لوگ ہیں ؟ اس کی تفصیل یہ ہے کہ 1۔ جو لوگ نمازوں کا اہتمام اور پابندی کرتے ہیں۔ 2۔ وہ لوگ جو اپنی ضروریات کے باوجود ان لوگوں کا خیال رکھتے ہیں جو ان سے کوئی مدد مانگتے ہیں اور وہ ان لوگوں کی تلاش میں بھی رہتے ہیں جو اپنی سفید پوشی اور شرم کی وجہ سے تنگی اور بدحالی کے باوجود کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ہمت نہیں کرتے۔ یہ ان کی ہر طرح مدد کرتے ہیں۔ 3۔ وہ لوگ جو قیامت کے دن کی تصدیق کرتے ہوئے اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب اس نظام کائنات کو توڑ کر ایک نئی دنیا بنائی جائے گی پھر اولین و آخرین کے تمام لوگوں کو دوبارہ زندہ کرکے ان سے زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب لے کر جنت یا جہنم میں پہنچایا جائے گا۔ 4۔ جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہوں گے کیونکہ ان کے رب کا عذاب بےخوف ہونے کی چیز نہیں ہے۔ 5۔ وہ لوگ جو اپنی بیویوں اور باندیوں کے سوا اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں یعنی بدکاری کے کسی راستے پر نہیں چلتے بلکہ اللہ ورسول کے احکامات کی مکمل پابندی کرتے ہیں۔ 6۔ وہ لوگ جو امانتوں کی حفاظت کرتے ہیں وہ امانتیں جو ان کے سپرد کی جاتی ہیں ان کو وہ پوری طرح ادا کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس میں امانت نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں۔ (بیہقی) ۔ 7۔ اپنے ہر اس عہد کی پابندی کرتے ہیں جو انہوں نے اللہ سے یا بندوں سے کئے ہیں۔ اس کے متعلق بھی نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص عہد کا پابند نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔ (بیہقی) ۔ 8۔ و ہ لوگ جو اپنی گواہیوں کو ٹھیک طور پر ادا کرتے ہیں یعنی وہ سچی گواہی دیتے وقت اپنے یا غیر، چھوٹے یا برے کا لحاظ نہیں کرتے بلکہ جو سچی گواہی ہے وہ پیش کرتے ہیں۔ 9۔ وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں یعنی جسم و لباس اور جگہ کی پاکیزگی، وضو کا اہتمام اور فرض، واجب، سنت اور مستحب باتوں کا خیال رکھتے ہوئے نماز ادا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جن لوگوں میں یہ مذکورہ صفات ہوں گے وہ اپنی فطری کمزوریوں کے باوجود کامیاب و بامراد ہوں گے اور جنتوں میں عزت و احترام کے ساتھ داخل کئے جائیں گے۔