Al-Ma'aarij 70:8

Al-Ma'aarij · from ayah 8

70:8

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِ ۟ۙيَوۡمَ تَكُوۡنُ السَّمَآءُ كَالۡمُهۡلِۙ

جس دن آسمان ایسا ہو جائے گا جیسے پگھلا ہوا تانبا

— Fateh Muhammad Jalandhari

On the Day the sky will be like murky oil,

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij

All translations of 70:8

(وہ عذاب اُس روز ہوگا) جس روز آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہو جائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس دن آسمان ایسا ہو جائے گا جیسے پگھلا ہوا تانبا

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس دن آسمان مثل تیل کی تلچھٹ کے ہو جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(وہ عذاب) اس دن ہوگا جب آسمان تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوجائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس دن آسمان ہوگا جیسی گلی چاندی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہوجائے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس دن کہ ہوجائے گا یہ (نیلگوں) آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح

— مولانا اسحاق مدنی

جس دن کہ آسمان کی تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوجائے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس دن آسمان ہوجائے گا جیسے پگھلا ہوا تانبا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس دن آسمان ایسا ہوجائے گا جیسے پگھلا ہو تانبا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

It shall befall on a Day whereon the sky will become like molten brass,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(This punishment will befall) on the Day when the sky will be like dregs of oil,

— Muhammad Taqi Usmani

(This punishment will befall) on the Day when the sky will be like dregs of oil,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The Day that the sky will be like the Al-Muhl.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The day when the sky will become as molten copper,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

On the Day the sky will be like murky oil,

— Saheeh International

On the day when the heavens become like molten metal.

— Muhammad Sarwar

On the day when the heaven shall be as molten copper

— Muhammad Habib Shakir

It shall befall on a Day whereon the heaven shall become like Unto dregs of oil.

— Abdul Majid Daryabadi

The Day that the sky will be like molten brass,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 70:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–18

عذاب کے طالب عذاب دیئے جائیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس عذاب کو یہ طلب کر رہے ہیں وہ عذاب ان طلب کرنے والے کافروں پر اس دن آئے گا جس دن آسمان مثل مھل کے ہوجائے، یعنی زیتون کی تلچھٹ جیسا ہوجائے، اور پہاڑ ایسے ہوجائیں جیسے دھنی ہوئی اون، یہی فرمان اور جگہ ہے آیت (وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ ۙ) 70۔ المعارج :9) پھر فرماتا ہے کوئی قریبی رشتہ دار کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے پوچھ گچھ بھی نہ کرے گا حالانکہ ایک دوسرے کو بری حالت میں دیکھ رہے ہوں گے لیکن خود ایسے مشغول ہوں گے کہ دوسرے کا حال پوچھنے کا بھی ہوش نہیں سب آپا دھاپی میں پڑے ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ایک دوسرے کو دیکھے گا پہچانے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَعَارِج 8 مفسرین میں سے ایک گروہ نے اس فقرے کا تعلق فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ سے مانا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ پچاس ہزار سال کی مدت جس دن کی بتائی گئی ہے اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ مسند احمد اور تفسیر ابن جریر میں حضرت ابو سعید خدری سے یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے متعلق عرض کیا گیا کہ وہ تو بڑا ہی طویل دن ہوگا۔ اس پر آپ نے فرمایا " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا میں ایک فرض نماز پڑھنے میں جتنا وقت لگتا ہے مومن کے لیے وہ دن اس سے بھی زیادہ ہلکا ہوگا "۔ یہ روایت اگر صحیح سند سے منقول ہوتی تو پھر اس کے سوا اس آیت کی کوئی دوسری تاویل نہیں کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–9

(آیت) اِنَّهُمْ يَرَوْنَهٗ بَعِيْدًا ۝ ۙوَّنَرٰىهُ قَرِيْبًا، یہاں قریب و بعید با اعتبار مسافت یا زمانے کے نہیں بلکہ بعید از امکان یا بعید از وقوع مراد ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہ لوگ تو قیامت کے وقوع بلکہ امکان کو بھی بعید سمجھ رہے ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس کا وقوع یقینی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قیامت کے ہول کی تصویر: یہ قیامت کی ہلچل اور اس کے ہول کی تصویر ہے تاکہ جو لوگ اس کو بصیرت کی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے ہیں وہ اس تصویر کو دیکھ کر اس سے کچھ عبرت پکڑیں۔ فرمایا کہ اس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہو جائے گا اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کے مانند۔ لفظ ’مُہْلٌ‘ مختلف معانی میں آتا ہے۔ سورۂ کہف میں یہ لفظ گزر چکا ہے وہاں مناسب موقع معنی کی وضاحت ہم نے کر دی۔ یہ تیل اور تیل کی تلچھٹ کے معنی میں بھی آیا ہے۔ یہ معنی لیجیے تو مقصود آسمان کی رنگت کو تیل کی سرخ سیاہی مائل تلچھٹ سے تشبیہ دینا ہو گا۔ سورۂ رحمان میں بھی آسمان کی سرخی کا ذکر آیا ہے: ’فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّہَانِ‘ (الرحمٰن ۵۵:…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 7–8

7۔ 1 دور سے مراد ناممکن اور قریب سے اس کا یقینی واقع ہونا ہے۔ یعنی کافر قیامت کو ناممکن سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وہ ضرور آکر رہے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–16

3: اس دن سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک قیامت کا دن ہے جو کافروں کو حساب و کتاب کی سختی کی وجہ سے پچاس ہزار سال کا محسوس ہوگا، ان حضرات کا کہنا ہے کہ اسی دن کو سورة تنزیل السجدہ : 5 میں ایک ہزار سال کے برابر قرار دیا گیا ہے، وہ اس لیے کہ حساب و کتاب کی سختی کی نوعیت کے لحاظ سے کسی کو وہ ایک ہزار سال کا معلوم ہوگا، اور جس کسی کو اور زیادہ سختی اٹھانی ہوگی، اسے پچاس ہزار سال کا معلوم ہوگا۔ لیکن اس آیت کی ایک دوسری تفسیر یہ ہے کہ کفار کے سامنے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے کفر کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا یا آخرت میں عذاب آئے گا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ اتنے دن گذر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–9

یوم تکون ................ کالعھن (07 : 9) ” جس روز آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے “۔ مہل کے معنی ہیں خام معدنیات کو پگھلانا مثلا تیل کی تلجھٹ ، اور العہن کے معنی ہیں اون کا منقش کپڑا۔ قرآن کریم مختلف مقامات میں یہ اطلاع دیتا ہے کہ اس دن عظیم واقعات رونما ہوں گے۔ ان کی وجہ سے اس دنیا کے اجرام فلکی کی موجودہ حالت نہیں رہے گی۔ ان کے اوصاف ، حالات اور شکل بدل جائے گی اور ان میں سے ایک یہ آسمان یوں ہوجائے گا جس طرح پگھلی ہوئی معدنیات۔ اور جو لو علوم طبیعیہ پر تحقیقات کرتے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ ان آیات پر غور کریں۔ ان کے نزدیک یہ بات مسلم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 6–10

آیت 6 ‘ 7{ اِنَّہُمْ یَرَوْنَہٗ بَعِیْدًا - وَّنَرٰٹہُ قَرِیْبًا۔ } ”یہ لوگ تو اس عذاب کو دور سمجھ رہے ہیں ‘ اور ہم اسے نہایت قریب دیکھ رہے ہیں۔“ ظاہر ہے انسان تو صرف اپنے سامنے کی چیز کو ہی دیکھ سکتا ہے ‘ مستقبل میں جھانکنا تو اس کے بس میں نہیں ہے۔ اسی لیے مستقبل کی چیزیں یا خبریں اسے عام طور پر دور محسوس ہوتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے تو مستقبل وغیرہ کچھ نہیں اور نہ ہی کوئی چیز اس سے غائب ہے۔ وہ تو ہرچیز کو بیک وقت اپنے سامنے دیکھ رہا ہے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ سڑک پر سفر کرتے ہوئے ایک شخص صرف اسی شہر یا مقام کو دیکھ سکتا ہے جو اس کے سامنے ہے جبکہ اس سے اگلا شہر مستقبل میں ہونے کی وجہ سے اس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

6 مُھْل کے معنی پگھلا ہوا تانبا بھی اور تیل کی تلچھٹ بھی۔ اور ان دونوں چیزوں کی رنگت سرخی مائل ہوتی ہے۔ یعنی آج تو ہمیں آسمان نیلگوں نظر آتا ہے اس دن یہ اپنا رنگ بدلنا شروع کردے گا حتیٰ کہ نیلگوں ہونے کی بجائے سرخی مائل ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–11

6۔ یعنی ایسی نفسی نفسی اس وقت پڑی ہوگی کہ غیر تو کیا کام آئیں گے خود اپنے قریبی بھی بات تک نہ پوچھیں گے۔ (آیت) ” یوم “۔ یعنی کافروں پر یہ عذاب اس دن واقع ہوگا، جس کی کیفیت اب بیان ہورہی ہے۔ امتداد یوم حشر کا بیان ابھی ہوچکا ہے۔ اب تفصیلات اس روز کے اشتداد کی بیان ہورہی ہیں۔ (آیت) ” کالمھل “۔ یعنی تلچھٹ کی طرح سیاہی مائل انتہائی سرخی کے ڈانڈے سیاہی سے مل جاتے ہیں۔ اس لئے اس بیان اور (آیت) ” کانت السمآء وردۃ کالدھان “۔ میں کوئی تناقص نہیں۔ اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ سرخی اور میلان بسیاہی یہ (2) مختلف رنگتیں (2) مختلف حالتوں کی ہوں۔ (آیت) ” السمآء کالمھل “۔ الجبال کالعھن “۔ جب آسمان اور پہاڑ جیسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–18

فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ یہ جملہ فعل محذوف سے متعلق ہے ای یقع فی یوم کان مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب جس کا ذکر اوپر آیا ہے کافروں پر ضرور واقع ہو کر رہے گا، اس کا وقوع اس روز ہوگا کہ جس کی مدت پچاس ہزار سال ہوگی حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق سوال کیا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی کہ یہ دن کتنا دراز ہوگا ؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ یہ دن مومن پر ایک فرض نماز ادا کرنے کے وقت سے بھی کم ہوگا، یہ بطور تمثیل کے مومنین پر اس وقت کے ہلکا ہونے کا بیان ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ قیامت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یوم تکون السماء کالمھل . المھل پگھلایا ہوا تانبا یا کوئی اور دھات یا تیل کی تلچھٹ۔ بیہقی نے ابن مسعود کا قول نقل کیا ہے کہ آسمان کے رنگ مختلف ہوں گے (کبھی) مہل کی طرح (کبھی) سرخ تیل کی تلچھٹ کی طرح اور کمزور ہو کر پھٹ جائیگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ان پر وہ عذاب اس روز واقع ہوگا جس دن آسمان رنگت میں تیل کی تلچھٹ کی طرح یا یہ کہ پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–9

یوم تکون السمآء کالمھل…:”کالمھل“ یعنی آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح (سرخ اور گرم ہو کر پھٹ جائے گا۔) (دیکھیے رحمان : 37)”العھن“ اون، یعنی پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح بالکل ہلکے ہو کر اڑنے لگیں گے۔ دیکھیے سورة طہ (105)۔ قارعہ (5)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یوم تکون السمآء کالمھل۔ یوم میں عالم واقع ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی یقع بھم العذاب یوم۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا عامل نرئہ یا یبصضرونھم یا قریب سے بدل ہوگا۔ مھل سے مراد تیل کی تلچھٹ ہے (1) یہ حضرت ابن عباس اور دوسروں کا قول ہے۔ حضرت ابن مسعود نے کہا، سیسہ، تانبا یا چاندی میں سے جسے پگھلا یا گیا ہو (2) مجاہد نے کہا، کالمھل سے مراد خالص پیپ ہے جو خون اور کچلہو سے ملی پیپ سے بنی ہو۔ سورة دخان اور سورة کہف میں اس بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–9

3۔ احمد وعبد بن حمید وابن المنذر والخطیب فی المتفق والمفترق اور ضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یوم تکون السماء کالمہل جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہوگا یعنی اب آسمان سبز رنگ کا ہے۔ اور بیشک قیامت کے دن وہ سرخ رنگ میں بدل جائے گا۔ 4۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یوم تکون السماء کالمہل کے بارے میں بتائیے فرمایا کہ قیامت کے دن کے خوف سے آسمان تیل کی تلچھٹ اور بیڈی کی سیاہی کی مانند ہوجائے گا۔ پھر فرمایا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا۔ تنا دی بہ القسم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَاۗءُ : جس دن ہوجائے گا آسمان ][ كَالْمُهْلِ : پگھلی ہوئی دھات کی مانند ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–10

قیامت کے دن ایک دوست دوسرے دوست کو نہ پوچھے گا، رشتہ داروں کو اپنی جان کے بدلہ عذاب میں بھیجنے کو تیار ہوں گے ان آیات میں قیامت کے دن کی بعض بڑی چیزوں کے ادل بدل ہوجانے کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد ہے کہ اس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا اور پہاڑ رنگی ہوئی اون کی طرح ہوں گے۔ سورة القارعہ میں لفظ المنفوش کا بھی اضافہ ہے مطلب یہ ہے کہ پہاڑ رنگی ہوئی اون کی طرح ہوں گے جو اڑتے ہوئے پھریں گے۔ آسمان کے بارے میں جو کالمہل فرمایا اس کا ایک ترجمہ تو وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے یعنی تیل کی تلچھٹ اور صاحب جلالین نے اس کا ترجمہ کرتے ہوئے كذائب الفضتہ کہا ہے یعنی پگھلی ہوئی چاندی کی طرح سے ہوگا اس میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–35

مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–10

4:۔ ” یوم تکون السماء “ تخویف اخروی۔ ظرف کا متعلق محذوف ہے جو سوال مقدر کا جواب ہے۔ یعنی وہ عذاب کب آئیگا ؟ جواب دیا گیا جب آسمان تانبہ گداختہ کی مانند ہوجائیں گے۔ کانہ قیل متی یقع ذلک العذاب ؟ یقع یوم تکون السماء الخ، افاہ الشیخ قدس سرہ۔ یا یہ ” قریبا “ سے متعلق ہے یا یقع مقدر سے۔ مراد اس سے قایمت کا دن ہے۔ قیامت کا منظر نہایت ہولناک ہوگا۔ قیامت کے دن آسمان پگھلی ہوئی دھات کی مانند سرخ ہوجائیں گے اور پہاڑ دھنی ہوئ روئی کے گالوں کی مانند ہوں گے۔ اس دن کوئی مخلص سے مخلص دوست بھی اپنے کسی دوست کی خبر نہیں لے گا، حالانکہ سب دوست آمنے سامنے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے مگر کچھ کر نہیں سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

کوائف اور مضامین : اس سورة کا نام المعارج ہے۔ اس کی تیسری آیت میں معارج کا لفظ ہے جس سے اس سورة کا نام لیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کے دو رکوع چوالیس آیتیں ، دو سو سولہ کلمات اور آٹھ سو اکسٹھ حروف ہیں۔ اس کے مضامین گزشتہ سورة الحاقہ سے ملتے ہیں۔ اس سورة کے ابتدا میں قیامت کا ذکر ہے ۔ آخر رکوع میں نبوت اور رسالت کا انکار کرنے والوں کا رد ہے۔ اس سورة میں بھی زیادہ تر قیامت کے بارے میں ارشادات ہیں۔ سابقہ سورة سے ربط : اس سے پہلی سورة میں بیان ہوا کہ مشرکین جن کو قیامت کے روز بائیں ہاتھ میں اعمالنامہ ملے گا۔ وہ بڑا افسوس کریں گے۔ اور جہنم میں داخل ہونے کی وجہ یہ بیان کریں گے کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَاۗءُ كَالْمُہْلِ۝ 8 ۙ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–18

ترکیب : یوم ناصبہ قریبا والتقدیر ونراہ قریبا یوم یکون کذاو یمکن ان یکون بدلا عن فی یوم ان علق بہ ولایسئل قراء الجمہور مبینا للفاعل فالمفعول الثانی محذوف ای لایسل حمیم حمیما نصرہ ولاشفاعتہ وقریٔ مبنیا للمفعول علی اسقاط حرف الجرای لایسئل حمیم عن حمیم این حمیمک وکیف حالہ الحمیم القریب یبصرونہم یقال بصرت بہ ابصرویقال بصرت ازید بکذافاذا حذفت الجارقلت بصر فی زید کذا۔ استیناف اوحال وجمع الضمیرین لعموم الحمیم لکونہ واقعافی سیاق النفی۔ لو یفتدی (بمعنی ان والجملۃ مفعول یود المجرم فاعلہ و من معطوف علی نبیہ والجملۃ حال من احد الضمیرین فی یبصرونہم او استیناف ثم ینجیہ عطف علی یفتدی ای یودلویفتدی ثم ینجیہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–9

یَوْمَ تَـکُوْنُ السَّمَآئُ کَالْمُھْلِ ۔ وَتَـکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِھْنِ ۔ (المعارج : 8، 9) (جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہوجائے گا۔ اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی مانند ہوجائیں گے۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح : الْمُھْل …مختلف معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ کیا ہے، پگھلا ہوا تانبا۔ اور بعض اسے ” پگھلی ہوئی چاندی “ قرار دیتے ہیں۔ اور بعض اہل علم کے نزدیک اس آیت کریمہ میں یہ لفظ تیل اور تیل کی تلچھٹ کے معنی میں آیا ہے۔ عِھْنِ …کے معنی اون کے ہیں۔ لیکن سورة القارعہ میں پروردگار نے اس میں ایک لفظ کا اضافہ فرمایا ہے۔ اَلْمَنْفُوْش تو اس صورت میں عِھْنِ سے مراد دھنی ہوئی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–9

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کی شب وروز کوشش تھی کہ کفار کو جہنم کے عذاب سے بچایا جائے اس کے باوجود کفار عذاب کا مطالبہ کرتے تھے جس پر نبی ﷺ کو پریشانی ہوتی تھی اس لیے آپ کو صبر جمیل کی تلقین کی گئی۔ کفار کا بار بار عذاب کا مطالبہ کرنا آپ ﷺ کے لیے دو وجہ سے پریشان کُن تھا پہلی وجہ یہ تھی کہ آپ اپنے آرام اور کام کی پرواہ کیے بغیر انتہائی خیرخواہی اور درد مندی کے ساتھ کوشش فرما رہے تھے کہ یہ لوگ کفر و شرک چھوڑ کر اپنے رب کے حضور تائب ہوجائیں مگر وہ لوگ تائب ہونے کی بجائے آپ کی مخالفت اور اللہ کی نافرمانی میں آگے ہی بڑھے جارہے تھے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ آپ کو اس بات پر طعنہ دیتے اور جھوٹا قرار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ایک منظر قیامت : 8 : یَوْمَ تَکُوْنُ السَّمَآ ئُ (جس دن آسمان ہوجائے گا) یومؔ یہ قریباً کی وجہ سے منصوب ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے یمکن فی ذلک الیوم وہ اس دن میں ممکن ہے۔ نمبر 2۔ فی یومؔ سے بدل ہے۔ اس صورت میں مجرور ہے یہ ان کے نزدیک ہے جنہوں نے واقع کے متعلق کیا ہیکالْمُھْلِ (تلچھٹ کی طرح ہوجائیگا) زیتون کے تلچھٹ کی طرح یا پگھلی ہوئی متلون چاندی کی طرح۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔” ونراہ قریبا “ اس لئے کہ جو آنے والی چیز ہے وہ قریب ہے اور وہ قیامت کا دن ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–18

8۔ 18۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں پہلے صور سے لے کر دوزخ میں جانے تک کا حال فرمایا تاکہ ان عذاب کے جلدی کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ دنیا میں اگر ان پر کسی عذاب کے آنے کا اللہ کا حکم نہ بھی ہوا تو قیامت کے دن ایسے جزا و سزا کے منکر لوگوں پر سخت عذاب آنے والا ہے جس کے چھٹکارے کے بدلے میں یہ لوگ اپنے بی بی بچوں اور ساری دنیا کو دینے پر آمادہ ہوجائیں گے۔ جب بھی ان کا چھٹکارا نہ ہوگا۔ مھل کے معنی پگھلا ہوا تانبا۔ عھن کے معنی رنگین دھنی ہوئی اون جو نہایت ہلکی ہوجاتی ہے اور ہوا میں بہت جلدی اڑ جاتی ہے۔ اس دن ہر ایک کو اپنی جان کی ایی پڑی ہوگی کہ ایک دوسرا دیکھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پھر اللہ نے اس دن کی ہولناکیوں اور ان امور کا ذکر فرمایا جو اس میں واقع ہوں گے چناچہ فرمایا (یوم) یعنی قیامت کے دن جس میں یہ بڑے برے واقعات وقوع ہوں گے (تکون السماء کالمھل) ۔ آسمان ہوجائے گا مہل کی طرح۔ اور وہ پگھلا ہوا سیسہ ہے آسمان کے پھٹ جانے اور بےانتہا ہولناکی کے باعث آسمان پگھلے ہوئے سیسے کی مانند ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

7 قیامت کے روز آسمان کی کیفیت : سو قیامت کی ہلچل اور اس کی ہولناکی کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جس دن یہ آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا۔ یہ مہل کا ایک معنی و مطلب ہے جبکہ اس کا دوسرا معنی تیل کی تلچھٹ سے بھی کیا گیا ہے اور یہ دونوں ہی معنی یہاں پر مراد لینا درست ہے یہ سب احوال و اہوال اس پر وارد ہوں گے۔ سو اس کو تیل اور تیل کی تلچھٹ کے معنی میں لینے کی صورت میں اس سے مقصود آسمان کی رنگت کو تیل اور اس کی سیاہی مائل سرخی سے تشبیہ دینا ہوگا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشدا فرمایا گیا : " فکانت وردۃ کا دھان " (الرحمن :37) ۔ یعنی اس روز آسمان سرخ چمڑے کی مانند سرخ ہوگا۔ سو وہ دن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–21

صبر کی تلقین، قیامت کی سختی اور سزائیں تشریح : حدیث پاک میں ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے یہ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری بعثت کے بعد قیامت اب اتنی نزدیک ہے جتنی میری یہ دو انگلیاں ایک دوسری کے نزدیک ہیں ( قیامت نزدیک آپہنچی ہے) ۔ (بخاری ) قیامت کے ممکنہ حالات اور زمین کی ہر طرح سے تباہی کے واقعات اور اسباب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ انسانوں کے لئے تو قیامت اس وقت ہی آجاتی ہے جب وہ مرتے ہیں۔ میدان حشر میں اس قدر دہشت اور افراتفری پھیلی ہوئی ہوگی کہ کوئی کسی کو پہنچانے گا بھی نہیں بلکہ ہر ایک کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔ اور بےبسی کا یہ عالم ہوگا کہ گناہوں کے بدلے جو سزاء ملے گی اس کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–34

سورة المعارج۔ آیات 1 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 5–10

ف 4 یعنی ہر شخص کو اس کے عزیز دوست دکھلائے جائیں گے لیکن ایسا نفسا نفسی کا عالم ہوگا کہ وہ انہیں دیکھے اور پہچانے گا مگر ان کی ہرگز فکر نہ کرے گا جیسا کہ دوسری آیات میں ہے۔ (دیکھیے 127) اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اس سے سوال نہیں کرے گا کہ اس کے گناہوں کا کچھ بوجھ اٹھا لے کیونکہ اس سے وہ مایوس ہوگا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(70:8) یوم تکون السماء کالمہل : یوم بوجہ قریبا کی ظرفیت کے منصوب ہے تقدیر کلام یوں ہے۔ ونراہ قریبا یوم تکون السماء کالمہل اور ہم اس (عذاب) کو قریب ہی دیکھ رہے ہیں۔ اس روز آسمان (پگھل کر) تانبے جیسا ہوجائے گا۔ کالمہل : ک تشبیہ کا ہے مہل پگھلا ہوا تانبا۔ یا اور کوئی دھات، تیل کی تلچھٹ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ کالمہل یغلی فی البطون (44:45) جیسے پگھلا ہوا تانبا پیٹوں میں کھولے گا۔ المہل کے اصل معنی حلم و سکون کے ہیں اور مہل فی فعلہ کے معنی ہیں اس نے سکون سے کام لیا۔ اور امہلتہ کے معنی کسی کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کے ہیں۔ چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فمہل الکفرین امہلہم رویدا (86:17) تو تم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–18

لغات القرآن۔ سال۔ سوال کیا۔ مانگا۔ ذی المعارج۔ زینوں والا۔ خمیسین الف۔ پچاس ہزار۔ المھل۔ دھنکی ہوئی روئی۔ فصیلۃ ۔ کنبہ۔ خاندان۔ توی۔ وہ رہتا ہے۔ لظی۔ بھڑکتی آگے۔ نزاعۃ۔ کھینچنے والی۔ الشوی۔ کھال اور اس کا ٹکڑا۔ اوعی۔ سنبھال کر رکھتا ہے۔ تشریح : کفار مکہ اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی مانگنے کے بجائے اس کے عذاب اور قیامت آنے کی جلدی کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اس عذاب اور قیامت کا سوال کریں یا نہ کریں وہ تو بہرحال اپنے وقت پر واقع ہو کر رہے گے اور جب قیامت کے دن کفار ومشرکین پر عذاب آئے گا تو وہ اس قدر بھیانک اور سخت عذاب ہوگا جس کو ساری دنیا مل کر بھی نہ ٹال سکے گی کیونکہ یہ عذاب اس اللہ کی طرف…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–18

قیامت کا ذکر اور دوزخ کی ہولناکی۔ (ف 1) اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں پہلے صور سے لے کر دوزخ میں جانے تک کا حال فرمایا تاکہ ان عذاب کے جلدی کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ دنیا میں اگر ان پر کسی عذاب کے آنے ک اللہ کا حکم نہ بھی ہوا ، تو قیامت کے دن ایسے جزا وسزا کے منکرلوگوں پر وہ سخت عذاب آنے والا ہے ، جس کے چھٹکارے کے بدلے میں یہ لوگ اپنی بی بی بچوں اور ساری دنیا کو دینے پر آمادہ ہوجائیں گے جب بھی ان کا چھٹکارا نہ ہوگا۔ ” لعھن “ کے معانی رنگینی دھنی ہوئی اون جو نہایت ملکی ہوجاتی ہے اور ہوا میں بہت جلدی اڑجاتی ہے، اس دن ہر ایک کو اپنی جان کی ایسی پڑی ہوگی کہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–11

ف 1: آج یہ لوگ اس واقعہ کا مضحکہ اڑاتے ہیں ۔ مگر اس وقت یہ چاہیں گے کہ فدیہ میں اپنے بیٹوں کو دے دیں ۔ اور بچ جائیں ۔ اپنی بیوی اور بھائی کو قربان کردیں ۔ اور نجات حاصل کرلیں ۔ اپنے کنبے کو اور ساری دنیا کودے دیں ۔ اور کسی طرح عذاب الٰہی سے چھوٹ جائیں ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–10

ف 4۔ یعنی ان کے کفر و خلاف سے ایسے تنگ نہ ہوجائے کہ شکایت زبان پر آجاوے، بلکہ یہ سمجھ کر عمل کیجئے کہ ان کو سزا ہونے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہو گا 8 ؎ (المھل) اسم ہے۔ تیل کی تلچھٹ۔ چاندی کا پانی اور بہت سی دوسری چیزوں کو کہا جاتا ہے بلکہ ہر معدنی چیز کو کہتے ہیں جیسے تانبا ، لوہا ، سونا ، چاندی اور خصوصاً جب ان چیزوں کو پانی کی مانند بنایا جائے اور اس طرح ہر روغنی چیز کو بھی (المھل) سے تعبیر کرتے ہیں اور روغن زیتون ، گھی اور تیل کے نیچے جو تلچھٹ بیٹھ جاتی ہے اس کو بھی کہتے ہیں۔ زہر ، زرد لہو ، پیپ اور مردہ سے بہنے والے زرد پانی کو بھی کہا جاتا ہے اور مھل آہستگی کو بھی کہا جاتا ہے۔ امھال مہلت دینے اور تاخیر کرنے کو کہا جاتا ہے۔ قیامت کے وقوع ہونے کے حالات میں ج ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ وہ دن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–9

إِنَّهُمْ يَرَ‌وْنَهُ بَعِيدًا وَنَرَ‌اهُ قَرِ‌يبًا (They see it far off, and We see it near....70:6-7). In this context, the expressions 'far off and 'near' do not refer to time or space, but 'far off in terms of possibility and occurrence. The verse purports to describe that the pagans see the occurrence of Resurrection as impossible, and Allah sees its occurrence not only possible, but a certain reality.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

8 A section of the commentators regard this sentence as related to "a day whose measure is fifty thousand years"; they say that the day whose measure has been stated to be fifty thousand years is the Day of Resurrection. In Musnad Ahmad and in the Tafsir by Ibn Jarir, a tradition has been related on the authority of Hadrat Abu Sa'id Khudri, saying: "When wonder and amazment was expressed before the Holy Prophet (upon whom be peace) about the length of this Day with reference to this verse, he replied: 'By Him in Whose hand is my life, the believer will find the Day even lighter (of shorter…

Read the full tafseer →