وَّنَرٰىهُ قَرِیْبًا ۟ؕوَّنَرٰٮهُ قَرِيۡبًا
اور ہماری نظر میں نزدیک
— Fateh Muhammad Jalandhari
But We see it [as] near.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
وَّنَرٰىهُ قَرِیْبًا ۟ؕوَّنَرٰٮهُ قَرِيۡبًا
اور ہماری نظر میں نزدیک
— Fateh Muhammad Jalandhari
But We see it [as] near.
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij
اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں
اور ہماری نظر میں نزدیک
اور ہم اسے قریب ہی دیکھتے ہیں
اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔
اور ہم اسے نزدیک دیکھ رہے ہیں
اور ہم اسے قریب ہی دیکھتے ہیں،
اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔
مگر ہم اسے قریب ہی دیکھتے ہیں
اور ہم اس کو نہایت قریب دیکھ رہے ہیں
مگر ہم اسے بہت ہی قریب دیکھ رہے ہیں
اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔
اور ہم اسے نہایت قریب دیکھ رہے ہیں۔
اور ہماری نظر میں قریب
while We think that it is near at hand.
and We see it near.
and We see it near.
But We see it near.
While we behold it nigh:
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
But We see it [as] near.
but We see it to be very near.
And We see it nigh.
And We behold it nigh.
But We see it (quite) near.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–7
بعذاب میں جو " ب " ہے وہ بتارہی ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ ۭ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ 47) 22۔ الحج :47) یعنی یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا، نسائی میں حضرت ابن عباس سے وارد ہے کہ کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے، یعنی آخرت میں ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ…
Read the full tafseer →سورة الْمَعَارِج 7 اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ یہ لوگ اسے بعید از امکان سمجھتے ہیں اور ہمارے نزدیک وہ قریب الوقوع ہے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ قیامت کو بڑی دور کی چیز سمجھتے ہیں اور ہماری نگاہ میں وہ اس قدر قریب ہے گویا کل پیش آنے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(آیت) اِنَّهُمْ يَرَوْنَهٗ بَعِيْدًا ۙوَّنَرٰىهُ قَرِيْبًا، یہاں قریب و بعید با اعتبار مسافت یا زمانے کے نہیں بلکہ بعید از امکان یا بعید از وقوع مراد ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہ لوگ تو قیامت کے وقوع بلکہ امکان کو بھی بعید سمجھ رہے ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس کا وقوع یقینی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اہل بصیرت قیامت کو دور نہیں سمجھتے: ’إِنَّہُمْ یَرَوْنَہٗ بَعِیْدًا ۵ وَنَرَاہُ قَرِیْبًا‘۔ یعنی ان لوگوں کی نظر بہت محدود ہے اس وجہ سے یہ اس عذاب کو جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے بہت دور خیال کر رہے ہیں حالانکہ ہم اس کو بہت قریب دیکھ رہے ہیں اور اصل دیکھنا ہمارا دیکھنا ہے۔ اگر ان کے اندر بھی بصیرت ہوتی تو یہ بھی اس کو قریب ہی دیکھتے لیکن ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے اس وجہ سے انھیں قریب کی چیز دور دکھائی دے رہی ہے۔ وہ دن آئے گا تو یہ پٹی کھل جائے گی اور ہر شخص دیکھ لے گا کہ جس چیز کو وہ بہت دور سمجھا تھا وہ نہایت قریب نکلی۔ ’فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ‘ (قٓ ۵۰: ۲۲) (پس آج تو تیری نگاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7۔ 1 دور سے مراد ناممکن اور قریب سے اس کا یقینی واقع ہونا ہے۔ یعنی کافر قیامت کو ناممکن سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وہ ضرور آکر رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
3: اس دن سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک قیامت کا دن ہے جو کافروں کو حساب و کتاب کی سختی کی وجہ سے پچاس ہزار سال کا محسوس ہوگا، ان حضرات کا کہنا ہے کہ اسی دن کو سورة تنزیل السجدہ : 5 میں ایک ہزار سال کے برابر قرار دیا گیا ہے، وہ اس لیے کہ حساب و کتاب کی سختی کی نوعیت کے لحاظ سے کسی کو وہ ایک ہزار سال کا معلوم ہوگا، اور جس کسی کو اور زیادہ سختی اٹھانی ہوگی، اسے پچاس ہزار سال کا معلوم ہوگا۔ لیکن اس آیت کی ایک دوسری تفسیر یہ ہے کہ کفار کے سامنے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے کفر کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا یا آخرت میں عذاب آئے گا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ اتنے دن گذر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
انھم ........................ قریبا (08 : 7) ” یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں “۔ اس کے بعد اس دن کے مناظر پیش کیے جاتے ہیں ، جس میں واقع ہونے والا عذاب آئے گا ، جسے وہ بعید سمجھتے ہیں اور اللہ اسے قریب سمجھتا ہے۔ یہ مناظر اس کائنات میں ہیں اور انسان کی نفسیاتی دنیا کے اندر بھی۔ یہ اس قدر ہولناک ہوں گے کہ انسان کے اوسان خطا ہوجائیں گے اور اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر زلزلہ برپا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
8 یعنی ان کے خیال میں قیامت کا آنا بعید ازمکان اور دورازعقل ہے۔ اور ہم کو اس قدر قریب نظر آرہی ہے گویا آئی رکھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
آیت 6 ‘ 7{ اِنَّہُمْ یَرَوْنَہٗ بَعِیْدًا - وَّنَرٰٹہُ قَرِیْبًا۔ } ”یہ لوگ تو اس عذاب کو دور سمجھ رہے ہیں ‘ اور ہم اسے نہایت قریب دیکھ رہے ہیں۔“ ظاہر ہے انسان تو صرف اپنے سامنے کی چیز کو ہی دیکھ سکتا ہے ‘ مستقبل میں جھانکنا تو اس کے بس میں نہیں ہے۔ اسی لیے مستقبل کی چیزیں یا خبریں اسے عام طور پر دور محسوس ہوتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے تو مستقبل وغیرہ کچھ نہیں اور نہ ہی کوئی چیز اس سے غائب ہے۔ وہ تو ہرچیز کو بیک وقت اپنے سامنے دیکھ رہا ہے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ سڑک پر سفر کرتے ہوئے ایک شخص صرف اسی شہر یا مقام کو دیکھ سکتا ہے جو اس کے سامنے ہے جبکہ اس سے اگلا شہر مستقبل میں ہونے کی وجہ سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5 یعنی قیامت کو اور اس کے عذاب کو بعید از قیاس یا ناممکن سمجھ رہے ہیں۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ عنقریب واقع ہونے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5۔ (اور انہیں اس کے قرب سے آگاہ بھی کرتے جاتے ہیں۔ ) (آیت) ” نراہ قریبا “۔ حق تعالیٰ کا دیکھنا چونکہ ہمیشہ مطابق واقع ہی ہوتا ہے۔ اس لئے گویا یہ بتادیا کہ وہ دن واقعۃ بہت ہی قریب آلگا ہے۔ (آیت) ” انھم یرونہ بعیدا “۔ ان کا اس دن کو دور سمجھنا تمامتر ان کی ارادی غفلت ومدہوشی کا نتیجہ ہے۔ (آیت) ” بعیدا۔ قریبا “۔ بعید سے مراد بعید از قدرت اور قریب سے مراد اندرون قدرت لی گئی ہے۔ فالمراد بالبعید البعید من الامکان وبالقریب القریب منہ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–18
فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ یہ جملہ فعل محذوف سے متعلق ہے ای یقع فی یوم کان مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب جس کا ذکر اوپر آیا ہے کافروں پر ضرور واقع ہو کر رہے گا، اس کا وقوع اس روز ہوگا کہ جس کی مدت پچاس ہزار سال ہوگی حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق سوال کیا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی کہ یہ دن کتنا دراز ہوگا ؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ یہ دن مومن پر ایک فرض نماز ادا کرنے کے وقت سے بھی کم ہوگا، یہ بطور تمثیل کے مومنین پر اس وقت کے ہلکا ہونے کا بیان ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ قیامت کا…
Read the full tafseer →و نراہ قریبا . اور ہم عذاب کو قریب الوقوع دیکھ رہے ہیں کیونکہ جو چیز آنے والی (یقینی) ہو وہ قریب ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(5۔ 7) سو محمد آپ ان کی تکالیف پر ایسا صبر کیجیے جس میں شکایت کا نام نہ ہو یا ایسی علیحدگی اختیار کیجیے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا یہ کفار مکہ قیامت کے عذاب کو غیر ممکن سمجھ رہے ہیں اور ہم اسے قریب آنے والا دیکھ رہے ہیں کیونکہ ہر ایک آنے والی چیز جو کہ ہو کر رہتی ہے وہ قریب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
فاصبر صبراً جمیلاً …: یعنی آپ کفار کی طرف سے عذاب کے مطالبے اور مذاق پر صبر کریں۔”صبرا ً جمیلاً“ جس میں نہ تنگدلی ہو نہ گھبراہٹ نہ جلد بازی ہو، نہ شکوہ اور نہ ش کیا ت۔ یہ لوگ اس عذاب کو بعید سمجھ رہے ہیں، کیونکہ ان کا اس پر ایمان نہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں، کیونکہ اس کا آٹا یقینی ہے اور تمہارے پچاس ہزار سال ہمارے ہاں ایک دن شمار ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
فاصبر صبراً جمیلاً ۔ آپ ﷺ کی قوم جو آپ کو اذیتیں دے رہی ہے اس پر صبر کیجیے۔ صبر جمیل سے مراد یہ ہے ایسا صبر جس میں جزع نہ ہو اور نہ ہی غیر اللہ کے ہاں شکوہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ قوم میں مصیبت والا ہو مگر یہ معلمو نہ ہو کہ وہ کون ہے۔ معنی قریب قریب ہے۔ ابن زید نے کہا، یہ آیت سیف کے ساتھ منسوخ ہے۔ انھم یرونہ بعیداً ۔ مراد اہل مکہ ہیں۔ وہ جہنم کے عذاب کو بعید خیال کرتے ہیں یعنی وہ ہوگا ہی نہیں۔ ونرہ قریباً ۔ کیونکہ جو عذاب واقع ہونے والا ہوتا ہے وہ قریب ہی ہوتا ہے (2) اعمش نے کہا، وہ بعث کو بعید خیال کترے ہیں کیونکہ وہ اس پر ایمان نہیں رکھتے۔ گویا وہ اسے محال ہونے کے اعتبار سے بعید خیال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
1۔ عبد بن حمید نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ آیت انہم یرونہ بعیدا۔ بیشک وہ اسے دور سے دیکھتے ہیں۔ یعنی قیامت کو۔ 2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آتی انہم یرونہ بعیدا۔ یعنی کافر اسے اپنی تکذیب کی وجہ سے دور دیکھتے ہیں آیت ونرہ قریبا اور ہم اسے قریب دیکھتے ہیں یعنی ہم اسے سچ ہونے کے سبب قریب دیکھ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →[وَّنَرٰىهُ قَرِيْبًا : اور ہم دیکھتے ہیں اس کو قریب ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
﴿اِنَّهُمْ يَرَوْنَهٗ بَعِيْدًاۙ006 وَّ نَرٰىهُ قَرِيْبًاؕ007﴾ (یہ لوگ قیامت کے دن کو دور دیکھ رہے ہیں) یعنی یہ سمجھ رہے ہیں کہ صرف کہنے کی باتیں ہیں قیامت آنے والی نہیں ہے اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں علم ہے کہ قیامت آنی ہے اور ان لوگوں کو اس دن عذاب میں مبتلا ہونا ہی ہے اسی کو سورة ٴ انعام میں فرمایا : ﴿اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ 1ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 00134﴾ (بلاشبہ تم جس چیز کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور آجانے والی چیز ہے اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–35
مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
3:۔ ” فاصبر صبرا “ تسلیہ برائے نبی کریم ﷺ مشرکین کا مطالبہ عذاب ازراہ عناد و استہزاء ہے۔ آپ ان کے تعنت وعناد اور تکذیب و انکار پر صبر و تحمل سے کام لیں۔ وہ عذاب کو عقل و امکان سے بعید سمجھتے ہیں، لیکن ہم اسے بالکل نزدیک دیکھ رہے ہیں جو چیز لا محالہ آنے والی ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
کوائف اور مضامین : اس سورة کا نام المعارج ہے۔ اس کی تیسری آیت میں معارج کا لفظ ہے جس سے اس سورة کا نام لیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کے دو رکوع چوالیس آیتیں ، دو سو سولہ کلمات اور آٹھ سو اکسٹھ حروف ہیں۔ اس کے مضامین گزشتہ سورة الحاقہ سے ملتے ہیں۔ اس سورة کے ابتدا میں قیامت کا ذکر ہے ۔ آخر رکوع میں نبوت اور رسالت کا انکار کرنے والوں کا رد ہے۔ اس سورة میں بھی زیادہ تر قیامت کے بارے میں ارشادات ہیں۔ سابقہ سورة سے ربط : اس سے پہلی سورة میں بیان ہوا کہ مشرکین جن کو قیامت کے روز بائیں ہاتھ میں اعمالنامہ ملے گا۔ وہ بڑا افسوس کریں گے۔ اور جہنم میں داخل ہونے کی وجہ یہ بیان کریں گے کہ…
Read the full tafseer →وَّنَرٰىہُ قَرِيْبًا 7 ۭ قرب الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة . فمن الأوّل نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] ، وَلا تَقْرَبُوا مالَ الْيَتِيمِ [ الأنعام/ 152] ، وَلا تَقْرَبُوا الزِّنى [ الإسراء/ 32] ، فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ بَعْدَ عامِهِمْ هذا [ التوبة/ 28] . وقوله : وَلا تَقْرَبُوهُنَ [ البقرة/ 222] ، كناية عن الجماع کقوله : فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ [ التوبة/ 28] ، وقوله : فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب : سأل قرء الجمہور بالھمزۃ من السوال وھو متضمن بمعنی الدعاء ولذا عدی بالباء وقریٔ بغیر ھمزۃ وھوا مامن باب التخفیف والمعنی واحد اومن السیلان والمعنی سال واوفی جہنم یقال لہ سائل کماقال زید بن ثابت ویؤیدہ قرأۃ ابن عباس سال سیل ای اندفع وا وب عذاب واقع بعذاب والباء بمعنی عن کقولہ فاسئل بہ خبیرا وھومفعول ثان لسال والمفعول الاول محذوف ای اللہ اوالنبی سال یتعدی الی مفعولین ویجوزالاقتصاء علی احدھما قالہ ابوعلی الفارسی للکافرین الجاء متعلق بواقع ویمکن ان یتعلق بثالت ویکون صفۃ افریٰ بعذاب والاولیٰ واقع لیس لہ الخ صفۃ اخریٰ لعذاب اوحال منہ او مستانفۃ من اللہ متعلق بواقع ای بواقع ویمکن ان یتعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اِنَّھُمْ یَرَوْنَـہٗ بَعِیْدًا۔ وَّنَرَاہُ قَرِیْبًا۔ (المعارج : 6، 7) (یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں۔ اور ہم اس کو نہایت قریب دیکھ رہے ہیں۔ ) قیامت یا عذاب کے دور یا قریب ہونے کا مفہوم آیتِ کریمہ کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ یہ لوگ اس عذاب یا قیامت کو جس سے انھیں ڈرایا جارہا ہے بہت دور خیال کررہے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عذاب جس ہمہ گیر تباہی کا نام ہے اور قیامت جس طرح ایک نئی دنیا کے برپا ہونے کا نام ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اتنا بڑا واقعہ ہے کہ جس کی وسعت اور عظمت کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ دنیا کا دستور یہ ہے کہ جب کوئی بڑا واقعہ پیش آنے والا ہو تو کچھ نہ کچھ اس کے آثار پہلے ظاہر ہونے لگتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کی شب وروز کوشش تھی کہ کفار کو جہنم کے عذاب سے بچایا جائے اس کے باوجود کفار عذاب کا مطالبہ کرتے تھے جس پر نبی ﷺ کو پریشانی ہوتی تھی اس لیے آپ کو صبر جمیل کی تلقین کی گئی۔ کفار کا بار بار عذاب کا مطالبہ کرنا آپ ﷺ کے لیے دو وجہ سے پریشان کُن تھا پہلی وجہ یہ تھی کہ آپ اپنے آرام اور کام کی پرواہ کیے بغیر انتہائی خیرخواہی اور درد مندی کے ساتھ کوشش فرما رہے تھے کہ یہ لوگ کفر و شرک چھوڑ کر اپنے رب کے حضور تائب ہوجائیں مگر وہ لوگ تائب ہونے کی بجائے آپ کی مخالفت اور اللہ کی نافرمانی میں آگے ہی بڑھے جارہے تھے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ آپ کو اس بات پر طعنہ دیتے اور جھوٹا قرار…
Read the full tafseer →7 : وَّ نَرٰٹہُ قَرِیْبًا (اور ہم اس کو قریب دیکھ رہے ہیں) وہ بہرصورت واقع ہوگا بعید سے بعید از امکان مراد ہے۔ اور قریب سے قریب الامکان۔
Read the full tafseer →6 ۔” انھم یرونہ بعیدا “ یعنی عذاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ نسائی 1 ؎ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نضر بن حارث اور قریش میں کے سرکش لوگوں نے جب اللہ تعالیٰ سے عذاب کی خواہش کی اور یہ کہا کہ جو کچھ محمد کہتے ہیں اگر وہ حق بات ہے اور ہم لوگ اس کو نہیں مانتے ہیں تو خدا کرے کہ ہم لوگوں پر آسمان سے پتھروں کا مینہ برسے یا اور کوئی سخت عذاب ہم لوگوں پر نازل ہوجائے اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ہیں اور فرمایا کہ یہ قریش میں کے سرکش لوگ عذاب الٰہی کو دور گن کر اس طرح کی سرکشی کی باتیں کرتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک پچھلی قوموں کی طرح نہ ان مشرکوں پر دنیا میں کوئی عذاب نازل کردینا کچھ دور ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(انھم یرونہ بعیدا۔ ونراہ قریبا) ۔ وہ اس (قیامت) کو دور تصور کرتے ہیں اور ہم اسے نزدیک دیکھ رہے ہیں۔ آیت میں مذکورہ ضمیر قیامت کے دن کی طرف لوٹتی ہے جس میں عذاب کے بارے میں سوال کرنے والوں کے لیے عذاب ہوگا یعنی ان کا حال اس شخص کا سا ہے جو قیامت کا منکر ہے جس پر بدبختی اور اندیشہ غالب ہو حتی کہ اسے وہ چیز بھی دور نظر آئے جو اس کے سامنے ہے یعنی مرنے کے بعددوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ (دن) قریب نظر آتا ہے کیونکہ وہ بہت نرم اور بردبار ہے، سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا وہ جانتا ہے کہ جسے آنا ہے وہ آکر رہے گا پس وہ بہت قریب ہے۔
Read the full tafseer →6 یوم حساب قریب ہی ہے والعیاذ باللہ جل و علا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ تو اس کو دور سمجھتے ہیں مگر ہم اس کو قریب دیکھتے ہیں کہ آنے والی چیز بہرحال قریب ہی ہوتی ہے کہ اس نے بہرحال آکر ہی رہنا ہوتا ہے ‘ کما قیل کل ماھو ات فھو قریب مگر یہ اپنی غفلت و لاپرواہی کی بناء پر اس کو دور سمجھتے ہیں ‘ کہ ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے ‘ جس کی بناء پر ان کو قریب کی چیز بھی دور نظر آرہی ہے ‘ اس ہولناک دن کے آنے پر جب ان کی یہ پٹی کھل جائے گی تو ان کو سب کچھ ٹھیک ٹھیک نظر آئے گا ‘ سو یہ لوگ ایمان و یقین کی دولت اور اس کے نور سے محروم ہیں۔ اس لئے یہ اس کو دور یعنی ناممکن سمجھتے ہیں جبکہ ہمارے نزدیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–21
صبر کی تلقین، قیامت کی سختی اور سزائیں تشریح : حدیث پاک میں ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے یہ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری بعثت کے بعد قیامت اب اتنی نزدیک ہے جتنی میری یہ دو انگلیاں ایک دوسری کے نزدیک ہیں ( قیامت نزدیک آپہنچی ہے) ۔ (بخاری ) قیامت کے ممکنہ حالات اور زمین کی ہر طرح سے تباہی کے واقعات اور اسباب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ انسانوں کے لئے تو قیامت اس وقت ہی آجاتی ہے جب وہ مرتے ہیں۔ میدان حشر میں اس قدر دہشت اور افراتفری پھیلی ہوئی ہوگی کہ کوئی کسی کو پہنچانے گا بھی نہیں بلکہ ہر ایک کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔ اور بےبسی کا یہ عالم ہوگا کہ گناہوں کے بدلے جو سزاء ملے گی اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–34
سورة المعارج۔ آیات 1 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ف 4 یعنی ہر شخص کو اس کے عزیز دوست دکھلائے جائیں گے لیکن ایسا نفسا نفسی کا عالم ہوگا کہ وہ انہیں دیکھے اور پہچانے گا مگر ان کی ہرگز فکر نہ کرے گا جیسا کہ دوسری آیات میں ہے۔ (دیکھیے 127) اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اس سے سوال نہیں کرے گا کہ اس کے گناہوں کا کچھ بوجھ اٹھا لے کیونکہ اس سے وہ مایوس ہوگا۔
Read the full tafseer →(70:7) ونراہ قریبا : واؤ عاطفہ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے نری مضارع جمع متکلم رؤیۃ (باب فتح) مصدر سے ۔ ہم دیکھتے ہیں۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع عذاب ہے اور ہم عذاب کو قریب الوقوع دیکھ رہے ہیں ۔ کیونکہ جو چیز آنے والی یقینی ہو تو وہ قریب ہی ہے۔ بعیدا ، قریبا دونوں ضمیر مفعول ہ سے حال ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔ سال۔ سوال کیا۔ مانگا۔ ذی المعارج۔ زینوں والا۔ خمیسین الف۔ پچاس ہزار۔ المھل۔ دھنکی ہوئی روئی۔ فصیلۃ ۔ کنبہ۔ خاندان۔ توی۔ وہ رہتا ہے۔ لظی۔ بھڑکتی آگے۔ نزاعۃ۔ کھینچنے والی۔ الشوی۔ کھال اور اس کا ٹکڑا۔ اوعی۔ سنبھال کر رکھتا ہے۔ تشریح : کفار مکہ اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی مانگنے کے بجائے اس کے عذاب اور قیامت آنے کی جلدی کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اس عذاب اور قیامت کا سوال کریں یا نہ کریں وہ تو بہرحال اپنے وقت پر واقع ہو کر رہے گے اور جب قیامت کے دن کفار ومشرکین پر عذاب آئے گا تو وہ اس قدر بھیانک اور سخت عذاب ہوگا جس کو ساری دنیا مل کر بھی نہ ٹال سکے گی کیونکہ یہ عذاب اس اللہ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
روح کابیان۔ (ف 1) ان آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں اس کے دومعنی ہیں۔ ایک تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا نام روح قرآن شریف میں آیا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہیں کہ نیک لوگ جب مرتے ہیں تو ان کی روح کو فرشتے اللہ کے روبرولے جاتے ہیں ، پچاس ہزار برس کا ذکر جو آن آیتوں میں ہے کہ اس کے بعد دو معنی ہیں۔ ایک تو یہ کہ قیامت کے دن کی درازی پچاس ہزار برس کی ہوگی ، دوسرے معنی یہ ہیں کہ ساتویں زمین سے عرش معلی تک پچاس ہزار برس کا راستہ انسان کے چلنے کا ہے جس کو اللہ کے فرشتے روز کے رز طے کرتے ہیں حاصل مطلب ان دونوں معنی کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں ہزاروں برس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–18
[5] یعنی ایسا صبر جس میں شکوہ و شکایت کا نام بھی نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
ف 1: آج یہ لوگ اس واقعہ کا مضحکہ اڑاتے ہیں ۔ مگر اس وقت یہ چاہیں گے کہ فدیہ میں اپنے بیٹوں کو دے دیں ۔ اور بچ جائیں ۔ اپنی بیوی اور بھائی کو قربان کردیں ۔ اور نجات حاصل کرلیں ۔ اپنے کنبے کو اور ساری دنیا کودے دیں ۔ اور کسی طرح عذاب الٰہی سے چھوٹ جائیں ۔
Read the full tafseer →(7) اور ہم اس عذاب اور عذاب کے دن کو نزدیک دیکھ رہے ہیں۔ چونکہ یہ قوع عذاب اور وقوع قیامت کا اعتقاد نہیں رکھتے اس لئے اس کے وقوع کو دوراز فہم خیال کرتے ہیں اور ہم بوجہ تعلق بالوقوع کے اس عذاب کو وقوع سے قریب دیکھ رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اس کو نہ ہونے والا سمجھتے ہیں اور ہم اس کو لامحالہ واقع ہونے والا سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ف 4۔ یعنی ان کے کفر و خلاف سے ایسے تنگ نہ ہوجائے کہ شکایت زبان پر آجاوے، بلکہ یہ سمجھ کر عمل کیجئے کہ ان کو سزا ہونے والی ہے۔
Read the full tafseer →اور ہماری نظر میں وہ بالکل قریب ہے 7 ؎ ہم اس کو قریب سے دیکھ رہے ہیں اور ہر عقل مند اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے کہ جس چیز کا آنا مقرر ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے اور جب کہ اس کا بپا ہونا یقینی ہے اور جس کا آنا یقینی ہو اس کو دور سمجھنا عقل مندی کی نہیں بلکہ بیوقوفی کی نشانی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کل ما ات قریب ہر آنے والی چیز قریب ہوتی ہے اور پھر قیامت کا قرب تو اس لحاظ سے بھی ہے کہ جب کسی شخص کی موت واقع ہوگئی گویا اس کی قیامت تو آگئی کیونکہ اس کو دوبارہ یہ زندگی تو نہیں ملے گی وہ جس حال میں بھی ہے بہرحال عالم برزخ میں ہے اور یہاں سے وہ نکلے گا تو سیدھا میدان حشر میں اس کو پہنچا دیا جائے گا اور عالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيدًا وَنَرَاهُ قَرِيبًا (They see it far off, and We see it near....70:6-7). In this context, the expressions 'far off and 'near' do not refer to time or space, but 'far off in terms of possibility and occurrence. The verse purports to describe that the pagans see the occurrence of Resurrection as impossible, and Allah sees its occurrence not only possible, but a certain reality.
Read the full tafseer →7 This can have two meanings: (1) "That these people think it cannot possibly take place, and in Our view it is going to take place very soon"; and (2) "that these people think Resurrection is yet remote and far off, and in Our sight it is close at hand and may occur any moment. "
Read the full tafseer →