اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًا ۟ۙاِنَّهُمۡ يَرَوۡنَهٗ بَعِيۡدًا ۙ
وہ ان لوگوں کی نگاہ میں دور ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, they see it [as] distant,
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًا ۟ۙاِنَّهُمۡ يَرَوۡنَهٗ بَعِيۡدًا ۙ
وہ ان لوگوں کی نگاہ میں دور ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Indeed, they see it [as] distant,
— Saheeh International
Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij
یہ لوگ اُسے دور سمجھتے ہیں
وہ ان لوگوں کی نگاہ میں دور ہے
بیشک یہ اس (عذاب) کو دور سمجھ رہے ہیں
یہ لوگ اسے دور سمجھ رہے ہیں۔
وہ اسے دور سمجھ رہے ہیں
بے شک وہ (تو) اس (دن) کو دور سمجھ رہے ہیں،
بیشک وہ اسے دور خیال کر رہے ہیں۔
یہ لوگ تو اسے بہت دور دیکھ رہے ہیں
وہ اس کو بہت دور خیال کر رہے ہیں
یہ لوگ تو اسے بڑا دور سمجھتے ہیں
یہ لوگ اس دن کو دور دیکھ رہے ہیں
یہ لوگ تو اس (عذاب) کو دور سمجھ رہے ہیں
وہ ان لوگوں کی نگاہوں میں دور ہے
Verily they think that the chastisement is far off,
They see it far off,
They see it far off,
Verily, they see it (the torment) afar off.
Lo! they behold it afar off
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Indeed, they see it [as] distant,
They think that it (the Day of Judgment) is far away.
Surely they think it to be far off,
Verily they behold it afar off.
They see the (Day) indeed as a far-off (event):
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–7
بعذاب میں جو " ب " ہے وہ بتارہی ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ ۭ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ 47) 22۔ الحج :47) یعنی یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا، نسائی میں حضرت ابن عباس سے وارد ہے کہ کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے، یعنی آخرت میں ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
سورة الْمَعَارِج 6 یعنی ایسا صبر جو ایک عالی ظرف انسان کے شایان شان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(آیت) اِنَّهُمْ يَرَوْنَهٗ بَعِيْدًا ۙوَّنَرٰىهُ قَرِيْبًا، یہاں قریب و بعید با اعتبار مسافت یا زمانے کے نہیں بلکہ بعید از امکان یا بعید از وقوع مراد ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہ لوگ تو قیامت کے وقوع بلکہ امکان کو بھی بعید سمجھ رہے ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس کا وقوع یقینی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اہل بصیرت قیامت کو دور نہیں سمجھتے: ’إِنَّہُمْ یَرَوْنَہٗ بَعِیْدًا ۵ وَنَرَاہُ قَرِیْبًا‘۔ یعنی ان لوگوں کی نظر بہت محدود ہے اس وجہ سے یہ اس عذاب کو جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے بہت دور خیال کر رہے ہیں حالانکہ ہم اس کو بہت قریب دیکھ رہے ہیں اور اصل دیکھنا ہمارا دیکھنا ہے۔ اگر ان کے اندر بھی بصیرت ہوتی تو یہ بھی اس کو قریب ہی دیکھتے لیکن ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے اس وجہ سے انھیں قریب کی چیز دور دکھائی دے رہی ہے۔ وہ دن آئے گا تو یہ پٹی کھل جائے گی اور ہر شخص دیکھ لے گا کہ جس چیز کو وہ بہت دور سمجھا تھا وہ نہایت قریب نکلی۔ ’فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ‘ (قٓ ۵۰: ۲۲) (پس آج تو تیری نگاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4۔ 1 روح سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں، ان کی عظمت شان کے پیش نظر ان کا الگ خصوصی ذکر کیا گیا ہے ورنہ فرشتوں میں وہ بھی شامل ہیں۔ یا روح سے مراد انسانی روحیں ہیں جو مرنے کے بعد آسمان پر لے جاتی ہیں جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔ اس یوم کی تعریف میں بہت اختلاف ہے جیسا کہ الم سجدہ کے آغاز میں ہم بیان کر آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
3: اس دن سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک قیامت کا دن ہے جو کافروں کو حساب و کتاب کی سختی کی وجہ سے پچاس ہزار سال کا محسوس ہوگا، ان حضرات کا کہنا ہے کہ اسی دن کو سورة تنزیل السجدہ : 5 میں ایک ہزار سال کے برابر قرار دیا گیا ہے، وہ اس لیے کہ حساب و کتاب کی سختی کی نوعیت کے لحاظ سے کسی کو وہ ایک ہزار سال کا معلوم ہوگا، اور جس کسی کو اور زیادہ سختی اٹھانی ہوگی، اسے پچاس ہزار سال کا معلوم ہوگا۔ لیکن اس آیت کی ایک دوسری تفسیر یہ ہے کہ کفار کے سامنے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے کفر کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا یا آخرت میں عذاب آئے گا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ اتنے دن گذر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
انھم ........................ قریبا (08 : 7) ” یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں “۔ اس کے بعد اس دن کے مناظر پیش کیے جاتے ہیں ، جس میں واقع ہونے والا عذاب آئے گا ، جسے وہ بعید سمجھتے ہیں اور اللہ اسے قریب سمجھتا ہے۔ یہ مناظر اس کائنات میں ہیں اور انسان کی نفسیاتی دنیا کے اندر بھی۔ یہ اس قدر ہولناک ہوں گے کہ انسان کے اوسان خطا ہوجائیں گے اور اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر زلزلہ برپا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
8 یعنی ان کے خیال میں قیامت کا آنا بعید ازمکان اور دورازعقل ہے۔ اور ہم کو اس قدر قریب نظر آرہی ہے گویا آئی رکھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
آیت 6 ‘ 7{ اِنَّہُمْ یَرَوْنَہٗ بَعِیْدًا - وَّنَرٰٹہُ قَرِیْبًا۔ } ”یہ لوگ تو اس عذاب کو دور سمجھ رہے ہیں ‘ اور ہم اسے نہایت قریب دیکھ رہے ہیں۔“ ظاہر ہے انسان تو صرف اپنے سامنے کی چیز کو ہی دیکھ سکتا ہے ‘ مستقبل میں جھانکنا تو اس کے بس میں نہیں ہے۔ اسی لیے مستقبل کی چیزیں یا خبریں اسے عام طور پر دور محسوس ہوتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے تو مستقبل وغیرہ کچھ نہیں اور نہ ہی کوئی چیز اس سے غائب ہے۔ وہ تو ہرچیز کو بیک وقت اپنے سامنے دیکھ رہا ہے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ سڑک پر سفر کرتے ہوئے ایک شخص صرف اسی شہر یا مقام کو دیکھ سکتا ہے جو اس کے سامنے ہے جبکہ اس سے اگلا شہر مستقبل میں ہونے کی وجہ سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5 یعنی قیامت کو اور اس کے عذاب کو بعید از قیاس یا ناممکن سمجھ رہے ہیں۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ عنقریب واقع ہونے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5۔ (اور انہیں اس کے قرب سے آگاہ بھی کرتے جاتے ہیں۔ ) (آیت) ” نراہ قریبا “۔ حق تعالیٰ کا دیکھنا چونکہ ہمیشہ مطابق واقع ہی ہوتا ہے۔ اس لئے گویا یہ بتادیا کہ وہ دن واقعۃ بہت ہی قریب آلگا ہے۔ (آیت) ” انھم یرونہ بعیدا “۔ ان کا اس دن کو دور سمجھنا تمامتر ان کی ارادی غفلت ومدہوشی کا نتیجہ ہے۔ (آیت) ” بعیدا۔ قریبا “۔ بعید سے مراد بعید از قدرت اور قریب سے مراد اندرون قدرت لی گئی ہے۔ فالمراد بالبعید البعید من الامکان وبالقریب القریب منہ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–18
فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ یہ جملہ فعل محذوف سے متعلق ہے ای یقع فی یوم کان مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب جس کا ذکر اوپر آیا ہے کافروں پر ضرور واقع ہو کر رہے گا، اس کا وقوع اس روز ہوگا کہ جس کی مدت پچاس ہزار سال ہوگی حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق سوال کیا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی کہ یہ دن کتنا دراز ہوگا ؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ یہ دن مومن پر ایک فرض نماز ادا کرنے کے وقت سے بھی کم ہوگا، یہ بطور تمثیل کے مومنین پر اس وقت کے ہلکا ہونے کا بیان ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ قیامت کا…
Read the full tafseer →انھم یرونہ بعیدا . کافر عذاب کو امکان سے بعید یا عقل سے دور جانتے ہیں ‘ ان کے خیال میں عذاب کا احتمال (اگر آتا بھی ہے تو) ضعیف ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(5۔ 7) سو محمد آپ ان کی تکالیف پر ایسا صبر کیجیے جس میں شکایت کا نام نہ ہو یا ایسی علیحدگی اختیار کیجیے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا یہ کفار مکہ قیامت کے عذاب کو غیر ممکن سمجھ رہے ہیں اور ہم اسے قریب آنے والا دیکھ رہے ہیں کیونکہ ہر ایک آنے والی چیز جو کہ ہو کر رہتی ہے وہ قریب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
فاصبر صبراً جمیلاً …: یعنی آپ کفار کی طرف سے عذاب کے مطالبے اور مذاق پر صبر کریں۔”صبرا ً جمیلاً“ جس میں نہ تنگدلی ہو نہ گھبراہٹ نہ جلد بازی ہو، نہ شکوہ اور نہ ش کیا ت۔ یہ لوگ اس عذاب کو بعید سمجھ رہے ہیں، کیونکہ ان کا اس پر ایمان نہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں، کیونکہ اس کا آٹا یقینی ہے اور تمہارے پچاس ہزار سال ہمارے ہاں ایک دن شمار ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
فاصبر صبراً جمیلاً ۔ آپ ﷺ کی قوم جو آپ کو اذیتیں دے رہی ہے اس پر صبر کیجیے۔ صبر جمیل سے مراد یہ ہے ایسا صبر جس میں جزع نہ ہو اور نہ ہی غیر اللہ کے ہاں شکوہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ قوم میں مصیبت والا ہو مگر یہ معلمو نہ ہو کہ وہ کون ہے۔ معنی قریب قریب ہے۔ ابن زید نے کہا، یہ آیت سیف کے ساتھ منسوخ ہے۔ انھم یرونہ بعیداً ۔ مراد اہل مکہ ہیں۔ وہ جہنم کے عذاب کو بعید خیال کرتے ہیں یعنی وہ ہوگا ہی نہیں۔ ونرہ قریباً ۔ کیونکہ جو عذاب واقع ہونے والا ہوتا ہے وہ قریب ہی ہوتا ہے (2) اعمش نے کہا، وہ بعث کو بعید خیال کترے ہیں کیونکہ وہ اس پر ایمان نہیں رکھتے۔ گویا وہ اسے محال ہونے کے اعتبار سے بعید خیال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
1۔ عبد بن حمید نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ آیت انہم یرونہ بعیدا۔ بیشک وہ اسے دور سے دیکھتے ہیں۔ یعنی قیامت کو۔ 2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آتی انہم یرونہ بعیدا۔ یعنی کافر اسے اپنی تکذیب کی وجہ سے دور دیکھتے ہیں آیت ونرہ قریبا اور ہم اسے قریب دیکھتے ہیں یعنی ہم اسے سچ ہونے کے سبب قریب دیکھ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →[اِنَّهُمْ يَرَوْنَهٗ بَعِيْدًا : بیشک وہ لوگ دیکھتے ہیں اس (قیامت) کو دور ہوتے ہوئے ] (آیت۔ 6 ۔ 7) یَرَوْنَہٗ اور نسٰرہ دونوں کی ضمیر مفعولی یَوْمٍ کے لیے ہے جس سے مراد عَذَابٌ وَاقِعٌ والا دن یعنی قیامت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
﴿اِنَّهُمْ يَرَوْنَهٗ بَعِيْدًاۙ006 وَّ نَرٰىهُ قَرِيْبًاؕ007﴾ (یہ لوگ قیامت کے دن کو دور دیکھ رہے ہیں) یعنی یہ سمجھ رہے ہیں کہ صرف کہنے کی باتیں ہیں قیامت آنے والی نہیں ہے اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں علم ہے کہ قیامت آنی ہے اور ان لوگوں کو اس دن عذاب میں مبتلا ہونا ہی ہے اسی کو سورة ٴ انعام میں فرمایا : ﴿اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ 1ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 00134﴾ (بلاشبہ تم جس چیز کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور آجانے والی چیز ہے اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–35
مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
3:۔ ” فاصبر صبرا “ تسلیہ برائے نبی کریم ﷺ مشرکین کا مطالبہ عذاب ازراہ عناد و استہزاء ہے۔ آپ ان کے تعنت وعناد اور تکذیب و انکار پر صبر و تحمل سے کام لیں۔ وہ عذاب کو عقل و امکان سے بعید سمجھتے ہیں، لیکن ہم اسے بالکل نزدیک دیکھ رہے ہیں جو چیز لا محالہ آنے والی ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
کوائف اور مضامین : اس سورة کا نام المعارج ہے۔ اس کی تیسری آیت میں معارج کا لفظ ہے جس سے اس سورة کا نام لیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کے دو رکوع چوالیس آیتیں ، دو سو سولہ کلمات اور آٹھ سو اکسٹھ حروف ہیں۔ اس کے مضامین گزشتہ سورة الحاقہ سے ملتے ہیں۔ اس سورة کے ابتدا میں قیامت کا ذکر ہے ۔ آخر رکوع میں نبوت اور رسالت کا انکار کرنے والوں کا رد ہے۔ اس سورة میں بھی زیادہ تر قیامت کے بارے میں ارشادات ہیں۔ سابقہ سورة سے ربط : اس سے پہلی سورة میں بیان ہوا کہ مشرکین جن کو قیامت کے روز بائیں ہاتھ میں اعمالنامہ ملے گا۔ وہ بڑا افسوس کریں گے۔ اور جہنم میں داخل ہونے کی وجہ یہ بیان کریں گے کہ…
Read the full tafseer →اِنَّہُمْ يَرَوْنَہٗ بَعِيْدًا 6 ۙ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب : سأل قرء الجمہور بالھمزۃ من السوال وھو متضمن بمعنی الدعاء ولذا عدی بالباء وقریٔ بغیر ھمزۃ وھوا مامن باب التخفیف والمعنی واحد اومن السیلان والمعنی سال واوفی جہنم یقال لہ سائل کماقال زید بن ثابت ویؤیدہ قرأۃ ابن عباس سال سیل ای اندفع وا وب عذاب واقع بعذاب والباء بمعنی عن کقولہ فاسئل بہ خبیرا وھومفعول ثان لسال والمفعول الاول محذوف ای اللہ اوالنبی سال یتعدی الی مفعولین ویجوزالاقتصاء علی احدھما قالہ ابوعلی الفارسی للکافرین الجاء متعلق بواقع ویمکن ان یتعلق بثالت ویکون صفۃ افریٰ بعذاب والاولیٰ واقع لیس لہ الخ صفۃ اخریٰ لعذاب اوحال منہ او مستانفۃ من اللہ متعلق بواقع ای بواقع ویمکن ان یتعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اِنَّھُمْ یَرَوْنَـہٗ بَعِیْدًا۔ وَّنَرَاہُ قَرِیْبًا۔ (المعارج : 6، 7) (یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں۔ اور ہم اس کو نہایت قریب دیکھ رہے ہیں۔ ) قیامت یا عذاب کے دور یا قریب ہونے کا مفہوم آیتِ کریمہ کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ یہ لوگ اس عذاب یا قیامت کو جس سے انھیں ڈرایا جارہا ہے بہت دور خیال کررہے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عذاب جس ہمہ گیر تباہی کا نام ہے اور قیامت جس طرح ایک نئی دنیا کے برپا ہونے کا نام ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اتنا بڑا واقعہ ہے کہ جس کی وسعت اور عظمت کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ دنیا کا دستور یہ ہے کہ جب کوئی بڑا واقعہ پیش آنے والا ہو تو کچھ نہ کچھ اس کے آثار پہلے ظاہر ہونے لگتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کی شب وروز کوشش تھی کہ کفار کو جہنم کے عذاب سے بچایا جائے اس کے باوجود کفار عذاب کا مطالبہ کرتے تھے جس پر نبی ﷺ کو پریشانی ہوتی تھی اس لیے آپ کو صبر جمیل کی تلقین کی گئی۔ کفار کا بار بار عذاب کا مطالبہ کرنا آپ ﷺ کے لیے دو وجہ سے پریشان کُن تھا پہلی وجہ یہ تھی کہ آپ اپنے آرام اور کام کی پرواہ کیے بغیر انتہائی خیرخواہی اور درد مندی کے ساتھ کوشش فرما رہے تھے کہ یہ لوگ کفر و شرک چھوڑ کر اپنے رب کے حضور تائب ہوجائیں مگر وہ لوگ تائب ہونے کی بجائے آپ کی مخالفت اور اللہ کی نافرمانی میں آگے ہی بڑھے جارہے تھے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ آپ کو اس بات پر طعنہ دیتے اور جھوٹا قرار…
Read the full tafseer →6 : اِنَّھُمْ (یہ لوگ) یعنی کفار یَرَوْنَہٗ (اس کو دیکھ رہے ہیں) اس عذاب یا قیامت کے دن کو بَعِیْدًا (بعید) ناممکن۔
Read the full tafseer →5 ۔” فاصبر صبرا جمیلا “ اے محمد ! ( ﷺ ) ان کی تکذیب پر اور یہ قتال کا حکم دیئے جانے سے پہلے کی بات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ نسائی 1 ؎ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نضر بن حارث اور قریش میں کے سرکش لوگوں نے جب اللہ تعالیٰ سے عذاب کی خواہش کی اور یہ کہا کہ جو کچھ محمد کہتے ہیں اگر وہ حق بات ہے اور ہم لوگ اس کو نہیں مانتے ہیں تو خدا کرے کہ ہم لوگوں پر آسمان سے پتھروں کا مینہ برسے یا اور کوئی سخت عذاب ہم لوگوں پر نازل ہوجائے اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ہیں اور فرمایا کہ یہ قریش میں کے سرکش لوگ عذاب الٰہی کو دور گن کر اس طرح کی سرکشی کی باتیں کرتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک پچھلی قوموں کی طرح نہ ان مشرکوں پر دنیا میں کوئی عذاب نازل کردینا کچھ دور ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(انھم یرونہ بعیدا۔ ونراہ قریبا) ۔ وہ اس (قیامت) کو دور تصور کرتے ہیں اور ہم اسے نزدیک دیکھ رہے ہیں۔ آیت میں مذکورہ ضمیر قیامت کے دن کی طرف لوٹتی ہے جس میں عذاب کے بارے میں سوال کرنے والوں کے لیے عذاب ہوگا یعنی ان کا حال اس شخص کا سا ہے جو قیامت کا منکر ہے جس پر بدبختی اور اندیشہ غالب ہو حتی کہ اسے وہ چیز بھی دور نظر آئے جو اس کے سامنے ہے یعنی مرنے کے بعددوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ (دن) قریب نظر آتا ہے کیونکہ وہ بہت نرم اور بردبار ہے، سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا وہ جانتا ہے کہ جسے آنا ہے وہ آکر رہے گا پس وہ بہت قریب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5 صبر جمیل ‘ حکم ارشاد اور اس کے مقصود مراد ؟ سو اس سے مراد فرمائی گئی ہے اور یہ حکم ارشاد آپ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعی کیلئے ہے ‘ کہ راہ حق میں اس کی بڑی عظمت و اہمیت ہے ‘ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پس آپ صبر جمیل ہی سے کام لیں۔ جس میں نہ کوئی جزع و فرح ہو ‘ نہ شکوہ و شکایت اور نہ اعراض و کبیدہ خاطری وغیرہ ‘ سو عذاب کیلئے جلدی مچانے ولاوں کے جواب میں آپ کسی طرح کی بےصبری کا مظاہرہ نہ کریں ‘ بلکہ ان کے استہزاء پر خوبی اور وقار کے ساتھ صبر سے کام لیں ‘ خوبی اور خوبصورتی سے مراد یہ ہے کہ ان کے اس رویئے سے نہ تو دل شکستہ اور مایوس ہوں ‘ اور نہ ان کے جواب میں کوئی عاجلانہ قدم اٹھائیں ‘ اور نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–21
صبر کی تلقین، قیامت کی سختی اور سزائیں تشریح : حدیث پاک میں ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے یہ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری بعثت کے بعد قیامت اب اتنی نزدیک ہے جتنی میری یہ دو انگلیاں ایک دوسری کے نزدیک ہیں ( قیامت نزدیک آپہنچی ہے) ۔ (بخاری ) قیامت کے ممکنہ حالات اور زمین کی ہر طرح سے تباہی کے واقعات اور اسباب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ انسانوں کے لئے تو قیامت اس وقت ہی آجاتی ہے جب وہ مرتے ہیں۔ میدان حشر میں اس قدر دہشت اور افراتفری پھیلی ہوئی ہوگی کہ کوئی کسی کو پہنچانے گا بھی نہیں بلکہ ہر ایک کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔ اور بےبسی کا یہ عالم ہوگا کہ گناہوں کے بدلے جو سزاء ملے گی اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–34
سورة المعارج۔ آیات 1 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ف 4 یعنی ہر شخص کو اس کے عزیز دوست دکھلائے جائیں گے لیکن ایسا نفسا نفسی کا عالم ہوگا کہ وہ انہیں دیکھے اور پہچانے گا مگر ان کی ہرگز فکر نہ کرے گا جیسا کہ دوسری آیات میں ہے۔ (دیکھیے 127) اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اس سے سوال نہیں کرے گا کہ اس کے گناہوں کا کچھ بوجھ اٹھا لے کیونکہ اس سے وہ مایوس ہوگا۔
Read the full tafseer →(70:6) انھم یرونہ بعیدا : ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع عذاب ہے۔ بعیدا ، بعد سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ وہ عذاب کو امکان سے بعید یا عقل سے دور جانتے ہیں ان کے خیال میں عذاب کا احتمال اگر آتا بھی ہے تو ضعیف ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔ سال۔ سوال کیا۔ مانگا۔ ذی المعارج۔ زینوں والا۔ خمیسین الف۔ پچاس ہزار۔ المھل۔ دھنکی ہوئی روئی۔ فصیلۃ ۔ کنبہ۔ خاندان۔ توی۔ وہ رہتا ہے۔ لظی۔ بھڑکتی آگے۔ نزاعۃ۔ کھینچنے والی۔ الشوی۔ کھال اور اس کا ٹکڑا۔ اوعی۔ سنبھال کر رکھتا ہے۔ تشریح : کفار مکہ اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی مانگنے کے بجائے اس کے عذاب اور قیامت آنے کی جلدی کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اس عذاب اور قیامت کا سوال کریں یا نہ کریں وہ تو بہرحال اپنے وقت پر واقع ہو کر رہے گے اور جب قیامت کے دن کفار ومشرکین پر عذاب آئے گا تو وہ اس قدر بھیانک اور سخت عذاب ہوگا جس کو ساری دنیا مل کر بھی نہ ٹال سکے گی کیونکہ یہ عذاب اس اللہ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
روح کابیان۔ (ف 1) ان آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں اس کے دومعنی ہیں۔ ایک تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا نام روح قرآن شریف میں آیا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہیں کہ نیک لوگ جب مرتے ہیں تو ان کی روح کو فرشتے اللہ کے روبرولے جاتے ہیں ، پچاس ہزار برس کا ذکر جو آن آیتوں میں ہے کہ اس کے بعد دو معنی ہیں۔ ایک تو یہ کہ قیامت کے دن کی درازی پچاس ہزار برس کی ہوگی ، دوسرے معنی یہ ہیں کہ ساتویں زمین سے عرش معلی تک پچاس ہزار برس کا راستہ انسان کے چلنے کا ہے جس کو اللہ کے فرشتے روز کے رز طے کرتے ہیں حاصل مطلب ان دونوں معنی کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں ہزاروں برس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–18
[5] یعنی ایسا صبر جس میں شکوہ و شکایت کا نام بھی نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
ف 1: آج یہ لوگ اس واقعہ کا مضحکہ اڑاتے ہیں ۔ مگر اس وقت یہ چاہیں گے کہ فدیہ میں اپنے بیٹوں کو دے دیں ۔ اور بچ جائیں ۔ اپنی بیوی اور بھائی کو قربان کردیں ۔ اور نجات حاصل کرلیں ۔ اپنے کنبے کو اور ساری دنیا کودے دیں ۔ اور کسی طرح عذاب الٰہی سے چھوٹ جائیں ۔
Read the full tafseer →(6) یہ دین حق کے منکر اس عذاب یا قیامت کی دن کو دورازقیاس ودوراز عقل سمجھ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ف 4۔ یعنی ان کے کفر و خلاف سے ایسے تنگ نہ ہوجائے کہ شکایت زبان پر آجاوے، بلکہ یہ سمجھ کر عمل کیجئے کہ ان کو سزا ہونے والی ہے۔
Read the full tafseer →کفار کو تو یہ بہت دور نظر آتا ہے 6 ؎ کفار نے عذاب عذاب کا جو شور ڈال رکھا ہے یہ ان کی حماقت ہے کیونکہ عذاب خوشی سے مانگنے اور طلب کرنے کی چیز نہیں ہے بلکہ اس سے تو اللہ کی پناہ طلب کرنا عقل مندی کی بات ہے لیکن وہ مطالبہ کرتے ہیں تو محض اس لئے کہ ان کے نزدیک قیامت کا وقوع محال ہے اس لئے وہ آپس میں تو یہ کہتے تھے کہ قیامت ویامت کچھ بھی نہیں ہے یہ لوگ محض اس کی رٹ لگاتے رہتے ہیں اور ہم تو آبائو اجداد کے وقتوں سے اس طرح کے سر پھروں سے اس کا ذکر سنتے آ رہے ہیں اگر وہ کوئی چیز ہوتی تو آخر آ بھی تو جاتی چونکہ ان کے ذہن و دماغ میں اس کا کوئی تصور موجود ہی نہیں ہے اور اس کا آنا وہ ناممکن سمجھتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيدًا وَنَرَاهُ قَرِيبًا (They see it far off, and We see it near....70:6-7). In this context, the expressions 'far off and 'near' do not refer to time or space, but 'far off in terms of possibility and occurrence. The verse purports to describe that the pagans see the occurrence of Resurrection as impossible, and Allah sees its occurrence not only possible, but a certain reality.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
6 "A goodly patience": "A kind of patience that behoves a magnanimous person like you."
Read the full tafseer →