Al-Ma'aarij 70:5

Al-Ma'aarij · from ayah 5

70:5

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا ۟فَاصۡبِرۡ صَبۡرًا جَمِيۡلًا

(تو تم کافروں کی باتوں کو) قوت کے ساتھ برداشت کرتے رہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

So be patient with gracious patience.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij

All translations of 70:5

پس اے نبیؐ، صبر کرو، شائستہ صبر

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(تو تم کافروں کی باتوں کو) قوت کے ساتھ برداشت کرتے رہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس تو اچھی طرح صبر کر

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا تم خوبصورتی کے ساتھ صبر سے کام لو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو تم اچھی طرح صبر کرو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو (اے حبیب!) آپ (کافروں کی باتوں پر) ہر شکوہ سے پاک صبر فرمائیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس تو صبر کر، بہت اچھا صبر۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس (اے نبی !) آپ صبر کیجئے، صبر جمیل

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو تم خوبصورتی سے صبر کرو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس آپ صبر جمیل ہی سے کام لیتے رہیں (اے پیغمبر !)

— مولانا اسحاق مدنی

سو آپ صبر کیجئے اور صبر بھی جمیل۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو آپ ﷺ بڑی خوبصورتی سے صبر کیجیے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو تم کفار کی باتوں کو حوصلے کے ساتھ برداشت کرتے رہو

— محترمہ رفعت اعجاز

So, (O Prophet), persevere with gracious perseverance.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, observe patience, a good patience.

— Muhammad Taqi Usmani

So, observe patience, a good patience.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So be patient, with a good patience.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But be patient (O Muhammad) with a patience fair to see.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So be patient with gracious patience.

— Saheeh International

(Muhammad), exercise patience with no complaints.

— Muhammad Sarwar

Therefore endure with a goodly patience.

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore be thou patient with a becoming patience.

— Abdul Majid Daryabadi

Therefore do thou hold Patience,- a Patience of beautiful (contentment).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 70:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–7

بعذاب میں جو " ب " ہے وہ بتارہی ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ ۭ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ 47؀) 22۔ الحج :47) یعنی یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا، نسائی میں حضرت ابن عباس سے وارد ہے کہ کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے، یعنی آخرت میں ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 5–6

سورة الْمَعَارِج 6 یعنی ایسا صبر جو ایک عالی ظرف انسان کے شایان شان ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–5

(آیت) تَعْرُجُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ یعنی یہ درجات جو تہہ بر تہہ اوپر نیچے ہیں ان درجات کے اندر چڑھتے ہیں فرشتے اور روح الامین یعنی جبرئیل امین۔ جبرئیل ؑ بھی اگرچہ فرشتوں کے زمرہ میں شامل ہیں لیکن ان کے خصوصی اعزاز کے لئے ان کا الگ نام ذکر فرمایا گیا ہے۔ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَـنَةٍ یہ جملہ ایک فعل محذوف سے متعلق ہے یعنی یقع مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب جس کا اوپر ذکر آیا ہے کہ کافروں پر ضرور واقع ہو کر رہے گا۔ اس کا وقوع اس روز ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی۔ حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق سوال کیا جس کی مقدا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

پیغمبر صلعم کو صبر جمیل کی ہدایت: عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کے مقابلہ میں پیغمبر ﷺ کو جو رویہ اختیار کرنا چاہیے یہ اس کا بیان ہے۔ فرمایا کہ ان کی جلد بازی اور ان کے استہزاء پر خوبصورتی اور وقار کے ساتھ صبر کرو۔ ’خوبصورتی کے ساتھ‘ کا مطلب یہ ہے کہ ان کے رویہ سے نہ تو دل شکستہ اور مایوس ہو نہ ان کے جواب میں کوئی عاجلانہ قدم اٹھاؤ اور نہ اپنے موقف میں کوئی کمزوری پیدا ہونے دو۔ مختلف صورتوں میں صبر کی ہدایت کے ساتھ ان باتوں کی طرف اشارے بھی فرما دیے گئے ہیں جو صبر کو صبر جمیل بنانے کے لیے ضروری ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–6

4۔ 1 روح سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں، ان کی عظمت شان کے پیش نظر ان کا الگ خصوصی ذکر کیا گیا ہے ورنہ فرشتوں میں وہ بھی شامل ہیں۔ یا روح سے مراد انسانی روحیں ہیں جو مرنے کے بعد آسمان پر لے جاتی ہیں جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔ اس یوم کی تعریف میں بہت اختلاف ہے جیسا کہ الم سجدہ کے آغاز میں ہم بیان کر آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–16

3: اس دن سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک قیامت کا دن ہے جو کافروں کو حساب و کتاب کی سختی کی وجہ سے پچاس ہزار سال کا محسوس ہوگا، ان حضرات کا کہنا ہے کہ اسی دن کو سورة تنزیل السجدہ : 5 میں ایک ہزار سال کے برابر قرار دیا گیا ہے، وہ اس لیے کہ حساب و کتاب کی سختی کی نوعیت کے لحاظ سے کسی کو وہ ایک ہزار سال کا معلوم ہوگا، اور جس کسی کو اور زیادہ سختی اٹھانی ہوگی، اسے پچاس ہزار سال کا معلوم ہوگا۔ لیکن اس آیت کی ایک دوسری تفسیر یہ ہے کہ کفار کے سامنے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے کفر کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا یا آخرت میں عذاب آئے گا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ اتنے دن گذر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فاصبر .................... قریبا (7) (07 : 5 تا 7) ” (پس صبر کرو شائستہ صبر ، یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں “۔ صبر کی ہدایت پر دعوت ہر داعی کو دی جاتی رہی ہے۔ ہر رسول کو یہی ہدایت کی گئی کہ صبر کریں اور رسولوں کے متبعین مومنین کو بھی صبر جمیل کی ہدایت کی گئی۔ یہ راہ جس قدر دشوار گزار ہے اور یہ دعوت جس قدر بھاری ہے ، اور اس میں کمزور نفس انسانی کو لغزشوں سے بچانے کی جس قدر ضرورت ہے ، اس کی اہمیت عیاں ہے کیونکہ اسلامی انقلاب کا ہدف دورنظر آتا ہے اور مقصد اور منزل افق میں بہت دور اور بلندی پر ہوتی ہے۔ صبر جمیل سے مراد وہ صبر ہے جس سے صبر کرنے والا مطمئن ہو ، اس کے دوران…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی یہ کافر اگر ازراہ انکار و تمسخر عذاب کے لیے جلدی مچائیں، تب بھی آپ جلدی نہ کریں بلکہ صبرو استقلال سے رہیں، نہ تنگدل ہوں، نہ حرف شکایت زبان پر آئے آپ کا صبر اور ان کا تمسخر ضرور رنگ لائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5{ فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا۔ } ”تو آپ ﷺ بڑی خوبصورتی سے صبر کیجیے۔“ یہ ہے وہ اصل پیغام جو ان آیات کے ذریعے حضور ﷺ کو دینا مقصود تھا ‘ کہ ابھی تو سفر کا آغاز ہوا ہے ‘ آنے والا وقت اور بھی کٹھن ہوگا۔ لہٰذا آپ ﷺ اپنے راستے میں آنے والی ہر مشکل کا صبر اور استقامت کے ساتھ سامنا کریں۔ اس سے پہلے سورة القلم میں بھی آپ ﷺ کو ایسی ہی ہدایت کی گئی ہے : { فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلَا تَـکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوْتِ 7} آیت 48 ”تو آپ ﷺ انتظار کیجیے اپنے رب کے حکم کا ‘ اور دیکھئے ! آپ ﷺ اس مچھلی والے کی طرح نہ ہوجایئے گا !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 صبر جمیل کا مفہوم اور فائدہ :۔ صبر جمیل یہ ہے کہ کسی کے طعن وتشنیع، مذاق و تمسخر اور ایذا رسانی کو ٹھنڈے دل سے برداشت کرلیا جائے۔ خود تکلیف سہہ لی جائے مگر تکلیف پہنچانے والے کو زبان سے بھی برا بھلا نہ کہا جائے۔ نہ ہی دوسروں سے اس کی شکایت اور شکوہ کیا جائے اور یہ تجربہ شدہ بات ہے کہ صبر جمیل جس قدر تلخ اور ناگوار ہوتا ہے اس کا پھل اتنا ہی میٹھا ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خود صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ مکی دور میں مسلمانوں کو اور آپ ﷺ کو صبر جمیل ہی کی تلقین کی جاتی رہی وجہ یہ تھی کہ اگر مسلمان اس دور میں محاذ آرائی پر اتر آتے، خواہ یہ صرف زبانی تلخ کلامی تک ہی محدود ہوتی تو اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ جس میں شکوہ وشکایت کا نام بھی نہ ہو۔ (آیت) ” فاصبر “۔ یعنی آپ معاندین کے طنز و استہزاء پر صبر کرتے رہیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–18

فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ یہ جملہ فعل محذوف سے متعلق ہے ای یقع فی یوم کان مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب جس کا ذکر اوپر آیا ہے کافروں پر ضرور واقع ہو کر رہے گا، اس کا وقوع اس روز ہوگا کہ جس کی مدت پچاس ہزار سال ہوگی حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق سوال کیا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی کہ یہ دن کتنا دراز ہوگا ؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ یہ دن مومن پر ایک فرض نماز ادا کرنے کے وقت سے بھی کم ہوگا، یہ بطور تمثیل کے مومنین پر اس وقت کے ہلکا ہونے کا بیان ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ قیامت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاصبر صبرا جمیلا . پس اے محمد ! تکذیب کفار پر خوبی کے ساتھ صبر کرو۔ تمہاری طرف سے عجلت پسندی ‘ اضطراب اور بےصبری محسوس بھی نہ ہو۔ فاء سببی ہے اسکا تعلق سأل سے ہے۔ کافروں کی طرف سے سوال (اور مطالبہ عذاب) محض ضد اور استہزاء کی وجہ سے تھا اور اس سے حضور کبیدہ خاطر ہوتے تھے۔ اس لیے حکم دیا کہ آپ ان کے سوال سے تنگ دل نہ ہوں اور ان پر عذاب آنے کی جلدی نہ کریں۔ یا سأل (بروایت نافع) سیلان سے مشتق ہے۔ اس وقت مطلب یہ ہوگا کہ آپ صبر کریں ‘ عذاب ان کو بہا لے جائے گا۔ عذاب کا وقت قریب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–7

(5۔ 7) سو محمد آپ ان کی تکالیف پر ایسا صبر کیجیے جس میں شکایت کا نام نہ ہو یا ایسی علیحدگی اختیار کیجیے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا یہ کفار مکہ قیامت کے عذاب کو غیر ممکن سمجھ رہے ہیں اور ہم اسے قریب آنے والا دیکھ رہے ہیں کیونکہ ہر ایک آنے والی چیز جو کہ ہو کر رہتی ہے وہ قریب ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 5–7

فاصبر صبراً جمیلاً …: یعنی آپ کفار کی طرف سے عذاب کے مطالبے اور مذاق پر صبر کریں۔”صبرا ً جمیلاً“ جس میں نہ تنگدلی ہو نہ گھبراہٹ نہ جلد بازی ہو، نہ شکوہ اور نہ ش کیا ت۔ یہ لوگ اس عذاب کو بعید سمجھ رہے ہیں، کیونکہ ان کا اس پر ایمان نہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں، کیونکہ اس کا آٹا یقینی ہے اور تمہارے پچاس ہزار سال ہمارے ہاں ایک دن شمار ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 5–7

فاصبر صبراً جمیلاً ۔ آپ ﷺ کی قوم جو آپ کو اذیتیں دے رہی ہے اس پر صبر کیجیے۔ صبر جمیل سے مراد یہ ہے ایسا صبر جس میں جزع نہ ہو اور نہ ہی غیر اللہ کے ہاں شکوہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ قوم میں مصیبت والا ہو مگر یہ معلمو نہ ہو کہ وہ کون ہے۔ معنی قریب قریب ہے۔ ابن زید نے کہا، یہ آیت سیف کے ساتھ منسوخ ہے۔ انھم یرونہ بعیداً ۔ مراد اہل مکہ ہیں۔ وہ جہنم کے عذاب کو بعید خیال کرتے ہیں یعنی وہ ہوگا ہی نہیں۔ ونرہ قریباً ۔ کیونکہ جو عذاب واقع ہونے والا ہوتا ہے وہ قریب ہی ہوتا ہے (2) اعمش نے کہا، وہ بعث کو بعید خیال کترے ہیں کیونکہ وہ اس پر ایمان نہیں رکھتے۔ گویا وہ اسے محال ہونے کے اعتبار سے بعید خیال…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

28۔ الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت صبرا جمیلا آپ اچھی طرح سے صبر کیے رہیں یعنی میرے علاوہ کسی سے شکایت نہ کرو۔ 29۔ الحکیم الترمذی نے عبدالاعلیٰ بن الحجاج (رح) سے آیت فاصبر صبرا جمیلا کے بارے میں روایت کیا کہ ایک مصیبت والا قوم میں اس طرح ہو کہ نہ پہچانا جائے کہ وہ کون ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيْلًا : تو آپ صبر کریں جیسے خوبصورت صبر کرنا ہوتا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيْلًا 005﴾ (سو آپ ایسا صبر کیجئے جو صبر جمیل ہو) صبر جمیل اسے کہتے ہیں جس میں شکایت کا نام نہ ہو مطلب یہ ہے کہ آپ نے ان کو حق پہنچایا حق کی دعوت دی آپ کے ذمہ جو کام تھا وہ آپ نے کردیا اب جو یہ لوگ نہیں مانتے کفر پر جمے ہوئے ہیں آپ ان کی طرف سے دلگیر نہ ہوں اور رنج میں نہ پڑیں صبر سے کام لیں اور صبر جمیل اختیار فرمائیں دنیا میں نہیں تو قیامت کے دن تو ہر کافر کو سزا ملنی ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–35

مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–7

3:۔ ” فاصبر صبرا “ تسلیہ برائے نبی کریم ﷺ مشرکین کا مطالبہ عذاب ازراہ عناد و استہزاء ہے۔ آپ ان کے تعنت وعناد اور تکذیب و انکار پر صبر و تحمل سے کام لیں۔ وہ عذاب کو عقل و امکان سے بعید سمجھتے ہیں، لیکن ہم اسے بالکل نزدیک دیکھ رہے ہیں جو چیز لا محالہ آنے والی ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

کوائف اور مضامین : اس سورة کا نام المعارج ہے۔ اس کی تیسری آیت میں معارج کا لفظ ہے جس سے اس سورة کا نام لیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کے دو رکوع چوالیس آیتیں ، دو سو سولہ کلمات اور آٹھ سو اکسٹھ حروف ہیں۔ اس کے مضامین گزشتہ سورة الحاقہ سے ملتے ہیں۔ اس سورة کے ابتدا میں قیامت کا ذکر ہے ۔ آخر رکوع میں نبوت اور رسالت کا انکار کرنے والوں کا رد ہے۔ اس سورة میں بھی زیادہ تر قیامت کے بارے میں ارشادات ہیں۔ سابقہ سورة سے ربط : اس سے پہلی سورة میں بیان ہوا کہ مشرکین جن کو قیامت کے روز بائیں ہاتھ میں اعمالنامہ ملے گا۔ وہ بڑا افسوس کریں گے۔ اور جہنم میں داخل ہونے کی وجہ یہ بیان کریں گے کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيْلًا۝ 5 صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–7

ترکیب : سأل قرء الجمہور بالھمزۃ من السوال وھو متضمن بمعنی الدعاء ولذا عدی بالباء وقریٔ بغیر ھمزۃ وھوا مامن باب التخفیف والمعنی واحد اومن السیلان والمعنی سال واوفی جہنم یقال لہ سائل کماقال زید بن ثابت ویؤیدہ قرأۃ ابن عباس سال سیل ای اندفع وا وب عذاب واقع بعذاب والباء بمعنی عن کقولہ فاسئل بہ خبیرا وھومفعول ثان لسال والمفعول الاول محذوف ای اللہ اوالنبی سال یتعدی الی مفعولین ویجوزالاقتصاء علی احدھما قالہ ابوعلی الفارسی للکافرین الجاء متعلق بواقع ویمکن ان یتعلق بثالت ویکون صفۃ افریٰ بعذاب والاولیٰ واقع لیس لہ الخ صفۃ اخریٰ لعذاب اوحال منہ او مستانفۃ من اللہ متعلق بواقع ای بواقع ویمکن ان یتعلق…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلاً ۔ (المعارج : 5) (پس اے پیغمبر ! آپ صبر کریں، شائستہ اور باوقار صبر۔ ) آنحضرت ﷺ کو صبر کی تلقین مخالفین جس طرح عذاب کے مطالبے میں جلدی مچا رہے تھے بلکہ انہوں نے اسے تمسخر کا ذریعہ بنا لیا تھا ان کے مقابلے میں آنحضرت ﷺ کو جو رویہ اختیار کرنا چاہیے اس کے بارے میں ہدایت دی گئی ہے کہ آپ ﷺ ان بدبختوں کی جلد بازی اور استہزاء کے مقابلے میں نہایت شائستہ اور باوقار انداز اختیار کریں۔ ان کی شرافت سے گری ہوئی حرکتوں اور ناشائستہ رویئے پر آپ ﷺ برہم ہو کر نہ تو کوئی ایسا اقدام کریں جو آپ کی شان اور بلند مقام کے مطابق نہ ہو۔ اور نہ کسی ایسی کمزوری کا اظہار کریں جو آپ کے عظیم منصب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–9

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کی شب وروز کوشش تھی کہ کفار کو جہنم کے عذاب سے بچایا جائے اس کے باوجود کفار عذاب کا مطالبہ کرتے تھے جس پر نبی ﷺ کو پریشانی ہوتی تھی اس لیے آپ کو صبر جمیل کی تلقین کی گئی۔ کفار کا بار بار عذاب کا مطالبہ کرنا آپ ﷺ کے لیے دو وجہ سے پریشان کُن تھا پہلی وجہ یہ تھی کہ آپ اپنے آرام اور کام کی پرواہ کیے بغیر انتہائی خیرخواہی اور درد مندی کے ساتھ کوشش فرما رہے تھے کہ یہ لوگ کفر و شرک چھوڑ کر اپنے رب کے حضور تائب ہوجائیں مگر وہ لوگ تائب ہونے کی بجائے آپ کی مخالفت اور اللہ کی نافرمانی میں آگے ہی بڑھے جارہے تھے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ آپ کو اس بات پر طعنہ دیتے اور جھوٹا قرار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5 : فَاصْبِرْ (پس آپ صبر کیجئے) یہ سأل سائل کے متعلق ہے کیونکہ نضر بن حارث نے رسول اللہ ﷺ سے بطور استہزاء اور تکذیب وحی کے عذاب کا جلد مطالبہ کیا اور اس سے آنحضرت ﷺ کو کبیدگی خاطر پیش آئی اسی لئے اس پر صبر کا حکم دیا گیا۔ صَبْرًا جَمِیْلًا (اور صبر بھی ایسا جس میں شکایت کا نام نہ ہو) اس صبر میں گھبراہٹ و شکایت نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” تعرج الملائکۃ “ کسائی نے ” یعرج “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ ابن مسعود ؓ کی قرات ہے اور دیگر حضرات نے ” تعرج “ تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” والروح “ یعنی جبرئیل علیہ السلام۔ ” الیہ “ اللہ تعالیٰ کی طرف ” فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ “ دنیا کے سالوں سے اگر فرشتوں کے علاوہ بنو آدم میں سے کوئی چڑھے ۔ اللہ تعالیٰ کے امر کی انتہا سے ساتویں زمین کے نیچے سے اللہ تعالیٰ کے امر کی انتہا تک ساتویں آسمان کے اوپر سے تو وہ پچاس ہزار سال سے کم میں نہ چڑھے گا اور فرشتہ یہ سارا سفر ایک لحظہ میں طے کردے گا۔ مجاہد (رح) سے روایت ہے کہ اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں اگر بنو آدم دنیا سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1۔ 7۔ نسائی 1 ؎ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نضر بن حارث اور قریش میں کے سرکش لوگوں نے جب اللہ تعالیٰ سے عذاب کی خواہش کی اور یہ کہا کہ جو کچھ محمد کہتے ہیں اگر وہ حق بات ہے اور ہم لوگ اس کو نہیں مانتے ہیں تو خدا کرے کہ ہم لوگوں پر آسمان سے پتھروں کا مینہ برسے یا اور کوئی سخت عذاب ہم لوگوں پر نازل ہوجائے اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ہیں اور فرمایا کہ یہ قریش میں کے سرکش لوگ عذاب الٰہی کو دور گن کر اس طرح کی سرکشی کی باتیں کرتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک پچھلی قوموں کی طرح نہ ان مشرکوں پر دنیا میں کوئی عذاب نازل کردینا کچھ دور ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (فاصبر صبرا جمیلا) ۔ اپنی قوم کو دعوت دنے پر صبر جمیل کیجئے اس میں کوئی تنگ دلی ہو نہ کوئی ملال بلکہ اللہ تعالیٰ کے حمک پر قائم رہیے اس کے بندوں کو اس کی توحید کی دعوت دیجئے آپ ان میں عدم اطاعت اور عدم رغبت کا جو مشاہدہ کرتے ہیں یہ چیز آپ انہیں دعوت دینے سے روک نہ دے کیونکہ اس پر صبر کرنے میں خیر کثیر پنہاں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 5–6

5 صبر جمیل ‘ حکم ارشاد اور اس کے مقصود مراد ؟ سو اس سے مراد فرمائی گئی ہے اور یہ حکم ارشاد آپ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعی کیلئے ہے ‘ کہ راہ حق میں اس کی بڑی عظمت و اہمیت ہے ‘ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پس آپ صبر جمیل ہی سے کام لیں۔ جس میں نہ کوئی جزع و فرح ہو ‘ نہ شکوہ و شکایت اور نہ اعراض و کبیدہ خاطری وغیرہ ‘ سو عذاب کیلئے جلدی مچانے ولاوں کے جواب میں آپ کسی طرح کی بےصبری کا مظاہرہ نہ کریں ‘ بلکہ ان کے استہزاء پر خوبی اور وقار کے ساتھ صبر سے کام لیں ‘ خوبی اور خوبصورتی سے مراد یہ ہے کہ ان کے اس رویئے سے نہ تو دل شکستہ اور مایوس ہوں ‘ اور نہ ان کے جواب میں کوئی عاجلانہ قدم اٹھائیں ‘ اور نہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–21

صبر کی تلقین، قیامت کی سختی اور سزائیں تشریح : حدیث پاک میں ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے یہ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری بعثت کے بعد قیامت اب اتنی نزدیک ہے جتنی میری یہ دو انگلیاں ایک دوسری کے نزدیک ہیں ( قیامت نزدیک آپہنچی ہے) ۔ (بخاری ) قیامت کے ممکنہ حالات اور زمین کی ہر طرح سے تباہی کے واقعات اور اسباب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ انسانوں کے لئے تو قیامت اس وقت ہی آجاتی ہے جب وہ مرتے ہیں۔ میدان حشر میں اس قدر دہشت اور افراتفری پھیلی ہوئی ہوگی کہ کوئی کسی کو پہنچانے گا بھی نہیں بلکہ ہر ایک کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔ اور بےبسی کا یہ عالم ہوگا کہ گناہوں کے بدلے جو سزاء ملے گی اس کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–34

سورة المعارج۔ آیات 1 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 5–10

ف 4 یعنی ہر شخص کو اس کے عزیز دوست دکھلائے جائیں گے لیکن ایسا نفسا نفسی کا عالم ہوگا کہ وہ انہیں دیکھے اور پہچانے گا مگر ان کی ہرگز فکر نہ کرے گا جیسا کہ دوسری آیات میں ہے۔ (دیکھیے 127) اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اس سے سوال نہیں کرے گا کہ اس کے گناہوں کا کچھ بوجھ اٹھا لے کیونکہ اس سے وہ مایوس ہوگا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(70:5) فاصبر صبرا جمیلا :سببیہ ہے اصبر فعل امر واحد مذکر حاضر صبر (باب نصر) مصدر سے تو صبر کر۔ صبرا مفعول مطلق موصوف۔ جملیا صفت۔ جمیل بروزن فعیل جمال سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ خوب۔ خوب تر ۔ مطلب یہ ہے کہ اگرچہ سوال کرنے والے نے استہزار پوچھا تھا ورنہ قیامت کے روز جزاو سزا پر تو اس کا اعتقاد نہیں تھا۔ لیکن جواب میں بتادیا گیا کہ عذاب فی الواقع آنے والا ہے کافروں پر اور اس کے آنے کو کوئی روک نہیں سکے گا اس لئے اے رسول کریم ﷺ آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں بلکہ ان کی کرتوتوں پر صبر کیجئے یہ سب اپنے کیفر کردار کو ضرور پہنچیں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–18

لغات القرآن۔ سال۔ سوال کیا۔ مانگا۔ ذی المعارج۔ زینوں والا۔ خمیسین الف۔ پچاس ہزار۔ المھل۔ دھنکی ہوئی روئی۔ فصیلۃ ۔ کنبہ۔ خاندان۔ توی۔ وہ رہتا ہے۔ لظی۔ بھڑکتی آگے۔ نزاعۃ۔ کھینچنے والی۔ الشوی۔ کھال اور اس کا ٹکڑا۔ اوعی۔ سنبھال کر رکھتا ہے۔ تشریح : کفار مکہ اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی مانگنے کے بجائے اس کے عذاب اور قیامت آنے کی جلدی کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اس عذاب اور قیامت کا سوال کریں یا نہ کریں وہ تو بہرحال اپنے وقت پر واقع ہو کر رہے گے اور جب قیامت کے دن کفار ومشرکین پر عذاب آئے گا تو وہ اس قدر بھیانک اور سخت عذاب ہوگا جس کو ساری دنیا مل کر بھی نہ ٹال سکے گی کیونکہ یہ عذاب اس اللہ کی طرف…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–7

روح کابیان۔ (ف 1) ان آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں اس کے دومعنی ہیں۔ ایک تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا نام روح قرآن شریف میں آیا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہیں کہ نیک لوگ جب مرتے ہیں تو ان کی روح کو فرشتے اللہ کے روبرولے جاتے ہیں ، پچاس ہزار برس کا ذکر جو آن آیتوں میں ہے کہ اس کے بعد دو معنی ہیں۔ ایک تو یہ کہ قیامت کے دن کی درازی پچاس ہزار برس کی ہوگی ، دوسرے معنی یہ ہیں کہ ساتویں زمین سے عرش معلی تک پچاس ہزار برس کا راستہ انسان کے چلنے کا ہے جس کو اللہ کے فرشتے روز کے رز طے کرتے ہیں حاصل مطلب ان دونوں معنی کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں ہزاروں برس کا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–11

ف 1: آج یہ لوگ اس واقعہ کا مضحکہ اڑاتے ہیں ۔ مگر اس وقت یہ چاہیں گے کہ فدیہ میں اپنے بیٹوں کو دے دیں ۔ اور بچ جائیں ۔ اپنی بیوی اور بھائی کو قربان کردیں ۔ اور نجات حاصل کرلیں ۔ اپنے کنبے کو اور ساری دنیا کودے دیں ۔ اور کسی طرح عذاب الٰہی سے چھوٹ جائیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) پس آپ صبر کیجئے بھلی طرح کا صبر کرنا۔ یعنی آپ صبر جمیل کیجئے ، صبر جمیل ایسے صبر کو کہتے ہیں جس میں مخلوق سے شکوہ نہ کیا جائے ، ہم سورة یوسف میں عرض کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرنا م صبر جمیل کے منافی نہیں ہے۔ جیسا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا انما اشکوابثی وحزنی الی اللہ۔ یا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دریا کے پھٹنے سے قبل جو دعا فرمائی اس میں یہ الفاظ اللھم لک الحمد الیک المش کے وبک المسغاث وانت المستعان ولا حول ولا قوۃ الا باللہ مروی ہیں، بہرحال ان کافروں پر عذاب کا وقوع ضروری ہے اس لئے آپ صبرجمیل سے کام لیجئے اور گھبرائیے نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–10

ف 4۔ یعنی ان کے کفر و خلاف سے ایسے تنگ نہ ہوجائے کہ شکایت زبان پر آجاوے، بلکہ یہ سمجھ کر عمل کیجئے کہ ان کو سزا ہونے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بس آپ صبر کریں اور وہ بھی صبر جمیل (کی ہدایت دی جاتی ہے) 5 ؎ صبر کیا ہے ؟ اس کی پوری وضاحت ہم پیچھے غزوۃ الوثقی ، جلد پنجم میں سورة طہ کی آیت 130 کی تفسیر میں کرچکے ہیں اس لئے وضاحت وہیں سے دیکھ لیں۔ اس جگہ بھی آپ ﷺ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ کی مخالفت میں مخالفین و معاندین جو کچھ کر رہے ہیں وہ ہماری نظر میں ہے اور ہم اس سے قطعاً غافل نہیں ہیں۔ آپ ﷺ دل تنگ نہ ہوں بلکہ پوری دل لگی اور دلجمعی سے اپنا کام کرتے چلے جائیں اور ان لوگوں کی ہرزہ سرائی کی بالکل پرواہ نہ کریں اور ملول و رنجیدہ خاطر بھی نہ ہوں ، صبر سے کام لیں۔ محاورہ ہے کہ ” سہج پکے سو میٹھا “ اور فرمایا کہ صبر کرو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

تَعْرُ‌جُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّ‌وحُ (to whom ascend the angels and the Spirit ...70:4). In other words, the angels and Jibra'il (علیہ السلام) ascend these levels which are one on top of the other. Although the word 'angels' include 'Jibra'il (علیہ السلام) ، his name is singled out specifically on account of his special honour. فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُ‌هُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ( in a day the length of which is fifty thousand years…70:4).This statement, grammatically, is connected to an understood verb, which is yaqa'u [ will occur ]. The sense is that the inevitable punishment mentioned…

Read the full tafseer →