Explained with ayahs 1–7
بعذاب میں جو " ب " ہے وہ بتارہی ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ ۭ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ 47) 22۔ الحج :47) یعنی یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا، نسائی میں حضرت ابن عباس سے وارد ہے کہ کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے، یعنی آخرت میں ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ…
Read the full tafseer →سورة الْمَعَارِج 3
روح سے مراد جبریل ؑ ہیں اور ملائکہ سے الگ ان کا ذکر ان کی عظمت پر دلالت کرتا ہے۔ سورة شعراء میں فرمایا گیا ہے کہ نزل بہ الروح الامین علی قلبک (اس قرآن کو روح امین لے کر تمہارے دل پر نازل ہوئے ہیں)۔ اور سورة بقرہ میں ارشاد ہوا ہے قل من کان عدوا لجبریل فانہ نزلہ علی قلبک (کہو کہ جو شخص جبریل کا اس لیے دشمن ہو کہ اس نے یہ قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا ہے۔۔۔) ان دونوں آیتوں کو ملا کر پڑھنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ روح سے مراد جبریل ہی ہیں۔
سورة الْمَعَارِج 4
یہ سارا مضمون متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین نہیں کیے جاسکتے۔ ہم نہ فرشتوں کی حقیقت جانتے ہیں، نہ ان کے چڑھنے کی کیفیت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(آیت) تَعْرُجُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ یعنی یہ درجات جو تہہ بر تہہ اوپر نیچے ہیں ان درجات کے اندر چڑھتے ہیں فرشتے اور روح الامین یعنی جبرئیل امین۔ جبرئیل ؑ بھی اگرچہ فرشتوں کے زمرہ میں شامل ہیں لیکن ان کے خصوصی اعزاز کے لئے ان کا الگ نام ذکر فرمایا گیا ہے۔
فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَـنَةٍ یہ جملہ ایک فعل محذوف سے متعلق ہے یعنی یقع مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب جس کا اوپر ذکر آیا ہے کہ کافروں پر ضرور واقع ہو کر رہے گا۔ اس کا وقوع اس روز ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی۔ حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق سوال کیا جس کی مقدا…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے ’ذِی الْمَعَارِجِ‘ ہونے کا مفہوم: یہ اللہ تعالیٰ کے ’ذِی الْمَعَارِجِ‘ ہونے کی وضاحت ہے کہ اس کی بارگاہ بلند تک پہنچنے کے لیے فرشتوں اور جبریلؑ کو بھی پچاس ہزار سال کے برابر کا دن لگتا ہے۔ ’معارج‘ کے معنی زینوں اور سیڑھیوں کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ وراء الوراء اور وراء الوراء ہے۔ اس تک رسائی کے لیے دوسروں کا تو کیا ذکر ملائکہ اور جبریلؑ تک کا یہ حال ہے کہ اس راہ کے مراحل طے کرنے کے لیے انھیں پچاس ہزار سال کے برابر کا دن لگتا ہے۔
یہ باتیں متشابہات کی نوعیت کی ہیں۔ ان کی اصل حقیقت کا ادراک ہمارے لیے ناممکن ہے۔ مقصود ان سے صرف یہ تصور دینا ہے کہ خدا کے معاملات کو اپنے اوپر قیاس نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4۔ 1 روح سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں، ان کی عظمت شان کے پیش نظر ان کا الگ خصوصی ذکر کیا گیا ہے ورنہ فرشتوں میں وہ بھی شامل ہیں۔ یا روح سے مراد انسانی روحیں ہیں جو مرنے کے بعد آسمان پر لے جاتی ہیں جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔ اس یوم کی تعریف میں بہت اختلاف ہے جیسا کہ الم سجدہ کے آغاز میں ہم بیان کر آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
3: اس دن سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک قیامت کا دن ہے جو کافروں کو حساب و کتاب کی سختی کی وجہ سے پچاس ہزار سال کا محسوس ہوگا، ان حضرات کا کہنا ہے کہ اسی دن کو سورة تنزیل السجدہ : 5 میں ایک ہزار سال کے برابر قرار دیا گیا ہے، وہ اس لیے کہ حساب و کتاب کی سختی کی نوعیت کے لحاظ سے کسی کو وہ ایک ہزار سال کا معلوم ہوگا، اور جس کسی کو اور زیادہ سختی اٹھانی ہوگی، اسے پچاس ہزار سال کا معلوم ہوگا۔ لیکن اس آیت کی ایک دوسری تفسیر یہ ہے کہ کفار کے سامنے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے کفر کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا یا آخرت میں عذاب آئے گا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ اتنے دن گذر…
Read the full tafseer →تعرج الملئکة ........................ قریبا (7) (08 : 4 تا 7) ” اور روح اس کے حضور ﷺ چڑھ کر جاتے ہیں۔ ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ پس اے نبی صبر کرو ، شائستہ صبر۔ یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں “۔ راجح بات یہ ہے کہ جس دن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، وہ قیامت کا دن ہے کیونکہ سیاق کلام میں یہ معنی متعین نہیں ہیں۔ اس دن ملائکہ اور روح اللہ کی طرف چڑھتے ہیں اور روح سے مراد راجح روایت کے مطابق حضرت جبرئیل ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقامات پر ان کو اسی نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ ملائکہ کے بعد خصوصاً ان کے ذکر سے معلوم ہوتا ہے کہ اہم مرتبہ ہے اور اس دن کے حوالے سے یہ ذکر…
Read the full tafseer →5 یعنی فرشتے اور لوگوں کی روحیں پیشی کے لیے حاضر ہوں گی۔
6 پچاس ہزار برس کا دن قیامت کا ہے۔ یعنی پہلی مرتبہ صور پھونکنے کے وقت سے لے کر بہشتیوں کے بہشت میں، اور دوزخیوں کے دوزخ میں قرار پکڑنے تک پچاس ہزار برس کی مدت ہوگی اور کل فرشتے اور تمام قسم کی مخلوقات کی روحیں اس تدبیر میں بطور خدمت گار کے شریک ہونگی۔ پھر اس بڑے کام کے سرانجام کی مدت گزرنے پر ان کو عروج ہوگا۔ (تنبیہ) حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا " خدا کی قسم ایماندار آدمی کو وہ (اتنا لمبا) دن ایسا چھوٹا معلوم ہوگا جتنی دیر میں ایک نماز فرض ادا کرلیتا ہے۔ "
Read the full tafseer →آیت 4{ تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَـیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ۔ } ”چڑھتے ہیں فرشتے اور روح اس کی جانب ایک دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے۔“
یہ آیت ہمارے لیے آیات متشابہات میں سے ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہ اللہ تعالیٰ کے ”ذِی الْمَعَارِجِ“ ہونے کی وضاحت ہے کہ اس کی بارگاہِ بلند تک پہنچنے کے لیے فرشتوں اور جبریل علیہ السلام کو بھی پچاس ہزار سال کی مسافت کے برابر فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ پچاس ہزار برس کے دن سے یہاں قیامت کا دن مراد ہے جو کفار کے لیے تو بہت طویل اور سخت ہوگا ‘ البتہ اہل ایمان کو وہ دن ایسے محسوس ہوگا جیسے…
Read the full tafseer →3 لفظ یوم کی مختلف مدتیں :۔ یوم یعنی دن۔ یعنی غروب آفتاب سے لے کر اگلے دن کے غروب آفتاب تک کا وقت۔ لیل اور نہار کے وقت کا مجموعہ یا 24 گھنٹے کی مدت۔ اور یوم کی یہ مدت ہم اہل زمین کے لئے ہے۔ چاند پر یہ یوم ہمارے حساب سے تقریباً ایک ماہ کا ہے۔ عطارد (Mercury) پر یہ دن ہمارے 88 دنوں کے برابر ہے۔ قطب شمالی اور جنوبی پر تقریباً ایک سال کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دنوں میں پیدا کیا تو یہاں دن سے مراد مدت کا ایک طویل دور ہے جو ہمارے حساب سے لاکھوں سال کا بھی ہوسکتا ہے۔ قرآن میں ایک مقام پر یوم کی مقدار ایک ہزار سال بتائی گئی ہے۔ (22: 47) اس مقام پر مجرم قوموں پر دنیا میں عذاب آنے کا ذکر…
Read the full tafseer →3۔ (اس دنیا کی مقدار مدت کے حساب سے) اتنی طویل مدت (جیسا کہ سیاق اشارہ کررہا ہے) کافروں ہی کو معلوم ہوگی، اور ان کے حق میں یہ امتداد، اشتداد ہی کی طرح خود ایک عذاب الیم ہوگا۔ رہے اہل ایمان، جن کی شان میں بار بار (آیت) ” لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔ اور ” لا یحزنھم الفزع الاکبر “۔ اور ” ھم من فزع یومئذ امنون “۔ وغیرہ کی بشارتیں قرآن مجید میں آچکی ہیں۔ حسب تصریح احادیث یوم حشر ان کے لئے بالکل ہلکا پھلکا ہوگا۔ (آیت) ” تعرج المآئکۃ والروح “۔ یہ فرشتے اور ارواح انہیں آسمانی زینوں سے چڑھتے اترتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” الروح “۔ روح بطور اسم جنس کے آیا ہے۔ اور مراد اہل ایمان کی روحیں ہیں۔ الیہ مراد عالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–18
فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ یہ جملہ فعل محذوف سے متعلق ہے ای یقع فی یوم کان مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب جس کا ذکر اوپر آیا ہے کافروں پر ضرور واقع ہو کر رہے گا، اس کا وقوع اس روز ہوگا کہ جس کی مدت پچاس ہزار سال ہوگی حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق سوال کیا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی کہ یہ دن کتنا دراز ہوگا ؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ یہ دن مومن پر ایک فرض نماز ادا کرنے کے وقت سے بھی کم ہوگا، یہ بطور تمثیل کے مومنین پر اس وقت کے ہلکا ہونے کا بیان ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ قیامت کا…
Read the full tafseer →تعرج الملائکۃ والروح . یہ المعارج کی صفت ہے اور رابطہ محذوف ہے۔ اصل کلام تھا ترج فیھا الملائکہ
والروح الیہ۔ روح سے مراد جبرئیل ہیں ‘ مرتبہ کی بزرگی یا تمام ملائکہ سے زیادہ عظمت جسمانی رکھنے کی وجہ سے ملائکہ سے الگ الروح کو ذکر کیا۔
میں کہتا ہوں یہ بھی احتمال ہے کہ الروح سے مراد روح انسانی ہو جس کا تعلق عالم امر سے ہے۔ اس وقت عروج روح کے یہ معنی ہوں گے کہ دوری اور غفلت کی پستی سے نکل کر قرب و حضور کے مراتب کی طرف انبیاء اور اولیاء کی روحیں چڑھتی ہیں۔
الیہ . اللہ کی طرف یا اللہ کے عرش کی طرف۔
فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ . اس کا تعلق فصل محذوف سے ہے جس پر لفظ واقع دلالت کر
رہا ہے۔ یعنی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(3۔ 4) اور وہ عذاب کافروں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگا کہ آسمانوں کا پیدا کرنے والا ہے جس سے فرشتے اور جبریل امین اللہ تعالیٰ کی طرف جاتے ہیں ایسے دن میں کہ جس میں فرشتوں کے علاوہ اوروں کے چڑھنے کے لیے اس کی مقدار دنیا کے پچاس ہزار سال کے برابر ہے یا یہ کہ کافروں پر عذاب ایسے دن میں واقع ہوگا جس کی تعداد پچاس ہزار سال کے برابر ہے یا یہ مطلب ہے کہ اگر اللہ کے علاوہ مخلوق کا اور کوئی حساب لینے لگے تو وہ پچاس ہزار سال میں بھی فارغ نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →(1) تعرج الملٓئکۃ والروح الیہ : فرشتے اور روح اس کی طرف چڑھتے ہیں۔ یہاں ”الروح“ سے مراد یا تو جبریل ؑ ہیں، کیون کہ قرآن میں ان کا نام ”الروح“ ہے، جیسا کہ فرمایا :(نزل بہ الروح الامین، علی قلبک) (الشعراء : 193، 193)”اس قرآن کو روح الامین نے تمہارے دل پر نازل کیا ہے۔“ اور دوسری جگہ فرمایا :(قل من کان عدوالجبریل فانہ نزلہ علی قلبک باذن اللہ) (البقرۃ : 98)”کہہ دو جو جبریل کا دشمن ہے (وہ اس کا کیا بگاڑ سکتا ہے ؟) کیونکہ بلاشبہ اس نے تو اس تمہارے دل پر اللہ کے حکم سے نازل کیا ہے۔“ دونوں آیتیں ملانے سے ثابت ہوتا ہے کہ ”الروح“ سے مراد جبریل ؑ ہیں۔ فرشتوں سے ان کا الگ ذکر ان کی عظمت شان کی وجہ سے ہے۔…
Read the full tafseer →فی یوم کان مقتدارہ خمسین الف سنۃ۔ وہب، کلبی اور محمد بن اسحاق نے کہا، ملائکہ کا عروج اس مکان کی طرف ہوگا جو ان کا محل ہے۔ اتنے وقت میں ہوگا کہ اگر کوئی اور اوپر چڑھے تو اس کو ایک ہزار سال کا عرصہ لگتا۔ وہب نے یہ بھی کہا، زمین کے پست ترین حصہ سے عرش تک پہچ اس ہزار سال کی مسافت ہے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ اس آیت اور سورة سجدہ کی آیت فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ (السجدہ : 5) میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ اس آیت میں زمین کی پست ترین جگہ سے اس کے امر کی انتہا اور آسمانوں سے اوپر اس کے امر کی انتہا میں پچاس ہزار سال کا عرصہ حائل ہے اور الم۔ تنزیل میں فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ میں مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →13۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اس طرح پڑھا آیت یعرج الملئکۃ تاء کے ساتھ۔
14۔ عبد بن حمید نے ابو اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ آیت تعرج المئکۃ یاء کے ساتھ پڑھتے تھ۔
15۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہے سے مراد ہے کہ اس امر کی انتہا زمینوں کے نیچے سے لے کر ساتویں آسمانوں کے اوپر کی انتہا تک ہے۔ اور فرمایا آیت مقدارہ خمسین الف سنۃ اور اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے اور وہ دن جس کی مقدار ایک ہزار سال ہے یعنی آسمانوں سے زمین کی طرف نازل ہونے اور زمین سے آسمان کی طرف امر…
Read the full tafseer →[تَعْرُجُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ : چڑھیں گے فرشتے اور الرّوح (جبریل)][ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ : اس کی طرف ایک ایسے دن میں ][ كَان مِقْدَارُهٗ : ہے جس کے اندازے کا پیمانہ ][ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَـنَةٍ : پچاس ہزار سال ہے ]
نوٹ۔ 1: ایک دن کا ایک ہزار سال یا پچاس ہزار سال کے برابر ہونے کا کیا مفہوم ہے، اس کی ایک وضاحت آیت نمبر۔ 22:47، نوٹ۔ 2 : میں کی جا چکی ہے جبکہ ہمارے طلباء کے علم میں یہ بات بھی ہونی چاہیے کہ ہمارے مفسرین نے ان آیات کو کس طرح سمجھا ہے اور ان کی کیا وضاحت کی ہے۔ چناچہ اس موقع پر ہم مفسرین کے رائے نقل کر رہے ہیں۔
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ عذاب جس کا اوپر ذکر آیا ہے، اس کا…
Read the full tafseer →﴿تَعْرُجُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَيْهِ ﴾ (فرشتے اور روحیں اس کے پاس چڑھ کر جاتی ہیں) یعنی عالم بالا میں جو مواقع ان کے عروج کے مقرر فرما دیئے ہیں وہاں پہنچتی ہیں۔ قال صاحب الجلالین الی مھبط امرہ من السماء۔
﴿فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ004 ﴾ (ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی)
صاحب بیان القرآن کا انداز بیان یہ ہے کہ ذی المعارج کے بعد ﴿ تَعْرُجُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ ﴾ میں بھی اللہ تعالیٰ کی ایک صفت بیان فرمائی ہے اور فِيْ يَوْمٍ متعلق ہے محذوف سے اور مطلب یہ ہے کہ سائل نے جس عذاب کا سوال کیا ہے وہ عذاب ایسے دن میں واقع ہوگا جس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–35
مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔
مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
2:۔ ” سال سائل “ للکفرین، واقع سے متعلق ہے۔ ” من اللہ “ دافع سے متعلق ہے یعنی اس عذاب کے اللہ کی طرف سے وقوع کو کوئی روکنے والا نہیں یا واقع سے متعلق ہے۔ ” ذی المعارج “ سیڑھیوں والا مراد آسمان ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کی طرف اشارہ ہے۔ فی یوم، تعرف سے متعلق ہے۔ فرشتے جب اپنے اپنے مخصوص مقامات میں واپس جاتے ہیں، تو ان کو اتنا فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے جسے طے کرنے کے لیے انسانوں کو پچاس ہزار سال کا عرصہ درکار ہو، لیکن فرشتے اس فاصلے کو چند لمحوں میں طے کرلیتے ہیں۔ ای عروج الملائکۃ الی المکان الذی ھو محلہم فی وقت کان مقدارہ علی غیرہم لو صعد خمسین الف سنۃ (قرطبی ج 18 ص 281) ۔ الروح سے جبریل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
کوائف اور مضامین :
اس سورة کا نام المعارج ہے۔ اس کی تیسری آیت میں معارج کا لفظ ہے جس سے اس سورة کا نام لیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کے دو رکوع چوالیس آیتیں ، دو سو سولہ کلمات اور آٹھ سو اکسٹھ حروف ہیں۔ اس کے مضامین گزشتہ سورة الحاقہ سے ملتے ہیں۔ اس سورة کے ابتدا میں قیامت کا ذکر ہے ۔ آخر رکوع میں نبوت اور رسالت کا انکار کرنے والوں کا رد ہے۔ اس سورة میں بھی زیادہ تر قیامت کے بارے میں ارشادات ہیں۔
سابقہ سورة سے ربط :
اس سے پہلی سورة میں بیان ہوا کہ مشرکین جن کو قیامت کے روز بائیں ہاتھ میں اعمالنامہ ملے گا۔ وہ بڑا افسوس کریں گے۔ اور جہنم میں داخل ہونے کی وجہ یہ بیان کریں گے کہ…
Read the full tafseer →تَعْرُجُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَيْہِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَـنَۃٍ 4 ۚ
فرشته
الملائكة، ومَلَك أصله : مألك، وقیل : هو مقلوب عن ملأك، والمَأْلَك والمَأْلَكَة والأَلُوك : الرسالة، ومنه : أَلَكَنِي إليه، أي : أبلغه رسالتي، والملائكة تقع علی الواحد والجمع . قال تعالی: اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلائِكَةِ رُسُلًا [ الحج/ 75] . قال الخلیل : المَأْلُكة : الرسالة، لأنها تؤلک في الفم، من قولهم : فرس يَأْلُكُ اللّجام أي : يعلك .
( ا ل ک ) الملئکۃ ( فرشتے ) اور ملک اصل میں مالک ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ ملاک سے معلوب ہے اور مالک وما لکۃ والوک کے معنی رسالت یعنی پیغام کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب : سأل قرء الجمہور بالھمزۃ من السوال وھو متضمن بمعنی الدعاء ولذا عدی بالباء وقریٔ بغیر ھمزۃ وھوا مامن باب التخفیف والمعنی واحد اومن السیلان والمعنی سال واوفی جہنم یقال لہ سائل کماقال زید بن ثابت ویؤیدہ قرأۃ ابن عباس سال سیل ای اندفع وا وب عذاب واقع بعذاب والباء بمعنی عن کقولہ فاسئل بہ خبیرا وھومفعول ثان لسال والمفعول الاول محذوف ای اللہ اوالنبی سال یتعدی الی مفعولین ویجوزالاقتصاء علی احدھما قالہ ابوعلی الفارسی للکافرین الجاء متعلق بواقع ویمکن ان یتعلق بثالت ویکون صفۃ افریٰ بعذاب والاولیٰ واقع لیس لہ الخ صفۃ اخریٰ لعذاب اوحال منہ او مستانفۃ من اللہ متعلق بواقع ای بواقع ویمکن ان یتعلق…
Read the full tafseer →تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ ۔ (المعارج : 4)
(ملائکہ اور روح اس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ )
عذاب میں تاخیر کے باب میں کوتاہی فکر کی اصلاح
اللہ تعالیٰ کی ذات والا صفات نہایت مراتب و مدارج کی مالک اور انسان کے تصور و خیال سے بھی بالا بلند ہے۔ اس کی طرف سے آنے والا عذاب یقینا ایسا ہوگا جس کے ٹل جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ باقی رہتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کئی سالوں سے اپنی قوم کو تکذیبِ رسول کے نتیجے میں آنے والے عذاب یا جزاء و سزا کے دن یعنی قیامت سے انذار فرما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کو جس عذاب یا قیامت کے بارے میں انتباہ کیا جاتا ہے وہ ” اللہ “ کی طرف سے آئے گی جو ” اللہ “ بڑا ہی بلندو بالا ہے۔
مَعَارِ جْ ” مَعْرِجٌ“ کی جمع ہے جس کا معنٰی سیڑھی یا بلندی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور مقام و مرتبہ کے لحاظ سے سب سے بلند وبالا ہے۔ اس لیے اس نے اپنی ذات کے بارے میں المعارج کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ کچھ مفسرین نے المعارج سے مراد وہ بلندیاں لی ہیں جس کو طے کرتے ہوئے ملائکہ اپنے رب کے حضور پیش ہوتے ہیں بظاہر یہ مفہوم لینے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ تاہم اس سے پہلی مراد رب کبریاء کی ذات ہے۔ اسی کے حضور ملائکہ اور جبریل امین پیش ہوتے ہیں۔ جبریل…
Read the full tafseer →4 : پھر ان مصاعد کی تعریف فرمائی اور ان کی دوری اور بلندی کو ذکر کیا فرمایا۔ تَعْرُجُ الْمَلٰٓپکَۃُ وَالرُّوْ حُ ( فرشتے اور روحیں اس کے پاس چڑھ کر جاتی ہیں)
قراءت : تَعرجؔ کا معنی چڑھنا یہ یاء کے ساتھ علی نے پڑھا ہے۔ الروحؔ نمبر 1۔ سے جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں۔ ملائکہ کا عمومی ذکر کر کے ان کو فضل و عظمت کی وجہ سے خاص طور پر ذکر کردیا۔ نمبر 2۔ یہ الروح ایک ایسی مخلوق ہے جو ملائکہ پر نگران ہے جیسا فرشتے ہم پر نگران ہیں۔ نمبر 3۔ موت کے وقت ایمان والوں کی ارواح کو عروج حاصل ہوتا ہے۔ اِلَیْہِ (اس کے عرش کی طرف) اور اس کا حکم اترنے کی جگہ فِیْ یَوْمٍ (ایسے دن میں)
نحو : مِنؔ یہ تعرج کا صلہ…
Read the full tafseer →3 ۔” من اللہ “ یعنی اللہ کی طرف سے عذاب کے ساتھ۔ ” ذی المعارج “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یعنی آسمانوں والے نے اس کا نام معارج رکھا ہے اس لئے کہ فرشتے اس پر چڑھتے ہیں اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں درجات والا۔ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں فضیلتوں اور نعمتوں والا اور فرشتوں کے معارج والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ نسائی 1 ؎ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نضر بن حارث اور قریش میں کے سرکش لوگوں نے جب اللہ تعالیٰ سے عذاب کی خواہش کی اور یہ کہا کہ جو کچھ محمد کہتے ہیں اگر وہ حق بات ہے اور ہم لوگ اس کو نہیں مانتے ہیں تو خدا کرے کہ ہم لوگوں پر آسمان سے پتھروں کا مینہ برسے یا اور کوئی سخت عذاب ہم لوگوں پر نازل ہوجائے اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ہیں اور فرمایا کہ یہ قریش میں کے سرکش لوگ عذاب الٰہی کو دور گن کر اس طرح کی سرکشی کی باتیں کرتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک پچھلی قوموں کی طرح نہ ان مشرکوں پر دنیا میں کوئی عذاب نازل کردینا کچھ دور ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
چناچہ فرمایا (ذی المعارج۔ تعرج الملائکۃ والروح الیہ) ۔ یعنی وہ بلندی، جلال اور عظمت کا مالک ہے، تمام مخلوقات کی تدبیر اسی کے ہاتھ میں ہے جس کی طرف اس چیز کے ساتھ فرشتے عروج کرتے ہیں جس کی تدبیر پر انہیں مقرر کیا ہے اور اس کی طرف روح بلند ہوتی ہے۔
یہ اسم جنس ہے جو تمام ارواح کو شامل ہے، خواہ نیک ہوں یابد، اللہ تعالیٰ کی طرف ارواح کا بلند ہونا، وفات کے وقت ہے۔ نیک لوگوں کی ارواح اللہ کی طرف عروج کرتی ہیں، انہیں ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف بلند ہونے کی اجازت دے دی جاتی ہے یہاں تک کہ ارواح اس آسمان پر پہنچ جاتی ہیں جس میں اللہ تعالیٰ ان کا رب تشریف فرما ہے یہ ارواح اللہ کے حضور تحیہ وسلام پیش…
Read the full tafseer →4 اللہ تعالیٰ کے حساب کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو ارشدا فرمایا گیا کہ یہ سب کچھ ایک ایسے دن میں ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہوگی۔ یہ مطلب اس وقت ہوگا جب کہ فی یوم کو واقع یا اس کے ہم معنی فعل مقدر یقع سے متعلق مانا جائے یعنی وہ دن اتنا طویل اور اس قدر ہولناک ہوگا ‘ مگر مسند احمد اور بیہقی وغیرہ میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ مومن کو یہ اتنا طویل زمانہ ایسا محسوس ہوگا جیسے کہ ایک فرض نماز کی ادائیگی کا وقت (مظہری ‘ ابن کثیر ‘ قرطبی اور جامع البیان وغیرہ) سبحان اللہ کیسی عظیم دولت ہے یہ ایمان کی دولت کہ اس کی برکت سے یہ اس قدر طویل اور اتنا ہولناک دن اہل ایمان کو اس قدر معمولی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
منکرین کے لئے قیامت کی وضاحت
تشریح : اہل مکہ منکرین قیامت ہنسی مذاق میں عذاب مانگتے ہیں کیونکہ ان کے خیال کے مطابق یہ بات بس یونہی کہہ دی گئی ہے جب کہ اس کی تصدیق پکی طرح ہوچکی ہے کہ یہ اللہ رب العزت کی طرف سے نازل کیا جائے گا جس کی طرف روح الامین اور فرشتے چڑھتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کا اندازہ یہ ہے کہ وہ ہمارے پچاس ہزار سالوں کے برابر ہے۔ کافر ایسا عذاب مانگ رہے تھے یعنی اپنے لیے عذاب کی بد دعا کرتے تھے۔
اس سے مراد ابو جہل بن ہشام اور دوسرا نضر بن حارث ہے اس بد دعا سے معلوم ہوا کہ وہ قرآن کریم کو اللہ کی طرف سے نازل تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے اور نہ ہی انہیں قرآن کی وعید کا کچھ اعتبار تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–34
سورة المعارج۔
آیات 1 تا 35۔
اسرار ومعارف۔
مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔
مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔
جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 3 یعنی وہ پچسا ہزار سال میں اس مقام تک پہنچے گا جہاں یہ فرشتے ایک دن میں چڑھ جاتے ہیں۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے جب دن کا تعلق فرشتوں کے چڑھنے سے ہو۔ اگر اس کا تعلق عذاب سے ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ عذاب اس دن ہوگا جس کی مدت پچاس ہزار سال ہے یعنی قیامت کا دن۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(70:4) تعرج : مضارع واحد مؤنث غائب عروج (باب نصر) مصدر۔ وہ چڑھتی ہے وہ چڑھے گی۔ الروح : سے مراد کون ہے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ اکثریت کے نزدیک اس سے مراد حضرت جبریل (علیہ السلام) ہیں جیسا کہ آیت ہذا میں ہے اور کئی جگہوں پر بھی اسی معنی میں قرآن مجید میں آیا ہے مثلاً نزل بہ الروح الامین (26:193) اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔
شیخ جلال الدین سیوطی (رح) تعالیٰ نے اس کے علاوہ آٹھ اور معانی ذکر کئے ہیں۔
(1) امر۔ وروح منہ (5:171) اور اس کا امر ہے۔
(2) وحی۔ ینزل المئکۃ بالروح (16:2) اتارتا ہے فرشتے وحی لے کر۔
(3) قرآن۔ اوحینا الیک روحا من امرنا (42:52) ہم نے وحی کی تیری طرف قرآن کی اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن۔
سال۔ سوال کیا۔ مانگا۔ ذی المعارج۔ زینوں والا۔ خمیسین الف۔ پچاس ہزار۔ المھل۔ دھنکی ہوئی روئی۔ فصیلۃ ۔ کنبہ۔ خاندان۔ توی۔ وہ رہتا ہے۔ لظی۔ بھڑکتی آگے۔ نزاعۃ۔ کھینچنے والی۔ الشوی۔ کھال اور اس کا ٹکڑا۔ اوعی۔ سنبھال کر رکھتا ہے۔
تشریح : کفار مکہ اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی مانگنے کے بجائے اس کے عذاب اور قیامت آنے کی جلدی کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اس عذاب اور قیامت کا سوال کریں یا نہ کریں وہ تو بہرحال اپنے وقت پر واقع ہو کر رہے گے اور جب قیامت کے دن کفار ومشرکین پر عذاب آئے گا تو وہ اس قدر بھیانک اور سخت عذاب ہوگا جس کو ساری دنیا مل کر بھی نہ ٹال سکے گی کیونکہ یہ عذاب اس اللہ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
روح کابیان۔
(ف 1) ان آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں اس کے دومعنی ہیں۔ ایک تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا نام روح قرآن شریف میں آیا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہیں کہ نیک لوگ جب مرتے ہیں تو ان کی روح کو فرشتے اللہ کے روبرولے جاتے ہیں ، پچاس ہزار برس کا ذکر جو آن آیتوں میں ہے کہ اس کے بعد دو معنی ہیں۔ ایک تو یہ کہ قیامت کے دن کی درازی پچاس ہزار برس کی ہوگی ، دوسرے معنی یہ ہیں کہ ساتویں زمین سے عرش معلی تک پچاس ہزار برس کا راستہ انسان کے چلنے کا ہے جس کو اللہ کے فرشتے روز کے رز طے کرتے ہیں حاصل مطلب ان دونوں معنی کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں ہزاروں برس کا…
Read the full tafseer →[2] یعنی جبرائیل علیہ السلام۔
[3] یہ باتیں متشابہات کی نوعیت کی ہیں۔ ان کا ادراک ہمارے لئے ناممکن ہے۔ ایسی باتوں میں صحابہ کرام ؓ کا مسلک یہ ہے کہ ان پر ایمان لایا جائے کہ ان سے جو کچھ اللہ تعالیٰ کی مراد ہے وہ حق ہے اور بس۔ مزید فکر کرنا گمراہی کو دعوت دینا ہے۔
[4] مراد ہے روز قیامت۔
Read the full tafseer →ف 2: ابو مسلم کے نزدیک اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ اس میں دنیا کی عمر کی طرف اشارہ ہے ۔ یعنی فرشتوں کے ابتدائی نزول سے لے کر آخری عروج وصعود تک کا عرصہ پچاس ہزار سال ہے ۔
3: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ لوگ اس عذاب کو بعید اور مستفید قرار دیتے ہیں ۔ مگر ہم یہ سمجھتے ہیں ۔ کہ یہ بالکل قریب ہے ۔ وہ دن آنے والا ہے جب یہ آسمان تیل کی تلچھٹ جیسا سرخ ہوجائے گا ۔ پہاڑ باوجود اپنی صلابت کے رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے ۔ اس وقت کوئی دوست کسی دوست کے کام نہیں آسکے گا ۔
Read the full tafseer →(4) اس کی طرف فرشتے اور روح اس دن چڑھتے ہوں گے جس دن کی مقدار دنیا کے پچاس ہزار برس کے برابر ہے۔ یعنی تمام فرشتے خواہ وہ مدبرات امور ہوں یاکاتب اعمال ہوں یا نبی آدمی کے محافظ ہوں یا اہل ایمان ارواح ہوں یا اور دیگر ارواح طیبہ ہوں جو خدمت عالم اور خدمت خلق پر مامور ہیں۔ یہ سب آسمانوں کو درجہ بدرجہ طے کرتے ہوئے اور وصول اور قرب کے روحانی مرتبوں کو طے کرتے ہوئے ہر ایک اپنے مقررہ مقام پر پہنچتا ہے اور عروج کرتا ہے اس طرح ہر قسم کے کلمات طیبات اور اعمال صالح کا رفع اور عروج ہے جو چیز بھی بلند ہوتی اور اوپر جاتی ہے وہ سب اسی صاحب معارج کی جانب منسوب ہوتی ہے خواہ وہ اپنے مقررہ مقام سے اوپر نہ جاسکتی…
Read the full tafseer →ف 2۔ اس کے پاس سے مراد یہ ہے کہ عالم بالا میں جو موقع ان کے عروج کا منتہا مقرر کیا گیا ہے اور چونکہ اس عروج کا رستہ آسمان ہیں اس لئے ان کو معارج فرمادیا۔
3۔ مراد قیامت کا دن ہے، کہ کچھ امتداد سے کچھ اشتداد سے کفار کو اس قدر طول محسوس ہوگا اور چونکہ حسب تفاوت مراتب کفر اشتداد میں تفاوت ہوگا، اس لئے ایک آیت میں کالف سنة آیا ہے، اور کافروں کی تخصیص اس لئے کی کہ حدیث میں آیا ہے کہ مومن کو وہ دن اس قدر ہلکا معلوم ہوگا جیسے فرض نماز پڑھ لیتا ہے۔
Read the full tafseer →فرشتے اور جبریل اس کی طرف عروج کریں گے اس کے دن کا اندازہ پچاس ہزار سال ہے
4 ؎ انسان کی زندگی میں غمی و خوشی کا آنا لازم و ملزوم ہے۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے کہ اگر غمی کا دن یا رات آجائے تو اس کی لمبائی کتنی بڑھ جاتی ہے اور خوشی کی گھڑیاں ہوں تو کس طرح آنکھ جھپکنے میں گزر جاتی ہیں۔ ایک ہی دن ہوتا ہے لیکن کسی کے لئے وہ ایک ساعت سے بھی ہلکا گزر جاتا ہے اور کسی کے لئے اتنا لمبا ہوتا ہے کہ وہ ختم ہونے ہی میں نہیں آتا۔ کیا دن فی الواقع لمبا اور چھوٹا ہوتا ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انسانی کیفیت جو اس پروارد ہوتی ہے اس کو لمبا یا چھوٹا کردیتی ہے لیکن اہل زبان اس کو اسی طرح بولتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ (to whom ascend the angels and the Spirit ...70:4). In other words, the angels and Jibra'il (علیہ السلام) ascend these levels which are one on top of the other. Although the word 'angels' include 'Jibra'il (علیہ السلام) ، his name is singled out specifically on account of his special honour.
فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ( in a day the length of which is fifty thousand years…70:4).This statement, grammatically, is connected to an understood verb, which is yaqa'u [ will occur ]. The sense is that the inevitable punishment mentioned…
Read the full tafseer →3 "The Spirit": the Angel Gabriel (peace be on him) , who has been mentioned separately from the angels in order to impress his unique glory and greatness. In Surah Ash-Shu'ara' it has been said: "The trustworthy Spirit has came down with this Qur'an upon your heart", (v. 193) , and in Surah AI-Baqarah "Say to them: whoever is an enemy to Gabriel, should understand that he has, by .Allah's command. revealed upon your heart this Qur'an." (v. 97) . These verses when read together show that Ar-Ruh (the Spirit) implies the Angel Gabriel.
4 This is an ambiguous theme the meaning of which cannot be…
Read the full tafseer →