Al-Ma'aarij 70:3

Al-Ma'aarij · from ayah 3

70:3

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِ ۟ؕمِّنَ اللّٰهِ ذِى الۡمَعَارِجِؕ

(اور وہ) خدائے صاحب درجات کی طرف سے (نازل ہوگا)

— Fateh Muhammad Jalandhari

[It is] from Allah, owner of the ways of ascent.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij

All translations of 70:3

اُس خدا کی طرف سے ہے جو عروج کے زینوں کا مالک ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور وہ) خدائے صاحب درجات کی طرف سے (نازل ہوگا)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس اللہ کی طرف سے جو سیڑھیوں واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ اللہ کی طرف سے آئے گا جو چڑھنے کے تمام راستوں کا مالک ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ ہوگا اللہ کی طرف سے جو بلندیوں کا مالک ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(وہ) اللہ کی جانب سے (واقع ہوگا) جو آسمانی زینوں (اور بلند مراتب درجات) کا مالک ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ کی طرف سے، جو سیڑھیوں والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(یہ عذاب) اللہ کی طرف سے (آئے گا) جو بلندیوں کا مالک ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ مدارج والے خداوند کی طرف سے ہوگا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(بےپایا عظمتوں والے) اس اللہ کی طرف سے جو مالک ہے عروج کے زینوں کا

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو) اللہ کی طرف سے ہوگا (جو) زینوں کا مالک (ہے)۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(وہ عذاب اپنے وقت پر آئے گا) اس اللہ کی طرف سے جو بہت بلند درجات والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اللہ صاحب درجات کی طرف سے (نازل ہوگا)۔

— محترمہ رفعت اعجاز

a chastisement from Allah, the Lord of the ascending steps,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(and it will come) from Allah, the Lord of the stairways,

— Muhammad Taqi Usmani

(and it will come) from Allah, the Lord of the stairways,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

From Allah, the Lord of the ways of ascent.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

From Allah, Lord of the Ascending Stairways

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[It is] from Allah, owner of the ways of ascent.

— Saheeh International

No one can defend him against God, the Lord of the exalted positions.

— Muhammad Sarwar

From Allah, the Lord of the ways of Ascent.

— Muhammad Habib Shakir

From Allah, Owner of the ascending steps.

— Abdul Majid Daryabadi

(A Penalty) from Allah, Lord of the Ways of Ascent.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 70:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–7

بعذاب میں جو " ب " ہے وہ بتارہی ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ ۭ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ 47؀) 22۔ الحج :47) یعنی یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا، نسائی میں حضرت ابن عباس سے وارد ہے کہ کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے، یعنی آخرت میں ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَعَارِج 2 اصل میں لفظ ذی المعارج استعمال ہوا ہے۔ معارج، معرج کی جمع ہے جس کے معنی زینے، یا سیڑھی، یا ایسی چیز کے ہیں جس کے ذریعے سے اوپر چڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ کو معارج والا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ذات بہت بالا و برتر ہے اور اس کے حضور باریاب ہونے کے لیے فرشتوں کو پے درپے بلندیوں سے گزرنا ہوتا ہے، جیسا کہ بعد والی آیت میں بیان فرمایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارج، معرج کی جمع ہے عروج سے مشتق ہے جس کے معنی اوپر چڑھنے کے ہیں اور معرج و معراج اس سیڑھی کو کہا جاتا ہے جس میں نیچے سے اوپر چڑھنے کے لئے بہت سے درات ہوتے ہویں۔ اللہ تعالیٰ کی صفت اس آیت میں ذی معارج اس معنی سے ہے کہ اللہ تعالیٰ درجات عالیہ والا ہے (کذا قال سعید بن جبیر) اور یہ درجات عالیہ اوپر نیچے سات آسمان ہیں۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا کہ ذی المعارج کے معنے ہیں۔ ذی السموات یعنی مالک سموات

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اللہ تعالیٰ کے دنوں کو اپنے دنوں پر قیاس نہ کرو: یعنی وہ عذاب آئے گا تو ضرور۔ جس خدا نے اس کی دھمکی دی ہے اس کا ہر وعدہ اور اس کی ہر وعید شدنی ہے لیکن اس کی بارگاہ بہت بلند ہے۔ وہ بڑی بلندیوں، بڑے مدارج اور زینوں والا ہے۔ اس کے دربار سے جو احکام نازل ہوتے ہیں وہ اس کے اپنے پروگرام کے مطابق ہوتے ہیں اور ان سالوں اور دنوں کے اعتبار سے بنتے ہیں جو اس کے ہاں معتبر ہیں۔ اس کے ہاں کا ایک دن انسانی تقویم کے حساب سے ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس کے دنوں اور سالوں کو لوگ اپنے محدود پیمانوں سے نہ ناپیں۔ انسان کی یہی تنگ نظری اس کو خدا کے فیصلوں کے بارے میں بے صبرا اور جلد باز بنا دیتی ہے۔ وہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

2: چڑھنے کے راستوں سے مراد وہ راستے ہیں جن سے چڑھ کر فرشتے عالم بالا تک پہنچتے ہیں۔ یہاں ان کا حوالہ اس لیے دیا گیا ہے کہ اگلی آیت میں انہی فرشتوں کے چڑھنے کا ذکر آ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

مشرکین عرب کے نزدیک حقیقت آخرت کو سمجھنا نہایت ہی مشکل کام تھا۔ جب حضور اکرم ﷺ نے ان کے سامنے یہ حقیقت پیش فرمائی تو انہوں نے اس کے مقابلے میں سخت نفسیاتی رد عمل کا اظہار کیا۔ یہ لوگ اسے نہایت تعجب انگیز ، عجیب و غریب اور ایک خوفناک قسم کا نظریہ سمجھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے بڑی سختی سے اس کا انکار کیا۔ اور مختلف انداز میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو چیلنج کیا کہ آپ یہ دن لاکر دکھائیں۔ کبھی کہا اس کا وقت ہی بتا دیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کی ایک روایت میں آتا ہے کہ جس شخص نے عذاب قیامت لانے کے بارے میں سوال کیا تھا ، وہ نضر ابن حارث تھا اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ کفار کی طرف سے سوال تھا کہ لاﺅ عذاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی فرشتے اور مومنین کی روحیں تمام آسمانوں کو درجہ بدرجہ طے کر کے اس کی بارگاہ قرب تک چڑھتی ہیں، یا اس کے بندے اس کے حکموں کی تابعداری میں جان و دل سے کوشش کر کے اور اچھی خصلتوں سے آراستہ ہو کر قرب و وصول کے روحانی مرتبوں اور درجوں سے ترقی کرتے ہوئے اس کی حضوری سے مشرف ہوتے ہیں اور وہ درجے مسافت کی دوری اور نزدیکی میں مختلف اور متفاوت ہیں۔ بعض ایسے ہیں کہ ایک پلک مارنے میں ان کے سبب سے ترقی ہوسکتی ہے جیسے اسلام کا کلمہ زبان سے کہنا، اور بعض ایسے ہیں کہ ایک ساعت میں ان سے ترقی حاصل ہوتی ہے جیسے نماز ادا کرنا، اور بعض سے پورے ایک دن میں، جیسے روزہ، یا ایک مہینہ میں، جیسے پورے رمضان کے روزے،…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

آیت 1 ‘ 2{ سَاَلَ سَآئِلٌم بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ - لِّلْکٰفِرِیْنَ لَـیْسَ لَہٗ دَافِعٌ۔ } ”مانگا ایک مانگنے والے نے ایک ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہو ‘ کافروں کے لیے ‘ جس کو کوئی ٹال نہ سکے گا۔“ یہاں سَاَلَ سَآئِلٌسے کون مراد ہے ؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ میری رائے بہت پہلے سے یہ تھی کہ یہ عذاب طلب کرنے والے خود حضور ﷺ ہیں ‘ لیکن مجھے اپنی رائے پر اطمینان اس وقت ہوا جب مجھے معلوم ہوا کہ شاہ عبدالقادر دہلوی رح کی رائے بھی یہی ہے۔ عام مفسرین میں سے بہت کم لوگ شاہ صاحب رح کی اس رائے سے متفق ہیں کہ اس آیت میں حضور ﷺ کی خواہش یا دعا کا ذکر ہے۔ اس آیت کو سمجھنے کے لیے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 معارج کی لغوی تشریح :۔ معارج ( مِعْرَجْ اور معراج کی جمع) عَرَجَ میں دو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں۔ جھکاؤ اور بلندی اور عَرَجَ فِیْ السِّلْمِ بمعنی سیڑھی یا زینہ پر چڑھنا۔ سیڑھی پر چڑھنے کے لیے آگے کی طرف جھکنا بھی پڑتا ہے اور بلندی کی طرف چڑھنا عام چلنے کی نسبت دشوار بھی ہوتا ہے۔ نیز عرج کے معنی لنگڑا کر چلنا اور أعْرَجَ بمعنی لنگڑا۔ کیونکہ لنگڑا کر چلنے میں بھی یہ دو باتیں پائی جاتی ہیں آگے کو جھکاؤ بھی اور بلندی پر چڑھنے جیسی دشواری بھی۔ اور معراج کے معنی بلندی پر چڑھنے کا ذریعہ بھی یعنی سیڑھی یا زینہ وغیرہ اور وہ بلند جگہ بھی جہاں پہنچنا مقصود ہو۔ رسول اللہ ﷺ کو معراج ہوا تھا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 2–3

2۔ (یعنی آسمانوں کا مالک) (آیت) ” ذی المعارج “۔ معرج جس کی جمع معارج ہے اس کے لفظی معنی آلہ عروج یاسیڑھی کے ہیں یہاں مراد آسمانوں سے ہے جو ایک کے اوپر ایک ہیں اور اس پر فرشتے چڑھتے اترتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” من اللہ “۔ اس کا تعلق لفظ متصل دافع سے بھی سمجھا گیا ہے۔ اور آیت ماقبل کے لفظ واقع سے بھی، یعنی یہ مراد بھی لی جاسکتی ہے کہ اس عذاب کا اللہ کی طرف سے کوئی روکنے والا نہیں۔ اور یہ مراد بھی کہ وہ عذاب کافروں پر اللہ کی طرف سے واقع ہوگا اور حاصل دونوں ترکیبوں کا ایک ہی ہے۔ اہل لطائف ومشائخ صوفیہ نے کہا ہے کہ اللہ کی صفت (آیت) ” ذی المعارج “۔ لانے میں (2) دونکتے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ اس میں طالب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–3

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، ایک سوال کرنے والے یعنی ایک مانگنے والے نے کافروں پر ایسے اللہ کی طرف سے واقع ہونے والا عذاب مانگا جس کو اللہ کی طرف سے کوئی دفع کرنے والا نہیں وہ نضر بن حارث ہے اس نے کہا اے اللہ ! اگر یہ حق ہے (الآیۃ) من اللہ، واقع سے متعلق ہے کہ جو ملائکہ کے لئے سیڑھیوں والا ہے اور وہ آسمان ہے جس کی طرف فرشتے اور روح یعنی جبرئیل چڑھتے ہیں (تعرج) تا اور یا کے ساتھ یعنی اس کے حکم کے نازل ہونے کی جگہ کہ وہ آسمان ہے ایسے دن میں (فی یوم) محذوف کے متعلق ہے یعنی ان پر قیامت کے دن میں عذاب واقع ہوگا اور اس دن کی مقدار کافر کی نسبت سے تکالیف کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذی المعارج . اللہ کی صفت ہے یعنی ترقیات والا اللہ۔ سعید بن جبیرنے تشریح میں فرمایا : درجات والا اللہ۔ میں کہتا ہوں درجات سے مراد ہیں۔ بےکیف قرب الٰہی کے وہ مراتب جن پر انبیاء و ملائکہ اور اولیاء فائز ہوتے ہیں اور قبول کے وہ درجات جہاں تک پاکیزہ کلمات اور نیک اعمال کو بلندی نصیب ہوتی ہے یا مراد ہیں دارالثواب میں ترقیات اور جنت میں مراتب۔ حضرت عبادہ بن صامت کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت کے اندر سو درجات ہیں۔ ہر درجہ کا دوسرے درجہ سے فصل (باعتبار بلندی) اتنا ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان۔ فردوس کا درجہ سب سے اونچا ہے۔ اسی سے جنت کے چاروں دریا پھوٹ کر نکلتے ہیں۔ اس سے اوپر عرش ہے جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–4

(3۔ 4) اور وہ عذاب کافروں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگا کہ آسمانوں کا پیدا کرنے والا ہے جس سے فرشتے اور جبریل امین اللہ تعالیٰ کی طرف جاتے ہیں ایسے دن میں کہ جس میں فرشتوں کے علاوہ اوروں کے چڑھنے کے لیے اس کی مقدار دنیا کے پچاس ہزار سال کے برابر ہے یا یہ کہ کافروں پر عذاب ایسے دن میں واقع ہوگا جس کی تعداد پچاس ہزار سال کے برابر ہے یا یہ مطلب ہے کہ اگر اللہ کے علاوہ مخلوق کا اور کوئی حساب لینے لگے تو وہ پچاس ہزار سال میں بھی فارغ نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(من اللہ ذی المعارج :”المعارج“ ”عرج یعرج“ (ن) سے ”معرج“ کی جمع ہے، چڑھنے کا آلہ، سیڑھی زینہ، یعنی اس عذاب کو معمولی نہ سمجھو ، بلکہ وہ اس اللہ کی طرف سے ہوگا، جو سیڑھیوں والا ہے، یعنی اس کی ذات بہت ہی بلند ہے۔ فرشتوں کو اس کے حضور پیش ہونے کے لئے کئی سیڑھیوں سے گزرناپڑتا ہے۔”المعارج“ (سیڑھیوں) سے مراد آسمان ہیں، کیونکہ فرشتے آسمانوں پر چڑھتے ہوئے سدرۃ المنتہی کے پاس اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

سال سائل بعذات واقع۔ نافع اور ابن عامر نے سال سائل پڑھا ہے (1) یعنی ہمزہ کے بغیر پڑھا ہے باقی قراء نے ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ جس نے اسے ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے تو اس وقت یہ سوال سے مشتق ہوگا۔ باء کے بارے میں جائز ہے کہ یہ زائدہ ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ عن کے معین میں ہو۔ سوال، دعا کے معنی میں ہوگا یعنی ایک دعوت دینے والے نے عذاب کو دعوت دی، یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے مروی ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : دعا علی فلاں بانویل دعا علیہ بالعذاب یہ جملہ بولا جاتا ہے : دعوت زیداً یعنی میں نے اس کے حاض رہونے کی التماس کی مراد ہوگا ایک التماس کرنے والے نے کافروں کے لئے عذاب کیا لتماس کی۔ قیامت کے روز…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

9۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ذی المعارج سے مراد ہے وہ ذات جو بلندیوں والی اور فضیلتوں والی ہے۔ 10۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابو الشیخ نے العظمہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ذی المعارج سے مراد ہے کہ آسمان کی بلندیوں کا مالک ہے۔ 11۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ذی المعارج سے مراد ہے فضیلتوں اور نعمتوں والا۔ 12۔ احمد وابن خزیمہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا لبیک ذی المعارج میں حاضر ہوں اے بلندیوں کے مالک۔ اور فرمایا بیشک وہ بلندیوں والے ہیں اور ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ ایسا نہ کہا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ : جو بلندیوں والے اللہ (کی طرف) سے ہوگا ] (آیت۔ 3) مِنْ اللّٰہِ سے بھی مانا جاسکتا ہے۔ اس وقت معنی ہوں گے کہ اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا اور اس کا تعلق بِعَذَابٍ سے بھی مانا جاسکتا ہے۔ اس وقت معنی ہوں گے کہ وہ عذاب اللہ کی طرف سے واقع ہونے والا ہے۔ مِنَ اللّٰہِ سے زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے دَافِعٌ سے اس کا متعلق قابل ترجیح تھا لیکن آگے کی عبارت کا تقاضہ ہے کہ اس کو بعذاب سے متعلق مانا جائے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

قیامت کے دن کافروں کی بدحالی اور بےسروسامانی، ان کی کوئی مدد کرنے والا نہ ہو گا یہاں سے سورة ٴ معارج شروع ہو رہی ہے چونکہ اس میں لفظ ذی المعارج وارد ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اس لیے سورة ٴ المعارج کے نام سے موسوم ہوئی المعارج معرج کی جمع ہے جس کا معنی ہے چڑھنے کی جگہ۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ المعارج سے آسمان مراد ہے چونکہ آسمانوں سے زمین کی طرف اور زمین سے آسمانوں کی طرف فرشتوں کا آنا جانا رہتا ہے اس لیے آسمانوں کو المعارج فرمایا اور خالق تعالیٰ شانہٗ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے آسمان بھی اس کی مخلوق ہیں جہاں سے فرشتوں کا گزر ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کا ایک وصف ذی المعارج ذکر فرمایا۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–35

مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–4

2:۔ ” سال سائل “ للکفرین، واقع سے متعلق ہے۔ ” من اللہ “ دافع سے متعلق ہے یعنی اس عذاب کے اللہ کی طرف سے وقوع کو کوئی روکنے والا نہیں یا واقع سے متعلق ہے۔ ” ذی المعارج “ سیڑھیوں والا مراد آسمان ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کی طرف اشارہ ہے۔ فی یوم، تعرف سے متعلق ہے۔ فرشتے جب اپنے اپنے مخصوص مقامات میں واپس جاتے ہیں، تو ان کو اتنا فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے جسے طے کرنے کے لیے انسانوں کو پچاس ہزار سال کا عرصہ درکار ہو، لیکن فرشتے اس فاصلے کو چند لمحوں میں طے کرلیتے ہیں۔ ای عروج الملائکۃ الی المکان الذی ھو محلہم فی وقت کان مقدارہ علی غیرہم لو صعد خمسین الف سنۃ (قرطبی ج 18 ص 281) ۔ الروح سے جبریل…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

کوائف اور مضامین : اس سورة کا نام المعارج ہے۔ اس کی تیسری آیت میں معارج کا لفظ ہے جس سے اس سورة کا نام لیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کے دو رکوع چوالیس آیتیں ، دو سو سولہ کلمات اور آٹھ سو اکسٹھ حروف ہیں۔ اس کے مضامین گزشتہ سورة الحاقہ سے ملتے ہیں۔ اس سورة کے ابتدا میں قیامت کا ذکر ہے ۔ آخر رکوع میں نبوت اور رسالت کا انکار کرنے والوں کا رد ہے۔ اس سورة میں بھی زیادہ تر قیامت کے بارے میں ارشادات ہیں۔ سابقہ سورة سے ربط : اس سے پہلی سورة میں بیان ہوا کہ مشرکین جن کو قیامت کے روز بائیں ہاتھ میں اعمالنامہ ملے گا۔ وہ بڑا افسوس کریں گے۔ اور جہنم میں داخل ہونے کی وجہ یہ بیان کریں گے کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مِّنَ اللہِ ذِي الْمَعَارِجِ۝ 3 ۭ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–7

ترکیب : سأل قرء الجمہور بالھمزۃ من السوال وھو متضمن بمعنی الدعاء ولذا عدی بالباء وقریٔ بغیر ھمزۃ وھوا مامن باب التخفیف والمعنی واحد اومن السیلان والمعنی سال واوفی جہنم یقال لہ سائل کماقال زید بن ثابت ویؤیدہ قرأۃ ابن عباس سال سیل ای اندفع وا وب عذاب واقع بعذاب والباء بمعنی عن کقولہ فاسئل بہ خبیرا وھومفعول ثان لسال والمفعول الاول محذوف ای اللہ اوالنبی سال یتعدی الی مفعولین ویجوزالاقتصاء علی احدھما قالہ ابوعلی الفارسی للکافرین الجاء متعلق بواقع ویمکن ان یتعلق بثالت ویکون صفۃ افریٰ بعذاب والاولیٰ واقع لیس لہ الخ صفۃ اخریٰ لعذاب اوحال منہ او مستانفۃ من اللہ متعلق بواقع ای بواقع ویمکن ان یتعلق…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–3

سَأَلَ سَآئِلٌم بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۔ لِّلْـکٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَـہٗ دَافِعٌ۔ مِّنَ اللّٰہِ ذِی الْمَعَارِجِ ۔ (المعارج : 1 تا 3) (مانگنے والے نے عذاب مانگا ہے، جو ضرور واقع ہونے والا ہے۔ کافروں کے لیے ہے کوئی اسے دفع کرنے والا نہیں۔ اس اللہ کی طرف سے جو عروج کے زینوں والا ہے۔ ) سَأَلَ کا معنی و مراد آیت کے پہلے لفظ سَأَلَ کا معنی بعض اہل تفسیر نے ” پوچھنا “ کیا ہے، یعنی کسی پوچھنے والے نے پوچھا، کہ وہ عذاب جس سے آپ ﷺ ہمیں ڈراتے رہتے ہیں، وہ کب آئے گا یا وہ قیامت جس کی آپ ﷺ ہمیں بار بار خبر دیتے ہیں وہ کب آئے گی ؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عربی زبان میں سوال جب کسی چیز کی تحقیق کے لیے آتا ہے تو اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–4

فہم القرآن ربط کلام : کفار کو جس عذاب یا قیامت کے بارے میں انتباہ کیا جاتا ہے وہ ” اللہ “ کی طرف سے آئے گی جو ” اللہ “ بڑا ہی بلندو بالا ہے۔ مَعَارِ جْ ” مَعْرِجٌ“ کی جمع ہے جس کا معنٰی سیڑھی یا بلندی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور مقام و مرتبہ کے لحاظ سے سب سے بلند وبالا ہے۔ اس لیے اس نے اپنی ذات کے بارے میں المعارج کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ کچھ مفسرین نے المعارج سے مراد وہ بلندیاں لی ہیں جس کو طے کرتے ہوئے ملائکہ اپنے رب کے حضور پیش ہوتے ہیں بظاہر یہ مفہوم لینے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ تاہم اس سے پہلی مراد رب کبریاء کی ذات ہے۔ اسی کے حضور ملائکہ اور جبریل امین پیش ہوتے ہیں۔ جبریل…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

3 : مِّنَ اللّٰہِ (جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے واقع ہوگا) نحو : یہ واقع سے متصل ہے ای واقع من عندہ یا نمبر 2۔ دافع سے متعلق ہے۔ ای لیس لہ دافع من جھتہ تعالیٰ اذاجاء وقتہ اس کو کوئی روکنے والا نہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگا جب اس کا وقت آجائے گا۔ ذِی الْمَعَارِجِ (جو کہ سیڑھیوں کا مالک ہے) آسمان کی سیڑھیاں جن کو فرشتے استعمال میں لاتے ہیں۔ معارج جمع معرج۔ چڑھنے کی جگہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔” اللہ تعالیٰ نے اس کو واضح کرتے ہوئے جواب دیا ” للکافرین “ اہل مکہ کو جب نبی کریم ﷺ نے عذاب کا خوف دلایا تو آپس میں کہنے لگے اس عذاب کا کون مستحق ہوگا ؟ اور کس کو ہوگا ؟ اور اس بارے میں محمد ﷺ سے پوچھو تو آپ (علیہ السلام) سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے اتارا۔ ” سال سائل بعذاب واقع للکافرین “ یعنی وہ کافروں کے لئے ہے۔ یہ حسن اور قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے اور کہا گیا ہے کہ تاء صلہ ہے اور آیت کا معنی دعا مانگنے والے نے دعا مانگی اور سوال کرنے والے نے اس عذاب کے بارے میں سوال کیا جو کافروں پر واقع ہونے والا ہے۔ للکافرین میں لام علیٰ کے معنی میں ہے اور وہ نضر بن حارث ہے کہ اس نے اپنے اوپر بددعا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1۔ 7۔ نسائی 1 ؎ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نضر بن حارث اور قریش میں کے سرکش لوگوں نے جب اللہ تعالیٰ سے عذاب کی خواہش کی اور یہ کہا کہ جو کچھ محمد کہتے ہیں اگر وہ حق بات ہے اور ہم لوگ اس کو نہیں مانتے ہیں تو خدا کرے کہ ہم لوگوں پر آسمان سے پتھروں کا مینہ برسے یا اور کوئی سخت عذاب ہم لوگوں پر نازل ہوجائے اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ہیں اور فرمایا کہ یہ قریش میں کے سرکش لوگ عذاب الٰہی کو دور گن کر اس طرح کی سرکشی کی باتیں کرتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک پچھلی قوموں کی طرح نہ ان مشرکوں پر دنیا میں کوئی عذاب نازل کردینا کچھ دور ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 3–4

چناچہ فرمایا (ذی المعارج۔ تعرج الملائکۃ والروح الیہ) ۔ یعنی وہ بلندی، جلال اور عظمت کا مالک ہے، تمام مخلوقات کی تدبیر اسی کے ہاتھ میں ہے جس کی طرف اس چیز کے ساتھ فرشتے عروج کرتے ہیں جس کی تدبیر پر انہیں مقرر کیا ہے اور اس کی طرف روح بلند ہوتی ہے۔ یہ اسم جنس ہے جو تمام ارواح کو شامل ہے، خواہ نیک ہوں یابد، اللہ تعالیٰ کی طرف ارواح کا بلند ہونا، وفات کے وقت ہے۔ نیک لوگوں کی ارواح اللہ کی طرف عروج کرتی ہیں، انہیں ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف بلند ہونے کی اجازت دے دی جاتی ہے یہاں تک کہ ارواح اس آسمان پر پہنچ جاتی ہیں جس میں اللہ تعالیٰ ان کا رب تشریف فرما ہے یہ ارواح اللہ کے حضور تحیہ وسلام پیش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

3 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اللہ کی طرف سے جو کہ مالک ہے عروج کے زینوں کا۔ جن کی حقیقت کا احاطہ و ادراک کسی کے بس کی چیز نہیں ‘ اپنی عظمت شان اور رفعت مکان کے ان زینوں کو وہ وحدہ لاشریک ہی جان سکتا ہے ‘ کما ینبغی لجلال وجھہ و عظیم سلطانہ اسی لئے سلف میں سے بعض حضرات نے ان کا مصداق ساتوں آسمان کو قرار دیا ہے ‘ کماروی ذالک عن ابن مسعود ؓ وغیرہ من اھل العلم (جامع البیان ‘ معارف القرآن وغیرہ) بہرکیف یہاں پر اس ارشاد سے یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ اس کا وہ عذاب جس کی اس نے وعید سنائی ہے ‘ اپنے وقت پر آئے گا ضرور ‘ کہ اس کا ہر قول سچا اور ہر وعدہ و وعید پکا ہے ‘ مگر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–4

منکرین کے لئے قیامت کی وضاحت تشریح : اہل مکہ منکرین قیامت ہنسی مذاق میں عذاب مانگتے ہیں کیونکہ ان کے خیال کے مطابق یہ بات بس یونہی کہہ دی گئی ہے جب کہ اس کی تصدیق پکی طرح ہوچکی ہے کہ یہ اللہ رب العزت کی طرف سے نازل کیا جائے گا جس کی طرف روح الامین اور فرشتے چڑھتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کا اندازہ یہ ہے کہ وہ ہمارے پچاس ہزار سالوں کے برابر ہے۔ کافر ایسا عذاب مانگ رہے تھے یعنی اپنے لیے عذاب کی بد دعا کرتے تھے۔ اس سے مراد ابو جہل بن ہشام اور دوسرا نضر بن حارث ہے اس بد دعا سے معلوم ہوا کہ وہ قرآن کریم کو اللہ کی طرف سے نازل تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے اور نہ ہی انہیں قرآن کی وعید کا کچھ اعتبار تھا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–34

سورة المعارج۔ آیات 1 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 3–4

ف 3 یعنی وہ پچسا ہزار سال میں اس مقام تک پہنچے گا جہاں یہ فرشتے ایک دن میں چڑھ جاتے ہیں۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے جب دن کا تعلق فرشتوں کے چڑھنے سے ہو۔ اگر اس کا تعلق عذاب سے ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ عذاب اس دن ہوگا جس کی مدت پچاس ہزار سال ہے یعنی قیامت کا دن۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(70:3) من اللہ ذی المعارج : مضاف مضاف الیہ مل کر صفت ہے اللہ کی۔ اللہ اور ذی المعارج بحالت جر ہیں بوجہ ب حرف جار کے عمل کے۔ المعارج : عروج (باب نصر) مصدر سے اسم آلہ جمع کا صیغہ ہے اس کا مفرد مفرج اور معراج ہے بمعنی سیڑھی، العروج کے معنی اوپر چڑھنے کے ہیں جیسا کہ اگلی آیت 4 میں تعرج الملئکۃ والروح ۔۔ الخ آیا ہے۔ (فرشتے اور روح اس کی طرف اس دن چڑھ رہے ہوں گے) ۔ لیس لہ دافع من اللہ ذی المعارج کا ترجمہ ہوگا :۔ جس کو اللہ ذی مراتب کی طرف سے کوئی دفع نہیں کرسکتا۔ اللہ کو ذی المعارج اس لئے کہا کہ جملہ درجات عالیہ اسی کے ہاتھ میں ہیں جس کو چاہے عطا کرے۔ اور یہ بھی کہ وہ خود بلند مرتبوں والا ہے اس تک…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–18

لغات القرآن۔ سال۔ سوال کیا۔ مانگا۔ ذی المعارج۔ زینوں والا۔ خمیسین الف۔ پچاس ہزار۔ المھل۔ دھنکی ہوئی روئی۔ فصیلۃ ۔ کنبہ۔ خاندان۔ توی۔ وہ رہتا ہے۔ لظی۔ بھڑکتی آگے۔ نزاعۃ۔ کھینچنے والی۔ الشوی۔ کھال اور اس کا ٹکڑا۔ اوعی۔ سنبھال کر رکھتا ہے۔ تشریح : کفار مکہ اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی مانگنے کے بجائے اس کے عذاب اور قیامت آنے کی جلدی کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اس عذاب اور قیامت کا سوال کریں یا نہ کریں وہ تو بہرحال اپنے وقت پر واقع ہو کر رہے گے اور جب قیامت کے دن کفار ومشرکین پر عذاب آئے گا تو وہ اس قدر بھیانک اور سخت عذاب ہوگا جس کو ساری دنیا مل کر بھی نہ ٹال سکے گی کیونکہ یہ عذاب اس اللہ کی طرف…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–7

روح کابیان۔ (ف 1) ان آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں اس کے دومعنی ہیں۔ ایک تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا نام روح قرآن شریف میں آیا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہیں کہ نیک لوگ جب مرتے ہیں تو ان کی روح کو فرشتے اللہ کے روبرولے جاتے ہیں ، پچاس ہزار برس کا ذکر جو آن آیتوں میں ہے کہ اس کے بعد دو معنی ہیں۔ ایک تو یہ کہ قیامت کے دن کی درازی پچاس ہزار برس کی ہوگی ، دوسرے معنی یہ ہیں کہ ساتویں زمین سے عرش معلی تک پچاس ہزار برس کا راستہ انسان کے چلنے کا ہے جس کو اللہ کے فرشتے روز کے رز طے کرتے ہیں حاصل مطلب ان دونوں معنی کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں ہزاروں برس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–3

[1] عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ مانگنے والا نضر بن الحارث المکی تھا جس نے دعا کی تھی کہ یارب، اگر یہ قرآن حق ہو اور تیرا کلام ہو تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھر برسا یا دردناک عذاب بھیج۔ اسی کا جواب یہاں دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

سورة المعارج 1: سال سائل سے یا تو کوئی ایک شخص مراد ہے ۔ جیسا کہ بعض روایات میں آتا ہے ۔ کہ نضرین حارث نے مطالبہ کیا تھا ۔ کہ وہ عذاب جس کا آپ وعدہ کرتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں ۔ کہ تکذیب کی صورت میں اس کا آنا ناگریز ہے ۔ وہ کیوں نہیں آتا ۔ وہ آئے اور ہم کو فنا کے گھاٹ اتاردے ۔ یا کوئی شخص مراد نہیں ہے ۔ بلکہ پوری قوم مراد ہے ۔ کہ نزول وعید کی پیشگوئی کو سن کر ان کے دلوں میں شکوک پیدا ہوئے ۔ اور انہوں نے ان شکوک کا مذکرہ ایک دوسرے سے کیا ۔ اس پر اس سورت میں سال سائل کے انداز میں جواب مرحمت فرمایا گیا ب عذاب واقع میں (با) ظن کے معنے میں ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں دوسری جگہ بھی آئا ہے ۔ فاسئل بہ یچلوا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) وہ عذاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے واقع ہوگا جو بلند وبالا درجات کا صاحب ہے۔ سال کے معنی استفسار اور درخواست وطلب کے کئے ہیں یہاں درخواست وطلب کے معنی مراد ہیں، یہ سورت سورة حاقہ کی مزید تفصیل اور اسی کا تتمہ ہے شان نزول میں یہی چند باتیں مفسرین نے فرمائی ہیں لیکن مشہور اور ان میں راجح یہ ہے کہ نضربن قریش جو کہ کفار میں بہت مشہور اور اسلام کا سخت دشمن تھا اس نے دعا کی الٰہی اگر یہ محمد ﷺ اپنی دعا دی میں سچا ہے اور یہ قرآن تیرا ہی نازل کردہ ہے تو ہم پر پتھر برسا دے یا کوئی اور دردناک عذاب ہم پر بھیج دے۔ اس پر یہ ابتدائی آیتیں نازل ہوتیں۔ بعض حضرات نے حارث بن نعمان فہری کے بارے میں ان آیتوں کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 1۔ اس سورة میں بھی مثل سورة حاقہ کے مجازاة کا اور بعض اعمال موجبہ مجازاة کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگا جو بلندیوں کا مالک ہے 3 ؎ یہ عذاب جس کا فیصلہ ان کے حق میں کیا جا چکا ہے کسی ایرے غیرے اور نتھو خیرے کی طرف سے نہیں ہے بلکہ اس عذاب کا وعدہ دینے والی وہ ذات کبریا ہے جو ساری بلندیوں کا مالک ہے اور ظاہر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو بلندیوں کا اور بلندیوں کے زینوں کا مالک حقیقی ہے۔ (معارج) عروج سے ہے اور عروج کے معنی بلند ہونے کے ہیں۔ اس سے اسم الہ معراج اور معرج ہے اس کی جمع معارج اور معاریج ہے۔ سیڑھیاں اور زینے ہیں چونکہ اوپر چڑھنے کے ذرائع ہیں اس لئے ان کو بھی معارج کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ جب معارج کی نسبت اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے ہو تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

The disbelievers used to come to the Holy Prophet ﷺ in groups mocking at the Muslims, and denying the Islamic beliefs, including Resurrection. But at the same time, they used to claim, in ironical style, that they would enter the Paradise, and enjoy its bliss. This verse refers to this attitude of the disbelievers. Since their pretended aspiration to enter Paradise was merely a mockery, and in fact they intended to deny Resurrection, their denial is refuted in this verse by saying that admittedly Allah has created them from a lifeless drop of semen, as they knew it well, and a drop of semen…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 Ma'arij is plural of Mi'raj, which means a stairway, or a ladder, or something by which one may go up. To call Allah dhil-Ma'aij (Owner of the Steps of Ascent) means that He is Most High and in order to go up into His Presence the angels have to ascend many heights, one above the other, as has been stated in the following verses.

Read the full tafseer →