Al-Ma'aarij 70:2

Al-Ma'aarij · from ayah 2

70:2

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌ ۟ۙلِّلۡكٰفِرِيۡنَ لَيۡسَ لَهٗ دَافِعٌ

(یعنی) کافروں پر (اور) کوئی اس کو ٹال نہ سکے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

To the disbelievers; of it there is no preventer.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij

All translations of 70:2

کافروں کے لیے ہے، کوئی اُسے دفع کرنے والا نہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی) کافروں پر (اور) کوئی اس کو ٹال نہ سکے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

کافروں پر، جسے کوئی ہٹانے واﻻ نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو کافروں پر آنے والا ہے کوئی نہیں ہے جو اسے روک سکے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جو کافروں پر ہونے والا ہے، اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کافروں کے لئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کافروں پر، اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جسے کافروں سے کوئی ٹالنے والا نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کافروں کے لیے اس کا کوئی دفع کرنے والا نہیں بنے گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کافروں پر جس کو کوئی ٹالنے والا نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

جس کا کوئی دفع کرنے والا نہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کافروں کے لیے جس کو کوئی ٹال نہ سکے گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یعنی کافروں پر اور کوئی اس کو ٹال نہ سکے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(a chastisement meant) for the unbelievers, one which none can avert;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the disbelievers; there is no one to avert it,

— Muhammad Taqi Usmani

the disbelievers; there is no one to avert it,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Upon the disbelievers, which none can avert,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Upon the disbelievers, which none can repel,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

To the disbelievers; of it there is no preventer.

— Saheeh International

which will inevitably seize the disbelievers.

— Muhammad Sarwar

The unbelievers-- there is none to avert it--

— Muhammad Habib Shakir

The infidels, of which there is no averter.

— Abdul Majid Daryabadi

The Unbelievers, the which there is none to ward off,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 70:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–7

بعذاب میں جو " ب " ہے وہ بتارہی ہے کہ یہاں فعل کی تضمین ہے گویا کہ فعل مقدر ہے یعنی یہ کافر عذاب کے واقع ہونے کی طلب میں جلدی کر رہے ہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ ۭ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ 47؀) 22۔ الحج :47) یعنی یہ عذاب مانگنے میں عجلت کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا، یعنی اس کا عذاب یقیناً اپنے وقت مقررہ پر آ کر ہی رہے گا، نسائی میں حضرت ابن عباس سے وارد ہے کہ کافروں نے اللہ کا عذاب مانگا جو ان پر یقیناً آنے والا ہے، یعنی آخرت میں ان کی اس طلب کے الفاظ بھی دوسری جگہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–2

سورة الْمَعَارِج 1 اصل الفاظ ہیں سال سآئل۔ بعض مفسرین نے یہاں سوال کو پوچھنے کے معنی میں لیا ہے اور وہ آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ پوچھنے والے نے پوچھا ہے کہ وہ عذاب، جس کی ہمیں خبردی جا رہی ہے، کس پر واقع ہوگا ؟ اور اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ وہ کافروں پر واقع ہوگا۔ لیکن اکثر مفسرین نے اس جگہ سوال کو مانگنے اور مطالبہ کرنے کے معنی میں لیا ہے۔ نسائی اور دوسرے محدثین نے ابن عباس سے یہ روایت نقل کی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے کہ نضر بن حارث بن کلدہ نے کہا تھا اللھم ان کان ھذا ہو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوئتنا بعذاب الیم۔ (الانفال، آیت 32) " خدایا اگر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–2

خلاصہ تفسیر ایک مانگنے والا (براہ انکار) وہ عذاب مانگتا ہے جہ کہ کافروں پر واقع ہونے والا ہے (اور) جس کا کوئی دفع کرنے والا نہیں (اور) جو اللہ کی طرف سے واقع ہوگا جو کہ سیڑھیوں کا (یعنی آسمانوں کا) مالک ہے (جن سیڑھیوں سے) فرشتے اور (اہل ایمان کی) روحیں اس کے پاس چڑھ کر جاتی ہیں (اس کے پاس سے مراد یہ ہے کہ عالم بالا میں جو موقع ان کے عروج کا منتہا مقرر کیا گیا ہے وہاں جاتی ہیں اور چونکہ اس عروج کا رستہ آسمان ہیں اسلئے ان کو معارج (یعنی سیڑھیاں) فرما دیا اور وہ عذاب، ایسے دن میں (واقع) ہوگا جس کی مقدار (دنیا کے) پچاس ہزار سال (کی برابر) ہے (مراد قیامت کا دن ہے جو کچھ حقیقی مقدار سے کچھ اس کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کی حماقت: ’لِّلْکَافِریْنَ‘ کا تعلق ’وَاقِعٍ‘ سے بھی ہو سکتا ہے، یعنی اس عذاب کا مذاق اڑاتے ہیں جو کافروں کے لیے واقع ہونے والا ہے اور اس کو مستقل جملہ بھی قرار دے سکتے ہیں، یعنی وہ جس عذاب کا مذاق اڑا رہے ہیں وہ کافروں ہی کے لیے ہو گا اور کوئی اس کو دفع کرنے والا نہیں بنے گا۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی شامت ہی ہے جو اتنی ڈھٹائی سے اس کے لیے جلدی مچا رہے ہیں۔ وہ سیلاب فنا آیا تو آخر کس کے گھر جائے گا؟ انہی کے گھر تو جائے گا! اس کے مقابلہ کا کیا سامان انھوں نے کر رکھا ہے کہ اس طرح چیلنج کر رہے ہیں! اس کو دفع کرنے کا برتا تو کسی میں بھی نہیں ہو گا، نہ ان کے اندر اور نہ ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

1۔ 1 کہتے ہیں نضر بن حارث تھا یا ابو جہل تھا جس نے کہا تھا (وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 32؀) 8۔ الانفال :32) چناچہ یہ شخص جنگ بدر میں مارا گیا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ جنہوں نے اپنی قوم کے لئے بد دعا کی تھی اور اس کے نتیجے میں اہل مکہ پر قحط سالی مسلط کی گئی تھی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

1: ایک کافر نے اسلام کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ اگر قرآن اور اسلام برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسائیے، یا کوئی اور دردناک عذاب ہم پر لے آئیے، جیسا کہ سورة انفال (8: 32) میں گزرا ہے، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص نضر بن حارث تھا، یہاں اسی کی بات کا حوالہ دیا جارہا ہے کہ وہ عذاب مانگ رہا ہے اور اس کا اصل مقصد مذاق اڑاکر اس عذاب کو جھٹلانا ہے، حالانکہ وہ ایسی چیز ہے جب آجائے گی تو کوئی اسے روک نہیں سکے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

مشرکین عرب کے نزدیک حقیقت آخرت کو سمجھنا نہایت ہی مشکل کام تھا۔ جب حضور اکرم ﷺ نے ان کے سامنے یہ حقیقت پیش فرمائی تو انہوں نے اس کے مقابلے میں سخت نفسیاتی رد عمل کا اظہار کیا۔ یہ لوگ اسے نہایت تعجب انگیز ، عجیب و غریب اور ایک خوفناک قسم کا نظریہ سمجھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے بڑی سختی سے اس کا انکار کیا۔ اور مختلف انداز میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو چیلنج کیا کہ آپ یہ دن لاکر دکھائیں۔ کبھی کہا اس کا وقت ہی بتا دیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کی ایک روایت میں آتا ہے کہ جس شخص نے عذاب قیامت لانے کے بارے میں سوال کیا تھا ، وہ نضر ابن حارث تھا اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ کفار کی طرف سے سوال تھا کہ لاﺅ عذاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–2

3 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی پیغمبر نے تم پر عذاب مانگا ہے وہ کسی سے نہ ہٹایا جائے گا۔ " یا عذاب مانگنے والے کفار ہوں جو کہا کرتے تھے کہ آخر جس عذاب کا وعدہ ہے وہ جلدی کیوں نہیں آتا، اے اللہ ! اگر محمد ﷺ کا کہنا سچ ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے۔ یہ باتیں انکار و تمسخر کی راہ سے کہتے تھے اس پر فرمایا کہ عذاب مانگنے والے ایک ایسی آفت مانگ رہے ہیں جو بالیقین ان پر پڑنے والی ہے کسی کے روکے رک نہیں سکتی۔ کفار کی انتہائی حماقت یا شوخ چشمی ہے جو ایسی چیز کا اپنی طرف سے مطالبہ کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

آیت 1 ‘ 2{ سَاَلَ سَآئِلٌم بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ - لِّلْکٰفِرِیْنَ لَـیْسَ لَہٗ دَافِعٌ۔ } ”مانگا ایک مانگنے والے نے ایک ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہو ‘ کافروں کے لیے ‘ جس کو کوئی ٹال نہ سکے گا۔“ یہاں سَاَلَ سَآئِلٌسے کون مراد ہے ؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ میری رائے بہت پہلے سے یہ تھی کہ یہ عذاب طلب کرنے والے خود حضور ﷺ ہیں ‘ لیکن مجھے اپنی رائے پر اطمینان اس وقت ہوا جب مجھے معلوم ہوا کہ شاہ عبدالقادر دہلوی رح کی رائے بھی یہی ہے۔ عام مفسرین میں سے بہت کم لوگ شاہ صاحب رح کی اس رائے سے متفق ہیں کہ اس آیت میں حضور ﷺ کی خواہش یا دعا کا ذکر ہے۔ اس آیت کو سمجھنے کے لیے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 کافر ایسا عذاب طلب کرتے ہی رہتے تھے۔ اللہ سے بھی اپنے حق میں ایسی دعا کیا کرتے تھے جیسا کہ سورة انفال کی آیت نمبر 32 میں مذکور ہے کہ کافر کہتے تھے کہ اے اللہ ! اگر یہ قرآن واقعی تیری طرف سے نازل ہوا ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش برسا یا ہم پر عذاب بھیج دے۔ روایات میں ایسی بددعا کرنے والوں کے دو نام مذکور ہیں ایک ابو جہل بن ہشام اور دوسرا نضر بن حارث، اس بددعا سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قرآن کو اللہ کی طرف سے نازل شدہ تسلیم کرنے کو قطعاً تیار نہیں تھے۔ نہ ہی انہیں قرآن کی وعید کا کچھ اعتبار تھا۔ یہ تو ان لوگوں کا دنیوی عذاب سے متعلق مطالبہ تھا۔ اخروی عذاب کا مطالبہ کرنے والے تو بہت تھے جو از راہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 2–3

2۔ (یعنی آسمانوں کا مالک) (آیت) ” ذی المعارج “۔ معرج جس کی جمع معارج ہے اس کے لفظی معنی آلہ عروج یاسیڑھی کے ہیں یہاں مراد آسمانوں سے ہے جو ایک کے اوپر ایک ہیں اور اس پر فرشتے چڑھتے اترتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” من اللہ “۔ اس کا تعلق لفظ متصل دافع سے بھی سمجھا گیا ہے۔ اور آیت ماقبل کے لفظ واقع سے بھی، یعنی یہ مراد بھی لی جاسکتی ہے کہ اس عذاب کا اللہ کی طرف سے کوئی روکنے والا نہیں۔ اور یہ مراد بھی کہ وہ عذاب کافروں پر اللہ کی طرف سے واقع ہوگا اور حاصل دونوں ترکیبوں کا ایک ہی ہے۔ اہل لطائف ومشائخ صوفیہ نے کہا ہے کہ اللہ کی صفت (آیت) ” ذی المعارج “۔ لانے میں (2) دونکتے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ اس میں طالب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–3

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، ایک سوال کرنے والے یعنی ایک مانگنے والے نے کافروں پر ایسے اللہ کی طرف سے واقع ہونے والا عذاب مانگا جس کو اللہ کی طرف سے کوئی دفع کرنے والا نہیں وہ نضر بن حارث ہے اس نے کہا اے اللہ ! اگر یہ حق ہے (الآیۃ) من اللہ، واقع سے متعلق ہے کہ جو ملائکہ کے لئے سیڑھیوں والا ہے اور وہ آسمان ہے جس کی طرف فرشتے اور روح یعنی جبرئیل چڑھتے ہیں (تعرج) تا اور یا کے ساتھ یعنی اس کے حکم کے نازل ہونے کی جگہ کہ وہ آسمان ہے ایسے دن میں (فی یوم) محذوف کے متعلق ہے یعنی ان پر قیامت کے دن میں عذاب واقع ہوگا اور اس دن کی مقدار کافر کی نسبت سے تکالیف کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

للکافرین . یہ عذاب کی دوسری صفت ہے یا و اقع سے متعلق ہے اور اگر یہ سوال ہو کہ کن لوگوں پر عذاب واقع ہوگا تو سوال کا یہ جواب ہوگا (کہ کافروں پر واقع ہوگا) اور لیس لہ دافع عذاب کی صفت ہوگا یا جواب کے دائرہ میں آئے گا۔ لیس لہ دافع من اللہ . چونکہ اللہ کا ارادہ عذاب سے متعلق ہوجائے گا اس لیے خدا کی طرف سے اس عذاب کو دفع کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) نضر بن حارچ کافر اس عذاب کی درخواست کرتا ہے جو کہ کافروں پر واقع ہونے والا ہے جس عذاب کو کوئی ہٹانے والا نہیں، چناچہ یہ بدر کے دن مارا گیا۔ شان نزول : سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ (الخ) نسائی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ سال سائل سے مراد نضر بن حارث ہے اس نے کہا تھا اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء۔ اور ابن ابی حاتم نے سدی سے سال سائل کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت مکہ مکرمہ میں نضر بن حارث کے متعلق نازل ہوئی اس نے کہا تھا ان کان ھذا ھو الحق (الخ) چناچہ اس کا عذاب بدر کے دن ہوا۔ ابن منذر نے حسن سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–2

(1) سال سآئل بعذاب واقع …: اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ ایک پوچھنے والے نے عذاب کے متعلق سوال کیا ہے (کہ وہ کب آئے گا ؟) اس صورت میں ”بائ“ بمعنی ”عن“ ہوگی اور مراد وہ کفری ہ سوال ہے جو وہ بار بار عذاب کو جھٹلانے اور مذاق کرنے کے لئے کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین) (الملک : 25)”اور وہ کہتے ہیں کہ وہ (عذاب کا) وعدہ کب پورا ہوگا، اگر تم سچے ہو ؟“ دوسرا معنی یہ ہے کہ ایک مانگنے والے نے عذاب مانگا ہے۔ اس سے مراد کفار کے سرکش لوگوں کی وہ دعا ہے جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کرتے رہتے تھے کہ ہم پر جلد از جلد عذاب لے آؤ جیسا کہ فرمایا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

سال سائل بعذات واقع۔ نافع اور ابن عامر نے سال سائل پڑھا ہے (1) یعنی ہمزہ کے بغیر پڑھا ہے باقی قراء نے ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ جس نے اسے ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے تو اس وقت یہ سوال سے مشتق ہوگا۔ باء کے بارے میں جائز ہے کہ یہ زائدہ ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ عن کے معین میں ہو۔ سوال، دعا کے معنی میں ہوگا یعنی ایک دعوت دینے والے نے عذاب کو دعوت دی، یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے مروی ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : دعا علی فلاں بانویل دعا علیہ بالعذاب یہ جملہ بولا جاتا ہے : دعوت زیداً یعنی میں نے اس کے حاض رہونے کی التماس کی مراد ہوگا ایک التماس کرنے والے نے کافروں کے لئے عذاب کیا لتماس کی۔ قیامت کے روز…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–2

1۔ فریابی وعبد بن حمید والنسائی وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت سال سائل ایک سوال کرنے والے نے سوال کیا یعنی نضر بن حارث نے اور اس نے یہ کہا تھا اے اللہ اگر یہ حق ہے تیرے پاس تو ہم پر پتھر برسادیجیے اور فرمایا آیت للکفرین لیس لہ دافع من اللہ ذی المعارج۔ یعنی اس عذاب کے بارے میں جو ہو کر رہنے والا ہے۔ آیت للکفرین لیس لہ دافع من اللہ ذی المعارج۔ یعنی یہ تیار ہے کافروں کے لیے کہ اس کو کوئی ٹالنے والا نہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ہے جو درجات کا مالک ہے۔ 2۔ ابن المنذر نے زید بن اسلم (رح) سے اس طرح روایت کیا۔ سورۃ المعارج کا شان نزول 3۔ ابن ابی حاتم نے سدی رحمۃ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لِلْكٰفِرِيْنَ لَيْسَ لَهٗ : کافروں کے لیے نہیں ہے جس کو ][ دَافِعٌ: کوئی دفع کرنے والا ] ترکیب : (آیت۔ 2) لَیْسَ لَہٗ میں ہ کی ضمیر بِعَذَابٍ کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

قیامت کے دن کافروں کی بدحالی اور بےسروسامانی، ان کی کوئی مدد کرنے والا نہ ہو گا یہاں سے سورة ٴ معارج شروع ہو رہی ہے چونکہ اس میں لفظ ذی المعارج وارد ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اس لیے سورة ٴ المعارج کے نام سے موسوم ہوئی المعارج معرج کی جمع ہے جس کا معنی ہے چڑھنے کی جگہ۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ المعارج سے آسمان مراد ہے چونکہ آسمانوں سے زمین کی طرف اور زمین سے آسمانوں کی طرف فرشتوں کا آنا جانا رہتا ہے اس لیے آسمانوں کو المعارج فرمایا اور خالق تعالیٰ شانہٗ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے آسمان بھی اس کی مخلوق ہیں جہاں سے فرشتوں کا گزر ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کا ایک وصف ذی المعارج ذکر فرمایا۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–35

مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–4

2:۔ ” سال سائل “ للکفرین، واقع سے متعلق ہے۔ ” من اللہ “ دافع سے متعلق ہے یعنی اس عذاب کے اللہ کی طرف سے وقوع کو کوئی روکنے والا نہیں یا واقع سے متعلق ہے۔ ” ذی المعارج “ سیڑھیوں والا مراد آسمان ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کی طرف اشارہ ہے۔ فی یوم، تعرف سے متعلق ہے۔ فرشتے جب اپنے اپنے مخصوص مقامات میں واپس جاتے ہیں، تو ان کو اتنا فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے جسے طے کرنے کے لیے انسانوں کو پچاس ہزار سال کا عرصہ درکار ہو، لیکن فرشتے اس فاصلے کو چند لمحوں میں طے کرلیتے ہیں۔ ای عروج الملائکۃ الی المکان الذی ھو محلہم فی وقت کان مقدارہ علی غیرہم لو صعد خمسین الف سنۃ (قرطبی ج 18 ص 281) ۔ الروح سے جبریل…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

کوائف اور مضامین : اس سورة کا نام المعارج ہے۔ اس کی تیسری آیت میں معارج کا لفظ ہے جس سے اس سورة کا نام لیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کے دو رکوع چوالیس آیتیں ، دو سو سولہ کلمات اور آٹھ سو اکسٹھ حروف ہیں۔ اس کے مضامین گزشتہ سورة الحاقہ سے ملتے ہیں۔ اس سورة کے ابتدا میں قیامت کا ذکر ہے ۔ آخر رکوع میں نبوت اور رسالت کا انکار کرنے والوں کا رد ہے۔ اس سورة میں بھی زیادہ تر قیامت کے بارے میں ارشادات ہیں۔ سابقہ سورة سے ربط : اس سے پہلی سورة میں بیان ہوا کہ مشرکین جن کو قیامت کے روز بائیں ہاتھ میں اعمالنامہ ملے گا۔ وہ بڑا افسوس کریں گے۔ اور جہنم میں داخل ہونے کی وجہ یہ بیان کریں گے کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِّلْكٰفِرِيْنَ لَيْسَ لَہٗ دَافِعٌ۝ 2 ۙ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( کر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–7

ترکیب : سأل قرء الجمہور بالھمزۃ من السوال وھو متضمن بمعنی الدعاء ولذا عدی بالباء وقریٔ بغیر ھمزۃ وھوا مامن باب التخفیف والمعنی واحد اومن السیلان والمعنی سال واوفی جہنم یقال لہ سائل کماقال زید بن ثابت ویؤیدہ قرأۃ ابن عباس سال سیل ای اندفع وا وب عذاب واقع بعذاب والباء بمعنی عن کقولہ فاسئل بہ خبیرا وھومفعول ثان لسال والمفعول الاول محذوف ای اللہ اوالنبی سال یتعدی الی مفعولین ویجوزالاقتصاء علی احدھما قالہ ابوعلی الفارسی للکافرین الجاء متعلق بواقع ویمکن ان یتعلق بثالت ویکون صفۃ افریٰ بعذاب والاولیٰ واقع لیس لہ الخ صفۃ اخریٰ لعذاب اوحال منہ او مستانفۃ من اللہ متعلق بواقع ای بواقع ویمکن ان یتعلق…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–3

سَأَلَ سَآئِلٌم بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ ۔ لِّلْـکٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَـہٗ دَافِعٌ۔ مِّنَ اللّٰہِ ذِی الْمَعَارِجِ ۔ (المعارج : 1 تا 3) (مانگنے والے نے عذاب مانگا ہے، جو ضرور واقع ہونے والا ہے۔ کافروں کے لیے ہے کوئی اسے دفع کرنے والا نہیں۔ اس اللہ کی طرف سے جو عروج کے زینوں والا ہے۔ ) سَأَلَ کا معنی و مراد آیت کے پہلے لفظ سَأَلَ کا معنی بعض اہل تفسیر نے ” پوچھنا “ کیا ہے، یعنی کسی پوچھنے والے نے پوچھا، کہ وہ عذاب جس سے آپ ﷺ ہمیں ڈراتے رہتے ہیں، وہ کب آئے گا یا وہ قیامت جس کی آپ ﷺ ہمیں بار بار خبر دیتے ہیں وہ کب آئے گی ؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عربی زبان میں سوال جب کسی چیز کی تحقیق کے لیے آتا ہے تو اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–2

فہم القرآن ربط سورت : کفار بار بار نبی ﷺ سے عذاب کا مطالبہ کرتے تھے جس پر انہیں انتباہ کیا گیا ہے کہ جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو، وہ نازل ہوگا تو اسے ٹالنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ المعارج کی ابتدا اس بات سے ہورہی ہے کہ ایک سوال کرنے والے نے سوال ہے کہ جس عذاب سے ہمیں ڈرایا جاتا ہے وہ اب تک وارد کیوں نہیں ہوا ؟ ” سَاَلَ سَآءِلٌ“ کے بارے میں مفسرین کا خیال ہے کہ بظاہر تو یہ الفاظ سوال کے لیے استعمال ہوتے ہیں لیکن اہل عرب ان الفاظ کو کسی چیز کا مطالبہ کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس معنٰی میں اس لیے گنجائش ہے کہ اکثر اوقات سائل اپنے سوال میں کسی نہ کسی بات کا مطالبہ ہی کیا کرتا ہے۔ حقیقت میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2 : لِّلْکٰفِرِیْنَ (جو کہ کافروں پر واقع ہونے والا ہے) یہ عذاب کی صفت ہے ای بعذاب واقع کائن للکافرین۔ ایسا عذاب جو کافروں پر واقع و ثابت ہونے والا ہے۔ لَیْسَ لَہٗ (جس کا کوئی دفع کرنے والا نہیں) اس عذاب کو کوئی نہیں دَافِعٌ (رد کرنے والا)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1 ۔” سال سائل “ اہل مدینہ اور اہل شام نے ” سال “ بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ پس جس نے ہمزہ پڑھا ہے پس وہ ” سئوال “ سے ہے اور جس نے بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے کہا گیا ہے کہ یہ ” سئوال “ کی لغت ہے ۔ کہا جاتا ہے ” سال یسال “ خاف یخاف کی مثل یعنی سال یسال ہمزہ کی تخفیف کرتے ہوئے اس کو ہمزہ بنادیا ہے اور کہا گیا ہے یہ سیل سے ہے اور سال جہنم کی وادیوں میں سے ایک وادی ہے۔ یہ عبدالرحمن بن زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا گیا ہے اور پہلا قول اصح ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے قول ” بعذاب “ کی باء میں اختلاف کیا ہے۔ کہا گیا ہے یہ ” عن “ کے معنی میں ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” فاسئل بہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1۔ 7۔ نسائی 1 ؎ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نضر بن حارث اور قریش میں کے سرکش لوگوں نے جب اللہ تعالیٰ سے عذاب کی خواہش کی اور یہ کہا کہ جو کچھ محمد کہتے ہیں اگر وہ حق بات ہے اور ہم لوگ اس کو نہیں مانتے ہیں تو خدا کرے کہ ہم لوگوں پر آسمان سے پتھروں کا مینہ برسے یا اور کوئی سخت عذاب ہم لوگوں پر نازل ہوجائے اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ہیں اور فرمایا کہ یہ قریش میں کے سرکش لوگ عذاب الٰہی کو دور گن کر اس طرح کی سرکشی کی باتیں کرتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک پچھلی قوموں کی طرح نہ ان مشرکوں پر دنیا میں کوئی عذاب نازل کردینا کچھ دور ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(لیس لہ دافع۔ من اللہ) ۔ متکبر اور سرکش مشرکین میں سے جس کسی نے جلد عذاب کی خواہش کی ہے، کوئی اس عذاب کو اس کے نازل ہونے سے قبل روک سکتا ہے نہ اس کے نازل ہونے کے بعد اس کو اٹھا سکتا ہے۔ یہ آیات کریمہ اس وقت نازل ہوئیں جب نضر بن حارث قرشی وغیرہ اہل شرک نے دعا کرتے ہوئے کہا (اللھم ان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوئتنا بعذاب الیم۔ الانفال 32) ۔ اے اللہ، اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر دردناک عذاب لے آ۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عذاب ضرور واقع ہوگا، یا تو اس دنیا ہی میں جلد ان پر عذاب بھیج دیا جائے گا یا آخرت میں (مبتلا کرنے کے لیے) اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

2 اللہ کے عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ عذاب کافروں کیلئے ہوگا اور اس کو کوئی ٹال نہیں سکے گا۔ پس عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ اس عذاب کیلئے جلد مچانے اور اس کا مطالبہ کرنے کی بجائے اس سے بچنے کی فکر و سعی کا طریقہ اپنایا جائے ‘ کہ حیات مستعار کی یہ فرصت محدود و معدود جو ہر دم ہاتھ سے نکلتی اور رخصت ہوتی جا رہی ہے پھر ملنے والی نہیں ‘ واللہ الموفق وھو المستعان سو اس ارشاد سے ایک بات تو یہ واضح ہوجاتی ہے کہ وہ عذاب اصل میں کافروں ہی کیلئے ہوگا ‘ اور دوسری یہ کہ اس کو کوئی دفع کرنے اور ٹالنے والا نہیں بن سکے گا ‘ سو بڑے ہی شامت زدہ لوگ ہیں وہ لوگ جو اس کیلئے جلدی مچاتے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–4

منکرین کے لئے قیامت کی وضاحت تشریح : اہل مکہ منکرین قیامت ہنسی مذاق میں عذاب مانگتے ہیں کیونکہ ان کے خیال کے مطابق یہ بات بس یونہی کہہ دی گئی ہے جب کہ اس کی تصدیق پکی طرح ہوچکی ہے کہ یہ اللہ رب العزت کی طرف سے نازل کیا جائے گا جس کی طرف روح الامین اور فرشتے چڑھتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کا اندازہ یہ ہے کہ وہ ہمارے پچاس ہزار سالوں کے برابر ہے۔ کافر ایسا عذاب مانگ رہے تھے یعنی اپنے لیے عذاب کی بد دعا کرتے تھے۔ اس سے مراد ابو جہل بن ہشام اور دوسرا نضر بن حارث ہے اس بد دعا سے معلوم ہوا کہ وہ قرآن کریم کو اللہ کی طرف سے نازل تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے اور نہ ہی انہیں قرآن کی وعید کا کچھ اعتبار تھا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–34

سورة المعارج۔ آیات 1 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–2

ف 2 حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ شخص جس نے عذاب مانگا نضر بن حارث تھا جبکہ اس نے یہ کہا تھا اللھم ان کان ھذا ھو الحق میں عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء اوئینا بعذاب الیم چناچہ یہ شخص بدر کے روزمارا گیا۔ جمہور علماء تفسیر نے یہی تاویل کی ہے۔ یا ممکن ہے عذاب مانگنے والے سے مراند آنحضرت ہی ہوں۔ چناچہ شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ ” یعنی پیغمبر نے تم پر عذاب مانگا ہے وہ کسی سے نہ ہٹایا جائیگا۔ (موضح) مگر پہلی تاویل قابل ترجیح ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(70:2) للکافرین : اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :َ (1) یہ عذاب کی دوسری صفت ہے یعنی وہ عذاب جو کافروں پر نازل ہونے والا ہے۔ (2) یہ واقع سے متعلق ہے یعنی کافروں پر نازل ہونے والا۔ (3) یہ سوال محذوف کا جواب ہے، سوال ہوگا کہ کن لوگوں پر واقع ہوگا تو سوال کا یہ جواب ہوگا کہ کافروں پر واقع ہوگا۔ اور لیس لہ دافع عذاب کی صفت ہوگا یا جواب کے دائرہ میں آئے گا (مظہری) ۔ لیس لہ دافع : من اللہ۔ چونکہ اللہ کا ارادہ عذاب سے متعلق ہوجائے گا اس لئے خدا کی طرف سے اس عذاب کو دفع کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ (مظہری)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–18

لغات القرآن۔ سال۔ سوال کیا۔ مانگا۔ ذی المعارج۔ زینوں والا۔ خمیسین الف۔ پچاس ہزار۔ المھل۔ دھنکی ہوئی روئی۔ فصیلۃ ۔ کنبہ۔ خاندان۔ توی۔ وہ رہتا ہے۔ لظی۔ بھڑکتی آگے۔ نزاعۃ۔ کھینچنے والی۔ الشوی۔ کھال اور اس کا ٹکڑا۔ اوعی۔ سنبھال کر رکھتا ہے۔ تشریح : کفار مکہ اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی مانگنے کے بجائے اس کے عذاب اور قیامت آنے کی جلدی کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ اس عذاب اور قیامت کا سوال کریں یا نہ کریں وہ تو بہرحال اپنے وقت پر واقع ہو کر رہے گے اور جب قیامت کے دن کفار ومشرکین پر عذاب آئے گا تو وہ اس قدر بھیانک اور سخت عذاب ہوگا جس کو ساری دنیا مل کر بھی نہ ٹال سکے گی کیونکہ یہ عذاب اس اللہ کی طرف…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–7

روح کابیان۔ (ف 1) ان آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف فرشتے اور روح چڑھتے ہیں اس کے دومعنی ہیں۔ ایک تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا نام روح قرآن شریف میں آیا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہیں کہ نیک لوگ جب مرتے ہیں تو ان کی روح کو فرشتے اللہ کے روبرولے جاتے ہیں ، پچاس ہزار برس کا ذکر جو آن آیتوں میں ہے کہ اس کے بعد دو معنی ہیں۔ ایک تو یہ کہ قیامت کے دن کی درازی پچاس ہزار برس کی ہوگی ، دوسرے معنی یہ ہیں کہ ساتویں زمین سے عرش معلی تک پچاس ہزار برس کا راستہ انسان کے چلنے کا ہے جس کو اللہ کے فرشتے روز کے رز طے کرتے ہیں حاصل مطلب ان دونوں معنی کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں ہزاروں برس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–3

[1] عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ مانگنے والا نضر بن الحارث المکی تھا جس نے دعا کی تھی کہ یارب، اگر یہ قرآن حق ہو اور تیرا کلام ہو تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھر برسا یا دردناک عذاب بھیج۔ اسی کا جواب یہاں دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

سورة المعارج 1: سال سائل سے یا تو کوئی ایک شخص مراد ہے ۔ جیسا کہ بعض روایات میں آتا ہے ۔ کہ نضرین حارث نے مطالبہ کیا تھا ۔ کہ وہ عذاب جس کا آپ وعدہ کرتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں ۔ کہ تکذیب کی صورت میں اس کا آنا ناگریز ہے ۔ وہ کیوں نہیں آتا ۔ وہ آئے اور ہم کو فنا کے گھاٹ اتاردے ۔ یا کوئی شخص مراد نہیں ہے ۔ بلکہ پوری قوم مراد ہے ۔ کہ نزول وعید کی پیشگوئی کو سن کر ان کے دلوں میں شکوک پیدا ہوئے ۔ اور انہوں نے ان شکوک کا مذکرہ ایک دوسرے سے کیا ۔ اس پر اس سورت میں سال سائل کے انداز میں جواب مرحمت فرمایا گیا ب عذاب واقع میں (با) ظن کے معنے میں ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں دوسری جگہ بھی آئا ہے ۔ فاسئل بہ یچلوا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 1۔ اس سورة میں بھی مثل سورة حاقہ کے مجازاة کا اور بعض اعمال موجبہ مجازاة کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ عذاب کافروں کے لئے ہے جس کو کسی حال میں بھی ٹالا نہیں جائے گا 2 ؎ ان کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ وہ عذاب ہے جس کے لئے انہوں نے دعائیں کی ہیں اور بار بار اللہ تعالیٰ سے طلب کیا ہے وہ عذاب عنقریب ان پر نازل ہونا شروع ہوگا اور عنقریب میں جو کہا گیا تھا وہ وہی عذاب تھا جو ان کو دنیا میں دیا گیا اور جس کے متعلق ہم نے اوپر عرض کیا ہے کہ وہ عذاب بدر میں نازل ہونا شروع ہوا ، فتح مکہ تک اس نے کفار مکہ کے ایک ایک فرد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ان کے کفر کی مع ان کے صف لپیٹ دی گئی۔ اس عذاب کو کافروں سے دنیا میں بھی کوئی روک نہ سکا اور آخرت میں بھی یقینا کفار کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور نہ تو اس دنیوی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

The disbelievers used to come to the Holy Prophet ﷺ in groups mocking at the Muslims, and denying the Islamic beliefs, including Resurrection. But at the same time, they used to claim, in ironical style, that they would enter the Paradise, and enjoy its bliss. This verse refers to this attitude of the disbelievers. Since their pretended aspiration to enter Paradise was merely a mockery, and in fact they intended to deny Resurrection, their denial is refuted in this verse by saying that admittedly Allah has created them from a lifeless drop of semen, as they knew it well, and a drop of semen…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

1 Some commentators have taken the verb sa'ala in the Text in the meaning of asking, and have interpreted the verse to mean: "The asker has asked: whom will the torment with which we are being threatened befall'" And AIIah has answered it, saying: "!t will befall the disbelievers." But most of the conunentators have taken sa ala here in the meaning of demanding. Nasa'i and other traditionists have related a tradition from Ibn 'Abbas, and Hakim hold it as authentic, that Nadr bin al-Harith Kaladah had said "O God, if it is really the Truth sent dawn by You, then rain down stones on us from the…

Read the full tafseer →