Explained with ayahs 36–44
مرکز نور و ہدایت سے مفرور انسان
اللہ تعالیٰ عزوجل ان کافروں پر انکار کر رہا ہے جوحضور ﷺ کے مبارک زمانہ میں تھے خود آپ ﷺ کو وہ دیکھ رہے تھے اور آپ ﷺ جو ہدایت لے کر آئے وہ ان کے سامنے تھی اور آپ ﷺ کے کھلے معجزے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے پھر باوجود ان تمام باتوں کے وہ بھاگ رہے تھے اور ٹولیاں ٹولیاں ہو کر دائیں بائیں کترا جاتے تھے، جیسے اور جگہ آیت (فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ 49ۙ) 74۔ المدثر :49) ، یہ نصیحت سے منہ پھیر کر ان گدھوں کی طرح جو شیر سے بھاگ رہے ہوں کیوں بھاگ رہے ہیں ؟ یہاں بھی اسی طرح فرما رہا ہے کہ ان کفار کو کیا ہوگیا ہے یہ نفرت کر کے کیوں تیرے پاس سے بھاگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
سورة الْمَعَارِج 29
یہ ہے وہ بات جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رب المشارق والمغارب ہونے کی قسم کھائی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم چونکہ مشرقوں اور مغربوں کے مالک ہیں اس لیے پوری زمین ہمارے قبضہ قدرت میں ہے اور ہماری گرفت سے بچ نکلنا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ ہم جب چاہیں ہلاک کرسکتے ہیں اور تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو اٹھا سکتے ہیں جو تم سے بہتر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
(آیت) وَالَّذِيْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَاۗىِٕمُوْنَ ، یہاں بھی لفظ شہادات کو بلفظ جمع لانے میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ شہادت کی بہت سی قسمیں ہیں اور ہر قسم شہادت کو قائم رکھنا واجب ہے۔ اس میں شہادت ایمان توحید و رسالت بھی داخل ہے۔ ہلال رمضان اور حدود شرعیہ کی شہادت بھی اور لوگوں کے باہمی معاملات جو کسی کے سامنے ہوئے ہوں ان کی شہادت بھی کہ ان شہادتوں کا چھپانا اور ان میں کمی بیشی کرنا حرام ہے ان کو صحیح صحیح قائم کرنا اس آیت کی رو سے فرض ہے۔ (از مظہری) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Read the full tafseer →یہ آخر میں نبی ﷺ کے لیے تسلی اور منکرین کے لیے وعید ہے کہ اگر یہ لوگ نہیں سمجھتے تو ان کو چھوڑو۔ یہ جن سخن سازیوں اور دلچسپیوں میں لگے ہوئے ہیں ان میں لگے رہیں یہاں تک کہ وہ دن ان کے آگے آ جائے جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے اور وہ اس سے نچنت ہیں۔
Read the full tafseer →42۔ 1 یعنی فضول اور لایعنی بحثوں میں پھنسے اور اپنی دنیا میں مگن رہیں تاہم آپ اپنی تبلیغ کا کام جاری رکھیں ان کا رویہ آپ کو اپنے منصب سے غافل یا بددل نہ کر دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
12: یعنی ان سب کو ہلاک کرے ان کی جگہ کوئی اور قوم پید کردیں جو ان سے بہتر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
فذرھم ............................ یوعدون
آپ کو کہا جاتا ہے کہ یہ نہایت بےوقعت لوگ ہیں اور ان کا انجام نہایت ہی خوفناک ہے۔ چناچہ قیامت کے دن ان کے حال اور کسمپری کا جو نقشہ کھینچا جاتا ہے وہ اپنی جگہ بہت ہی خوفناک ہے جبکہ اس نقشہ کشی اور تصویر سازی میں حقارت آمیز اور مضحکہ خیزی کے رنگ بھرے ہوئے ہیں اور یہ اس حال کے جواب میں ہے جس میں یہاں دنیا میں یہ لوگ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے تھے۔
یہ لوگ جب قبروں سے نکلیں گے ، تو گھبراہٹ میں اس تیزی سے بھاگیں گے جیسے یہ اپنے آستانوں کی طرف بھاگ رہے ہوں۔ دنیا میں جس طرح ان کی چال ہوتی تھی اس کی طرف تہکمانہ اور توہین آمیز اشارہ ہے۔ یہ اپنے میلوں ٹھیلوں میں…
Read the full tafseer →5 یعنی تھوڑے دن کی ڈھیل ہے۔ پھر سزا ہونی یقینی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 42{ فَذَرْہُمْ یَخُوْضُوْا وَیَلْعَبُوْا } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ چھوڑ دیجیے انہیں ‘ یہ لگے رہیں بےہودہ باتوں اور کھیل کود میں“
{ حَتّٰی یُلٰقُوْا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۔ } ”یہاں تک کہ یہ ملاقات کریں اپنے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔“
قبل ازیں سورة الطور ‘ آیت 45 میں بھی ہم یہی الفاظ { فَذَرْہُمْ حَتّٰی یُلٰقُوْا } پڑھ آئے ہیں۔ یہ اسلوب ابتدائی دور کی سورتوں میں عام ملتا ہے۔ اس میں ایک طرف حضور ﷺ کی دلجوئی اور تسلی کا پہلو ہے تو دوسری طرف مشرکین سے نفرت اور غصے کا اظہار بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
26 یعنی جو پروردگار اتنے زیادہ مشرقوں اور مغربوں کو وجود میں لاسکتا اور ان پر مکمل کنٹرول رکھ سکتا ہے کہ ان کے زاویوں میں ذرہ بھر بھی فرق نہ آنے پائے وہ یہ نہیں کرسکتا کہ تم سے تمہاری یہ چھوٹی چھوٹی سرداریاں، جن پر تم اس قدر پھولے پھرتے ہو، تم سے چھین کر تمہیں ذلیل و رسوا کرکے پیچھے ہٹا دے اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے ؟ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان متکبر قریشیوں کو پیچھے ہٹایا اور ان مسلمانوں کو آگے کردیا جن کے ساتھ یہ بیٹھنا بھی اپنی توہین سمجھتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد معاملہ یکسر الٹ گیا۔ مسلمان فتح یاب اور حاکم اور یہ قریشی مقہور و مغلوب ہوگئے اور بعد میں ان کافروں میں سے عزت صرف اسے ملی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
18۔ (اور دنیا میں اس کی ہمیشہ تکذیب ہی کرتے رہے تھے) (آیت) ” فذرھم یخوضوا ویلعبوا “۔ یعنی آپ ﷺ ان بدمستوں اور غفلت میں پڑے رہنے والوں کے حق میں زیادہ فکر وتردد نہ کیجئے یہ مطلب نہیں کہ آپ ﷺ ان پر تبلیغ بھی ترک کردیجئے۔ (آیت) ” کانھم الی نصب یوفضون “۔ یعنی جس طرح دنیا میں چڑھاوا چڑھانے کیلئے اپنی پرستش گاہوں کی طرف لپکتے ہوئے جاتے تھے۔ (آیت) ” نصب “۔ ملاحظہ ہو (آیت) ” وما ذبح علی النصب “۔ پر حاشیہ سورة المائدہ (پ 6) کے رکوع اول میں۔ (آیت) ” خاشعۃ ابصارھم “۔ یہ آنکھوں کا جھکا ہونا افراط خوف وندامت سے ہوگا (آیت) ” ترھقھم ذلۃ “۔ اردومح اور ہ میں ” انکے چہروں پر پھٹکار برس رہی ہوگی “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
کلا انا خلقناھم مما یعلمون مطلب یہ کہ جس مادہ سے یہ بنے ہیں اس لحاظ سے تو سب انسان برابر ہیں اگر وہ مادہ ہی انسان کے جنت میں جانے کا سبب ہو تو نیک و بد، ظالم و عادل سب ہی کو جنت میں جانا چاہیے، لیکن معمولی عقل بھی یہ فیصلہ کرنے کے لئے کافی ہے کہ جنت کا استحقاق انسان کے مادہ تخلیق کی بناء پر نہیں، بلکہ اس کے اوصاف کی بناء پر ہوتا ہے۔
بحمدتم اللہ
Read the full tafseer →فذرھم . یعنی جب آپ واقف ہیں کہ ہم انکو ہلاک کر ڈالنے پر قابو رکھتے ہیں تو آپ ﷺ ان کی پروا نہ کیجئے۔ ہم ان کو ڈھیل
دینا اور سخت ترین عذاب میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔
یخوضوا او یلعبوا . کہ وہ اپنی دنیا میں گھستے اور کھیلتے رہیں۔
حتی یلقوا یومھم الذی یوعدون . اس روز تک جس میں عذاب ہونے کا ان کو خوف دلایا جا رہا ہے ‘ ڈھیل دو
(وعید حشر سے مراد ہے وعید عذاب حشر کیونکہ قیامت کا دن مؤمنوں کے لیے وعید کا دن نہیں ہے) ۔
Read the full tafseer →سو محمد آپ ان کو اسی باطل غوطہ زن اور ان کے کفر میں استہزاء کرتا ہوا رہنے دیجیے، یہاں تک کہ ان کو اس دن سے واسطہ پڑے جس میں ان سے عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے یعنی قیامت کا دن۔
Read the full tafseer →فذرھم یخوضوا ویلعبوا…: مراد قیامت کا دن ہے، کیونکہ اس کے بعد ”یوم یخرجون“ اس سے بدل ہے۔ دنیا کے کھیل کود کی مہلت موت تک ہے اور موت قیامت کا دروازہ ہے۔
Read the full tafseer →انہیں چھوڑ دو کہ اپنے باطل میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں اور دنیا میں کھیلتے رہیں۔ یہ کلام وعید کے طریقہ پر ہے۔ ابن محصین، مجاہد اور حمید نے اسے حتیٰ یلقوا یومھم الذی یوعدون پڑھا ہے۔ یہ آیت، آیت سیف سے منسوخ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
34۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم برب المشرق والمغرب پس میں مشرقوں اور مغربوں کے پروردگار کی قسم کھاتا ہوں سے مراد ہے کہ سورج کے لیے ہر دن طلوع ہونے کی جگہ ہے جس میں وہ طلوع ہوتا ہے اور ہر دن میں غروب ہونے کی جگہ ہے کہ جس میں وہ غروب ۃ وتا ہے جو گزشتہ دن کے مطلع سے اور مغرب سے مختلف ہوتا ہے اور اس کے غروب ہونے کی جگہ کے علاوہ۔
35۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) آیت برب المشرق والمغرب کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ منزلیں ہیں جن میں سورج اور چاند چلتے ہیں۔
Read the full tafseer →[فَذَرْهُمْ : تو آپ چھوڑ دیں ان کو ][ يَخُوْضُوْا وَيَلْعَبُوْا : وہ بےپر کی اڑائیں اور کھیلیں کو دیں ][ حَتّٰى يُلٰقُوْا : یہاں تک کہ وہ ملاقات کریں ][ يَوْمَهُمُ الَّذِي : اپنے اس دن سے جس کا ][ يُوْعَدُوْنَ : ان سے وعدہ کیا جاتا ہے ]
(آیت۔ 42) ۔ فَذَرْھُمْ میں زَرْ فعل امر ہے۔ اس کا جواب امر ہونے کی وجہ سے یَخُوْضُوْا اور یَلْعَبُوْا مضارع مجزوم ہیں، جبکہ حتیٰ کی وجہ سے یُلٰقُوْا مضارع منصوب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
﴿فَذَرْهُمْ يَخُوْضُوْا وَ يَلْعَبُوْا ﴾ (سو آپ انہیں چھوڑیے۔ یہ باطل چیزوں میں پڑے رہیں اور کھیل میں لگے رہیں) انہیں ایمان لانا نہیں ہے۔ انکار وعناد پر تلے ہوئے ہیں انہیں اس دن سے سابقہ پڑنا ہی ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے (اس سے قیامت کا دن مراد ہے) جس دن صور پھونکا جائے گا یہ اس دن اپنی قبروں سے ایسی تیزی سے نکلیں گے جیسا کہ دنیا میں پرستش گاہوں کی طرف جلدی جلدی جایا کرتے تھے جن میں بت وغیرہ رکھے ہوئے ہوتے تھے یہ لوگ دنیا میں بڑا شور مچاتے تھے قیامت کے دن ان کا یہ حال ہوگا کہ ان کی آنکھیں نیچے کو جھکی ہوں گی اور ان پر ذلت چھائی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
حیرت واستعجاب برحال اہل عناد وتنبیہ وتہدید برخود فریبی ایشاں :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فمال الذین کفروا ........ الی .......... کانوا یوعدون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مجازات اعمال کا بیان تھا اور یہ کہ مجرمین قیامت کے روز کیسی شدید بےچینی اور اذیت میں مبتلا ہوں گے اب ان آیات میں ان معاندین کی حالت میں حیرت وتعجب کا اظہار کیا جارہا ہے جو اپنی مذموم اور بےہودہ روش سے آنحضرت ﷺ کو اذیت پہنچاتے اور دین کا مذاق اڑاتے تھے اور پھر عجیب تر امر یہ ہے کہ اس دل آزار اور بےہودہ روش کے باوجود اپنے بارے میں یہ دعوے کرتے تھے کہ وہ آخرت میں بڑے انعامات سے نوازے جائیں گے اس ضمن میں پھر اس بات کا اعادہ کیا جا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
ٖ 14:۔ ” فذرھم “ زجر مع تخویف دنیوی۔ فرمایا آپ ان مشرکین کے عناد و تعنت اور استکبار و انکار کی پرواہ نہ کریں اور ان کو استہزاء و انکار اور لہو ولعب میں منہمک ہونے دیں یہاں تک کہ وہ اس دن کو پالیں جس کا انسے وعدہ کیا جا رہا ہے۔ مراد قیامت کا دن ہے یعنی اب تو لہو و لعب میں کھوئے ہوئے ہیں اور حق کو نہیں مانتے قیامت کے دن سیدھے ہوجائیں گے۔ ” یوم یخرجون “ یہ وہ دن ہے جب وہ قبروں سے نکل کر جلدی جلدی چلیں گے گویا کہ نشانے کی طرف دوڑ رہے ہیں جیسے انسان نشانے کی طرف سیدھا اور تیز دوڑتا ہے اسی طرح وہ بھی داعی کی طرف سیدھے دوڑیں گے ” یوفضون ای یوعون “ (روح) ۔ خاشعۃ ابصارہم، ان کی آنکھوں مارے خوف کے جھکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
گذشتہ سے پیوستہ :
گزشتہ آیات میں منکرین قیامت کو وعید سنائی گئی تھی کہ قیامت کے روز مجرمین کو دوزخ خود اپنی طرف پکارے گی ۔ جو دنیا میں احکام الہٰی سے پشت پھیرتے تھے۔ ردگردانی کرتے تھے مال سمیٹ سمیٹ کر رکھتے تھے ۔ خرچ کرنے میں بخل کرتے تھے۔ حلال و حرام میں تمیز نہیں کرتے تھے انہیں دوزخ چن چن کر اپنے اندر داخل کرے گی۔ انسان کے پیدائشی طور پر حریص اور بےصر اہونے کا ذکر کیا ۔ یعنی جب اسے شرپہنچتا ہے تو بےصبری کا اظہار کرتا ہے۔ اور جب اسے خیر پہنچتی ہے تو بخل کرتا ہے۔ البتہ اس سے وہ لوگ متثنیٰ ہیں جن میں آٹھ صفات پائی جاتی ہیں۔ یعنی نماز میں مدادمت اختیار کرتا ہے۔ البتہ اس سے وہ لوگ متثنیٰ ہیں جن…
Read the full tafseer →فَذَرْہُمْ يَخُوْضُوْا وَيَلْعَبُوْا حَتّٰى يُلٰقُوْا يَوْمَہُمُ الَّذِيْ يُوْعَدُوْنَ 42 ۙ
وذر
[يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی:
قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] ، فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] ، وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] إلى أمثاله وتخصیصه في قوله : وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] ، ولم يقل : يترکون ويخلّفون، فإنه يذكر فيما بعد هذا الکتاب إن شاء اللہ . [ والوَذَرَةُ : قطعة من اللّحم، وتسمیتها…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
ترکیب : مھطعیں المھطع المسرع وقیل المادعنقہ ھو حال من الذین کفروا قبلک حولک معمول محطعین عزین جمع عزۃ وھی العصتبہ من الناس وقیل اصلھا عزوۃ من العزوکان کل فرقہ تعتزی ای تنسب الی غیرمن تعتزی الیہ الاخری فی الصحاح العزۃ الفرقۃ من الناس والھاء عوض عن الیاء والجمع عزی وعزون عن تتعلق بعزین ویجوزان تکون حالان یدخل الجملۃ مفعول بطمع انا لقادردن جواب القسم وما نحن اماجواب آخر للقسم اوحال عن القادرون یخوضوا ویلعبوا مجزومان علیٰ انھما جواب الامریوم بدل من یوتھم سراعاجمع سریع والاجداث جمع جدث وھوا لقبرھو حال من فاعل یخرجون وکذا کانھم نصب عندالجمہور بفتح النون و سکون الصاد بمعنی العلم وقریٔ بضم النون…
Read the full tafseer →فَذَرْھُمْ یَخُوْضُوْا وَیَلْعَبُوْا حَتّٰی یُلٰـقُوْا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ ۔ (المعارج : 42)
(پس ان کو چھوڑ دو ، یہ اپنی بےہودہ باتوں اور کھیل میں لگے رہیں یہاں تک کہ اپنے اس دن کو پہنچ جائیں جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے (جس کی ان کو دھمکی دی جارہی ہے) ۔ )
ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ اگر نہایت سہل لیکن محکم دلائل کو سن کر بھی قیامت پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بات طے کرچکے ہیں اس کیخلاف کسی بات کو بھی سنجیدگی سے سننے اور ماننے کے لیے آمادہ نہیں، تو ایسے ہٹ دھرم لوگوں سے سر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
فہم القرآن
ربط کلام : ایمانداروں کو جنت کی خوشخبری سنانے پر کفار کا رد عمل۔
مکی دور میں اسلام کے مخالفوں کا یہ خیال بلکہ یقین تھا کہ نبی ﷺ کی دعوت قبولیت عامہ نہیں پاسکے گی۔ اسی بنا پر اسلام اور مسلمانوں کو اپنے سے حقیر جانتے اور ان الفاظ کے ساتھ نبی ﷺ اور مسلمانوں کو مذاق کیا کرتے تھے۔
” جب یہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کا مذاق اڑاتے ہیں ہاں یہ شخص ہے جسے ” اللہ “ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ “ (الفرقان : 41)
(وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْ بَیْنِنَا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بالشّٰکِرِیْنَ ) (الانعام : 53)
” اور اسی طرح ہم…
Read the full tafseer →42 : فَذَرْھُمْ (تو آپ ان کو رہنے دیں) مکذبین کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ یَخُوْضُوْا (کہ اسی شغل میں) یعنی باطل پرستی میں وَیَلْعَبُوْا (اور تفریح میں) دنیا کے دھندے میں۔ حَتّٰی یُلٰقُوْا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ (یہاں تک کہ ان کو اپنے اس دن سے سابقہ واقع ہو جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے) جس میں ان سے عذاب کا وعدہ کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →41 ۔” علی ان نبدل خیرا منھم “ اس پر کہ ہم ان سے زیادہ فرمانبردار اور اللہ کی زیادہ بات ماننے والے پیدا کریں۔ ” ومانحن بمسبوقین “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
36۔ 44۔ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتیں سن کر آنحضرت ﷺ کے دائیں بائیں ہو کر نکل جاتے تھے ‘ اور قرآن شریف کی پوری نصیحت سننے سے کتراتے تھے اور آپس میں یہ باتیں کرتے تھے کہ یہ ساری نصیحت اس لئے ہے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں گے اور اس نئی زندگی میں میوے کھانے کو باغ میں گے۔ پھر کہتے تھے اگر یہ بات سچ ہے تو جس طرح بہ نسبت ان مسلمانوں کے دنیا میں ہم راحت و آرام سے ہیں اسی طرح ان سے پہلے ہم کو ہی وہ باغ ملیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جنت کچھ ان کے بڑے بوڑھوں کے بنائے ہوئے باغ نہیں ہیں کہ بغیر مرضی اللہ تعالیٰ کے یہ ان باغوں میں گھس جائیں گے۔ نہیں یہ خال ان کا بالکل…
Read the full tafseer →(جب حیات بعد الممات اور جزا وسزا متحقق ہوگئی اور وہ اپنی تکذیب اور عدم اطاعت پر جم گئے (فذرھم یخوضوا ویلعبوا) تو آپ ان کو باطل میں پڑے رہنے اور کھیلنے میں چھوڑ دیں۔ یعنی باطل اقوال اور فاسد عقائد میں مشغول اپنے دین سے کھیلتے رہیں، کھاتے پیتے اور مزے اڑاتے رہیں (حتی یلقوا یومھم الذی یوعدون) حتی کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ اس سے ملاقات کرلیں۔ کیونکہ اللہ تعایل نے ان کے لیے عبرت ناک سزا اور وبال تیار کررکھا ہے جو ان کے باطل اقوال و عقائد میں مشغول رہنے کا انجام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
قول باری ہے (للسائل والمحروم سائل اور محروم کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سوال کرنے والے کو سائل کہتے ہیں اور محروم وہ شخص ہے جسے کسی تجارت میں کامیابی نہ ہوتی ہو۔ ابوقلابہ کا قول ہے کہ محروم وہ شخص جس کا مال چلا جائے۔ حسن بن محمد کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا، اسے مال غنیمت حاصل ہوا، اس کے بعد کچھ دوسرے لوگ بھی آگئے اور یہ آیت نازل ہوئی (فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے)
حضرت انس ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان المحروم من حرم وصیتہ بیشک محروم وہ شخص ہے جسے اس چیز سے محروم رکھا جائے جس کی اس کے لئے وصیت کی…
Read the full tafseer →39 ۔ پیغمبر کے لیے تسلیہ و تسکین اور منکرین کے لیے تہدید ووعید : سو پیغمبر کے لیے تسلی و تسکین کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ پس چھوڑ دو ان لوگوں کو یونہی لگے رہیں اپنے کھیل تماشوں میں یہاں تک کہ یہ پہنچ کر رہیں اپنے اس دن کو جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے، کہ ہٹ دھرموں کا آخری علاج یہی ہے کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ پس آپ ان کی فکر میں نہ پڑیں کہ انذار اور تبلیغ حق کا جو فریضہ آپ کے ذمے تھا وہ آپ نے ادا کردیا، بتمام و کمال ادا کردیا، اب رہ گیا معاملہ ان لوگوں کے راہ راست پر آجانے اور پیغام حق کو قبول کرنے کا، تو وہ نہ تو آپ کی ذمہ داری میں شامل ہے اور نہ ہی یہ آپ کے بس اور اختیار میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–44
نیک لوگوں کی صفات
تشریح : ایک اچھے پکے اور صالح جنت کے حقدار کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ کافی دفعہ وضاحت سے پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں یہاں پھر مختصراً بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان فطرتاً کمزور طبیعت یعنی غلطیوں کا پتلا سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ہے ہی۔ مگر اس کی اصلاح کے لئے ہی تو قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ تو جو شخص اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتا ہے تو وہی بہادر انسان ہے وہ خود کو شیطان کے چنگل سے نکال کر بندگانِ الٰہی میں شامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عمل بہت ضروری ہے۔ اگر زبانی ایمان لے آنا کافی ہوتا تو پھر منافق دوزخ کے نچلے درجے میں کیوں ڈالے جاتے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
آیات 36 تا 44۔
اسرار ومعارف۔
اور ان کفار کو کیا ہوا ہے کہ بجائے تصدیق کرنے ہر طرف سے آپ پر یلغار کرتے ہیں کہ آپ کے ارشادات کی تکذیب کرتے ہیں اور اعتراض کے ساتھ مذاق اڑائیں اس پر طرفہ یہ کہ ہر قوم آخرت میں اپنے لیے نجات کی امید رکھتی ہے لہذا مغرب ومشرق کے یہود ہنود ہوں یانصاری وغیرہ سب اپنے لیے جنت کا دعوی بھی رکھتے ہیں جو یکسر باطل ہے ایسا ہرگز نہ ہوسکے گا بلکہ اطاعت محمد کے علاوہ اب نجات کا کوئی راستہ نہیں اور جو لوگ سرے سے کوئی مذہب نہیں رکھتے انہیں بھی دیکھ لیناچاہیے کہ کس طرح ایک قطرہ منی سے ہم نے انہیں باکمال خوبصورت صحت مند انسان بنادیا اور یہ مشارق ومغارب کے نظام جو ہر لحظہ سے بیشمار…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی قیامت کا دن
Read the full tafseer →(70:42) فذرھم یخرضوا ویلعبوا :عاطفہ ہے بمعنی پس۔ سو۔ تو۔ ذر فعل امر حاضر۔ واحد مذکر۔ وذر (باب سمع فتح) مصدر سے تو چھوڑ دے (اس کی ماضی نہیں آتی) ۔ مضارع کے صیغہ میں قرآن مجید میں ہے :۔
والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا وصیۃ لازواجھم متاعا الی الحول (2:240) اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں۔ وہ اپنی عورتوں کے حق میں وصیت کر جائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جائے) ۔
ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب : تو ان کو چھوڑ دے۔
یخوضوا۔ مضارع مجزوم جمع مذکر غائب۔ خوض (باب نصر) مصدر سے وہ مشغول ہوں ۔ وہ مشغول رہیں۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب امر ہے۔
یلعبوا : مضارع جمع مذکر غائب۔ لعب (باب سمع) مصدر۔ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
لغات القرآن، ۔
مھطعین۔ وہ دوڑتے آتے ہیں۔ عزین۔ گروہ در گروہ۔ الاجداث۔ قبریں۔ نسب۔ نشانیاں لگی ہوئی چیز۔ یوفضون۔ دودوڑتے ہیں۔
تشریح : زیر مطالعہ آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ انسان اگرچہ کم ہمت پیدا کیا گیا ہے یعنی تمام تر عظمتوں کے باوجود اس میں کچھ فطری کمزوریاں موجود ہیں لیکن اگر ایمان اور عمل صالح کے ساتھ زندگی گزاری جائے تو پھر اس کی نیکیاں اور اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری اس کو جنت کی ابدی راحتوں کا مستحق بنا دیتی ہیں۔
کفار مکہ کا یہ حال تھا کہ جب نبی کریم ﷺ ان کے سامنے اللہ کا دین پیش کرکے ان کو گمراہی سے ہدایت کی طرف آنے کی دعوت دیتے یا جب آپ تلاوت کلام پاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
بت پرستی کا انجام۔
(ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتیں سن کر نبی ﷺ کے دائیں بائیں ہوکر نکل جاتے تھے اور قرآن شریف کی پوری نصیحت سننے سے کنیاتے تھے اور آپس میں یہ باتیں کرتے تھے کہ یہ ساری نصیحت اس لیے ہے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں گے اور اس نئی زندگی میں میوہ کھانے کو باغ ملیں گے پھر کہتے تھے کہ اگر یہ بات سچ ہے تو جس طرح بہ نسبت ان مسلمانوں کے دنیا میں ہم راحت و آرام سے ہیں اسی طرح ان پہلے ہم کو بھی وہ باغ ملیں گے اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جنت کچھ انکے بڑے بوڑھوں کے بنائے ہوئے باغ نہیں کہ بغیر مرضی اللہ کے یہ ان باغوں میں گھس جائیں گے نہیں یہ خیال ان کا بالکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
[10] کیونکہ سورج ہر روز ایک نئے زاوئیے سے طلوع اور نئے زاوئیے سے غروب ہوتا ہے اس اعتبار سے بہت سے مشرق اور بہت سے مغرب ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
مالداروں کی ذہنیت
1: کہ ان لوگوں کو اپنے مال اور اپنی دولت پر بڑا ناز ہے ۔ اور ان کی رائے میں چونکہ یہ دنیا کی نعمتوں سے بہرہ ور ہیں ۔ اس لئے ضروری ہے ۔ کہ عالم آخرت میں بھی ان کا تفوق غربا پر قائم رہے ۔ اور وہاں بھی جنت کی تمام مسرتوں سے استفادہ کرنے کا انہیں حق حاصل ہو ۔ حالانہ یہ قطعاً اس پاک جگہ میں جانے کی استعداد نہیں رکھتے ۔ اور مال دولت چاندی سونے کے ذخائر کو یہ لوگ کیوں اتنی اہمیت دیتے ہیں ۔ کہ اس کی وجہ سے اپنے کو افضل سمجھتے ہیں ۔ اور غریب مسلمانوں کو اپنی نظروں میں حقیر جانتے ہیں ۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ ان چیزوں سے کہیں یہ اپنی فطرت کو بدل سکتے ہیں ؟ کیا یہ وہی نہیں ہے ۔ جن کو…
Read the full tafseer →(42) تو اے پیغمبر آپ ان کو انہی بےہودہ نکتہ چینیوں اور کھیل و تفریح میں مشغول رہنے دیجئے یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے جاملیں اور ان کو اس دن سے سابقہ پڑجائے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ یعنی آپ ان پر سے اپنا ہاتھ اٹھا لیجئے اور ان کو اسی کفروعناد اور تعصب میں پڑا رہنے دیجئے کہ یہ دین حق کو اپنے کھیل و تفریح کا مشغلہ بناتے رہیں یہاں تک کہ اپنے اس دن سے ججاملیں جس دن کا ان سے وعدہ کررکھا ہے یعنی قیامت آجائے اور یہ قیامت سے جاملیں آگے مختصر اس دن کا احوال بیان فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ف 2۔ پس جب نئی مخلوق اور وہ بھی ایسی جس میں صفات کمال زیادہ ہوں جن میں زیادہ اشیاء پیدا کرنا پڑیں ہم کو پیدا کرنا آسان ہے تو تم کو دوبارہ پیدا کرنا کون سا مشکل ہے۔
Read the full tafseer →آپ ﷺ ان لوگوں کو چھوڑیں تاکہ جو چاہتے ہیں کرلیں اور اپنے وعدہ کے دن سے جا ملیں
42 ؎ (ذرھم) تو ان کو چھوڑ دے۔ اس میں ھم ضمیر جمع مذکر غائب ہے۔ (یخوضوا) جمع مذکر غائب مضارع جو منصوب و مجزوم خوض مصدر وہ مشغول ہوں۔ وہ مشغول رہیں۔ (یلعبوا) جمع مذکر غائب مضارع مجزوم لعب مصدر وہ کھیلتے رہیں۔ وہ کھیل میں پڑے رہیں۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں کیونکہ ان کی مت الٹی ہے اور یہ سیدھی بات کو سمجھنے والے نہیں ہیں جو یہ الٹی سیدھی ہانکتے اور بکتے ہیں ان کو ہانکنے اور بکنے دیں ان پر یہ مثل صادق آتی ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے میں نے ان کو جو اپنے قانون امہال کے تحت جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ (...and those who are upright in their testimonies, [ 70:33] '. The word shahadat is the plural of shahadah. The use of plural number in this verse too indicates that there are many types and categories of 'testimony', and it is necessary to stand firm by one's testimony of any type. This includes testifying to the faith of Islam, Divine existence and His Oneness, and testifying that Sayyidna Muhammad ﷺ is His Final Messenger. It is obligatory to testify to the crescent of Ramadan, if one has seen it. Giving a true and accurate account of Shari'ah…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
29 This is that for which Allah Almighty has sworn an oath of His being Lord of the Easts and Wests. It means: "As We are Owners of the Easts and Wests, the whole earth is under Our control and power, and you have no power to escape Our punishment: We can destroy you as and when We like and can create another people that may be better than you. "
Read the full tafseer →