Explained with ayahs 36–44
مرکز نور و ہدایت سے مفرور انسان
اللہ تعالیٰ عزوجل ان کافروں پر انکار کر رہا ہے جوحضور ﷺ کے مبارک زمانہ میں تھے خود آپ ﷺ کو وہ دیکھ رہے تھے اور آپ ﷺ جو ہدایت لے کر آئے وہ ان کے سامنے تھی اور آپ ﷺ کے کھلے معجزے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے پھر باوجود ان تمام باتوں کے وہ بھاگ رہے تھے اور ٹولیاں ٹولیاں ہو کر دائیں بائیں کترا جاتے تھے، جیسے اور جگہ آیت (فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ 49ۙ) 74۔ المدثر :49) ، یہ نصیحت سے منہ پھیر کر ان گدھوں کی طرح جو شیر سے بھاگ رہے ہوں کیوں بھاگ رہے ہیں ؟ یہاں بھی اسی طرح فرما رہا ہے کہ ان کفار کو کیا ہوگیا ہے یہ نفرت کر کے کیوں تیرے پاس سے بھاگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
سورة الْمَعَارِج 30
اصل الفاظ ہیں الی نصب یوفضون۔ نصب کے معنی میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ان میں سے بعض نے اس سے مراد بت لیے ہیں اور ان کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اور محشر کی مقرر کی ہوئی جگہ کی طرف اس طرح دوڑے جا رہے ہونگے جیسے آج وہ اپنے بتوں کے استھانوں کی طرف دوڑتے ہیں۔ اور بعض دوسرے مفسرین نے اس سے مراد وہ نشان لیے ہیں جو دوڑ کا مقابلہ کرنے والوں کے لیے لگائے جاتے ہیں تاکہ ہر ایک دوسرے سے پہلے مقرر نشان پر پہنچنے کی کوشش کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
(آیت) وَالَّذِيْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَاۗىِٕمُوْنَ ، یہاں بھی لفظ شہادات کو بلفظ جمع لانے میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ شہادت کی بہت سی قسمیں ہیں اور ہر قسم شہادت کو قائم رکھنا واجب ہے۔ اس میں شہادت ایمان توحید و رسالت بھی داخل ہے۔ ہلال رمضان اور حدود شرعیہ کی شہادت بھی اور لوگوں کے باہمی معاملات جو کسی کے سامنے ہوئے ہوں ان کی شہادت بھی کہ ان شہادتوں کا چھپانا اور ان میں کمی بیشی کرنا حرام ہے ان کو صحیح صحیح قائم کرنا اس آیت کی رو سے فرض ہے۔ (از مظہری) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Read the full tafseer →لفظ ’نُصُبٌ‘ جمع ہے ’نَصِیْبٌ‘ کی جس کے ایک معنی گاڑے ہوئے پتھر کے ہیں۔ گاڑے ہوئے پتھر سے مراد وہ پتھر بھی ہو سکتے ہیں جو مشرکین اپنی نذریں اور قربانیاں پیش کرنے کے لیے گاڑتے تھے اور وہ پتھر بھی ہو سکتے ہیں جو دوڑ وغیرہ کے مقابلہ کے لیے نشان کے طور پر گاڑ دیے جاتے ہیں۔
ابن عباسؓ، مجاہدؒ اور ضحاکؒ اس سے مراد لیتے ہیں جس کو دوڑ لگانے کے لیے ایک نشان کے طور پر گاڑا جائے۔
ابوالعالیہؒ اور یحییٰ بن کثیرؒ اس سے ’غایت‘ (یعنی گول کا نشان) مراد لیتے ہیں جس کو نشان ٹھہرا کر اس کی طرف مقابلہ کی دوڑ لگائی جائے۔
’ایفاض‘ کے معنی ’اسراع‘ یعنی تیزی سے چلنے یا بھاگنے کے ہیں۔
میرے نزدیک لفظ ’نُصُبٌ‘ یہاں نشان…
Read the full tafseer →43۔ 1 جدث کے معنی ہیں قبر۔ جہاں بتوں کے نام پر جانور ذبح کیے جاتے ہیں اور بتوں کے معنی میں بھی استعمال ہے۔ بتوں کے پجاری جب سورج طلوع ہوتا تھا تو نہایت تیزی سے اپنے بتوں کی طرف دوڑتے کہ کون پہلے اسے بوسہ دیتا ہے۔ اسی طرح قیامت والے دن اپنی قبروں سے برق رفتاری سے نکلیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
12: یعنی ان سب کو ہلاک کرے ان کی جگہ کوئی اور قوم پید کردیں جو ان سے بہتر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
فذرھم ............................ یوعدون
آپ کو کہا جاتا ہے کہ یہ نہایت بےوقعت لوگ ہیں اور ان کا انجام نہایت ہی خوفناک ہے۔ چناچہ قیامت کے دن ان کے حال اور کسمپری کا جو نقشہ کھینچا جاتا ہے وہ اپنی جگہ بہت ہی خوفناک ہے جبکہ اس نقشہ کشی اور تصویر سازی میں حقارت آمیز اور مضحکہ خیزی کے رنگ بھرے ہوئے ہیں اور یہ اس حال کے جواب میں ہے جس میں یہاں دنیا میں یہ لوگ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے تھے۔
یہ لوگ جب قبروں سے نکلیں گے ، تو گھبراہٹ میں اس تیزی سے بھاگیں گے جیسے یہ اپنے آستانوں کی طرف بھاگ رہے ہوں۔ دنیا میں جس طرح ان کی چال ہوتی تھی اس کی طرف تہکمانہ اور توہین آمیز اشارہ ہے۔ یہ اپنے میلوں ٹھیلوں میں…
Read the full tafseer →6 یعنی کسی خاص نشان اور علامت کی طرف جیسے تیزی سے دوڑتے ہیں اور ایک دوسرے سے پہلے پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ یا نصب سے بت مراد ہوں جو کعبہ کے گرد کھڑے کیے ہوئے تھے۔ ان کی طرف بھی بہت عقیدت اور شوق کے ساتھ لپکتے ہوئے جاتے تھے۔
Read the full tafseer →آیت 43{ یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّہُمْ اِلٰی نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَ۔ } ”جس دن وہ نکلیں گے اپنی قبروں سے دوڑتے ہوئے ‘ جیسے کہ وہ مقرر نشانوں کی طرف بھاگے جا رہے ہوں۔“
”نُصُب“ سے مراد وہ نشان ہیں جو دوڑ کا مقابلہ کرنے کے لیے لگائے جاتے ہیں تاکہ ہر دوڑنے والا دوسرے سے پہلے مقرر نشان پر پہنچنے کی کوشش کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
27 نصب کا لغوی مفہوم :۔ نُصُبٍ : نصب الشئی بمعنی کسی چیز کو سیدھے رخ کھڑا کردینا اور زمین میں گاڑ دینا اور نصیب اس پتھر کو بھی کہتے ہیں جو بطور نشان راہ گاڑا جاتا ہے نیز نصیب پتھر یا لوہے کے اس مجسمے کو بھی کہتے ہیں جو کسی جگہ بغرض عبادت نصب کردیا گیا ہو۔ یہ مجسمے عموماً نبیوں، ولیوں اور پیروں یا بادشاہوں کے ہوتے ہیں۔ اور ایسے مقامات جہاں یہ مجسمے نصب ہوں انہیں بھی نصیب یا تھان یا استھان یا آستانے کہا جات ہے اور نصیب کی جمع نصب یا انصاب آتی ہے۔ گویا نصب کے تین معنی ہوئے (1) نشان راہ کے پتھر، (2) نصب شدہ مجسمے، (3) وہ مقام جہاں مجسمے یا بت نصب ہوں۔ اس آیت میں تینوں معنی مراد ہوسکتے ہیں۔ پہلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
18۔ (اور دنیا میں اس کی ہمیشہ تکذیب ہی کرتے رہے تھے) (آیت) ” فذرھم یخوضوا ویلعبوا “۔ یعنی آپ ﷺ ان بدمستوں اور غفلت میں پڑے رہنے والوں کے حق میں زیادہ فکر وتردد نہ کیجئے یہ مطلب نہیں کہ آپ ﷺ ان پر تبلیغ بھی ترک کردیجئے۔ (آیت) ” کانھم الی نصب یوفضون “۔ یعنی جس طرح دنیا میں چڑھاوا چڑھانے کیلئے اپنی پرستش گاہوں کی طرف لپکتے ہوئے جاتے تھے۔ (آیت) ” نصب “۔ ملاحظہ ہو (آیت) ” وما ذبح علی النصب “۔ پر حاشیہ سورة المائدہ (پ 6) کے رکوع اول میں۔ (آیت) ” خاشعۃ ابصارھم “۔ یہ آنکھوں کا جھکا ہونا افراط خوف وندامت سے ہوگا (آیت) ” ترھقھم ذلۃ “۔ اردومح اور ہ میں ” انکے چہروں پر پھٹکار برس رہی ہوگی “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
کلا انا خلقناھم مما یعلمون مطلب یہ کہ جس مادہ سے یہ بنے ہیں اس لحاظ سے تو سب انسان برابر ہیں اگر وہ مادہ ہی انسان کے جنت میں جانے کا سبب ہو تو نیک و بد، ظالم و عادل سب ہی کو جنت میں جانا چاہیے، لیکن معمولی عقل بھی یہ فیصلہ کرنے کے لئے کافی ہے کہ جنت کا استحقاق انسان کے مادہ تخلیق کی بناء پر نہیں، بلکہ اس کے اوصاف کی بناء پر ہوتا ہے۔
بحمدتم اللہ
Read the full tafseer →یوم یخرجون من الاجداث سراعا کانھم الی نصب یوفضون . یعنی جس طرح یہ بتوں کی
طرف تیزی سے لپکتے ہیں کہ کون مورتی کو پہلے چوم لے ‘ اسی طرح قیامت کے دن قبروں سے نکل کر میدان حشر کی طرف یہ تیزی سے لپکیں گے تاکہ اپنے اعمال کے بدلہ کو دیکھ لیں۔ کلبی نے نصب کا ترجمہ علم کیا ہے یعنی جس طرح لشکری اپنے جھنڈے کی طرف لپکتے ہیں اسی طرح یہ حشر کے دن محشر کی طرف لپکیں گے۔
Read the full tafseer →اب اللہ تعالیٰ اس عذاب کے وقت کو بیان فرماتے ہیں کہ جس دن ان کا اس تیزی کے ساتھ قبروں سے نکل کر صور کی آواز کی طرف دوڑنا ہوگا جیسا کہ کسی نشان اور جھنڈے کی طرف دوڑے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
(یوم یخرجون من الاجداث…:”الاجداث“ ”جدث“ (جیم اور دال کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے، قبریں۔”سراعاً“”سریع“ کی جمع ہے، دوڑنے والے۔ قیامت کے دن قبروں سے اتنی تیزی سے نکل کر دوڑیں گے جس طرح وہ لوگ تیزی سے دوڑتے ہیں جو نشانہ بازی کے وقت ایک نشان گاڑ لیتے ہیں، پھر تیلر چلا کر تیزی سے دوڑتے ہیں، تاکہ جا کر دیکھیں کہ نشانہ درست لگا ہے یا نہیں۔ ”نصب“ ان پتھروں کو بھی کہتے ہیں جو عبادت کے لئے نصب کئے جاتے ہیں۔ مشرکین دنیا میں بوتں اور آستانوں کی طرف تیزی سے جایا کرتے تھے۔ قیامت کے دن ایسے ہی قبروں سے نکل کر حشر کے میدان کی طرف تیزی سے دوڑتے ہوئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →یوم اس یوم سے بدل ہے جو اس سے پہلے ہے۔ عام قرأت یخرجون ہے یاء پر فتحہ اور راء پر ضمہ ہے کیونکہ یہ معروف کا صیغہ ہے۔ سلمی، مغیرہ اور اعشی نے عاصم سے یخرجون مجہول کا صیغہ پڑھا ہے۔ الاجداث سے مراد قبریں ہیں (1) اس کا واحد جدث ہے۔ سورة یاسین میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ سراعاً جب وہ دوسرے نغمہ کو سنیں گے تو بلانے والے کی دعوت پر لبی کہتے ہوئے جلدی جلدی نکلیں گے۔ یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ کا نھم الی نصب یوفضون۔ عام قرأت نون کے فتحہ اور صاد کے جزم کے ساتھ ہے۔ ابن عامر اور حفص نے نون اور صاد کے ضمہ کے ساتھ اسے پڑھا ہے۔ عمرو بن میمون، ابو رجاء اور دوسرے علماء نینون کے ضمہ اور صاد کے سکون کے ساتھ…
Read the full tafseer →36۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کانہم الی نصب یوفضون گویا کہ وہ ایک نشان کی طرف دوڑے چلے جارہے ہیں گویا وہ علم یعنی نشانی کی طرف دوڑ رہے ہیں۔
37۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ الی نصب میں نصب سے مراد ہے غایت اور یوفضون سے مراد ہے ایک دوسرے سے آگے بڑھنا۔
38۔ عبد بن حمید نے ابوالعالیہ (رح) سے اس طرح روایت کیا۔
39۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت کانہم الی نصب یوفضون سے مراد ہے کہ وہ اپنے بتوں کی طرف تیزی سے جارہے ہیں۔
Read the full tafseer →[يَوْمَ يَخْرُجونَ : جس دن وہ لوگ نکلیں گے ][ مِنَ الْاَجْدَاثِ : قبروں سے ][ سِرَاعًا : ایک دوسرے پر جلدی کرتے ہوئے ][كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ : جیسے کہ وہ لوگ کسی استھان کی طرف ][ يُّوْفِضُوْنَ : بھاگتے ہوں گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
﴿فَذَرْهُمْ يَخُوْضُوْا وَ يَلْعَبُوْا ﴾ (سو آپ انہیں چھوڑیے۔ یہ باطل چیزوں میں پڑے رہیں اور کھیل میں لگے رہیں) انہیں ایمان لانا نہیں ہے۔ انکار وعناد پر تلے ہوئے ہیں انہیں اس دن سے سابقہ پڑنا ہی ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے (اس سے قیامت کا دن مراد ہے) جس دن صور پھونکا جائے گا یہ اس دن اپنی قبروں سے ایسی تیزی سے نکلیں گے جیسا کہ دنیا میں پرستش گاہوں کی طرف جلدی جلدی جایا کرتے تھے جن میں بت وغیرہ رکھے ہوئے ہوتے تھے یہ لوگ دنیا میں بڑا شور مچاتے تھے قیامت کے دن ان کا یہ حال ہوگا کہ ان کی آنکھیں نیچے کو جھکی ہوں گی اور ان پر ذلت چھائی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
حیرت واستعجاب برحال اہل عناد وتنبیہ وتہدید برخود فریبی ایشاں :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فمال الذین کفروا ........ الی .......... کانوا یوعدون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مجازات اعمال کا بیان تھا اور یہ کہ مجرمین قیامت کے روز کیسی شدید بےچینی اور اذیت میں مبتلا ہوں گے اب ان آیات میں ان معاندین کی حالت میں حیرت وتعجب کا اظہار کیا جارہا ہے جو اپنی مذموم اور بےہودہ روش سے آنحضرت ﷺ کو اذیت پہنچاتے اور دین کا مذاق اڑاتے تھے اور پھر عجیب تر امر یہ ہے کہ اس دل آزار اور بےہودہ روش کے باوجود اپنے بارے میں یہ دعوے کرتے تھے کہ وہ آخرت میں بڑے انعامات سے نوازے جائیں گے اس ضمن میں پھر اس بات کا اعادہ کیا جا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
ٖ 14:۔ ” فذرھم “ زجر مع تخویف دنیوی۔ فرمایا آپ ان مشرکین کے عناد و تعنت اور استکبار و انکار کی پرواہ نہ کریں اور ان کو استہزاء و انکار اور لہو ولعب میں منہمک ہونے دیں یہاں تک کہ وہ اس دن کو پالیں جس کا انسے وعدہ کیا جا رہا ہے۔ مراد قیامت کا دن ہے یعنی اب تو لہو و لعب میں کھوئے ہوئے ہیں اور حق کو نہیں مانتے قیامت کے دن سیدھے ہوجائیں گے۔ ” یوم یخرجون “ یہ وہ دن ہے جب وہ قبروں سے نکل کر جلدی جلدی چلیں گے گویا کہ نشانے کی طرف دوڑ رہے ہیں جیسے انسان نشانے کی طرف سیدھا اور تیز دوڑتا ہے اسی طرح وہ بھی داعی کی طرف سیدھے دوڑیں گے ” یوفضون ای یوعون “ (روح) ۔ خاشعۃ ابصارہم، ان کی آنکھوں مارے خوف کے جھکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
گذشتہ سے پیوستہ :
گزشتہ آیات میں منکرین قیامت کو وعید سنائی گئی تھی کہ قیامت کے روز مجرمین کو دوزخ خود اپنی طرف پکارے گی ۔ جو دنیا میں احکام الہٰی سے پشت پھیرتے تھے۔ ردگردانی کرتے تھے مال سمیٹ سمیٹ کر رکھتے تھے ۔ خرچ کرنے میں بخل کرتے تھے۔ حلال و حرام میں تمیز نہیں کرتے تھے انہیں دوزخ چن چن کر اپنے اندر داخل کرے گی۔ انسان کے پیدائشی طور پر حریص اور بےصر اہونے کا ذکر کیا ۔ یعنی جب اسے شرپہنچتا ہے تو بےصبری کا اظہار کرتا ہے۔ اور جب اسے خیر پہنچتی ہے تو بخل کرتا ہے۔ البتہ اس سے وہ لوگ متثنیٰ ہیں جن میں آٹھ صفات پائی جاتی ہیں۔ یعنی نماز میں مدادمت اختیار کرتا ہے۔ البتہ اس سے وہ لوگ متثنیٰ ہیں جن…
Read the full tafseer →يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّہُمْ اِلٰى نُصُبٍ يُّوْفِضُوْنَ 43 ۙ
خرج
خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ،
( خ رج ) خرج ۔ ( ن)
خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
ترکیب : مھطعیں المھطع المسرع وقیل المادعنقہ ھو حال من الذین کفروا قبلک حولک معمول محطعین عزین جمع عزۃ وھی العصتبہ من الناس وقیل اصلھا عزوۃ من العزوکان کل فرقہ تعتزی ای تنسب الی غیرمن تعتزی الیہ الاخری فی الصحاح العزۃ الفرقۃ من الناس والھاء عوض عن الیاء والجمع عزی وعزون عن تتعلق بعزین ویجوزان تکون حالان یدخل الجملۃ مفعول بطمع انا لقادردن جواب القسم وما نحن اماجواب آخر للقسم اوحال عن القادرون یخوضوا ویلعبوا مجزومان علیٰ انھما جواب الامریوم بدل من یوتھم سراعاجمع سریع والاجداث جمع جدث وھوا لقبرھو حال من فاعل یخرجون وکذا کانھم نصب عندالجمہور بفتح النون و سکون الصاد بمعنی العلم وقریٔ بضم النون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّھُمْ اِلٰی نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَ ۔ خَاشِعَۃً اَبْصَارُھُمْ تَرْھَقُھُمْ ذِلَّـۃٌ ط ذٰلِکَ الْیَوْمُ الَّذِیْ کَانُوْا یُوْعَدُوْنَ ۔ (المعارج : 43، 44)
(جس دن یہ اپنی قبروں سے نکلیں گے سرعت کے ساتھ، گویا کہ وہ اپنے بتوں کے استھانوں کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی، ذلت ان پر چھا رہی ہوگی، وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔ )
نُصُب کا مفہوم
نُصُبٍ … نصیب کی جمع ہے، اس کے معنی میں مفسرین نے اختلاف کیا ہے۔ بعض نے اس سے بتوں کے استھان مراد لیے ہیں۔ اس صورت میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ آج تو ان کا حال یہ ہے کہ یہ قیامت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور نافرمان لوگ حقیقت تسلیم نہیں کرتے تو انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔
نبی مکرم ﷺ انتہائی ہمدردی درد مندی کے ساتھ کفار کو اللہ کی توحید اور اس کے دین کی طرف دعوت دیتے لیکن وہ آپ کے قریب آنے اور آپ کی دعوت قبول کرنے کی بجائے آپ پر مختلف قسم کے الزامات لگاتے اور آپ سے نفرت کا اظہار کرتے تھے۔ جس پر آپ ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں تاکہ یہ دنیاوی مشاغل میں لگے رہیں۔ یہاں تک کہ انہیں موت آلے یہ اس دن اپنے رب کے حضور پیش ہوں جس دن کا ان کے ساتھ وعدہ کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ آج آپ کی دعوت سن کر دور بھاگتے ہیں لیکن جس دن صور پھونکا جائے گا تو یہ اس کی…
Read the full tafseer →43 : یَوْمَ
نحو : یوم یہ پہلے یوم سے بدل ہے۔ یَخْرُجُوْنَ یاء کے فتحہ اور راء کے ضمہ سے تمام نے پڑھا ہے سوائے اعشیٰ کے مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا (جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس طرح دوڑیں گے) اجداث : قبور۔
نحو : سراعا یہ جمع سریعٌ ہے۔ یہ حال ہے۔ یعنی بلانے والے کی طرف تیزی سے بھاگیں گے۔
کَاَنَّھُمْ اِلٰٰی نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَ (جیسے کسی پرستش گاہ کی طرف دوڑے جاتے ہیں)
نحو : کانھم یہ حال ہے۔
قراءت : شامی ‘ حفص و سہل نے نُصُبٍ پڑھا ہے۔ المفضل نے نُصْبٍ سکون صادؔ سے پڑھا ہے۔ اور دیگر قراء نے نَصْبٍ فتحہ نون سے پڑھا ہے۔ نصبؔ ہر وہ چیزجس کو گاڑا جائے اور اللہ تعالیٰ کے سوا اس کی پوجا کی جائے۔ یوفضونؔ…
Read the full tafseer →42 ۔” فذرھم یخوضوا “ اپنے باطل میں۔ ” ویلعبوا “ اپنی دنیا میں ” حتی یلاقوا یومھم الذین یوعدون “ اس کو آیت قتال نے منسوخ کردیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
36۔ 44۔ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتیں سن کر آنحضرت ﷺ کے دائیں بائیں ہو کر نکل جاتے تھے ‘ اور قرآن شریف کی پوری نصیحت سننے سے کتراتے تھے اور آپس میں یہ باتیں کرتے تھے کہ یہ ساری نصیحت اس لئے ہے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں گے اور اس نئی زندگی میں میوے کھانے کو باغ میں گے۔ پھر کہتے تھے اگر یہ بات سچ ہے تو جس طرح بہ نسبت ان مسلمانوں کے دنیا میں ہم راحت و آرام سے ہیں اسی طرح ان سے پہلے ہم کو ہی وہ باغ ملیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جنت کچھ ان کے بڑے بوڑھوں کے بنائے ہوئے باغ نہیں ہیں کہ بغیر مرضی اللہ تعالیٰ کے یہ ان باغوں میں گھس جائیں گے۔ نہیں یہ خال ان کا بالکل…
Read the full tafseer →پھر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے حال کا ذکر فرمایا جب وہ اس دن کا سامنا کریں گے جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا چناچہ فرمایا (یوم یخرجون من الاجداث) اس دن یہ قبروں سے نکلیں گے (سراعا) دوڑتے ہوئے۔ پکارنے والے کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے بڑی سرعت سے اس پکار کی طرف لپکیں گے۔ (کانھم الی نصب یوفضون) ۔ جیسے وہ معین نشان کی طرف دوڑ رہے ہوں۔ یعنی گویا کہ وہ ایک نشان کا قصد رکھتے ہیں۔ وہ اس داعی کی آواز کی نافرمانی کرسکیں گے نہ پکارنے والے کی پکار سے ادھر ادھر التفات کریں گے بلکہ ذلیل ومقہور ہو کر رب کائنات کے سامنے پیش ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
قول باری ہے (للسائل والمحروم سائل اور محروم کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سوال کرنے والے کو سائل کہتے ہیں اور محروم وہ شخص ہے جسے کسی تجارت میں کامیابی نہ ہوتی ہو۔ ابوقلابہ کا قول ہے کہ محروم وہ شخص جس کا مال چلا جائے۔ حسن بن محمد کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا، اسے مال غنیمت حاصل ہوا، اس کے بعد کچھ دوسرے لوگ بھی آگئے اور یہ آیت نازل ہوئی (فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے)
حضرت انس ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان المحروم من حرم وصیتہ بیشک محروم وہ شخص ہے جسے اس چیز سے محروم رکھا جائے جس کی اس کے لئے وصیت کی…
Read the full tafseer →41 ۔ نصب کا معنی و مطلب : " نصب " جمع ہے " نصیب " کی جیسے " رھن " جمع ہے " رھین " کی اور " انصاب " جمع ہے " نصب " کی یعنی وہ " نصیب " کی جمع الجمع ہوگئی اور " نصیب " کے معنی گاڑھے ہوئے پتھر کے ہیں اور گاڑھے ہوئے پتھر سے مارد وہ پتھر بھی ہوسکتے ہیں جن کو مشرکین اپنی نیازوں اور نذرانے پیش کرنے کے لیے گاڑھ دیا کرتے تھے، اور وہ پتھر بھی ہوسکتے ہیں جو دوڑ وغیرہ کے مقابلے کے لیے نشانی کے طور پر گاڑھ دیے جاتے ہیں ( روح، قرطبی، محاسن وغیرہ) نصیب کے اصل معنی گاڑھ دینے کے ہیں جیسا کہ اردو میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے یہاں پر نصب سے مراد میں علماء کرام کے اقوال مختلف ہیں۔ بعض نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–44
نیک لوگوں کی صفات
تشریح : ایک اچھے پکے اور صالح جنت کے حقدار کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ کافی دفعہ وضاحت سے پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں یہاں پھر مختصراً بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان فطرتاً کمزور طبیعت یعنی غلطیوں کا پتلا سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ہے ہی۔ مگر اس کی اصلاح کے لئے ہی تو قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ تو جو شخص اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتا ہے تو وہی بہادر انسان ہے وہ خود کو شیطان کے چنگل سے نکال کر بندگانِ الٰہی میں شامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عمل بہت ضروری ہے۔ اگر زبانی ایمان لے آنا کافی ہوتا تو پھر منافق دوزخ کے نچلے درجے میں کیوں ڈالے جاتے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
آیات 36 تا 44۔
اسرار ومعارف۔
اور ان کفار کو کیا ہوا ہے کہ بجائے تصدیق کرنے ہر طرف سے آپ پر یلغار کرتے ہیں کہ آپ کے ارشادات کی تکذیب کرتے ہیں اور اعتراض کے ساتھ مذاق اڑائیں اس پر طرفہ یہ کہ ہر قوم آخرت میں اپنے لیے نجات کی امید رکھتی ہے لہذا مغرب ومشرق کے یہود ہنود ہوں یانصاری وغیرہ سب اپنے لیے جنت کا دعوی بھی رکھتے ہیں جو یکسر باطل ہے ایسا ہرگز نہ ہوسکے گا بلکہ اطاعت محمد کے علاوہ اب نجات کا کوئی راستہ نہیں اور جو لوگ سرے سے کوئی مذہب نہیں رکھتے انہیں بھی دیکھ لیناچاہیے کہ کس طرح ایک قطرہ منی سے ہم نے انہیں باکمال خوبصورت صحت مند انسان بنادیا اور یہ مشارق ومغارب کے نظام جو ہر لحظہ سے بیشمار…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی گویا کوئی خاص نشان ہیں جن کی طرف یہ تیزی سے دوڑ رہے ہیں یا ” نصب “ سے مراد ان کے وہ استھان ہیں جن پر وہ دنیا میں اپنے جانور ذبح کیا کرتے تھے اور ان کی طرف لپکا کرتے تھے۔ فی زماننا جو ائمہ کے تابوت یا ان کی قبروں کی پوجا کرتے ہیں وہ ان کی طرف دوڑ کر جاتے ہیں گویا یہ مشرکین کی پرانی عادت ہے۔
Read the full tafseer →(70:43) یوم یخرجون من الاجداث سراعا : یوم بدل ہے یومہم سے سراعا من الاجداث حال ہے یخرجون کے فاعل سے۔ سراعا دوڑتے ہوئے۔ جلدی کرتے ہوئے ، بمعنی فاعل دوڑنے والے۔ جلدی کرنے والے ۔ سریع کی جمع سرعۃ سے جسکے معنی جلدی کرنے کے ہیں بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے جس طرح کریم کی جمع کرام ہے۔ الاجداث جمع، جدث واحد بمعنی قبر۔
کانھم الی نصب یوفضون۔ یہ جملہ بھی یخرجون کے فاعل سے حال ہے۔ کانھم ۔ کان حرف مشبہ بالفعل ہم ضمیر جمع مذکر غائب کان کا اسم ۔ گویا وہ سب ۔ نصب اسم مفرد، انصاط جمع بمعنی بت، جھنڈا، نشان۔
یوفضون : مضارع جمع مذکر غائب۔ افاضیۃ (افعال) سے مصدر۔ وہ دوڑیں گے وض مادہ۔ اصل میں الایفاض (افعال) کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
لغات القرآن، ۔
مھطعین۔ وہ دوڑتے آتے ہیں۔ عزین۔ گروہ در گروہ۔ الاجداث۔ قبریں۔ نسب۔ نشانیاں لگی ہوئی چیز۔ یوفضون۔ دودوڑتے ہیں۔
تشریح : زیر مطالعہ آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ انسان اگرچہ کم ہمت پیدا کیا گیا ہے یعنی تمام تر عظمتوں کے باوجود اس میں کچھ فطری کمزوریاں موجود ہیں لیکن اگر ایمان اور عمل صالح کے ساتھ زندگی گزاری جائے تو پھر اس کی نیکیاں اور اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری اس کو جنت کی ابدی راحتوں کا مستحق بنا دیتی ہیں۔
کفار مکہ کا یہ حال تھا کہ جب نبی کریم ﷺ ان کے سامنے اللہ کا دین پیش کرکے ان کو گمراہی سے ہدایت کی طرف آنے کی دعوت دیتے یا جب آپ تلاوت کلام پاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
بت پرستی کا انجام۔
(ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتیں سن کر نبی ﷺ کے دائیں بائیں ہوکر نکل جاتے تھے اور قرآن شریف کی پوری نصیحت سننے سے کنیاتے تھے اور آپس میں یہ باتیں کرتے تھے کہ یہ ساری نصیحت اس لیے ہے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں گے اور اس نئی زندگی میں میوہ کھانے کو باغ ملیں گے پھر کہتے تھے کہ اگر یہ بات سچ ہے تو جس طرح بہ نسبت ان مسلمانوں کے دنیا میں ہم راحت و آرام سے ہیں اسی طرح ان پہلے ہم کو بھی وہ باغ ملیں گے اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جنت کچھ انکے بڑے بوڑھوں کے بنائے ہوئے باغ نہیں کہ بغیر مرضی اللہ کے یہ ان باغوں میں گھس جائیں گے نہیں یہ خیال ان کا بالکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
[10] کیونکہ سورج ہر روز ایک نئے زاوئیے سے طلوع اور نئے زاوئیے سے غروب ہوتا ہے اس اعتبار سے بہت سے مشرق اور بہت سے مغرب ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ف 1: اس کے بعد ارشاد فرمایا ۔ کہ یہ لوگ ہیں کسی بھول میں مشرق ومغرب کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں اور معلوم کریں کہ ہم نے کیونکر قوموں اور جماعتوں کے ساتھ سلوک روارکھا ہے ۔ ہم نے جب دیکھا ہے ۔ کہ ایک قوم ہمارے ارادہ کے مطابق نہیں ہے ۔ اور قانون فطرت اور عدل کا احترام نہیں کرتی ۔ تو اس کو فوراً فنا کے گھاٹ اتاردیا ہے ۔ اور اس کی جگہ اس سے بہتر لوگ پیدا کئے ہیں ۔ جو ہماری باتوں کا احترام کرتے ہیں ۔ اور زندگی کے اسرار سے محوم ہیں ۔ پھر جب دنیا میں ہمارا طرز عمل یہ ہے ۔ کہ بہتر اور اولیٰ لوگوں کو باقی رہنے کی ذاتی صلاحیت ہوتی ہے تو عقبے اور آخرت میں یہ کیونکر ہوگا ۔ کہ ان کافروں کو محض ان کی دولت و…
Read the full tafseer →(43) اس دن یہ قبروں سینکل کر اس طرح دوڑیں گے جیسے کسی بت کے تھان کی طرف یا جیسے کوئی پراگندہ وفوج اپنے نشان اور اپنے جھنڈے کی طرف دوڑی جارہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ف 2۔ پس جب نئی مخلوق اور وہ بھی ایسی جس میں صفات کمال زیادہ ہوں جن میں زیادہ اشیاء پیدا کرنا پڑیں ہم کو پیدا کرنا آسان ہے تو تم کو دوبارہ پیدا کرنا کون سا مشکل ہے۔
Read the full tafseer →وہ دن کہ یہ لوگ اپنی مرقدوں سے نکل کر بھاگ پڑیں گے اور نشان منزل پر پہنچ جائیں گے
43 ؎ وہ وعدہ کا دن کونسا ہے جس کا گزشتہ آیت میں ذکر کیا گیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ وہ دن موت ہی کا ہے۔ اچھا موت آئے گی تو کیا قصہ ختم ہوجائے گا ؟ ہاں ! اکثر کا خیال تو یہی ہے لیکن اسلام نے جو نظریہ و عقیدہ دیا ہے اس میں سمجھایا گیا ہے کہ وہ دنیا کی منزل کا آخری دن ہے کہ اس کے بعد اس دنیا میں کوئی نہیں آئے گا لیکن وہ دن ایسا نہیں کہ اسی روز یہ قصہ ختم ہوجائے بلکہ وہ دن ایسا دن ہے کہ اس کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے لئے جو دن مقرر کیا گیا ہے وہ اس دن کے آتے ہی اللہ تعالیٰ کے حکم تکوینی کے تحت اٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ (...and those who are upright in their testimonies, [ 70:33] '. The word shahadat is the plural of shahadah. The use of plural number in this verse too indicates that there are many types and categories of 'testimony', and it is necessary to stand firm by one's testimony of any type. This includes testifying to the faith of Islam, Divine existence and His Oneness, and testifying that Sayyidna Muhammad ﷺ is His Final Messenger. It is obligatory to testify to the crescent of Ramadan, if one has seen it. Giving a true and accurate account of Shari'ah…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
30 There is a difference of opinion among the commentators about the meaning of the word nusub. SAme have interpreted it to mean idols, according to which the meaning would be: "They would be racing towards the place appointed by the Lord of Resurrection as they race today towards the shrines of their idols" ; and some others have taken nusub to mean the goal signs which are set for the competitors in a race, so that each tries to reach and touch the appointed post before the other.
Read the full tafseer →