Explained with ayahs 36–44
مرکز نور و ہدایت سے مفرور انسان
اللہ تعالیٰ عزوجل ان کافروں پر انکار کر رہا ہے جوحضور ﷺ کے مبارک زمانہ میں تھے خود آپ ﷺ کو وہ دیکھ رہے تھے اور آپ ﷺ جو ہدایت لے کر آئے وہ ان کے سامنے تھی اور آپ ﷺ کے کھلے معجزے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے پھر باوجود ان تمام باتوں کے وہ بھاگ رہے تھے اور ٹولیاں ٹولیاں ہو کر دائیں بائیں کترا جاتے تھے، جیسے اور جگہ آیت (فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ 49ۙ) 74۔ المدثر :49) ، یہ نصیحت سے منہ پھیر کر ان گدھوں کی طرح جو شیر سے بھاگ رہے ہوں کیوں بھاگ رہے ہیں ؟ یہاں بھی اسی طرح فرما رہا ہے کہ ان کفار کو کیا ہوگیا ہے یہ نفرت کر کے کیوں تیرے پاس سے بھاگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
سورة الْمَعَارِج 29
یہ ہے وہ بات جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رب المشارق والمغارب ہونے کی قسم کھائی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم چونکہ مشرقوں اور مغربوں کے مالک ہیں اس لیے پوری زمین ہمارے قبضہ قدرت میں ہے اور ہماری گرفت سے بچ نکلنا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ ہم جب چاہیں ہلاک کرسکتے ہیں اور تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو اٹھا سکتے ہیں جو تم سے بہتر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
(آیت) وَالَّذِيْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَاۗىِٕمُوْنَ ، یہاں بھی لفظ شہادات کو بلفظ جمع لانے میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ شہادت کی بہت سی قسمیں ہیں اور ہر قسم شہادت کو قائم رکھنا واجب ہے۔ اس میں شہادت ایمان توحید و رسالت بھی داخل ہے۔ ہلال رمضان اور حدود شرعیہ کی شہادت بھی اور لوگوں کے باہمی معاملات جو کسی کے سامنے ہوئے ہوں ان کی شہادت بھی کہ ان شہادتوں کا چھپانا اور ان میں کمی بیشی کرنا حرام ہے ان کو صحیح صحیح قائم کرنا اس آیت کی رو سے فرض ہے۔ (از مظہری) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Read the full tafseer →وہ بات جس پر قسم کھائی گئی ہے:
’عَلٰی أَن نُّبَدِّلَ خَیْْرًا مِّنْہُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِیْنَ‘۔ یعنی ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ان کی جگہ ان سے بہتر مخلوق لائیں جو اللہ کے دین کو ماننے والی ہو۔ دوسرا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ان کو دوبارہ اس سے بہتر صورت میں پیدا کر دیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب ہم اس سے بہتر صورت میں پیدا کر دینے پر بھی قادر ہیں تو بعینہٖ انہی کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا ہمارے لیے اور بھی آسان ہے۔ عام طور پر لوگوں نے پہلے مطلب ہی کو اختیار کیا ہے اور زبان کے پہلو سے اس میں کوئی خرابی بھی نہیں ہے لیکن میرا رجحان دوسرے مطلب کی طرف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سورہ…
Read the full tafseer →41۔ 1 یعنی ان کو ختم کرکے ایک نئی مخلوق آباد کردینے پر ہم پوری طرح قادر ہیں۔ جب ایسا ہے تو کیا ہم قیامت والے دن ان کو دوبارہ نہیں اٹھا سکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
12: یعنی ان سب کو ہلاک کرے ان کی جگہ کوئی اور قوم پید کردیں جو ان سے بہتر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
فذرھم ............................ یوعدون
آپ کو کہا جاتا ہے کہ یہ نہایت بےوقعت لوگ ہیں اور ان کا انجام نہایت ہی خوفناک ہے۔ چناچہ قیامت کے دن ان کے حال اور کسمپری کا جو نقشہ کھینچا جاتا ہے وہ اپنی جگہ بہت ہی خوفناک ہے جبکہ اس نقشہ کشی اور تصویر سازی میں حقارت آمیز اور مضحکہ خیزی کے رنگ بھرے ہوئے ہیں اور یہ اس حال کے جواب میں ہے جس میں یہاں دنیا میں یہ لوگ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے تھے۔
یہ لوگ جب قبروں سے نکلیں گے ، تو گھبراہٹ میں اس تیزی سے بھاگیں گے جیسے یہ اپنے آستانوں کی طرف بھاگ رہے ہوں۔ دنیا میں جس طرح ان کی چال ہوتی تھی اس کی طرف تہکمانہ اور توہین آمیز اشارہ ہے۔ یہ اپنے میلوں ٹھیلوں میں…
Read the full tafseer →4 یعنی جب ان کی جگہ ان سے بہتر لاسکتے ہو تو خود ان کو دوبارہ کیوں پیدا نہیں کرسکتے ؟ کیا وہ ہمارے قابو سے نکل کر کہیں جاسکتے ہیں ؟ " یَاخَیْرًا مِنْہُمْ " سے مراد ان ہی کا دوبارہ پیدا کرنا ہو۔ کیونکہ عذاب ہو یا ثواب، دوسری زندگی اس زندگی سے بہرحال اکمل ہوگی۔ یا یہ مطلب ہو کہ ان کفار مکہ کو ہنسی ٹھٹھا کرنے دیجئے، ہم خدمت اسلام کے لیے اس سے بہتر قوم لے آئیں گے چناچہ " قریش " کی جگہ اس نے " انصار مدینہ " کو کھڑا کردیا۔ اور مکہ والے پھر بھی اس کے قابو سے نکل کر کہیں نہ جاسکے۔ آخر اپنی شرارتوں کے مزے چکھنے پڑے (تنبیہ) مشارق و مغارب کی قسم شاید اس لیے کھائی کہ خدا ہر روز مشرق و مغرب کو بدلتا رہتا…
Read the full tafseer →آیت 41{ عَلٰٓی اَنْ نُّـبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْہُمْ لا } ”اس پر کہ ہم ان کو ہٹاکر ان سے بہتر لوگ لے آئیں“
یعنی ہم انہیں ختم کر کے ان کی جگہ کسی اور قوم کے افراد کو لے آئیں گے ‘ جو ان سے بہتر ہوں گے۔ جیسے قوم نوح کو ختم کر کے قوم عاد کو پیدا کیا گیا اور پھر قوم عاد کے بعد قوم ثمود کو عروج بخشا گیا۔ اس فقرے کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ آخرت میں ہم انہیں جو جسم دیں گے وہ ان کے موجودہ جسموں سے بہتر ہوں گے۔ اس بارے میں سورة الواقعہ ‘ آیت 61 اور سورة الدھر ‘ آیت 28 میں تو یہ اشارہ ملتا ہے کہ آخرت میں انسانوں کو جو جسم دیے جائیں گے وہ ان کے دنیا والے جسموں جیسے ہوں گے ‘ لیکن زیر مطالعہ آیت کے مذکورہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
26 یعنی جو پروردگار اتنے زیادہ مشرقوں اور مغربوں کو وجود میں لاسکتا اور ان پر مکمل کنٹرول رکھ سکتا ہے کہ ان کے زاویوں میں ذرہ بھر بھی فرق نہ آنے پائے وہ یہ نہیں کرسکتا کہ تم سے تمہاری یہ چھوٹی چھوٹی سرداریاں، جن پر تم اس قدر پھولے پھرتے ہو، تم سے چھین کر تمہیں ذلیل و رسوا کرکے پیچھے ہٹا دے اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے ؟ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان متکبر قریشیوں کو پیچھے ہٹایا اور ان مسلمانوں کو آگے کردیا جن کے ساتھ یہ بیٹھنا بھی اپنی توہین سمجھتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد معاملہ یکسر الٹ گیا۔ مسلمان فتح یاب اور حاکم اور یہ قریشی مقہور و مغلوب ہوگئے اور بعد میں ان کافروں میں سے عزت صرف اسے ملی…
Read the full tafseer →17۔ خلاصہ استدلال یہ کہ جب ہم بالکل نئی مخلوق کے پیدا کرنے پر، جن میں صفات کمال بھی تم سے زائد ہوں، قادر ہیں، تو تم کو دوبارہ پیدا کردینے میں کیا دشواری ہے ؟ (آیت) ” انا ..... منھم “۔ یعنی اس دنیا میں ان سے بہتر مخلوق لا دکھائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
کلا انا خلقناھم مما یعلمون مطلب یہ کہ جس مادہ سے یہ بنے ہیں اس لحاظ سے تو سب انسان برابر ہیں اگر وہ مادہ ہی انسان کے جنت میں جانے کا سبب ہو تو نیک و بد، ظالم و عادل سب ہی کو جنت میں جانا چاہیے، لیکن معمولی عقل بھی یہ فیصلہ کرنے کے لئے کافی ہے کہ جنت کا استحقاق انسان کے مادہ تخلیق کی بناء پر نہیں، بلکہ اس کے اوصاف کی بناء پر ہوتا ہے۔
بحمدتم اللہ
Read the full tafseer →علی ان نبدل خیر امنھم . کہ ان کو فنا کر کے ان سے بہتر مخلوق
پیدا کردیں یا اس بات پر قادر ہیں کہ محمد ﷺ کیباتماننے کیلئے تمہاری جگہ ایسے لوگوں کو لے آئیں جو تم سے بہتر ہوں یعنی انصار۔
وما نحن بمسبوقین . یعنی اگر ہم ان کو ہلاک کرنا چاہیں تو کوئی ہم پر غالب نہیں آ سکتا
لفظ رب المشارق والمغارب فرما کر اس امر پر استدلال فرمایا ہے کہ آسمانوں کی اور کائنات سماوی کی تخلیق پر اور سیاروں و ستاروں کے روزانہ طلوع و غروب پر اللہ کو قدرت حاصل ہے۔ اسلئے اللہ اس سے بھی عاجز نہیں ہوسکتا کہ ان کافروں کو ہلاک کر کے انکی جگہ ایسے لوگوں کو لے آئے جو ان سے بہتر ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
(38۔ 41) ان لوگوں کو ہرگز جنت میں داخل نہیں کیا جائے گا ہم نے ان کفار مکہ کو نطفہ سے پیدا کیا ہے، میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی کہ ہم اس پر قادر ہیں کہ ان کو ہلاک کرکے ان کی جگہ ان سے زائد اطاعت گزاروں کو پیدا کردیں اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
فلا اقسم برب المشرق…: سورج مشرق سے ہر روز نئی جگہ سے طلوع ہوتا ہے اور مغرب میں نئی جگہ غروب ہوتا ہے۔ وہ جگہیں بھی ہر شہر اور ہر جگہ کے لحاظ سے الگ الگ ہوتی ہیں ، اس لحاظ سے مشرقوں اور مغربوں کی تعداد کا اندازہ ہی نہیں ہوسکتا۔ قسم سے پہلے ”لا“ کہہ کر منکرین کے قول کی نفی کی گئی ہے، پھر مشاورق و مغارب کے رب کی قسم کھا کر فرمایا کہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ انہیں ختم کر کے ان سے بہتر لوگ لے آئیں اور ہم کچھ عاجز نہیں ہیں۔ قسم کی مناسبت یہ ہے کہ ہم مشاورق و مغارب کے رب ہیں، آسمان و زمین اور سورج وغیرہ سب ہمارے قبضے میں ہیں، کوئی شخص ہمیں عاجز کر کے ہماری گرفت سے نکل نہیں سکتا۔ ہم جب چاہیں انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
فلا اقسم یعنی میں قسم اٹھاتا ہوں۔ یہاں لازائدہ ہے۔ برب المشرق والمغرب سورج کے مشرقوں اور اس کے مغربوں کے رب کی۔ اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ ابوحیوہ، ابن محیصن اور حمید نے برب المشرق و المغرب واحد کے صیغہ کیساتھ قرأت کی ہے۔
انا لقدرون۔ علی ان نبدل خیراً منھم اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ہم ہلاک کرنے، انہیں لے جانے اور فضل، اطاعت اور مال میں بہتر لوگوں کو لانے پر قادر ہیں۔ وما نحن بمسبوقین۔ کوئی چیز ہم سے فوت نہیں ہو سکتی اور ہم جس امر کا ارادہ کرلیں، وہ ہمیں عاجز نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
34۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم برب المشرق والمغرب پس میں مشرقوں اور مغربوں کے پروردگار کی قسم کھاتا ہوں سے مراد ہے کہ سورج کے لیے ہر دن طلوع ہونے کی جگہ ہے جس میں وہ طلوع ہوتا ہے اور ہر دن میں غروب ہونے کی جگہ ہے کہ جس میں وہ غروب ۃ وتا ہے جو گزشتہ دن کے مطلع سے اور مغرب سے مختلف ہوتا ہے اور اس کے غروب ہونے کی جگہ کے علاوہ۔
35۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) آیت برب المشرق والمغرب کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ منزلیں ہیں جن میں سورج اور چاند چلتے ہیں۔
Read the full tafseer →[عَلٰٓي ان نُّبَدِّلَ : اس پر کہ ہم تبدیل کردیں (ان کو)][ خَيْرًا مِّنْهُمْ ۙ: ان سے بہتر سے ][ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِيْنَ : اور ہم عاجز کیے ہوئے نہیں ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
اس کے بعد فرمایا : ﴿ فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ0040﴾ (الآیتین) (سو میں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی قسم کھاتا ہوں کہ بلاشبہ ہم اس پر قادر ہیں کہ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں) یعنی ہمیں اس پر قدرت ہے کہ ان لوگوں کو بالکل ختم کردیں اور ان کی جگہ دوسرے لوگ لے آئیں جو ان سے بہتر ہوں، یعنی ہم ان کو ختم کر کے ان سے بہتر لوگ پیدا کرنے پر قادر ہیں تم بھی دوبارہ پیدا ہوسکتے ہو اور تمہاری جگہ دوسری مخلوق بھی پیدا ہوسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
حیرت واستعجاب برحال اہل عناد وتنبیہ وتہدید برخود فریبی ایشاں :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فمال الذین کفروا ........ الی .......... کانوا یوعدون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مجازات اعمال کا بیان تھا اور یہ کہ مجرمین قیامت کے روز کیسی شدید بےچینی اور اذیت میں مبتلا ہوں گے اب ان آیات میں ان معاندین کی حالت میں حیرت وتعجب کا اظہار کیا جارہا ہے جو اپنی مذموم اور بےہودہ روش سے آنحضرت ﷺ کو اذیت پہنچاتے اور دین کا مذاق اڑاتے تھے اور پھر عجیب تر امر یہ ہے کہ اس دل آزار اور بےہودہ روش کے باوجود اپنے بارے میں یہ دعوے کرتے تھے کہ وہ آخرت میں بڑے انعامات سے نوازے جائیں گے اس ضمن میں پھر اس بات کا اعادہ کیا جا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
13:۔ ” فلا اقسم “ قدرت کاملہ کا بیان ہے۔ مشرق و مغرب کے مالک کی قسم ہم اس پر قادر ہیں کہ ان کو ہلاک کردیں اور ان کی جگہ ایسے انسانوں کو لے آئیں جو ایمان و عمل میں ان سے بہتر ہوں اور اس کام سے ہم عاجز اور درماندہ نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
گذشتہ سے پیوستہ :
گزشتہ آیات میں منکرین قیامت کو وعید سنائی گئی تھی کہ قیامت کے روز مجرمین کو دوزخ خود اپنی طرف پکارے گی ۔ جو دنیا میں احکام الہٰی سے پشت پھیرتے تھے۔ ردگردانی کرتے تھے مال سمیٹ سمیٹ کر رکھتے تھے ۔ خرچ کرنے میں بخل کرتے تھے۔ حلال و حرام میں تمیز نہیں کرتے تھے انہیں دوزخ چن چن کر اپنے اندر داخل کرے گی۔ انسان کے پیدائشی طور پر حریص اور بےصر اہونے کا ذکر کیا ۔ یعنی جب اسے شرپہنچتا ہے تو بےصبری کا اظہار کرتا ہے۔ اور جب اسے خیر پہنچتی ہے تو بخل کرتا ہے۔ البتہ اس سے وہ لوگ متثنیٰ ہیں جن میں آٹھ صفات پائی جاتی ہیں۔ یعنی نماز میں مدادمت اختیار کرتا ہے۔ البتہ اس سے وہ لوگ متثنیٰ ہیں جن…
Read the full tafseer →عَلٰٓي اَنْ نُّبَدِّلَ خَيْرًا مِّنْہُمْ 0 ۙ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِيْنَ 41
بدل
الإبدال والتَّبدیل والتَّبَدُّل والاستبدال : جعل شيء مکان آخر، وهو أعمّ من العوض، فإنّ العوض هو أن يصير لک الثاني بإعطاء الأول، والتبدیل قد يقال للتغيير مطلقا وإن لم يأت ببدله، قال تعالی: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] ، وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] وقال تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] قيل : أن يعملوا أعمالا صالحة تبطل ما قدّموه من الإساءة، وقیل : هو أن يعفو تعالیٰ عن سيئاتهم ويحتسب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
ترکیب : مھطعیں المھطع المسرع وقیل المادعنقہ ھو حال من الذین کفروا قبلک حولک معمول محطعین عزین جمع عزۃ وھی العصتبہ من الناس وقیل اصلھا عزوۃ من العزوکان کل فرقہ تعتزی ای تنسب الی غیرمن تعتزی الیہ الاخری فی الصحاح العزۃ الفرقۃ من الناس والھاء عوض عن الیاء والجمع عزی وعزون عن تتعلق بعزین ویجوزان تکون حالان یدخل الجملۃ مفعول بطمع انا لقادردن جواب القسم وما نحن اماجواب آخر للقسم اوحال عن القادرون یخوضوا ویلعبوا مجزومان علیٰ انھما جواب الامریوم بدل من یوتھم سراعاجمع سریع والاجداث جمع جدث وھوا لقبرھو حال من فاعل یخرجون وکذا کانھم نصب عندالجمہور بفتح النون و سکون الصاد بمعنی العلم وقریٔ بضم النون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
فَـلَآ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَ ۔ عَلٰٓی اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْھُمْ لا وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ ۔ (المعارج : 40، 41)
(پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی، بیشک ہم قادر ہیں۔ اس بات پر کہ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں اور ہم اس سے عاجز رہنے والے نہیں ہیں۔ )
مشارق و مغارب کی قسم اور مفہوم
اس سے پہلے ” لا “ کی وضاحت گزشتہ سورة میں گزر چکی ہے اور وہیں ہم قسم اور جوابِ قسم کا مفہوم بھی بیان کرچکے ہیں۔ یہاں بھی ” لا “ حرف زائد کے طور پر نہیں آیا بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو بات تم کہہ رہے ہو وہ صحیح نہیں۔ بلکہ حقیقت وہ ہے جو ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
فہم القرآن
ربط کلام : ایمانداروں کو جنت کی خوشخبری سنانے پر کفار کا رد عمل۔
مکی دور میں اسلام کے مخالفوں کا یہ خیال بلکہ یقین تھا کہ نبی ﷺ کی دعوت قبولیت عامہ نہیں پاسکے گی۔ اسی بنا پر اسلام اور مسلمانوں کو اپنے سے حقیر جانتے اور ان الفاظ کے ساتھ نبی ﷺ اور مسلمانوں کو مذاق کیا کرتے تھے۔
” جب یہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کا مذاق اڑاتے ہیں ہاں یہ شخص ہے جسے ” اللہ “ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ “ (الفرقان : 41)
(وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْ بَیْنِنَا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بالشّٰکِرِیْنَ ) (الانعام : 53)
” اور اسی طرح ہم…
Read the full tafseer →41 : عَلٰٓی اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْھُمْ (کہ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں) ان کو ہلاک کر کے ان سے بہتر اور اللہ تعالیٰ کے زیادہ فرمانبردار بندے لے آئیں۔ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْ قِیْنَ (اور ہم عاجز نہیں ہیں)
Read the full tafseer →40 ۔” فلا اقسم برب المشارق والمغارب “ یعنی سال میں سے ہر دن کی مشرق اور اس کی مغرب۔ ” انا لقادرون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
36۔ 44۔ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتیں سن کر آنحضرت ﷺ کے دائیں بائیں ہو کر نکل جاتے تھے ‘ اور قرآن شریف کی پوری نصیحت سننے سے کتراتے تھے اور آپس میں یہ باتیں کرتے تھے کہ یہ ساری نصیحت اس لئے ہے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں گے اور اس نئی زندگی میں میوے کھانے کو باغ میں گے۔ پھر کہتے تھے اگر یہ بات سچ ہے تو جس طرح بہ نسبت ان مسلمانوں کے دنیا میں ہم راحت و آرام سے ہیں اسی طرح ان سے پہلے ہم کو ہی وہ باغ ملیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جنت کچھ ان کے بڑے بوڑھوں کے بنائے ہوئے باغ نہیں ہیں کہ بغیر مرضی اللہ تعالیٰ کے یہ ان باغوں میں گھس جائیں گے۔ نہیں یہ خال ان کا بالکل…
Read the full tafseer →(وما نحن بمسبوقین) یعنی اگر ہم کسی کو دوبارہ زندہ کریں تو وہ ہم پر سبقت لے جاسکتا ہے نہ ہم سے آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ ہمیں عاجز کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
قول باری ہے (للسائل والمحروم سائل اور محروم کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سوال کرنے والے کو سائل کہتے ہیں اور محروم وہ شخص ہے جسے کسی تجارت میں کامیابی نہ ہوتی ہو۔ ابوقلابہ کا قول ہے کہ محروم وہ شخص جس کا مال چلا جائے۔ حسن بن محمد کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا، اسے مال غنیمت حاصل ہوا، اس کے بعد کچھ دوسرے لوگ بھی آگئے اور یہ آیت نازل ہوئی (فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے)
حضرت انس ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان المحروم من حرم وصیتہ بیشک محروم وہ شخص ہے جسے اس چیز سے محروم رکھا جائے جس کی اس کے لئے وصیت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
36 ۔ منکرین کے ایک اور زعم باطل کی تردید کا ذکر وبیان : سو منکرین کے اس زعم باطل کی تردید میں کہ ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا ارشاد فرمایا گیا پس نہیں، یعنی معاملہ ایسے نہیں جیسا کہ ان لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ ہم یونہی مر مٹ کر ختم ہوجائیں گے، اور کوئی حساب و کتاب وغیرہ نہیں ہوگا، اور اگر ہوا بھی تو وہاں بھی کامیابی اور جنت ہماری ہی ہوگی، اور ہم جنت میں یونہی چلے جائیں گے کہ آج دنیا جو ہمیں ملی ہوئی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ سو ایسے نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ حقیقت امر وہ ہے جو کہ ہم بیان کرتے ہیں سو اس طرح کا حرف لا جو قسم سے پہلے آتا ہے نہ یہ زائدہ ہوتا ہے، جیسا کہ بعض مفسرین حضرات کہہ دیا کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–44
نیک لوگوں کی صفات
تشریح : ایک اچھے پکے اور صالح جنت کے حقدار کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ کافی دفعہ وضاحت سے پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں یہاں پھر مختصراً بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان فطرتاً کمزور طبیعت یعنی غلطیوں کا پتلا سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ہے ہی۔ مگر اس کی اصلاح کے لئے ہی تو قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ تو جو شخص اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتا ہے تو وہی بہادر انسان ہے وہ خود کو شیطان کے چنگل سے نکال کر بندگانِ الٰہی میں شامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عمل بہت ضروری ہے۔ اگر زبانی ایمان لے آنا کافی ہوتا تو پھر منافق دوزخ کے نچلے درجے میں کیوں ڈالے جاتے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
آیات 36 تا 44۔
اسرار ومعارف۔
اور ان کفار کو کیا ہوا ہے کہ بجائے تصدیق کرنے ہر طرف سے آپ پر یلغار کرتے ہیں کہ آپ کے ارشادات کی تکذیب کرتے ہیں اور اعتراض کے ساتھ مذاق اڑائیں اس پر طرفہ یہ کہ ہر قوم آخرت میں اپنے لیے نجات کی امید رکھتی ہے لہذا مغرب ومشرق کے یہود ہنود ہوں یانصاری وغیرہ سب اپنے لیے جنت کا دعوی بھی رکھتے ہیں جو یکسر باطل ہے ایسا ہرگز نہ ہوسکے گا بلکہ اطاعت محمد کے علاوہ اب نجات کا کوئی راستہ نہیں اور جو لوگ سرے سے کوئی مذہب نہیں رکھتے انہیں بھی دیکھ لیناچاہیے کہ کس طرح ایک قطرہ منی سے ہم نے انہیں باکمال خوبصورت صحت مند انسان بنادیا اور یہ مشارق ومغارب کے نظام جو ہر لحظہ سے بیشمار…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی ہم چاہیں تو انہیں ہلاک کردیں اور ان کی جگہ ایسے لوگ زمین میں بسا دیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت گزار ہوں۔ ہم ایسا کرنا چاہیں تو ان کی یہ ہرگز مجال نہیں ہے کہ ہمیں اپنے ارادہ سے باز رکھ سکیں، لیکن ہماری اپنی حکمت کا تقاضا ہے، اس لئے ہم انہیں مہلت پر مہلت دیئے جا رہے ہیں۔ ان کی انتہائی بدبختی ہے کہ اس مہلت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے سرکشی میں بڑھتے جا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →(70:41) علی ان تبدل خیرا منھم : ای اذا کان الامر کذلک کما ذکرنا من ان خلقہم مما یعلمون وھو النطفۃ القذرۃ فلا اقسم برب المشرق والمغرب۔ جب بات یہ ہے کہ جیسا ہم نے بیان کیا کہ ان کی تخلیق ایک ایسی چیز سے کی کئی ہے جسے وہ جانتے ہیں یعنی گندے نطفے سے تو ہم مشرقوں اور مغربوں کے رب کی قسم کھاتے ہیں۔ (یعنی اپنی ذات کی) کہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ان سے بہتر لوگ بدل کرلے آئیں۔ واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف جملہ سابقہ محذوف پر ہے لا زائدہ ہے تاکید کے لئے آیا ہے (نیز ملاحظہ ہو 69ـ38 متذکرۃ الصدر۔
لااقسم برب المشارق والمغارب جملہ قسمیہ ہے اور انا لقدرون جواب قسم علی ان نبدل خیرا منھم متعلق قدرون
اقسم مضارع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
لغات القرآن، ۔
مھطعین۔ وہ دوڑتے آتے ہیں۔ عزین۔ گروہ در گروہ۔ الاجداث۔ قبریں۔ نسب۔ نشانیاں لگی ہوئی چیز۔ یوفضون۔ دودوڑتے ہیں۔
تشریح : زیر مطالعہ آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ انسان اگرچہ کم ہمت پیدا کیا گیا ہے یعنی تمام تر عظمتوں کے باوجود اس میں کچھ فطری کمزوریاں موجود ہیں لیکن اگر ایمان اور عمل صالح کے ساتھ زندگی گزاری جائے تو پھر اس کی نیکیاں اور اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری اس کو جنت کی ابدی راحتوں کا مستحق بنا دیتی ہیں۔
کفار مکہ کا یہ حال تھا کہ جب نبی کریم ﷺ ان کے سامنے اللہ کا دین پیش کرکے ان کو گمراہی سے ہدایت کی طرف آنے کی دعوت دیتے یا جب آپ تلاوت کلام پاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
بت پرستی کا انجام۔
(ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتیں سن کر نبی ﷺ کے دائیں بائیں ہوکر نکل جاتے تھے اور قرآن شریف کی پوری نصیحت سننے سے کنیاتے تھے اور آپس میں یہ باتیں کرتے تھے کہ یہ ساری نصیحت اس لیے ہے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں گے اور اس نئی زندگی میں میوہ کھانے کو باغ ملیں گے پھر کہتے تھے کہ اگر یہ بات سچ ہے تو جس طرح بہ نسبت ان مسلمانوں کے دنیا میں ہم راحت و آرام سے ہیں اسی طرح ان پہلے ہم کو بھی وہ باغ ملیں گے اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جنت کچھ انکے بڑے بوڑھوں کے بنائے ہوئے باغ نہیں کہ بغیر مرضی اللہ کے یہ ان باغوں میں گھس جائیں گے نہیں یہ خیال ان کا بالکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
[10] کیونکہ سورج ہر روز ایک نئے زاوئیے سے طلوع اور نئے زاوئیے سے غروب ہوتا ہے اس اعتبار سے بہت سے مشرق اور بہت سے مغرب ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
مالداروں کی ذہنیت
1: کہ ان لوگوں کو اپنے مال اور اپنی دولت پر بڑا ناز ہے ۔ اور ان کی رائے میں چونکہ یہ دنیا کی نعمتوں سے بہرہ ور ہیں ۔ اس لئے ضروری ہے ۔ کہ عالم آخرت میں بھی ان کا تفوق غربا پر قائم رہے ۔ اور وہاں بھی جنت کی تمام مسرتوں سے استفادہ کرنے کا انہیں حق حاصل ہو ۔ حالانہ یہ قطعاً اس پاک جگہ میں جانے کی استعداد نہیں رکھتے ۔ اور مال دولت چاندی سونے کے ذخائر کو یہ لوگ کیوں اتنی اہمیت دیتے ہیں ۔ کہ اس کی وجہ سے اپنے کو افضل سمجھتے ہیں ۔ اور غریب مسلمانوں کو اپنی نظروں میں حقیر جانتے ہیں ۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ ان چیزوں سے کہیں یہ اپنی فطرت کو بدل سکتے ہیں ؟ کیا یہ وہی نہیں ہے ۔ جن کو…
Read the full tafseer →(41) کہ ہم ان کو بدل کر ان کی جگہ ان سے بہتر لوگوں کو لے آئیں اور ہم ایسا کرنے سے عاجز نہیں ہیں - یعنی روز آفتاب مشرق کے نئے نقطے سے نکلتا ہے اور نئے خط پر گزرتا ہوا غرب میں ڈوب جاتا ہے جیسا کہ والصفات میں تفصیل گزر چکی ہے۔
ان تمام نقطہائے مشارق ومغارب کے مالک کی قسم کھاتا ہوں کہ ہم دنیا میں ہی ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آنے پر قادر ہیں اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جو اس وقت ان سے بہتر مخلوق لانے پر قادر ہے جو ان سے عمل اور اعتقاد میں اچھی ہوگی تو انہی کو دوبارہ پیدا کردینا اور قیامت میں زندہ کردینا کون سا مشکل ہے۔
بہرحال جب ان کے عناد اور استہزا کی یہ حالت ہے کہ سیدھی بات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ف 2۔ پس جب نئی مخلوق اور وہ بھی ایسی جس میں صفات کمال زیادہ ہوں جن میں زیادہ اشیاء پیدا کرنا پڑیں ہم کو پیدا کرنا آسان ہے تو تم کو دوبارہ پیدا کرنا کون سا مشکل ہے۔
Read the full tafseer →ان سے بہتر لوگوں کو ہم لے آئیں کوئی ہم کو اس ارادہ سے باز نہیں رکھ سکتا
41 ؎ یہ لوگ کس غلطی میں مبتلا ہیں اور اپنے آپ کو یہ لوگ کیا سمجھتے ہیں ؟ ان کو کس طرح یہ دھوکا لگ گیا ہے کہ اس دنیا کی رونق اور آبادی ان کے دم قدم سے ہے اگر یہ نہ ہوں گے تو اس گلستان کی ساری رونق ویران ہوجائے گی اور اس دنیا پر ہو کا عالم طاری ہوجائے گا۔ کیا یہ لوگ نہیں تھے تو یہ دنیا آباد نہیں تھی اور اگر یہ نہ ہوں گے تو دنیا ویران ہوجائے گی ؟ جن لوگوں کو اس طرح کی غلط فہمی پیدا ہوجاتی ہے ہم ان کو پلک زدن میں تہس نہس کردینے پر پوری قدرت رکھتے ہیں اور پھر جب یہ نہ ہوں گے تو دنیا ان سے بہتر لوگوں سے آباد ہوگی اور اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ (...and those who are upright in their testimonies, [ 70:33] '. The word shahadat is the plural of shahadah. The use of plural number in this verse too indicates that there are many types and categories of 'testimony', and it is necessary to stand firm by one's testimony of any type. This includes testifying to the faith of Islam, Divine existence and His Oneness, and testifying that Sayyidna Muhammad ﷺ is His Final Messenger. It is obligatory to testify to the crescent of Ramadan, if one has seen it. Giving a true and accurate account of Shari'ah…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
29 This is that for which Allah Almighty has sworn an oath of His being Lord of the Easts and Wests. It means: "As We are Owners of the Easts and Wests, the whole earth is under Our control and power, and you have no power to escape Our punishment: We can destroy you as and when We like and can create another people that may be better than you. "
Read the full tafseer →