Al-Ma'aarij 70:40

Al-Ma'aarij · from ayah 40

70:40

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَ ۟ۙفَلَاۤ اُقۡسِمُ بِرَبِّ الۡمَشٰرِقِ وَالۡمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوۡنَۙ

ہمیں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کہ ہم طاقت رکھتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

So I swear by the Lord of [all] risings and settings that indeed We are able

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij

All translations of 70:40

پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی، ہم اِس پر قادر ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہمیں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کہ ہم طاقت رکھتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس مجھے قسم ہے مشرقوں اور مغربوں کے رب کی (کہ) ہم یقیناً قادر ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب میں قسم کھاتا ہوں ان تمام مقامات کے مالک کی جہاں سے ستارے نکلتے اور جہاں سے غروب ہوتے ہیں کہ ہم یقینا اس بات پر قادر ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو مجھے قسم ہے اس کی جو سب پُوربوں سب پچھموں کا مالک ہے کہ ضرور ہم قادر ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو میں مشارق اور مغارب کے رب کی قَسم کھاتا ہوں کہ بے شک ہم پوری قدرت رکھتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی ! کہ بیشک ہم یقینا قدرت رکھنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

سو میں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہم یقینا اس بات پر قادر ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے خداوند کی کہ ہم قادر ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس نہیں میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی کہ بلاشبہ ہم پوری طرح قادر ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

تو میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے پروردگار کی۔ کہ ہم ان پر قادر ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو نہیں ! قسم ہے مجھے مشرقوں اور مغربوں کے ربّ کی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہمیں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کہ ہم طاقت رکھتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

I swear by the Lord of the easts and the wests that We have the power

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, I swear by the Lord of the points of sunrise and those of sunset, We are powerful

— Muhammad Taqi Usmani

So, I swear by the Lord of the points of sunrise and those of sunset, We are powerful

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But no! I swear by the Lord of the easts and the wests that surely We are Able

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But nay! I swear by the Lord of the rising-places and the setting-places of the planets that We verily are Able

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So I swear by the Lord of [all] risings and settings that indeed We are able

— Saheeh International

I do not need to swear by the Lord of the eastern and western regions that We have certainly all the power

— Muhammad Sarwar

But nay! I swear by the Lord of the Easts and the Wests that We are certainly able

— Muhammad Habib Shakir

I swear by the Lord of the easts and the wests, that, vierly We are Able.

— Abdul Majid Daryabadi

Now I do call to witness the Lord of all points in the East and the West that We can certainly-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 70:40

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 36–44

مرکز نور و ہدایت سے مفرور انسان اللہ تعالیٰ عزوجل ان کافروں پر انکار کر رہا ہے جوحضور ﷺ کے مبارک زمانہ میں تھے خود آپ ﷺ کو وہ دیکھ رہے تھے اور آپ ﷺ جو ہدایت لے کر آئے وہ ان کے سامنے تھی اور آپ ﷺ کے کھلے معجزے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے پھر باوجود ان تمام باتوں کے وہ بھاگ رہے تھے اور ٹولیاں ٹولیاں ہو کر دائیں بائیں کترا جاتے تھے، جیسے اور جگہ آیت (فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ 49؀ۙ) 74۔ المدثر :49) ، یہ نصیحت سے منہ پھیر کر ان گدھوں کی طرح جو شیر سے بھاگ رہے ہوں کیوں بھاگ رہے ہیں ؟ یہاں بھی اسی طرح فرما رہا ہے کہ ان کفار کو کیا ہوگیا ہے یہ نفرت کر کے کیوں تیرے پاس سے بھاگے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَعَارِج 27 یعنی بات وہ نہیں ہے جو انہوں نے سمجھ رکھی ہے۔ سورة الْمَعَارِج 28 یہاں اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ذات کی قسم کھائی ہے۔ مشرقوں اور مغربوں کا لفظ اس بنا پر استعمال کیا گیا ہے کہ سال کے دوران میں سورج ہر روز ایک نئے زاویے سے طلوع اور نئے زاویے پر غروب ہوتا ہے۔ نیز زمین کے مختلف حصوں پر سورج الگ الگ اوقات میں پے درپے طلوع اور غروب ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان اعتبارات سے مشرق اور مغرب ایک نہیں ہیں بلکہ بہت سے ہیں۔ ایک دوسرے اعتبار سے شمال اور جنوب کے مقابلے میں ایک جہت مشرق ہے اور دوسری جہت مغرب۔ اس بنا پر سورة شعراء، آیت 28 اور سورة مزمل، آیت 19 میں رب المشرق و المغرب کے الفاظ استعمال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–44

(آیت) وَالَّذِيْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَاۗىِٕمُوْنَ ، یہاں بھی لفظ شہادات کو بلفظ جمع لانے میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ شہادت کی بہت سی قسمیں ہیں اور ہر قسم شہادت کو قائم رکھنا واجب ہے۔ اس میں شہادت ایمان توحید و رسالت بھی داخل ہے۔ ہلال رمضان اور حدود شرعیہ کی شہادت بھی اور لوگوں کے باہمی معاملات جو کسی کے سامنے ہوئے ہوں ان کی شہادت بھی کہ ان شہادتوں کا چھپانا اور ان میں کمی بیشی کرنا حرام ہے ان کو صحیح صحیح قائم کرنا اس آیت کی رو سے فرض ہے۔ (از مظہری) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

عربیت کا ایک خاص اسلوب: یہ اسی طرح کی قسم ہے جس طرح کی قسم پچھلی سورہ کی آیات ۳۸-۳۹ میں گزر چکی ہے۔ قسم سے پہلے جو ’لَا‘ ہے اس کی وضاحت سابق سورہ میں ہو چکی ہے۔ ’مشارق‘ اور ’مغارب‘ کے الفاظ اپنے مقام پر زیربحث آ چکے ہیں۔ قرآن میں یہ الفاظ واحد، مثنیٰ اور جمع تینوں شکلوں میں استعمال ہوئے ہیں اور تینوں ہی صورتوں میں معنی کے اعتبار سے کوئی خاص فرق نہیں ہوتا۔ عربی زبان میں بعض مرتبہ مثنیٰ کسی شے کے دونوں اطراف کی طرف اشارہ کے لیے آتا ہے جس طرح سورۂ کہف میں ’بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ‘ آیا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات جمع محض کسی شے کی وسعت اطراف کو ظاہر کرنے کے لیے آتی ہے جس کی وضاحت ہم نے سورۂ اعراف کی تفسیر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 39–40

39۔ 1 ایسا کیسا ممکن ہے کہ مومن اور کافر دونوں جنت میں جائیں رسول کو ماننے والے اور اس کی تکذیب کرنے والے دونوں کو اخروی نعمتیں ملیں ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ یعنی (حقیر قطرے) سے۔ جب یہ بات ہے تو کیا تکبر اس انسان کو زیب دیتا ہے ؟ جس تکبر کی وجہ سے ہی یہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب بھی کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–40

11: یعنی یہ جانتے ہیں کہ ہم نے انہیں نطفے سے پیدا کیا ہے، حالانکہ نطفے سے انسان بننے تک کتنے مراحل آتے ہیں۔ لہذا جب ہم ان تمام مراحل سے گزار کر نطفے کو جیتا جاگتا انسان بنانے پر قادر ہیں تو اس کی لاش کو دوبارہ زندہ کرنے پر کیوں قادر نہیں ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فلا اقسم .................... بمسبوقین اس معاملے پر قسم اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ مشرقوں اور مغربوں کے رب کی طرف اشارہ کرکے اللہ کی عظمت کو بتایا گیا۔ مشارق ومغارب سے کبھی تو ستاروں کے مقامات طلوع مراد ہوتے ہیں جو بہت زیادہ ہیں جو اس طویل و عریض کائنات میں بہت زیادہ ہیں اور اس سے یہ مفہوم بھی مراد لیا جاسکتا ہے کہ وہ مشرق جو مختلف علاقوں میں مسلسل آتے رہتے ہیں اور یہ مشرق بروقت رہتے ہیں کیونکہ جب زمین اپنے محور کے گرد گھومتی ہے تو دنیا کی کوئی نہ کوئی جگہ مشرق ہوتی ہے اور کوئی نہ کوئی جگہ مغرب ہوتی ہے۔ بہرحال مشارق ومغارب کا جو مفہوم بھی ہو ، اس سے اس کائنات کی ضخامت معلوم ہوتی ہے۔ اور خالق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 آفتاب ہر روز ایک نئے نقطہ سے طلوع ہوتا اور نئے نقطہ پر غروب ہوتا ہے۔ ان کو " مشارق " و " مغارب " کہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 40{ فَلَآ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ } ”تو نہیں ! قسم ہے مجھے مشرقوں اور مغربوں کے ربّ کی“ قرآن مجید میں صیغہ واحد کے طور پر تو مشرق اور مغرب کا ذکر بہت مرتبہ آیا ہے۔ سورة الرحمن کی آیت 17 میں رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَیْنِبھی ہے ‘ جبکہ آیت زیر مطالعہ میں دونوں سمتوں کے لیے جمع کے صیغے آئے ہیں۔ مشرق و مغرب سے متعلق ان تینوں صیغوں واحد ‘ تثنیہ اور جمع کی وضاحت سورة الرحمن کی آیت 17 کے تحت کی جا چکی ہے۔ { اِنَّا لَقٰدِرُوْنَ۔ } ”یقینا ہم قادر ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

25 مشرق عموماً سورج کے طلوع ہونے کی جگہ اور مغرب سورج کے غروب ہونے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ سورة مزمل میں ایک مشرق اور ایک مغرب کا ذکر ہے۔ سورة الرحمن میں دو مشرقوں اور دو مغربوں کا ذکر ہے۔ اور اس مقام پر بہت سے مشرقوں اور مغربوں کا ذکر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موسم سرما کے سب سے چھوٹے دن یعنی 22 دسمبر کو سورج مشرق کی طرف سے نکلنے کے باوجود جنوب کی طرف بہت زیادہ مائل ہوتا ہے۔ اسی طرح اس دن سورج کا مغرب بھی جنوب کی طرف بہت زیادہ مائل ہوتا ہے۔ اسی طرح موسم گرما میں سب سے بڑے دن یعنی 22 جون کو سورج مشرق کی سمت سے نکلنے کے باوجود شمال کی طرف بہت زیادہ مائل ہوتا ہے اسی طرح اس دن جب مغرب میں غروب ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16۔ (یعنی خود اپنی) آگے ذکر قدرت کاملہ کا ہے اس مناسبت سے یہاں اپنا ایک اسم وصفی لاکر گویا اسی وصف کو بطور شہادت کے پیش کیا ہے۔ مشارق جمع ہے مشرق کی اور مغارب جمع ہے مغرب کی۔ آفتاب کے طلوع و غروب کے نقاط سال میں برابر بدلتے رہتے ہیں، جیسا کہ علم ہئیت کے ہر طالب علم پر واضح ہے۔ قرآن مجید نے ہر ہر نقطہ طلوع کو ایک مشرق اور ہر ہر نقطہ غروب کو ایک مغرب قرار دے کر اسی فلکیاتی حقیقت کی جانب اشارہ کردیا۔ مشرک اور جاہلی قوموں نے مشرق، اور مغرب، جنوب مشرق، ، جنوب مغرب، شمال، شمال مغرب، شمال مشرق وغیرہ کے جو الگ الگ دیوتا، یا، لوک بال تجویز کر رکھے تھے، اسی ایک نام (آیت) ” رب المشرق والمغرب “۔ کو لاکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 39–44

کلا انا خلقناھم مما یعلمون مطلب یہ کہ جس مادہ سے یہ بنے ہیں اس لحاظ سے تو سب انسان برابر ہیں اگر وہ مادہ ہی انسان کے جنت میں جانے کا سبب ہو تو نیک و بد، ظالم و عادل سب ہی کو جنت میں جانا چاہیے، لیکن معمولی عقل بھی یہ فیصلہ کرنے کے لئے کافی ہے کہ جنت کا استحقاق انسان کے مادہ تخلیق کی بناء پر نہیں، بلکہ اس کے اوصاف کی بناء پر ہوتا ہے۔ بحمدتم اللہ

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلا قسم برب المشارق والمغارب . المشارق اور المغارب سے مراد ہیں ستاروں کے طلوع و غروب کے مقامات یا روزانہ چاند و سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات۔ انا لقادرون یعنی ہم کو قدرت حاصل ہے

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 38–41

(38۔ 41) ان لوگوں کو ہرگز جنت میں داخل نہیں کیا جائے گا ہم نے ان کفار مکہ کو نطفہ سے پیدا کیا ہے، میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی کہ ہم اس پر قادر ہیں کہ ان کو ہلاک کرکے ان کی جگہ ان سے زائد اطاعت گزاروں کو پیدا کردیں اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 40–41

فلا اقسم برب المشرق…: سورج مشرق سے ہر روز نئی جگہ سے طلوع ہوتا ہے اور مغرب میں نئی جگہ غروب ہوتا ہے۔ وہ جگہیں بھی ہر شہر اور ہر جگہ کے لحاظ سے الگ الگ ہوتی ہیں ، اس لحاظ سے مشرقوں اور مغربوں کی تعداد کا اندازہ ہی نہیں ہوسکتا۔ قسم سے پہلے ”لا“ کہہ کر منکرین کے قول کی نفی کی گئی ہے، پھر مشاورق و مغارب کے رب کی قسم کھا کر فرمایا کہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ انہیں ختم کر کے ان سے بہتر لوگ لے آئیں اور ہم کچھ عاجز نہیں ہیں۔ قسم کی مناسبت یہ ہے کہ ہم مشاورق و مغارب کے رب ہیں، آسمان و زمین اور سورج وغیرہ سب ہمارے قبضے میں ہیں، کوئی شخص ہمیں عاجز کر کے ہماری گرفت سے نکل نہیں سکتا۔ ہم جب چاہیں انہیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 40–41

فلا اقسم یعنی میں قسم اٹھاتا ہوں۔ یہاں لازائدہ ہے۔ برب المشرق والمغرب سورج کے مشرقوں اور اس کے مغربوں کے رب کی۔ اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ ابوحیوہ، ابن محیصن اور حمید نے برب المشرق و المغرب واحد کے صیغہ کیساتھ قرأت کی ہے۔ انا لقدرون۔ علی ان نبدل خیراً منھم اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ہم ہلاک کرنے، انہیں لے جانے اور فضل، اطاعت اور مال میں بہتر لوگوں کو لانے پر قادر ہیں۔ وما نحن بمسبوقین۔ کوئی چیز ہم سے فوت نہیں ہو سکتی اور ہم جس امر کا ارادہ کرلیں، وہ ہمیں عاجز نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 40–42

34۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم برب المشرق والمغرب پس میں مشرقوں اور مغربوں کے پروردگار کی قسم کھاتا ہوں سے مراد ہے کہ سورج کے لیے ہر دن طلوع ہونے کی جگہ ہے جس میں وہ طلوع ہوتا ہے اور ہر دن میں غروب ہونے کی جگہ ہے کہ جس میں وہ غروب ۃ وتا ہے جو گزشتہ دن کے مطلع سے اور مغرب سے مختلف ہوتا ہے اور اس کے غروب ہونے کی جگہ کے علاوہ۔ 35۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) آیت برب المشرق والمغرب کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ منزلیں ہیں جن میں سورج اور چاند چلتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَلَآ : پس نہیں !][ اُقْسِمُ : میں قسم کھاتا ہوں ][ بِرَبِ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ : مشرقوں اور مغربوں کے رب کی ][ انا لَقٰدِرُوْنَ : بیشک ہم یقینا قدرت رکھنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 40–41

اس کے بعد فرمایا : ﴿ فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ0040﴾ (الآیتین) (سو میں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی قسم کھاتا ہوں کہ بلاشبہ ہم اس پر قادر ہیں کہ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں) یعنی ہمیں اس پر قدرت ہے کہ ان لوگوں کو بالکل ختم کردیں اور ان کی جگہ دوسرے لوگ لے آئیں جو ان سے بہتر ہوں، یعنی ہم ان کو ختم کر کے ان سے بہتر لوگ پیدا کرنے پر قادر ہیں تم بھی دوبارہ پیدا ہوسکتے ہو اور تمہاری جگہ دوسری مخلوق بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–44

حیرت واستعجاب برحال اہل عناد وتنبیہ وتہدید برخود فریبی ایشاں : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فمال الذین کفروا ........ الی .......... کانوا یوعدون “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مجازات اعمال کا بیان تھا اور یہ کہ مجرمین قیامت کے روز کیسی شدید بےچینی اور اذیت میں مبتلا ہوں گے اب ان آیات میں ان معاندین کی حالت میں حیرت وتعجب کا اظہار کیا جارہا ہے جو اپنی مذموم اور بےہودہ روش سے آنحضرت ﷺ کو اذیت پہنچاتے اور دین کا مذاق اڑاتے تھے اور پھر عجیب تر امر یہ ہے کہ اس دل آزار اور بےہودہ روش کے باوجود اپنے بارے میں یہ دعوے کرتے تھے کہ وہ آخرت میں بڑے انعامات سے نوازے جائیں گے اس ضمن میں پھر اس بات کا اعادہ کیا جا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 40–41

13:۔ ” فلا اقسم “ قدرت کاملہ کا بیان ہے۔ مشرق و مغرب کے مالک کی قسم ہم اس پر قادر ہیں کہ ان کو ہلاک کردیں اور ان کی جگہ ایسے انسانوں کو لے آئیں جو ایمان و عمل میں ان سے بہتر ہوں اور اس کام سے ہم عاجز اور درماندہ نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 36–44

گذشتہ سے پیوستہ : گزشتہ آیات میں منکرین قیامت کو وعید سنائی گئی تھی کہ قیامت کے روز مجرمین کو دوزخ خود اپنی طرف پکارے گی ۔ جو دنیا میں احکام الہٰی سے پشت پھیرتے تھے۔ ردگردانی کرتے تھے مال سمیٹ سمیٹ کر رکھتے تھے ۔ خرچ کرنے میں بخل کرتے تھے۔ حلال و حرام میں تمیز نہیں کرتے تھے انہیں دوزخ چن چن کر اپنے اندر داخل کرے گی۔ انسان کے پیدائشی طور پر حریص اور بےصر اہونے کا ذکر کیا ۔ یعنی جب اسے شرپہنچتا ہے تو بےصبری کا اظہار کرتا ہے۔ اور جب اسے خیر پہنچتی ہے تو بخل کرتا ہے۔ البتہ اس سے وہ لوگ متثنیٰ ہیں جن میں آٹھ صفات پائی جاتی ہیں۔ یعنی نماز میں مدادمت اختیار کرتا ہے۔ البتہ اس سے وہ لوگ متثنیٰ ہیں جن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَآ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَ۝ 40 ۙ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 36–44

ترکیب : مھطعیں المھطع المسرع وقیل المادعنقہ ھو حال من الذین کفروا قبلک حولک معمول محطعین عزین جمع عزۃ وھی العصتبہ من الناس وقیل اصلھا عزوۃ من العزوکان کل فرقہ تعتزی ای تنسب الی غیرمن تعتزی الیہ الاخری فی الصحاح العزۃ الفرقۃ من الناس والھاء عوض عن الیاء والجمع عزی وعزون عن تتعلق بعزین ویجوزان تکون حالان یدخل الجملۃ مفعول بطمع انا لقادردن جواب القسم وما نحن اماجواب آخر للقسم اوحال عن القادرون یخوضوا ویلعبوا مجزومان علیٰ انھما جواب الامریوم بدل من یوتھم سراعاجمع سریع والاجداث جمع جدث وھوا لقبرھو حال من فاعل یخرجون وکذا کانھم نصب عندالجمہور بفتح النون و سکون الصاد بمعنی العلم وقریٔ بضم النون…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 40–41

فَـلَآ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَ ۔ عَلٰٓی اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْھُمْ لا وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ ۔ (المعارج : 40، 41) (پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی، بیشک ہم قادر ہیں۔ اس بات پر کہ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں اور ہم اس سے عاجز رہنے والے نہیں ہیں۔ ) مشارق و مغارب کی قسم اور مفہوم اس سے پہلے ” لا “ کی وضاحت گزشتہ سورة میں گزر چکی ہے اور وہیں ہم قسم اور جوابِ قسم کا مفہوم بھی بیان کرچکے ہیں۔ یہاں بھی ” لا “ حرف زائد کے طور پر نہیں آیا بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو بات تم کہہ رہے ہو وہ صحیح نہیں۔ بلکہ حقیقت وہ ہے جو ہم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–42

فہم القرآن ربط کلام : ایمانداروں کو جنت کی خوشخبری سنانے پر کفار کا رد عمل۔ مکی دور میں اسلام کے مخالفوں کا یہ خیال بلکہ یقین تھا کہ نبی ﷺ کی دعوت قبولیت عامہ نہیں پاسکے گی۔ اسی بنا پر اسلام اور مسلمانوں کو اپنے سے حقیر جانتے اور ان الفاظ کے ساتھ نبی ﷺ اور مسلمانوں کو مذاق کیا کرتے تھے۔ ” جب یہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کا مذاق اڑاتے ہیں ہاں یہ شخص ہے جسے ” اللہ “ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ “ (الفرقان : 41) (وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْ بَیْنِنَا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بالشّٰکِرِیْنَ ) (الانعام : 53) ” اور اسی طرح ہم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

40 : فَـلَا اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ (پھر میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی) مشارقؔ سے مطالع اور مغاربؔ سے غروب کے مقامات اِنَّا لَقٰدِرُوْنَ (ہم اس پر قادر ہیں)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

39 ۔” کلا “ وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے۔ پھر ابتداء کی اور فرمایا : ” انا خلقناھم مما یعلمون “ یعنی نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے، لوگوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ ایک اصل سے پیدا کیے گئے ہیں اور ان کا باہم فضیلت رکھنا اور جنت کا مستحق ہونا ایمان وطاعت کی وجہ سے ہے۔ بشر بن حجاش ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور اپنی ہتھیلی میں لعاب ڈالا اور اس پر انگلی رکھی اور پھر فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے ابن آدم ! تو مجھے کیسے عاجز کرسکتا ہے حالانکہ میں نے تجھے اس کی مثل سے پیدا کیا ہے حتیٰ کہ جب گلے تک پہنچا تو تو نے کہا میں صدقہ کرتا ہوں اور اب کہا صدقہ کا وقت ہے ؟ اور کہا گیا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–44

36۔ 44۔ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتیں سن کر آنحضرت ﷺ کے دائیں بائیں ہو کر نکل جاتے تھے ‘ اور قرآن شریف کی پوری نصیحت سننے سے کتراتے تھے اور آپس میں یہ باتیں کرتے تھے کہ یہ ساری نصیحت اس لئے ہے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں گے اور اس نئی زندگی میں میوے کھانے کو باغ میں گے۔ پھر کہتے تھے اگر یہ بات سچ ہے تو جس طرح بہ نسبت ان مسلمانوں کے دنیا میں ہم راحت و آرام سے ہیں اسی طرح ان سے پہلے ہم کو ہی وہ باغ ملیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جنت کچھ ان کے بڑے بوڑھوں کے بنائے ہوئے باغ نہیں ہیں کہ بغیر مرضی اللہ تعالیٰ کے یہ ان باغوں میں گھس جائیں گے۔ نہیں یہ خال ان کا بالکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یہ اللہ کی طرف سے مشارق ومغارب، سورج، چاند اور ستاروں کی قسم ہے کیونکہ ان میں قیامت پر اور ان کی مانند ایسے لوگ لے آنے میں اس کی قدرت پر بڑی بڑی نشانیاں ہیں جو عین انہی کی طرح ہوں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (وننشئکم فی مالاتعلمون۔ الواقعہ 61) ۔ اور ہم تمہیں ایسے جہان میں پیدا کریں جس کو تم نہیں جانتے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–44

قول باری ہے (للسائل والمحروم سائل اور محروم کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سوال کرنے والے کو سائل کہتے ہیں اور محروم وہ شخص ہے جسے کسی تجارت میں کامیابی نہ ہوتی ہو۔ ابوقلابہ کا قول ہے کہ محروم وہ شخص جس کا مال چلا جائے۔ حسن بن محمد کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا، اسے مال غنیمت حاصل ہوا، اس کے بعد کچھ دوسرے لوگ بھی آگئے اور یہ آیت نازل ہوئی (فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے) حضرت انس ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان المحروم من حرم وصیتہ بیشک محروم وہ شخص ہے جسے اس چیز سے محروم رکھا جائے جس کی اس کے لئے وصیت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 40–41

36 ۔ منکرین کے ایک اور زعم باطل کی تردید کا ذکر وبیان : سو منکرین کے اس زعم باطل کی تردید میں کہ ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا ارشاد فرمایا گیا پس نہیں، یعنی معاملہ ایسے نہیں جیسا کہ ان لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ ہم یونہی مر مٹ کر ختم ہوجائیں گے، اور کوئی حساب و کتاب وغیرہ نہیں ہوگا، اور اگر ہوا بھی تو وہاں بھی کامیابی اور جنت ہماری ہی ہوگی، اور ہم جنت میں یونہی چلے جائیں گے کہ آج دنیا جو ہمیں ملی ہوئی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ سو ایسے نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ حقیقت امر وہ ہے جو کہ ہم بیان کرتے ہیں سو اس طرح کا حرف لا جو قسم سے پہلے آتا ہے نہ یہ زائدہ ہوتا ہے، جیسا کہ بعض مفسرین حضرات کہہ دیا کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–44

نیک لوگوں کی صفات تشریح : ایک اچھے پکے اور صالح جنت کے حقدار کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ کافی دفعہ وضاحت سے پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں یہاں پھر مختصراً بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان فطرتاً کمزور طبیعت یعنی غلطیوں کا پتلا سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ہے ہی۔ مگر اس کی اصلاح کے لئے ہی تو قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ تو جو شخص اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتا ہے تو وہی بہادر انسان ہے وہ خود کو شیطان کے چنگل سے نکال کر بندگانِ الٰہی میں شامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عمل بہت ضروری ہے۔ اگر زبانی ایمان لے آنا کافی ہوتا تو پھر منافق دوزخ کے نچلے درجے میں کیوں ڈالے جاتے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 35–44

آیات 36 تا 44۔ اسرار ومعارف۔ اور ان کفار کو کیا ہوا ہے کہ بجائے تصدیق کرنے ہر طرف سے آپ پر یلغار کرتے ہیں کہ آپ کے ارشادات کی تکذیب کرتے ہیں اور اعتراض کے ساتھ مذاق اڑائیں اس پر طرفہ یہ کہ ہر قوم آخرت میں اپنے لیے نجات کی امید رکھتی ہے لہذا مغرب ومشرق کے یہود ہنود ہوں یانصاری وغیرہ سب اپنے لیے جنت کا دعوی بھی رکھتے ہیں جو یکسر باطل ہے ایسا ہرگز نہ ہوسکے گا بلکہ اطاعت محمد کے علاوہ اب نجات کا کوئی راستہ نہیں اور جو لوگ سرے سے کوئی مذہب نہیں رکھتے انہیں بھی دیکھ لیناچاہیے کہ کس طرح ایک قطرہ منی سے ہم نے انہیں باکمال خوبصورت صحت مند انسان بنادیا اور یہ مشارق ومغارب کے نظام جو ہر لحظہ سے بیشمار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 مشرق (پورب) کئی ہیں کیونکہ ہر روز سورج ایک نئی جگہ سے طلوع ہوتا ہے اسی طرح مغرب پچھم) کیونکہ ہر روز سورج ایک نئی جگہ غروب ہوتا ہے۔ (تفصیل سورة صافات کی آیت 5 کے تحتگزر چکی ہے۔ )

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 36–44

لغات القرآن، ۔ مھطعین۔ وہ دوڑتے آتے ہیں۔ عزین۔ گروہ در گروہ۔ الاجداث۔ قبریں۔ نسب۔ نشانیاں لگی ہوئی چیز۔ یوفضون۔ دودوڑتے ہیں۔ تشریح : زیر مطالعہ آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ انسان اگرچہ کم ہمت پیدا کیا گیا ہے یعنی تمام تر عظمتوں کے باوجود اس میں کچھ فطری کمزوریاں موجود ہیں لیکن اگر ایمان اور عمل صالح کے ساتھ زندگی گزاری جائے تو پھر اس کی نیکیاں اور اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری اس کو جنت کی ابدی راحتوں کا مستحق بنا دیتی ہیں۔ کفار مکہ کا یہ حال تھا کہ جب نبی کریم ﷺ ان کے سامنے اللہ کا دین پیش کرکے ان کو گمراہی سے ہدایت کی طرف آنے کی دعوت دیتے یا جب آپ تلاوت کلام پاک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–44

بت پرستی کا انجام۔ (ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتیں سن کر نبی ﷺ کے دائیں بائیں ہوکر نکل جاتے تھے اور قرآن شریف کی پوری نصیحت سننے سے کنیاتے تھے اور آپس میں یہ باتیں کرتے تھے کہ یہ ساری نصیحت اس لیے ہے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں گے اور اس نئی زندگی میں میوہ کھانے کو باغ ملیں گے پھر کہتے تھے کہ اگر یہ بات سچ ہے تو جس طرح بہ نسبت ان مسلمانوں کے دنیا میں ہم راحت و آرام سے ہیں اسی طرح ان پہلے ہم کو بھی وہ باغ ملیں گے اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جنت کچھ انکے بڑے بوڑھوں کے بنائے ہوئے باغ نہیں کہ بغیر مرضی اللہ کے یہ ان باغوں میں گھس جائیں گے نہیں یہ خیال ان کا بالکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 40–44

[10] کیونکہ سورج ہر روز ایک نئے زاوئیے سے طلوع اور نئے زاوئیے سے غروب ہوتا ہے اس اعتبار سے بہت سے مشرق اور بہت سے مغرب ہوئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–42

مالداروں کی ذہنیت 1: کہ ان لوگوں کو اپنے مال اور اپنی دولت پر بڑا ناز ہے ۔ اور ان کی رائے میں چونکہ یہ دنیا کی نعمتوں سے بہرہ ور ہیں ۔ اس لئے ضروری ہے ۔ کہ عالم آخرت میں بھی ان کا تفوق غربا پر قائم رہے ۔ اور وہاں بھی جنت کی تمام مسرتوں سے استفادہ کرنے کا انہیں حق حاصل ہو ۔ حالانہ یہ قطعاً اس پاک جگہ میں جانے کی استعداد نہیں رکھتے ۔ اور مال دولت چاندی سونے کے ذخائر کو یہ لوگ کیوں اتنی اہمیت دیتے ہیں ۔ کہ اس کی وجہ سے اپنے کو افضل سمجھتے ہیں ۔ اور غریب مسلمانوں کو اپنی نظروں میں حقیر جانتے ہیں ۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ ان چیزوں سے کہیں یہ اپنی فطرت کو بدل سکتے ہیں ؟ کیا یہ وہی نہیں ہے ۔ جن کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(40) پس میں مشرقوں اور مغربوں کے مالک و پروردگار کی قسم کھاتا ہوں کہ ہم اس بات پر یقینا قادر ہیں اور پوری طرح قدرت رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 37–40

ف 1۔ یعنی چاہئے تو یہ تھا کہ ان مضامین کی تصدیق کرتے، لیکن یہ لوگ متفق ہو ہو کر آپ کے پاس اس غرض سے آتے ہیں کہ ان مضامین کی تکذیب اور ان کے ساتھ استہزاء کریں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پس میں مشرقوں اور مغربوں کا رب قسم کھاتا ہوں کہ بلاشبہ ہم قادر ہیں 40 ؎ یہ کائنات کتنی وسیع و عریض ہے اور اس کے مشرقوں اور مغربوں کا کسی نے اندازہ لگایا ہے اور کون ہے جو ان کو ماپ کر ان کی انتہا کو معلوم کرسکے لیکن ان ساری وسعتوں اور جن میں یہ وسعتیں قائم کی گئی ہیں سب کا بنانے والا ، سب کا پھیلانے والا صرف اور صرف ایک اللہ ہے۔ اس بات کا اقرار تو اہل مکہ کو بھی ہے پھر میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ہم اس سارے نظام کو درہم برہم کر کے ایک نیا نظام قائم کردیں اور وہ نظام اس سے بھی کہیں بہتر ہو اور خصوصاً ہم ان لوگوں کو جو اکڑنے اور اترانے والے اور نیک لوگوں سے استہزاء اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–44

وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ (...and those who are upright in their testimonies, [ 70:33] '. The word shahadat is the plural of shahadah. The use of plural number in this verse too indicates that there are many types and categories of 'testimony', and it is necessary to stand firm by one's testimony of any type. This includes testifying to the faith of Islam, Divine existence and His Oneness, and testifying that Sayyidna Muhammad ﷺ is His Final Messenger. It is obligatory to testify to the crescent of Ramadan, if one has seen it. Giving a true and accurate account of Shari'ah…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

27 That is, the truth is not that which these people think it is. 28 Here, Allah has sworn an oath by Himself. The words Easts and Wests have been used because the sun rises and sets at a new angle every day during the year, and goes on rising and setting successively at different times around the globe. Thus considered the Easts and the Wests are not one but many. From another point of view as against the north and the south there is a direction of east and a direction of west. On this basis in Surah Ash-Shu`ara': 28 and AlMuzzammi1:19 the words Rabb-ul-rnashriqi wal-maghrib have been used.…

Read the full tafseer →