Al-Ma'aarij 70:39

Al-Ma'aarij · from ayah 39

70:39

كَلَّا ؕ— اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ ۟كَلَّا ؕ اِنَّا خَلَقۡنٰهُمۡ مِّمَّا يَعۡلَمُوۡنَ

ہرگز نہیں۔ ہم نے ان کو اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

No! Indeed, We have created them from that which they know.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij

All translations of 70:39

ہرگز نہیں ہم نے جس چیز سے اِن کو پیدا کیا ہے اُسے یہ خود جانتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہرگز نہیں۔ ہم نے ان کو اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

(ایسا) ہرگز نہ ہوگا۔ ہم نے انہیں اس (چیز) سے پیدا کیا ہے جسے وه جانتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہرگز ایسا نہیں ہوگا ہم نے ان کو اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے یہ خود جانتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہرگز نہیں، بیشک ہم نے انہیں اس چیز سے بنایا جسے جانتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہرگز نہیں، بے شک ہم نے انہیں اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ (بھی) جانتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہرگز نہیں ! یقینا ہم نے انھیں اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہرگز ایسا نہ ہوگا۔ ہم نے انہیں اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ خود بھی جانتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہر گز نہیں ! ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اس چیز سے جس کو وہ جانتے ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(نہیں اور) ہرگز نہیں بلاشبہ ہم نے پیدا کیا ان کو اس چیز سے جس کو یہ خود بھی جانتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

ہرگز نہیں ہم نے انہیں پیدا کیا ہے اس چیز سے جس سے سب واقف ہی ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہرگز نہیں ! ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اس چیز سے جس کو وہ جانتے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہر گز نہیں ہم نے ان کو اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

By no means! They know that which We have created them from.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

By no means! We have created them from what they know.

— Muhammad Taqi Usmani

By no means! We have created them from what they know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But no! Verily, We have created them out of that which they know!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nay, verily. Lo! We created them from what they know.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

No! Indeed, We have created them from that which they know.

— Saheeh International

By no means! For they know very well out of what We have created them (The human being's naturally growing from a living germ, without discipline and good deeds will not result in virtue).

— Muhammad Sarwar

By no means! Surely We have created them of what they know.

— Muhammad Habib Shakir

By no means! veriiy We! We have created them from that which they know.

— Abdul Majid Daryabadi

By no means! For We have created them out of the (base matter) they know!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 70:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 36–44

مرکز نور و ہدایت سے مفرور انسان اللہ تعالیٰ عزوجل ان کافروں پر انکار کر رہا ہے جوحضور ﷺ کے مبارک زمانہ میں تھے خود آپ ﷺ کو وہ دیکھ رہے تھے اور آپ ﷺ جو ہدایت لے کر آئے وہ ان کے سامنے تھی اور آپ ﷺ کے کھلے معجزے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے پھر باوجود ان تمام باتوں کے وہ بھاگ رہے تھے اور ٹولیاں ٹولیاں ہو کر دائیں بائیں کترا جاتے تھے، جیسے اور جگہ آیت (فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ 49؀ۙ) 74۔ المدثر :49) ، یہ نصیحت سے منہ پھیر کر ان گدھوں کی طرح جو شیر سے بھاگ رہے ہوں کیوں بھاگ رہے ہیں ؟ یہاں بھی اسی طرح فرما رہا ہے کہ ان کفار کو کیا ہوگیا ہے یہ نفرت کر کے کیوں تیرے پاس سے بھاگے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَعَارِج 26 اس مقام پر اس فقرے کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ مضمون سابق کے ساتھ اس کا تعلق مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جس مادے سے یہ لوگ بنے ہیں اس کے لحاظ سے تو سب انسان یکساں ہیں۔ اگر وہ مادہ ہی انسان کے جنت میں جانے کا سبب ہو تو نیک و بد، ظالم و عادل مجرم اور بےگناہ، سب ہی کو جنت میں جانا چاہیے۔ لیکن معمولی عقل ہی یہ فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہے کہ جنت کا استحقاق انسان کے مادہ تخلیق کی بنا پر نہیں بلکہ صرف اس کے اوصاف کے لحاظ سے پیدا ہوسکتا ہے۔ اور اگر اس فقرے کو بعد کے مضمون کی تمہید سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو ہمارے عذاب سے محفوظ سمجھ رہے ہیں اور جو شخص انہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–44

(آیت) وَالَّذِيْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَاۗىِٕمُوْنَ ، یہاں بھی لفظ شہادات کو بلفظ جمع لانے میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ شہادت کی بہت سی قسمیں ہیں اور ہر قسم شہادت کو قائم رکھنا واجب ہے۔ اس میں شہادت ایمان توحید و رسالت بھی داخل ہے۔ ہلال رمضان اور حدود شرعیہ کی شہادت بھی اور لوگوں کے باہمی معاملات جو کسی کے سامنے ہوئے ہوں ان کی شہادت بھی کہ ان شہادتوں کا چھپانا اور ان میں کمی بیشی کرنا حرام ہے ان کو صحیح صحیح قائم کرنا اس آیت کی رو سے فرض ہے۔ (از مظہری) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ ان مغروروں کے اس زعم باطل پر ضرب لگائی ہے کہ یہ اپنے تقدس اور بزرگی کی حکایت زیادہ نہ بڑھائیں۔ ان کا یہ خواب کبھی شرمندۂ تعبیر ہونے والا نہیں ہے۔ ہم نے ان کو جس چیز سے پیدا کیا ہے وہ ان سے مخفی نہیں ہے۔ اس کو بھول نہ جائیں۔ یعنی پانی، کیچڑ، مٹی اور مٹی سے پیدا ہونے والی مخلوق کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ وہ شرافت حسب و نسب کے غرور میں اپنے آپ کو جنت کا موروثی حق دار سمجھ بیٹھے! مجرد خِلقت کے اعتبار سے کسی کو بھی کوئی شرف حاصل نہیں ہے۔ شرف اور استحقاق حاصل ہو سکتا ہے تو ان اعمال کی بنا پر حاصل ہو سکتا ہے جو اللہ کو پسند ہیں۔ اگر یہ متاع کسی کے پاس نہیں ہے تو اجزائے خلقت کے اعتبار سے تو نہ صرف…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 39–40

39۔ 1 ایسا کیسا ممکن ہے کہ مومن اور کافر دونوں جنت میں جائیں رسول کو ماننے والے اور اس کی تکذیب کرنے والے دونوں کو اخروی نعمتیں ملیں ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ یعنی (حقیر قطرے) سے۔ جب یہ بات ہے تو کیا تکبر اس انسان کو زیب دیتا ہے ؟ جس تکبر کی وجہ سے ہی یہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب بھی کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–40

11: یعنی یہ جانتے ہیں کہ ہم نے انہیں نطفے سے پیدا کیا ہے، حالانکہ نطفے سے انسان بننے تک کتنے مراحل آتے ہیں۔ لہذا جب ہم ان تمام مراحل سے گزار کر نطفے کو جیتا جاگتا انسان بنانے پر قادر ہیں تو اس کی لاش کو دوبارہ زندہ کرنے پر کیوں قادر نہیں ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

کلا انا ................ یعلمون یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ان کی اس تمنا اور خوش فہمی کو نہایت حقارت کے ساتھ رد کیا جاتا ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ ہم نے ان کو ایک حقیر پانی کی بوند سے پیدا کیا ہے۔ قرآن کریم ان کو اپنی اصل حقیقت سے آگاہ کرتا ہے۔ یوں ان کے اندر جو کبرو غرور اور تکبر وعلو تھا اسے ملیامیٹ کردیا جاتا ہے اور ان کے غزور کی عمارت زمین بوس ہوجاتی ہے۔ اور یہ صرف ایک لفظ کے ذریعہ۔ ایک اشارہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ہم نے ان کو کس چیز سے پیدا کیا ہے۔ انسان کی کمزوری ، ناتوانی اور بےوزنی کی بہترین تصویر ہے۔ تعجب کیا جاتا ہے کہ یہ کس طرح یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے ہیں جبکہ ان کے افعال ایسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 36–39

1 یعنی قرآن کی تلاوت اور جنت کا ذکر سن کر کفار ہر طرف سے ٹولیاں بنا کر تیری طرف امڈے چلے آتے ہیں۔ پھر ہنسی اور ٹھٹھا کرتے ہیں، کیا اس کے باوجود یہ بھی طمع رکھتے ہیں کہ وہ سب جنت کے باغوں میں داخل کیے جائیں گے ؟ جیسا کہ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہم کو لوٹ کر خدا کی طرف جانا ہوا تو وہاں بھی ہمارے لیے بہتری ہی بہتری ہے۔ ہرگز نہیں۔ اس خداوند عادل و حکیم کے ہاں ایسا اندھیر نہیں ہوسکتا۔ (تنبیہ) ابن کثیر نے ان آیات کا مطلب یہ لیا ہے کہ تیری طرف کے ان منکروں کو کیا ہوا کہ تیزی کے ساتھ دوڑے چلے جاتے ہیں داہنے اور بائیں، غول کے غول، یعنی قرآن سن کر ایسے کیوں بدکتے اور بھاگتے ہیں۔ پھر کیا اس وحشت و نفرت کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 39{ کَلَّاطاِنَّا خَلَقْنٰـہُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ۔ } ”ہرگز نہیں ! ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اس چیز سے جس کو وہ جانتے ہیں۔“ یعنی ہر انسان جانتا ہے کہ اس کی تخلیق گندے پانی کی ایک بوند سے ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

24 یعنی ان کی کرتوتیں یہ ہیں کہ اللہ کے کلام کو جھٹلاتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ اور مسلمانوں کی مخالفت میں سردھڑ کی بازی لگا رکھی ہے۔ انہیں تکلیفیں پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اسلام کی راہ روکنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ اس پر امیدیں یہ لگائے بیٹھے ہیں کہ نعمتوں والی جنت بھی ہمارے لئے ہے۔ ان کی یہ توقع بالکل بےہودہ اور باطل ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ جس خالق نے انہیں پانی کے حقیر و ذلیل قطرہ سے پیدا کرکے اس منزل پر پہنچایا ہے وہ انہیں ویسی ہی حقیر اور ذلیل حالت کی طرف لوٹا بھی سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 38–39

15۔ (اور پھر بھی یہ امکان بعث میں شک ہی کئے جاتے ہیں۔ اور ہماری قدرت پر ذرا غور نہیں کرتے) (آیت) ” ایطمع “۔ اس سے ادھر اشارہ ہوگیا کہ اپنی حماقت وسفاہت سے یہ اپنی ہی کو حق پر سمجھے ہوئے اس خیال خام میں ہیں کہ مرنے کے بعد ان کے لئے چین ہی چین ہے۔ (آیت) ” کلا “۔ موجبات عذاب کے تحقق کے ساتھ عیش بعد الموت کیسے جمع ہوسکتا ہے ! (آیت) ” ممایعلمون “۔ یعنی نطفہ جیسی حقیر چیز سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 39–44

کلا انا خلقناھم مما یعلمون مطلب یہ کہ جس مادہ سے یہ بنے ہیں اس لحاظ سے تو سب انسان برابر ہیں اگر وہ مادہ ہی انسان کے جنت میں جانے کا سبب ہو تو نیک و بد، ظالم و عادل سب ہی کو جنت میں جانا چاہیے، لیکن معمولی عقل بھی یہ فیصلہ کرنے کے لئے کافی ہے کہ جنت کا استحقاق انسان کے مادہ تخلیق کی بناء پر نہیں، بلکہ اس کے اوصاف کی بناء پر ہوتا ہے۔ بحمدتم اللہ

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کلا . بےحقیقت اور بیہودہ امید سے (اس لفظ کے ذریعہ) بازداشت کی گئی ہے یعنی انکو ہرگز ایسا بیہودہ خیال نہ رکھنا چاہیے۔ انا خلقناھم ممایعلمون . یہاں تخلیق اوّل کا ذکر کر کے تخلیق دوئم ( حشر) پر استدلال ہے۔ استحالۂ حشر کے دعوے کا ابطال اور بغیر ایمان کے جنت میں داخل ہونے کی امید منقطع کرنے کی وجہ کا بیان ہے۔ مطلب یہ کہ ہم نے انکو گندے نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے بنایا ‘ ان میں سے کوئی چیز اعزاز کی خواستگار ہے نہ عالم قدس میں داخلہ کے شایان ‘ اسلئے جو شخص ایمان اور اطاعت سے اپنے نفس کی (تخلیقی) کمی کو پورا نہ کریگا اور اللہ کے پسندیدہ اوصاف سے آراستہ نہ ہوجائیگا وہ جنت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 38–41

(38۔ 41) ان لوگوں کو ہرگز جنت میں داخل نہیں کیا جائے گا ہم نے ان کفار مکہ کو نطفہ سے پیدا کیا ہے، میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی کہ ہم اس پر قادر ہیں کہ ان کو ہلاک کرکے ان کی جگہ ان سے زائد اطاعت گزاروں کو پیدا کردیں اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 36–39

فمال الذین کفروا …:”مھطعین“”اھطع یھطع“ (افعال) سے اسم فاعل ہے، تیزی سے دوڑنے والے۔ ”عزین“ جمع ہے ”عزۃ“ کی، جو اصل میں د ’ عزوۃ“ یا ”عزھۃ“ تھا، ٹولیاں ، گروہ۔ کفار رسول اللہ ﷺ کو مذاق کرنے کے لئے ٹولیاں بنا بنا کر کبھی دائیں طرف سے دڑوے چلے آتے ، کبھی بائیں طرف سے، وہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتے، آخرت کو بھی جھٹلاتے اور مذاق سے کہتے کہ اگر بالفرض کوئی جنت ہے بھی تو وہ بھی ہمارے ہی لئے ہے، کیونکہ دنیا میں بھی ہمیں ہی زیادہ نعمتیں ملی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس طرح آنے پر تعجب کا اظہار فرمایا اور فرمایا کیا ان میں سے ہر شخص اپنے آپ کو اتنا اونچا سمجھنے لگ گیا ہے کہ وہ نعمت والی جنت میں داخل ہونے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 37–39

عن الیمین وعن الشمال عزین۔ وہنبی کریم ﷺ کی دائیں اور بائیں جانب سے حلقے بناتے ہوئے اور جماعت ور جماعت۔ عزین کا معنی ہے مختلف جماعتیں، یہ ابو عبید کا قول ہے۔ اسی معنی میں نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے، آپ ﷺ اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے، آپ ﷺ نے انہیں مختلف حلقے بناتے ہوئے دیکھا۔ فرمایا : مالی اراکم عزین الاتصفون کما تصف الملائکۃ عند ربھا، قالوا وکیف تصف اللائ کہ عند ربھا ؟ قال : یتمون الصفوف الائون ویتراضون فی الصف (1) امام مسلم اور دوسرے علماء نے اسے روایت کیا ہے۔ فرمایا : کیا وجہ ہے میں تمہیں مختلف حلقے بناتے ہوئے دیکھتا ہوں کیا تم اس طرح صفیں نہیں بنائو گے جس طرح فرشتے اپنے رب کے ہاں صفیں بناتے ہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

32۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا انا خلقنہم مما یعلمون۔ بلاشبہ اے ابن آدم تو گندگی سے پیدا کیا گیا۔ سو تو اللہ سے ڈرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت تمام مخلوق کو محیط ہے 33۔ بیہقی نے نے شعب الایمان میں بشیر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت فمال الذین کفرو قبلک مہطعین عبارت سے لے کر آیت کلا انا خلقنہم ممایعلمون تک پڑھی پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہتھیلی مبارک پر تھوکا اور اس پر اپنی انگلی مبارک کو رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے ابن آدم تو مجھے کہا عاجز کرسکتا ہے حالانکہ میں تجھے اس کی مثل سے پیدا کیا۔ یہاں تک کہ جب میں نے تجھ کو مضطوط اور تندرست بنادیا اور تو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[كَلَّا ۭ: ہرگز نہیں ][ انا خَلَقْنٰهُمْ : بیشک ہم نے پیدا کیا ان کو ][ مِّمَا يَعْلَمُوْنَ : اس سے جسے یہ لوگ جانتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا يَعْلَمُوْنَ 0039﴾ (بلاشبہ ہم نے انہیں اس چیز سے پیدا کیا جسے وہ جانتے ہیں) ۔ یعنی ان کو ہم نے نطفہ سے پیدا کیا ہے جس کی انہیں خبر ہے اس میں منکرین بعث کی تردید ہے وہ لوگ قیامت قائم ہونے پر ایمان نہیں لاتے تھے اور یہ جو کہتے تھے کہ یہ لوگ (اہل اسلام) جنت میں جائیں گے تو ہم ان سے پہلے جائیں گے ان کا یہ کہنا بطور تمسخر تھا جب ان کے سامنے بعث و حشر و نشر کی بات آتی تھی تو تعجب کرتے تھے اور منکر ہوجاتے تھے ان کے جواب میں فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ ہم نے تمہیں کس چیز سے پیدا کیا تم جانتے ہو کہ تمہاری پیدائش نطفہ منی سے ہوئی ہے جس ذات پاک نے بےجان نطفہ سے پیدا فرما دیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–44

حیرت واستعجاب برحال اہل عناد وتنبیہ وتہدید برخود فریبی ایشاں : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فمال الذین کفروا ........ الی .......... کانوا یوعدون “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مجازات اعمال کا بیان تھا اور یہ کہ مجرمین قیامت کے روز کیسی شدید بےچینی اور اذیت میں مبتلا ہوں گے اب ان آیات میں ان معاندین کی حالت میں حیرت وتعجب کا اظہار کیا جارہا ہے جو اپنی مذموم اور بےہودہ روش سے آنحضرت ﷺ کو اذیت پہنچاتے اور دین کا مذاق اڑاتے تھے اور پھر عجیب تر امر یہ ہے کہ اس دل آزار اور بےہودہ روش کے باوجود اپنے بارے میں یہ دعوے کرتے تھے کہ وہ آخرت میں بڑے انعامات سے نوازے جائیں گے اس ضمن میں پھر اس بات کا اعادہ کیا جا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 38–39

12:۔ ” ایطیع “ یہ مشرکین کے قول باطل کا جواب ہے کہ اگر یہ لوگ جنت میں گئے تو ہم ان سے پہلے جنت میں جائیں گے۔ کیا ان میں کا ہر آدمی یہ امدی رکھتا ہے کہ وہ دوزخ سے بچ کر جنت میں داخل ہوجائیگا ؟ ہرگز نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔ وہ ہم سے بھاگ کر جنت میں نہیں داخل ہوسکیں گے حالانکہ ہم نے ان کو ایک چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ خوب جانتے ہیں یعنی ناپاک نطفہ سے تو یہ ناپاک نطفہ جب تک ایمان اور عمل صالح سے اپنی حد کمال کو نہ پہنچ جائے جنت میں داخل نہیں ہوسکتا (روح)

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 36–44

گذشتہ سے پیوستہ : گزشتہ آیات میں منکرین قیامت کو وعید سنائی گئی تھی کہ قیامت کے روز مجرمین کو دوزخ خود اپنی طرف پکارے گی ۔ جو دنیا میں احکام الہٰی سے پشت پھیرتے تھے۔ ردگردانی کرتے تھے مال سمیٹ سمیٹ کر رکھتے تھے ۔ خرچ کرنے میں بخل کرتے تھے۔ حلال و حرام میں تمیز نہیں کرتے تھے انہیں دوزخ چن چن کر اپنے اندر داخل کرے گی۔ انسان کے پیدائشی طور پر حریص اور بےصر اہونے کا ذکر کیا ۔ یعنی جب اسے شرپہنچتا ہے تو بےصبری کا اظہار کرتا ہے۔ اور جب اسے خیر پہنچتی ہے تو بخل کرتا ہے۔ البتہ اس سے وہ لوگ متثنیٰ ہیں جن میں آٹھ صفات پائی جاتی ہیں۔ یعنی نماز میں مدادمت اختیار کرتا ہے۔ البتہ اس سے وہ لوگ متثنیٰ ہیں جن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَلَّا۝ 0 ۭ اِنَّا خَلَقْنٰہُمْ مِّمَّا يَعْلَمُوْنَ۝ 39 كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 36–44

ترکیب : مھطعیں المھطع المسرع وقیل المادعنقہ ھو حال من الذین کفروا قبلک حولک معمول محطعین عزین جمع عزۃ وھی العصتبہ من الناس وقیل اصلھا عزوۃ من العزوکان کل فرقہ تعتزی ای تنسب الی غیرمن تعتزی الیہ الاخری فی الصحاح العزۃ الفرقۃ من الناس والھاء عوض عن الیاء والجمع عزی وعزون عن تتعلق بعزین ویجوزان تکون حالان یدخل الجملۃ مفعول بطمع انا لقادردن جواب القسم وما نحن اماجواب آخر للقسم اوحال عن القادرون یخوضوا ویلعبوا مجزومان علیٰ انھما جواب الامریوم بدل من یوتھم سراعاجمع سریع والاجداث جمع جدث وھوا لقبرھو حال من فاعل یخرجون وکذا کانھم نصب عندالجمہور بفتح النون و سکون الصاد بمعنی العلم وقریٔ بضم النون…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 38–39

اَیَطْمَعُ کُلُّ امْرِیٍٔ مِّنْھُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّـۃَ نَعِیْمٍ ۔ کَلاَّ ط اِنَّا خَلَقْنٰـھُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ ۔ (المعارج : 38، 39) (کیا ان میں سے ہر ایک یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ نعمت بھری جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ ہرگز نہیں، ہم نے جس چیز سے ان کو پیدا کیا ہے اسے یہ خود جانتے ہیں۔ ) کفار کی اس حماقت پر تنقید کافروں کی اس حماقت اور غلط فہمی کا ذکر قرآن کریم نے کئی جگہ کیا ہے۔ اور اس پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو کچھ یہ اپنے پاس رکھتے ہیں اس سے دنیا کی چیزیں تو خریدی جاسکتی ہیں لیکن جنت کے لیے تو ایمان و عمل چاہیے اور ایسا کردار چاہیے جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا شامل ہو۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–42

فہم القرآن ربط کلام : ایمانداروں کو جنت کی خوشخبری سنانے پر کفار کا رد عمل۔ مکی دور میں اسلام کے مخالفوں کا یہ خیال بلکہ یقین تھا کہ نبی ﷺ کی دعوت قبولیت عامہ نہیں پاسکے گی۔ اسی بنا پر اسلام اور مسلمانوں کو اپنے سے حقیر جانتے اور ان الفاظ کے ساتھ نبی ﷺ اور مسلمانوں کو مذاق کیا کرتے تھے۔ ” جب یہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کا مذاق اڑاتے ہیں ہاں یہ شخص ہے جسے ” اللہ “ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ “ (الفرقان : 41) (وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْ بَیْنِنَا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بالشّٰکِرِیْنَ ) (الانعام : 53) ” اور اسی طرح ہم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بغیر ایمان جنت کا دعویٰ کس منہ سے : 39 : کَلَّا (ہرگز نہیں) اس میں ان کی دخول جنت والی طمع کو رد کردیا گیا۔ اِنَّا خَلَقْنٰہُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ (ہم نے ان کو ایسی جگہ سے پیدا کیا جس کی ان کو بھی خبر ہے) یعنی حقیر نطفہ سے اسی لئے ابہام کے طور پر ذکر کیا۔ تاکہ یہ بتلایا جائے کہ حیاء کا تقاضایہ ہے کہ اس کو اشارۃً ذ کر کیا جائے۔ تو جب ان کی پیدائش ایسی چیز سے ہے تو مشرف کہاں سے ہوں گے۔ اور ایمان والوں سے بڑھ جانے کا کس منہ سے کہتے ہیں کہ ہم جنت میں ان سے پہلے داخل ہونگے۔ نمبر 2۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کو نطفہ سے بنایا۔ جیسا تمام اولاد آدم کو بنایا۔ ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ جنت میں کوئی ایمان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

38 ۔” ایطمع کل امری منھم ان یدخل جنۃ نعیم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کا معنی کیا ان میں سے ہر آدمی طمع کرتا ہے کہ میری جنت میں داخل ہوگا جیسے کہ مسلمان داخل ہوں گے اور اس میں نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے اور نبی کریم ﷺ نے غلط کہا ہے ؟

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–44

36۔ 44۔ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتیں سن کر آنحضرت ﷺ کے دائیں بائیں ہو کر نکل جاتے تھے ‘ اور قرآن شریف کی پوری نصیحت سننے سے کتراتے تھے اور آپس میں یہ باتیں کرتے تھے کہ یہ ساری نصیحت اس لئے ہے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں گے اور اس نئی زندگی میں میوے کھانے کو باغ میں گے۔ پھر کہتے تھے اگر یہ بات سچ ہے تو جس طرح بہ نسبت ان مسلمانوں کے دنیا میں ہم راحت و آرام سے ہیں اسی طرح ان سے پہلے ہم کو ہی وہ باغ ملیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جنت کچھ ان کے بڑے بوڑھوں کے بنائے ہوئے باغ نہیں ہیں کہ بغیر مرضی اللہ تعالیٰ کے یہ ان باغوں میں گھس جائیں گے۔ نہیں یہ خال ان کا بالکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(انا خلقنھم مما یعلمون) ہم نے انہیں اس چیز سے پیدا کیا جسے وہ جانتے ہیں۔ یعنی ہم نے انہیں اچھل کر گرنے والے پانی سے بنایا جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے۔ پس وہ بہت کمزور ہیں وہ خود اپنے کسی نفع و نقصان کے مالک نہیں وہ موت پر قادر ہیں نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–44

قول باری ہے (للسائل والمحروم سائل اور محروم کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سوال کرنے والے کو سائل کہتے ہیں اور محروم وہ شخص ہے جسے کسی تجارت میں کامیابی نہ ہوتی ہو۔ ابوقلابہ کا قول ہے کہ محروم وہ شخص جس کا مال چلا جائے۔ حسن بن محمد کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا، اسے مال غنیمت حاصل ہوا، اس کے بعد کچھ دوسرے لوگ بھی آگئے اور یہ آیت نازل ہوئی (فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے) حضرت انس ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان المحروم من حرم وصیتہ بیشک محروم وہ شخص ہے جسے اس چیز سے محروم رکھا جائے جس کی اس کے لئے وصیت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

34 ۔ منکرین کے زعم باطل پر ایک ضرب کا ذکر وبیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کے اس زعم باطل پر ضرب کاری لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا اور کلا کے حرف ردع و تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں، یعنی ایسا ہرگز ہونے کا نہیں جیسا کہ ان بدبختوں نے سمجھ رکھا ہے کہ یہ عقل و نقل دونوں کے تقاضوں اور قانون عدل و انصاف کے سراسر خلاف ہے، سو اس سے ان مغروروں اور متکبروں کے اس زعم باطل پر ضرب لگائی گئی ہے کہ یہ لوگ اپنے تقدس اور بزرگی کی داستان زیادہ نہ بڑھائیں یہ جو کچھ ہیں اللہ ان کو خوب جانتا ہے کہ وہ سب کا خالق اور مالک ہے، اس سے اس کی مخلوق میں سے کسی کی بھی کوئی حالت اور کیفیت مخفی اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–44

نیک لوگوں کی صفات تشریح : ایک اچھے پکے اور صالح جنت کے حقدار کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ کافی دفعہ وضاحت سے پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں یہاں پھر مختصراً بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان فطرتاً کمزور طبیعت یعنی غلطیوں کا پتلا سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ہے ہی۔ مگر اس کی اصلاح کے لئے ہی تو قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ تو جو شخص اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتا ہے تو وہی بہادر انسان ہے وہ خود کو شیطان کے چنگل سے نکال کر بندگانِ الٰہی میں شامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عمل بہت ضروری ہے۔ اگر زبانی ایمان لے آنا کافی ہوتا تو پھر منافق دوزخ کے نچلے درجے میں کیوں ڈالے جاتے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 35–44

آیات 36 تا 44۔ اسرار ومعارف۔ اور ان کفار کو کیا ہوا ہے کہ بجائے تصدیق کرنے ہر طرف سے آپ پر یلغار کرتے ہیں کہ آپ کے ارشادات کی تکذیب کرتے ہیں اور اعتراض کے ساتھ مذاق اڑائیں اس پر طرفہ یہ کہ ہر قوم آخرت میں اپنے لیے نجات کی امید رکھتی ہے لہذا مغرب ومشرق کے یہود ہنود ہوں یانصاری وغیرہ سب اپنے لیے جنت کا دعوی بھی رکھتے ہیں جو یکسر باطل ہے ایسا ہرگز نہ ہوسکے گا بلکہ اطاعت محمد کے علاوہ اب نجات کا کوئی راستہ نہیں اور جو لوگ سرے سے کوئی مذہب نہیں رکھتے انہیں بھی دیکھ لیناچاہیے کہ کس طرح ایک قطرہ منی سے ہم نے انہیں باکمال خوبصورت صحت مند انسان بنادیا اور یہ مشارق ومغارب کے نظام جو ہر لحظہ سے بیشمار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی ایک حقیر قطرہ سے اس پر اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں یہ سرکشی اور یہ بےخوفی ؟

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(70:39) کلا ہرگز نہیں۔ نیز ملاحظہ ہو 70:15 متذکرۃ الصدر۔ انا خلقنھم مما یعلمون۔ ہم نے ان کو اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں۔ یعنی کیا ان میں سے ہر ایک کو طمع ہے کہ وہ جنت نعیم میں داخل کیا جائے گا ؟ یہ ہرگز نہ ہوگا کس لئے کہ ہم نے ان کو ایسی چیز سے پیدا کیا ہے کہ اس کو وہ بھی جانتے ہیں ۔ یعنی منی سے جو کہ نہایت ہی حقیر ہے پھر اس عالم قدس میں بغیر اس کے کہ آثار بہیمیہ کو قوائے روحانیہ و ملکوتیہ۔ ایمان و اعمال صالحہ سے جلا دے کر مٹا نہ دے کس طرح سے جاسکتا ہے۔ ابن کثیر نے اس کی تائید میں امام حسن بصری (رح) کا قول نقل کیا ہے :۔ سچ ہے کہ گندہ انسان جب تک ایمان اور عمل صالح سے نورانیت اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 36–44

لغات القرآن، ۔ مھطعین۔ وہ دوڑتے آتے ہیں۔ عزین۔ گروہ در گروہ۔ الاجداث۔ قبریں۔ نسب۔ نشانیاں لگی ہوئی چیز۔ یوفضون۔ دودوڑتے ہیں۔ تشریح : زیر مطالعہ آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ انسان اگرچہ کم ہمت پیدا کیا گیا ہے یعنی تمام تر عظمتوں کے باوجود اس میں کچھ فطری کمزوریاں موجود ہیں لیکن اگر ایمان اور عمل صالح کے ساتھ زندگی گزاری جائے تو پھر اس کی نیکیاں اور اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری اس کو جنت کی ابدی راحتوں کا مستحق بنا دیتی ہیں۔ کفار مکہ کا یہ حال تھا کہ جب نبی کریم ﷺ ان کے سامنے اللہ کا دین پیش کرکے ان کو گمراہی سے ہدایت کی طرف آنے کی دعوت دیتے یا جب آپ تلاوت کلام پاک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–44

بت پرستی کا انجام۔ (ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتیں سن کر نبی ﷺ کے دائیں بائیں ہوکر نکل جاتے تھے اور قرآن شریف کی پوری نصیحت سننے سے کنیاتے تھے اور آپس میں یہ باتیں کرتے تھے کہ یہ ساری نصیحت اس لیے ہے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں گے اور اس نئی زندگی میں میوہ کھانے کو باغ ملیں گے پھر کہتے تھے کہ اگر یہ بات سچ ہے تو جس طرح بہ نسبت ان مسلمانوں کے دنیا میں ہم راحت و آرام سے ہیں اسی طرح ان پہلے ہم کو بھی وہ باغ ملیں گے اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جنت کچھ انکے بڑے بوڑھوں کے بنائے ہوئے باغ نہیں کہ بغیر مرضی اللہ کے یہ ان باغوں میں گھس جائیں گے نہیں یہ خیال ان کا بالکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[9] کفار مکہ جب غریب مسلمانوں سے ملتے تو ان کو نظر حقارت سے دیکھتے اور آپس میں کہتے کہ اگر ایسے ذلیل بہشت میں جائیں گے تو ہم ان سے پہلے جا داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے خیال کی تردید کردی اور فرمایا کہ تم خود جانتے ہو کہ کیسی حقیر اور گندی چیز (یعنی نطفہ) سے تمہاری پیدائش ہے۔ لیکن جو چیز انسان کے لئے موجب فوقیت ہے اور جس چیز کی وجہ سے وہ جنت میں جانے کی توقع کرسکتا ہے وہ اس کی پیدائشی شرافت نہیں بلکہ ایمانی شرافت ہے جو اہل ایمان کو حاصل ہے اور تم کافر اس سے خالی ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–42

مالداروں کی ذہنیت 1: کہ ان لوگوں کو اپنے مال اور اپنی دولت پر بڑا ناز ہے ۔ اور ان کی رائے میں چونکہ یہ دنیا کی نعمتوں سے بہرہ ور ہیں ۔ اس لئے ضروری ہے ۔ کہ عالم آخرت میں بھی ان کا تفوق غربا پر قائم رہے ۔ اور وہاں بھی جنت کی تمام مسرتوں سے استفادہ کرنے کا انہیں حق حاصل ہو ۔ حالانہ یہ قطعاً اس پاک جگہ میں جانے کی استعداد نہیں رکھتے ۔ اور مال دولت چاندی سونے کے ذخائر کو یہ لوگ کیوں اتنی اہمیت دیتے ہیں ۔ کہ اس کی وجہ سے اپنے کو افضل سمجھتے ہیں ۔ اور غریب مسلمانوں کو اپنی نظروں میں حقیر جانتے ہیں ۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ ان چیزوں سے کہیں یہ اپنی فطرت کو بدل سکتے ہیں ؟ کیا یہ وہی نہیں ہے ۔ جن کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(39) یہ ہرگز نہیں ہوگا ہم نے جس چیز سے ان کو بنایا ہے اسے وہ بھی جانتے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرآن سن کر ادھر ادھر بھاگتے ہیں اور ٹولیاں کی ٹولیاں اس قرآن سے نفرت کرتی ہیں اور باوجود اس نفرت اور فرار کے ان کی خواہش اور ہوس یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک نعمت کے باغوں میں داخل ہوجائے ایسا نہیں ہوگا ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اور جس چیز سے ان کو بنایا ہے۔ اسے وہ بھی جانتے ہیں یعنی وہ ایک گندے پانی کی بوند اور گھنائونی چیز سے بنائے گئے ہیں اور اس کو وہ بھی خوب سمجھتے ہیں کہ اس قطرہ منی میں یہ صلاحیت کہاں کہ وہ بہشت کے باغوں میں داخل کیا جائے لیکن نیک اعمال اور اخلاق حسنہ سے یہ شرف حاصل ہوسکتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 37–40

ف 1۔ یعنی چاہئے تو یہ تھا کہ ان مضامین کی تصدیق کرتے، لیکن یہ لوگ متفق ہو ہو کر آپ کے پاس اس غرض سے آتے ہیں کہ ان مضامین کی تکذیب اور ان کے ساتھ استہزاء کریں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہرگز نہیں ہم نے ان کو اس چیز سے پیدا کیا جس کو وہ بھی جانتے ہیں 39 ؎ فرمایا جا رہا ہے کہ یہ ان کی بھول بھلیاں ہیں اور غلط فہمیاں ہیں جن میں وہ مبتلا ہوئے ہیں ان کو کسی الگ طرح کے مادہ سے پیدا نہیں کیا گیا کہ ان کو ایمان لانے اور اچھے عمل کرنے کی ضرورت ہی نہ ہو اور ان کو ایمان و عمل کے بغیر ہی جنت میں داخل کردیا جائے جب سب کا خمیر ایک جیسا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دوسرے لوگوں کو ایمان لانے اور اچھے عمل کرنے کی ضرورت ہو اور ان کو بغیر ایمان لائے اور بغیر اچھے عمل کئے سیدھا جنت روانہ کردیا جائے۔ ایسا ممکن نہیں ہے ان کے ضمیر کو بھی ہم جانتے ہیں اور یہ خود بھی اس سے لاعلم نہیں ہیں۔ کفار کے اس زعم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–44

وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ (...and those who are upright in their testimonies, [ 70:33] '. The word shahadat is the plural of shahadah. The use of plural number in this verse too indicates that there are many types and categories of 'testimony', and it is necessary to stand firm by one's testimony of any type. This includes testifying to the faith of Islam, Divine existence and His Oneness, and testifying that Sayyidna Muhammad ﷺ is His Final Messenger. It is obligatory to testify to the crescent of Ramadan, if one has seen it. Giving a true and accurate account of Shari'ah…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

26 Here, this sentence can have two meanings: (1) If it is taken to be related to the preceding theme, it will mean: As for the substance these people have been created from, aII men are equal. For if the substance itself be the cause of man's entry into Paradise, then the good and the bad, the wicked and the just, the guilty and the innocent, all should go to Paradise. But a little common sense is enough to decide that man's qualifications for Paradise are created not on the basis of the substance of his creation but only on the basis of his merit and excellence. (2) If this sentence is…

Read the full tafseer →