Explained with ayahs 36–44
مرکز نور و ہدایت سے مفرور انسان
اللہ تعالیٰ عزوجل ان کافروں پر انکار کر رہا ہے جوحضور ﷺ کے مبارک زمانہ میں تھے خود آپ ﷺ کو وہ دیکھ رہے تھے اور آپ ﷺ جو ہدایت لے کر آئے وہ ان کے سامنے تھی اور آپ ﷺ کے کھلے معجزے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے پھر باوجود ان تمام باتوں کے وہ بھاگ رہے تھے اور ٹولیاں ٹولیاں ہو کر دائیں بائیں کترا جاتے تھے، جیسے اور جگہ آیت (فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ 49ۙ) 74۔ المدثر :49) ، یہ نصیحت سے منہ پھیر کر ان گدھوں کی طرح جو شیر سے بھاگ رہے ہوں کیوں بھاگ رہے ہیں ؟ یہاں بھی اسی طرح فرما رہا ہے کہ ان کفار کو کیا ہوگیا ہے یہ نفرت کر کے کیوں تیرے پاس سے بھاگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
سورة الْمَعَارِج 23
اس سے نماز کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جس بلند سیرت و کردار کے لوگ خدا کی جنت کے مستحق قرار دیے گئے ہیں، ان کی صفات کا ذکر نماز ہی سے شروع اور اسی پر ختم کیا گیا ہے۔ نمازی ہونا ان کی پہلی صفت ہے، نماز کا ہمیشہ پابند رہنا ان کی دوسری صفت، اور نماز کی حفاظت کرنا ان کی آخری صفت۔ نماز کی حفاظت سے بہت سی چیزیں مراد ہیں۔ وقت پر نماز ادا کرنا۔ نماز سے پہلے اطمینان کرلینا کہ جسم اور کپڑے پاک ہیں۔ باوضو ہونا اور وضو میں اعضاء کو اچھی طرح دھونا۔ ارکان اور واجبات اور مستحبات نماز کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنا۔ نماز کے آداب کو پوری طرح ملحوظ رکھنا۔ خدا کی نافرمانیاں کر کے اپنی نمازوں کو ضائع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
(آیت) وَالَّذِيْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَاۗىِٕمُوْنَ ، یہاں بھی لفظ شہادات کو بلفظ جمع لانے میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ شہادت کی بہت سی قسمیں ہیں اور ہر قسم شہادت کو قائم رکھنا واجب ہے۔ اس میں شہادت ایمان توحید و رسالت بھی داخل ہے۔ ہلال رمضان اور حدود شرعیہ کی شہادت بھی اور لوگوں کے باہمی معاملات جو کسی کے سامنے ہوئے ہوں ان کی شہادت بھی کہ ان شہادتوں کا چھپانا اور ان میں کمی بیشی کرنا حرام ہے ان کو صحیح صحیح قائم کرنا اس آیت کی رو سے فرض ہے۔ (از مظہری) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
قرآن کا یہ فیصلہ سن کر قریش کے مغروروں کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ وہ یہ کس طرح سن سکتے تھے کہ محمد ﷺ اور ان کے نادار و مفلوک الحال ساتھی تو جنت میں براجمان ہوں گے اور تمام عزتوں اور عظمتوں کے وارث و مورث، سادات قریش دوزخ کے ایندھن بنیں گے۔ اس غصہ میں وہ ٹولیاں۱ بنا بنا کر آنحضرت ﷺ کی تردید و توہین کے لیے دہنے بائیں سے آپؐ پر پل پڑتے۔۲ ان آیات میں اسی صورت حال کی تصویر اور ان مغروروں کی خرد باختگی پر اظہار تعجب ہے۔ فرمایا کہ ان کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ ہر طرف سے تمہارے اوپر ٹولیاں بنا بنا کر پلے پڑ رہے ہیں! کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع لیے بیٹھا ہے کہ وہ جنت میں جا براجے گا!! یعنی اگر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
33۔ 1 یعنی اسے صحیح صحیح ادا کرتے ہیں چاہے اس کی زد میں ان کے قریبی عزیز ہی آجائیں علاوہ ازیں اسے چھپاتے بھی نہیں، نہ اس میں تبدیلی ہی کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
9: آیت نمبر 23 میں نماز کی پابندی کا ذکر ہے، اور یہاں اس کی پوری حفاظت سے مراد اس کے تمام آداب کی رعایت ہے۔ مسلمانوں کے انہی جیسے اوصاف سورة مومنون کی ابتدائی آیات میں بھی گذرے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
اب آخر میں دعوت اسلامی کا ایک منظر۔ یہ مکی منظر ہے ۔ ایک جگہ رسول کریم ﷺ کھڑے دعوت دے رہے ہیں۔ قرآن پڑھ رہے ہیں اور مشرکین ہر طرف سے امنڈتے چلے آرہے ہیں :
فمال ........................ عزین
مھطع اس شخص کو کہتے ہیں جو گردن لمبی کرتے ہوئے تیز تیز چلتا ہے۔ گویا رسی گلے میں ڈال کر کھینچا جارہا ہو ، اور عزین جمع عزہ کی اور اس کا وزن اور معنی دونوں لفظ۔
فئة کی طرح ہے ، یعنی گروہ۔ اس میں ان کی اس مشکوک حرکت پر ایک مزاح بھی ہے اور اس ہیئت اور حرکت کی ایک تصویر بھی۔ ان پر تعجب کیا جاتا ہے اور ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا ہوگیا ہے تمہیں ؟ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف اس لئے نہیں بھاگ رہے کہ آپ کی باتیں سنیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
1 یعنی قرآن کی تلاوت اور جنت کا ذکر سن کر کفار ہر طرف سے ٹولیاں بنا کر تیری طرف امڈے چلے آتے ہیں۔ پھر ہنسی اور ٹھٹھا کرتے ہیں، کیا اس کے باوجود یہ بھی طمع رکھتے ہیں کہ وہ سب جنت کے باغوں میں داخل کیے جائیں گے ؟ جیسا کہ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہم کو لوٹ کر خدا کی طرف جانا ہوا تو وہاں بھی ہمارے لیے بہتری ہی بہتری ہے۔ ہرگز نہیں۔ اس خداوند عادل و حکیم کے ہاں ایسا اندھیر نہیں ہوسکتا۔ (تنبیہ) ابن کثیر نے ان آیات کا مطلب یہ لیا ہے کہ تیری طرف کے ان منکروں کو کیا ہوا کہ تیزی کے ساتھ دوڑے چلے جاتے ہیں داہنے اور بائیں، غول کے غول، یعنی قرآن سن کر ایسے کیوں بدکتے اور بھاگتے ہیں۔ پھر کیا اس وحشت و نفرت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
آیت 33{ وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِشَہٰدٰتِہِمْ قَآئِمُوْنَ۔ } ”اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔“
دراصل گواہی بھی ایک امانت ہے اور جو شخص غلط گواہی دیتا ہے یا گواہی کو چھپا لیتا ہے وہ امانت میں خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ سورة البقرۃ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِط } آیت 140 ”اور کان کھول کر سن لو اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جس کے پاس اللہ کی طرف سے ایک گواہی تھی جسے اس نے چھپالیا ؟“ علمائے یہود کے پاس نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت کے بارے میں اللہ کی طرف سے گواہی تھی ‘ انہوں نے اس گواہی کو چھپا کر اللہ کی امانت میں خیانت کی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
21 سورة مومنون کی ابتدا میں فلاح پانے والے ایمانداروں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ جو بہت حد تک انہی صفات سے ملتی جلتی ہیں جو یہاں بیان کی جارہی ہیں سورة مومنون میں ان صفات کی ابتدا بھی نماز سے ہوئی تھی اور انتہا بھی نماز پر ہی ہوئی۔ اور اس مقام پر بھی بعینہ وہی صورت ہے جس سے دین میں نماز کی اہمیت کا ٹھیک طور پر اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
14۔ (ان مضامین وتعلیمات کی تصدیق کے لئے نہیں بلکہ الٹے ان کی تکذیب وتضحیک کیلئے) (آیت) ” فمال الذین کفروا “۔ ف۔ سے ادھر اشارہ ہوگیا کہ ان موجبات سعادت وشقاوت کی پوری تحقیق ہوجانے کے بعد بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ترجمہ : کافروں کو کیا ہوا کہ تمہاری طرف دائیں اور بائیں طرف سے گھورتے ہوئے جماعتیں بن بن کر چلے آرہے ہیں، مھطعین، کفروا سے حال ہے عزین بھی کفروا سے حال ہے، یعنی جماعت اور حلقے بنا بنا کر مومنین سے استہزاء کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر یہ جنت میں داخل ہوں گے تو ہم یقینا ان سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے، کیا ان میں کا ہر شخص اس بات کی خواہش رکھتا ہے کہ نعمتوں کی جنت میں داخل کرلیا جائے گا ؟ یہ ہرگز نہ ہوگا یہ ان کی دخول جنت کی تردید ہے ہم نے ان کو دوسروں کے مانند اس چیز سے پیدا کیا ہے جو ان کو معلوم ہے یعنی نطفوں سے، لہٰذا اس بنا پر جنت کی طمع نہیں کرسکتے ہاں البتہ جنت کی طمع تقوے کی بنا پر کرسکتے…
Read the full tafseer →فمال الذین کفروا قبلک مھطعین . فما میں فاء سببی اور ما سوالیہ تنبیہ و زجر کیلئے ہے۔ بغوی نے لکھا ہے
لکھا ہے کہ کافروں کی ایک جماعت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جمع ہو کر کلام مبارک سنتی تھی۔ مگر استہزاء اور تکذیب کرتی تھی۔ انکو تنبیہ کرنے کیلئے اس آیت کا نزول ہوا اور اللہ نے فرمایا : کیا وجہ ہے یہ لوگ آپ ﷺ کے پاس بیٹھتے ‘ آپ ﷺ کو دیکھتے (اور کلام سنتے) ہیں مگر فائدہ حاصل نہیں کرتے۔
مُھْطِعِیْنَ : یعنی آپ کی طرف نظریں اٹھائے ‘ گردنیں بڑھائے ‘ تیزی کے ساتھ جھپٹتے ہوئے آتے ہیں۔ (بغوی)
صاحب قاموس نے لکھا ہے : ھَطَعَ ھَطُوْعًا وَ ھَطْعًا تیزی کے ساتھ کسی طرف رخ کر کے ڈرتا ہوا اور اپنی نظر کو کسی چیز پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(36۔ 37) تو ان کفار مکہ کو کیا ہوا کہ مذاق اور جھٹلانے کے لیے کہ جماعتیں بن کر آپ کی طرف دوڑ کر آتے ہیں اور آپ کو دور ہی سے دیکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
فمال الذین کفروا …:”مھطعین“”اھطع یھطع“ (افعال) سے اسم فاعل ہے، تیزی سے دوڑنے والے۔ ”عزین“ جمع ہے ”عزۃ“ کی، جو اصل میں د ’ عزوۃ“ یا ”عزھۃ“ تھا، ٹولیاں ، گروہ۔ کفار رسول اللہ ﷺ کو مذاق کرنے کے لئے ٹولیاں بنا بنا کر کبھی دائیں طرف سے دڑوے چلے آتے ، کبھی بائیں طرف سے، وہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتے، آخرت کو بھی جھٹلاتے اور مذاق سے کہتے کہ اگر بالفرض کوئی جنت ہے بھی تو وہ بھی ہمارے ہی لئے ہے، کیونکہ دنیا میں بھی ہمیں ہی زیادہ نعمتیں ملی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس طرح آنے پر تعجب کا اظہار فرمایا اور فرمایا کیا ان میں سے ہر شخص اپنے آپ کو اتنا اونچا سمجھنے لگ گیا ہے کہ وہ نعمت والی جنت میں داخل ہونے…
Read the full tafseer →فمال الذین کفروا قبلک مھطعین۔ احفش نے کہا (2) مھطعین کا معین ہے جلدی جلدی آتے ہیں۔ ایک شاعر نے کہا :
شاعر نے کہا
بمکۃ اھلھا ولقد اراھم الیہ مھطعین الی السماع
مکہ مکرمہ میں اس کے مکین ہیں، میں انہیں دیکھتا ہوں کہ وہ بات سننے کے لئے جلدی کرتے ہیں۔ معنی ہے انہیں کیا ہوگیا ہے وہ آپ ﷺ کی طرف جلدی کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کے اردگرد بیٹھتے ہیں اور آپ ﷺ انہیں جو حکم دیتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں کیا گیا ہے۔ وہ آپ ﷺ کو جھٹلانے میں جلدی کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کفار کو کیا ہوگیا وہ آپ ﷺ کی بات سننے میں جلدی کرتے ہیں تاکہ وہ آپ ﷺ کی عیب جوئی کریں اور آپ ﷺ کا مذاق اڑائیں۔…
Read the full tafseer →20۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فمال الذین کفرو قبلک مہطعین پس کافروں کو کیا ہوگیا کہ آپ کی طرف دوڑے آرہے ہیں یعنی وہ آپ کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہے ہیں آیت عن الیمین وعن الشمال عزین۔ دائیں اور بائیں سے ٹولیا بنا کر یعنی غصہ کرتے ہوئے لوگوں سے دائیں اور بائیں طرف منہ پھیرتے ہوئے اور اس کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے۔
21۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فمال الذین کفرو قبلک مہطعین سے مراد ہے کہ ان کافروں کو کیا ہوا کہ وہ آپ کی طرف قصد کرتے ہوئے بھاگے آرہے ہیں۔ آیت عن الیمین وعن الشمال عزین یعنی نبی ﷺ کے ارد گرد گروہ درگروہ حالانکہ نہ وہ اللہ کی کتاب میں رغبت رکھتے ہیں…
Read the full tafseer →[فَمَا : تو کیا ہے ][ لِ الَّذِينَ كَفَرُوْا : ان کے لیے جنھوں نے انکار کیا ][ قِبَلَكَ : (آتے ہیں) آپ کی طرف ][ مُهْطِعِيْنَ؛لپکنے (ڑھائی کرنے) والے ہوتے ہوئے ]
ترکیب : (آیت۔ 36) فَمَالِ میں جو لام ہے یہ حروف جارہ والا لام ہے اور اس کا تعلق فما سے نہیں ہے بلکہ الذین سے ہے۔ اصل عبارت یوں ہے۔ فَمَا لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔ جو کہ حرفِ جار لِ الگ لکھا گیا ہے اس لیے اَلَّذِیْنَ کا ہمزہ الوصل واپس آگیا ہے۔ اس آیت میں اس کو اس طرح لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املا ہے۔ مُھْطِعِیْنَ اسم الفاعل ہے اور حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔
نوٹ۔ 1: سابقہ آیات۔ 19 تا 35 ۔ میں یہ بتایا گیا ہے کہ کس قسم کے لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
کافروں کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے باطل میں لگے رہیں، قیامت میں ان کی آنکھیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہو گی
ان آیات میں منکرین کا طرز عمل بتایا ہے جو انہوں نے دنیا میں اختیار کر رکھا تھا۔ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کعبہ شریف کے قریب نماز پڑھتے اور قرآن کی تلاوت کرتے ہوتے تو مشرکین آپ کے چاروں طرف حلقے بنا بنا کر جمع ہوجاتے تھے اور ان کی مختلف جماعتیں بن جاتی تھیں، قرآن کو سن سن کر اس کا مذاق بناتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جو مسلمان ہوتے تھے (جو بظاہر ٹوٹے پھوٹے حال میں تھے) انہیں دیکھ کر کہتے تھے کہ اگر یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے جیسا کہ محمد ﷺ کا بیان ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
حیرت واستعجاب برحال اہل عناد وتنبیہ وتہدید برخود فریبی ایشاں :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فمال الذین کفروا ........ الی .......... کانوا یوعدون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مجازات اعمال کا بیان تھا اور یہ کہ مجرمین قیامت کے روز کیسی شدید بےچینی اور اذیت میں مبتلا ہوں گے اب ان آیات میں ان معاندین کی حالت میں حیرت وتعجب کا اظہار کیا جارہا ہے جو اپنی مذموم اور بےہودہ روش سے آنحضرت ﷺ کو اذیت پہنچاتے اور دین کا مذاق اڑاتے تھے اور پھر عجیب تر امر یہ ہے کہ اس دل آزار اور بےہودہ روش کے باوجود اپنے بارے میں یہ دعوے کرتے تھے کہ وہ آخرت میں بڑے انعامات سے نوازے جائیں گے اس ضمن میں پھر اس بات کا اعادہ کیا جا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
11:۔ ” فمال الذین “ زجر برائے کفار۔ جب رسول اللہ ﷺ بیت اللہ میں نماز پڑھتے اور قرآن کی تلاوت فرماتے تو مشرکین دوڑتے ہوئے آتے اور ٹولیوں کی صورت میں آپ کے ارگرد جمع ہو کر استہزاء کرتے اور کہتے اگر یہ لوگ جنت میں چلے گئے تو ہم ان سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ مھطعین ای مسرعین، عزین عزۃ کی جمع ہے ای جماعات فی تفرقۃ، مہطعین اور عزین، الذین کفرو سے حال ہیں۔ عزین مہطعین کی ضمیر سے حال ہے یا یہ کان محذوف کی خبر ہے ای کانوا عن الیمین الخ۔ اہل عرب بسا اوقات کان کو مع اسم حذف کر کے خبر کو باقی رکھتے ہیں کما قال ابن مالک فی الفیت
یحذفونہا ویبقون الخبر
بعد ان ولو کثیرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
گذشتہ سے پیوستہ :
گزشتہ آیات میں منکرین قیامت کو وعید سنائی گئی تھی کہ قیامت کے روز مجرمین کو دوزخ خود اپنی طرف پکارے گی ۔ جو دنیا میں احکام الہٰی سے پشت پھیرتے تھے۔ ردگردانی کرتے تھے مال سمیٹ سمیٹ کر رکھتے تھے ۔ خرچ کرنے میں بخل کرتے تھے۔ حلال و حرام میں تمیز نہیں کرتے تھے انہیں دوزخ چن چن کر اپنے اندر داخل کرے گی۔ انسان کے پیدائشی طور پر حریص اور بےصر اہونے کا ذکر کیا ۔ یعنی جب اسے شرپہنچتا ہے تو بےصبری کا اظہار کرتا ہے۔ اور جب اسے خیر پہنچتی ہے تو بخل کرتا ہے۔ البتہ اس سے وہ لوگ متثنیٰ ہیں جن میں آٹھ صفات پائی جاتی ہیں۔ یعنی نماز میں مدادمت اختیار کرتا ہے۔ البتہ اس سے وہ لوگ متثنیٰ ہیں جن…
Read the full tafseer →فَمَالِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُہْطِعِيْنَ 36 ۙ
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔
اور سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
ترکیب : مھطعیں المھطع المسرع وقیل المادعنقہ ھو حال من الذین کفروا قبلک حولک معمول محطعین عزین جمع عزۃ وھی العصتبہ من الناس وقیل اصلھا عزوۃ من العزوکان کل فرقہ تعتزی ای تنسب الی غیرمن تعتزی الیہ الاخری فی الصحاح العزۃ الفرقۃ من الناس والھاء عوض عن الیاء والجمع عزی وعزون عن تتعلق بعزین ویجوزان تکون حالان یدخل الجملۃ مفعول بطمع انا لقادردن جواب القسم وما نحن اماجواب آخر للقسم اوحال عن القادرون یخوضوا ویلعبوا مجزومان علیٰ انھما جواب الامریوم بدل من یوتھم سراعاجمع سریع والاجداث جمع جدث وھوا لقبرھو حال من فاعل یخرجون وکذا کانھم نصب عندالجمہور بفتح النون و سکون الصاد بمعنی العلم وقریٔ بضم النون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
فَمَالِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا قِبَلَکَ مُھْطِعِیْنَ ۔ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ ۔ (المعارج : 36، 37)
(تو ان کافروں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ آپ کی طرف دوڑے چلے آرہے ہیں۔ دہنے اور بائیں سے گروہ در گروہ۔ )
مشکل الفاظ :۔ مُھْطِعِیْنَ … ا ہطاع مصدر ہے، اس کے معنی ہیں کسی طرف تیزی سے بڑھنا اور لپکنا۔
عِزِیْنَ … عِزَۃٌ کی جمع ہے، اس کے معنی گروہ کے ہیں۔
قرآن کی دعوت اور تلاوت کے وقت کفار کا طرزعمل
نبی کریم ﷺ جب لوگوں کے سامنے قرآن کی دعوت پیش کرتے اور پیغمبرانہ لب و لہجہ میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے تو چونکہ اس کلام کی تاثیر اور تسخیر بےپناہ تھی تو قریش کے وہ لوگ جو اس دعوت کو روکنے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
فہم القرآن
ربط کلام : ایمانداروں کو جنت کی خوشخبری سنانے پر کفار کا رد عمل۔
مکی دور میں اسلام کے مخالفوں کا یہ خیال بلکہ یقین تھا کہ نبی ﷺ کی دعوت قبولیت عامہ نہیں پاسکے گی۔ اسی بنا پر اسلام اور مسلمانوں کو اپنے سے حقیر جانتے اور ان الفاظ کے ساتھ نبی ﷺ اور مسلمانوں کو مذاق کیا کرتے تھے۔
” جب یہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کا مذاق اڑاتے ہیں ہاں یہ شخص ہے جسے ” اللہ “ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ “ (الفرقان : 41)
(وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْ بَیْنِنَا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بالشّٰکِرِیْنَ ) (الانعام : 53)
” اور اسی طرح ہم…
Read the full tafseer →36 : فَمَالِ یہ لفظ مصحف عثمان ؓ کی اتباع میں الگ لکھا جاتا ہے۔ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا قِبَلَکَ (تو کافروں کو کیا ہوا کہ آپ کی طرف) قبلکؔ آپ کی طرف اور جانب مُھْطِعِیْنَ (دوڑے آرہے ہیں)
نحو : الذین کفروا سے حال ہے۔
Read the full tafseer →35 ۔ اولئک فی جات مکرمون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
36۔ 44۔ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتیں سن کر آنحضرت ﷺ کے دائیں بائیں ہو کر نکل جاتے تھے ‘ اور قرآن شریف کی پوری نصیحت سننے سے کتراتے تھے اور آپس میں یہ باتیں کرتے تھے کہ یہ ساری نصیحت اس لئے ہے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں گے اور اس نئی زندگی میں میوے کھانے کو باغ میں گے۔ پھر کہتے تھے اگر یہ بات سچ ہے تو جس طرح بہ نسبت ان مسلمانوں کے دنیا میں ہم راحت و آرام سے ہیں اسی طرح ان سے پہلے ہم کو ہی وہ باغ ملیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جنت کچھ ان کے بڑے بوڑھوں کے بنائے ہوئے باغ نہیں ہیں کہ بغیر مرضی اللہ تعالیٰ کے یہ ان باغوں میں گھس جائیں گے۔ نہیں یہ خال ان کا بالکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
اللہ تبارک وتعالی کفار کی فریب خوردگی بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے (فمال الذین کفروا قبلک مھطعین) ۔ پس ان کافروں کو کیا ہوا کہ تمہاری طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔ یعنی بڑی سرعت سے (عن الیمین وعن الشمال عزین) ۔ دائیں بائیں سے گروہ گروہ ہو کر۔ یعنی متفرق گروہوں اور مختلف جماعتوں میں سے ہر ایک کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی پر خوش ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
قول باری ہے (للسائل والمحروم سائل اور محروم کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سوال کرنے والے کو سائل کہتے ہیں اور محروم وہ شخص ہے جسے کسی تجارت میں کامیابی نہ ہوتی ہو۔ ابوقلابہ کا قول ہے کہ محروم وہ شخص جس کا مال چلا جائے۔ حسن بن محمد کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا، اسے مال غنیمت حاصل ہوا، اس کے بعد کچھ دوسرے لوگ بھی آگئے اور یہ آیت نازل ہوئی (فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے)
حضرت انس ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان المحروم من حرم وصیتہ بیشک محروم وہ شخص ہے جسے اس چیز سے محروم رکھا جائے جس کی اس کے لئے وصیت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
32 ۔ کفار کے حال پر اظہار تعجب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر کیا ہوگیا ان کافروں کو جو دوڑے چلے آرہے ہیں آپ کی طرف گروہ در گروہ ہو کر اے پیغمبر، مذاق و استہزاء کے لیے اور یہ لوگ کان نہیں دھرتے اس ہدایت پر جو آپ ان کو ارشاد فرما رہے ہیں، جیسا کہ دوسری جگہ سورة مدثر آیت 49 ت ا 51 پ 29 میں فرمایا گیا فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ ۔ (المراغی وغیرہ) قرآن حکیم کا یہ فیصلہ سن کر کفار قریش کے تن بدن میں آگ لگ جاتی کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ محمد اور ان کے نادار و مفلوک الحال ساتھی تو جنت میں براجمان ہوں اور وقت کی سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–44
نیک لوگوں کی صفات
تشریح : ایک اچھے پکے اور صالح جنت کے حقدار کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ کافی دفعہ وضاحت سے پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں یہاں پھر مختصراً بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان فطرتاً کمزور طبیعت یعنی غلطیوں کا پتلا سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ہے ہی۔ مگر اس کی اصلاح کے لئے ہی تو قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ تو جو شخص اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتا ہے تو وہی بہادر انسان ہے وہ خود کو شیطان کے چنگل سے نکال کر بندگانِ الٰہی میں شامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عمل بہت ضروری ہے۔ اگر زبانی ایمان لے آنا کافی ہوتا تو پھر منافق دوزخ کے نچلے درجے میں کیوں ڈالے جاتے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
آیات 36 تا 44۔
اسرار ومعارف۔
اور ان کفار کو کیا ہوا ہے کہ بجائے تصدیق کرنے ہر طرف سے آپ پر یلغار کرتے ہیں کہ آپ کے ارشادات کی تکذیب کرتے ہیں اور اعتراض کے ساتھ مذاق اڑائیں اس پر طرفہ یہ کہ ہر قوم آخرت میں اپنے لیے نجات کی امید رکھتی ہے لہذا مغرب ومشرق کے یہود ہنود ہوں یانصاری وغیرہ سب اپنے لیے جنت کا دعوی بھی رکھتے ہیں جو یکسر باطل ہے ایسا ہرگز نہ ہوسکے گا بلکہ اطاعت محمد کے علاوہ اب نجات کا کوئی راستہ نہیں اور جو لوگ سرے سے کوئی مذہب نہیں رکھتے انہیں بھی دیکھ لیناچاہیے کہ کس طرح ایک قطرہ منی سے ہم نے انہیں باکمال خوبصورت صحت مند انسان بنادیا اور یہ مشارق ومغارب کے نظام جو ہر لحظہ سے بیشمار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ف 7 یعنی ان کے جھنڈ کے جھنڈ آپ کی مجلس میں آ کر بٹھتے اور آپ کی زبان مبارک سے قرآن کی آیتیں سنتے ہیں لیکن آپ کی کسی نصیحت پر عمل نہیں کرتے بلکہ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کیا اس پر بھی ان میں سے ہر شخص یہ امید رکھتا ہے کہ وہ جنت میں داخل کیا جائے گا ؟… مفسرین کہتے ہیں کہ مشرکین مکہ کہا کرتیت ہے کہ اگر مسلمان جنت میں جائیں گے تو ہم ان سے پہلے جنت میں پہنچیں گے۔ ان کے اسی زعم باطل کی اس آیت میں تردید فرمائی گئی ہے۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →(70:36) فمال الذین کفروا قبلک مھطعین :سببیہ۔ ما استگہامیہ لام حرف جر۔ الذین کفروا موصول و صلہ مل کر، مجرور۔ قبلک مضاف مضاف الیہ۔ تیری جانب ۔
مھطعین : صاحب قاموس نے لکھا ہے۔ ھطع ھطوعا وھطعا۔ تیزی کے ساتھ کسی کی طرف رخ کرکے دوڑتے ہوئے اپنی نظر کو کسی چیز پر جمائے ہوئے آیا۔ اور کسی روکاوٹ کی پرواہ نہ کی۔ یعنی ھطع ثلاثی مجرد کو باب فتح سے قرار دیا گیا ہے اور اس کا مصدر فطع وھطوع ہے۔ لیکن مھطعین مصدر اھطاع (باب افعال) سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ اھطع کا معنی ہے گردن بڑھائی سر اٹھایا۔ مھطعین حال ہے الذین کفروا سے۔
ترجمہ ہوگا :۔ پس کافروں کو کیا ہوگیا ہے (یا کیا وجہ ہے کہ کافر لوگ) گردن بڑھائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
لغات القرآن، ۔
مھطعین۔ وہ دوڑتے آتے ہیں۔ عزین۔ گروہ در گروہ۔ الاجداث۔ قبریں۔ نسب۔ نشانیاں لگی ہوئی چیز۔ یوفضون۔ دودوڑتے ہیں۔
تشریح : زیر مطالعہ آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ انسان اگرچہ کم ہمت پیدا کیا گیا ہے یعنی تمام تر عظمتوں کے باوجود اس میں کچھ فطری کمزوریاں موجود ہیں لیکن اگر ایمان اور عمل صالح کے ساتھ زندگی گزاری جائے تو پھر اس کی نیکیاں اور اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری اس کو جنت کی ابدی راحتوں کا مستحق بنا دیتی ہیں۔
کفار مکہ کا یہ حال تھا کہ جب نبی کریم ﷺ ان کے سامنے اللہ کا دین پیش کرکے ان کو گمراہی سے ہدایت کی طرف آنے کی دعوت دیتے یا جب آپ تلاوت کلام پاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
بت پرستی کا انجام۔
(ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتیں سن کر نبی ﷺ کے دائیں بائیں ہوکر نکل جاتے تھے اور قرآن شریف کی پوری نصیحت سننے سے کنیاتے تھے اور آپس میں یہ باتیں کرتے تھے کہ یہ ساری نصیحت اس لیے ہے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں گے اور اس نئی زندگی میں میوہ کھانے کو باغ ملیں گے پھر کہتے تھے کہ اگر یہ بات سچ ہے تو جس طرح بہ نسبت ان مسلمانوں کے دنیا میں ہم راحت و آرام سے ہیں اسی طرح ان پہلے ہم کو بھی وہ باغ ملیں گے اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جنت کچھ انکے بڑے بوڑھوں کے بنائے ہوئے باغ نہیں کہ بغیر مرضی اللہ کے یہ ان باغوں میں گھس جائیں گے نہیں یہ خیال ان کا بالکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–36
[7] یعنی روز جزا کا یقین رکھتے ہیں اور یہ بنیادی عقیدہ ان کے تمام نیک اعمال کا محرک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
مالداروں کی ذہنیت
1: کہ ان لوگوں کو اپنے مال اور اپنی دولت پر بڑا ناز ہے ۔ اور ان کی رائے میں چونکہ یہ دنیا کی نعمتوں سے بہرہ ور ہیں ۔ اس لئے ضروری ہے ۔ کہ عالم آخرت میں بھی ان کا تفوق غربا پر قائم رہے ۔ اور وہاں بھی جنت کی تمام مسرتوں سے استفادہ کرنے کا انہیں حق حاصل ہو ۔ حالانہ یہ قطعاً اس پاک جگہ میں جانے کی استعداد نہیں رکھتے ۔ اور مال دولت چاندی سونے کے ذخائر کو یہ لوگ کیوں اتنی اہمیت دیتے ہیں ۔ کہ اس کی وجہ سے اپنے کو افضل سمجھتے ہیں ۔ اور غریب مسلمانوں کو اپنی نظروں میں حقیر جانتے ہیں ۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ ان چیزوں سے کہیں یہ اپنی فطرت کو بدل سکتے ہیں ؟ کیا یہ وہی نہیں ہے ۔ جن کو…
Read the full tafseer →(36) پس ان کافرون اور دین حق کے منکروں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ آپ کی طرف دوڑدوڑ کر آرہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–36
ف 9۔ یعنی نماز میں ظاہرا یا باطنا دوسری طرف توجہ نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →ان کافروں کو کیا ہوگیا ہے کہ آپ ﷺ کے پاس دوڑے چلے آتے ہیں
36 ؎ (مھطعین) اسم فاعل جمع مذکر منصوب مھطع واحد اھطاع مصدر باب افعال سر جھکائے تیزی سے دوڑنے والے۔ ھطیع کشادہ راستہ۔ مھطع عاجزی اور ذلت کی وجہ سے نظر نہ اٹھانے والا۔ بلانے والے کی طرف خاموش چلا جانے والا ھطع اور ھطوع مصدر۔ دوڑتا ہوا آنا۔ کسی چیز پر نظر جمائے رکھنا۔ ادھر ادھر نگاہ نہ اٹھانا۔ اھطاع سر جھکائے تیز دوڑنا۔ گردن لمبی کرنا۔ (مھطعین) کا لفظ تین بار استعمال ہوا ہے۔ (الحجر : 43) ، (القمر : 8) ، (المعارج : 36) گزشتہ دونوں سورتوں میں آنے والے الفاظ پر غوروفکر کرنے سے یہ تیسری جگہ کا مفہوم بھی واضح ہوجاتا ہے۔ کفار ایک طرف تو آپ ﷺ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ (...and those who are upright in their testimonies, [ 70:33] '. The word shahadat is the plural of shahadah. The use of plural number in this verse too indicates that there are many types and categories of 'testimony', and it is necessary to stand firm by one's testimony of any type. This includes testifying to the faith of Islam, Divine existence and His Oneness, and testifying that Sayyidna Muhammad ﷺ is His Final Messenger. It is obligatory to testify to the crescent of Ramadan, if one has seen it. Giving a true and accurate account of Shari'ah…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
23 This gives an idea of the importance of the Prayer (salat) . The description of the merits of the high and sublime character of those who have been declared as worthy of Paradise, began with the Prayer and has been concluded with it. To be a performer of the Prayer is their first characteristic, to be steadfast and ever constant with regard to the Prayer is their second characteristic, and to guard their Prayer is their last characteristic. "Guarding the Prayer" implies many things: to perform the Prayer at its right time, to make sure before the Prayer that one's body and clothes are…
Read the full tafseer →