Explained with ayahs 36–44
مرکز نور و ہدایت سے مفرور انسان
اللہ تعالیٰ عزوجل ان کافروں پر انکار کر رہا ہے جوحضور ﷺ کے مبارک زمانہ میں تھے خود آپ ﷺ کو وہ دیکھ رہے تھے اور آپ ﷺ جو ہدایت لے کر آئے وہ ان کے سامنے تھی اور آپ ﷺ کے کھلے معجزے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے پھر باوجود ان تمام باتوں کے وہ بھاگ رہے تھے اور ٹولیاں ٹولیاں ہو کر دائیں بائیں کترا جاتے تھے، جیسے اور جگہ آیت (فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ 49ۙ) 74۔ المدثر :49) ، یہ نصیحت سے منہ پھیر کر ان گدھوں کی طرح جو شیر سے بھاگ رہے ہوں کیوں بھاگ رہے ہیں ؟ یہاں بھی اسی طرح فرما رہا ہے کہ ان کفار کو کیا ہوگیا ہے یہ نفرت کر کے کیوں تیرے پاس سے بھاگے…
Read the full tafseer →سورة الْمَعَارِج 24
یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو نبی کریم ﷺ کی دعوت و تبلیغ اور تلاوت قرآن کی آواز سن کر مذاق اڑانے اور آوازے کسنے کے لیے چاروں طرف سے دوڑ پڑتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
(آیت) وَالَّذِيْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَاۗىِٕمُوْنَ ، یہاں بھی لفظ شہادات کو بلفظ جمع لانے میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ شہادت کی بہت سی قسمیں ہیں اور ہر قسم شہادت کو قائم رکھنا واجب ہے۔ اس میں شہادت ایمان توحید و رسالت بھی داخل ہے۔ ہلال رمضان اور حدود شرعیہ کی شہادت بھی اور لوگوں کے باہمی معاملات جو کسی کے سامنے ہوئے ہوں ان کی شہادت بھی کہ ان شہادتوں کا چھپانا اور ان میں کمی بیشی کرنا حرام ہے ان کو صحیح صحیح قائم کرنا اس آیت کی رو سے فرض ہے۔ (از مظہری) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
قرآن کا یہ فیصلہ سن کر قریش کے مغروروں کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ وہ یہ کس طرح سن سکتے تھے کہ محمد ﷺ اور ان کے نادار و مفلوک الحال ساتھی تو جنت میں براجمان ہوں گے اور تمام عزتوں اور عظمتوں کے وارث و مورث، سادات قریش دوزخ کے ایندھن بنیں گے۔ اس غصہ میں وہ ٹولیاں۱ بنا بنا کر آنحضرت ﷺ کی تردید و توہین کے لیے دہنے بائیں سے آپؐ پر پل پڑتے۔۲ ان آیات میں اسی صورت حال کی تصویر اور ان مغروروں کی خرد باختگی پر اظہار تعجب ہے۔ فرمایا کہ ان کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ ہر طرف سے تمہارے اوپر ٹولیاں بنا بنا کر پلے پڑ رہے ہیں! کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع لیے بیٹھا ہے کہ وہ جنت میں جا براجے گا!! یعنی اگر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
37۔ 1 یہ نبی ﷺ کے زمانے کے کفار کا ذکر ہے کہ وہ آپ کی مجلس میں دوڑتے دوڑتے آتے، لیکن آپ کی باتیں سن کر عمل کرنے کی بجائے ان کا مذاق اڑاتے اور ٹولیوں میں بٹ جاتے۔ اور دعویٰ یہ کرتے کہ اگر مسلمان جنت میں گئے تو ہم ان سے پہلے جنت میں جائیں گے۔ اللہ نے اگلی آیت میں ان کے اس زعم باطل کی تردید فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
10: جب حضور اقدس ﷺ قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو کافر لوگ ٹولیا بنا بنا کر آپ کے ارد گرد جمع ہوجاتے، اور مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ اگر یہ صاحب جنت میں جائیں گے تو ہم ان سے پہلے چلے جائیں گے۔ (روح المعانی)۔ یہ آیت اس کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
اب آخر میں دعوت اسلامی کا ایک منظر۔ یہ مکی منظر ہے ۔ ایک جگہ رسول کریم ﷺ کھڑے دعوت دے رہے ہیں۔ قرآن پڑھ رہے ہیں اور مشرکین ہر طرف سے امنڈتے چلے آرہے ہیں :
فمال ........................ عزین
مھطع اس شخص کو کہتے ہیں جو گردن لمبی کرتے ہوئے تیز تیز چلتا ہے۔ گویا رسی گلے میں ڈال کر کھینچا جارہا ہو ، اور عزین جمع عزہ کی اور اس کا وزن اور معنی دونوں لفظ۔
فئة کی طرح ہے ، یعنی گروہ۔ اس میں ان کی اس مشکوک حرکت پر ایک مزاح بھی ہے اور اس ہیئت اور حرکت کی ایک تصویر بھی۔ ان پر تعجب کیا جاتا ہے اور ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا ہوگیا ہے تمہیں ؟ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف اس لئے نہیں بھاگ رہے کہ آپ کی باتیں سنیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
1 یعنی قرآن کی تلاوت اور جنت کا ذکر سن کر کفار ہر طرف سے ٹولیاں بنا کر تیری طرف امڈے چلے آتے ہیں۔ پھر ہنسی اور ٹھٹھا کرتے ہیں، کیا اس کے باوجود یہ بھی طمع رکھتے ہیں کہ وہ سب جنت کے باغوں میں داخل کیے جائیں گے ؟ جیسا کہ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہم کو لوٹ کر خدا کی طرف جانا ہوا تو وہاں بھی ہمارے لیے بہتری ہی بہتری ہے۔ ہرگز نہیں۔ اس خداوند عادل و حکیم کے ہاں ایسا اندھیر نہیں ہوسکتا۔ (تنبیہ) ابن کثیر نے ان آیات کا مطلب یہ لیا ہے کہ تیری طرف کے ان منکروں کو کیا ہوا کہ تیزی کے ساتھ دوڑے چلے جاتے ہیں داہنے اور بائیں، غول کے غول، یعنی قرآن سن کر ایسے کیوں بدکتے اور بھاگتے ہیں۔ پھر کیا اس وحشت و نفرت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
آیت 37{ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ۔ } ”دائیں اور بائیں سے غول در غول۔“
دراصل مشرکین کو ہر وقت یہ دھڑکا لگتا رہتا تھا کہ جس کسی نے بھی حضور ﷺ سے قرآن سن لیا وہ ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ اس لیے حضور ﷺ جب لوگوں کو قرآن سنانے کے لیے کہیں کھڑے ہوتے تو وہ ہر طرف سے دوڑیں لگا کر آپ ﷺ کے پاس پہنچ جاتے۔ ایسا دراصل وہ لوگوں کو حضور ﷺ کے گرد جمع ہونے سے روکنے کے لیے کرتے تھے ‘ تاکہ وہ آپ ﷺ کی زبان مبارک سے قرآن نہ سن سکیں۔
Read the full tafseer →22 جب رسول اللہ ﷺ لوگوں کو قرآن سنانے، وعظ و نصیحت کرنے اور احوال قیامت بیان کرنے کے لیے کھڑے ہوتے اور اس مقصد کے لیے آپ عموماً کعبہ اور اس کے آس پاس ہی کھڑے ہوتے تھے۔ کافر آپ ﷺ کی آواز سن کر چاروں طرف سے آپ ﷺ کی طرف دوڑے چلے آتے تھے۔ آکر کبھی شور مچانا شروع کردیتے، کبھی تالیاں بجاتے، کبھی مذاق اڑاتے تھے اور ان کی ان کرتوتوں سے ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ اول تو کوئی شخص قرآن سننے ہی نہ پائے اور اگر کسی کے کان میں کچھ پڑ بھی جائے تو اس کا اثر قبول نہ کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
14۔ (ان مضامین وتعلیمات کی تصدیق کے لئے نہیں بلکہ الٹے ان کی تکذیب وتضحیک کیلئے) (آیت) ” فمال الذین کفروا “۔ ف۔ سے ادھر اشارہ ہوگیا کہ ان موجبات سعادت وشقاوت کی پوری تحقیق ہوجانے کے بعد بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ترجمہ : کافروں کو کیا ہوا کہ تمہاری طرف دائیں اور بائیں طرف سے گھورتے ہوئے جماعتیں بن بن کر چلے آرہے ہیں، مھطعین، کفروا سے حال ہے عزین بھی کفروا سے حال ہے، یعنی جماعت اور حلقے بنا بنا کر مومنین سے استہزاء کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر یہ جنت میں داخل ہوں گے تو ہم یقینا ان سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے، کیا ان میں کا ہر شخص اس بات کی خواہش رکھتا ہے کہ نعمتوں کی جنت میں داخل کرلیا جائے گا ؟ یہ ہرگز نہ ہوگا یہ ان کی دخول جنت کی تردید ہے ہم نے ان کو دوسروں کے مانند اس چیز سے پیدا کیا ہے جو ان کو معلوم ہے یعنی نطفوں سے، لہٰذا اس بنا پر جنت کی طمع نہیں کرسکتے ہاں البتہ جنت کی طمع تقوے کی بنا پر کرسکتے…
Read the full tafseer →عن الیمین و عن الشمال عزین . عزین جمع ہے عزۃٌ کی۔ الگ الگ ٹولے۔ (صحاح جوہری) قاموس میں ہے : عزۃٌ بروزن عدۃٌ آدمیوں کا گروہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(36۔ 37) تو ان کفار مکہ کو کیا ہوا کہ مذاق اور جھٹلانے کے لیے کہ جماعتیں بن کر آپ کی طرف دوڑ کر آتے ہیں اور آپ کو دور ہی سے دیکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
فمال الذین کفروا …:”مھطعین“”اھطع یھطع“ (افعال) سے اسم فاعل ہے، تیزی سے دوڑنے والے۔ ”عزین“ جمع ہے ”عزۃ“ کی، جو اصل میں د ’ عزوۃ“ یا ”عزھۃ“ تھا، ٹولیاں ، گروہ۔ کفار رسول اللہ ﷺ کو مذاق کرنے کے لئے ٹولیاں بنا بنا کر کبھی دائیں طرف سے دڑوے چلے آتے ، کبھی بائیں طرف سے، وہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتے، آخرت کو بھی جھٹلاتے اور مذاق سے کہتے کہ اگر بالفرض کوئی جنت ہے بھی تو وہ بھی ہمارے ہی لئے ہے، کیونکہ دنیا میں بھی ہمیں ہی زیادہ نعمتیں ملی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس طرح آنے پر تعجب کا اظہار فرمایا اور فرمایا کیا ان میں سے ہر شخص اپنے آپ کو اتنا اونچا سمجھنے لگ گیا ہے کہ وہ نعمت والی جنت میں داخل ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
عن الیمین وعن الشمال عزین۔ وہنبی کریم ﷺ کی دائیں اور بائیں جانب سے حلقے بناتے ہوئے اور جماعت ور جماعت۔ عزین کا معنی ہے مختلف جماعتیں، یہ ابو عبید کا قول ہے۔ اسی معنی میں نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے، آپ ﷺ اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے، آپ ﷺ نے انہیں مختلف حلقے بناتے ہوئے دیکھا۔ فرمایا : مالی اراکم عزین الاتصفون کما تصف الملائکۃ عند ربھا، قالوا وکیف تصف اللائ کہ عند ربھا ؟ قال : یتمون الصفوف الائون ویتراضون فی الصف (1) امام مسلم اور دوسرے علماء نے اسے روایت کیا ہے۔
فرمایا : کیا وجہ ہے میں تمہیں مختلف حلقے بناتے ہوئے دیکھتا ہوں کیا تم اس طرح صفیں نہیں بنائو گے جس طرح فرشتے اپنے رب کے ہاں صفیں بناتے ہیں…
Read the full tafseer →فاجء وا مہر عین الیہ حتی یکونوا حول منبرہ عزین
ترجمہ : پس وہ اس کی طرف تیزی سے دوڑتے ہوئے آئے یہاں تک کہ اس کے منبر کے ارگرد حلقہ بنائے کھڑے ہوگئے
24۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت عن الیمین وعن الشمال عزین یعنی نبی صلی اللہ ﷺ دائیں جانب سے اور آپ کی بائیں جانب سے عزین یعنی گوٹ مار کر بیٹھنے والوں کی مجلسیں جن میں تھوڑے تھوڑے افراد ہوں۔
25۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ عزین سے مراد ہے مجلسوں کے حلقے۔
26۔ عبد بن حمید نے عبادہ بن انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے اور فرمایا کیا ہے میرے لیے کہ میں تم کو دیکھتا ہوں عزین یعنی…
Read the full tafseer →[عَنِ الْيَمِيْنِ : دائیں سے ][ وَعَنِ الشِّمَالِ : اور بائیں سے ][ عِزِيْنَ : گروہ در گروہ ہوتے ہوئے ]
ع ز و
[عَزْوًا : (ن) منسوب ہونا۔ اپنے آپ کو دوسرے کی طرف منسوب کرنا۔ خواہ یہ سچ ہو یا جھوٹ۔]
[ عِزَۃٌ (یہ دراصل عِزَوٌ تھا۔ اس کی واؤ گری ہوئی ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ لام کلمہ کا حرف علّت کسی وجہ سے گراتے ہیں تو اس کی جگہ گول تا لگا دیتے ہیں۔ اس طرح یہ عِزَۃٌ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی جمع عِزُوْن۔ عِزِیْنَ ، عِزِیْنَ آتی ہے) ۔ اس کے معنی ہیں گروہ یا جماعت۔ لیکن یہ ایسی جماعت کے لیے آتا ہے جس کے افراد بلحاظ نسبت یا بلحاظ مدد و تعاون ایک دوسرے کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ زیر مطالعہ آیت۔ 37 ۔]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
کافروں کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے باطل میں لگے رہیں، قیامت میں ان کی آنکھیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہو گی
ان آیات میں منکرین کا طرز عمل بتایا ہے جو انہوں نے دنیا میں اختیار کر رکھا تھا۔ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کعبہ شریف کے قریب نماز پڑھتے اور قرآن کی تلاوت کرتے ہوتے تو مشرکین آپ کے چاروں طرف حلقے بنا بنا کر جمع ہوجاتے تھے اور ان کی مختلف جماعتیں بن جاتی تھیں، قرآن کو سن سن کر اس کا مذاق بناتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جو مسلمان ہوتے تھے (جو بظاہر ٹوٹے پھوٹے حال میں تھے) انہیں دیکھ کر کہتے تھے کہ اگر یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے جیسا کہ محمد ﷺ کا بیان ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
حیرت واستعجاب برحال اہل عناد وتنبیہ وتہدید برخود فریبی ایشاں :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فمال الذین کفروا ........ الی .......... کانوا یوعدون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں مجازات اعمال کا بیان تھا اور یہ کہ مجرمین قیامت کے روز کیسی شدید بےچینی اور اذیت میں مبتلا ہوں گے اب ان آیات میں ان معاندین کی حالت میں حیرت وتعجب کا اظہار کیا جارہا ہے جو اپنی مذموم اور بےہودہ روش سے آنحضرت ﷺ کو اذیت پہنچاتے اور دین کا مذاق اڑاتے تھے اور پھر عجیب تر امر یہ ہے کہ اس دل آزار اور بےہودہ روش کے باوجود اپنے بارے میں یہ دعوے کرتے تھے کہ وہ آخرت میں بڑے انعامات سے نوازے جائیں گے اس ضمن میں پھر اس بات کا اعادہ کیا جا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
11:۔ ” فمال الذین “ زجر برائے کفار۔ جب رسول اللہ ﷺ بیت اللہ میں نماز پڑھتے اور قرآن کی تلاوت فرماتے تو مشرکین دوڑتے ہوئے آتے اور ٹولیوں کی صورت میں آپ کے ارگرد جمع ہو کر استہزاء کرتے اور کہتے اگر یہ لوگ جنت میں چلے گئے تو ہم ان سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ مھطعین ای مسرعین، عزین عزۃ کی جمع ہے ای جماعات فی تفرقۃ، مہطعین اور عزین، الذین کفرو سے حال ہیں۔ عزین مہطعین کی ضمیر سے حال ہے یا یہ کان محذوف کی خبر ہے ای کانوا عن الیمین الخ۔ اہل عرب بسا اوقات کان کو مع اسم حذف کر کے خبر کو باقی رکھتے ہیں کما قال ابن مالک فی الفیت
یحذفونہا ویبقون الخبر
بعد ان ولو کثیرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
گذشتہ سے پیوستہ :
گزشتہ آیات میں منکرین قیامت کو وعید سنائی گئی تھی کہ قیامت کے روز مجرمین کو دوزخ خود اپنی طرف پکارے گی ۔ جو دنیا میں احکام الہٰی سے پشت پھیرتے تھے۔ ردگردانی کرتے تھے مال سمیٹ سمیٹ کر رکھتے تھے ۔ خرچ کرنے میں بخل کرتے تھے۔ حلال و حرام میں تمیز نہیں کرتے تھے انہیں دوزخ چن چن کر اپنے اندر داخل کرے گی۔ انسان کے پیدائشی طور پر حریص اور بےصر اہونے کا ذکر کیا ۔ یعنی جب اسے شرپہنچتا ہے تو بےصبری کا اظہار کرتا ہے۔ اور جب اسے خیر پہنچتی ہے تو بخل کرتا ہے۔ البتہ اس سے وہ لوگ متثنیٰ ہیں جن میں آٹھ صفات پائی جاتی ہیں۔ یعنی نماز میں مدادمت اختیار کرتا ہے۔ البتہ اس سے وہ لوگ متثنیٰ ہیں جن…
Read the full tafseer →عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِيْنَ 37
يمین ( دائیں طرف)
اليَمِينُ : أصله الجارحة، واستعماله في وصف اللہ تعالیٰ في قوله : وَالسَّماواتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ
[ الزمر/ 67] علی حدّ استعمال الید فيه، و تخصیص اليَمِينِ في هذا المکان، والأرض بالقبضة حيث قال جلّ ذكره : وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 67] يختصّ بما بعد هذا الکتاب . وقوله :إِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَأْتُونَنا عَنِ الْيَمِينِ [ الصافات/ 28] أي : عن الناحية التي کان منها الحقّ ، فتصرفوننا عنها، وقوله : لَأَخَذْنا مِنْهُ بِالْيَمِينِ [ الحاقة/ 45] أي : منعناه ودفعناه . فعبّر عن ذلک الأخذ باليَمِينِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
ترکیب : مھطعیں المھطع المسرع وقیل المادعنقہ ھو حال من الذین کفروا قبلک حولک معمول محطعین عزین جمع عزۃ وھی العصتبہ من الناس وقیل اصلھا عزوۃ من العزوکان کل فرقہ تعتزی ای تنسب الی غیرمن تعتزی الیہ الاخری فی الصحاح العزۃ الفرقۃ من الناس والھاء عوض عن الیاء والجمع عزی وعزون عن تتعلق بعزین ویجوزان تکون حالان یدخل الجملۃ مفعول بطمع انا لقادردن جواب القسم وما نحن اماجواب آخر للقسم اوحال عن القادرون یخوضوا ویلعبوا مجزومان علیٰ انھما جواب الامریوم بدل من یوتھم سراعاجمع سریع والاجداث جمع جدث وھوا لقبرھو حال من فاعل یخرجون وکذا کانھم نصب عندالجمہور بفتح النون و سکون الصاد بمعنی العلم وقریٔ بضم النون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
فَمَالِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا قِبَلَکَ مُھْطِعِیْنَ ۔ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ ۔ (المعارج : 36، 37)
(تو ان کافروں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ آپ کی طرف دوڑے چلے آرہے ہیں۔ دہنے اور بائیں سے گروہ در گروہ۔ )
مشکل الفاظ :۔ مُھْطِعِیْنَ … ا ہطاع مصدر ہے، اس کے معنی ہیں کسی طرف تیزی سے بڑھنا اور لپکنا۔
عِزِیْنَ … عِزَۃٌ کی جمع ہے، اس کے معنی گروہ کے ہیں۔
قرآن کی دعوت اور تلاوت کے وقت کفار کا طرزعمل
نبی کریم ﷺ جب لوگوں کے سامنے قرآن کی دعوت پیش کرتے اور پیغمبرانہ لب و لہجہ میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے تو چونکہ اس کلام کی تاثیر اور تسخیر بےپناہ تھی تو قریش کے وہ لوگ جو اس دعوت کو روکنے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
فہم القرآن
ربط کلام : ایمانداروں کو جنت کی خوشخبری سنانے پر کفار کا رد عمل۔
مکی دور میں اسلام کے مخالفوں کا یہ خیال بلکہ یقین تھا کہ نبی ﷺ کی دعوت قبولیت عامہ نہیں پاسکے گی۔ اسی بنا پر اسلام اور مسلمانوں کو اپنے سے حقیر جانتے اور ان الفاظ کے ساتھ نبی ﷺ اور مسلمانوں کو مذاق کیا کرتے تھے۔
” جب یہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کا مذاق اڑاتے ہیں ہاں یہ شخص ہے جسے ” اللہ “ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ “ (الفرقان : 41)
(وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْ بَیْنِنَا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بالشّٰکِرِیْنَ ) (الانعام : 53)
” اور اسی طرح ہم…
Read the full tafseer →37 : عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ (دائیں اور بائیں سے) آپ کے دائیں اور بائیں سے عِزِیْنَ (مختلف جماعتیں بن کر) یہ عزۃ کی جمع یا اس کا اصل عزوۃٌ ہے ہر گروہ اپنی الگ الگ متفرق نسبت کرتا ہے۔
نحو : یہ حال ہے۔
Read the full tafseer →36 ۔” فمال الذین کفروا “ یعنی ان لوگوں کا کیا حال ہے جنہوں نے کفر کیا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” فمالھم عن التذکرۃ معرضین “…” قبلک مھطعین “ دوڑانے والے تیری طرف متوجہ ہونے والے اپنی گردنیں کھینچنے والے اور تیری طرف نگاہ ٹکانے والے تیری طرف جھانکنے والے۔ یہ کفار کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہے وہ نبی کریم ﷺ کے ارد گرد جمع ہوجاتے تھے آپ (علیہ السلام) کی کلام کو سنتے تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ استہزاء کرتے تھے اور آپ (علیہ السلام) کو جھٹلاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کو کیا ہوگیا ہے آپ کی طرف دیکھتے ہیں اور آپ ﷺ کے پاس بیٹھتے ہیں اور جو سنتے ہیں اس سے نفع نہیں اٹھاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
36۔ 44۔ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتیں سن کر آنحضرت ﷺ کے دائیں بائیں ہو کر نکل جاتے تھے ‘ اور قرآن شریف کی پوری نصیحت سننے سے کتراتے تھے اور آپس میں یہ باتیں کرتے تھے کہ یہ ساری نصیحت اس لئے ہے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں گے اور اس نئی زندگی میں میوے کھانے کو باغ میں گے۔ پھر کہتے تھے اگر یہ بات سچ ہے تو جس طرح بہ نسبت ان مسلمانوں کے دنیا میں ہم راحت و آرام سے ہیں اسی طرح ان سے پہلے ہم کو ہی وہ باغ ملیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جنت کچھ ان کے بڑے بوڑھوں کے بنائے ہوئے باغ نہیں ہیں کہ بغیر مرضی اللہ تعالیٰ کے یہ ان باغوں میں گھس جائیں گے۔ نہیں یہ خال ان کا بالکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
اللہ تبارک وتعالی کفار کی فریب خوردگی بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے (فمال الذین کفروا قبلک مھطعین) ۔ پس ان کافروں کو کیا ہوا کہ تمہاری طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔ یعنی بڑی سرعت سے (عن الیمین وعن الشمال عزین) ۔ دائیں بائیں سے گروہ گروہ ہو کر۔ یعنی متفرق گروہوں اور مختلف جماعتوں میں سے ہر ایک کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی پر خوش ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
قول باری ہے (للسائل والمحروم سائل اور محروم کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سوال کرنے والے کو سائل کہتے ہیں اور محروم وہ شخص ہے جسے کسی تجارت میں کامیابی نہ ہوتی ہو۔ ابوقلابہ کا قول ہے کہ محروم وہ شخص جس کا مال چلا جائے۔ حسن بن محمد کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا، اسے مال غنیمت حاصل ہوا، اس کے بعد کچھ دوسرے لوگ بھی آگئے اور یہ آیت نازل ہوئی (فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے)
حضرت انس ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان المحروم من حرم وصیتہ بیشک محروم وہ شخص ہے جسے اس چیز سے محروم رکھا جائے جس کی اس کے لئے وصیت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
32 ۔ کفار کے حال پر اظہار تعجب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر کیا ہوگیا ان کافروں کو جو دوڑے چلے آرہے ہیں آپ کی طرف گروہ در گروہ ہو کر اے پیغمبر، مذاق و استہزاء کے لیے اور یہ لوگ کان نہیں دھرتے اس ہدایت پر جو آپ ان کو ارشاد فرما رہے ہیں، جیسا کہ دوسری جگہ سورة مدثر آیت 49 ت ا 51 پ 29 میں فرمایا گیا فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ ۔ (المراغی وغیرہ) قرآن حکیم کا یہ فیصلہ سن کر کفار قریش کے تن بدن میں آگ لگ جاتی کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ محمد اور ان کے نادار و مفلوک الحال ساتھی تو جنت میں براجمان ہوں اور وقت کی سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–44
نیک لوگوں کی صفات
تشریح : ایک اچھے پکے اور صالح جنت کے حقدار کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ کافی دفعہ وضاحت سے پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں یہاں پھر مختصراً بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان فطرتاً کمزور طبیعت یعنی غلطیوں کا پتلا سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ہے ہی۔ مگر اس کی اصلاح کے لئے ہی تو قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ تو جو شخص اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتا ہے تو وہی بہادر انسان ہے وہ خود کو شیطان کے چنگل سے نکال کر بندگانِ الٰہی میں شامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عمل بہت ضروری ہے۔ اگر زبانی ایمان لے آنا کافی ہوتا تو پھر منافق دوزخ کے نچلے درجے میں کیوں ڈالے جاتے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–44
آیات 36 تا 44۔
اسرار ومعارف۔
اور ان کفار کو کیا ہوا ہے کہ بجائے تصدیق کرنے ہر طرف سے آپ پر یلغار کرتے ہیں کہ آپ کے ارشادات کی تکذیب کرتے ہیں اور اعتراض کے ساتھ مذاق اڑائیں اس پر طرفہ یہ کہ ہر قوم آخرت میں اپنے لیے نجات کی امید رکھتی ہے لہذا مغرب ومشرق کے یہود ہنود ہوں یانصاری وغیرہ سب اپنے لیے جنت کا دعوی بھی رکھتے ہیں جو یکسر باطل ہے ایسا ہرگز نہ ہوسکے گا بلکہ اطاعت محمد کے علاوہ اب نجات کا کوئی راستہ نہیں اور جو لوگ سرے سے کوئی مذہب نہیں رکھتے انہیں بھی دیکھ لیناچاہیے کہ کس طرح ایک قطرہ منی سے ہم نے انہیں باکمال خوبصورت صحت مند انسان بنادیا اور یہ مشارق ومغارب کے نظام جو ہر لحظہ سے بیشمار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ف 7 یعنی ان کے جھنڈ کے جھنڈ آپ کی مجلس میں آ کر بٹھتے اور آپ کی زبان مبارک سے قرآن کی آیتیں سنتے ہیں لیکن آپ کی کسی نصیحت پر عمل نہیں کرتے بلکہ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کیا اس پر بھی ان میں سے ہر شخص یہ امید رکھتا ہے کہ وہ جنت میں داخل کیا جائے گا ؟… مفسرین کہتے ہیں کہ مشرکین مکہ کہا کرتیت ہے کہ اگر مسلمان جنت میں جائیں گے تو ہم ان سے پہلے جنت میں پہنچیں گے۔ ان کے اسی زعم باطل کی اس آیت میں تردید فرمائی گئی ہے۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →(70:37) عن الیمین وعن الشمال عزین جمع عزۃ کی (بحالت نصب) الگ الگ ٹولے۔
قاموس میں ہے :۔ عزۃ بروزن عدۃ آدمیوں کا گروہ۔ عزون جمع (بحالت رفع)
عزین کا نصب بوجہ الذین کفروا سے حال ہونے کے ہے۔ رن الیمین وعن الشمال متعلق بہ مھطعین۔ یعنی کوئی گروہ دائیں سے چلا آرہا ہے اور کوئی گروہ بائیں سے چلا آ رہا ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
لغات القرآن، ۔
مھطعین۔ وہ دوڑتے آتے ہیں۔ عزین۔ گروہ در گروہ۔ الاجداث۔ قبریں۔ نسب۔ نشانیاں لگی ہوئی چیز۔ یوفضون۔ دودوڑتے ہیں۔
تشریح : زیر مطالعہ آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ انسان اگرچہ کم ہمت پیدا کیا گیا ہے یعنی تمام تر عظمتوں کے باوجود اس میں کچھ فطری کمزوریاں موجود ہیں لیکن اگر ایمان اور عمل صالح کے ساتھ زندگی گزاری جائے تو پھر اس کی نیکیاں اور اللہ و رسول کی اطاعت و فرماں برداری اس کو جنت کی ابدی راحتوں کا مستحق بنا دیتی ہیں۔
کفار مکہ کا یہ حال تھا کہ جب نبی کریم ﷺ ان کے سامنے اللہ کا دین پیش کرکے ان کو گمراہی سے ہدایت کی طرف آنے کی دعوت دیتے یا جب آپ تلاوت کلام پاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
بت پرستی کا انجام۔
(ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتیں سن کر نبی ﷺ کے دائیں بائیں ہوکر نکل جاتے تھے اور قرآن شریف کی پوری نصیحت سننے سے کنیاتے تھے اور آپس میں یہ باتیں کرتے تھے کہ یہ ساری نصیحت اس لیے ہے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں گے اور اس نئی زندگی میں میوہ کھانے کو باغ ملیں گے پھر کہتے تھے کہ اگر یہ بات سچ ہے تو جس طرح بہ نسبت ان مسلمانوں کے دنیا میں ہم راحت و آرام سے ہیں اسی طرح ان پہلے ہم کو بھی وہ باغ ملیں گے اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جنت کچھ انکے بڑے بوڑھوں کے بنائے ہوئے باغ نہیں کہ بغیر مرضی اللہ کے یہ ان باغوں میں گھس جائیں گے نہیں یہ خیال ان کا بالکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
[8] یہ سن کر نبی ﷺ کے نادار و مفلوک الحال ساتھی تو جنت میں براجمان ہوں گے اور عزت و جاہ کے حامل قریش مکہ دوزخ کا ایندھن بنیں گے، کفار مکہ کے تن بدن میں آگ لگ جاتی اور وہ گروہ در گروہ
آوازے پر آوازے کسنے کے لئے آپ پر پل پڑتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
مالداروں کی ذہنیت
1: کہ ان لوگوں کو اپنے مال اور اپنی دولت پر بڑا ناز ہے ۔ اور ان کی رائے میں چونکہ یہ دنیا کی نعمتوں سے بہرہ ور ہیں ۔ اس لئے ضروری ہے ۔ کہ عالم آخرت میں بھی ان کا تفوق غربا پر قائم رہے ۔ اور وہاں بھی جنت کی تمام مسرتوں سے استفادہ کرنے کا انہیں حق حاصل ہو ۔ حالانہ یہ قطعاً اس پاک جگہ میں جانے کی استعداد نہیں رکھتے ۔ اور مال دولت چاندی سونے کے ذخائر کو یہ لوگ کیوں اتنی اہمیت دیتے ہیں ۔ کہ اس کی وجہ سے اپنے کو افضل سمجھتے ہیں ۔ اور غریب مسلمانوں کو اپنی نظروں میں حقیر جانتے ہیں ۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ ان چیزوں سے کہیں یہ اپنی فطرت کو بدل سکتے ہیں ؟ کیا یہ وہی نہیں ہے ۔ جن کو…
Read the full tafseer →(37) دائیں سے بھی اور بائیں سے بھی گروہ درگروہ بن کر۔ مطلب یہ ہے کہ ان کافروں کو کیا ہوگیا ہے کہ بجائے قرآن پر ایمان لانے اور قرآن کی تصدیق کرنے کے آپ کے پاس جماعتیں بن بن کر دائیں اور بائیں سے آپ کی جانب چلے آتے ہیں اور قرآن کی تکذیب کرتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر قیامت کا دن آیا اور بغرض محال قرآن جو کچھ کہتا ہے اس کا وقوع بھی ہوا تو ہم وہاں بھی مزے کریں گے جس طرح دنیا میں ہمارے لئے عیس ہے اور ہم اپنی قسمت میں راحت اور نعمت لکھوا کر لائے ہیں اسی طرح وہاں جاکر بھی یہ جنت اور جنت کی نعمتیں ہمارے لئے ہوں گی۔
اس لئے قرآن کی یہ بات کہ وہاں کی نعمتیں صرف مسلمانوں کے لئے ہوں گی یہ بات غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
ف 1۔ یعنی چاہئے تو یہ تھا کہ ان مضامین کی تصدیق کرتے، لیکن یہ لوگ متفق ہو ہو کر آپ کے پاس اس غرض سے آتے ہیں کہ ان مضامین کی تکذیب اور ان کے ساتھ استہزاء کریں۔
Read the full tafseer →دائیں اور بائیں جانب سے گروہ در گروہ بیٹھ جاتے
37 ؎ (عزین) گروہ گروہ ، جماعت جماعت ، جوق جو ق۔ امام راغب اصفہانی رقم طراز ہیں کہ (عزین) کے معنی ہیں متفرق جماعتیں اور اس کا واحد ہے عزۃ اور یہ اصل میں عزوتہ فاعتزی سے ہے یعنی میں نے اس کی نسبت کی تو وہ منسوب ہوگیا گویا عزۃ وہ جماعت ہوئی کہ جس کا ایک فرد دوسرے کی طرف منسوب ہو دعوت میں یا ایک دوسرے کی پشت پناہی میں اور اسی سے ہے الا عتزاء فی الحرب یعنی جنگ میں اپنا انتساب بنانا کہ میں فلاں بن فلاں ہوں۔ اور بعض نے کہا ہے کہ عزین عزا عزاء فھو عز سے نکلا ہے جس کے معنی بتکلف صبر کرنے اور دوسرے کو اس حال میں دیکھ کر تسلی پانے کے ہیں گویا عزۃ اس جماعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ (...and those who are upright in their testimonies, [ 70:33] '. The word shahadat is the plural of shahadah. The use of plural number in this verse too indicates that there are many types and categories of 'testimony', and it is necessary to stand firm by one's testimony of any type. This includes testifying to the faith of Islam, Divine existence and His Oneness, and testifying that Sayyidna Muhammad ﷺ is His Final Messenger. It is obligatory to testify to the crescent of Ramadan, if one has seen it. Giving a true and accurate account of Shari'ah…
Read the full tafseer →24 This refers to those disbelievers who would rush in towards the Holy Prophet (upon whom be peace) from every side to mock and ridicule him when they heard him preach Islam and recite the Qur'an.
Read the full tafseer →