Al-Ma'aarij 70:35

Al-Ma'aarij · from ayah 35

70:35

اُولٰٓىِٕكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ ۟ؕ۠اُولٰٓئِكَ فِىۡ جَنّٰتٍ مُّكۡرَمُوۡنَؕ

یہی لوگ باغہائے بہشت میں عزت واکرام سے ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They will be in gardens, honored.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij

All translations of 70:35

یہ لوگ عزت کے ساتھ جنت کے باغوں میں رہیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہی لوگ باغہائے بہشت میں عزت واکرام سے ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہی لوگ جنتوں میں عزت والے ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ لوگ ہیں جو جنتوں میں عزت کے ساتھ رہیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ ہیں جن کا باغوں میں اعزاز ہوگا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہی لوگ ہیں جو جنتوں میں معزّز و مکرّم ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہی لوگ جنتوں میں عزت دیے جانے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہی لوگ عزت و احترام کے ساتھ جنتوں میں رہیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہی لوگ جنتوں میں، عزت کے ساتھ، رہنے والے ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سوا ایسے ہی لوگ ہیں جو نہایت عزت (و آرام) سے رہیں گے عظیم الشان جنتوں میں

— مولانا اسحاق مدنی

یہی لوگ بہشتوں میں عزت سے داخل ہوگے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہی لوگ ہیں جو جنتوں میں ہوں گے اور وہاں ان کا اعزازو اکرام ہوگا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہی لوگ بہشت کے باغوں میں عزت و اکرام سے ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

all these shall live honourably in the Gardens.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those will be honoured in gardens (of Jannah ) .

— Muhammad Taqi Usmani

Those will be honoured in gardens (of Jannah ) .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Such shall dwell in the Gardens, honored

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

These will dwell in Gardens, honoured.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They will be in gardens, honored.

— Saheeh International

such people will receive due honor in Paradise.

— Muhammad Sarwar

Those shall be in gardens, honored.

— Muhammad Habib Shakir

Those shall dwell in Gardens, honoured.

— Abdul Majid Daryabadi

Such will be the honoured ones in the Gardens (of Bliss).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 70:35

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–35

انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ یہ بڑا ہی بےصبرا ہے، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہوجاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بدترین چیز انسان میں بیحد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے (ابو داؤد) پھر فرمایا کہ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں وقتوں کی نگہبانی کرنے واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے سکون…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 34–36

سورة الْمَعَارِج 23 اس سے نماز کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جس بلند سیرت و کردار کے لوگ خدا کی جنت کے مستحق قرار دیے گئے ہیں، ان کی صفات کا ذکر نماز ہی سے شروع اور اسی پر ختم کیا گیا ہے۔ نمازی ہونا ان کی پہلی صفت ہے، نماز کا ہمیشہ پابند رہنا ان کی دوسری صفت، اور نماز کی حفاظت کرنا ان کی آخری صفت۔ نماز کی حفاظت سے بہت سی چیزیں مراد ہیں۔ وقت پر نماز ادا کرنا۔ نماز سے پہلے اطمینان کرلینا کہ جسم اور کپڑے پاک ہیں۔ باوضو ہونا اور وضو میں اعضاء کو اچھی طرح دھونا۔ ارکان اور واجبات اور مستحبات نماز کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنا۔ نماز کے آداب کو پوری طرح ملحوظ رکھنا۔ خدا کی نافرمانیاں کر کے اپنی نمازوں کو ضائع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–44

(آیت) وَالَّذِيْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَاۗىِٕمُوْنَ ، یہاں بھی لفظ شہادات کو بلفظ جمع لانے میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ شہادت کی بہت سی قسمیں ہیں اور ہر قسم شہادت کو قائم رکھنا واجب ہے۔ اس میں شہادت ایمان توحید و رسالت بھی داخل ہے۔ ہلال رمضان اور حدود شرعیہ کی شہادت بھی اور لوگوں کے باہمی معاملات جو کسی کے سامنے ہوئے ہوں ان کی شہادت بھی کہ ان شہادتوں کا چھپانا اور ان میں کمی بیشی کرنا حرام ہے ان کو صحیح صحیح قائم کرنا اس آیت کی رو سے فرض ہے۔ (از مظہری) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرمایا کہ یہ لوگ جو مذکورہ اوصاف کے حامل ہوں گے جنت کے باغوں میں، عزت و اکرام کے ساتھ براجمان ہوں گے۔ قریش کے مغروروں کو تنبیہ: اس میں قریش کے ان مغروروں پر تعریض ہے جو اپنی موروثی سیادت کے پندار میں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی منظور نظر سمجھے بیٹھے تھے۔ ان کا زعم یہ تھا کہ آخرت ہوئی تو جس طرح اس دنیا میں وہ نعمتوں کے مستحق قرار پائے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی مدارج عالیہ کے مستحق ٹھہریں گے اور جو لوگ یہاں مفلوک الحال ہیں وہ وہاں بھی اسی طرح مفلوک الحال رہیں گے۔ ان لوگوں کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ جنت وراثت میں منتقل ہونے والی چیز نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق آدمی کے کردار و اعمال سے ہے۔ جو لوگ وہ کردار…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 33–36

33۔ 1 یعنی اسے صحیح صحیح ادا کرتے ہیں چاہے اس کی زد میں ان کے قریبی عزیز ہی آجائیں علاوہ ازیں اسے چھپاتے بھی نہیں، نہ اس میں تبدیلی ہی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 34–36

9: آیت نمبر 23 میں نماز کی پابندی کا ذکر ہے، اور یہاں اس کی پوری حفاظت سے مراد اس کے تمام آداب کی رعایت ہے۔ مسلمانوں کے انہی جیسے اوصاف سورة مومنون کی ابتدائی آیات میں بھی گذرے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب یہاں ان کا انجام بھی دیا جاتا ہے جبکہ دوسرے فریق کا انجام اس سے قبل بتادیا گیا تھا۔ اولئک ................ مکرمون (07 : 53) ” یہ لوگ عزت کے ساتھ جنت کے باغوں میں رہیں گے “۔ یہ مختصر ترین آیت حسی مزے اور معنوی مزے دونوں کو ایک جگہ جمع کردیتی ہے۔ یہ باغات میں ہوں گے اور باعزت طور پر ہوں گے۔ یوں لذت بھی پائیں گے اور عزت بھی پائیں گے۔ اور یہ ان کے ایمان ایقان اور نیکی کی وجہ سے ، ان کا امتیاز ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 جنتیوں کی یہ آٹھ صفتیں ہوئیں جن کو نماز سے شروع ہی پر ختم کیا گیا ہے۔ تامعلوم ہو کہ نماز اللہ کے ہاں کس قدر مہتم بالشان عبادت ہے جس میں یہ صفات ہوں گی وہ " ہلوع " (کچے دل کا) نہ ہوگا بلکہ عزم وہمت والا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 33–36

آیت 33{ وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِشَہٰدٰتِہِمْ قَآئِمُوْنَ۔ } ”اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔“ دراصل گواہی بھی ایک امانت ہے اور جو شخص غلط گواہی دیتا ہے یا گواہی کو چھپا لیتا ہے وہ امانت میں خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ سورة البقرۃ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِط } آیت 140 ”اور کان کھول کر سن لو اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جس کے پاس اللہ کی طرف سے ایک گواہی تھی جسے اس نے چھپالیا ؟“ علمائے یہود کے پاس نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت کے بارے میں اللہ کی طرف سے گواہی تھی ‘ انہوں نے اس گواہی کو چھپا کر اللہ کی امانت میں خیانت کی۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 34–36

21 سورة مومنون کی ابتدا میں فلاح پانے والے ایمانداروں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ جو بہت حد تک انہی صفات سے ملتی جلتی ہیں جو یہاں بیان کی جارہی ہیں سورة مومنون میں ان صفات کی ابتدا بھی نماز سے ہوئی تھی اور انتہا بھی نماز پر ہی ہوئی۔ اور اس مقام پر بھی بعینہ وہی صورت ہے جس سے دین میں نماز کی اہمیت کا ٹھیک طور پر اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 33–35

13۔ محققین نے کہا ہے کہ اعمال حسنہ کی فہرست کو شروع بھی نماز کے ذکر سے کرنا اور ختم بھی اسی کرنا اس کی دلیل ہے کہ اعمال طاعت میں اولین وعظیم ترین اہمیت نماز ہی کو حاصل ہے۔ فافتح الکلام بذکرالصلوۃ واختتمہ بذکرھا فدل علی الاعتناء بھا والتنویہ بشرفھا (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–35

ان الانسان خلق ھلوعا، ھلوع کے لفظی معنی ہیں حریص، بےصبرا، کم ہمت، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ھلوع وہ شخص ہے جو کہ مال حرام کی حرص میں مبتلا ہو، یہاں یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ جب انسان کو پیدا ہی اس حال میں کیا گیا ہے تو پھر اس کا کیا قصور ؟ وہ مجرم کیوں قرار دیا گیا ؟ وجہ یہ ہے کہ مراد اس سے انسانی فطرت اور جبلت میں رکھی ہوئی استعداد اور مادہ ہے تو حق تعالیٰ نے انسان میں ہر خیر و شر کا مادہ اور استعداد بھی رکھی ہے اور شر و فساد کی بھی اور اس کو عقل و ہوش بھی عطا فرمائے ہیں اور اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ ہر ایک کا انجام بھی بتادیا، اب انسان کو اختیار ہے کہ دونوں قسم کی صلاحیتوں میں سے جس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 34–35

(34۔ 35) اور جو اپنی پانچوں نمازوں کے اوقات کی حفاظت کرتے ہیں، ان خوبیوں کے مالک باغوں میں ثواب و عزت کے ساتھ داخل ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اولئک فی جنت مکرمون : یہی لوگ ہیں جو تھڑدلی ، بےصبر اور شدید بخل سے محفوظ ہیں اور انھی کو جنتوں میں عزت عطا ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 34–35

والذین ھم علی صلاتھم یحافظون۔ قتادہ نے کہا، علی صلاتھم سے مراد نماز کے وضو، اس کے رکوع اور اس کے سجدہ کی محخافظت کرتے ہیں۔ ابن جریج نے کہا، مراد نفلی نماز ہے۔ سورة مومنون میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ دوام مخافظت کے خلاف ہے اس پر ان کے دوام کا مطلب ہے کہ وہ اس کی ادائیگی پر محافظت کرتے ہیں اس میں کوئی نقص واقع نہیں کرتے اور اس کی ادائیگی میں غفلت کر کے کسی اور شغل میں مصروف نہیں ہوتے۔ اس پر محافظت کا مطلب ہے اس کا وضو اچھی طرح کرتے ہیں، وقت پر نماز ادا کرتے ہیں، اس کے ارکان کو قائم کرتے ہیں اور اس کی سنتوں اور آداب کو مکمل کرتے ہیں اور اس کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں۔ ضائع ہونے کی صورت یہ ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–35

19۔ عبد بن حمید نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین فی اموالہم حق معلوم اور وہ جن کے مالوں میں حصہ معین ہے یعنی وہ لوگ جو اپنے مالوں سے اس وقت دیتے ہیں جب عطیات نکالے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اُولٰۗىِٕكَ فِيْ جَنّٰتٍ : وہ لوگ باغوں میں ][ مُّكْرَمُوْنَ : عزت دیئے ہوئے ہوں گے ] (آیت۔ 35) جنت حالت جر میں ہے۔ مُکْرَمُوْنَ اگر جَنّٰتٍ کی صفت ہوتا تو صیغہ مؤنث کا ہوتا اور حالت نصب میں ہوتا لیکن یہ حالت رفع میں آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ اُولٰگکَ کی خبر ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آخر میں فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ فِيْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ 2ؕ 0035﴾ مومنین کے اوصاف بیان فرمانے کے بعد ان کی جزا بیان فرما دی کہ وہ موت کے بعد بہشتوں میں باعزت رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–35

مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 32–35

10:۔ ” والذین ھم لاماناتہم وعھدھم راعون “ وہ امانتوں کی حفاظت اور عہد و پیمان کو پورا کرتے ہیں۔ یعنی ظلم نہیں کرتے اور وہ اپنی شہادتیں پوری پوری ادا کرتے ہیں اور گواہی میں کمی بیشی اور ہیرپھیر نہیں کرتے اور وہ نمازوں کی پوری پوری حفاظت کرتے ہیں۔ اولئک فی جنت مکرمون۔ یہ الا بمعنی لکن کی خبر ہے۔ ان صفتوں سے متصف اللہ کے مقبول بندے جنت کے باغوں میں نہایت عزت و شان سے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–35

گذشتہ سے پیوستہ : اس سے پہلے درس میں ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا انکار کرنے والوں کی تردید بیان کی اور قیامت کے وقوع اور مجرمین کی سزا کا حال بیان کیا یہ بھی بتایا کہ قیامت کے دن مجرمین تمنا کریں گے کہ کسی طرح ان کی جان بچ جائے ۔ فرمایا ان کی طرف سے کسی قسم کا فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ جہنم ان کو پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی جس میں سزا پائیں گے۔ اس کے بعد عام انسانوں کی حرص اور بےصبری کا ذکر فرمایا۔ یہ بھی بان کیا کہ عام طور پر انسان کی حالت یہ ہے کہ جب اسے خیر پہنچتی ہے۔ تو بخیل بن جاتا ہے۔ اور جب شر پہنچتا ہے تو بےصبری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ البتہ ان لوگوں کو اس گروہ میں مستثنیٰ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اُولٰۗىِٕكَ فِيْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ۝ 35 ۭ ۧ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–35

ترکیب : ھلوعا حال مقدرۃ من الانسان الھلع اشد الحرص یقال ھلع الرجل یھلع ھلعا وھلا عا فھو ھالع دھلوع وکذاجزوعاد منوعا حالان و اذالاولیٰ ظرف لجز وعا والاخریٰ لمنوعا الا المصلین استثناء من الجنس والمستثنیٰ منہ الانسان وھو جنس فی جنات ظرف لمکرومون۔ تفسیر : اور یہ مال جمع کرنا اور کنجوسی کرنا اس لیے ہے کہ ان الانسان خلق ھلوعا۔ انسان (بعض کہتے ہیں اس سے مراد کفار ہیں) فطرتی طور پر لالچی اور بےصبر پیدا ہوا ہے۔ اس کمبخت کی دور اندیشی اور اس کی زیرکی (جو خداوند عالم کی طرف سے بہ نسبت اور حیوانات کے زیادہ ملی تھی) اس کو بخل اور لالچ پر آمادہ کرتی ہے اور بڑے بڑے خیالات اور امیدیں بندھاتی ہے کہ سینکڑوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اُوْلٰٓئِکَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّکْرَمُوْنَ ۔ (المعارج : 35) (یہی لوگ جنتوں میں عزت کے ساتھ رہنے والے ہوں گے۔ ) مذکورہ اوصاف کے حاملین کا انعام یہ لوگ جو مذکورہ اوصاف کے حامل ہوں گے، اس قابل ہیں کہ انھیں جنتوں میں نہایت عزت و احترام سے رکھا جائے۔ اس سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لاچکے تھے اور ان میں سے ہر ایک ان ہی صفات کا پیکر تھا۔ البتہ ان میں سے ہر ایک غربت کی تصویر بھی تھا۔ کیونکہ اولاً تو نبوت کی روایت کے مطابق ہر نبی پر وہ لوگ ایمان لانے میں پہل کرتے ہیں جو اس دور کے ستائے ہوئے اور مفلوک الحال لوگ ہوتے ہیں۔ انھیں جب معاشرے کے مظالم سے نکلنے کا ایک راستہ نظر آتا ہے اور اپنی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–35

فہم القرآن ربط کلام : جہنم سے بچنے والوں کے مزید اوصاف کا تذکرہ۔ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے بچائے گا اور انہیں جنت میں داخل فرمائے گا ان میں مذکورہ بالا اوصاف کے ساتھ یہ وصف بھی پائیں جائیں گے کہ وہ اپنی امانتوں اور وعدوں کی پاسداری کرنے والے ہوں گے، وہ شہادتِ حق پر قائم رہتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، انہیں جنت میں عزت واحترام کے ساتھ رکھا جائے گا۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے مفصل مضامین کو چند الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ جنتی لوگ دنیا میں اپنی امانتوں کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں : مومنوں کے اوصاف میں یہ صفت بھی شامل ہوتی ہے کہ وہ امانت کی حفاظت اور عہد کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

35 : اُولٰٓپکَ (ایسے لوگ) جو ان صفات سے متصف ہوں۔ فِیْ جَنّٰتٍ مُّکْرَمُوْنَ (بہشتوں میں عزت سے داخل ہونگے ) نحو : اولئک مبتدأ اور باقی دونوں خبریں ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–35

19۔ 35۔ شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے کافروں اور ایمان دار لوگوں کی نشانیاں مقابلہ کے طور پر بیان فرمائی ہیں مثلاً کافروں کی نشانی یہ ذکر فرمائی کہ وہ لوگ عذاب آخرت اور قیامت کے منکر ہیں اس لئے از خود عذاب الٰہی کی خواہشیں کرتے ہیں اور ایمان دار لوگوں کی یہ نشانی ہے کہ قیامت اور عذاب آخرت کا ان کے دل میں پورا یقین ہے اس واسطے عذاب الٰہی کا ہر وقت ان کے جی میں ایک خوف رہتا ہے کافروں کی یہ نشانی ہے کہ بدکاری کو کچھ عیب نہیں جانتے ایمان دار اس کے برخلاف ہیں اسی طرح کافروں کی یہ نشانی ہے کہ مال جمع کرکے رکھتے ہیں اور محتاجوں کو کوڑی نہیں دیتے اور ایمان داروں کی یہ نشانی ہے کہ ان کے مال میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اولئک) یعنی جو لوگ ان صفات سے موصوف ہیں وہ (فی جنت مکرمون) ۔ جنتوں میں عزت والے ہوں گے، یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اکرام و تکریم اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے نوازے گا جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی اور وہ ان نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل سعادت وخیر کو اوصاف کاملہ، اخلاق فاضلہ سے موصوف کیا ہے، یعنی عبادت بدنیہ، مثلا نماز اور اس پر مداومت، اعمال قلبیہ، مثلا، خشیت الٰہی جو ہر بھلائی کو دعوت دیتی ہے، عبادت مالیہ، عقائد نافعی، اخلاق فاضلہ، اللہ سے معاملہ، اللہ کی مخلوق سے بہترین معاملہ، یعنی ان کے ساتھ انصاف کرنا، ان کے حقوق…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–44

قول باری ہے (للسائل والمحروم سائل اور محروم کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سوال کرنے والے کو سائل کہتے ہیں اور محروم وہ شخص ہے جسے کسی تجارت میں کامیابی نہ ہوتی ہو۔ ابوقلابہ کا قول ہے کہ محروم وہ شخص جس کا مال چلا جائے۔ حسن بن محمد کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا، اسے مال غنیمت حاصل ہوا، اس کے بعد کچھ دوسرے لوگ بھی آگئے اور یہ آیت نازل ہوئی (فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے) حضرت انس ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان المحروم من حرم وصیتہ بیشک محروم وہ شخص ہے جسے اس چیز سے محروم رکھا جائے جس کی اس کے لئے وصیت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

31 ۔ سچے عزت داروں اور ان کے انعام کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے ہی لوگ عزت سے رہیں گے، عظیم الشان جنتوں میں، پس سچی عزت سے سرفرازی انہی کو نصیب ہوگی اور ان کی یہ عزت افزائی حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے بھی ہوگی، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا سَلٰمٌ ۣ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ (یسین 58 پ 23) اور فرشتوں کی طرف سے بھی ان کے لیے ایسی عزت و کرامت کا اظہار ہوگا جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–44

نیک لوگوں کی صفات تشریح : ایک اچھے پکے اور صالح جنت کے حقدار کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ کافی دفعہ وضاحت سے پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں یہاں پھر مختصراً بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان فطرتاً کمزور طبیعت یعنی غلطیوں کا پتلا سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ہے ہی۔ مگر اس کی اصلاح کے لئے ہی تو قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ تو جو شخص اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتا ہے تو وہی بہادر انسان ہے وہ خود کو شیطان کے چنگل سے نکال کر بندگانِ الٰہی میں شامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عمل بہت ضروری ہے۔ اگر زبانی ایمان لے آنا کافی ہوتا تو پھر منافق دوزخ کے نچلے درجے میں کیوں ڈالے جاتے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 35–44

آیات 36 تا 44۔ اسرار ومعارف۔ اور ان کفار کو کیا ہوا ہے کہ بجائے تصدیق کرنے ہر طرف سے آپ پر یلغار کرتے ہیں کہ آپ کے ارشادات کی تکذیب کرتے ہیں اور اعتراض کے ساتھ مذاق اڑائیں اس پر طرفہ یہ کہ ہر قوم آخرت میں اپنے لیے نجات کی امید رکھتی ہے لہذا مغرب ومشرق کے یہود ہنود ہوں یانصاری وغیرہ سب اپنے لیے جنت کا دعوی بھی رکھتے ہیں جو یکسر باطل ہے ایسا ہرگز نہ ہوسکے گا بلکہ اطاعت محمد کے علاوہ اب نجات کا کوئی راستہ نہیں اور جو لوگ سرے سے کوئی مذہب نہیں رکھتے انہیں بھی دیکھ لیناچاہیے کہ کس طرح ایک قطرہ منی سے ہم نے انہیں باکمال خوبصورت صحت مند انسان بنادیا اور یہ مشارق ومغارب کے نظام جو ہر لحظہ سے بیشمار…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(70:35) اولئک فی جنت مکرمون : اولیک اسم اشارہ جمع مذکر، مراد موصوفین اول تا ہشتم ، مذکورہ بالا جو الانسان الہلوع سے مستثنیٰ ہیں۔ فی جنت مکرمون ۔ ھما خبران۔ یہ دونوں اولئک کی خبریں ہیں۔ (مدارک) یہی لوگ باغہائے بہشت میں عزت و اکرام سے ہوں گے۔ مکرمون اکرام (افعال) مصدر سے اسم مفعول (بحالت رفع) جمع مذکر کا صیغہ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–35

لغات القرآن۔ ھلوعا۔ بزدل۔ ڈرپوک۔ جزوعا۔ گھبرا جانے والا۔ منوعا۔ ہاتھ روک لینے والا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آدمی کو بڑی عظمتوں اور زبردست صلاحیتوں سے نواز ہے وہ جب کائنات میں آگے بڑھتا ہے تو خشکی، تری اور فضاؤں پر حکمرانی کرنے لگتا ہے لیکن اس کی تخلیق اور فطرت میں کچھ کمزوریاں بھی رکھ دی گئی ہیں۔ اگر وہ ان کمزوریوں پر قابو پا لے تو پھر وہ دنیا میں سربلند اور آخرت کی نجات کا مستحق بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ آدمی اپنے بےانتہا صلاحیتوں کے باوجود بہت بےصبرا، کم ہمت اور تنگ دل واقع ہوا ہے۔ اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور جب اس کو خیر اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–35

(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ وہ ہیں جو امانت اور اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں اور حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ منافق لوگوں کی نشانی یہ ہے کہ امانت میں خیانت کرتے ہیں اور جب وعدہ یا کوئی عہدوپیمان کرتے ہیں تو اس کو پورا نہیں کرتے ، ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ جو گواہی دیتے ہیں سچی دیتے ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے نبی نے فرمایا کہ منافق لوگ ہر بات میں جھوٹ سے باز نہیں آتے، اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ایماندار لوگوں کی نماز کی دونشانیاں ذکر فرمائی ہیں۔ (1) ایک تو یہ کہ وہ لوگ سلسلہ وار ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں یہ نہیں کہ گنڈے دار نماز پڑھتے ہوں کہ کبھی پڑھی اور کبھی چھوڑ دی۔ (2) دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–36

[7] یعنی روز جزا کا یقین رکھتے ہیں اور یہ بنیادی عقیدہ ان کے تمام نیک اعمال کا محرک ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–35

نمازی کی سیرت 2: قرآن حکیم یہ خوبی شان امتیاز رکھتی ہے ۔ کہ اس میں حقائق نفسیات کا بھی مذکر ہے ۔ یعنی اس کتاب علم ومعرفت میں یہ بھی بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی فطرت کیا ہے ؟ فرمایا ۔ اس میں ایک ہم گیر عیب یہ ہے ۔ کہ یہ کم ہمت اور بےصبر ہے ۔ اگر اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو بلبلا اٹھتا ہے ۔ اور نالہ وشیون سے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے ۔ اور جہاں بیٹھتا ہے اسی بات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ کہ میں بہت مصیبت زدہ ہوں ۔ مجھ کو فلک ستم شیوہ نے بہت دکھ پہنچایا ہے ۔ اور اگر برے دن پھرجائیں اور آسودہ حال ہوجائے ۔ تو پھر انتہا درجے کا بخیل اور ممسک ہوجاتا ہے ۔ پائی پائی کو گنتا ہے ۔ اور پیسے پیسے کا حساب رکھتا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(35) یہ سب وہ لوگ ہیں جو عزت و احترام کے ساتھ بہشتوں کے باغوں میں داخل ہوں گے۔ یعنی انسانی جبلت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی اصلاح نہ ہو اور کوئی صحیح رہنمائی نہ ہو تو انسان حریص بھی ہوگا اور بخیل و کم ہمت بھی۔ ھلوع کی جو تفسیر بقول ابن عباس ؓ قرآن نے بیان کی ہے وہ ہی ہلوع کے معنی ہیں یعنی تکلیف کے وقت حد شرعی سے زیادہ گھبرانا اور جب بھلائی اور فارغ البالی ہو تو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو تلف کرنا اور ادا کرنا ۔ محروم ہدایت جو لوگ ہیں وہ ہمیشہ اسی پر رہتے ہیں مگر وہ انسان جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے ہدایت قبول کرتے اور فیض پاتے ہیں وہ ایسے ہلوع اور جزوع نہیں ہوتے وہ لوگ جو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 23–36

ف 9۔ یعنی نماز میں ظاہرا یا باطنا دوسری طرف توجہ نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہی وہ لوگ ہیں جو جنت میں عشرت سے رہیں گے 35 ؎ اوپر جو خوبیاں گنوائی گئی ہیں وہ لوگ جو ان خوبیوں سے آراستہ و پیراستہ ہیں بلاشبہ ان میں وہ فطری کمزوریاں باقی نہیں رہتیں جن کا پیچھے ذکر کیا گیا ہے یعنی آیت 19 سے آیت 21 تک اور ان کی وضاحت بھی ہم نے کردی ہے خواہ وہ کتنی مختصر ہے لیکن اگر کوئی شخص اس کو سمجھنے کی کوشش کرے تو وہ بہت کچھ سمجھ سکتا ہے۔ ایسے ہی لوگ ہیں کہ اگر یہ کسی معاشرہ میں اکٹھے ہوجائیں اور ان کی کثرت سے جو معاشرہ بنتا ہے بلاشبہ وہ اسلامی معاشرہ کہلاتا ہے اور اس معاشرہ میں رہ کر اسلامی زندگی کا جو لطف انسان اٹھا سکتا ہے وہ کسی دوسرے معاشرے میں ممکن ہی نہیں ہے اور پھر اسی معاشرہ کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–44

وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ (...and those who are upright in their testimonies, [ 70:33] '. The word shahadat is the plural of shahadah. The use of plural number in this verse too indicates that there are many types and categories of 'testimony', and it is necessary to stand firm by one's testimony of any type. This includes testifying to the faith of Islam, Divine existence and His Oneness, and testifying that Sayyidna Muhammad ﷺ is His Final Messenger. It is obligatory to testify to the crescent of Ramadan, if one has seen it. Giving a true and accurate account of Shari'ah…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–36

23 This gives an idea of the importance of the Prayer (salat) . The description of the merits of the high and sublime character of those who have been declared as worthy of Paradise, began with the Prayer and has been concluded with it. To be a performer of the Prayer is their first characteristic, to be steadfast and ever constant with regard to the Prayer is their second characteristic, and to guard their Prayer is their last characteristic. "Guarding the Prayer" implies many things: to perform the Prayer at its right time, to make sure before the Prayer that one's body and clothes are…

Read the full tafseer →