Al-Ma'aarij 70:34

Al-Ma'aarij · from ayah 34

70:34

وَالَّذِیْنَ هُمْ عَلٰی صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ ۟ؕوَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَؕ

اور جو اپنی نماز کی خبر رکھتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those who [carefully] maintain their prayer:

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij

All translations of 70:34

اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو اپنی نماز کی خبر رکھتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو اپنی نمازوں کی حفاﻇت کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو اپنی نماز کی پوری پوری حفاظت کرنے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو حفاظت کرتے ہیں اپنی نمازوں (کی ادائیگی اور پابندی) کی

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ اپنی نمازوں کی پابندی رکھتے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ لوگ کہ جو اپنی نماز کی محافظت کرتے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو اپنی نماز کو ہمیشہ پڑھتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

and who take due care of their Prayer:

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and those who take due care of their Salah .

— Muhammad Taqi Usmani

and those who take due care of their Salah .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who are with their Salah, Yuhafizun.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And those who are attentive at their worship.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those who [carefully] maintain their prayer:

— Saheeh International

and (finally) those who do not miss their ritual - prayers at the prescribed times;

— Muhammad Sarwar

And those who keep a guard on their prayer,

— Muhammad Habib Shakir

And those who of their prayer are observant.

— Abdul Majid Daryabadi

And those who guard (the sacredness) of their worship;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 70:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–35

انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ یہ بڑا ہی بےصبرا ہے، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہوجاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بدترین چیز انسان میں بیحد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے (ابو داؤد) پھر فرمایا کہ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں وقتوں کی نگہبانی کرنے واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے سکون…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 34–36

سورة الْمَعَارِج 23 اس سے نماز کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جس بلند سیرت و کردار کے لوگ خدا کی جنت کے مستحق قرار دیے گئے ہیں، ان کی صفات کا ذکر نماز ہی سے شروع اور اسی پر ختم کیا گیا ہے۔ نمازی ہونا ان کی پہلی صفت ہے، نماز کا ہمیشہ پابند رہنا ان کی دوسری صفت، اور نماز کی حفاظت کرنا ان کی آخری صفت۔ نماز کی حفاظت سے بہت سی چیزیں مراد ہیں۔ وقت پر نماز ادا کرنا۔ نماز سے پہلے اطمینان کرلینا کہ جسم اور کپڑے پاک ہیں۔ باوضو ہونا اور وضو میں اعضاء کو اچھی طرح دھونا۔ ارکان اور واجبات اور مستحبات نماز کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنا۔ نماز کے آداب کو پوری طرح ملحوظ رکھنا۔ خدا کی نافرمانیاں کر کے اپنی نمازوں کو ضائع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–44

(آیت) وَالَّذِيْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَاۗىِٕمُوْنَ ، یہاں بھی لفظ شہادات کو بلفظ جمع لانے میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ شہادت کی بہت سی قسمیں ہیں اور ہر قسم شہادت کو قائم رکھنا واجب ہے۔ اس میں شہادت ایمان توحید و رسالت بھی داخل ہے۔ ہلال رمضان اور حدود شرعیہ کی شہادت بھی اور لوگوں کے باہمی معاملات جو کسی کے سامنے ہوئے ہوں ان کی شہادت بھی کہ ان شہادتوں کا چھپانا اور ان میں کمی بیشی کرنا حرام ہے ان کو صحیح صحیح قائم کرنا اس آیت کی رو سے فرض ہے۔ (از مظہری) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نماز ہی دین کے لیے حصار ہے: اب یہ آخر میں نماز کا پھر ذکر فرمایا۔ آیات ۲۲-۲۳ میں نماز ہی سے ان صفات کے بیان کا آغاز فرمایا تھا اور اب اسی پر اس باب کو ختم کیا جس سے یہ بات بالبداہت نکلتی ہے کہ نماز ہی ان تمام نیکیوں کا منبع بھی اور وہی ان کی محافظ بھی ہے۔ گویا تمام دین و اخلاق کے لیے نماز کی حیثیت حصار کی ہے۔ جس نے اس حصار کو محفوظ رکھا وہ اپنے دین کو محفوظ رکھے گا اور جس نے اس حصار کو توڑ دیا وہ اپنے سارے دین کو ضائع کر بیٹھے گا۔ اس حقیقت کی وضاحت حضرت عمر فاروق ؓ نے یوں فرمائی ہے کہ ’جو نماز کو ضائع کر دے گا وہ باقی دین کو بدرجۂ اولیٰ ضائع کر بیٹھے گا‘۔ یہاں اس پہلو پر بھی نگاہ رہے کہ اوپر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 33–36

33۔ 1 یعنی اسے صحیح صحیح ادا کرتے ہیں چاہے اس کی زد میں ان کے قریبی عزیز ہی آجائیں علاوہ ازیں اسے چھپاتے بھی نہیں، نہ اس میں تبدیلی ہی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 34–36

9: آیت نمبر 23 میں نماز کی پابندی کا ذکر ہے، اور یہاں اس کی پوری حفاظت سے مراد اس کے تمام آداب کی رعایت ہے۔ مسلمانوں کے انہی جیسے اوصاف سورة مومنون کی ابتدائی آیات میں بھی گذرے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اور صفات مومنین کا آغاز بھی نماز سے اور خاتمہ بھی نماز سے۔ والذین .................... یحافظون (07 : 43) ” اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں “۔ صفات مومنین کے آغاز میں جو صفت بیان کی گئی تھی ، وہاں کہا تھا کہ وہ نماز پر دوام اختیار کرتے ہیں اور یہاں ذکر ہے کہ وہ نماز کی حفاظت کرتے ہیں یعنی نماز کے فرائض ، اس کے اوقات ، اس کے سنن ، اس کی ہیئت اور اس کی روح کی حفاظت کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ اسے مہمل طور پر اور سستی کرکے نہیں ادا کرتے۔ اور اسے یوں ضائع نہیں کرتے کہ صحیح طرح نہ پڑھیں اور آغاز و انجام دونوں جگہ نماز کا فکر کرکے یہ بتانا مقصود ہے کہ اسلام میں نماز کی بہت بڑی اہمیت ہے۔ اسی پر مومنین کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی نمازوں کے اوقات اور شروط و آداب کی خبر رکھتے ہیں اور اس کی صورت و حقیقت کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 33–36

آیت 33{ وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِشَہٰدٰتِہِمْ قَآئِمُوْنَ۔ } ”اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔“ دراصل گواہی بھی ایک امانت ہے اور جو شخص غلط گواہی دیتا ہے یا گواہی کو چھپا لیتا ہے وہ امانت میں خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ سورة البقرۃ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِط } آیت 140 ”اور کان کھول کر سن لو اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جس کے پاس اللہ کی طرف سے ایک گواہی تھی جسے اس نے چھپالیا ؟“ علمائے یہود کے پاس نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت کے بارے میں اللہ کی طرف سے گواہی تھی ‘ انہوں نے اس گواہی کو چھپا کر اللہ کی امانت میں خیانت کی۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 34–36

21 سورة مومنون کی ابتدا میں فلاح پانے والے ایمانداروں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ جو بہت حد تک انہی صفات سے ملتی جلتی ہیں جو یہاں بیان کی جارہی ہیں سورة مومنون میں ان صفات کی ابتدا بھی نماز سے ہوئی تھی اور انتہا بھی نماز پر ہی ہوئی۔ اور اس مقام پر بھی بعینہ وہی صورت ہے جس سے دین میں نماز کی اہمیت کا ٹھیک طور پر اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 33–35

13۔ محققین نے کہا ہے کہ اعمال حسنہ کی فہرست کو شروع بھی نماز کے ذکر سے کرنا اور ختم بھی اسی کرنا اس کی دلیل ہے کہ اعمال طاعت میں اولین وعظیم ترین اہمیت نماز ہی کو حاصل ہے۔ فافتح الکلام بذکرالصلوۃ واختتمہ بذکرھا فدل علی الاعتناء بھا والتنویہ بشرفھا (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–35

ان الانسان خلق ھلوعا، ھلوع کے لفظی معنی ہیں حریص، بےصبرا، کم ہمت، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ھلوع وہ شخص ہے جو کہ مال حرام کی حرص میں مبتلا ہو، یہاں یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ جب انسان کو پیدا ہی اس حال میں کیا گیا ہے تو پھر اس کا کیا قصور ؟ وہ مجرم کیوں قرار دیا گیا ؟ وجہ یہ ہے کہ مراد اس سے انسانی فطرت اور جبلت میں رکھی ہوئی استعداد اور مادہ ہے تو حق تعالیٰ نے انسان میں ہر خیر و شر کا مادہ اور استعداد بھی رکھی ہے اور شر و فساد کی بھی اور اس کو عقل و ہوش بھی عطا فرمائے ہیں اور اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ ہر ایک کا انجام بھی بتادیا، اب انسان کو اختیار ہے کہ دونوں قسم کی صلاحیتوں میں سے جس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین ھم علی علی صلوتھم یحافظون . یعنی نماز کے اوقات ‘ ارکان سنن اور مستحبات کی نگہداشت کرتے ہیں کسی (ضروری رکن یا سنت یا وقت) کو فوت نہیں ہونے دیتے۔ نماز کا تذکرہ دو جگہ آیا ہے شروع میں اور (یہاں) آخر میں اور دونوں جگہ تذکرہ کا طریقہ جدا جدا ہے تکرار ذکر بتارہا ہے کہ دوسرے ارکان اسلام کے مقابلہ میں نماز کو اہمیت حاصل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 34–35

(34۔ 35) اور جو اپنی پانچوں نمازوں کے اوقات کی حفاظت کرتے ہیں، ان خوبیوں کے مالک باغوں میں ثواب و عزت کے ساتھ داخل ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

والذین ھم علی صلاتھم یحافظون : نمازیوں کے اوصاف کا آغاز نماز پر ہمیشگی سے کیا اور ان کا اختتام نماز پر محافظت سے کیا ہے۔ اس سے نماز کی اہمیت صاف واضح ہو رہی ہے۔ محافظت سے مراد اس کے اوقات کا خیال رکھنا اور اس کے شروط و ارکان کی صحیح ادائیگی کا خیال رکھنا ہے۔ منافق نہ صحیح وقت پر نمازپ ڑھتا ہے اور نہ اطمینان و سکون سے اس کے ارکان کو درست طریقے سے ادا کرتا ہے۔ انس ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے :(تلک صلاۃ المنافق یجلس یرقب الشمس حتی اذا کانت بین قرنی الشیطان فام فنقرھا اربعاً لایذکر اللہ فیھا الاقلیلاً) (مسلم، المساجد، باب استحباب التبکیر بالعصر : 622)”یہ منافق کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 34–35

والذین ھم علی صلاتھم یحافظون۔ قتادہ نے کہا، علی صلاتھم سے مراد نماز کے وضو، اس کے رکوع اور اس کے سجدہ کی محخافظت کرتے ہیں۔ ابن جریج نے کہا، مراد نفلی نماز ہے۔ سورة مومنون میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ دوام مخافظت کے خلاف ہے اس پر ان کے دوام کا مطلب ہے کہ وہ اس کی ادائیگی پر محافظت کرتے ہیں اس میں کوئی نقص واقع نہیں کرتے اور اس کی ادائیگی میں غفلت کر کے کسی اور شغل میں مصروف نہیں ہوتے۔ اس پر محافظت کا مطلب ہے اس کا وضو اچھی طرح کرتے ہیں، وقت پر نماز ادا کرتے ہیں، اس کے ارکان کو قائم کرتے ہیں اور اس کی سنتوں اور آداب کو مکمل کرتے ہیں اور اس کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں۔ ضائع ہونے کی صورت یہ ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–35

19۔ عبد بن حمید نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین فی اموالہم حق معلوم اور وہ جن کے مالوں میں حصہ معین ہے یعنی وہ لوگ جو اپنے مالوں سے اس وقت دیتے ہیں جب عطیات نکالے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَالَّذِينَ : اور وہ جو ہیں کہ ][ هُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْ : وہ لوگ اپنی نماز پر ][ يُحَافِظُوْنَ : مسلسل پہرہ دیتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ثامناً فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُوْنَؕ0034﴾ (اور جو اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں) ۔ نمازوں کی پابندی یعنی اہتمام کے ساتھ ادا کرنا مومن کی صفات خاصہ اور لازمہ میں سے ہے یہاں اس کو دو مرتبہ ذکر فرمایا ایک مرتبہ مومنین کی صفات کے شروع میں اور ایک مرتبہ آخر میں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–35

مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 32–35

10:۔ ” والذین ھم لاماناتہم وعھدھم راعون “ وہ امانتوں کی حفاظت اور عہد و پیمان کو پورا کرتے ہیں۔ یعنی ظلم نہیں کرتے اور وہ اپنی شہادتیں پوری پوری ادا کرتے ہیں اور گواہی میں کمی بیشی اور ہیرپھیر نہیں کرتے اور وہ نمازوں کی پوری پوری حفاظت کرتے ہیں۔ اولئک فی جنت مکرمون۔ یہ الا بمعنی لکن کی خبر ہے۔ ان صفتوں سے متصف اللہ کے مقبول بندے جنت کے باغوں میں نہایت عزت و شان سے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–35

گذشتہ سے پیوستہ : اس سے پہلے درس میں ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا انکار کرنے والوں کی تردید بیان کی اور قیامت کے وقوع اور مجرمین کی سزا کا حال بیان کیا یہ بھی بتایا کہ قیامت کے دن مجرمین تمنا کریں گے کہ کسی طرح ان کی جان بچ جائے ۔ فرمایا ان کی طرف سے کسی قسم کا فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ جہنم ان کو پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی جس میں سزا پائیں گے۔ اس کے بعد عام انسانوں کی حرص اور بےصبری کا ذکر فرمایا۔ یہ بھی بان کیا کہ عام طور پر انسان کی حالت یہ ہے کہ جب اسے خیر پہنچتی ہے۔ تو بخیل بن جاتا ہے۔ اور جب شر پہنچتا ہے تو بےصبری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ البتہ ان لوگوں کو اس گروہ میں مستثنیٰ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ ہُمْ عَلٰي صَلَاتِہِمْ يُحَافِظُوْنَ۝ 34 ۭ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–35

ترکیب : ھلوعا حال مقدرۃ من الانسان الھلع اشد الحرص یقال ھلع الرجل یھلع ھلعا وھلا عا فھو ھالع دھلوع وکذاجزوعاد منوعا حالان و اذالاولیٰ ظرف لجز وعا والاخریٰ لمنوعا الا المصلین استثناء من الجنس والمستثنیٰ منہ الانسان وھو جنس فی جنات ظرف لمکرومون۔ تفسیر : اور یہ مال جمع کرنا اور کنجوسی کرنا اس لیے ہے کہ ان الانسان خلق ھلوعا۔ انسان (بعض کہتے ہیں اس سے مراد کفار ہیں) فطرتی طور پر لالچی اور بےصبر پیدا ہوا ہے۔ اس کمبخت کی دور اندیشی اور اس کی زیرکی (جو خداوند عالم کی طرف سے بہ نسبت اور حیوانات کے زیادہ ملی تھی) اس کو بخل اور لالچ پر آمادہ کرتی ہے اور بڑے بڑے خیالات اور امیدیں بندھاتی ہے کہ سینکڑوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلاَ تِھِمْ یُحَافِظُوْنَ ۔ (المعارج : 34) ( اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔ ) آٹھویں صفت نماز کی محافظت اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کی ایک اور صفت کو بیان کیا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔ ان صفات کا ذکر نماز ہی سے شروع ہوا تھا اور نماز ہی پر ختم کیا جارہا ہے۔ البتہ ! فرق یہ ہے کہ پہلے نماز کی روح یعنی نماز کے اندر خشوع کا ذکر کیا گیا تھا اور اب نماز کی محافظت یعنی اس کی دیکھ بھال اور اس کے اہتمام کا ذکر کیا جارہا ہے۔ یہاں نماز کو اگرچہ واحد لایا گیا ہے لیکن اس سے جنس صلوٰۃ مراد ہے جس کا اطلاق واحد جمع دونوں پر ہوتا ہے۔ نماز جہاں بھی ہو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–35

فہم القرآن ربط کلام : جہنم سے بچنے والوں کے مزید اوصاف کا تذکرہ۔ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے بچائے گا اور انہیں جنت میں داخل فرمائے گا ان میں مذکورہ بالا اوصاف کے ساتھ یہ وصف بھی پائیں جائیں گے کہ وہ اپنی امانتوں اور وعدوں کی پاسداری کرنے والے ہوں گے، وہ شہادتِ حق پر قائم رہتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، انہیں جنت میں عزت واحترام کے ساتھ رکھا جائے گا۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے مفصل مضامین کو چند الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ جنتی لوگ دنیا میں اپنی امانتوں کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں : مومنوں کے اوصاف میں یہ صفت بھی شامل ہوتی ہے کہ وہ امانت کی حفاظت اور عہد کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

34 : وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَاتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ (اور جو اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں) نماز کی اہمیت واضح کرنے کیلئے اس کو دوبارہ لائے۔ نمبر 2۔ اول میں فرائض کی محافظت اور ثانی میں نوافل کی مداومت کو ذکر فرمایا۔ نمبر 4۔ ایک قول یہ ہے نمازوں پر مداومت سے مراد۔ کثرت سے پڑھے اور ان کی محافظت کرنے سے مراد وہ اپنے اوقات سے نہ ہٹنے پائیں۔ نمبر 5۔ دوامؔ؛ اوقات میں ادائیگی کا نام ہے اور محافظتؔ اس کے ارکان، واجبات، سنن، آداب کی حفاظت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

33 ۔ والذین ھم بشھاداتھم قائمون “ حفص نے عاصم اور یعقوب رحمہما اللہ سے ” بشھاداتھم “ جمع کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ” بشھادتھم “ واحد پڑھا ہے۔ ” قائمون “ یعنی اس میں حق کے ساتھ قائم ہوتے ہیں اور اس کو چھپاتے نہیں ہیں اور تبدیل بھی نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–35

19۔ 35۔ شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے کافروں اور ایمان دار لوگوں کی نشانیاں مقابلہ کے طور پر بیان فرمائی ہیں مثلاً کافروں کی نشانی یہ ذکر فرمائی کہ وہ لوگ عذاب آخرت اور قیامت کے منکر ہیں اس لئے از خود عذاب الٰہی کی خواہشیں کرتے ہیں اور ایمان دار لوگوں کی یہ نشانی ہے کہ قیامت اور عذاب آخرت کا ان کے دل میں پورا یقین ہے اس واسطے عذاب الٰہی کا ہر وقت ان کے جی میں ایک خوف رہتا ہے کافروں کی یہ نشانی ہے کہ بدکاری کو کچھ عیب نہیں جانتے ایمان دار اس کے برخلاف ہیں اسی طرح کافروں کی یہ نشانی ہے کہ مال جمع کرکے رکھتے ہیں اور محتاجوں کو کوڑی نہیں دیتے اور ایمان داروں کی یہ نشانی ہے کہ ان کے مال میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(والذین ھم علی صلاتھم یحافظون) ۔ اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، یعنی بہترین طریقے سے اس پر مداومت کے ذریعے سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–44

قول باری ہے (للسائل والمحروم سائل اور محروم کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سوال کرنے والے کو سائل کہتے ہیں اور محروم وہ شخص ہے جسے کسی تجارت میں کامیابی نہ ہوتی ہو۔ ابوقلابہ کا قول ہے کہ محروم وہ شخص جس کا مال چلا جائے۔ حسن بن محمد کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا، اسے مال غنیمت حاصل ہوا، اس کے بعد کچھ دوسرے لوگ بھی آگئے اور یہ آیت نازل ہوئی (فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے) حضرت انس ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان المحروم من حرم وصیتہ بیشک محروم وہ شخص ہے جسے اس چیز سے محروم رکھا جائے جس کی اس کے لئے وصیت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

30 ۔ نماز، حفاظت دین کے لیے ایک عظیم الشان حصار : سو ارشاد فرمایا گیا اور جو حفاظت کرتے ہیں اپنی نمازوں کی، یعنی ان کے اوقات اور ان کی شرائط اور ارکان و واجبات وغیرہ سب کا پورا پورا لحاظ کرتے اور خیال رکھتے ہیں، سو اس سے نماز کی اہمیت اور اس کی عظمت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہاں پر ان صفات کے بیان کا آغاز بھی اسی سے فرمایا گیا اور خاتمہ بھی اسی پر فرمایا گیا، اس لیے اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ نماز ہی ان صفات جمیلہ اور خصال خیر کا منبع و ومصدر بھی ہے اور وہی ان کا محافظ و نگہبان بھی، گویا نماز کی حیثیت دین کے جملہ احکام کے لیے ایک حصار کی ہے، جس نے اس حصار کو محفوظ رکھا وہ اپنے دین کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–44

نیک لوگوں کی صفات تشریح : ایک اچھے پکے اور صالح جنت کے حقدار کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ کافی دفعہ وضاحت سے پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں یہاں پھر مختصراً بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان فطرتاً کمزور طبیعت یعنی غلطیوں کا پتلا سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ہے ہی۔ مگر اس کی اصلاح کے لئے ہی تو قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ تو جو شخص اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتا ہے تو وہی بہادر انسان ہے وہ خود کو شیطان کے چنگل سے نکال کر بندگانِ الٰہی میں شامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عمل بہت ضروری ہے۔ اگر زبانی ایمان لے آنا کافی ہوتا تو پھر منافق دوزخ کے نچلے درجے میں کیوں ڈالے جاتے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–34

سورة المعارج۔ آیات 1 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی اسے دھیان سے تمام ارکان و شرائط کے ساتھ وقت پر ادا کرتے ہیں۔ اوپر کی آیت میں نماز پر دوام کی تعریف کی ہے اور اس آیت میں نفس نماز کی حافظت پر مومنین کی صفات کی ابتداء اور انتہا میں نماز کی حفاظت پر زور دیا ہے اور کیوں نہ ہو جبکہ نماز ہی مومن کی معراج ہے اور باری تعالیٰ کے ساتھ مناجات ہے۔ اس بناء پر آنحضرت نے فرمایا ہے : جعلت قرۃ عینی فی الصلوۃ کہ میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔ (روح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(70:34) والذین ہم علی صلوتھم یحافظون۔ یہ مستثنیت کی آٹھویں صفت ہے۔ اور جو اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔ علامہ پانی پتی (رح) رقمطراز ہیں :۔ ” یعنی نماز کے اوقات، ارکان۔ سنن اور مستحبات کی نگہداشت کرتے ہیں ۔ کسی (ضروری رکن یا سنت کو یا وقت) کو فوت نہیں ہونے دیتے۔ نماز کا تذکرہ دو جگہ آیا ہے :۔ شروع میں اور یہاں آخر میں اور دونوں جگہ تذکرہ کا طریقہ جدا جدا ہے۔ تکرار ذکر بتارہا ہے کہ دوسرے ارکان اسلام کے مقابلہ میں نماز کو اہمیت حاصل ہے۔ یحافظون ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ محافظۃ (مفاعلۃ) مصدر ۔ وہ پابندی کرتے ہیں۔ وہ نگرانی رکھتے ہیں۔ نیز ملاحظہ ہو 23:9 متذکرۃ الصدر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–35

لغات القرآن۔ ھلوعا۔ بزدل۔ ڈرپوک۔ جزوعا۔ گھبرا جانے والا۔ منوعا۔ ہاتھ روک لینے والا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آدمی کو بڑی عظمتوں اور زبردست صلاحیتوں سے نواز ہے وہ جب کائنات میں آگے بڑھتا ہے تو خشکی، تری اور فضاؤں پر حکمرانی کرنے لگتا ہے لیکن اس کی تخلیق اور فطرت میں کچھ کمزوریاں بھی رکھ دی گئی ہیں۔ اگر وہ ان کمزوریوں پر قابو پا لے تو پھر وہ دنیا میں سربلند اور آخرت کی نجات کا مستحق بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ آدمی اپنے بےانتہا صلاحیتوں کے باوجود بہت بےصبرا، کم ہمت اور تنگ دل واقع ہوا ہے۔ اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور جب اس کو خیر اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–35

(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ وہ ہیں جو امانت اور اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں اور حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ منافق لوگوں کی نشانی یہ ہے کہ امانت میں خیانت کرتے ہیں اور جب وعدہ یا کوئی عہدوپیمان کرتے ہیں تو اس کو پورا نہیں کرتے ، ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ جو گواہی دیتے ہیں سچی دیتے ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے نبی نے فرمایا کہ منافق لوگ ہر بات میں جھوٹ سے باز نہیں آتے، اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ایماندار لوگوں کی نماز کی دونشانیاں ذکر فرمائی ہیں۔ (1) ایک تو یہ کہ وہ لوگ سلسلہ وار ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں یہ نہیں کہ گنڈے دار نماز پڑھتے ہوں کہ کبھی پڑھی اور کبھی چھوڑ دی۔ (2) دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–36

[7] یعنی روز جزا کا یقین رکھتے ہیں اور یہ بنیادی عقیدہ ان کے تمام نیک اعمال کا محرک ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–35

نمازی کی سیرت 2: قرآن حکیم یہ خوبی شان امتیاز رکھتی ہے ۔ کہ اس میں حقائق نفسیات کا بھی مذکر ہے ۔ یعنی اس کتاب علم ومعرفت میں یہ بھی بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی فطرت کیا ہے ؟ فرمایا ۔ اس میں ایک ہم گیر عیب یہ ہے ۔ کہ یہ کم ہمت اور بےصبر ہے ۔ اگر اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو بلبلا اٹھتا ہے ۔ اور نالہ وشیون سے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے ۔ اور جہاں بیٹھتا ہے اسی بات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ کہ میں بہت مصیبت زدہ ہوں ۔ مجھ کو فلک ستم شیوہ نے بہت دکھ پہنچایا ہے ۔ اور اگر برے دن پھرجائیں اور آسودہ حال ہوجائے ۔ تو پھر انتہا درجے کا بخیل اور ممسک ہوجاتا ہے ۔ پائی پائی کو گنتا ہے ۔ اور پیسے پیسے کا حساب رکھتا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 23–36

ف 9۔ یعنی نماز میں ظاہرا یا باطنا دوسری طرف توجہ نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور جو لوگ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں 34 ؎ آیت 23 سے نماز ادا کرنے والوں کی نشانیاں گنوائی چلی آرہی ہیں اور یہاں آ کر پھر صلوٰۃ یعنی نماز کا ذکر فرمایا ہے۔ وہاں صرف نمازیوں کا ذکر کیا تھا اور یہاں نماز قائم کرنے والوں کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کے یہ اوصاف بیان کئے گئے ہیں جن لوگوں میں یہ اوصاف فی الواقع موجود ہیں بلاشبہ وہ نمازیں ادا کرتے ہیں تو ان کی نمازیں قبول ہوتی ہیں اور جو ان اوصاف میں کوتاہی کرتے ہیں اور وہ ان میں کامل اور مکمل طور پر نہیں پائے جاتے وہ اگر نمازیں پڑھتے ہیں تو محض رسمی نمازیں ادا کرتے ہیں ، ان کی نمازیں قائم نہیں کہی جا سکتیں کیونکہ ان سے نمازیں پڑھنے کا جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–44

وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ (...and those who are upright in their testimonies, [ 70:33] '. The word shahadat is the plural of shahadah. The use of plural number in this verse too indicates that there are many types and categories of 'testimony', and it is necessary to stand firm by one's testimony of any type. This includes testifying to the faith of Islam, Divine existence and His Oneness, and testifying that Sayyidna Muhammad ﷺ is His Final Messenger. It is obligatory to testify to the crescent of Ramadan, if one has seen it. Giving a true and accurate account of Shari'ah…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–36

23 This gives an idea of the importance of the Prayer (salat) . The description of the merits of the high and sublime character of those who have been declared as worthy of Paradise, began with the Prayer and has been concluded with it. To be a performer of the Prayer is their first characteristic, to be steadfast and ever constant with regard to the Prayer is their second characteristic, and to guard their Prayer is their last characteristic. "Guarding the Prayer" implies many things: to perform the Prayer at its right time, to make sure before the Prayer that one's body and clothes are…

Read the full tafseer →