Al-Ma'aarij 70:33

Al-Ma'aarij · from ayah 33

70:33

وَالَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآىِٕمُوْنَ ۟وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِشَهٰدٰتِهِمۡ قَآئِمُوۡنَ

اور جو اپنی شہادتوں پر قائم رہتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those who are in their testimonies upright

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij

All translations of 70:33

جو اپنی گواہیوں میں راست بازی پر قائم رہتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو اپنی شہادتوں پر قائم رہتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو اپنی گواہیوں پر سیدھے اور قائم رہتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو اپنی گواہیاں ٹھیک ٹھیک دینے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ لوگ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو اپنی شہادتوں پر (راست بازی) سے قائم رہتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ جو اپنی شہادتوں کو اد کرنے والے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو قائم رہتے ہیں اپنی گواہیوں کی ادائیگی میں (صداقت و راست بازی پر)

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ اپنی گواہیوں کے ادا کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو اپنی گواہیوں پر قائم رہتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

and those who are upright in their testimonies;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and those who are upright in their testimonies,

— Muhammad Taqi Usmani

and those who are upright in their testimonies,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who stand firm in their testimonies.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And those who stand by their testimony

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those who are in their testimonies upright

— Saheeh International

who testify to what they have witnessed,

— Muhammad Sarwar

And those who are upright in their testimonies,

— Muhammad Habib Shakir

And those who stand firm in their testimonies.

— Abdul Majid Daryabadi

And those who stand firm in their testimonies;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 70:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–35

انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ یہ بڑا ہی بےصبرا ہے، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہوجاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بدترین چیز انسان میں بیحد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے (ابو داؤد) پھر فرمایا کہ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں وقتوں کی نگہبانی کرنے واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے سکون…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَعَارِج 22 یعنی نہ شہادت چھپاتے ہیں، نہ اس میں کوئی کمی بیشی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–44

(آیت) وَالَّذِيْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَاۗىِٕمُوْنَ ، یہاں بھی لفظ شہادات کو بلفظ جمع لانے میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ شہادت کی بہت سی قسمیں ہیں اور ہر قسم شہادت کو قائم رکھنا واجب ہے۔ اس میں شہادت ایمان توحید و رسالت بھی داخل ہے۔ ہلال رمضان اور حدود شرعیہ کی شہادت بھی اور لوگوں کے باہمی معاملات جو کسی کے سامنے ہوئے ہوں ان کی شہادت بھی کہ ان شہادتوں کا چھپانا اور ان میں کمی بیشی کرنا حرام ہے ان کو صحیح صحیح قائم کرنا اس آیت کی رو سے فرض ہے۔ (از مظہری) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

شہادت وسیع معنوں میں: جس طرح اوپر والی آیت میں امانت اور عہد کے الفاظ وسیع معنوں میں استعمال ہوئے ہیں اسی طرح لفظ ’شہادت‘ اس آیت میں وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ہر شخص چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں بھی اس شہادت کے ادا کرنے کا ذمہ دار ہے جس کا بار اس نے اپنے سر لیا ہے اور اس شہادت کبریٰ کے ادا کرنے کا بھی ذمہ دار ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اس کو ’لِتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا‘ (البقرہ ۲: ۱۴۳) (تاکہ تم لوگوں پر اللہ کے دین کی گواہی دینے والے بنو اور رسول تم پر گواہی دینے والا بنے) والی آیت میں مامور فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 33–36

33۔ 1 یعنی اسے صحیح صحیح ادا کرتے ہیں چاہے اس کی زد میں ان کے قریبی عزیز ہی آجائیں علاوہ ازیں اسے چھپاتے بھی نہیں، نہ اس میں تبدیلی ہی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 31–33

8: یعنی بیویوں اور باندیوں کے سوا کسی اور طریقے سے جنسی خواہش پوری کرنا حرام ہے، اس لئے ایسے لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

والذین ................ قائمون (07 : 33) ” جو اپنی گواہیوں میں راست بازی پر قائم رہتے ہیں “۔ اللہ نے ادائے شہادت کے ساتھ بیشمار حقوق وابستہ کیے ہیں۔ بلکہ شہادت پر اللہ کی حدود کا قیام موقوف ہے۔ اگر شہادت قائم نہ ہو تو حدود قائم نہیں ہوسکتیں۔ یہ کہ کسی کو شہادت ادا نہ کرنے کا گناہ نہ کرنا چاہئے اور جب کسی سے شہادت مانگی جائے تو وہ اسے کبھی بھی نہ چھپائے۔ اور شہادت کو صحیح طرح ادا کرنا چاہئے اس میں ادھر ادھر کی بات نہیں کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شہادت کو اس شخص کی شہادت قرار دیا ہے تاکہ اسے اللہ کی اطاعت کے ساتھ واسطہ کیا جائے۔ دوسری جگہ ہے : واقیموا ............ للہ ” اور شہادت اللہ کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی ضرورت پڑے تو بلا کم وکاست اور بےرورعایت گواہی دیتے ہیں۔ حق پوشی نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 33–36

آیت 33{ وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِشَہٰدٰتِہِمْ قَآئِمُوْنَ۔ } ”اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔“ دراصل گواہی بھی ایک امانت ہے اور جو شخص غلط گواہی دیتا ہے یا گواہی کو چھپا لیتا ہے وہ امانت میں خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ سورة البقرۃ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِط } آیت 140 ”اور کان کھول کر سن لو اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جس کے پاس اللہ کی طرف سے ایک گواہی تھی جسے اس نے چھپالیا ؟“ علمائے یہود کے پاس نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت کے بارے میں اللہ کی طرف سے گواہی تھی ‘ انہوں نے اس گواہی کو چھپا کر اللہ کی امانت میں خیانت کی۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 شہادت کا مفہوم اہمیت اور شہادت پر قائم رہنے کی تاکید :۔ شہادت اس بیان کو کہتے ہیں جو ایک گواہ، خواہ وہ عینی گواہ ہو یا بعض حقائق کو علم کی حد تک جانتا ہو جسے قلبی شہادت کہتے ہیں، عدالت میں حاضر ہو کر قاضی کے سامنے دیتا ہے۔ اور قاضی اور عدالت سے مراد ہر وہ فرد یا ادارہ ہے جو فیصلہ کرنے کے بعد اپنے فیصلہ کو نافذ کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہو۔ عدالتوں کے ہاں یہ قوت نافذہ پولیس ہوتی ہے۔ اسی طرح کسی فیصلہ کرنے والی پنچائت یا کونسل کو بھی عدالت کہہ سکتے ہیں اور کوئی گواہ کسی بےتعلق آدمی کے سامنے وہی بیان دے جو وہ عدالت میں دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تو ایسے بیان دینے کو شہادت نہیں کہیں گے۔ چونکہ شریعت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 33–35

13۔ محققین نے کہا ہے کہ اعمال حسنہ کی فہرست کو شروع بھی نماز کے ذکر سے کرنا اور ختم بھی اسی کرنا اس کی دلیل ہے کہ اعمال طاعت میں اولین وعظیم ترین اہمیت نماز ہی کو حاصل ہے۔ فافتح الکلام بذکرالصلوۃ واختتمہ بذکرھا فدل علی الاعتناء بھا والتنویہ بشرفھا (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–35

ان الانسان خلق ھلوعا، ھلوع کے لفظی معنی ہیں حریص، بےصبرا، کم ہمت، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ھلوع وہ شخص ہے جو کہ مال حرام کی حرص میں مبتلا ہو، یہاں یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ جب انسان کو پیدا ہی اس حال میں کیا گیا ہے تو پھر اس کا کیا قصور ؟ وہ مجرم کیوں قرار دیا گیا ؟ وجہ یہ ہے کہ مراد اس سے انسانی فطرت اور جبلت میں رکھی ہوئی استعداد اور مادہ ہے تو حق تعالیٰ نے انسان میں ہر خیر و شر کا مادہ اور استعداد بھی رکھی ہے اور شر و فساد کی بھی اور اس کو عقل و ہوش بھی عطا فرمائے ہیں اور اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ ہر ایک کا انجام بھی بتادیا، اب انسان کو اختیار ہے کہ دونوں قسم کی صلاحیتوں میں سے جس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین ھم بشھداتھم قائمون . یعنی جو لوگ صداقت کے ساتھ شہادتیں ادا کرتے ہیں ‘ نہ شہادت کو چھپاتے ہیں ‘ نہ بدلتے ہیں ‘ نہ اس سلسلے میں کسی برا کہنے والے کے برا کہنے سے ڈرتے ہیں خواہ شہادت کا تعلق محض حق خداوندی سے ہو جیسے شہادت توحید و رسالت اور رسول اللہ ﷺ کے اوصاف کے متعلق تورات کی شہادت کا اظہار اور رمضان کا چاند دیکھنے کی شہادت اور حدود خدواندی قائم کرنے کی شہادت وغیرہ یا حقوق عباد کے سلسلہ کی شہادت ہو جیسے باہمی لین دین وغیرہ کی شہادت ‘ شہادت میں عموم ہے کسی کے خلاف ہو خواہ اپنے اقرباء اور والدین بلکہ اپنی ذات ہی کے خلاف ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 32–33

(32۔ 33) اور جو اپنی سپردتی میں لیے ہوئے دین (قرض) امانتوں اور اپنے آپس کے عہدوں کی پاسداری کرنے والے ہیں اور جو اپنی گواہیوں کو حکام کے سامنے ٹھیک ٹھیک ادا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

والذین ھم بشھدتھم قآئمون : شہادتوں پر قائم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حق کی شہادت نہ چھپاتے ہیں، نہ ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں، نہ جھوٹی شہادت دیتے ہیں اور نہ شہادت کی ادائیگی کے وقت اس میں کوئی ہیرا پھیری کرتے ہیں، کیونکہ یہ سب کام نفاق و کفر کے کام ہیں۔ ”شہادات ‘ میں ایمان، توحید و رسالت اور لوگوں کے باہمی معاملات، غرض ہر حق بات کی شہادت شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 24–33

والذین فی اموالھم حق معلوم۔ اس سے مراد فرض زکوۃ ہے، یہ قتادہ اور ابن سیرین کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : زکوۃ کے علاوہ مراد ہے۔ علی بن ابی طلحہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے ہا، صلہ رحمی کرنا اور بوجھ اٹھانا ہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ حق کی صفت معلمو سے لگائی ہے۔ زکوۃ کے علاوہ معلوم نہیں، وہ تو ضرورت کے مطباق ہوتا ہے جبکہ اس میں کمی و بیشی ہوتی رہتی ہے۔ للسآئل و المحروم۔ سورة زاریات میں یہ بات پہلے گزر چیک ہے۔ والذین یصدقون بیوم الذین۔ یعنی یوم جزاء مراد قیامت کا دن ہے۔ اس بارے میں بحث سورة فاتحہ میں گزر چکی ہے۔ وہ الذین ھم من عذاب ربھم مشفقون۔ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں۔ ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–35

19۔ عبد بن حمید نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین فی اموالہم حق معلوم اور وہ جن کے مالوں میں حصہ معین ہے یعنی وہ لوگ جو اپنے مالوں سے اس وقت دیتے ہیں جب عطیات نکالے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَالَّذِينَ : اور وہ جو ہیں کہ ][ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ : وہ لوگ اپنی گواہیوں پر ][ قَاۗىِٕمُوْنَ : ڈٹے رہنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

سابعاً فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآىِٕمُوْنَ۪ۙ0033﴾ (اور جو اپنی گواہیوں کے ساتھ قائم رہنے والے ہیں) یعنی گواہیوں کو ٹھیک طرح سے ادا کرتے ہیں، اس میں ہر قسم کی گواہی داخل ہے، ایمانیات کی گواہی دینا اور اللہ تعالیٰ نے جو علم دیا ہے اس کے مطابق حق اور ناحق کی تعلیم اور تفہیم میں مشغول رہنا اور جہاں کہیں کسی کا کوئی حق مارا جاتا ہو اپنی سچی گواہی سے اسے ثابت کرنا اور صاحب حق کو اس کا حق دلوانا دینا یہ سب شھاداتھم قائمون کے عموم میں داخل ہے، حضرت زید بن خالد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں وہ شخص نہ بتادوں جو گواہوں میں سب سے بہتر ہے، پھر خود ہی فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–35

مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 32–35

10:۔ ” والذین ھم لاماناتہم وعھدھم راعون “ وہ امانتوں کی حفاظت اور عہد و پیمان کو پورا کرتے ہیں۔ یعنی ظلم نہیں کرتے اور وہ اپنی شہادتیں پوری پوری ادا کرتے ہیں اور گواہی میں کمی بیشی اور ہیرپھیر نہیں کرتے اور وہ نمازوں کی پوری پوری حفاظت کرتے ہیں۔ اولئک فی جنت مکرمون۔ یہ الا بمعنی لکن کی خبر ہے۔ ان صفتوں سے متصف اللہ کے مقبول بندے جنت کے باغوں میں نہایت عزت و شان سے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–35

گذشتہ سے پیوستہ : اس سے پہلے درس میں ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا انکار کرنے والوں کی تردید بیان کی اور قیامت کے وقوع اور مجرمین کی سزا کا حال بیان کیا یہ بھی بتایا کہ قیامت کے دن مجرمین تمنا کریں گے کہ کسی طرح ان کی جان بچ جائے ۔ فرمایا ان کی طرف سے کسی قسم کا فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ جہنم ان کو پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی جس میں سزا پائیں گے۔ اس کے بعد عام انسانوں کی حرص اور بےصبری کا ذکر فرمایا۔ یہ بھی بان کیا کہ عام طور پر انسان کی حالت یہ ہے کہ جب اسے خیر پہنچتی ہے۔ تو بخیل بن جاتا ہے۔ اور جب شر پہنچتا ہے تو بےصبری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ البتہ ان لوگوں کو اس گروہ میں مستثنیٰ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ ہُمْ بِشَہٰدٰتِہِمْ قَاۗىِٕمُوْنَ۝ 33 شَّهَادَةُ : قول صادر عن علم حصل بمشاهدة بصیرة أو بصر . وقوله : أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ [ الزخرف/ 19] ، يعني مُشَاهَدَةِ البصر ثم قال : سَتُكْتَبُ شَهادَتُهُمْ [ الزخرف/ 19] ، تنبيها أنّ الشّهادة تکون عن شُهُودٍ ، وقوله : لِمَ تَكْفُرُونَ بِآياتِ اللَّهِ وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ [ آل عمران/ 70] ، أي : تعلمون، وقوله : ما أَشْهَدْتُهُمْ خَلْقَ السَّماواتِ [ الكهف/ 51] ، أي : ما جعلتهم ممّن اطّلعوا ببصیرتهم علی خلقها، وقوله : عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ [ السجدة/ 6] ، أي : ما يغيب عن حواسّ الناس وبصائرهم وما يشهدونه بهما الشھادۃ ۔ ( 1 ) وہ بات جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–35

ترکیب : ھلوعا حال مقدرۃ من الانسان الھلع اشد الحرص یقال ھلع الرجل یھلع ھلعا وھلا عا فھو ھالع دھلوع وکذاجزوعاد منوعا حالان و اذالاولیٰ ظرف لجز وعا والاخریٰ لمنوعا الا المصلین استثناء من الجنس والمستثنیٰ منہ الانسان وھو جنس فی جنات ظرف لمکرومون۔ تفسیر : اور یہ مال جمع کرنا اور کنجوسی کرنا اس لیے ہے کہ ان الانسان خلق ھلوعا۔ انسان (بعض کہتے ہیں اس سے مراد کفار ہیں) فطرتی طور پر لالچی اور بےصبر پیدا ہوا ہے۔ اس کمبخت کی دور اندیشی اور اس کی زیرکی (جو خداوند عالم کی طرف سے بہ نسبت اور حیوانات کے زیادہ ملی تھی) اس کو بخل اور لالچ پر آمادہ کرتی ہے اور بڑے بڑے خیالات اور امیدیں بندھاتی ہے کہ سینکڑوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِشَھٰدٰ تِہِمْ قَـآئِمُوْنَ ۔ (المعارج : 33) (اور وہ جو اپنی شہادتوں کو ادا کرنے والے ہیں۔ ) ساتویں صفت ادائے شہادت گزشتہ آیت کریمہ میں جس طرح امانت اور عہد کے الفاظ وسیع معنی میں استعمال ہوئے ہیں اس طرح لفظ شہادت اس آیت میں وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یہ شہادت کی جمع ہے۔ شہادت کا معنی گواہی ہوتا ہے۔ یہاں نیک بندوں کی ایک صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ وہ ہر چھوٹے بڑے معاملے میں شہادت کے ادا کرنے والے ہوتے ہیں۔ یعنی جس شہادت کا ذمہ انھوں نے اپنے سر لیا ہے اور جس شہادت کا وہ وعدہ کرچکے ہیں چاہے وہ شہادتِ کبریٰ ہو جو اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم ذمہ داری کے طور پر اس امت پر فرض کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–35

فہم القرآن ربط کلام : جہنم سے بچنے والوں کے مزید اوصاف کا تذکرہ۔ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے بچائے گا اور انہیں جنت میں داخل فرمائے گا ان میں مذکورہ بالا اوصاف کے ساتھ یہ وصف بھی پائیں جائیں گے کہ وہ اپنی امانتوں اور وعدوں کی پاسداری کرنے والے ہوں گے، وہ شہادتِ حق پر قائم رہتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، انہیں جنت میں عزت واحترام کے ساتھ رکھا جائے گا۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے مفصل مضامین کو چند الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ جنتی لوگ دنیا میں اپنی امانتوں کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں : مومنوں کے اوصاف میں یہ صفت بھی شامل ہوتی ہے کہ وہ امانت کی حفاظت اور عہد کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

33 : وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِشَھٰدٰتِھِمْ قَآئِمُوْنَ ( اور جو لوگ اپنی گواہیوں کو ٹھیک ٹھیک ادا کرتے ہیں) قراءت : حفص ‘ سہل و یعقوب نے شہادات پڑھا ہے۔ قائمون کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکام کے پاس گواہی کو بغیر کسی میلان کے جو قریب و شریف کیلئے اختیار کیا جائے اور بلاترجیح کے جو طاقتور کے حق میں ضعیف کے خلاف اختیار کیا جائے۔ وہ ادا کرتے ہیں اور ان کا مقصد مسلمانوں کے حقوق کو زندہ کرنا اور دین میں صلابت و پختگی ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 25–33

24 ۔…” والذین فی اموالھم حق معلوم 25 ۔ للسائل والمحروم 26 ۔ والذین یصدقون بیوم الدین۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–35

19۔ 35۔ شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے کافروں اور ایمان دار لوگوں کی نشانیاں مقابلہ کے طور پر بیان فرمائی ہیں مثلاً کافروں کی نشانی یہ ذکر فرمائی کہ وہ لوگ عذاب آخرت اور قیامت کے منکر ہیں اس لئے از خود عذاب الٰہی کی خواہشیں کرتے ہیں اور ایمان دار لوگوں کی یہ نشانی ہے کہ قیامت اور عذاب آخرت کا ان کے دل میں پورا یقین ہے اس واسطے عذاب الٰہی کا ہر وقت ان کے جی میں ایک خوف رہتا ہے کافروں کی یہ نشانی ہے کہ بدکاری کو کچھ عیب نہیں جانتے ایمان دار اس کے برخلاف ہیں اسی طرح کافروں کی یہ نشانی ہے کہ مال جمع کرکے رکھتے ہیں اور محتاجوں کو کوڑی نہیں دیتے اور ایمان داروں کی یہ نشانی ہے کہ ان کے مال میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(والذین ھم بشھدتھم قائمون) ۔ یعنی وہ کسی کمی بیشی اور کچھ چھپائے بغیر صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں وہ گواہی میں کسی رشتہ کی رعایت رکھتے ہیں نہ کسی دوست وغیرہ کی۔ ان کے نزدیک، اس گواہی کو قئم کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (واقیموا لشھادۃ للہ۔ (الطلاق 2) ۔ اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی کو قائم کرو۔ اور فرمایا (یا ایھا الذین آمنوا کو نو قوامین بالقسط شھداء للہ ولو علی انفسکم اوالوالدین والاقربین۔ النسا 135) ۔ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف پر قائم رہنے والے بن جاؤ، اللہ کے لیے گواہی دو ، خواہ یہ گواہی خود تمہارے والدین اور قریبی رشتہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–44

قول باری ہے (للسائل والمحروم سائل اور محروم کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سوال کرنے والے کو سائل کہتے ہیں اور محروم وہ شخص ہے جسے کسی تجارت میں کامیابی نہ ہوتی ہو۔ ابوقلابہ کا قول ہے کہ محروم وہ شخص جس کا مال چلا جائے۔ حسن بن محمد کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا، اسے مال غنیمت حاصل ہوا، اس کے بعد کچھ دوسرے لوگ بھی آگئے اور یہ آیت نازل ہوئی (فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے) حضرت انس ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان المحروم من حرم وصیتہ بیشک محروم وہ شخص ہے جسے اس چیز سے محروم رکھا جائے جس کی اس کے لئے وصیت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

29 ۔ اپنی گواہیوں کی پابندی و ادائیگی کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور جو قائم رکھتے ہیں اپنی گواہیوں کو جن میں پہلی اور سب سے اہم اور بڑی شہادت و گواہی تو اللہ پاک کی وحدانیت کی اور حضرت رسالت پناہ ﷺ کی رسالت کی شہادت و گواہی ہے، اسی لیے جس کلمہ کے ذریعے انسان دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے اس کو کلمہ شہادت کہا جاتا ہے کہ وہ ان دونوں شہادتوں پر مشتمل ہے اور اس کے بعد دوسری تمام شہادتیں اور گواہیاں بھی اسی میں داخل ہیں، سو مومن کی شان یہ ہے کہ وہ ان تمام شہادتوں اور گواہیوں کو صحیح صحیح اور بلا کسی تغیر و تبدل اور رو رعایت کے ادا کرے، پس جس طرح امانات کا لفظ اپنے وسیع مفہوم میں استعمال…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–44

نیک لوگوں کی صفات تشریح : ایک اچھے پکے اور صالح جنت کے حقدار کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ کافی دفعہ وضاحت سے پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں یہاں پھر مختصراً بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان فطرتاً کمزور طبیعت یعنی غلطیوں کا پتلا سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ہے ہی۔ مگر اس کی اصلاح کے لئے ہی تو قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ تو جو شخص اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتا ہے تو وہی بہادر انسان ہے وہ خود کو شیطان کے چنگل سے نکال کر بندگانِ الٰہی میں شامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عمل بہت ضروری ہے۔ اگر زبانی ایمان لے آنا کافی ہوتا تو پھر منافق دوزخ کے نچلے درجے میں کیوں ڈالے جاتے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–34

سورة المعارج۔ آیات 1 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 32–33

ف 4 یعنی سچی گواہی دیتے ہیں کسی کے ڈر یا طمع سے گواہی دینے میں جھوٹ نہیں بولتے اور نہ کوئی بات چھپاتے ہیں دیکھیے ( سورة بقرہ 42-40)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(70:33) والذین ھم بشھدتھم قائمون۔ یہ الانسان الہلوع کے زمرہ سے جو مستثنیٰ ہیں ان کی ساتویں صفت ہے۔ اور وہ جو اپنی شہادتوں پر قائم رہتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–35

لغات القرآن۔ ھلوعا۔ بزدل۔ ڈرپوک۔ جزوعا۔ گھبرا جانے والا۔ منوعا۔ ہاتھ روک لینے والا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آدمی کو بڑی عظمتوں اور زبردست صلاحیتوں سے نواز ہے وہ جب کائنات میں آگے بڑھتا ہے تو خشکی، تری اور فضاؤں پر حکمرانی کرنے لگتا ہے لیکن اس کی تخلیق اور فطرت میں کچھ کمزوریاں بھی رکھ دی گئی ہیں۔ اگر وہ ان کمزوریوں پر قابو پا لے تو پھر وہ دنیا میں سربلند اور آخرت کی نجات کا مستحق بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ آدمی اپنے بےانتہا صلاحیتوں کے باوجود بہت بےصبرا، کم ہمت اور تنگ دل واقع ہوا ہے۔ اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور جب اس کو خیر اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–35

(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ وہ ہیں جو امانت اور اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں اور حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ منافق لوگوں کی نشانی یہ ہے کہ امانت میں خیانت کرتے ہیں اور جب وعدہ یا کوئی عہدوپیمان کرتے ہیں تو اس کو پورا نہیں کرتے ، ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ جو گواہی دیتے ہیں سچی دیتے ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے نبی نے فرمایا کہ منافق لوگ ہر بات میں جھوٹ سے باز نہیں آتے، اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ایماندار لوگوں کی نماز کی دونشانیاں ذکر فرمائی ہیں۔ (1) ایک تو یہ کہ وہ لوگ سلسلہ وار ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں یہ نہیں کہ گنڈے دار نماز پڑھتے ہوں کہ کبھی پڑھی اور کبھی چھوڑ دی۔ (2) دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–36

[7] یعنی روز جزا کا یقین رکھتے ہیں اور یہ بنیادی عقیدہ ان کے تمام نیک اعمال کا محرک ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–35

نمازی کی سیرت 2: قرآن حکیم یہ خوبی شان امتیاز رکھتی ہے ۔ کہ اس میں حقائق نفسیات کا بھی مذکر ہے ۔ یعنی اس کتاب علم ومعرفت میں یہ بھی بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی فطرت کیا ہے ؟ فرمایا ۔ اس میں ایک ہم گیر عیب یہ ہے ۔ کہ یہ کم ہمت اور بےصبر ہے ۔ اگر اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو بلبلا اٹھتا ہے ۔ اور نالہ وشیون سے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے ۔ اور جہاں بیٹھتا ہے اسی بات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ کہ میں بہت مصیبت زدہ ہوں ۔ مجھ کو فلک ستم شیوہ نے بہت دکھ پہنچایا ہے ۔ اور اگر برے دن پھرجائیں اور آسودہ حال ہوجائے ۔ تو پھر انتہا درجے کا بخیل اور ممسک ہوجاتا ہے ۔ پائی پائی کو گنتا ہے ۔ اور پیسے پیسے کا حساب رکھتا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 23–36

ف 9۔ یعنی نماز میں ظاہرا یا باطنا دوسری طرف توجہ نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور جو لوگ اپنی گواہیوں پر قائم رہتے ہیں 33 ؎ شہادت عام ہے خواہ کسی شہادت کی ذمہ داری اٹھائی ہو اور خواہ ذمہ داری ڈال دی گئی ہو۔ دونوں صورتوں میں شہادت کا صحیح ادا کرنا ضروری ہے۔ شہادت کا تعلق محض حق اللہ سے ہو جیسے توحید و رسالت کی شہادت یا کسی کی طرف سے شہادت ڈال دی گئی ہو جیسے کسی مقدمہ کی شہادت ، کسی کے لین دین کی شہادت ، خواہ کسی دینی معاملہ میں ہو جیسے رمضان المبارک کا چاند دیکھنے نہ دیکھنے کی شہادت ، خواہ شہادت کسی دنیوی معاملہ کی ہو اور اس کا تعلق حقوق العباد سے ہو شہادت خواہ اپنے اعزہ و اقرباء کے متعلق ہو اور خواہ اپنی ذات کے متعلق ہو ہر حال میں شہادت کا صحیح ادا کرنا اور اس پر قائم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–44

وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ (...and those who are upright in their testimonies, [ 70:33] '. The word shahadat is the plural of shahadah. The use of plural number in this verse too indicates that there are many types and categories of 'testimony', and it is necessary to stand firm by one's testimony of any type. This includes testifying to the faith of Islam, Divine existence and His Oneness, and testifying that Sayyidna Muhammad ﷺ is His Final Messenger. It is obligatory to testify to the crescent of Ramadan, if one has seen it. Giving a true and accurate account of Shari'ah…

Read the full tafseer →