Explained with ayahs 19–35
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ یہ بڑا ہی بےصبرا ہے، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہوجاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بدترین چیز انسان میں بیحد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے (ابو داؤد) پھر فرمایا کہ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں وقتوں کی نگہبانی کرنے واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے سکون…
Read the full tafseer →سورة الْمَعَارِج 21
امانتوں سے مراد وہ امانتیں بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کے سپرد کی ہیں اور وہ امانتیں بھی جو انسان کسی دوسرے انسان پر اعتماد کر کے اس کے حوالے کرتا ہے۔ اسی طرح عہد سے مراد وہ عہد بھی ہیں جو بندہ اپنے خدا سے کرتا ہے، اور عہد بھی جو بندے ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ ان دونوں قسم کی امانتوں اور دونوں قسم کے عہد و پیمان کا پاس ولحاظ ایک مومن کی سیرت کے لازمی خصائص میں سے ہے۔ حدیث میں حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے سامنے جو تقریر بھی فرماتے اس میں یہ بات ضرور ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ الا، لا ایمان لمن لا امانۃ لہ ولا دین لمن لا عھد لہ۔ " خبر دار رہو، جس میں امانت نہیں…
Read the full tafseer →تمام حقوق اللہ اور سب حقوق العباد امانت میں داخل ہیں
(آیت) وَالَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ ، اس آیت میں امانات جمع کا صیغہ استعمال فرمایا ہے جیسے دوسری جگہ بھی (آیت) ان اللہ یامرکم ان تودوا الا منت الی اھلھا فرمایا ہے دونوں جگہ بلفظ جمع لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ امانت صرف وہ مال ہی نہغیں جو کسی نے آپ کے پاس رکھ دیا ہو بلکہ تمام حقوق واجبہ جن کا ادا کرنا آپ کے ذمہ فرض ہے وہ سب امانات ہیں ان میں کوتاہی کرنا خیانت ہے اس میں تمام حقوق اللہ نماز روزہ حج زکوة بھی داخل ہیں اور تمام حقوق العباد جو منجانب اللہ کسی پر واجب ہیں یا اس نے خود کسی معاہدے اور معاملے کے ذریعہ اپنے پر…
Read the full tafseer →ایک ہی بات جو نیکیوں کا شیرازہ ہے:
ایک ہی جامع بات بہت سی نیکیوں کا شیرازہ ہے۔ فرمایا کہ ’اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں‘۔
لفظ ’امانت‘ محدود معنی میں نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ انسان کی جتنی قوتیں اور صلاحیتیں ہیں اور جن اسباب و وسائل سے بھی اللہ تعالیٰ نے اس کو بہرہ مند فرمایا ہے، وہ سب اس کی تحویل میں امانت ہیں اور ایک دن ان میں سے ایک ایک کی بابت اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ ان کے استعمال میں کوئی خیانت تو نہیں کی گئی ہے؟ قرآن میں تصریح ہے کہ سمع و بصر اور عقل و دل کی تمام صلاحیتوں سے متعلق ایک دن پرسش ہونی ہے اور جس نے بھی کوئی خیانت کی ہو گی…
Read the full tafseer →32۔ 1 یعنی ان کے پاس جو لوگوں کی امانتیں ہیں اس میں وہ خیانت نہیں کرتے اور لوگوں سے جو عہد کرتے ہیں انہیں توڑتے نہیں بلکہ ان کی پاسداری کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
8: یعنی بیویوں اور باندیوں کے سوا کسی اور طریقے سے جنسی خواہش پوری کرنا حرام ہے، اس لئے ایسے لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →والذین .................... رعون (07 : 23) ” جو اپنی امانتوں کی حفاظت اور اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں “۔ یہ وہ اخلاقی قدریں ہیں جن پر اسلام اپنے معاشرے کی بنیاداٹھاتا ہے۔ معاشرے میں امانتوں کی رعایت و حفاظت اور عہد کی حفاظت کا تصور اس امانت کبریٰ کی رعایت اور حفاظت سے اٹھتا ہے جو اللہ نے زمین اور پہاڑوں پر پیش کی۔ اور انہوں نے اس امانت کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا اور یہ انکار اس خوف کی وجہ سے ہوا کہ یہ بہت بڑا بھاری بوجھ ہے ، لیکن انسان نے اسے اٹھالیا۔ یہ تھی ، اسلامی نظریہ حیات کی امانت۔ عقیدہ توحید کی امانت اور یہ انسان نے اختیاراً قبول کی ، مجبوراً نہیں۔ یہ امانت جو انسانوں نے قبول کی جب وہ…
Read the full tafseer →9 اس میں اللہ کے اور بندوں کے سب حقوق آگئے۔ کیونکہ آدمی کے پاس جس قدر قوتیں ہیں سب اللہ کی امانت ہیں۔ ان کو اسی کی بتلائے ہوئے مواقع میں خرچ کرنا چاہیے۔ اور جو قول وقرار ازل میں باندھ چکا ہے اس سے پھرنا نہیں چاہیے۔
Read the full tafseer →آیت 32{ وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رٰعُوْنَ۔ } ”اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس کرنے والے ہیں۔“
یہ چاروں آیات سورة المومنون میں بھی آیت 5 ‘ 6 ‘ 7 اور 8 کے طور پر جوں کی توں آئی ہیں۔ البتہ اگلی آیت میں اہل ایمان کی سیرت کی ایک اضافی صفت کا ذکر ہے جو سورة المومنون کی مذکورہ آیات میں بیان نہیں ہوئی :
Read the full tafseer →19 اس آیت کی تشریح کے لیے دیکھئے سورة مومنون کی آیت نمبر 8 کا حاشیہ
Read the full tafseer →12۔ (ٹھیک ٹھیک اور بغیر کمی بیشی کے، بغیر کسی کی رورعایت کے، بلاکسی دباؤ یا لالچ کا اثر لئے ہوئے) (آیت) ” لامنتھم “۔ یعنی ان امانتوں کا خیال رکھنے والے جو انہوں نے اپنی سپردگی میں لی ہیں۔ (آیت) ” وعھدھم “۔ یعنی ان عہدوں کو پورا کرنے والے جو وہ دوسروں سے کرچکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
ان الانسان خلق ھلوعا، ھلوع کے لفظی معنی ہیں حریص، بےصبرا، کم ہمت، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ھلوع وہ شخص ہے جو کہ مال حرام کی حرص میں مبتلا ہو، یہاں یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ جب انسان کو پیدا ہی اس حال میں کیا گیا ہے تو پھر اس کا کیا قصور ؟ وہ مجرم کیوں قرار دیا گیا ؟ وجہ یہ ہے کہ مراد اس سے انسانی فطرت اور جبلت میں رکھی ہوئی استعداد اور مادہ ہے تو حق تعالیٰ نے انسان میں ہر خیر و شر کا مادہ اور استعداد بھی رکھی ہے اور شر و فساد کی بھی اور اس کو عقل و ہوش بھی عطا فرمائے ہیں اور اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ ہر ایک کا انجام بھی بتادیا، اب انسان کو اختیار ہے کہ دونوں قسم کی صلاحیتوں میں سے جس کو…
Read the full tafseer →والذین ھم لامانتھم وعھدھم راعون . یعنی وہ لوگ جو امانتوں کی حفاظت کرتے اور ان کے مالکوں کو پہنچا دیتے ہیں ‘ کچھ امانتیں تو خدا اور بندہ کے درمیان ہیں جیسے نماز ‘ روزہ ‘ غسل جنابت اور وہ تمام احکام جن کا تعلق محض حق اللہ سے ہے اور ان کو بجا لانا واجب ہے۔ ہر کمال وجود ‘ تمام لوازم حیات ‘ بیرونی اور اندرونی نعمتیں وغیرہ ان ساری چیزوں کی عطاء کی نسبت خدا کی طرف کرنی چاہیے۔ یہ بات جاننا اور ماننا لازم ہے کہ یہ سب کچھ الٰہی عطیہ اور خداوندی امانت ہے جو عاریۃً اللہ نے ہم کو دی ہے۔ ہم پیدائش کے وقت ایسے ہی تہی دست مفلس تھے جیسا مانگے کا کپڑا پہننے والا بذات خود برہنہ ہوتا ہے۔ کپڑے کا مالک نہیں ہوتا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
(32۔ 33) اور جو اپنی سپردتی میں لیے ہوئے دین (قرض) امانتوں اور اپنے آپس کے عہدوں کی پاسداری کرنے والے ہیں اور جو اپنی گواہیوں کو حکام کے سامنے ٹھیک ٹھیک ادا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →والذین ھم لامنتھم…: امانت و عہد کی حفاظت ایمان کی اور خیانت و بدعہدی نفاق کی علامت ہے، جیسا کہ نفاق کی علامات والی مشہور حدیث میں ہے۔ (دیکھیے بخاری : 33۔ مسلم : 58)”امانات“ کو جمع لانے سے مراد یہ ہے کہ وہ صرف مال ہی نہیں بلکہ ہر اس امانت کی حفاظت کرتے ہیں جس کی ادائیگی اللہ تعالیٰ پابندیوں کی طرف سے ان کے ذمے ہے۔ اس میں نماز، روزہ اور دوسری فرض عبادات اور واجب حقوق العباد سب شامل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–33
والذین فی اموالھم حق معلوم۔ اس سے مراد فرض زکوۃ ہے، یہ قتادہ اور ابن سیرین کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : زکوۃ کے علاوہ مراد ہے۔ علی بن ابی طلحہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے ہا، صلہ رحمی کرنا اور بوجھ اٹھانا ہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ حق کی صفت معلمو سے لگائی ہے۔ زکوۃ کے علاوہ معلوم نہیں، وہ تو ضرورت کے مطباق ہوتا ہے جبکہ اس میں کمی و بیشی ہوتی رہتی ہے۔ للسآئل و المحروم۔ سورة زاریات میں یہ بات پہلے گزر چیک ہے۔ والذین یصدقون بیوم الذین۔ یعنی یوم جزاء مراد قیامت کا دن ہے۔ اس بارے میں بحث سورة فاتحہ میں گزر چکی ہے۔ وہ الذین ھم من عذاب ربھم مشفقون۔ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں۔ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–35
19۔ عبد بن حمید نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین فی اموالہم حق معلوم اور وہ جن کے مالوں میں حصہ معین ہے یعنی وہ لوگ جو اپنے مالوں سے اس وقت دیتے ہیں جب عطیات نکالے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →[وَالَّذِينَ : اور وہ جو ہیں کہ ][ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ : وہ لوگ اپنی امانتوں کی ][ وَعَهْدِهِمْ : اور اپنے قول و قرار کی ][ رٰعُوْنَ : نگرانی کرنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →سادساً یوں فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ0032﴾ (اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی نگرانی کرنے والے ہیں) ۔ اللہ کے حقوق جو بندوں پر ہیں نماز، زکوٰۃ، روزے، کفارات، نذر کا پورا کرنا اور ان کے علاوہ بہت سی چیزیں یہ سب امانتیں ہیں جن کی ادائیگی یا اضاعت ہر شخص کو معلوم ہوتی ہے کہ میں نے کس حکم پر عمل کیا اور زندگی میں کس موقعہ پر حکم عدولی کی اس کی دوسروں کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ اسی طرح حقوق العباد جو ایک دوسرے پر واجب ہیں وہ بھی امانتیں ہیں ان کی ادائیگی فرض ہے ہر شخص اپنے متعلقہ احکام میں امانتدار ہے چھوٹے بڑے حکام اور ملوک اور رؤسا اور وزراء امانت دار ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–35
مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔
مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
10:۔ ” والذین ھم لاماناتہم وعھدھم راعون “ وہ امانتوں کی حفاظت اور عہد و پیمان کو پورا کرتے ہیں۔ یعنی ظلم نہیں کرتے اور وہ اپنی شہادتیں پوری پوری ادا کرتے ہیں اور گواہی میں کمی بیشی اور ہیرپھیر نہیں کرتے اور وہ نمازوں کی پوری پوری حفاظت کرتے ہیں۔ اولئک فی جنت مکرمون۔ یہ الا بمعنی لکن کی خبر ہے۔ ان صفتوں سے متصف اللہ کے مقبول بندے جنت کے باغوں میں نہایت عزت و شان سے رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
گذشتہ سے پیوستہ :
اس سے پہلے درس میں ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا انکار کرنے والوں کی تردید بیان کی اور قیامت کے وقوع اور مجرمین کی سزا کا حال بیان کیا یہ بھی بتایا کہ قیامت کے دن مجرمین تمنا کریں گے کہ کسی طرح ان کی جان بچ جائے ۔ فرمایا ان کی طرف سے کسی قسم کا فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ جہنم ان کو پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی جس میں سزا پائیں گے۔ اس کے بعد عام انسانوں کی حرص اور بےصبری کا ذکر فرمایا۔ یہ بھی بان کیا کہ عام طور پر انسان کی حالت یہ ہے کہ جب اسے خیر پہنچتی ہے۔ تو بخیل بن جاتا ہے۔ اور جب شر پہنچتا ہے تو بےصبری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ البتہ ان لوگوں کو اس گروہ میں مستثنیٰ…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رٰعُوْنَ 32
أمانت
أصل الأَمْن : طمأنينة النفس وزوال الخوف، والأَمْنُ والأَمَانَةُ والأَمَانُ في الأصل مصادر، ويجعل الأمان تارة اسما للحالة التي يكون عليها الإنسان في الأمن، وتارة اسما لما يؤمن عليه الإنسان، نحو قوله تعالی: وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ [ الأنفال/ 27] ، أي : ما ائتمنتم عليه،
( ا م ن ) امانت
۔ اصل میں امن کا معنی نفس کے مطمئن ہونا کے ہیں ۔ امن ، امانۃ اور امان یہ سب اصل میں مصدر ہیں اور امان کے معنی کبھی حالت امن کے آتے ہیں اور کبھی اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی کے پاس بطور امانت رکھی جائے ۔ قرآن میں ہے ؛۔
{ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ }…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
ترکیب : ھلوعا حال مقدرۃ من الانسان الھلع اشد الحرص یقال ھلع الرجل یھلع ھلعا وھلا عا فھو ھالع دھلوع وکذاجزوعاد منوعا حالان و اذالاولیٰ ظرف لجز وعا والاخریٰ لمنوعا الا المصلین استثناء من الجنس والمستثنیٰ منہ الانسان وھو جنس فی جنات ظرف لمکرومون۔
تفسیر : اور یہ مال جمع کرنا اور کنجوسی کرنا اس لیے ہے کہ ان الانسان خلق ھلوعا۔ انسان (بعض کہتے ہیں اس سے مراد کفار ہیں) فطرتی طور پر لالچی اور بےصبر پیدا ہوا ہے۔ اس کمبخت کی دور اندیشی اور اس کی زیرکی (جو خداوند عالم کی طرف سے بہ نسبت اور حیوانات کے زیادہ ملی تھی) اس کو بخل اور لالچ پر آمادہ کرتی ہے اور بڑے بڑے خیالات اور امیدیں بندھاتی ہے کہ سینکڑوں…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رٰعُوْنَ ۔ (المعارج : 32)
(اور وہ اپنی امانتوں اور اپنے عہدوپیمان کا پاس رکھنے والے ہیں۔ )
پانچویں اور چھٹی صفت امانتوں اور عہد کی پاسداری
اہلِ ایمان کی پانچویں اور چھٹی صفت کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے۔ پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ اپنی امانتوں کا پاس رکھنے والے ہیں۔ امانت کا لفظ بڑا وسیع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جو صلاحیتیں اور قوتیں عطا فرمائی ہیں یہ اس کی انسانوں کے پاس امانتیں ہیں۔ زندگی سب سے بڑی امانت ہے۔ جوانی زندگی کا ایک حصہ ہے لیکن اپنی اہمیت کے پیش نظر الگ سے اسے امانت کا درجہ دیا گیا ہے۔ مال و دولت بھی اللہ کی امانت ہے اور مال و دولت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
فہم القرآن
ربط کلام : جہنم سے بچنے والوں کے مزید اوصاف کا تذکرہ۔
اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے بچائے گا اور انہیں جنت میں داخل فرمائے گا ان میں مذکورہ بالا اوصاف کے ساتھ یہ وصف بھی پائیں جائیں گے کہ وہ اپنی امانتوں اور وعدوں کی پاسداری کرنے والے ہوں گے، وہ شہادتِ حق پر قائم رہتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، انہیں جنت میں عزت واحترام کے ساتھ رکھا جائے گا۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے مفصل مضامین کو چند الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔
جنتی لوگ دنیا میں اپنی امانتوں کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں :
مومنوں کے اوصاف میں یہ صفت بھی شامل ہوتی ہے کہ وہ امانت کی حفاظت اور عہد کی…
Read the full tafseer →32 : وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَ مٰنٰتِھِمْ (اور جو لوگ اپنی امانتوں )
قراءت : لا مانتھم۔ مکی نے پڑھا ہے۔ الاماناتؔ کا لفظ شرع کی امانتیں اور بندوں کی امانتوں کو شامل ہے۔ وَعَھْدِ ھِمْ (اور اپنے وعدوں کا) اس میں مخلوق کے معاہدات، نذور اور قسمیں سب شامل ہیں۔ رَاعُوْنَ (خیال رکھنے والے ہیں) حفاظت کرنے والے ہیں۔ نہ خیانت کرنے والے اور نہ ہی توڑنے والے ہیں۔ ایک قول ہے کہ اماناتؔ وہ ہیں جن پر عقل دلالت کرے۔ العھدؔ جس کو رسول لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–33
24 ۔…” والذین فی اموالھم حق معلوم 25 ۔ للسائل والمحروم 26 ۔ والذین یصدقون بیوم الدین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
19۔ 35۔ شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے کافروں اور ایمان دار لوگوں کی نشانیاں مقابلہ کے طور پر بیان فرمائی ہیں مثلاً کافروں کی نشانی یہ ذکر فرمائی کہ وہ لوگ عذاب آخرت اور قیامت کے منکر ہیں اس لئے از خود عذاب الٰہی کی خواہشیں کرتے ہیں اور ایمان دار لوگوں کی یہ نشانی ہے کہ قیامت اور عذاب آخرت کا ان کے دل میں پورا یقین ہے اس واسطے عذاب الٰہی کا ہر وقت ان کے جی میں ایک خوف رہتا ہے کافروں کی یہ نشانی ہے کہ بدکاری کو کچھ عیب نہیں جانتے ایمان دار اس کے برخلاف ہیں اسی طرح کافروں کی یہ نشانی ہے کہ مال جمع کرکے رکھتے ہیں اور محتاجوں کو کوڑی نہیں دیتے اور ایمان داروں کی یہ نشانی ہے کہ ان کے مال میں…
Read the full tafseer →(والذین ھم لامنتھم وعھدھم راعون) ۔ یعنی وہ امانتوں اور عہد کی رعایت رکھنے اور حفاظت کرنے والے ہیں، امانتوں کو ادا کرنے اور عہد کو پورا کرنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں یہ آیت کریمہ ان تمام امانتوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے وہ پوشیدہ امور جن کا انسان مکلف بنایا گیا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور وہ امانتیں جو ان اموال اور اسرار کے بارے میں جو آپس میں بندوں کے مابین ہیں۔ اسی طرح یہ عہد اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس عہد کو بھی شامل ہے جو اس نے مخلوق سے کیا ہے کیونکہ عہد کے بارے میں بندے سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اس عہد پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
قول باری ہے (للسائل والمحروم سائل اور محروم کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سوال کرنے والے کو سائل کہتے ہیں اور محروم وہ شخص ہے جسے کسی تجارت میں کامیابی نہ ہوتی ہو۔ ابوقلابہ کا قول ہے کہ محروم وہ شخص جس کا مال چلا جائے۔ حسن بن محمد کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا، اسے مال غنیمت حاصل ہوا، اس کے بعد کچھ دوسرے لوگ بھی آگئے اور یہ آیت نازل ہوئی (فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے)
حضرت انس ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان المحروم من حرم وصیتہ بیشک محروم وہ شخص ہے جسے اس چیز سے محروم رکھا جائے جس کی اس کے لئے وصیت کی…
Read the full tafseer →27 ۔ امانت کی پابندی و پاسداری کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور جو پاسداری کرتے ہیں اپنی امانتوں کی، اس میں سب حقوق واجبہ آگئے خواہ ان کا تعلق حقوق اللہ سے ہو یا حقوق العباد سے کہ یہ سب ہی دراصل امانتیں ہیں جن کی ادائیگی کا بار انسان کی گردن پر ہے، ( معارف القرآن وغیرہ) جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا ۙ وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بالْعَدْلِ (النساء 58 پ 5) اسی طرح ہاتھ پاؤں دل و دماغ وغیرہ جو بھی ظاہری یا باطنی قوتیں انسان کو بخشی گئی ہیں یہ سب بھی درحقیقت اللہ کی پاک امانتیں ہیں جو انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–44
نیک لوگوں کی صفات
تشریح : ایک اچھے پکے اور صالح جنت کے حقدار کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ کافی دفعہ وضاحت سے پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں یہاں پھر مختصراً بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان فطرتاً کمزور طبیعت یعنی غلطیوں کا پتلا سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ہے ہی۔ مگر اس کی اصلاح کے لئے ہی تو قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ تو جو شخص اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتا ہے تو وہی بہادر انسان ہے وہ خود کو شیطان کے چنگل سے نکال کر بندگانِ الٰہی میں شامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عمل بہت ضروری ہے۔ اگر زبانی ایمان لے آنا کافی ہوتا تو پھر منافق دوزخ کے نچلے درجے میں کیوں ڈالے جاتے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–34
سورة المعارج۔
آیات 1 تا 35۔
اسرار ومعارف۔
مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔
مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔
جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ف 4 یعنی سچی گواہی دیتے ہیں کسی کے ڈر یا طمع سے گواہی دینے میں جھوٹ نہیں بولتے اور نہ کوئی بات چھپاتے ہیں دیکھیے ( سورة بقرہ 42-40)
Read the full tafseer →(70:32) والذین ہم لامانتھم وعدھم راعون ۔ الانسان الہلوع کے مستثنیت کی چھٹی صفت ہے۔ اور جو اپنی امانتوں اور اقراروں کا پاس کرتے ہیں۔
راعون۔ اسم فاعل جمع مذکر کا صیغہ ہے رعایۃ ورعی (باب فتح) مصدر سے الرعی اصل میں حیوان یعنی جاندار چیز کی حفاظت کو کہتے ہیں خواہ غذاء کے ذریعہ ہو جو اس کیء زندگی کی محافظ ہے یا اس سے دمشن کو دفع کرنے کے ذریعہ ہو۔
اور رعیتہ کے معنی کسی کی نگرانی کرنے کے ہیں اور ارعیتہ کے معنی ہیں میں نے اس کے سامنے چارہ ڈالا۔ اور رعی چارہ یاگھاس کو کہتے ہیں اور مرعی (ظرف مکان) چراگاہ اور گھاس یا چارہ ہے۔
قرآن مجید میں ہے اخرج منھا ماء ھا ومرعھا (79:31) اس میں سے اس کا پانی اور چارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
لغات القرآن۔
ھلوعا۔ بزدل۔ ڈرپوک۔ جزوعا۔ گھبرا جانے والا۔ منوعا۔ ہاتھ روک لینے والا۔
تشریح :
اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آدمی کو بڑی عظمتوں اور زبردست صلاحیتوں سے نواز ہے وہ جب کائنات میں آگے بڑھتا ہے تو خشکی، تری اور فضاؤں پر حکمرانی کرنے لگتا ہے لیکن اس کی تخلیق اور فطرت میں کچھ کمزوریاں بھی رکھ دی گئی ہیں۔ اگر وہ ان کمزوریوں پر قابو پا لے تو پھر وہ دنیا میں سربلند اور آخرت کی نجات کا مستحق بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ آدمی اپنے بےانتہا صلاحیتوں کے باوجود بہت بےصبرا، کم ہمت اور تنگ دل واقع ہوا ہے۔ اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور جب اس کو خیر اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–35
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ وہ ہیں جو امانت اور اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں اور حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ منافق لوگوں کی نشانی یہ ہے کہ امانت میں خیانت کرتے ہیں اور جب وعدہ یا کوئی عہدوپیمان کرتے ہیں تو اس کو پورا نہیں کرتے ، ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ جو گواہی دیتے ہیں سچی دیتے ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے نبی نے فرمایا کہ منافق لوگ ہر بات میں جھوٹ سے باز نہیں آتے، اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ایماندار لوگوں کی نماز کی دونشانیاں ذکر فرمائی ہیں۔
(1) ایک تو یہ کہ وہ لوگ سلسلہ وار ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں یہ نہیں کہ گنڈے دار نماز پڑھتے ہوں کہ کبھی پڑھی اور کبھی چھوڑ دی۔
(2) دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–36
[7] یعنی روز جزا کا یقین رکھتے ہیں اور یہ بنیادی عقیدہ ان کے تمام نیک اعمال کا محرک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–35
نمازی کی سیرت
2: قرآن حکیم یہ خوبی شان امتیاز رکھتی ہے ۔ کہ اس میں حقائق نفسیات کا بھی مذکر ہے ۔ یعنی اس کتاب علم ومعرفت میں یہ بھی بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی فطرت کیا ہے ؟ فرمایا ۔ اس میں ایک ہم گیر عیب یہ ہے ۔ کہ یہ کم ہمت اور بےصبر ہے ۔ اگر اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو بلبلا اٹھتا ہے ۔ اور نالہ وشیون سے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے ۔ اور جہاں بیٹھتا ہے اسی بات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ کہ میں بہت مصیبت زدہ ہوں ۔ مجھ کو فلک ستم شیوہ نے بہت دکھ پہنچایا ہے ۔ اور اگر برے دن پھرجائیں اور آسودہ حال ہوجائے ۔ تو پھر انتہا درجے کا بخیل اور ممسک ہوجاتا ہے ۔ پائی پائی کو گنتا ہے ۔ اور پیسے پیسے کا حساب رکھتا…
Read the full tafseer →(32) اور جو اپنے پاس رکھی ہوئی امانتوں اور اپنے عہد کی نگہداشت کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–36
ف 9۔ یعنی نماز میں ظاہرا یا باطنا دوسری طرف توجہ نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں
32 ؎ آیت 23 سے صلوٰۃ ادا کرنے والوں کی نشانیاں گنوائی جا رہی ہیں اور ان میں سے ان کی یہ نشانی بھی ہے کہ جو امانتیں ان کے سپرد کی جاتی ہیں وہ ان میں خیانت نہیں کرتے اور ظاہر ہے کہ امانتوں سے مراد ہر طرح کی امانتیں ہیں۔ ہمارے اعضاء ، ہماری عقلیں اور ہمارے ہوش و حواس یہاں تک کہ ہماری زندگی سب کی سب اللہ تعالیٰ کی امانتیں ہیں اور ان سب کو اسی کے حکم کے مطابق صرف کرنا دیانتداری ہے اور ان کو اس کی نافرمانی میں خرچ کرنا بددیانتی اور خیانت ہے۔ بہرحال اس میں ہر طرح کی امانتیں داخل ہیں جو امانتیں انسان ، انسان کے سپرد کردیتا ہے اور اسی طرح جو عہد و…
Read the full tafseer →Rights of Allah and Rights of Human beings both are included in Trust Obligations
وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ (and those who are careful about their trusts and covenants...70:32). The word amanat is the plural of amanah 'trust and covenant' as in:
إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا
'Surely, Allah commands you to fulfill trust obligations towards those entitled to them. [ 4:58] '
The use of plural number indicates that amanah does not only refer to 'that which people might deposit with a trustee for safe-keeping' but it also…
Read the full tafseer →21 "Trusts" imply those trusts which Allah has entrusted to men as well as those which one man entrusts to another because of faith and confidence. Likewise, "promises" imply those promises which man makes with his God as well as those which one man makes with another. Keeping and fulfilling both these kinds of trusts and promises is a necessary characteristic of a believer. In a Hadith Hadrat Anas (may Allah bless him) has reported that when ever the Holy Prophet (upon whom be peace) addressed his Companions, he would always give them the instruction: "Beware, the one who does not keep his…
Read the full tafseer →