Al-Ma'aarij 70:31

Al-Ma'aarij · from ayah 31

70:31

فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ ۟ۚفَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ‌ۚ

اور جو لوگ ان کے سوا اور کے خواستگار ہوں وہ حد سے نکل جانے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

But whoever seeks beyond that, then they are the transgressors -

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij

All translations of 70:31

البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو لوگ ان کے سوا اور کے خواستگار ہوں وہ حد سے نکل جانے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اب جو کوئی اس کے علاوه (راه) ڈھونڈے گا توایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

البتہ جو لوگ ان کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیں وہ حد سے گزرے ہوئے لوگ ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو جو ان دو کے سوا اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو جو ان کے علاوہ طلب کرے تو وہی لوگ حد سے گزرنے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جو اس کے علاوہ کوئی راستہ ڈھونڈے تو وہی حد سے گزرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

البتہ ان کے علاوہ جو کوئی اور راہ چاہیں تو ایسے ہی لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہاں جس نے اس سے آگے بڑھ کر چاہا تو وہی لوگ حدود سے تجاوز کرنے والے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس جس نے ڈھونڈی کوئی راہ اس کے سوا (اپنی شہوت رانی کے لئے) تو ایسے ہی لوگ ہیں حد سے نکلنے والے

— مولانا اسحاق مدنی

البتہ جو کوئی اس کے علاوہ (شہوت رانی کا) طلبگار ہوا تو یہ لو حد (شرعی) سے نکل جانے والے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو جو کوئی بھی اس کے علاوہ کچھ چاہے گا تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو لوگ ان کے سوا اور کے خواستگار ہوں وہ حد سے نکل جانے والے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

but any who seeks to go beyond that, it is indeed they who are the transgressors,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

but the one who seeks (sexual gratification) beyond that, then such people are the transgressors,__

— Muhammad Taqi Usmani

but the one who seeks (sexual gratification) beyond that, then such people are the transgressors,__

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But whosoever seeks beyond that, then it is those who are trespassers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But whoso seeketh more than that, those are they who are transgressors;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But whoever seeks beyond that, then they are the transgressors -

— Saheeh International

but whoever goes beyond this is a transgressor;

— Muhammad Sarwar

But he who seeks to go beyond this, these it is that go beyond the limits--

— Muhammad Habib Shakir

And whosoever seeketh beyond that, then it is those who are the trespassers

— Abdul Majid Daryabadi

But those who trespass beyond this are transgressors;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 70:31

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–35

انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ یہ بڑا ہی بےصبرا ہے، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہوجاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بدترین چیز انسان میں بیحد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے (ابو داؤد) پھر فرمایا کہ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں وقتوں کی نگہبانی کرنے واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے سکون…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَعَارِج 20 تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، المومنون، حاشیہ 7۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ ، اس سے پہلی آیت میں نفسانی خواہش اور شہوت کا جائز مصرف منکوحہ بیوی یا شرعی لونڈی بتلایا گیا تھا اس آیت میں ان دو صورتوں کے سوا شہوت رانی کی ہر صورت کو ممنوع و ناجائز قرار دیا ہے اس میں نکاح کی وہ صورتیں بھی داخل ہیں جو شرعاً حلال نہیں جیسے ان عورتوں سے نکاح جن سے شرعاً نکاح حرام ہے اسی طرح متعہ جو شرعا نکاح نہیں۔ اپنے ہاتھ سے شہوت پوری کرنا حرام ہے۔ اور اکثر فقہاء رحم اللہ نے استمناء بالید یعنی اپنے ہاتھ سے شہوت پوری کرلینے کو بھی اس کے عموم میں داخل قرار دے کر حرام قرار دیا ہے۔ ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطار سے اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 29–31

طہارت اخلاق: نماز، انفاق اور خشیت الٰہی کے بعد یہ ان کے اخلاق کی طہارت کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ وہ سانڈ بن کر تمام حدود الٰہی کو توڑ تاڑ کر رکھ دیں۔ وہ اپنی جنسی خواہشوں کواپنی بیویوں اور لونڈیوں؂۱ تک محدود رکھتے ہیں۔ اس حد سے تجاوز کرنے کی جسارت نہیں کرتے۔ اور جو لوگ اس سے تجاوز کرتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ وہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے حدود سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ حدود الٰہی سے تجاوز کی سزا بھگتیں گے اس لیے کہ خدا اپنے حدود کی بے حرمتی کرنے والوں سے ضرور انتقام لے گا۔ ؂۱ لونڈیوں اور غلاموں کے مسئلہ پر سورۂ نور کی تفسیر میں مفصل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 30–31

30۔ 1 یعنی انسان کے جنسی تسکین کے لئے اللہ نے دو جائز ذرائع رکھے ہیں ایک بیوی اور دوسری (لونڈی) بہرحال اہل ایمان کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ جنسی خواہش کی تکمیل و تسکین کے لئے ناجائز ذریعہ اختیار نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 31–33

8: یعنی بیویوں اور باندیوں کے سوا کسی اور طریقے سے جنسی خواہش پوری کرنا حرام ہے، اس لئے ایسے لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فمن .................... العدون (08 : 13) ” البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں “ یوں اسلام ہر قسم کی جنسی گندگی کے سامنے یہ بندباندھ دیتا ہے۔ ان دو واضح صورتوں کے علاوہ جنسی تعلق حرام ہے۔ اسلام نفس جنسی تعلق میں کوئی گندگی محسوس نہیں کرتا لیکن ان دو جائز صورتوں کے علاوہ سب تعلقات کو حرام قرار دیتا ہے۔ اسلام ایک صاف ستھرا اور واضح اور کھلا معاشرتی نظام چاہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 29–31

8 یعنی بیوی اور باندی کے سوا جو اور کوئی جگہ قضائے شہوت کے لیے ڈھونڈے وہ حد اعتدال اور حد جواز سے باہر قدم نکالتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 26–31

آیت 26{ وَالَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۔ } ”اور جو فیصلے کے دن کی تصدیق کرتے ہیں۔“ زیر مطالعہ آیات کی سورة المومنون کی ابتدائی آیات کے ساتھ مناسبت کے حوالے سے اس آیت کا تعلق سورة المومنون کی اس آیت سے ہے : { وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ۔ } ”اور جو لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں“۔ گویا زیر مطالعہ آیت سورة المومنون کی مذکورہ آیت کی وضاحت کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے لغویات سے اعراض کیوں کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ وہ قیامت اور جزا و سزا کے دن پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے جو شخص آخرت پر یقین رکھتا ہے اس کے لیے تو اس زندگی کا ایک ایک لمحہ امر کبھی نہ مرنے والا ‘…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

18 آیت نمبر 29، 30 اور 31 کی تشریح کے لیے دیکھئے سورة مومنون کی آیت نمبر 5، 6، 7 کے حواشی اس کے علاوہ النور آیت نمبر 30 اور الاحزاب آیت نمبر : 35 بھی ملاحظہ فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 27–31

11۔ ان سب آیتوں کے لئے ملاحظہ ہوں سورة ال مومن ون (پ 18) کے پہلے رکوع کے ابتدائی حواشی ، (آیت) ” لفروجھم حفظون “۔ اس سے ادھر اشارہ ہوگیا کہ علاوہ حرامکارہ کے اس کے مبادی ومقدمات بھی ناجائز ہیں۔ (آیت) ” فمن ..... العدون “۔ اس آیت نے غیر طبعی اور غیر شرعی شہوت رانی کی ساری صورتوں کو حرام قرار دے دیا۔ وھذہ الایۃ تدل علی حرمۃ المتعۃ ووطیء الذکر ان والبھائم والاستمناء بالکف (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–35

ان الانسان خلق ھلوعا، ھلوع کے لفظی معنی ہیں حریص، بےصبرا، کم ہمت، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ھلوع وہ شخص ہے جو کہ مال حرام کی حرص میں مبتلا ہو، یہاں یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ جب انسان کو پیدا ہی اس حال میں کیا گیا ہے تو پھر اس کا کیا قصور ؟ وہ مجرم کیوں قرار دیا گیا ؟ وجہ یہ ہے کہ مراد اس سے انسانی فطرت اور جبلت میں رکھی ہوئی استعداد اور مادہ ہے تو حق تعالیٰ نے انسان میں ہر خیر و شر کا مادہ اور استعداد بھی رکھی ہے اور شر و فساد کی بھی اور اس کو عقل و ہوش بھی عطا فرمائے ہیں اور اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ ہر ایک کا انجام بھی بتادیا، اب انسان کو اختیار ہے کہ دونوں قسم کی صلاحیتوں میں سے جس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فمن ابتغی وراء ذلک فاولئک ھم العادون . یعنی بیویوں اور باندیوں کے سوا (کسی سے یا غیر مقام میں) کرنے کے جو لوگ طلبگار ہوں گے وہی کامل طور پر حد (شرعی) سے تجاوز کرنے والے ہیں کیونکہ اللہ نے جو کچھ انکے لیے حلال کیا تھا ‘ اس پر انہوں نے بس نہیں کیا بلکہ فعل حرام کے مرتکب ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر کوئی شخص کسی (اجنبی) عورت کو دیکھ کر ...... 1 ؂ معالج طبی اور عادت فطری کا تقاضا ہے کہ فاعل اعلیٰ اور بالا ہو۔ بقاء صحت مردانہ اور زنانہ اعصاب کا ضعف سے بچاؤ اور فطرت حیرانی کا یہی دستور العمل ہے۔ فحش پرست ‘ دشمنان صحت نے اپنی دماغی آوارگی اور نظری بےلگامی کے جو طریقے ہر ملک میں جاری کر رکھے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 29–31

(29۔ 31) اور جو کہ شرمگاہوں کو حرام سے محفوظ رکھنے والے ہیں لیکن اپنی چار بیویوں سے یا اپنی شرعی لونڈیوں سے خواہ وہ کتنی ہوں کیونکہ اس حلال کام میں ان پر کوئی الزام اور گناہ نہیں اور جو اس کے علاوہ شہوت رانی کا طلب گار ہو تو یہ لوگ حلال سے حرام کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 29–31

والذین ھم لفروجھم حفظون …: ان آیات سے بیویا ور لونڈی کے علاوہ جنس خواہش پوری کرنے کے تمام ذرائع مثلاً زنا، متعہ ، لڑکوں یا جانوروں سے بدفعلی اور استمنا بالید وغیرہ کی حرمت ثابت ہوئی، بلکہ ان اسباب کی حرمت بھی معلوم ہوئی جو آدمی کو ان چیزوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ مثلاً عریانی، غیر محرموں سے میل جول، گناہ پر ابھارنے والے گیت، ناول، افسانے اور فلمیں وغیرہ۔ مزید دیکھیے سورة مومنون (5 تا 7)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 24–33

والذین فی اموالھم حق معلوم۔ اس سے مراد فرض زکوۃ ہے، یہ قتادہ اور ابن سیرین کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : زکوۃ کے علاوہ مراد ہے۔ علی بن ابی طلحہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے ہا، صلہ رحمی کرنا اور بوجھ اٹھانا ہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ حق کی صفت معلمو سے لگائی ہے۔ زکوۃ کے علاوہ معلوم نہیں، وہ تو ضرورت کے مطباق ہوتا ہے جبکہ اس میں کمی و بیشی ہوتی رہتی ہے۔ للسآئل و المحروم۔ سورة زاریات میں یہ بات پہلے گزر چیک ہے۔ والذین یصدقون بیوم الذین۔ یعنی یوم جزاء مراد قیامت کا دن ہے۔ اس بارے میں بحث سورة فاتحہ میں گزر چکی ہے۔ وہ الذین ھم من عذاب ربھم مشفقون۔ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں۔ ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–35

19۔ عبد بن حمید نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین فی اموالہم حق معلوم اور وہ جن کے مالوں میں حصہ معین ہے یعنی وہ لوگ جو اپنے مالوں سے اس وقت دیتے ہیں جب عطیات نکالے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَمَنِ ابْتَغٰى: پھر جس نے جستجو کی ][ وَرَاۗءَ ذٰلِكَ : اس کے علاوہ کی ][ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ : تو وہ لوگ ہی حد سے بڑھنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ0031 ﴾ (سو جو شخص اس کے علاوہ کا طلب گار ہوگا یعنی بیوی اور شرعی باندی کے علاوہ اور کسی جگہ شہوت پوری کرے گا سو یہ لوگ ہیں حد سے آگے بڑھ جانے والے) یعنی اللہ تعالیٰ نے جو حد مقرر فرمائی کہ شہوت پورا کرنے کے جذبات کو صرف بیویوں اور باندیوں تک محدود رکھیں اس کے خلاف ورزی کر کے مقررہ حد سے آگے نکل کر اپنے کو گناہ گار بنانے والے ہیں اور حدود سے آگے بڑھ جانے پر جو دنیاوی اور اخروی عذاب ہے اس کے مستحق ہوجانے والے ہیں۔ بیویوں اور شرعی باندیوں کے علاوہ جس سے بھی شہوت رانی کی جائے وہ حرام ہے اس میں زنا کاری اور بیویوں کے ساتھ غیر فطری عمل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–35

مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–31

9:۔ ” والذین ھم لفروجہم حافظون “ وہ اپنی شرمگاہوں کو بدکاری سی محفوظ رکھتے ہیں اور ناجائز طریق پر ان کو استعمال نہیں کرتے، البتہ اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے استمتاع کرتے ہیں۔ جو شخص بیویوں اور لونڈیوں کے علاوہ شہوت رانی کی کوئی اور راہ تلاش کرے گا وہ حد سے تجاوز کرے گا۔ استمناء بلید، وطی فی الدبر اور نکاح متعہ وغیرہ ناجائز طریقوں میں داخل ہیں۔ نکاح متعہ کی تحقیق سورة مومنون کی تفسیر میں گذر چکی ہے ملاحظہ ص 754 ص حاشیہ 7 ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–35

گذشتہ سے پیوستہ : اس سے پہلے درس میں ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا انکار کرنے والوں کی تردید بیان کی اور قیامت کے وقوع اور مجرمین کی سزا کا حال بیان کیا یہ بھی بتایا کہ قیامت کے دن مجرمین تمنا کریں گے کہ کسی طرح ان کی جان بچ جائے ۔ فرمایا ان کی طرف سے کسی قسم کا فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ جہنم ان کو پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی جس میں سزا پائیں گے۔ اس کے بعد عام انسانوں کی حرص اور بےصبری کا ذکر فرمایا۔ یہ بھی بان کیا کہ عام طور پر انسان کی حالت یہ ہے کہ جب اسے خیر پہنچتی ہے۔ تو بخیل بن جاتا ہے۔ اور جب شر پہنچتا ہے تو بےصبری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ البتہ ان لوگوں کو اس گروہ میں مستثنیٰ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْعٰدُوْنَ۝ 31 ۚ ابتغاء (ينبغي) البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، تجاوزه أم لم يتجاوزه، فتارة يعتبر في القدر الذي هو الكمية، وتارة يعتبر في الوصف الذي هو الكيفية، يقال : بَغَيْتُ الشیء : إذا طلبت أكثر ما يجب، وابْتَغَيْتُ كذلك، قال اللہ عزّ وجل : لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 48] ، وأمّا الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] ، الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–35

ترکیب : ھلوعا حال مقدرۃ من الانسان الھلع اشد الحرص یقال ھلع الرجل یھلع ھلعا وھلا عا فھو ھالع دھلوع وکذاجزوعاد منوعا حالان و اذالاولیٰ ظرف لجز وعا والاخریٰ لمنوعا الا المصلین استثناء من الجنس والمستثنیٰ منہ الانسان وھو جنس فی جنات ظرف لمکرومون۔ تفسیر : اور یہ مال جمع کرنا اور کنجوسی کرنا اس لیے ہے کہ ان الانسان خلق ھلوعا۔ انسان (بعض کہتے ہیں اس سے مراد کفار ہیں) فطرتی طور پر لالچی اور بےصبر پیدا ہوا ہے۔ اس کمبخت کی دور اندیشی اور اس کی زیرکی (جو خداوند عالم کی طرف سے بہ نسبت اور حیوانات کے زیادہ ملی تھی) اس کو بخل اور لالچ پر آمادہ کرتی ہے اور بڑے بڑے خیالات اور امیدیں بندھاتی ہے کہ سینکڑوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 30–31

اِلاَّ عَلٰٓی اَزْوَاجِھِمْ اَوْمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَاِنَّھُمْ غَیْرُمَلُوْمِیْنَ ۔ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْعٰدُوْنَ ۔ (المعارج : 30، 31) بجز اپنی بیویوں اور اپنی مملوکہ عورتوں کے، سو اس باب میں ان کو کوئی ملامت نہیں۔ البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ ) ایک غلط فہمی کا ازالہ سابقہ آیت کریمہ سے یہ غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے کہ جو اصحابِ ایمان اور اللہ والے ہوتے ہیں وہ اپنی شرمگاہوں کی اس طرح حفاظت کرتے ہیں کہ وہ جنسی تعلق کو اپنے لیے ایک عیب سمجھتے ہیں۔ وہ بالکل راہبوں اور جوگیوں کی طرح زندگی بھر نہ شادی کرتے ہیں اور نہ کسی اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–31

فہم القرآن ربط کلام : بیشک اللہ کے عذاب سے بےخوف نہیں ہونا چاہیے لیکن جن لوگوں نے قرآن کے بیان کردہ اوصاف اپنائے وہ جہنم کے عذاب سے بےخوف ہوں گے، جہنم کے عذاب سے مامون رہنے والوں کے اوصاف میں یہ صفت بھی ہوتی ہے۔ جہنم کے عذاب سے محفوظ رہنے والوں میں یہ وصف بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ہاں انہیں اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے کا حق ہے۔ اس سے ان پر کوئی ملامت نہیں جو لوگ اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے سوا کسی اور کے ساتھ ازدواجی تعلقات اور اس جیسی حرکات کریں گے وہ حد سے نکل جانے والے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مرد اور عورت میں ایک دوسرے کے ساتھ ملاپ کرنے کا جذبہ اور قوت رکھی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

31 : فَمَنِ ابْتَغٰی (ہاں جو طلبگار ہوا) جماع کی جگہ تلاش کی۔ وَرَآ ئَ ذٰلِکَ (ان کے علاوہ) بیویوں اور لونڈیوں کے علاوہ فَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْعٰدُوْنَ (ایسے لوگ حد سے نکلنے والے ہیں) حلال سے حرام کی طرف تجاوز کرنے والے۔ فائدہ : یہ آیت متعہ کی حرمت، لواطت کی حرمت اور بہائم سے جماع اور استمناء بالید کی حرمت کو ثابت کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 25–33

24 ۔…” والذین فی اموالھم حق معلوم 25 ۔ للسائل والمحروم 26 ۔ والذین یصدقون بیوم الدین۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–35

19۔ 35۔ شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے کافروں اور ایمان دار لوگوں کی نشانیاں مقابلہ کے طور پر بیان فرمائی ہیں مثلاً کافروں کی نشانی یہ ذکر فرمائی کہ وہ لوگ عذاب آخرت اور قیامت کے منکر ہیں اس لئے از خود عذاب الٰہی کی خواہشیں کرتے ہیں اور ایمان دار لوگوں کی یہ نشانی ہے کہ قیامت اور عذاب آخرت کا ان کے دل میں پورا یقین ہے اس واسطے عذاب الٰہی کا ہر وقت ان کے جی میں ایک خوف رہتا ہے کافروں کی یہ نشانی ہے کہ بدکاری کو کچھ عیب نہیں جانتے ایمان دار اس کے برخلاف ہیں اسی طرح کافروں کی یہ نشانی ہے کہ مال جمع کرکے رکھتے ہیں اور محتاجوں کو کوڑی نہیں دیتے اور ایمان داروں کی یہ نشانی ہے کہ ان کے مال میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فمن ابتغی ورآء ذالک) ۔ پس جو بیوی اور لونڈی کے علاوہ تلاش کریں (فاولئک ھم العادون) ۔ تو وہ حد سے نکل جانے والے ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے اس سے تجاوز کرکے اس میں پڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہ آیت کریمہ نکاح متعہ (اور مروجہ حلالہ) کی حرمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ یہ زوجہ مقصود ہے نہ لونڈی۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–44

قول باری ہے (للسائل والمحروم سائل اور محروم کے لئے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سوال کرنے والے کو سائل کہتے ہیں اور محروم وہ شخص ہے جسے کسی تجارت میں کامیابی نہ ہوتی ہو۔ ابوقلابہ کا قول ہے کہ محروم وہ شخص جس کا مال چلا جائے۔ حسن بن محمد کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا، اسے مال غنیمت حاصل ہوا، اس کے بعد کچھ دوسرے لوگ بھی آگئے اور یہ آیت نازل ہوئی (فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے) حضرت انس ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان المحروم من حرم وصیتہ بیشک محروم وہ شخص ہے جسے اس چیز سے محروم رکھا جائے جس کی اس کے لئے وصیت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

26 ۔ حدود و فطرت سے تجاوز موجب عذاب، والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنہوں نے اس کے سوا کوئی اور راہ ڈھونڈی وہی اس کے حکم و ارشاد کی خلاف ورزی کرنے والے حد سے تجاوز کرنے والے ہیں، والعیاذ باللہ، جو دین فطرت کی طرف سے مقرر کردہ ان حدوں سے نکلنے والے ہیں، جو ان فطری تقاضوں کی تکمیل کا سامان کرنے والی، اور ان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور و ہمکنار کرنے والی ہیں، اور اس طرح حدود و فطرت کو پھلانگنے والے ایسے لوگ خود اپنی تباہی کا سامان کرتے ہیں، والعیاذ باللہ۔ پس اس حصر سے معلوم ہوا کہ زنا متعہ جلق اور اغلام بازی وغیرہ سب حرام ہیں کہ یہ سب صورتیں حلال اور جائز طریقوں کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–44

نیک لوگوں کی صفات تشریح : ایک اچھے پکے اور صالح جنت کے حقدار کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ کافی دفعہ وضاحت سے پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں یہاں پھر مختصراً بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان فطرتاً کمزور طبیعت یعنی غلطیوں کا پتلا سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ہے ہی۔ مگر اس کی اصلاح کے لئے ہی تو قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ تو جو شخص اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتا ہے تو وہی بہادر انسان ہے وہ خود کو شیطان کے چنگل سے نکال کر بندگانِ الٰہی میں شامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عمل بہت ضروری ہے۔ اگر زبانی ایمان لے آنا کافی ہوتا تو پھر منافق دوزخ کے نچلے درجے میں کیوں ڈالے جاتے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–34

سورة المعارج۔ آیات 1 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 29–31

ف 3 یعنی جو اپنی بیوی یا لونڈی کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے اپنی شہوت پوری کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ حرام کاری کا ارتکاب کرنے والے ہیں۔ (دیکھیے مومنون :7)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(70:31) فمن ابتغی وراء ذلک جملہ شرطیہ ہےعاطفہ۔ من شرطیہ (بمعنی جمع) جس نے (جنہوں نے) ابتغی۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ابتغاء (افتعال) مصدر سے۔ اس نے چاہا۔ اس نے تلاش کیا۔ وراء اصل میں مصدر ہے اس کا معنی ہے آڑ۔ حد فاصل۔ کسی چیز کا آگے ہونا۔ پیچھے ہونا۔ علاوہ۔ سوا ہونا۔ فصل اور حد بندی پر دلالت کرتا ہے۔ اس لئے سب معنی میں مستعمل ہے۔ ذلک سے مراد اپنی بیویوں اور باندیوں کے علاوہ کسی اور سے یا کسی غیر مقام میں اپنی شرمگاہوں کو استعمال کرنا ہے۔ وراء ذلک۔ مضاف مضاف الیہ مل کر ابتغی کا مفعول۔ فاولئک ہم العادون :جواب شرط اور جملہ جواب شرط ہے۔ اولئک اسم اشارہ جمع مذکر۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–35

لغات القرآن۔ ھلوعا۔ بزدل۔ ڈرپوک۔ جزوعا۔ گھبرا جانے والا۔ منوعا۔ ہاتھ روک لینے والا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آدمی کو بڑی عظمتوں اور زبردست صلاحیتوں سے نواز ہے وہ جب کائنات میں آگے بڑھتا ہے تو خشکی، تری اور فضاؤں پر حکمرانی کرنے لگتا ہے لیکن اس کی تخلیق اور فطرت میں کچھ کمزوریاں بھی رکھ دی گئی ہیں۔ اگر وہ ان کمزوریوں پر قابو پا لے تو پھر وہ دنیا میں سربلند اور آخرت کی نجات کا مستحق بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ آدمی اپنے بےانتہا صلاحیتوں کے باوجود بہت بےصبرا، کم ہمت اور تنگ دل واقع ہوا ہے۔ اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور جب اس کو خیر اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–35

(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ وہ ہیں جو امانت اور اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں اور حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ منافق لوگوں کی نشانی یہ ہے کہ امانت میں خیانت کرتے ہیں اور جب وعدہ یا کوئی عہدوپیمان کرتے ہیں تو اس کو پورا نہیں کرتے ، ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ جو گواہی دیتے ہیں سچی دیتے ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے نبی نے فرمایا کہ منافق لوگ ہر بات میں جھوٹ سے باز نہیں آتے، اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ایماندار لوگوں کی نماز کی دونشانیاں ذکر فرمائی ہیں۔ (1) ایک تو یہ کہ وہ لوگ سلسلہ وار ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں یہ نہیں کہ گنڈے دار نماز پڑھتے ہوں کہ کبھی پڑھی اور کبھی چھوڑ دی۔ (2) دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–36

[7] یعنی روز جزا کا یقین رکھتے ہیں اور یہ بنیادی عقیدہ ان کے تمام نیک اعمال کا محرک ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–35

نمازی کی سیرت 2: قرآن حکیم یہ خوبی شان امتیاز رکھتی ہے ۔ کہ اس میں حقائق نفسیات کا بھی مذکر ہے ۔ یعنی اس کتاب علم ومعرفت میں یہ بھی بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی فطرت کیا ہے ؟ فرمایا ۔ اس میں ایک ہم گیر عیب یہ ہے ۔ کہ یہ کم ہمت اور بےصبر ہے ۔ اگر اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو بلبلا اٹھتا ہے ۔ اور نالہ وشیون سے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے ۔ اور جہاں بیٹھتا ہے اسی بات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ کہ میں بہت مصیبت زدہ ہوں ۔ مجھ کو فلک ستم شیوہ نے بہت دکھ پہنچایا ہے ۔ اور اگر برے دن پھرجائیں اور آسودہ حال ہوجائے ۔ تو پھر انتہا درجے کا بخیل اور ممسک ہوجاتا ہے ۔ پائی پائی کو گنتا ہے ۔ اور پیسے پیسے کا حساب رکھتا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(31) ہاں جو شخص ان بیویوں اور باندیوں کے علاوہ کوئی اور راہ تلاش کرے گا تو ایسے ہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی بیویوں اور باندیوں کے علاوہ شہوت رانی کا کوئی اور راستہ ڈھونڈ لے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 23–36

ف 9۔ یعنی نماز میں ظاہرا یا باطنا دوسری طرف توجہ نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہاں ! جو شخص اس کے سوا خواہش کرے تو ایسے ہی لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں 31 ؎ اپنی آزاد بیوی اور اپنی غلام باندیوں کے ساتھ نکاح کرنے کے سوا اگر کوئی شخص دوسری طرف نظر کرے ، ہاتھ کرے ، دل کو جگہ دے یا پائوں سے چل کر کسی کی طرف بڑھے اور پھر ان حدود سے آگے ہی بڑھ جائے تو جتنا اس نے خلاف کیا اور جتنا خلاف بڑھا اتنا ہی اس نے زیادتی کی اور زیادتی بہرحال زیادتی ہے خواہ کم ہے یا زیادہ اس لئے وہ لوگ بہرحال زیادتی کرنے والے ٹھہریں گے جو اس حد سے تجاوز کریں گے اور ایمان والے لوگ کبھی ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ زیادتی ایمان لانے کے منافی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَ‌اءَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ (but the one who seeks [ sexual gratification ] beyond that, then such people are the transgressors...70:31). The preceding verse permitted to have sex with their wives and with slave-girls who are lawfully in their possession. The current verse prohibits sexual gratification beyond this limit. This verse also excludes women who, according to Shari'ah, fall within the prohibited degree. Similarly, Mut'ah (hiring a woman for a temporary period for the purpose of enjoying sex with her) is not a marriage according to Shari'ah,…

Read the full tafseer →