Al-Ma'aarij 70:22

Al-Ma'aarij · from ayah 22

70:22

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ ۟ۙاِلَّا الۡمُصَلِّيۡنَۙ

مگر نماز گزار

— Fateh Muhammad Jalandhari

Except the observers of prayer -

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij

All translations of 70:22

مگر وہ لوگ (اِس عیب سے بچے ہوئے ہیں) جو نماز پڑھنے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مگر وه نمازی

— مولانا محمد جوناگڑہی

مگر وہ نمازی ایسے نہیں ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مگر وہ نماز ادا کرنے والے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سوائے نماز ادا کرنے والوں کے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

صرف نمازی اس سے مستثنیٰ ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سوائے ان نمازیوں کے

— مولانا اسحاق مدنی

مگر نماز گزار۔

— محترمہ رفعت اعجاز

except the performers of Salah,

— Muhammad Taqi Usmani

except the performers of Salah,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Except those who are devoted to Salah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Except the observers of prayer -

— Saheeh International

except those who are steadfast

— Muhammad Sarwar

Except those who pray,

— Muhammad Habib Shakir

Not so are the prayerful.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 70:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–35

انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ یہ بڑا ہی بےصبرا ہے، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہوجاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بدترین چیز انسان میں بیحد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے (ابو داؤد) پھر فرمایا کہ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں وقتوں کی نگہبانی کرنے واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے سکون…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَعَارِج 14 کسی شخص کا نماز پڑھنا لازماً یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتاب اور آخرت پر ایمان بھی رکھتا ہے اور اپنے اس ایمان کے مطابق عمل بھی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–23

(آیت) ۙاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًا 20؀ۙوَّاِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوْعًا، یعنی اس انسان کی کم ہمتی اور بےصبری کا یہ عالم ہے کہ جب اس کو کوئی تکلیف و مصیبت پیش آجاتی ہے تو صبر سے کام نہیں لیتا اور جب کوئی راحت و آرام اور مال و دولت مل جاتا ہے تو اس میں بخل کرتا ہے۔ یہاں بےصبری اور جزع سے مراد وہ ہے جو حدود شرع سے باہر ہوں اسی طرح بخل سے مراد فرائض و واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی ہے (کما مر) آگے عام انسانوں کی اس خصلت مذکورہ سے مومنین صالحین کو مستثنیٰ کیا گیا ہے اور ان کے اعمال و اخلاق صالحہ کا ذکر کیا گیا ہے جو ۙاِلَّا الْمُصَلِّين سے شروع ہو کر الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

عدم توازن سے پاک گروہ: یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو اس عدم توازن یا بے راہ روی سے پاک ہیں جس کا ذکر اوپر ہوا۔ فرمایا کہ نمازی اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نفس کے متضاد داعیات میں صحیح توازن اور نقطۂ اعتدال پیدا کرنے میں اولین عامل کی حیثیت نماز کو حاصل ہے۔ جو شخص اپنی تربیت اس طرح کرنا چاہے کہ شیطان اس کو کسی بے راہ روی میں مبتلا نہ کرنے پائے اس کے لیے سب سے اول شے نماز کا اہتمام ہے۔ اس کے بغیر کوئی شخص اس مقصد میں کامیابی نہیں حاصل کر سکتا۔ نماز صحیح توازن پیدا کرتی ہے: رہا یہ سوال کہ نماز میں وہ کیا چیز ہے جس کے سبب سے اس مقصد تربیت میں اس کو اولیت حاصل ہے تو یہاں اس کے تفصیلی جواب کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–22

19۔ 1 سخت حریص اور بہت جزع فزع کرنے والے کو ھلوع کہا جاتا ہے۔ جس کو ترجمے میں انسان کچے دل والا سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ ایسا شخص ہی بخیل و حریص اور زیادہ گریہ جاری کرنے والا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–23

5: یعنی مال پر اللہ تعالیٰ نے جو حقوق عائد فرمائے ہیں، ان کو ادا کیے بغیر وہ اسے جمع کرتا رہا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

پھر ان کی صفات کیا ہیں۔ انسان کی ان عام صفات سے جن کا اوپر ذکر ہوا ، ایک مومن کو مستثنیٰ کیا جاتا ہے۔ مثلاً : الا المصلین (22) الذین ................ دآئمون (32) (07 : 22 تا 32) ” مگر وہ لوگ جو نماز پڑھنے والے ہیں ، جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں “۔ نماز بنیادی طور پر رکن اسلام اور علامت ایمان ہے ، لیکن اس کی حکمت یہ ہے کہ یہ درحقیقت اللہ کے ساتھ ذریعہ اتصال ہے۔ اور یہ ایک ایسے تعلق کا مظہر ہے جس میں صرف بندہ اور اس کا رب آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ بندہ مقام بندگی کے اعلیٰ مرتبے پر اور رب تعالیٰ مقام ربوبیت اور معبودیت کے اعلیٰ مرتبے پر ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں یہ کہا گیا کہ ایمان کی صفت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 22–23

3 یعنی گنڈے دار نہیں بلکہ مداومت و التزام سے نماز پڑھتے ہیں اور نماز کی حالت میں نہایت سکون کے ساتھ برابر اپنی نماز ہی کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 22 { اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ۔ } ”سوائے نمازیوں کے۔“ ان کمزوریوں اور خامیوں سے محفوظ رکھنے والی ایک چیز نماز ہے۔ گویا نماز تعمیر سیرت کی بنیاد کا پہلا پتھر ہے۔ لیکن صرف وہ نماز جو خاص اہتمام سے مداومت کے ساتھ ادا کی جاتی ہو۔ چناچہ مذکورہ استثناء کے اہل صرف وہی نمازی ہوں گے :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 یہ دونوں حالتیں، یعنی تنگ دستی میں صبر کے بجائے شکوہ و شکایت اور خوشحالی میں اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے بخل اور پیسہ سے والہانہ محبت ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہیں۔ البتہ جن لوگوں میں اور بالخصوص جن ایمانداروں میں مندرجہ ذیل آٹھ صفات، جو آگے آیت نمبر 22 سے 34 تک مذکور ہیں، پائی جائیں وہ عذاب جہنم سے محفوظ رہیں گے۔ اور ان میں مذکورہ بالا قباحتیں بھی ختم ہوجائیں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 22–26

10۔ اور اس بنیادی عقیدۂ تصدیق سے اہل ایمان کے سارے اعمال طاعت کی شاخیں ہوگئی ہیں۔ (آیت) ” الذین ..... دآئمون “۔ یعنی اپنی نمازوں کی پوری محافظت و مداومت رکھتے ہیں۔ انہیں کبھی ناغہ نہیں ہونے دیتے۔ عن عائشۃ ؓ قالت کان احب الصلوۃ الی رسول اللہ ﷺ مادیم علیہ (جصاص) قیل المراد بذلک الذین اذا عملوا عملا اداموا علیہ واثبتوہ (ابن کثیر) یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں۔ کہ ہر وقت نماز کے خیال میں لگے رہتے ہیں کہ ادھر وقت آئے اور ادھر نماز شروع کردیں۔ عن ابن مسعود ؓ قال دائمون علی مواقیتھا (جصاص) قیل معناہ یحافظون علی اوقا تھا وواجباتھا قال ابن مسعود ؓ ومسروق وابراھیم النخعی (ابن کثیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–35

ان الانسان خلق ھلوعا، ھلوع کے لفظی معنی ہیں حریص، بےصبرا، کم ہمت، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ھلوع وہ شخص ہے جو کہ مال حرام کی حرص میں مبتلا ہو، یہاں یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ جب انسان کو پیدا ہی اس حال میں کیا گیا ہے تو پھر اس کا کیا قصور ؟ وہ مجرم کیوں قرار دیا گیا ؟ وجہ یہ ہے کہ مراد اس سے انسانی فطرت اور جبلت میں رکھی ہوئی استعداد اور مادہ ہے تو حق تعالیٰ نے انسان میں ہر خیر و شر کا مادہ اور استعداد بھی رکھی ہے اور شر و فساد کی بھی اور اس کو عقل و ہوش بھی عطا فرمائے ہیں اور اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ ہر ایک کا انجام بھی بتادیا، اب انسان کو اختیار ہے کہ دونوں قسم کی صلاحیتوں میں سے جس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الا المصلین . سوائے کامل مؤمنوں کے مصلی سے مراد ہے کامل مؤمن جیسے آیت : وما کان اللہ لیصیع ایمانکم میں ایمان سے مراد ہے نماز کیونکہ مؤمن کے مراتب میں چوٹی کا درجہ نماز ہی ہے۔ یہی مؤمن کی معراج ہے اور دین کا ستون ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی (رح) نے فرمایا جن مراتب کا حصول آدمی کے لیے ممکن ہے ان میں سب سے اونچا مرتبہ نماز کا ہے۔ الانسان میں الف لام جنسی یا استغراقی ہے۔ لفظ انسان اگرچہ مفرد ہے مگر معنوی اعتبار سے جمع ہے۔ اسی وجہ سے الاَّ الْمُصَلِّیْنَ میں الاَّ استثنائیہ متصلہ آیا ہے۔ یا یوں مطلب قرار دیا ہے کہ مجرم حق وطاعت سے روگردانی کرتا اور پشت موڑتا ہے کیونکہ جنس انسان یا انسان کا ہر فرد…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 22–28

(22۔ 28) مگر وہ پانچ وقت کا نمازی جو اپنی فرض نمازوں کو رات دن میں ہمیشہ پڑھتے ہیں۔ وہ ایسے نہیں ہیں اور جو کہ اپنے مالوں میں زکوٰۃ کے علاوہ سوال کرنے والے اور سوال نہ کرنے والے سب کا حق سمجھتے ہیں یا یہ کہ محروم سے مراد وہ ہے جو اپنے اجر و غنیمت سے محروم رہے یا یہ کہ وہ محنتی آدمی ہے جس کا پیشہ اس کی معیشت کے لیے کافی نہ ہو اور جو کہ قیامت کے دن کا اور جو کچھ اس میں ہوگا سب کا اعقتاد رکھتے ہیں اور جو کہ اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں واقعی ان کے رب کا عذاب مطمئن ہونے کی چیز ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 22–23

الا المصلین…: مگر نمازی بےصبرے اور تھڑولے نہیں ہوتے، وہ نہ مصیبت پر شکوہ ش کیا ت کرتے ہیں اور نہ نعمت ملنے پر بخل کرتے ہیں۔ نماز کی صحیح ادائیگی سے آدمی میں وہ عزم اور ہمت پیدا ہوتی ہے کہ وہ ایسی تمام کمزوریوں پر قابو پا لیتا ہے، کیونکہ روزانہ پانچ وقت دنیا کے کسی لالچ کے بغیر پورے شروط و آداب کے ساتھ نماز ادا کرنا بہت ہی مشکل کام ہے جو اللہ کے خوف اور آخرت پر ایمان کے بغیر ادا ہو نہیں سکتا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(واستعینوا بالصبر و الصلوۃ و انھا لکبیرۃ الا علی الخشعین ، الذین یظنون انھم ملقوا ربھم وانمم الیہ رجعون) (البقرۃ : 35، 36)”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو اور بیشک وہ بہت بڑی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–23

الا المصلین۔ یہ اس پر دال ہے کہ اس سے ماقبل کلام کفار کے بارے میں ہے۔ انسان اسم جنس ہے اس کی دلیل استثناء ہے جو اس کے بعد ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان الانسان لفی خسر۔ الا الذین امنوا (العصر) نخعی نے کہا، مصلین سے مراد فرض نماز ادا کرن والے ہیں۔ حضرت ابن مسعود نے کہا، جو نماز کو وقت پر ادا کرتے ہیں جاں تک اس کو ترک کرنے کا تعلق ہے تو یہ کفر ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد صحابہ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد عام مومن ہیں کیونکہ وہ زیادہ جزع فزع پر غالب آجاتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے رب پر اعتماد اور یقین ہوتا ہے الذین ھم علی صلاتھم دا آئمون۔ یعنی اپنے وقت پر نمازوں کو ادا کرتے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

11۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت الا المصلین الذین ہم علی صلاتہم دائمون۔ مگر وہ نمازی جو اپنی نماز پر ہمیشہ قائم ہیں۔ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ دانیال (علیہ السلام) نے محمد ﷺ کی امت کی تعریف کی۔ اور فرمایا کہ وہ ہمیشہ نماز پڑھیں گے اگر قوم نوح نماز پڑھتی تو غرق نہ کیے جاتے یا قوم عاد نماز پڑھتی تو ان پر بانجھ ہوا نہ بھیجی جاتی۔ اور قوم ثمود نماز پڑھتی تو ان کو خوفناک آواز نہ پکڑتی۔ قتادہ (رح) نے فرمایا تم نماز کو لازم پکڑو کیونکہ وہ مومنین کے اچھے اخلاق میں سے اچھا اخلاق ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِلَّا الْمُصَلِّيْنَ : سوائے ان نماز پڑھنے والوں کے ] اصول یہ ہے کہ جمع میں سے واحد کو مستثنیٰ کیا جاسکتا ہے لیکن واحد میں سے جمع کو مستثنیٰ نہیں کیا جاسکتا۔ اس آیت میں المصلین جمع ہے جس کو الانسان میں سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ الانسان پر لام تعریف نہیں بلکہ لام جلس ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 22–23

اولاً نمازیوں کا ذکر فرمایا : ﴿اِلَّا الْمُصَلِّيْنَۙ0022 الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآىِٕمُوْنَ۪ۙ0023﴾ سوائے ان لوگوں کے جو نمازی ہیں جو اپنی نماز پر متوجہ رہتے ہیں۔ لفظ ﴿دَآىِٕمُوْنَ﴾ دوام سے ماخوذ ہے، صاحب روح المعانی اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ای مواظبون علی اداہٴا لا یخلون بھا ولا یشتغلون عنھا بشی عن الشواغل یعنی نمازوں کو پابندی کے ساتھ ادا کرتے ہیں ان میں ذرا سا خلل بھی گوارا نہیں کرتے اور دیگر مشغولیتیں انہیں نماز سے نہیں ہٹاتیں۔ اس کے بعد لکھتے ہیں : وقیل دَآىِٕمُوْنَ ای لا یلتفتون فیھا یعنی جب نماز پڑھنے لگتے ہیں تو برابر نماز ہی کی طرف متوجہ رہتے ہیں، نہ ادھر ادھر کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–35

مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

7:۔ ” الا المصلین “ الا بمعنی لکن ہے اور استثناء منقطع ہے۔ الا بمعنی لکن، ناصب اسم اور راع خبر ہوا کرتا ہے، اس کی خبر کبھی محذوف ہوتی ہے، کبھی مذکور، یہاں مذکور ہے۔ المصلین الخ اس کا اسم ہے اور اولئک فی جنات منکرمون اس کی خبر ہے (رضی شرح کافیہ) اور یہ بعذاب واقع ہوگا لیکن مصلین (نمازی) جو اللہ کے مقبول بندے ہیں وہ جنات نعیم میں ہوں گے۔ یہ ان الانسان خلق ھلوعا کے ساتھ متعلق نہیں، تاکہ یہ معنی بن جائے کہ انسان دل کے خام ہیں، مگر نمازی اس سے مستثنی ہیں، کیونکہ دل کے خام تو سب ہیں۔ افادہ الشیخ (رح) تعالی۔ یہاں دفع عذاب کے لیے امور ثلاثہ کا بیان ہے اس سے محفوظ رہنے والے اللہ کے مقبول بندوں کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–28

گذشہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے پانے منہ سے عذاب مانگنے والوں اور قیامت کا مطالبہ کرنے والوں کا رد فرمایا۔ اور کہا کہ یہ لوگ قیامت کو بعید سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہ قریب ہے اور اپنے وقت پر آئے گی۔ اس دن مجرم آرزو کریگا کہ کاش اپنے بیٹوں ، بیوی ، بھائی ، قبیلے اور تمام روئے زمین والوں کو فدیہ دے کر اپنی جان چھڑالے ، مگر ایسا نہیں ہوگا۔ فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اول تو ان تمام چیزوں کا فدیہ بننا ہی محال ہے۔ اور اگر بالفرض ایسا ہو بھی جائے تو یہ باطل آرزو پوری نہیں ہوگی۔ اس مقام پر سب سے پہلے بیٹوں کا ذکر کیا کہ آدمی کا سب سے زیادہ حق اور تسلط بیٹوں پر ہوتا ہے۔ اگر کہیں یر غمال…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِلَّا الْمُصَلِّيْنَ۝ 22 ۙ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–35

ترکیب : ھلوعا حال مقدرۃ من الانسان الھلع اشد الحرص یقال ھلع الرجل یھلع ھلعا وھلا عا فھو ھالع دھلوع وکذاجزوعاد منوعا حالان و اذالاولیٰ ظرف لجز وعا والاخریٰ لمنوعا الا المصلین استثناء من الجنس والمستثنیٰ منہ الانسان وھو جنس فی جنات ظرف لمکرومون۔ تفسیر : اور یہ مال جمع کرنا اور کنجوسی کرنا اس لیے ہے کہ ان الانسان خلق ھلوعا۔ انسان (بعض کہتے ہیں اس سے مراد کفار ہیں) فطرتی طور پر لالچی اور بےصبر پیدا ہوا ہے۔ اس کمبخت کی دور اندیشی اور اس کی زیرکی (جو خداوند عالم کی طرف سے بہ نسبت اور حیوانات کے زیادہ ملی تھی) اس کو بخل اور لالچ پر آمادہ کرتی ہے اور بڑے بڑے خیالات اور امیدیں بندھاتی ہے کہ سینکڑوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 22–23

اِلاَّ الْمُصَلِّیْنَ ۔ الَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلاَ تِہِمْ دَآئِمُوْنَ ۔ (المعارج : 22، 23) (مگر وہ لوگ (اس عیب سے بچے ہوئے ہیں) جو نماز پڑھنے والے ہیں۔ جو اپنی نمازوں کی مداومت رکھتے ہیں۔ ) زندگی میں بےاعتدالی سے محفوظ لوگ اور ان کی صفات سابقہ آیت کریمہ میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ہر تکلیف میں بلبلا اٹھتے ہیں اور ہر خوشحالی پر مارگنج بن کر بیٹھ جاتے ہیں، ان کی زندگی چونکہ اعتدال کے جوہر سے خالی ہوتی ہے اس لیے ان کا کوئی رویہ پائیدار نہیں ہوتا بلکہ حالات کی تبدیلی سے بدلتا رہتا ہے۔ اب اس آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ زندگی کے اس بہت بڑے عیب اور ناہمواری سے صرف وہ لوگ بچے ہوئے ہیں جن…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–28

فہم القرآن ربط کلام : چمڑیاں ادھیڑدینے والی آگ سے بچنے والے لوگوں کے اوصاف۔ انسان کی طبعی کمزوریوں میں ایک کمزوری یہ ہے کہ وہ جلد باز ہے۔ اسی جلد بازی کی وجہ سے انسان دنیا کے فائدے کی خاطر حق بات سے منہ موڑ تا، ناجائز طریقے سے مال بناتا اور اسے جمع رکھتا ہے۔ اگر انسان اپنی جلدبازی پر قابو پالے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان سے منہ موڑ کر نہ کسی کا مال بٹورے اور ہی ناجائز طریقے سے مال جمع کرے۔ یہ جلد بازی کا نتیجہ ہے کہ جب اسے مال کی تنگی اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا اٹھتا ہے اور جزع فزع کرنے لگتا ہے جب اسے مال حاصل ہوتا ہے توبخیل بن جاتا ہے۔ یہاں گھبراہٹ اور بخل کا حوالہ دے کر دو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21 ۔” واذ مسہ الخیر منوعا “ یعنی جب اس کو فقر پہنچے تو صبر نہ کرے اور جب اس کے پاس مال آئے تو خرچ نہ کرے۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا جو چیز اس کو اچھی لگے اس کو پسند کرتا ہے اور جو ناپسند ہو اس سے بھاگتا ہے۔ پھر اس کو پابند کیا، پسندیدہ چیز کو خرچ کرنے اور ناپسند چیز پر صبر کرنے پر۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–35

19۔ 35۔ شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے کافروں اور ایمان دار لوگوں کی نشانیاں مقابلہ کے طور پر بیان فرمائی ہیں مثلاً کافروں کی نشانی یہ ذکر فرمائی کہ وہ لوگ عذاب آخرت اور قیامت کے منکر ہیں اس لئے از خود عذاب الٰہی کی خواہشیں کرتے ہیں اور ایمان دار لوگوں کی یہ نشانی ہے کہ قیامت اور عذاب آخرت کا ان کے دل میں پورا یقین ہے اس واسطے عذاب الٰہی کا ہر وقت ان کے جی میں ایک خوف رہتا ہے کافروں کی یہ نشانی ہے کہ بدکاری کو کچھ عیب نہیں جانتے ایمان دار اس کے برخلاف ہیں اسی طرح کافروں کی یہ نشانی ہے کہ مال جمع کرکے رکھتے ہیں اور محتاجوں کو کوڑی نہیں دیتے اور ایمان داروں کی یہ نشانی ہے کہ ان کے مال میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(الا المصلین) ۔ سوائے ان نمازیوں کے جو ان اوصاف سے موصوف ہیں کہ جب ان کو بھلائی حاصل ہوتی ہے تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس کے راستے میں وہ مال خرچ کرتے ہیں جس سے اللہ نے ان کو بہرہ مند کیا ہے۔ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

18 سعادت مندوں کی بعض خاص صفات کا ذکر وبیان : سو اس سے سعادت مند اور متوازن لوگوں کی بعض خاص صفات کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو تنگ ظرف اور غیر متوازن لوگوں سے استثناء کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ بجز ان نمازیوں کے جن کی یہ اور یہ صفات ہوں گی کہ ان کا حال اس تنگ ظرف انسان سے یکسر مختلف ہوتا ہے ‘ کہ وہ نعمت ملنے پر اس کا شکر کرتے ‘ اور اپنے رب کے حضور دل و جان سے جھک جاتے ہیں اور اس کے نہ ملنے باچھن جانے ‘ یا کسی مصیبت کے پیش آجانے پر۔ والعیاذ باللہ۔ وہ صبر و تسلیم سے کام لیتے ہیں اور اس طرح صبر و شکر کی خو و خصلت سے ان کیلئے نعمت اور مصیبت کی یہ دونوں حالتیں خیر ہی خیر بن جاتی ہیں جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–44

نیک لوگوں کی صفات تشریح : ایک اچھے پکے اور صالح جنت کے حقدار کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ کافی دفعہ وضاحت سے پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں یہاں پھر مختصراً بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان فطرتاً کمزور طبیعت یعنی غلطیوں کا پتلا سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ہے ہی۔ مگر اس کی اصلاح کے لئے ہی تو قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ تو جو شخص اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتا ہے تو وہی بہادر انسان ہے وہ خود کو شیطان کے چنگل سے نکال کر بندگانِ الٰہی میں شامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عمل بہت ضروری ہے۔ اگر زبانی ایمان لے آنا کافی ہوتا تو پھر منافق دوزخ کے نچلے درجے میں کیوں ڈالے جاتے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–34

سورة المعارج۔ آیات 1 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 21–23

ف 6 یعنی جو کوئی نماز ترک نہیں کرتے یا جو ہمیشہ وقت پر نماز پڑھتے ہیں۔ یہاں نماز سے نماز فرض مراد ہے مگر عموم پر محمول کرنا بہتر ہے۔ اس سے عبادت پر دوام کی فضیلت نکلتی ہے۔ ابوسلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے مجھ سے بیان کیا کہ آنحضرت نے فرمایا : خذو امن العمل ماتطیقون فان اللہ لا یمل حتی تملوا قالت فکان احب الاعمال الی رسول اللہ ﷺ مادام علیہ وان قل عبادت اتنی کرو جتنی طاقت ہو۔ یعنی حد سے زیادہ اپنے اوپر بوجھ نہ ڈالو ورنہ تم اکتا کر چھوڑ بیٹھو گے۔ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت کو سب سے محبوب عمل وہ ہوتا جسے آپ ہمیشہ کرتے خواہ تھوڑا ہی ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(70:22) الا المصلین : الا استثنائیہ متصلہ : المصلین مستثنیٰ ۔ الانسان (آیت 19) مستثنیٰ منہ۔ الانسان میں الف لام جنس ہے یا استغراقی ہے۔ لفظ انسان اگرچہ مفرد ہے، لیکن معنوی اعتبار سے جمع ہے اسی لئے الا المصلین میں الا استثناء متصلہ آیا ہے۔ و مثلہ قولہ تعالیٰ والعصر ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعملوا الصلحت (103:1-3) اضواء البیان۔ مولانا پانی پتی تحریر فرماتے ہیں :۔ مصلی سے مراد کامل مومن ہے جیسے آیت وما کان اللہ لیضیع ایمانکم (2:143) میں ایمان سے مراد نماز ہے۔ کیونکہ مومن کے مراتب میں چوٹی کا درجہ نماز ہی ہے ۔ یہی مومن کی معراج اور دین کا ستون ہے۔ (تفسیر مظہری)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–35

لغات القرآن۔ ھلوعا۔ بزدل۔ ڈرپوک۔ جزوعا۔ گھبرا جانے والا۔ منوعا۔ ہاتھ روک لینے والا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آدمی کو بڑی عظمتوں اور زبردست صلاحیتوں سے نواز ہے وہ جب کائنات میں آگے بڑھتا ہے تو خشکی، تری اور فضاؤں پر حکمرانی کرنے لگتا ہے لیکن اس کی تخلیق اور فطرت میں کچھ کمزوریاں بھی رکھ دی گئی ہیں۔ اگر وہ ان کمزوریوں پر قابو پا لے تو پھر وہ دنیا میں سربلند اور آخرت کی نجات کا مستحق بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ آدمی اپنے بےانتہا صلاحیتوں کے باوجود بہت بےصبرا، کم ہمت اور تنگ دل واقع ہوا ہے۔ اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور جب اس کو خیر اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–35

(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ وہ ہیں جو امانت اور اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں اور حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ منافق لوگوں کی نشانی یہ ہے کہ امانت میں خیانت کرتے ہیں اور جب وعدہ یا کوئی عہدوپیمان کرتے ہیں تو اس کو پورا نہیں کرتے ، ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ جو گواہی دیتے ہیں سچی دیتے ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے نبی نے فرمایا کہ منافق لوگ ہر بات میں جھوٹ سے باز نہیں آتے، اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ایماندار لوگوں کی نماز کی دونشانیاں ذکر فرمائی ہیں۔ (1) ایک تو یہ کہ وہ لوگ سلسلہ وار ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں یہ نہیں کہ گنڈے دار نماز پڑھتے ہوں کہ کبھی پڑھی اور کبھی چھوڑ دی۔ (2) دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–25

[6] اللہ تعالیٰ نے انسان کی سرشت میں متضاد داعیات رکھے ہیں۔ مثلاً خیرو صلاح کے داعیات کے ساتھ شر و فساد کے داعیات، اور یہ چاہا کہ وہ اس کے احکام کے مطابق جس کی تعلیم اس کو انبیاء کے ذریعے دی گئی ہے، ان متضاد داعیات کے اندر توازن و ہم آہنگی پیدا کرے اور ان کو اس کی مرضی اور اس کے قوانین کا پابند بنائے۔ بےصبری جو جلد بازی ہی کی ایک شکل ہے بجائے خود مذموم نہیں ہے۔ مذموم اگر ہے تو اس کا بےموقع یا غیر معتدل ظہور ہے۔ اگر یہ چیز انسان پر اس طرح غالب ہوجائے کہ دوسرے مقابل داعیات اس کے آگے مغلوب ہوجائیں تو ایسی صورت میں یہ کہنا بالکل مطابق حال ہوگا کہ اس کی تخلیق گویا اس عنصر سے ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–35

نمازی کی سیرت 2: قرآن حکیم یہ خوبی شان امتیاز رکھتی ہے ۔ کہ اس میں حقائق نفسیات کا بھی مذکر ہے ۔ یعنی اس کتاب علم ومعرفت میں یہ بھی بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی فطرت کیا ہے ؟ فرمایا ۔ اس میں ایک ہم گیر عیب یہ ہے ۔ کہ یہ کم ہمت اور بےصبر ہے ۔ اگر اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو بلبلا اٹھتا ہے ۔ اور نالہ وشیون سے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے ۔ اور جہاں بیٹھتا ہے اسی بات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ کہ میں بہت مصیبت زدہ ہوں ۔ مجھ کو فلک ستم شیوہ نے بہت دکھ پہنچایا ہے ۔ اور اگر برے دن پھرجائیں اور آسودہ حال ہوجائے ۔ تو پھر انتہا درجے کا بخیل اور ممسک ہوجاتا ہے ۔ پائی پائی کو گنتا ہے ۔ اور پیسے پیسے کا حساب رکھتا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 19–22

ف 8۔ کم ہمتی سے مراد طبعی کم ہمتی نہیں ہے بلکہ کم ہمتی کے آثار ذمیمہ اختیار مراد ہین۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سوائے ان نمازیوں کے (جو نماز کو قائم کرتے ہیں) 22 ؎ فرمایا ان تینوں کمزوریوں کا ازالہ جو تعلیمات اسلام میں بتایا گیا ہے وہ نماز ہے کہ انسان جب اللہ تعالیٰ کے ارشادات پر عمل پیرا ہوتا ہے جب وہ اپنی زندگی کے روز و شب کو قرآن کریم کے پیش کئے ہوئے اس قالب میں ڈھال لیتا ہے تو اس کی کایا پلٹ جاتی ہے وہ حریص نہیں رہتا۔ وہ بحمد اللہ غنی ہوجاتا ہے اس لئے کہ اس کا دل غنا حاصل کرلیتا ہے۔ اس کی آنکھیں سیر ہوجاتی ہیں پھر مصائب کے تند و تیز طوفان جب اس سے آ کر ٹکراتے ہیں تو اسے فولاد کی چٹان کی مانند مضبوط پاتے ہیں۔ ان حالات میں اس کی امید کا چراغ اور زیادہ ضیاء بار ہوجاتا ہے۔ وہ کسی طرح بھی سیل حوادث سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 20–23

إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ‌ جَزُوعًا وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ‌ مَنُوعًا (very upset when touched by evil, and very niggard when visited by good (fortune)... 70:20-21). This verse describes the fickle nature of man. When bad things happen to him he becomes desperate and upset, and loses patience. When good things come to him, such as wealth and comfort, he becomes begrudging and miserly in spending his wealth for good causes. 'Impatience', in this context, signifies 'that which is outside the limits of Shari` ah'. 'Niggard', in this context, signifies 'failing to fulfill pecuniary obligations…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

14 A person's performing the salat necessarily implies that he believes in Allah, His Messenger, His Book and the Hereafter as well as tries to act according to his belief.

Read the full tafseer →