Explained with ayahs 19–35
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ یہ بڑا ہی بےصبرا ہے، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہوجاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بدترین چیز انسان میں بیحد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے (ابو داؤد) پھر فرمایا کہ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں وقتوں کی نگہبانی کرنے واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے سکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
سورة الْمَعَارِج 15
یعنی کسی قسم کی سستی اور آرام طلبی، یا مصروفیت، یا دلچسپی ان کی نماز کی پابندی میں مانع نہیں ہوتی۔ جب نماز کا وقت آجائے تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنے خدا کی عبادت بجا لانے کے لیے کھڑا ہوجاتے ہیں۔ علی صلاتھم دائمون کے ایک اور معنی حضرت عقبہ بن عامر نے یہ بیان کیے ہیں کہ وہ پورے سکون اور خشوع کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔ کوے کی طرح ٹھونگیں نہیں مارتے۔ مارا مار پڑھ کر کسی نہ کسی طرح نماز سے فارغ ہوجانے کی کوشش نہیں کرتے۔ اور نماز کے دوران میں ادھر ادھر التفات بھی نہیں کرتے۔ عربی محاورے میں ٹھیرے ہوئے پانی کو ماء دائم کہا جاتا ہے۔ اسی سے یہ تفسیر ماخوذ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
(آیت) ۙاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًا 20ۙوَّاِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوْعًا، یعنی اس انسان کی کم ہمتی اور بےصبری کا یہ عالم ہے کہ جب اس کو کوئی تکلیف و مصیبت پیش آجاتی ہے تو صبر سے کام نہیں لیتا اور جب کوئی راحت و آرام اور مال و دولت مل جاتا ہے تو اس میں بخل کرتا ہے۔ یہاں بےصبری اور جزع سے مراد وہ ہے جو حدود شرع سے باہر ہوں اسی طرح بخل سے مراد فرائض و واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی ہے (کما مر) آگے عام انسانوں کی اس خصلت مذکورہ سے مومنین صالحین کو مستثنیٰ کیا گیا ہے اور ان کے اعمال و اخلاق صالحہ کا ذکر کیا گیا ہے جو ۙاِلَّا الْمُصَلِّين سے شروع ہو کر الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْ…
Read the full tafseer →عمل کے اندر روح مداومت سے پیدا ہوتی ہے:
’الَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَاتِھِمْ دَآئِمُوْنَ‘۔ فرمایا کہ اس مقصد کے لیے انہی نمازیوں کی نماز کارآمد ہے جو اپنی نمازوں کی مداومت رکھتے ہیں۔ یہ ایک نہایت اہم تنبیہ ہے۔ قرآن میں ایسے لوگوں کا بھی، مختلف پیرایوں سے ذکر ہوا ہے، جن کا حال یہ ہے کہ یوں تو ان کو کبھی ذکر الٰہی یا سجدہ کی توفیق نہیں ہوتی لیکن ان پر کوئی مصیبت آ جائے تو بڑے نمازی اور بڑی لمبی لمبی دعائیں کرنے والے بن جاتے ہیں۔ پھر جونہی وہ مرحلہ گزر جائے وہ کان جھاڑ کے اس طرح اس سے الگ ہو جاتے ہیں گویا خدا سے نہ کبھی ان کو کوئی سابقہ پڑا ہے اور نہ اب آئندہ کبھی پڑنے والا ہی ہے۔ اس طرح کی نماز…
Read the full tafseer →23۔ 1 مراد ہیں مومن کامل اور اہل توحید، ان کے اندر مذکورہ اخلاقی کمزوریاں نہیں ہوتیں بلکہ اس کے برعکس وہ صفات محمودہ کے پیکر ہوتے ہیں۔ ہمیشہ نماز پڑھنے کا مطلب ہے کہ نماز میں کوتاہی نہیں کرتے ہر نماز اپنے وقت پر نہایت پابندی اور التزام سے پڑھ لیتے ہیں۔ کوئی مشغولیت انہیں نماز سے نہیں روکتی اور دنیا کا کوئی فائدہ انہیں نماز سے غافل نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
5: یعنی مال پر اللہ تعالیٰ نے جو حقوق عائد فرمائے ہیں، ان کو ادا کیے بغیر وہ اسے جمع کرتا رہا ہوگا۔
Read the full tafseer →الذین ھم ................ دآئمون (07 : 32) ” جو اپنی نماز کی پابندی کرتے ہیں “۔ نماز کے ساتھ تسلسل اور دوام ایک لازمی صفت ہے۔ گنڈے دار قسم کی نماز ، سستی سے پڑھی جانے والی نماز مکمل نماز نہیں ہے۔ نماز کے بارے میں سستی روی اور غفلت معیوب ہے۔ نماز چونکہ بندے اور رب کے درمیان رابطہ ہے اس لئے اس میں دوام لابدی ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب کوئی عبادت کرتے تو آپ اس پر دوام اختیار فرماتے۔ حدیث شریف میں ہے ” اللہ کے نزدیک اعمال میں سے محبوب ترین عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے۔ اگرچہ وہ قلیل ہو ، لہٰذا اللہ کے ساتھ تعلق کا یہ مقدس رابطہ دائمی ہونا چاہئے۔ اسے مزاح نہ ہونا چاہئے کہ کبھی ہو اور کبھی نہ ہو۔ جس طرح جی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
3 یعنی گنڈے دار نہیں بلکہ مداومت و التزام سے نماز پڑھتے ہیں اور نماز کی حالت میں نہایت سکون کے ساتھ برابر اپنی نماز ہی کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 23{ الَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَاتِہِمْ دَآئِمُوْنَ۔ } ”جو اپنی نمازوں پر مداومت کرتے ہیں۔“
یعنی وہ لوگ جو اپنے روز مرہ معمولات میں نماز کو اوّلین ترجیح دیتے ہیں اور کبھی اس میں کوتاہی نہیں کرتے۔ چناچہ ایسے ”نمازی“ اس وصف کے مصداق نہیں بن سکتے جو ”فارغ وقت“ میں تو نماز ادا کرلیتے ہیں لیکن جب کوئی اور مصروفیت ہو تو انہیں نماز کا خیال تک نہیں آتا ‘ اور نہ ہی انہیں نماز کے ضائع ہوجانے کا دکھ ہوتا ہے۔ اس آیت کے مشابہ سورة المومنون میں یہ آیت ہے : { الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْْ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوْنَ۔ } ”وہ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرنے والے ہیں۔“
Read the full tafseer →15 دائمون کے دو مفہوم :۔ سب سے پہلی اور اہم صفت یہ ہے کہ وہ نماز ادا کرتے ہیں۔ بروقت ادا کرتے ہیں۔ باجماعت ادا کرتے ہیں۔ ٹھیک طرح سے خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ اور ہمیشہ ادا کرتے ہیں اور باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔ اس آیت میں دَائِمُوْنَ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ دوام کا ایک معنی تو ہمیشگی ہے اور دام الشَیْیُ بمعنی کسی چیز کا عرصہ دراز تک بلا تغیر ایک ہی حالت میں رہنا، ترجمہ میں یہی معنی اختیار کیا گیا ہے اس کا دوسرا معنی سکون اور ٹھہراؤ ہے اور ماء الدَّائِمِ بمعنی کھڑا پانی جس میں کچھ حرکت نہ ہو۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا کہ وہ لوگ اپنی نماز کو نہایت سکون، ٹھہراؤ، اطمینان قلب اور خشوع و خضوع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
10۔ اور اس بنیادی عقیدۂ تصدیق سے اہل ایمان کے سارے اعمال طاعت کی شاخیں ہوگئی ہیں۔ (آیت) ” الذین ..... دآئمون “۔ یعنی اپنی نمازوں کی پوری محافظت و مداومت رکھتے ہیں۔ انہیں کبھی ناغہ نہیں ہونے دیتے۔ عن عائشۃ ؓ قالت کان احب الصلوۃ الی رسول اللہ ﷺ مادیم علیہ (جصاص) قیل المراد بذلک الذین اذا عملوا عملا اداموا علیہ واثبتوہ (ابن کثیر) یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں۔ کہ ہر وقت نماز کے خیال میں لگے رہتے ہیں کہ ادھر وقت آئے اور ادھر نماز شروع کردیں۔ عن ابن مسعود ؓ قال دائمون علی مواقیتھا (جصاص) قیل معناہ یحافظون علی اوقا تھا وواجباتھا قال ابن مسعود ؓ ومسروق وابراھیم النخعی (ابن کثیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
ان الانسان خلق ھلوعا، ھلوع کے لفظی معنی ہیں حریص، بےصبرا، کم ہمت، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ھلوع وہ شخص ہے جو کہ مال حرام کی حرص میں مبتلا ہو، یہاں یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ جب انسان کو پیدا ہی اس حال میں کیا گیا ہے تو پھر اس کا کیا قصور ؟ وہ مجرم کیوں قرار دیا گیا ؟ وجہ یہ ہے کہ مراد اس سے انسانی فطرت اور جبلت میں رکھی ہوئی استعداد اور مادہ ہے تو حق تعالیٰ نے انسان میں ہر خیر و شر کا مادہ اور استعداد بھی رکھی ہے اور شر و فساد کی بھی اور اس کو عقل و ہوش بھی عطا فرمائے ہیں اور اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ ہر ایک کا انجام بھی بتادیا، اب انسان کو اختیار ہے کہ دونوں قسم کی صلاحیتوں میں سے جس کو…
Read the full tafseer →الذین ھم علی صلوتھم دائمون . یعنی وہ نمازی جو نماز کے اندر ہمیشہ سجدہ کے مقام پر نظر رکھتے اور دل سے خدا کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔ اسی مضمون کو سورة مؤمنون کی آیت : الذین ھم فی صلٰوتھم خٰشعون میں بیان فرمایا ہے۔ اس توضیح پر آئندہ آیت : والذین ھم علٰی صلٰوتھم یُحٰفظون موجب تکرار مضمون نہیں (دونوں کا مضمون جدا جدا ہے) کیونکہ اوّل الذکر آیت میں دوام سے مراد ہے ‘ دوام حضور جو نماز کے آداب و ارکان اور شرائط کی نگہداشت سے حاصل ہوتا ہے۔ بغوی نے اپنی سند سے بیان کیا ہے کہ ابو الخیر نے حضرت عقبہ بن عامر سے دریافت کیا کہ آیت : الذین ھم علٰی صلٰوتھم دائمون کا یہ مطلب ہے کہ وہ ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں ؟ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
(22۔ 28) مگر وہ پانچ وقت کا نمازی جو اپنی فرض نمازوں کو رات دن میں ہمیشہ پڑھتے ہیں۔
وہ ایسے نہیں ہیں اور جو کہ اپنے مالوں میں زکوٰۃ کے علاوہ سوال کرنے والے اور سوال نہ کرنے والے سب کا حق سمجھتے ہیں یا یہ کہ محروم سے مراد وہ ہے جو اپنے اجر و غنیمت سے محروم رہے یا یہ کہ وہ محنتی آدمی ہے جس کا پیشہ اس کی معیشت کے لیے کافی نہ ہو اور جو کہ قیامت کے دن کا اور جو کچھ اس میں ہوگا سب کا اعقتاد رکھتے ہیں اور جو کہ اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں واقعی ان کے رب کا عذاب مطمئن ہونے کی چیز ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
الا المصلین…: مگر نمازی بےصبرے اور تھڑولے نہیں ہوتے، وہ نہ مصیبت پر شکوہ ش کیا ت کرتے ہیں اور نہ نعمت ملنے پر بخل کرتے ہیں۔ نماز کی صحیح ادائیگی سے آدمی میں وہ عزم اور ہمت پیدا ہوتی ہے کہ وہ ایسی تمام کمزوریوں پر قابو پا لیتا ہے، کیونکہ روزانہ پانچ وقت دنیا کے کسی لالچ کے بغیر پورے شروط و آداب کے ساتھ نماز ادا کرنا بہت ہی مشکل کام ہے جو اللہ کے خوف اور آخرت پر ایمان کے بغیر ادا ہو نہیں سکتا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(واستعینوا بالصبر و الصلوۃ و انھا لکبیرۃ الا علی الخشعین ، الذین یظنون انھم ملقوا ربھم وانمم الیہ رجعون) (البقرۃ : 35، 36)”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو اور بیشک وہ بہت بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
الا المصلین۔ یہ اس پر دال ہے کہ اس سے ماقبل کلام کفار کے بارے میں ہے۔ انسان اسم جنس ہے اس کی دلیل استثناء ہے جو اس کے بعد ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان الانسان لفی خسر۔ الا الذین امنوا (العصر) نخعی نے کہا، مصلین سے مراد فرض نماز ادا کرن والے ہیں۔ حضرت ابن مسعود نے کہا، جو نماز کو وقت پر ادا کرتے ہیں جاں تک اس کو ترک کرنے کا تعلق ہے تو یہ کفر ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد صحابہ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد عام مومن ہیں کیونکہ وہ زیادہ جزع فزع پر غالب آجاتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے رب پر اعتماد اور یقین ہوتا ہے الذین ھم علی صلاتھم دا آئمون۔ یعنی اپنے وقت پر نمازوں کو ادا کرتے…
Read the full tafseer →12۔ عبد بن حمید نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا کہ آیت الذین ہم علی صلاتہم دائمون سے مراد ہے فرض نماز۔
13۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت الذین ہم علی صلاتہم دائمون سے مراد ہے وہ اپنی نمازیں ان کے اپنے اوقات پر ادا کرتے ہیں۔
14۔ عبد بن حمید نے مسروق (رح) سے اسی طرح روایت کیا
15۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ آیت الذین ہم علی صلاتہم دائمون سے مراد ہے کہ جو اپنی نماز میں ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتا۔
16۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ آیت الذین ہم علی صلاتہم دائمون سے مراد ہے…
Read the full tafseer →[الَّذِينَ : جو ہیں کہ ][ هُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْ : وہ لوگ اپنی نماز پر ][ دَاۗىِٕمُوْنَ : ہمیشہ (متوجہ) رہنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
اولاً نمازیوں کا ذکر فرمایا : ﴿اِلَّا الْمُصَلِّيْنَۙ0022 الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآىِٕمُوْنَ۪ۙ0023﴾ سوائے ان لوگوں کے جو نمازی ہیں جو اپنی نماز پر متوجہ رہتے ہیں۔ لفظ ﴿دَآىِٕمُوْنَ﴾ دوام سے ماخوذ ہے، صاحب روح المعانی اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ای مواظبون علی اداہٴا لا یخلون بھا ولا یشتغلون عنھا بشی عن الشواغل یعنی نمازوں کو پابندی کے ساتھ ادا کرتے ہیں ان میں ذرا سا خلل بھی گوارا نہیں کرتے اور دیگر مشغولیتیں انہیں نماز سے نہیں ہٹاتیں۔ اس کے بعد لکھتے ہیں : وقیل دَآىِٕمُوْنَ ای لا یلتفتون فیھا یعنی جب نماز پڑھنے لگتے ہیں تو برابر نماز ہی کی طرف متوجہ رہتے ہیں، نہ ادھر ادھر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–35
مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔
(ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔
مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
8:۔ ” الذین ھم علی صلاتہم دائمون “ وہ نمازوں کو قائم کرتے ہیں یعنی نمازوں کو تمام آداب وفرائض کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ دائمون ای مواظبون (روح) ۔ دائمون ای مقیمون (صراح) ۔ ان کے اموال و مواشی میں فقراء و مساکین کا معین حق ہے۔ مراد زکوۃ فریضہ ہے وہ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی احسان کرتے ہیں۔ ” السائل “ وہ فقیر جو سوال کر کے لے لے اور ” المحروم “ سے مراد وہ فقیر ہے جو کسی سے سوال نہیں کرتا اور محروم رہتا ہے۔ اس لیے ایسے مستحقین کی جستجو، رکھنی چاہئے اور خود بخود ان کو دینا چاہئے۔ ” والذین یصدقون “ وہ قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور خدا کے عذاب سے ترساں ولرزاں رہتے ہیں۔ ” ان عذاب ربھم غیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–28
گذشہ سے پیوستہ :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے پانے منہ سے عذاب مانگنے والوں اور قیامت کا مطالبہ کرنے والوں کا رد فرمایا۔ اور کہا کہ یہ لوگ قیامت کو بعید سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہ قریب ہے اور اپنے وقت پر آئے گی۔ اس دن مجرم آرزو کریگا کہ کاش اپنے بیٹوں ، بیوی ، بھائی ، قبیلے اور تمام روئے زمین والوں کو فدیہ دے کر اپنی جان چھڑالے ، مگر ایسا نہیں ہوگا۔ فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اول تو ان تمام چیزوں کا فدیہ بننا ہی محال ہے۔ اور اگر بالفرض ایسا ہو بھی جائے تو یہ باطل آرزو پوری نہیں ہوگی۔ اس مقام پر سب سے پہلے بیٹوں کا ذکر کیا کہ آدمی کا سب سے زیادہ حق اور تسلط بیٹوں پر ہوتا ہے۔ اگر کہیں یر غمال…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ ہُمْ عَلٰي صَلَاتِہِمْ دَاۗىِٕمُوْنَ 23 ۠
دوم
أصل الدّوام السکون، يقال : دام الماء، أي : سكن، «ونهي أن يبول الإنسان في الماء الدائم» ۔ وأَدَمْتُ القدر ودوّمتها : سكّنت غلیانها بالماء، ومنه : دَامَ الشیءُ : إذا امتدّ عليه الزمان، قال تعالی: وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيداً ما دُمْتُ فِيهِمْ [ المائدة/ 117]
( د و م ) الدام
۔ اصل میں دوام کے معنی سکون کے ہیں کہا جاتا ہے ۔ دام المآء ( پانی ٹھہر گیا ) اور ( حدیث میں یعنی کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہے تھوڑا سا پانی ڈالکر ہانڈی کو ٹھنڈا کردیا ۔ اسی سے دام الشئی کا محاورہ ہے یعنی وہ چیز جو عرصہ دراز تک رہے قرآن میں ہے : ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
ترکیب : ھلوعا حال مقدرۃ من الانسان الھلع اشد الحرص یقال ھلع الرجل یھلع ھلعا وھلا عا فھو ھالع دھلوع وکذاجزوعاد منوعا حالان و اذالاولیٰ ظرف لجز وعا والاخریٰ لمنوعا الا المصلین استثناء من الجنس والمستثنیٰ منہ الانسان وھو جنس فی جنات ظرف لمکرومون۔
تفسیر : اور یہ مال جمع کرنا اور کنجوسی کرنا اس لیے ہے کہ ان الانسان خلق ھلوعا۔ انسان (بعض کہتے ہیں اس سے مراد کفار ہیں) فطرتی طور پر لالچی اور بےصبر پیدا ہوا ہے۔ اس کمبخت کی دور اندیشی اور اس کی زیرکی (جو خداوند عالم کی طرف سے بہ نسبت اور حیوانات کے زیادہ ملی تھی) اس کو بخل اور لالچ پر آمادہ کرتی ہے اور بڑے بڑے خیالات اور امیدیں بندھاتی ہے کہ سینکڑوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
اِلاَّ الْمُصَلِّیْنَ ۔ الَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلاَ تِہِمْ دَآئِمُوْنَ ۔ (المعارج : 22، 23)
(مگر وہ لوگ (اس عیب سے بچے ہوئے ہیں) جو نماز پڑھنے والے ہیں۔ جو اپنی نمازوں کی مداومت رکھتے ہیں۔ )
زندگی میں بےاعتدالی سے محفوظ لوگ اور ان کی صفات
سابقہ آیت کریمہ میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ہر تکلیف میں بلبلا اٹھتے ہیں اور ہر خوشحالی پر مارگنج بن کر بیٹھ جاتے ہیں، ان کی زندگی چونکہ اعتدال کے جوہر سے خالی ہوتی ہے اس لیے ان کا کوئی رویہ پائیدار نہیں ہوتا بلکہ حالات کی تبدیلی سے بدلتا رہتا ہے۔ اب اس آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ زندگی کے اس بہت بڑے عیب اور ناہمواری سے صرف وہ لوگ بچے ہوئے ہیں جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–28
فہم القرآن
ربط کلام : چمڑیاں ادھیڑدینے والی آگ سے بچنے والے لوگوں کے اوصاف۔
انسان کی طبعی کمزوریوں میں ایک کمزوری یہ ہے کہ وہ جلد باز ہے۔ اسی جلد بازی کی وجہ سے انسان دنیا کے فائدے کی خاطر حق بات سے منہ موڑ تا، ناجائز طریقے سے مال بناتا اور اسے جمع رکھتا ہے۔ اگر انسان اپنی جلدبازی پر قابو پالے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان سے منہ موڑ کر نہ کسی کا مال بٹورے اور ہی ناجائز طریقے سے مال جمع کرے۔ یہ جلد بازی کا نتیجہ ہے کہ جب اسے مال کی تنگی اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا اٹھتا ہے اور جزع فزع کرنے لگتا ہے جب اسے مال حاصل ہوتا ہے توبخیل بن جاتا ہے۔ یہاں گھبراہٹ اور بخل کا حوالہ دے کر دو…
Read the full tafseer →23 : الَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَاتِھِمْ (جو اپنی نماز پر) پانچوں نمازیں دَآ ئِمُوْنَ (برابر توجہ رکھتے ہیں) ۔ نماز کے اوقات میں ان کی محافظت کرتے ہیں۔ یہ ابن مسعود ؓ کی تفسیر ہے۔
Read the full tafseer →22 ۔ پھر استثناء کرتے ہوئے فرمایا ” الاالمصلین “ جمع کا واحد سے استثناء کیا ہے اس لئے کہ انسان جمع کے معنی میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
19۔ 35۔ شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے کافروں اور ایمان دار لوگوں کی نشانیاں مقابلہ کے طور پر بیان فرمائی ہیں مثلاً کافروں کی نشانی یہ ذکر فرمائی کہ وہ لوگ عذاب آخرت اور قیامت کے منکر ہیں اس لئے از خود عذاب الٰہی کی خواہشیں کرتے ہیں اور ایمان دار لوگوں کی یہ نشانی ہے کہ قیامت اور عذاب آخرت کا ان کے دل میں پورا یقین ہے اس واسطے عذاب الٰہی کا ہر وقت ان کے جی میں ایک خوف رہتا ہے کافروں کی یہ نشانی ہے کہ بدکاری کو کچھ عیب نہیں جانتے ایمان دار اس کے برخلاف ہیں اسی طرح کافروں کی یہ نشانی ہے کہ مال جمع کرکے رکھتے ہیں اور محتاجوں کو کوڑی نہیں دیتے اور ایمان داروں کی یہ نشانی ہے کہ ان کے مال میں…
Read the full tafseer →ان کے وصف میں فرمایا ( الذین ھم علی صلاتھم دائمون) ۔ یعنی نماز پر، اس کی تمام شرائط اور اس کی تکمیل کرنے والے دیگر امور کے ساتھ اس کے اوقات میں ہمیشگی کرتے ہیں وہ اس شخص کی مانند نہیں ہیں جو نماز نہیں پڑھتا یا جو بےوقت پڑھتا ہے یا وہ نماز پڑھتا ہے مگر ناقص طریقے سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
نمازوں کی پابندی کرنا
قول باری ہے (الذین ھم علی صلاتھم دائمون، جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں) ابوسلمہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز وہ تھی جس کی پابندی کی جاتی ہو۔ پھر حضرت عائشہ ؓ نے درج بالا آیت تلاوت کی۔
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ وہ لوگ نمازوں کے اوقات کی پابندی کرتے ہیں۔ حضرات عمران بن حصین ؓ سے آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ وہ شخص جو نماز کے دوران دائیں بائیں نہیں دیکھتا۔
سائل اور محروم کون ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
19 نمازیوں کی صفت دوام و مواظبت کا ذکر وبیان : سو اس سے نمازیوں کی خاص صفت یعنی مواضبط و مدومت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ سو ارشاد فرمایا گیا بجز ان نمازیوں کے جو اپنی نماز پر مداوت کرتے ہیں۔ سو ایسے ہی خوش نصیب لوگ اس طرح کی تنگ دلی ‘ بےصبری ‘ اور بےراہ روی سے محفوظ ہوتے ہیں ‘ سو اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو صحیح خطوط پر ڈھالنے اور نفس کے متضاد داعیات میں توازن اور نقطہ اعتدال پیدا کرنے میں نماز اولین عامل کی حیثیت رکھتی ہے ‘ پس جو کوئی اپنی تربیت اس طرح کرنآ چاہے کہ شیطان اس کو کسی بےراہ روی میں مبتلا نہ کرنے پائے ‘ تو اس کیلئے سب سے اہم اور اولین شئے نماز کا اہتمام ہے ‘ اس کے بغیر کوئی شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–44
نیک لوگوں کی صفات
تشریح : ایک اچھے پکے اور صالح جنت کے حقدار کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو کہ کافی دفعہ وضاحت سے پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں یہاں پھر مختصراً بیان کیا جارہا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان فطرتاً کمزور طبیعت یعنی غلطیوں کا پتلا سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ہے ہی۔ مگر اس کی اصلاح کے لئے ہی تو قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ تو جو شخص اپنے نفس پر پورا اختیار رکھتا ہے تو وہی بہادر انسان ہے وہ خود کو شیطان کے چنگل سے نکال کر بندگانِ الٰہی میں شامل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عمل بہت ضروری ہے۔ اگر زبانی ایمان لے آنا کافی ہوتا تو پھر منافق دوزخ کے نچلے درجے میں کیوں ڈالے جاتے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–34
سورة المعارج۔
آیات 1 تا 35۔
اسرار ومعارف۔
مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔
مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔
جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
ف 6 یعنی جو کوئی نماز ترک نہیں کرتے یا جو ہمیشہ وقت پر نماز پڑھتے ہیں۔ یہاں نماز سے نماز فرض مراد ہے مگر عموم پر محمول کرنا بہتر ہے۔ اس سے عبادت پر دوام کی فضیلت نکلتی ہے۔ ابوسلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے مجھ سے بیان کیا کہ آنحضرت نے فرمایا : خذو امن العمل ماتطیقون فان اللہ لا یمل حتی تملوا قالت فکان احب الاعمال الی رسول اللہ ﷺ مادام علیہ وان قل عبادت اتنی کرو جتنی طاقت ہو۔ یعنی حد سے زیادہ اپنے اوپر بوجھ نہ ڈالو ورنہ تم اکتا کر چھوڑ بیٹھو گے۔ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت کو سب سے محبوب عمل وہ ہوتا جسے آپ ہمیشہ کرتے خواہ تھوڑا ہی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(70:23) الذین ھم علی صلوتھم وائمون : یہ المصلین کی صفت ہے جو اپنی نمازوں میں مداومت اور استقامت کرتے ہیں ای لا یقضونھا ابدا ما داموا احیاء جب تک زندہ رہتے ہیں نماز قضاء نہیں کرتے۔ (الیسر والتفاسیر)
حضرت عائشہ ام المؤمنین ؓ سے ایک حدیث مرفوعا مذکور ہے :۔ احب الاعمال الی اللہ ادومھا ولو قل : اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل اس پر استقامت ہے خواہ وہ عمل چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔
حضرت عقبہ ؓ نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نماز میں دائیں بائیں اور پیچھے نہیں دیکھتے۔
احمد اور ابو داؤد، نسائی۔ دارمی نے حضرت ابوذر ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :۔ کہ بندہ جب تک نماز کے اندر ادھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–35
لغات القرآن۔
ھلوعا۔ بزدل۔ ڈرپوک۔ جزوعا۔ گھبرا جانے والا۔ منوعا۔ ہاتھ روک لینے والا۔
تشریح :
اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آدمی کو بڑی عظمتوں اور زبردست صلاحیتوں سے نواز ہے وہ جب کائنات میں آگے بڑھتا ہے تو خشکی، تری اور فضاؤں پر حکمرانی کرنے لگتا ہے لیکن اس کی تخلیق اور فطرت میں کچھ کمزوریاں بھی رکھ دی گئی ہیں۔ اگر وہ ان کمزوریوں پر قابو پا لے تو پھر وہ دنیا میں سربلند اور آخرت کی نجات کا مستحق بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ آدمی اپنے بےانتہا صلاحیتوں کے باوجود بہت بےصبرا، کم ہمت اور تنگ دل واقع ہوا ہے۔ اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور جب اس کو خیر اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–35
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ وہ ہیں جو امانت اور اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں اور حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ منافق لوگوں کی نشانی یہ ہے کہ امانت میں خیانت کرتے ہیں اور جب وعدہ یا کوئی عہدوپیمان کرتے ہیں تو اس کو پورا نہیں کرتے ، ان آیتوں میں فرمایا کہ ایماندار لوگ جو گواہی دیتے ہیں سچی دیتے ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے نبی نے فرمایا کہ منافق لوگ ہر بات میں جھوٹ سے باز نہیں آتے، اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ایماندار لوگوں کی نماز کی دونشانیاں ذکر فرمائی ہیں۔
(1) ایک تو یہ کہ وہ لوگ سلسلہ وار ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں یہ نہیں کہ گنڈے دار نماز پڑھتے ہوں کہ کبھی پڑھی اور کبھی چھوڑ دی۔
(2) دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
[6] اللہ تعالیٰ نے انسان کی سرشت میں متضاد داعیات رکھے ہیں۔ مثلاً خیرو صلاح کے داعیات کے ساتھ شر و فساد کے داعیات، اور یہ چاہا کہ وہ اس کے احکام کے مطابق جس کی تعلیم اس کو انبیاء کے ذریعے دی گئی ہے، ان متضاد داعیات کے اندر توازن و ہم آہنگی پیدا کرے اور ان کو اس کی مرضی اور اس کے قوانین کا پابند بنائے۔ بےصبری جو جلد بازی ہی کی ایک شکل ہے بجائے خود مذموم نہیں ہے۔ مذموم اگر ہے تو اس کا بےموقع یا غیر معتدل ظہور ہے۔ اگر یہ چیز انسان پر اس طرح غالب ہوجائے کہ دوسرے مقابل داعیات اس کے آگے مغلوب ہوجائیں تو ایسی صورت میں یہ کہنا بالکل مطابق حال ہوگا کہ اس کی تخلیق گویا اس عنصر سے ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–35
نمازی کی سیرت
2: قرآن حکیم یہ خوبی شان امتیاز رکھتی ہے ۔ کہ اس میں حقائق نفسیات کا بھی مذکر ہے ۔ یعنی اس کتاب علم ومعرفت میں یہ بھی بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی فطرت کیا ہے ؟ فرمایا ۔ اس میں ایک ہم گیر عیب یہ ہے ۔ کہ یہ کم ہمت اور بےصبر ہے ۔ اگر اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو بلبلا اٹھتا ہے ۔ اور نالہ وشیون سے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے ۔ اور جہاں بیٹھتا ہے اسی بات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ کہ میں بہت مصیبت زدہ ہوں ۔ مجھ کو فلک ستم شیوہ نے بہت دکھ پہنچایا ہے ۔ اور اگر برے دن پھرجائیں اور آسودہ حال ہوجائے ۔ تو پھر انتہا درجے کا بخیل اور ممسک ہوجاتا ہے ۔ پائی پائی کو گنتا ہے ۔ اور پیسے پیسے کا حساب رکھتا…
Read the full tafseer →(23) جو اپنی نماز کی برابر پابندی رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–36
ف 9۔ یعنی نماز میں ظاہرا یا باطنا دوسری طرف توجہ نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →وہ لوگ نماز کے سختی سے پابند ہیں
23 ؎ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کے حضور ہر وقت حاضر رہتے ہیں۔ ان کی حرکات و سکنات بلکہ دل کے احساسات کو بھی وہ دیکھ رہا ہے پھر ایک تو نمازوں کو ہمیشگی ادا کرتے ہیں اور دوسرے صرف زبان سے الفاظ کی ادائیگی پر ہی کفایت نہیں کرتے بلکہ نماز کو دل کی گہرائیوں میں جگہ دیتے ہیں۔ ان کی نمازوں کا اثر ان کے چہروں سے نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور کسی حال میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کے دین سے غافل نہیں ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا (very upset when touched by evil, and very niggard when visited by good (fortune)... 70:20-21). This verse describes the fickle nature of man. When bad things happen to him he becomes desperate and upset, and loses patience. When good things come to him, such as wealth and comfort, he becomes begrudging and miserly in spending his wealth for good causes. 'Impatience', in this context, signifies 'that which is outside the limits of Shari` ah'. 'Niggard', in this context, signifies 'failing to fulfill pecuniary obligations…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
15 That is, no laziness, or love of ease and comfort, no occupation, or interest, hinders them from being punctual and regular at the prayer. When the Prayer time comes, they abandon every occupation and activity and stand up to perform worship of their God. Another meaning which Hadrat 'Uqbah bin 'Amir has given of ala salat-i-him daa imun is that they perform the Prayer with full peace of mind, tranquillity and humility; they do not try to offer the Prayer in a hurry in order to get rid of it somehow, nor think irrelevant things during the Prayer.
Read the full tafseer →