Al-Ma'aarij 70:21

Al-Ma'aarij · from ayah 21

70:21

وَّاِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا ۟ۙوَاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا

اور جب آسائش حاصل ہوتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when good touches him, withholding [of it],

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ma'aarij

All translations of 70:21

اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب آسائش حاصل ہوتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب راحت ملتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب اس کے پاس خوشحالی آتی ہے تو بہت بخیل بن جاتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب بھلائی پہنچے تو روک رکھنے والا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب اسے بھلائی (یا مالی فراخی) حاصل ہو تو بخل کرتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت روکنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب مال ملتا ہے تو بخیل بن جاتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب اس کو کشادگی حاصل ہوتی ہے تو نجیل بن جاتا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو یہ بخل کرنے لگتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب اسے خوشحالی ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت بخیل بن جاتا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب آسائش ملتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

and tight-fisted when good fortune visits him,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and very niggard when visited by good (fortune) ,

— Muhammad Taqi Usmani

and very niggard when visited by good (fortune) ,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And suppressive when good touches him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And, when good befalleth him, grudging;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when good touches him, withholding [of it],

— Saheeh International

but when they are fortunate, they become niggardly

— Muhammad Sarwar

And niggardly when good befalls him

— Muhammad Habib Shakir

And when good toucheth him he is begrudging.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 70:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–35

انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ یہ بڑا ہی بےصبرا ہے، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہوجاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بدترین چیز انسان میں بیحد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے (ابو داؤد) پھر فرمایا کہ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں وقتوں کی نگہبانی کرنے واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے سکون…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–21

سورة الْمَعَارِج 13 جس بات کو ہم اپنی زبان میں یوں کہتے ہیں کہ " یہ بات انسان کی سرشت میں ہے "۔ یا " یہ انسان کی فطری کمزوری ہے "۔ اسی کو اللہ تعالیٰ اس طرح بیان فرماتا ہے کہ " انسان ایسا پیدا کیا گیا ہے "۔ اس مقام پر یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ قرآن مجید میں بکثرت مواقع پر نوع انسانی کی عام اخلاقی کمزوریوں کا ذکر کرنے کے بعد ایمان لانے والے اور راہ راست اختیار کرلینے والے لوگوں کو اس سے مستثنی قرار دیا گیا ہے، اور یہی مضمون آگے کی آیات میں بھی آ رہا ہے۔ اس سے یہ حقیقت خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ یہ پیدائشی کمزوریاں ناقابل تغیر و تبدل نہیں ہیں، بلکہ انسان اگر خدا کی بھیجی ہوئی ہدایت کو قبول…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–23

(آیت) ۙاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًا 20؀ۙوَّاِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوْعًا، یعنی اس انسان کی کم ہمتی اور بےصبری کا یہ عالم ہے کہ جب اس کو کوئی تکلیف و مصیبت پیش آجاتی ہے تو صبر سے کام نہیں لیتا اور جب کوئی راحت و آرام اور مال و دولت مل جاتا ہے تو اس میں بخل کرتا ہے۔ یہاں بےصبری اور جزع سے مراد وہ ہے جو حدود شرع سے باہر ہوں اسی طرح بخل سے مراد فرائض و واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی ہے (کما مر) آگے عام انسانوں کی اس خصلت مذکورہ سے مومنین صالحین کو مستثنیٰ کیا گیا ہے اور ان کے اعمال و اخلاق صالحہ کا ذکر کیا گیا ہے جو ۙاِلَّا الْمُصَلِّين سے شروع ہو کر الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 19–21

’ھَلوع‘ کے معنی جلد باز، بے صبرے اور تھڑدلے کے ہیں۔ عام لفظ سے خاص گروہ کی طرف اشارہ: لفظ ’انسان‘ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں اس سے اشارہ انہی انسانوں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے کہ اللہ نے ان کو مہلت دی تو اس کی قدر کرنے کے بجائے عذاب کی جلدی مچائے ہوئے ہیں اور ابھی پکڑ میں آ جائیں گے تو واویلا کرنا شروع کر دیں گے۔ خدا نے مال دیا ہے تو اس سے آخرت کی کمائی کرنے کے بجائے اس پر مار گنج بن کر بیٹھ گئے ہیں، اس کو اپنی قابلیت و ذہانت کا ثمرہ اور اپنے استحقاق کا کرشمہ سمجھ رہے ہیں اور اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ یہ جو کچھ انھیں حاصل ہے اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا کے منظور نظر ہیں اس وجہ سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–22

19۔ 1 سخت حریص اور بہت جزع فزع کرنے والے کو ھلوع کہا جاتا ہے۔ جس کو ترجمے میں انسان کچے دل والا سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ ایسا شخص ہی بخیل و حریص اور زیادہ گریہ جاری کرنے والا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–23

5: یعنی مال پر اللہ تعالیٰ نے جو حقوق عائد فرمائے ہیں، ان کو ادا کیے بغیر وہ اسے جمع کرتا رہا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 19–21

” اس “ انسان کی تصویر ذرا دیکھئے ، یہ ایمان سے محروم انسان ہے۔ قرآن کریم اس کی کس قدر سچی تصویر کھینچتا ہے۔ اور اس تصویر میں ایک غیر مومن انسان کے خدوخال اور فیچرز کس قدر نمایاں ہیں۔ ان تمام خدوخال سے انسان تب ہی محفوظ ہوتا ہے ، جب وہ مومن ہوتا ہی۔ ایک مومن پر اگر کوئی مصیبت آجائے تو وہ صبر جمیل کا پیکر ہوتا ہے اور مطمئن ہوتا ہے۔ جزع وفزع سے دور ، اور اگر اسے خوشحالی نصیب ہو تو وہ نہ بخل کرتا ہے نہ اتراتا ہے۔ ان الانسان .................... منوعا (12) (07 : 91 تا 12) ”” انسان تھرڈلاپیدا کیا گیا ہے ، جب اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے “۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 19–21

2 یعنی کسی طرف پختگی اور ہمت نہیں دکھلاتا۔ فقر فاقہ، بیماری اور سختی آئے تو بےصبرہو کر گھبرا اٹھے، بلکہ مایوس ہوجائے گویا اب کوئی سبیل مصیبت سے نکلنے کی باقی نہیں رہی اور مال و دولت تندرستی اور فراخی ملے تو نیکی کے لیے ہاتھ نہ اٹھے، اور مالک کے راستہ میں خرچ کرنے کی توفیق نہ ہو۔ ہاں وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جن کا ذکر آگے آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21{ وَّاِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا۔ } ”اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت بخیل بن جاتا ہے۔“ جب اسے کشادگی حاصل ہوتی ہے تو سب کچھ سمیٹ کر اپنے ہی پاس رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اب اگلی آیات میں ان انسانی کمزوریوں پر قابو پانے کے لیے راہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ اپنے مضمون کے اعتبار سے ان آیات آیت 22 تا 35 کا سورة المومنون کی ابتدائی گیارہ آیات کے ساتھ خصوصی تعلق ہے۔ قرآن مجید کے یہ دو مقامات نہ صرف باہم مشابہ ہیں بلکہ ”اَلْقُرْآنُ یُفَسِّرُ بَعْضَہٗ بَعْضًا“ کے اصول کے مطابق ایک مقام کی بعض آیات دوسرے مقام کی بعض آیات کی وضاحت بھی کرتی ہیں۔ یہاں ضمنی طور پر یہ بھی جان لیجیے کہ ہمارے ”مطالعہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 یعنی انسان کی عمومی سرشت یہی ہے کہ اسے جب کوئی تکلیف پہنچے۔ کوئی بیماری آلگے یا معاشی تنگی میں مبتلا ہو تو صبر کے ساتھ وہ وقت گزارنے کے بجائے جزع و فزع شروع کردیتا ہے۔ کبھی تقدیر کو کو سنے لگتا ہے اور کبھی اپنے نصیبوں کو اور جب اللہ اس سے اس کی تکلیف کو دور کردیتا ہے تو پھر بھی اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا۔ بلکہ مال و دولت کو گلے سے ایسے لگا لیتا ہے جیسے خزانے پر سانپ بیٹھا ہو۔ پھر وہ ایسا ننانوے کے چکر میں پڑجاتا ہے کہ کسی غریب محتاج کی مدد کرنا اور اس کی کسی ضرورت کو پورا کرنا تو درکنار، اپنے اہل و عیال بلکہ اپنی ذات پر خرچ کرنا گوارا نہیں کرتا۔ اس کی بس ایک ہی ہوس ہوتی ہے کہ اس کی دولت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 19–21

9۔ (آیت) ” الانسان “۔ انسان سے اس سیاق میں مراد کافر انسان ہے جیسا کہ معا بعد اہل ایمان کے استثناء سے ظاہر ہورہا ہے۔ (آیت) ” ھلوعا “۔ اس بدہمتی سے مراد طبعی، جبلی بدہمتی مراد نہیں بلکہ اس کے اختیاری واکتسابی آثار مادی مراد ہیں۔ (آیت) ” جزوعا “۔ یعنی جزع فزع کرنے میں قدم حد اباحت سے آگے بڑھا رہتا ہے۔ (آیت) ” منوعا “۔ یعنی ادائے حق ضروری میں بھی بخل کرنے لگتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–35

ان الانسان خلق ھلوعا، ھلوع کے لفظی معنی ہیں حریص، بےصبرا، کم ہمت، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ھلوع وہ شخص ہے جو کہ مال حرام کی حرص میں مبتلا ہو، یہاں یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ جب انسان کو پیدا ہی اس حال میں کیا گیا ہے تو پھر اس کا کیا قصور ؟ وہ مجرم کیوں قرار دیا گیا ؟ وجہ یہ ہے کہ مراد اس سے انسانی فطرت اور جبلت میں رکھی ہوئی استعداد اور مادہ ہے تو حق تعالیٰ نے انسان میں ہر خیر و شر کا مادہ اور استعداد بھی رکھی ہے اور شر و فساد کی بھی اور اس کو عقل و ہوش بھی عطا فرمائے ہیں اور اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ ہر ایک کا انجام بھی بتادیا، اب انسان کو اختیار ہے کہ دونوں قسم کی صلاحیتوں میں سے جس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا مسہ الخیر منوعا اور ذرا مال کا کچھ لگاؤ ہوجاتا ہے تو روک کر رکھتا ہے ‘ نہ شکر کرتا ہے ‘ نہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر آدمی کو مال سے بھری ہوئی دو وادیاں مل جائیں ‘ تب بھی وہ تیسری کا خواستگار ہوتا ہے۔ آدمی کے پیٹ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھرتی اور جو اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اللہ بھی اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ (متفق علیہ) انس کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : آدمی بوڑھا ہوجاتا ہے مگر دو چیزیں اسکی جوان ہوجاتی ہیں ‘ مال کی حرص اور (درازء) عمر کی حرص۔ (متفق علیہ)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 14–21

(14۔ 21) اور تمام اہل زمین کو اپنے فدیہ میں دے پھر اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کو عذاب سے بچا لے ایسا ہرگز نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو عذاب سے مطلقا نہیں بچائے گا وہ آگ ایسی شعلہ زن ہے جو کہ ہاتھ پیروں اور تمام بدن کی کھال تک اتار دے گی اور یا یہ کہ اس کے بدن کو جھلس دے گی۔ لظی دوزخ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور وہ شخص کو خوب بلائے گی جس نے توحید سے پشت پھیری ہوگی اور ایمان سے بےرخی کی ہوگی اور کفر سے توبہ نہ کی ہوگی اور دنیا میں مال جمع کیا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا حق نہ ادا کر کے اس کو محفوظ کر کے رکھا ہوگا۔ کافر کم ہمت بخیل لالچی پیدا ہوا ہے جب اس کو فاقہ و تنگی پیش آتی ہے اور صبر نہیں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 19–21

ان الانسان خلق ھلوعا…: یعنی انسان میں پیدائشی طو ر پر یہ کمزوری رکھی گئی ہے کہ وہ تھڑولا ہے، بےصبرا ہے۔ تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جاتا ہے، مال یا کوئی اور نعمت ملتی ہے تو روک کر بیٹھ جاتا ہے اور حق داروں کو نہیں دیتا، مگر یہ کمزوری ایسی نہیں کہ انسان اس پر قابو نہ پا سکے۔ اہل ایمان نہ مصیبت میں گھبراتے ہیں اور نہ خوش حالی میں اتراتے ہیں۔ صہیب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(عجباً لامر المومن ان امرۃ کلہ خیر ولیس ذاک لاحد الا للمومن ان اصابتہ سراء شکر فکان خیرالہ و ان اصابتہ ضراء صبر فکان خیرلہ) (مسلم، الزھد ، باب المومن امرہ کلہ خیر : 2999)”مومن کا معاملہ عیجب ہے کہ اس کے سب کام…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 19–21

ان الانسان خلق ھلوعا۔ یاں انسان سیم راد کافر ہے (و) یہ ضحاک سے مروی ہے۔ لغت میں ھدع سے مراد شدید حرص بری طرح جزع فزع اور فحش تریں اسلوب (4) اسی طرح قتادہ، مجاہد اور دوسرے علماء کا قول ہے اس کا باب یوں چلتا ہے ھدع یھدع فھو ھلع وھلوع یہ کثرت کے معنی پر دال ہے اس کا معنی ہے وہ خیر و شر پر صبر کرتا یہاں تک دونوں صورتوں میں ایسا کام کرتا ہے جو مناسب نہیں ہوتا ۔ عکرمہ نے کہا، اس سے مراد اندرونگی تنگی اور غم ہے (1) ضحاک نے کہا، اس سے مراد وہ شخص ہے جو سیر نہ ہوتا ہو۔ منوع سے مراد وہ شخص ہے جو مال پائے تو اللہ تعالیٰ کا حق روک لے۔ ابن کیسان نے کہا : اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا وہ اس چیز کو پسند…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–21

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے آیت ہلوعا کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت اذا مسہ الشر جزوعا واذا مسہ الخیر منوعا جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو چلا اٹھتا ہے اور جب اسے مال ملتا ہے تو بڑا بخیل بن جاتا ہے پس ہلوع ہے۔ 2۔ طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انفع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ان الانسان خلق ہلوعا کے بارے میں بتائیے تو فرمایا اس سے مراد ہے سخت تنگ دل اور گھبرانے والا۔ یہ ابو جہل بن ہشام کے بارے میں نازل ہوئی۔ پھر پوچھا کیا عرب کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ : اور جب کبھی چھوتی ہے کسی کو بھلائی ][ مَنُوْعًا : تو بہت کنجوسی کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 19–21

انسان کا ایک خاص مزاج، گھبراہٹ اور کنجوسی، نیک بندوں کی صفات اور ان کا اکرام و انعام آیات بالا میں انسان کی بعض صفات رذیلہ اور بہت سی صفات جمیلہ بیان فرمائی ہیں اس سے پہلے یہ فرمایا تھا کہ دوزخ انہیں بلائے گی جنہوں نے رو گردانی کی پشت پھیری اور مال جمع کیا اور اٹھا اٹھا کر رکھا اور ان آیات میں سے پہلی اور دوسری اور تیسری آیت میں انسان کا ایک خاص مزاج بتایا ہے ارشاد فرمایا : ﴿ اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ0019﴾ (بلاشبہ انسان کم ہمت پیدا کیا گیا ہے) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہا : الھلع سرعة الجزع یعنی جلدی سے گھبراہٹ میں پڑجانے کو ھلع کہا جاتا ہے یہ لفظ ناقة ھلوع سے لیا گیا ہے جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–35

مجازات عناد وسرکشی کفار وشدت کرب و اضطراب در روز قیامت : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” سال سآئل بعذاب واقع ...... الی ...... فی جنت مکرمون “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون اہل جہنم کے احوال پر مشتمل تھا اور یہ کہ مجرموں کو کس ذلت کے ساتھ خدا کے عذاب اور قہر کی گرفت میں لیاجائے گا اب اس سورت میں ایسے مجرمین کی معاندانہ روش بیان کرکے اس پر مذمت اور سزا کا ذکر فرمایا جارہا ہے اور یہ کہ روز قیامت ایسے سرکشوں کی بےبسی کا کیا عالم ہوگا جو دنیا میں غرور ونخوت کا پیکر بنے ہوتے تھے ارشاد فرمایا۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے کافروں کے واسطے جس کو کوئی ٹلانے والا نہیں وہ عذاب ہر حال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 19–21

6:۔ ” ان الانسان “ یہ زجر ہے۔ الانسان سے جنس انسان مراد ہے۔ کافر کا دل نہایت کمزور اور ضعیف ہوتا ہے۔ خیر و شر میں آپے سے باہر ہوجاتا ہے جنانچہ جب اس کا حال برا ہو تو بری طرح جزع فزع کرتا اور ناامید ہوجاتا ہے اور جب خوشحال ہو تو اتراتا ہے اور کار خیر میں خرچ نہیں کرتا۔ پچھلی دونوں آیتیں پہلی آیت کی تفسیر ہیں (ان الانسان خلق ھلوعا) ثم فسرہ بقولہ (اذا مسہ الشر جزوعا) ای اذا اصابہ الضر فزع وجزع وانخلع قلبہ من شدۃ الرعب وایس ان یحصل لہ بعد ذلک خیر (واذا مسہ الخیر منوعا) ای اذا حصلت لہ نعمۃ من اللہ بخل بھا علی غیرہ و منع حق اللہ تعالیٰ فیہا (ابن کثیر ج 4 ص 421) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–28

گذشہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے پانے منہ سے عذاب مانگنے والوں اور قیامت کا مطالبہ کرنے والوں کا رد فرمایا۔ اور کہا کہ یہ لوگ قیامت کو بعید سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہ قریب ہے اور اپنے وقت پر آئے گی۔ اس دن مجرم آرزو کریگا کہ کاش اپنے بیٹوں ، بیوی ، بھائی ، قبیلے اور تمام روئے زمین والوں کو فدیہ دے کر اپنی جان چھڑالے ، مگر ایسا نہیں ہوگا۔ فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اول تو ان تمام چیزوں کا فدیہ بننا ہی محال ہے۔ اور اگر بالفرض ایسا ہو بھی جائے تو یہ باطل آرزو پوری نہیں ہوگی۔ اس مقام پر سب سے پہلے بیٹوں کا ذکر کیا کہ آدمی کا سب سے زیادہ حق اور تسلط بیٹوں پر ہوتا ہے۔ اگر کہیں یر غمال…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّاِذَا مَسَّہُ الْخَيْرُ مَنُوْعًا۝ 21 ۙ خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–35

ترکیب : ھلوعا حال مقدرۃ من الانسان الھلع اشد الحرص یقال ھلع الرجل یھلع ھلعا وھلا عا فھو ھالع دھلوع وکذاجزوعاد منوعا حالان و اذالاولیٰ ظرف لجز وعا والاخریٰ لمنوعا الا المصلین استثناء من الجنس والمستثنیٰ منہ الانسان وھو جنس فی جنات ظرف لمکرومون۔ تفسیر : اور یہ مال جمع کرنا اور کنجوسی کرنا اس لیے ہے کہ ان الانسان خلق ھلوعا۔ انسان (بعض کہتے ہیں اس سے مراد کفار ہیں) فطرتی طور پر لالچی اور بےصبر پیدا ہوا ہے۔ اس کمبخت کی دور اندیشی اور اس کی زیرکی (جو خداوند عالم کی طرف سے بہ نسبت اور حیوانات کے زیادہ ملی تھی) اس کو بخل اور لالچ پر آمادہ کرتی ہے اور بڑے بڑے خیالات اور امیدیں بندھاتی ہے کہ سینکڑوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 19–21

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ھَلُوْعًا۔ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوْعًا۔ وَّاِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا۔ (المعارج : 19 تا 21) (انسان تھڑدلا پیدا کیا گیا ہے۔ جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا جاتا ہے۔ اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے۔ ) ھَلُوْعٌ کا مفہوم ھَلُوْعٌ … کے لفظی معنی حریص، بےصبر، کم ہمت اور تھڑدلے کے ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) نے فرمایا کہ آیت میں ھَلُوْعٌ سے مراد وہ شخص ہے جو مال حرام کی حرص میں مبتلا ہو۔ اور حضرت سعید بن جبیر ( رض) نے فرمایا کہ اس سے مراد بخیل آدمی ہے۔ اور مقاتل ( رح) نے کہا کہ تنگ دل، بےصبر آدمی مراد ہے۔ اور یہ سب معانی متقارب ہیں۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–28

فہم القرآن ربط کلام : چمڑیاں ادھیڑدینے والی آگ سے بچنے والے لوگوں کے اوصاف۔ انسان کی طبعی کمزوریوں میں ایک کمزوری یہ ہے کہ وہ جلد باز ہے۔ اسی جلد بازی کی وجہ سے انسان دنیا کے فائدے کی خاطر حق بات سے منہ موڑ تا، ناجائز طریقے سے مال بناتا اور اسے جمع رکھتا ہے۔ اگر انسان اپنی جلدبازی پر قابو پالے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان سے منہ موڑ کر نہ کسی کا مال بٹورے اور ہی ناجائز طریقے سے مال جمع کرے۔ یہ جلد بازی کا نتیجہ ہے کہ جب اسے مال کی تنگی اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا اٹھتا ہے اور جزع فزع کرنے لگتا ہے جب اسے مال حاصل ہوتا ہے توبخیل بن جاتا ہے۔ یہاں گھبراہٹ اور بخل کا حوالہ دے کر دو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

21 : وَّ اِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا (اور جب اس کو فارغ البالی ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے) الھلعؔ ناپسند حالت آنے پر جلد گھبرانا۔ اور بھلائی پہنچے تو جلد بھلائی سے رک جانا۔ قول ثعلب (رح) : محمد بن طاہر نے آپ سے پوچھا ھلعؔ کیا ہے تو فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس کی خود تفسیر فرما دی۔ اور اللہ تعالیٰ کی تفسیر سے زیادہ واضح نہیں ہوسکتا۔ اور وہ وہی ہے جب اس کو تکلیف پہنچے تو شدید گھبراہٹ کا اظہار کرے۔ اور جب اس کو خیر میسر ہو تو بخل کرے اور اس کو لوگوں سے روک کر بیٹھ رہے۔ یہ طبع انسانی ہے۔ انسان کو اپنی طبع کی مخالفت کا حکم دیا گیا اور شرع کی موافقت کرنے کا کہا گیا ہے۔ الشرؔ سے جسمانی تکلیف،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–35

19۔ 35۔ شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے کافروں اور ایمان دار لوگوں کی نشانیاں مقابلہ کے طور پر بیان فرمائی ہیں مثلاً کافروں کی نشانی یہ ذکر فرمائی کہ وہ لوگ عذاب آخرت اور قیامت کے منکر ہیں اس لئے از خود عذاب الٰہی کی خواہشیں کرتے ہیں اور ایمان دار لوگوں کی یہ نشانی ہے کہ قیامت اور عذاب آخرت کا ان کے دل میں پورا یقین ہے اس واسطے عذاب الٰہی کا ہر وقت ان کے جی میں ایک خوف رہتا ہے کافروں کی یہ نشانی ہے کہ بدکاری کو کچھ عیب نہیں جانتے ایمان دار اس کے برخلاف ہیں اسی طرح کافروں کی یہ نشانی ہے کہ مال جمع کرکے رکھتے ہیں اور محتاجوں کو کوڑی نہیں دیتے اور ایمان داروں کی یہ نشانی ہے کہ ان کے مال میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(واذا مسہ الخیر منوعا) ۔ اور جب اسے آسائش پہنچتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا اللہ کی نعمتوں اور اس کے احسان پر اس کا شکر ادا نہیں کرتا پس وہ مصیبت اور سختی کے وقت بےصبری کرتا ہے اور فراخی اور خوشحالی کے وقت مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

17 منکر انسان کا حال خوشحالی میں بخل و کنجوسی۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب اس کو خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو یہ بخیل بن جاتا ہے۔ اور ایسا خود غرض بن جاتا ہے کہ کسی دوسرے کی مصیبت و پریشانی سے نہ اس کا دل پسیجتا ہے ‘ نہ یہ ٹس سے مس ہوتا ہے ‘ اور دوسرے کے کام آنے کی بجائے الٹا یہ اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کے درپے ہوجاتا ہے جیسا کہ سود خور مہاجنی لوگ دوسرے ضرورت مندوں کا خون چوسنے لگتے ہیں اور رحم و ترس کے جذبات کے سے عاری ہو کر وہ چمڑی جائے دمڑی نہ جائے کا نمونہ بن جاتے ہیں اس طرح دنیا کا ملنا بھی ان کیلئے عذاب بن جاتا ہے اور اس کا نہ ملنا یا مل کے چھننآ بھی ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 5–21

صبر کی تلقین، قیامت کی سختی اور سزائیں تشریح : حدیث پاک میں ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ نے یہ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری بعثت کے بعد قیامت اب اتنی نزدیک ہے جتنی میری یہ دو انگلیاں ایک دوسری کے نزدیک ہیں ( قیامت نزدیک آپہنچی ہے) ۔ (بخاری ) قیامت کے ممکنہ حالات اور زمین کی ہر طرح سے تباہی کے واقعات اور اسباب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ انسانوں کے لئے تو قیامت اس وقت ہی آجاتی ہے جب وہ مرتے ہیں۔ میدان حشر میں اس قدر دہشت اور افراتفری پھیلی ہوئی ہوگی کہ کوئی کسی کو پہنچانے گا بھی نہیں بلکہ ہر ایک کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔ اور بےبسی کا یہ عالم ہوگا کہ گناہوں کے بدلے جو سزاء ملے گی اس کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–34

سورة المعارج۔ آیات 1 تا 35۔ اسرار ومعارف۔ مانگنے والے نے عذاب مانگا کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم پر عذاب نازل کر لیکن عموما کفار کے عمل سے ظاہر ہے کہ ان کی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کچھ نہ ہوگا اور ہم اپنی پسند دنیا پہ نافذ کرسکتے ہیں مگر یہ حق ہے اور کفار پر عذاب آئے گا اور اسے کوئی روک نہ سکے گا یہ عذاب اس اللہ کی طرف سے جو بلندیوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ مومن کی روح عظمتوں سے واقف ہے۔ جن بلندیوں سے فرشتے آگاہ ہیں اور اس دن بھی چڑھیں گے ۔ جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اور مومن کی ارواح کے بھی صاحب روح المعانی کے مطابق زینہ بہ زیرنہ درجات ہیں جو عظمت الٰہی پہ دلالت کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 21–23

ف 6 یعنی جو کوئی نماز ترک نہیں کرتے یا جو ہمیشہ وقت پر نماز پڑھتے ہیں۔ یہاں نماز سے نماز فرض مراد ہے مگر عموم پر محمول کرنا بہتر ہے۔ اس سے عبادت پر دوام کی فضیلت نکلتی ہے۔ ابوسلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے مجھ سے بیان کیا کہ آنحضرت نے فرمایا : خذو امن العمل ماتطیقون فان اللہ لا یمل حتی تملوا قالت فکان احب الاعمال الی رسول اللہ ﷺ مادام علیہ وان قل عبادت اتنی کرو جتنی طاقت ہو۔ یعنی حد سے زیادہ اپنے اوپر بوجھ نہ ڈالو ورنہ تم اکتا کر چھوڑ بیٹھو گے۔ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت کو سب سے محبوب عمل وہ ہوتا جسے آپ ہمیشہ کرتے خواہ تھوڑا ہی ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(70:21) واذا مسہ الخیر منوعا : اس کا عطف آیت سابقہ پر ہے۔ منوعا جزوعا کی طرح ہے منوعا منع سے باب فتح سے مصدر۔ مبالغہ کا صیغہ ہے بہت روکنے والا۔ بڑا کنجوس۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–35

لغات القرآن۔ ھلوعا۔ بزدل۔ ڈرپوک۔ جزوعا۔ گھبرا جانے والا۔ منوعا۔ ہاتھ روک لینے والا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آدمی کو بڑی عظمتوں اور زبردست صلاحیتوں سے نواز ہے وہ جب کائنات میں آگے بڑھتا ہے تو خشکی، تری اور فضاؤں پر حکمرانی کرنے لگتا ہے لیکن اس کی تخلیق اور فطرت میں کچھ کمزوریاں بھی رکھ دی گئی ہیں۔ اگر وہ ان کمزوریوں پر قابو پا لے تو پھر وہ دنیا میں سربلند اور آخرت کی نجات کا مستحق بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ آدمی اپنے بےانتہا صلاحیتوں کے باوجود بہت بےصبرا، کم ہمت اور تنگ دل واقع ہوا ہے۔ اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور جب اس کو خیر اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–21

نماز کی تاکید ، محبوبان باری تعالیٰ کی صفات۔ (ف 1) اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان یعنی انسانوں میں جو کافر ہے فطری طور پر لالچی اور صبر پیدا ہوا ہے یعنی کسی طرح پختگی اور ہمت نہیں دکھلاتا، فقر فاقہ بیماری اور سختی آئے تو بےصبر ہوکرگھبرا اٹھے بلکہ مایوس ہوجائے ، گویا اب کوئی سبیل مصیبت سے نکلنے کی باقی نہیں رہی، اور مال و دولت تندرستی اور فراخی ملے تو نیکی کے لیے ہاتھ نہ اٹھے، اور خدا کے راستہ میں خرچ کرنے کی توفیق نہ ہو، وہاں لوگ مستثنی ہیں جن کا ذکر آگے آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–25

[6] اللہ تعالیٰ نے انسان کی سرشت میں متضاد داعیات رکھے ہیں۔ مثلاً خیرو صلاح کے داعیات کے ساتھ شر و فساد کے داعیات، اور یہ چاہا کہ وہ اس کے احکام کے مطابق جس کی تعلیم اس کو انبیاء کے ذریعے دی گئی ہے، ان متضاد داعیات کے اندر توازن و ہم آہنگی پیدا کرے اور ان کو اس کی مرضی اور اس کے قوانین کا پابند بنائے۔ بےصبری جو جلد بازی ہی کی ایک شکل ہے بجائے خود مذموم نہیں ہے۔ مذموم اگر ہے تو اس کا بےموقع یا غیر معتدل ظہور ہے۔ اگر یہ چیز انسان پر اس طرح غالب ہوجائے کہ دوسرے مقابل داعیات اس کے آگے مغلوب ہوجائیں تو ایسی صورت میں یہ کہنا بالکل مطابق حال ہوگا کہ اس کی تخلیق گویا اس عنصر سے ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–35

نمازی کی سیرت 2: قرآن حکیم یہ خوبی شان امتیاز رکھتی ہے ۔ کہ اس میں حقائق نفسیات کا بھی مذکر ہے ۔ یعنی اس کتاب علم ومعرفت میں یہ بھی بتایا گیا ہے ۔ کہ انسانی فطرت کیا ہے ؟ فرمایا ۔ اس میں ایک ہم گیر عیب یہ ہے ۔ کہ یہ کم ہمت اور بےصبر ہے ۔ اگر اس کو ذرا تکلیف پہنچتی ہے ۔ تو بلبلا اٹھتا ہے ۔ اور نالہ وشیون سے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے ۔ اور جہاں بیٹھتا ہے اسی بات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ کہ میں بہت مصیبت زدہ ہوں ۔ مجھ کو فلک ستم شیوہ نے بہت دکھ پہنچایا ہے ۔ اور اگر برے دن پھرجائیں اور آسودہ حال ہوجائے ۔ تو پھر انتہا درجے کا بخیل اور ممسک ہوجاتا ہے ۔ پائی پائی کو گنتا ہے ۔ اور پیسے پیسے کا حساب رکھتا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(21) اور جب اس کو فارغ البالی اور بھلائی پہنچتی ہے تو بخیل اور بےتوفیقا ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 19–22

ف 8۔ کم ہمتی سے مراد طبعی کم ہمتی نہیں ہے بلکہ کم ہمتی کے آثار ذمیمہ اختیار مراد ہین۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور جب اس کو فراخی ملتی ہے تو وہ رک جاتا ہے 21 ؎ (منوعا) مبالغہ کا صیغہ ہے۔ منع مصدر بہت روکنے والا۔ گویا بہت کنجوس اور بخیل ہے کہ جب اس کو رزق کی فراوانی میسر آتی ہے تو بخل کرنا شروع کردیتا ہے اور مال کو جمع کرنے کے لالچ میں وہ اس قدر خبطی ہوجاتا ہے کہ اس کو کچھ نہیں سوجھتا بس ایک ہی دھن اس پر سوار ہوجاتی ہے کہ اس روپے اور خزانے کو بار بار گنتا ہے اور روک روک کر رکھتا ہے۔ نہ خود اپنی جان پر خرچ کرتا ہے اور نہ ہی جن کی کفالت اس کے ذمہ ہے ان پر دل کھول کر خرچ کرتا ہے اور کسی غریب ، مسکین ، یتیم کو تو قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا۔ یہ بھی انسان کی دراصل فطری کمزوری ہے لیکن اس کو بیر کوئی شخص کمزوری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 20–23

إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ‌ جَزُوعًا وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ‌ مَنُوعًا (very upset when touched by evil, and very niggard when visited by good (fortune)... 70:20-21). This verse describes the fickle nature of man. When bad things happen to him he becomes desperate and upset, and loses patience. When good things come to him, such as wealth and comfort, he becomes begrudging and miserly in spending his wealth for good causes. 'Impatience', in this context, signifies 'that which is outside the limits of Shari` ah'. 'Niggard', in this context, signifies 'failing to fulfill pecuniary obligations…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–21

13 "Man has been created impatient": It is man's nature, or his natural weakness, to be impatient. Here, one should keep in view that at many places in the Qur'an, after making mention of mankind's common moral weaknesses, those who believe and adopted righteousness have been made an exception; the same theme is being expressed in the following verses. This by itself explains the truth that these hereditary weaknesses are not unalterable; if man accepts the guidance sent down by God and tries to reform himself practically, he can remove them, and if he gives a free rope to his self these…

Read the full tafseer →