Explained with ayahs 8–16
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کھیلیں اور یہ بھی مطلب ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہوجائیں، پھر فرماتا ہے کہ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان چونکہ جھوٹے شخص کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہوجانے کا ڈر رہتا ہے، اس لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں…
Read the full tafseer →سورة الْقَلَم 5
یعنی تم اسلام کی تبلیغ میں کچھ ڈھیلے پڑجاؤ تو یہ بھی تمہاری مخالفت میں کچھ نرمی اختیار کرلیں، یا تم ان کی گمراہیوں کی رعایت کر کے اپنے دین میں کچھ ترمیم کرنے پر آمادہ ہوجاؤ تو یہ تمہارے ساتھ مصالحت کرلیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِيْنَ ، وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُوْنَ یعنی آپ ان جھٹلانے والوں کی بات نہ مانیں یہ تو یوں چاہتے ہیں کہ آپ کچھ تبلیغ احکام میں نرم پڑجائیں اور شرک و بت پرستی سے ان کو روکنا چھوڑ دیں تو یہ بھی نرم پڑجائیں کہ آپ پر طعن تشنیع اور آپ کی ایذا رسانی چھوڑ دیں (قالہ ابن عباس، قرطبی)
مسئلہ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفار و فجار کے ساتھ یہ سودا کرلینا کہ ہم تمہیں کچھ نہیں کہتے تم ہمیں کچھ نہ کہو۔ یہ مداہنت فی الدین اور حرام ہے (مظہری) یعنی بلا کسی اضطرار و مجبوری کے ایسا معاہدہ جائز انہیں۔
Read the full tafseer →مخالفین کی اصل پالیسی:
یہ ان مکذبین کی مخالفت کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا ہے کہ ان کی یہ ساری تگ و دو اس مقصد سے ہے کہ تم کچھ اپنے رویہ میں لچک پیدا کرو تو یہ بھی نرم پڑ جائیں۔ یعنی تمہاری باتوں کی صداقت میں انھیں شبہ نہیں ہے لیکن ان کو ماننا ان کی خواہشوں کے خلاف ہے اس وجہ سے انھوں نے یہ طوفان اٹھایا ہے کہ تم پر دباؤ ڈال کر تمہیں کچھ نرم کریں تاکہ تم کچھ باتیں ان کی مان لو اور وہ کچھ باتیں تمہاری مان لیں اور اس طرح ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کے اصول پر باہم سمجھوتہ ہو جائے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی یہ مخالفت اپنے دین جاہلی کے ساتھ کسی اخلاص پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ محض ایک قسم کی (BARGAINING) کی کوشش ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
9۔ 1 وہ چاہتے ہیں کہ تو ان کے معبودوں کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرے تو وہ بھی تیرے بارے میں نرم رویہ اختیار کریں باطل پرست اپنی باطل پرستی کو چھوڑنے میں ڈھیلے ہوجائیں گے۔ اس لئے حق میں خوشامد، حکمت، تبلیغ اور کار نبوت کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔
Read the full tafseer →3: کافروں کی طرف سے کئی بار اس قسم کی تجویزیں پیش کی گئی تھیں کہ اگر آنحضرت ﷺ اپنے فرائض تبلیغ کی ادائیگی میں کچھ نرمی کا مظاہرہ فرمائیں اور ہمارے بتوں کو باطل نہ کہیں تو ہم بھی آپ کو ستانا چھوڑ دیں گے۔ یہ ان کی اس تجویز کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
فلا تطع .................... فیدھنون (86 : 9) ” تم جھٹلانے والوں کے دباﺅ میں ہرگز نہ آﺅ۔ یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں “۔ دراصل اندر سے یہ لوگ سودا بازی کے لئے تیار ہیں۔ چاہتے ہیں کہ نصف نصف سودا طے ہوجائے جس طرح تاجر لوگ مول تول کرلیتے ہیں۔ لیکن ان کو معلوم ہے کہ نظریات اور تجارت میں فرق ہوتا ہے۔ ایک نظریاتی شخص اپنے عقائد اور نظریات میں کبھی سودا بازی کے لئے تیار نہیں ہوا کرتا۔ کیونکہ نظریات میں چھوٹی بات بھی بڑی بات کی طرح قیمتی ہوتی ہے بلکہ نظریات میں چھوٹی اور بڑی بات ہوتی ہی نہیں ہے۔ نظریہ ایک مکمل اکائی ہوتا ہے۔ اس میں کوئی کسی کی نہ اطاعت کرتا ہے اور نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
9 یعنی راہ پر آنے والے نہ آنے والے سب اللہ کے علم محیط میں طے شدہ ہیں۔ لہذا دعوت و تبلیغ کے معاملہ میں کچھ رو و رعایت کی ضرورت نہیں۔ جس کو راہ پر آنا ہوگا آرہے گا اور جو محروم ازلی ہے وہ کسی لحاظ و مروت سے ماننے والا نہیں۔ کفار مکہ حضور ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ ﷺ بت پرستی کی نسبت اپنا سخت رویہ ترک کردیں اور ہمارے معبودوں کی تردید نہ کریں، ہم بھی آپ ﷺ کے خدا کی تعظیم کریں گے اور آپ ﷺ کے طورو طریق اور مسلک و مشرب سے متعارض نہ ہوں گے۔ ممکن تھا کہ ایک مصلح اعظم کے دل میں جو " خلق عظیم " پر پیدا کیا گیا ہے۔ نیک نیتی سے یہ خیال آجائے کہ تھوڑی سی نرمی اختیار کرنے اور ڈھیل دینے سے کام بنتا ہے تو برائے چند…
Read the full tafseer →آیت 9{ وَدُّوْا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُوْنَ۔ } ”وہ تو چاہتے ہیں کہ آپ ﷺ ذرا ڈھیلے پڑیں تو وہ بھی ڈھیلے پڑجائیں۔“
باطل کا تو وطیرہ ہے کہ پہلے وہ حق کو جھٹلاتا ہے ‘ پھر جب اس کے مقابلے میں کھڑے ہونا مشکل نظر آتا ہے تو مداہنت compromise پر اتر آتا ہے۔ لیکن حق کسی قسم کی مداہنت یا کسی درمیانی راستے کو نہیں جانتا۔ بقول اقبال ؎
باطل دوئی پسند ہے حق لا شریک ہے
شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول !
اگلی آیات میں نام لیے بغیر انتہائی سخت الفاظ میں ایک کردار کا ذکر ہوا ہے۔ کسی معتبر روایت سے تو ثابت نہیں لیکن زیادہ تر مفسرین کا خیال ہے کہ ان آیات کا مصداق ولید بن مغیرہ تھا :
Read the full tafseer →7 کافروں کی حق وباطل میں سمجھوتہ کی کوشش :۔ کافروں کا مطالبہ یہ تھا کہ آپ ہمارے بتوں کو برا کہنا چھوڑ دیں۔ آپ معاذ اللہ ان کے بتوں کو کوئی گالیاں تو نہیں دیتے تھے بلکہ صرف یہ کہتے تھے کہ یہ بت نہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں۔ ان کے تصرف و اختیار میں کچھ بھی نہیں۔ پھر چونکہ مدتوں سے ان کافروں میں اعتقاد چلا آرہا تھا۔ کہ ہمارے یہ معبود ہمارا بگاڑ بھی سکتے ہیں اور سنوار بھی سکتے ہیں۔ لہذا وہ آپ کی اس تعلیم کو اپنی بھی توہین سمجھتے تھے اپنے آباؤ اجداد کی بھی اور اپنے ان بتوں کی بھی۔ ان کا مطالبہ صرف یہ تھا کہ آپ ہمارے معبودوں کو کچھ نہ کہیں۔ ان کی شان میں کوئی توہین یا گستاخی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
8۔ یعنی ایسا نہ ہونے پائے کہ آپ اس خیال سے کہ فلاں شخص سے اس بناء پر کہ وہ صاحب وجاہت اور صاحب اثر ہے، باوجود اس کی ان ساری خباثتوں کے اشتراک عمل کرلینا بھی مصلحت خیال کرنے لگیں۔ (آیت) ” ان کان “۔ ان الفاظ کا تعلق آیت ماقبل کے ابتدائی لفظ ولا تطع سے ہے۔ متعلق بقولہ ولا تطع (مدارک) بعض نے یہ ترکیب بھی صحیح قرار دی ہے کہ ان کان کے قبل یکفر یا یجحد محذوف ہے اور ان کان اس سے متعلق اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ وہ خبیث کفر و انکار اسی گھمنڈ میں آکر کرتا ہے کہ وہ دولت مند اور صاحب اولاد کثیر ہے۔ آیت اپنے عموم مفہوم کے لحاظ سے تو ہر خبیث ورذیل خصائل والے کافر معاند کے حق میں عام ہے۔ لیکن شان نزول کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
فلا تطع المکذبین یعنی آپ ﷺ ان جھٹلانے والوں کی بات نہ مانیں، یہ تو یوں چاہتے ہیں کہ آپ ﷺ تبلیغ احکام میں کچھ نرم پڑجائیں، تو یہ بھی نرم پڑجائیں کہ آپ ﷺ پر طعن وتشنیع اور ایذا رسانی ترک کردیں۔ (قرطبی)
مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفار و فجار کے ساتھ یہ سودا کرلینا کہ ہم تمہیں کچھ نہیں کہتے تم بھی ہمیں کچھ نہ کہو، یہ مداہنت فی الدین اور حرام ہے (معارف، مظہری) یعنی بلاکسی اضطراب اور مجبوری کے ایسا معاہدہ جائز نہیں۔
Read the full tafseer →ودوا لوتدھن فیدھنون . وَدُّوْا کا فاعل مکذبین ہے ‘ لو تمنائی ہے۔ اِدھان ‘ دہن سے مشتق ہے بمعنی نرمی
فیدھنون میں فاء عطف تعقیبی کے لیے ہے یا سببیت کے لیے۔ اوّل صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وہ مداہنت (مذہبی معاملات میں نرمی) فریقین کی طرف سے چاہتے ہیں لیکن اس بات کے خواستگار ہیں کہ پہلے تم نرمی کرو یا بعض امور میں کبھی کبھی ان سے موافقت کرلو تو وہ تم پر طعن کرنا اور بعض امور میں تمہاری مخالفت کرنا ترک کردیں گے۔
مسئلہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ دین کے معاملہ میں نرمی کرنی حرام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
(8۔ 12) اور آپ خصوصا ولید بن مغیرہ مخزومی کا کہنا نہ مانیے جو کہ بہت جھوٹی قسمیں کھانے والا وہ دین خداوندی میں ذلیل ہو، طعنہ دینے والا، آتے جاتے لوگوں سے غیبت کرنے والا، وہ لوگوں کے درمیان چغلیاں لگاتا پھرتا ہو تاکہ ان کے درمیان فساد برپا کرے۔ اپنی اولاد اور کنبہ قبیلہ کو دین اسلام سے روکتا ہو حق سے اعتدال کرنے والا اور ان پر ظلم کرنے والا ہو فاجر ہو، جھوٹ اور ؟
شان نزول : وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ (الخ)
ابن ابی حاتم نے سدی سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے بارے میں اتری ہے۔ ابن منذر نے کلبی سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور ابن ابی حاتم نے مجاہد سے روایت کیا…
Read the full tafseer →وَدُّوْا لَوْتُدْھِنُ فَیُدْھِنُوْنَ :”تدھن“”دھن“ (تیل) سے مشتق ہے۔ جس طرح چمڑے وغیرہ کو تیل لگا کر نرم کیا جاتا ہے اس طرح بات کو نرم کردینا۔ یعنی ان کی خواہش ہے کہ آپ اسلام کی تبلیغ میں اپنی سرگرمیاں کم کردیں تو وہ بھی آپ کو ستانے میں کمی کردیں ، آپ اپنے دین میں کچھ ترمیم کر کے اس میں ان کے شرک اور دوسری گمراہیوں کی کچھ گنجائش نکال لیں تو وہ بھی آپ کے ساتھ صلح کرلیں گے۔ آپ خود جو چاہیں کریں ، مگر تمام لوگوں کی زندگی کے ہر شعبہ مثلاً ان کے عقائد ، معیشت اور معاشرت و حکومت وغیرہ میں اللہ کے حکم کی تنقید پر اصرار چھوڑ دیں تو وہ بھی آپ کے نماز روزے کو برداشت کرلیں ، جیسا کہ ہمیشہ کی طرح آج بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
حضرت ابن عباس عطیہ، ضحاک اور سدی نے کہا : انہوں نے پسند کیا کا شچ تم کفر کرتے تو وہ اپنے کفر میں مزید آگے بڑھ جاتے۔ حضرت ابن عباس نے یہ بھی کہا : انہوں نے پسند کیا کہ اگر آپ ﷺ انہیں رخصت دیں تو وہ بھی آپ ﷺ کو رخصت دیں گے (1) فراء اور کلبی نے کہا : اگر آپ نرمی کریں تو وہ بھی نرمی کریں گے۔ ادھان سے مراد اس کے لئے نرمی کرتا ہے جس کے لئے نرمی کرنا مناسب نہ ہو، یہ فراء کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا، معنی ہے انہوں نے چاہا اگر آپ ﷺ کی طرف مائل ہوں اور آپ حق کو چھوڑ دیں تو وہ بھی آپ ﷺ کی طرف مئال ہوں گے۔ ربیع بن انس نے کہا، انہوں نے چاہا اگر آپ جھوٹ بولیں تو وہب ھی جھوٹ بولیں گے (2) قتادہ نے کہا : انہوں نے…
Read the full tafseer →45۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ودوا لو تدہن فیدہنون۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ کہیں آپ نرمی کریں تو وہ بھی نرمی کریں۔ یعنی آپ ان کو رخصت دیں گے تو وہ بھی آپ کو رخصت دیں۔
46۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت ودو لوتدہن فیدھنون کے بارے میں روایت کیا کہ اگر آپ ان کی طرف مائل ہوئے اور آپ اس حق کو چھوڑدیں گے جس پر آپ ہیں تو وہ بھی آپ کی طرف جھک جائیں گے۔
47۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ودو لو تدہن فیدہنون سے مراد ہے کہ اگر وہ اس بات کو دوست رکھتے ہیں کہ اگر اللہ کے نبی ﷺ کے بارے میں کچھ نرمی اختیار کریں گے تو وہ بھی آپ سے نرمی اختیار کریں…
Read the full tafseer →[وَدُّوْا : ان لوگوں نے خواہش کی ][ لَوْ تُدْهِنُ : کاش آپ ڈھیلے پڑیں ][ فَيُدْهِنُوْنَ : تو وہ لوگ بھی ڈھیلے پڑیں گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
آپ کی تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے، وہ آپ سے مداہنت کے خواہاں ہیں
یہ نو آیات کا ترجمہ ہے ان میں سے پہلی دو آیتوں میں یہ فرمایا کہ آپ تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے وہ چاہتے ہیں کہ آپ کچھ نرم پڑجائیں تو وہ بھی آپ کے معاملہ میں نرمی اختیار کرلیں، اہل باطل کا یہ طریقہ رہا ہے کہ خود تو حق کی طرف جھکتے نہیں ان کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ داعیان حق کو دعوت دیں کہ تم اپنی دعوت چھوڑ دو اور ہمارے کفر و گمراہی میں شریک ہوجاؤ، جب اس پر قابو نہیں چلتا تو کہتے ہیں کہ اچھا آپ کچھ نرم پڑجائیں اپنی دعوت اور دعوت کے کاموں میں نرمی اختیار کرلیں ہم بھی اپنی مخالفت میں اور سختی میں کمی کردیں گے رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
بیان عظمت رسول اکرم ﷺ وتلقین صبر و استقامت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ن والقلم وما یسطرون ........ الی .......... سنسمہ علی الخرطوم “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں خداوند عالم کی خالقیت کے دلائل ذکر کئے گئے اور یہ کہ اس کی قدرت کائنات کو محیط ہے اس کے احاطہ علم وقدرت سے کوئی مجرم نہیں نکل سکتا تو اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت کو ثابت فرمایا گیا اور یہ کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے مجرمین خدا کے عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے اور جو کچھ وہ آپ ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں وہ سب لغو اور بےہودہ باتیں ہیں کوئی صحیح العقل انسان ایسی بےہودہ باتیں تصور بھی نہیں کرسکتا ارشاد فرمایا۔
ن۔ خدا تعالیٰ ہی اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
6:۔ ” فلا تطع المکذبین “ فاء تفریعیہ ہے۔ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ آپ بحمد اللہ مجنون نہیں ہیں، بلکہ یہ آپ کے مخالفین مجانین ہیں۔ اس لیے آپ ان حق کا انکار کرنے والوں کی اطاعت نہ کریں اور ان کی کوئی بات نہ مانیں۔ ” ودوا لو تدھن فیدھنون “ یہ سورت کا دعوی ہے۔ ” فیدھنون “ تمنی کا جواب نہیں ورنہ ” فیدھنوا “ ہوتا۔ اس لیے یہ اصل میں ” فھم یدھنون “ ہے۔ مشرکین کی تمنا اور خواہش ہے کہ آپ توحید کے معاملے میں نرم ہوجائیں یعنی ان کو شرک سے نہ روکیں اور ان کے معبودوں کی عاجزی اور بےبسی کا ذکر نہ کیا کریں، ویسے خود بڑی خوشی سے اپنے معبود کی عبادت کریں اور اس کے صفات و کمالات بیان کیا کریں اور اس کو برکات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
گذشتہ سے پیوستہ (ربط) :
جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو نبوت اور رسالت عطا فرمائی اور آپ نے آپ کے ساتھیوں نے وضو کرنا شروع کیا ، نماز پڑھنا شروع کیا تو مکہ کے مشرک سرداروں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ العیاذ باللہ یہ لوگ مجنون ہوگئے ہیں۔ پاگلوں کی سی حرکتیں کرتے ہیں۔ ان مشرکین میں ولید بن مغیرہ ، ابوجہل ، اخنس بن شرق وغیرہ زیادہ پیش پیش تھے۔ یہ حضور ﷺ کے بارے میں مجنون کا لافظ استعمال کرتے تھے کہ انکے دماغ ٹھکانے نہیں رہے۔ عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہیں۔ شروع سورة میں اللہ تعالیٰ نے اس الزام کا جواب دیا اور ثابت کیا کہ حضور ﷺ اللہ کے فضل و احسان سے دیوانے نہیں ہے۔ بلکہ آپ تو بلند اخلاق پر ہیں۔ اور…
Read the full tafseer →وَدُّوْا لَوْ تُدْہِنُ فَيُدْہِنُوْنَ 9
ودد
الودّ : محبّة الشیء، وتمنّي كونه، ويستعمل في كلّ واحد من المعنيين علی أن التّمنّي يتضمّن معنی الودّ ، لأنّ التّمنّي هو تشهّي حصول ما تَوَدُّهُ ، وقوله تعالی: وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21]
( و د د ) الود ۔
کے معنی کسی چیز سے محبت اور اس کے ہونے کی تمنا کرنا کے ہیں یہ لفظ ان دونوں معنوں میں الگ الگ بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ کسی چیز کی تمنا اس کی محبت کے معنی کو متضمعن ہوتی ہے ۔ کیونکہ تمنا کے معنی کسی محبوب چیز کی آرزو کرنا کے ہوتے ہیں ۔ اور آیت : ۔ وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] اور تم میں محبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
ترکیب : فیدھنون عطف علی تدھن داخل فی حیزلووھو مبتداء محذوف ای فھم یدھنون و جواب لومحذوف وکذا مفعول ودّوا ای ودوا اوھانک لوتدھن فیدھنون ویمکن ان یکون فیدھنون مع المبتداء المحذوف جواب لووالشرط والجزاء الجملۃ مفعول ودوا وفی بعض المصاحف فید ھنوا بحذف النون علی انہ جواب التمنی المفھوم من ودوا ان کان الخ بالفتح مصدریۃ متعلق بقولہ ولاتطع ای لاتطع من ھذہ مثالبہ لان کان متمولا مستظہرا بالبنین۔ ھذا قول الفراء والزجاج و قریٔ ان بالکسر علی الشرط دجواب الشرط محذوف دل علیہ اذاتتلٰی ای ان کان ذومال یکفراولاتطع ایھا المخاطب کل حلاف شارطایسارہ اذاشرط قال جوابہ۔
تفسیر : اول بار آنحضرت ﷺ کو کفار کی اطاعت سے منع…
Read the full tafseer →وَدُّوْا لَوْ تُدْھِنُ فَیُدْھِنُوْنَ ۔ (القلم : 9)
(یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا آپ نرم پڑیں تو یہ بھی نرم پڑجائیں۔ )
مخالفین کی مخالفت کا اصل سبب
مکذبین کی مخالفت کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ آج کل کے سیاسی لیڈروں کی طرح تمام سیاسی دائوپیچ سے واقف تھے اور انھوں نے اسلام اور مسلمانوں کیخلاف سرد جنگ شروع کر رکھی تھی۔ انھوں نے رفتہ رفتہ یہ محسوس کرلیا تھا کہ آنحضرت ﷺ کو اعلانِ حق سے باز رکھنا توحید کے اظہار اور شرک کی مذمت سے روکنا اور اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت میں کسی تبدیلی کے لیے کہنا تو ممکن نہیں۔ وہ اس کے لیے ہر خطرے کا سامنا کرسکتے ہیں لیکن اس دعوت کو روک نہیں سکتے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
فہم القرآن
ربط کلام : آپ ﷺ کو یوانہ کہنے والوں کا انجام
کفار قرآن مجید اور دعوت توحید کی مخالفت کی وجہ سے آپ ﷺ کو مجنون کہنے کے ساتھ یہ الزام بھی دیتے تھے کہ آپ راہ راست سے بھٹک گئے ہیں کیونکہ آپ جو انہیں دعوت دیتے تھے وہ انہوں نے پہلے نہیں سنی تھی۔ وہ اس دعوت کو اپنی مذہبی اور معاشرتی روایات کے خلاف سمجھتے تھے اس لیے پراپیگنڈہ کرتے کہ آپ صراط مستقیم سے بھٹک گئے ہیں۔ سورة یٰس کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی ذات اور قرآن کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ آپ ﷺ صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔ یہاں یہ ارشاد فرمایا کہ آپ کا رب اچھی طرح جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک چکا ہے اور کون سیدھے راستے…
Read the full tafseer →9 : وَدُّوْا لَوْ تُدْھِنُ (یہ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ ڈھیلے ہوجائیں) اگر آپ ان کے سلسلہ میں نرمی اختیار کریں فَیُدْ ھِنُوْنَ (تو یہ بھی ڈھیلے ہوجائیں) پھر وہ ان کے سلسلہ میں نرمی برتیں گے۔
فیدھنون : یہ اَنْ مضمرہ کی وجہ سے منصوب نہیں ہے حالانکہ یہ تمنی کے جواب میں واقع ہے کیونکہ یہ دوسرے رخ پر مڑگیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ مبتدأ محذوف ھمؔ کی یہ خبر ہے اے فھم یدھنون مطلب یہ ہے پھر وہ تو ابھی نرمی اختیار کرلیں گے اس لئے کہ ان کو تو آپ کے نرم پڑنے کی طمع تھی۔
Read the full tafseer →8 ۔” فلا تطع المکذبین “ یعنی مشرکین مکہ کو کیونکہ وہ آپ (علیہ السلام) کو اپنے آباء و اجداد کے دین کی طرف بلاتے تھے تو آپ (علیہ السلام) کو ان کی اطاعت کرنے سے روک دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
8۔ 16۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے مشرکوں میں سے کوئی شخص اگر آداب دنیا کے برخلاف کچھ کہے تو باقتضا حسن اخلاق اس سے درگزر بہتر ہے ان آیتوں میں اس کی صراحت فرمائی کہ یہ مشرک لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ ان کو شرک پر اڑے رہنے سے کوئی نہ روکے تو وہ بھی مسلمانوں کی ایذا کم کردیں لیکن اللہ تعالیٰ کو اصلاح دین منظور ہے اس لئے دین کی خرابی کی کوئی بات ان میں سے کوئی شخص کہے تو وہ ہرگز نہ سننی جائے اور اس کے سننے میں کسی طرح کی مدارات ان لوگوں کے ساتھ نہ برتی جائے وہ دین کی خرابی کی باتیں ایسی ہی ہیں جیسے ان لوگوں نے ایک یہ بات کہی تھی کہ کچھ دنوں تک مسلمان ہمارے بتوں کی بڑائی مان لیں تو ہم بھی اتنے ہی دنوں تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
اللہ تبارک وتعالی اپنے نبی سے فرماتا ہے (فلا تطع المکذبین) جنہوں نے آپ کو جھٹلایا اور حق کے ساتھ عناد رکھا یہ لوگ اس قابل نہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے کیونکہ یہ صرف اسی بات کا حکم دیتے ہیں جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہوتی ہے اور یہ باطل کے سوا کچھ نہیں چاہتے، پس ان کی اطاعت کرنے والا اس چیز کی طرف بڑھتا ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ آیت کریمہ ہر جھٹلانے والے اور ہراس اطاعت کے لیے عام ہے جو تکذیب سے جنم لیتی ہے اگرچہ اس کا سیاق ایک خاص معاملے میں ہے اور وہ یہ ہے کہ کفار نے آپ سے مطالبہ کیا تھا کہ آپ ان کے معبودوں اور ان کے دین کے بارے میں خاموش ہوجائیں وہ بھی آپ کے بارے میں خاموش رہیں گے،…
Read the full tafseer →7 مکذبین کی کافرانہ پالیسی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ کسی طرح آپ ﷺ ڈھیلے پڑجائیں تو اس کے نتیجے میں یہ بھی ڈھیلے پڑجائیں۔ جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں یہ پیش کش کی تھی کہ آپ ہمارے معبودوں کو کچھ نہ کہیں ہم آپ کے معبود کو مان لیں گے، تاکہ اس طرح " کچھ لو اور کچھ دو " کی پالیسی پر عمل کر کے باہم توافق و مصالحت کو پانایا جاسکے، سو ان لوگوں کا مقصد کلمہ حق کو سننا اور ماننا سرے سے تھا ہی نہیں کہ یہ بات ان کی خاہشات پرستی اور ان کی تقلید آبا کے تقاضوں کیخلاف تھی، اس لئے وہ چاہتے تھے کہ آپ کچھ نرمی پیدا کریں اور اس کے نتیجے میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
رسول کریم ﷺ کا خلق عظیم اور کفار کی اطاعت سے بچنے کا حکم
تشریح : جیسا کہ پہلے بھی سورتوں میں مختلف چیزوں کی قسم مختلف چیزوں کے صحیح ثابت کرنے کے لیے کھائی گئی ہے تو یہاں نبی پاک ﷺ کے حسن کردار اور صفات کے بلند پایہ ہونے کے لیے قلم و قرآن کی قسم کھائی گئی ہے۔
آپ ﷺ تو مجسم صفات ہیں قرآن و احادیث میں جگـہ جگہ آپ ﷺ کی جملہ صفات کا ذکر بڑے مستند حوالوں سے کیا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو آپ ﷺ دنیا کے بہترین انسان اور پیغمبر ہیں آپ ﷺ رحمت حیا، جودوسخا، وفا، صبر، زہد وتقویٰ حسن سلوک اور حسن تادیب کے لحاظ سے بلکہ ہر لحاظ سے بےمثال ہیں آپ ﷺ کو انسان کامل ہونے کا رتبہ حاصل ہے۔
آپ ﷺ محسن انسانیت اور رحمۃ للعٰلمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
آیات 1 تا 23۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔
مجنون۔
جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی آپ ان کے معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دیں تو وہ آپ کو اتنی مذہبی آزادی دیں کہ آپ کسی محدود جگہ میں اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں۔ اسی مذہبی آزادی کا نام مداہنت ہے جس سے قرآن منع فرما رہا ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں ” یعنی ان کے بتوں کو بھلا کر تو وہ تیری باتوں کو پسند کریں۔
Read the full tafseer →(68:9) ودوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ود ومودۃ (باب سمع) مصدر۔ انہوں نے دل سے چاپا۔ انہوں نے تمنا کی۔ اسی سے الودود مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت محبت کرنے والا۔ ثواب دینے والا۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ ودوا کا فاعل آیت سابقہ میں المکذبین ہے۔
لو تدھن فیہ ھنون : لو حرف شرط۔ لوتدھن جملہ شرط ہے۔جواب شرط کے لئے ہے۔ فیدھنون جملہ جواب شرط۔ شرط و جواب شرط مل کر ودوا کا مفعول ہے ۔ تدھن مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ ادھان (افعال) مصدر بمعنی تدھین یعنی چکنا کرنے اور تیل ڈالنے کے ہیں۔ دھن بمعنی تیل۔ مگر مراد اس سے مدارات، ملائمت اور سستی لی جاتی ہے۔
یدھنون مضارع جمع مذکر غائب۔ ادھان (افعال) مصدر ۔ تیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
لغات القرآن۔
یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔
تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
مصلحت پرستی کی ممانعت۔
(ف 2) شان نزول : کفار مکہ حضور ﷺ سے کہتے تھیے کہ آپ بت پرستی کی نسبت اپناسخت رویہ ترک کردیں اور ہمارے معبودوں کی تردید نہ کریں ہم بھی آپ کے خدا کی تعظیم کریں گے اور آپ کے طورطریق اور مسلک ومشرب سے معترض نہ ہوں گے ممکن تھا کہ ایک مصلح اعظم کے دل میں جو خلق عظیم پر پیدا کیا گیا ہے نیک نیتی سے یہ خیال آجائے کہ تھوری سی نرمی اختیار کرنے اور ڈھیل دینے کام بنتا ہے تو برائے چندے نرم روش اختیار کرنے میں کیا مضائقہ ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمادیا کہ آپ ان مکذبین کا کہنا نہ مانئے ان کی غرض محض آپ کو نرم کرنا ہے ایمان لانا، اور صداقت کو قبول کرنا مقصود نہیں، راہ پر آنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
[5] یعنی کفار چاہتے ہیں کہ تم بت پرستی کو برا نہ کہو تو یہ بھی تمہارے دین کی اس قدر مخالفت نہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–12
سورة القلم اور جنون وخرد
2: حضور ﷺ کے متعلق مکہ والوں کی رائے تھی ۔ کہ ان کو خلل دماغ ہے ۔ یورپ کے بعض متعصب مشنریوں نے بھی یہ کہا ہے ۔ کہ نبوت محض مرض ضرع کا دوسرا نام تھا ۔ معاذ اللہ مگر قرآن حکیم فرماتا ہے ۔ کہ قلم اور تحریر کا جتنا اندوختہ اس وقت فطرت نے محفوظ رکھا ہے ۔ اور جس قدر کہ اس میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ اس سارے ذخیرہ ادب و عظمت کو میزان کے چڑے میں رکھو ۔ اور اس کے بعد اس پیغام کو دوسرے پلڑے میں رکھو ۔ جس کو معاذ اللہ اس حکیم امی نے پیش فرمایا ہے ۔ جس کے متعلق موازنہ ، اس کے پیش کردہ پیغام کی برکات سے استفادہ کرتی رہے گی ۔ اور بس سرچشمہ معارف میں مکھی پیدا نہ ہوگی ۔ یہ کتنی بڑی فریب…
Read the full tafseer →(9) یہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اگر آپ بتوں کے بارے میں نرم ہوجائیں تو وہ بھی آپ کی مخالفت میں ڈھیلے پڑجائیں۔ یعنی راہ پر آنے والے اور نہ آنے والے سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ لہٰذا دعوت و تبلیغ میں کسی کی رو و رعایت نہ ہونی چاہیے جس کو اسلام قبول کرنا اور ہدایت پانا ہے وہ پائے گا اور جس کو محروم رہنا ہے وہ محروم رہے گا ان کی خواہش یہ ہے کہ آپ کفر کے معاملہ میں مداہنت اختیار کریں اور سست اور ڈھیلے ہوجائیں اور کاہلی برتیں بتوں کی مخالفت میں نرم ہوجائیں تو یہ آپ کی مخالفت کم کردیں اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں کچھ ڈھیلے پڑجائیں اور توحید الٰہی کی مخالفت میں مداہنت برتیں۔
اس آیت میں ان کی خواہشات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ف 1۔ آپ کا ڈھیلا ہونا یہ کہ بت پرستی کی مذمت نہ کریں اور ان کا ڈھیلا ہونا یہ کہ آپ کی مخالفت نہ کریں۔
Read the full tafseer →یہ تو کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر آتے ہیں لیکن حق میں یہ اصول نہیں چلتا
9 ؎ (تدھن) تو نرمی کرے ، تو ملائمت کرے ، تو سستی کرے ، تو ڈھیلا ہو ادھان سے جو اصل میں ” تدھین “ تھا جس کے معنی چکنا کرنے اور تیل ڈالنے کے ہیں مگر اس سے مراد ملائمت اور سستی لی جاتی ہے۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ (ید ھنون) وہ بھی نرمی کریں اور وہ بھی سستی کریں وہ بھی ڈھیلے پڑیں جمع مذکر غائب مضارع ہے وہ بھی مکھن لگائیں۔ (دھن) ہر چکنی چیز کو کہتے ہیں اور باتوں کو چکنا کرنے کا مفہوم ہماری زبان میں عام ہے جس کے معنی عام طور پر اس طرح کئے جاتے ہیں کہ کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کے مطابق کام کرو یعنی کچھ تم ہماری مان لو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ (So, do not obey those who reject [ the true faith ]. They wish that you become flexible [ in your faith ], and they will become flexible [ in their hostile attitude.]....68:8-9]. The interpretation of this verse as adopted in this translation is based on the interpretation of Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ as reported by Qurtubi.
Ruling
This verse indicates that any such compromise with the unbelievers is tantamount to mudahanah fid-din, flexibility in religion, and this is forbidden. [ Mazhari ]. Such a pact of leniency in matters of…
Read the full tafseer →5 That is, "If you slackened a little in your propagation of Islam, they also would slacken in their opposition to you. Or, if you became inclined to effect some changes in your Faith to suit these people, they too would effect a compromise with you."
Read the full tafseer →