Al-Qalam 68:8

Al-Qalam · from ayah 8

68:8

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ ۟فَلَا تُطِعِ الۡمُكَذِّبِيۡنَ

تو تم جھٹلانے والوں کا کہا نہ ماننا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then do not obey the deniers.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:8

لہٰذا تم اِن جھٹلانے والوں کے دباؤ میں ہرگز نہ آؤ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو تم جھٹلانے والوں کا کہا نہ ماننا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس تو جھٹلانے والوں کی نہ مان

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا تم ان کی باتوں میں نہ آنا جو (تمہیں) جھٹلا رہے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو جھٹلانے والوں کی بات نہ سننا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو آپ جھٹلانے والوں کی بات نہ مانیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس تو ان جھٹلانے والوں کا کہنا مت مان۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لہٰذا آپ جھٹلانے والوں کی بات نہ مانئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس ان جھٹلانے والوں کی باتوں پر کان نہ دھرو ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس کبھی کہا نہیں ماننا ان جھٹلانے والوں کا

— مولانا اسحاق مدنی

تو آپ تکذیب کرنے والوں کا کہنا نہ مانئے یہ لوگ تو یہی چاہتے ہیں کہ آپ ڈھیلے پڑجائیں تو یہ بھی ڈھیلے پڑجائیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (اے نبی ﷺ !) آپ ان جھٹلانے والوں کی باتوں پر دھیان نہ دیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو آپ جھٹلانے والوں کا کہا نہ ماننا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do not, then, yield to those who reject the Truth, decrying it as false;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, do not obey those who reject (the true faith.)

— Muhammad Taqi Usmani

So, do not obey those who reject (the true faith.)

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, do not obey the deniers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then do not obey the deniers.

— Saheeh International

Do not yield to those who reject the Truth.

— Muhammad Sarwar

So do not yield to the rejecters.

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore obey not thou the beliers.

— Abdul Majid Daryabadi

So hearken not to those who deny (the Truth).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–16

زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کھیلیں اور یہ بھی مطلب ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہوجائیں، پھر فرماتا ہے کہ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان چونکہ جھوٹے شخص کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہوجانے کا ڈر رہتا ہے، اس لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 4–8

سورة الْقَلَم 4 اس مقام پر یہ فقرہ دو معنی دے رہا ہے۔ ایک یہ کہ آپ اخلاق کے بہت بلند مرتبے پر فائز ہیں اسی وجہ سے آپ ہدایت خلق کے کام میں یہ اذیتیں برداشت کر رہے ہیں ورنہ ایک کمزور اخلاق کا انسان یہ کام نہیں کرسکتا تھا۔ دوسرے یہ کہ قرآن کے علاوہ آپ کے بلند اخلاق بھی اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ کفار آپ پر دیوانگی کی جو تہمت رکھ رہے ہیں وہ سراسر جھوٹی ہے، کیونکہ اخلاق کی بلندی اور دیوانگی، دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔ دیوانہ وہ شخص ہوتا ہے جس کا ذہنی توازن بگڑا ہوا ہو اور جس کے مزاج میں اعتدال باقی نہ رہا ہو۔ اس کے برعکس آدمی کے بلند اخلاق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ وہ نہایت صحیح الدماغ اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–9

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِيْنَ ، وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُوْنَ یعنی آپ ان جھٹلانے والوں کی بات نہ مانیں یہ تو یوں چاہتے ہیں کہ آپ کچھ تبلیغ احکام میں نرم پڑجائیں اور شرک و بت پرستی سے ان کو روکنا چھوڑ دیں تو یہ بھی نرم پڑجائیں کہ آپ پر طعن تشنیع اور آپ کی ایذا رسانی چھوڑ دیں (قالہ ابن عباس، قرطبی) مسئلہ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفار و فجار کے ساتھ یہ سودا کرلینا کہ ہم تمہیں کچھ نہیں کہتے تم ہمیں کچھ نہ کہو۔ یہ مداہنت فی الدین اور حرام ہے (مظہری) یعنی بلا کسی اضطرار و مجبوری کے ایسا معاہدہ جائز انہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی جب اصل حقیقت یہ ہے جو بیان ہوئی تو عذاب اور قیامت کی تکذیب کرنے والوں کی باتوں کا دھیان نہ کرو اور ان کی ہفوات پر کان نہ دھرو۔ یہ لوگ اگر نچنت ہیں کہ نہ عذاب ہے نہ قیامت تو انھیں نچنت رہنے دو۔ اگر یہ مطمئن ہیں کہ قیامت ہوئی تو وہاں بھی ان کو وہی کچھ حاصل ہو گا جو یہاں حاصل ہے تو انھیں یہ خواب خوش دیکھ لینے دو۔ یہ دنیا ان کی خواہشوں کے محور پر نہیں گھوم رہی ہے کہ جو کچھ یہ چاہیں گے انھیں مل جائے گا بلکہ یہ ایک حکیم و عزیز کی پیدا کی ہوئی دنیا ہے اور یہ لازم ہے کہ ایک دن اس کی حکمت اور اس کا عدل اپنی کامل صورت میں ظاہر ہو۔ لفظ ’اِطَاعَۃٌ‘ یہاں کسی کی بات کا اثر لینے کے مفہوم میں ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 اطاعت سے مراد یہاں وہ مدارات ہے جس کا اظہار انسان نے اپنے ضمیر کے خلاف کرتا ہے۔ یعنی مشرکوں کی طرف جھکنے اور ان کی خاطر مدارت کی ضرورت نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–8

1: یہاں حرف نون انہی حروف مقطعات میں سے ہے جو مختلف قرآنی سورتوں کے شروع میں آئے ہیں، اور جن کے بارے میں سورة بقرہ کے شروع میں عرض کیا جا چکا ہے کہ ان کے ٹھیک ٹھیک معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں ہیں۔ 2: مکہ مکرمہ کے کافر لوگ آنحضرت ﷺ کو (معاذ اللہ) دیوانہ کہا کرتے تھے۔ اگلی آیت میں ان کی تردید فرمائی گئی ہے، اور اس سے پہلے اس آیت میں اس تردید پر یہ قسم کھائی گئی ہے۔ اس کی تفسیر میں بہت سے مفسرین نے فرمایا ہے کہ قلم سے مراد تقدیر کا قلم ہے اور ”وہ“ سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی قسم ہے تقدیر کے قلم کی، اور تقدیر کے ان فیصلوں کی جو فرشتے لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ دیوانے نہیں ہیں۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–9

فلا تطع .................... فیدھنون (86 : 9) ” تم جھٹلانے والوں کے دباﺅ میں ہرگز نہ آﺅ۔ یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں “۔ دراصل اندر سے یہ لوگ سودا بازی کے لئے تیار ہیں۔ چاہتے ہیں کہ نصف نصف سودا طے ہوجائے جس طرح تاجر لوگ مول تول کرلیتے ہیں۔ لیکن ان کو معلوم ہے کہ نظریات اور تجارت میں فرق ہوتا ہے۔ ایک نظریاتی شخص اپنے عقائد اور نظریات میں کبھی سودا بازی کے لئے تیار نہیں ہوا کرتا۔ کیونکہ نظریات میں چھوٹی بات بھی بڑی بات کی طرح قیمتی ہوتی ہے بلکہ نظریات میں چھوٹی اور بڑی بات ہوتی ہی نہیں ہے۔ نظریہ ایک مکمل اکائی ہوتا ہے۔ اس میں کوئی کسی کی نہ اطاعت کرتا ہے اور نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 8–9

9 یعنی راہ پر آنے والے نہ آنے والے سب اللہ کے علم محیط میں طے شدہ ہیں۔ لہذا دعوت و تبلیغ کے معاملہ میں کچھ رو و رعایت کی ضرورت نہیں۔ جس کو راہ پر آنا ہوگا آرہے گا اور جو محروم ازلی ہے وہ کسی لحاظ و مروت سے ماننے والا نہیں۔ کفار مکہ حضور ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ ﷺ بت پرستی کی نسبت اپنا سخت رویہ ترک کردیں اور ہمارے معبودوں کی تردید نہ کریں، ہم بھی آپ ﷺ کے خدا کی تعظیم کریں گے اور آپ ﷺ کے طورو طریق اور مسلک و مشرب سے متعارض نہ ہوں گے۔ ممکن تھا کہ ایک مصلح اعظم کے دل میں جو " خلق عظیم " پر پیدا کیا گیا ہے۔ نیک نیتی سے یہ خیال آجائے کہ تھوڑی سی نرمی اختیار کرنے اور ڈھیل دینے سے کام بنتا ہے تو برائے چند…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 7–8

آیت 7{ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ } ”یقینا آپ ﷺ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے“ { وَہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ۔ } ”اور وہ ان کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت یافتہ ہیں۔“ یہ وہ آیات تھیں جو اکثر مفسرین کے نزدیک دوسری وحی میں نازل ہوئی تھیں۔ یہاں سے آگے نیا مضمون شروع ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 6–8

6 یعنی یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا نتیجہ جلد از جلد سامنے نہ آئے۔ ایک شخص جو حکم دیتا ہے وہ نیکی اور بھلائی پر مبنی ہوتا ہے پھر وہ خود سب سے پہلے اس حکم پر عمل کرکے دکھاتا ہے۔ ہر برے کام سے اسے طبعاً نفرت ہے۔ وہ انتقام کی صورت میں بھی کوئی بری بات اپنانے کو تیار نہیں۔ فیاضی اور سماحت اس کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس کے مقابلہ میں جو لوگ ہیں انہیں طعن وتشنیع، ایذارسانی اور انتقامی کارروائیوں کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں، جو بات وہ سوچتے ہیں بغض وعناد اور دوسروں کی جڑ کاٹ دینے کے لیے سوچتے ہیں۔ لہذا کوئی وجہ نہیں کہ جلد از جلد ان دونوں کا انجام ایک دوسرے کے سامنے نہ آجائے۔ اس وقت ہر ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

7۔ یعنی ان کی تو عین تمنا ہی یہ ہے کہ آپ اپنے فرائض تبلیغ میں ڈھیلے پڑجائیں تو یہ بھی اپنی شدت مخالفت وعناد میں ڈھیلے پڑیں۔ لیکن آپ ﷺ ان کے کہے میں ہرگز نہ آئیے گا، جیسا کہ اب تک بھی نہیں آئے ہیں۔ کہاں آپ سر تاسر حق پر اور کہاں وہ سرتاسر باطل پر !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–9

فلا تطع المکذبین یعنی آپ ﷺ ان جھٹلانے والوں کی بات نہ مانیں، یہ تو یوں چاہتے ہیں کہ آپ ﷺ تبلیغ احکام میں کچھ نرم پڑجائیں، تو یہ بھی نرم پڑجائیں کہ آپ ﷺ پر طعن وتشنیع اور ایذا رسانی ترک کردیں۔ (قرطبی) مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفار و فجار کے ساتھ یہ سودا کرلینا کہ ہم تمہیں کچھ نہیں کہتے تم بھی ہمیں کچھ نہ کہو، یہ مداہنت فی الدین اور حرام ہے (معارف، مظہری) یعنی بلاکسی اضطراب اور مجبوری کے ایسا معاہدہ جائز نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلا تطع المکذبین . فاء سببیت کے لیے ہے یعنی جب یہ بات کھل گئی کہ آپ ہدایت پر ہیں اور آپ کو جھوٹا قرار دینے والے بھٹکے ہوئے ہیں تو اب ان کے کہے پر نہ چلئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–12

(8۔ 12) اور آپ خصوصا ولید بن مغیرہ مخزومی کا کہنا نہ مانیے جو کہ بہت جھوٹی قسمیں کھانے والا وہ دین خداوندی میں ذلیل ہو، طعنہ دینے والا، آتے جاتے لوگوں سے غیبت کرنے والا، وہ لوگوں کے درمیان چغلیاں لگاتا پھرتا ہو تاکہ ان کے درمیان فساد برپا کرے۔ اپنی اولاد اور کنبہ قبیلہ کو دین اسلام سے روکتا ہو حق سے اعتدال کرنے والا اور ان پر ظلم کرنے والا ہو فاجر ہو، جھوٹ اور ؟ شان نزول : وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ (الخ) ابن ابی حاتم نے سدی سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے بارے میں اتری ہے۔ ابن منذر نے کلبی سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور ابن ابی حاتم نے مجاہد سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَـلَا تُطِعِ الْمُکَذِّبِیْنَ : اس آیت میں اور آئندہ آنے والی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جھٹلانے والوں کا کہنا مت مان اور نہ کسی ایسے شخص کا کہنا مان جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ کام کرنے والے اللہ تعالیٰ کی نظر میں اتنے برے ہیں کہ وہ کوئی بات بھی کہیں مسلمان کے لیے ان کے کہنے پر چلنا جائز نہیں تو اللہ تعالیٰ کو یہ کس طرح گوارا ہوسکتا ہے کہ مسلمان خود ان جیسے کام کرنے لگیں۔ گویا جب ان صفات والوں کی اطاعت سے منع کیا گیا تو خود یہ صفات اختیار کرنے سے تو بدرجہ اولیٰ منع کردیا۔ ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ کافر جو بات بھی مسلمان سے منوانا چاہتے ہیں ، بظاہر وہ کتنی ہی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

مشرکین کے ساتھ دوستی اور میلان سے منع کیا۔ وہ نبی کریم ﷺ کو دعوت دیتے کہ آپ ﷺ ان کے بارے میں کچھ نہ کہیں، وہ آپ ﷺ کے بارے کچھ نہ کہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ ان کے ساتھ دسوتی اور ان کی طرف میلان کفر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولولا ان ثبتنک لقد کدت ترکن الیھم شیاً قلیلاً ۔ (الاسرائ) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ ﷺ جھٹلانے والوں کی ان باتوں میں اطاعت نہ کریں جن باتوں میں وہ آپ ﷺ کو اپنے خبیث دین کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ یہ آیت مشرکین قریش کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے اپنے آباء کے دین کی طرف دعوت دی۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 6–8

39۔ عبد بن حمیدوابن المنذر نے سعید بن جبیر اور ابن ابزی رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ آیت بایکم المفتون یعنی کون تم میں سے مجنون ہے۔ 40۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بایکم المفتون یعنی کون تم میں سے مجنون ہے۔ 41۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ بایکم المفتون سے مراد ہے مجنون۔ 42۔ عبد بن حمید نے ابوالجوزاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت بایکم المفتون سے مراد ہے شیطان۔ 43۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت بایکم المفتون سے مراد ہے کہ تم میں سے کون زیادہ قریب ہے شیطان کے۔ 44۔ ابن المنذر نے حسن (رح) سے آیت فستبصر ویبصرون۔ بایکم المفتون۔ کے بارے میں روایت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–16

آپ کی تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے، وہ آپ سے مداہنت کے خواہاں ہیں یہ نو آیات کا ترجمہ ہے ان میں سے پہلی دو آیتوں میں یہ فرمایا کہ آپ تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے وہ چاہتے ہیں کہ آپ کچھ نرم پڑجائیں تو وہ بھی آپ کے معاملہ میں نرمی اختیار کرلیں، اہل باطل کا یہ طریقہ رہا ہے کہ خود تو حق کی طرف جھکتے نہیں ان کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ داعیان حق کو دعوت دیں کہ تم اپنی دعوت چھوڑ دو اور ہمارے کفر و گمراہی میں شریک ہوجاؤ، جب اس پر قابو نہیں چلتا تو کہتے ہیں کہ اچھا آپ کچھ نرم پڑجائیں اپنی دعوت اور دعوت کے کاموں میں نرمی اختیار کرلیں ہم بھی اپنی مخالفت میں اور سختی میں کمی کردیں گے رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–16

بیان عظمت رسول اکرم ﷺ وتلقین صبر و استقامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ن والقلم وما یسطرون ........ الی .......... سنسمہ علی الخرطوم “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں خداوند عالم کی خالقیت کے دلائل ذکر کئے گئے اور یہ کہ اس کی قدرت کائنات کو محیط ہے اس کے احاطہ علم وقدرت سے کوئی مجرم نہیں نکل سکتا تو اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت کو ثابت فرمایا گیا اور یہ کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے مجرمین خدا کے عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے اور جو کچھ وہ آپ ﷺ پر اعتراض کرتے ہیں وہ سب لغو اور بےہودہ باتیں ہیں کوئی صحیح العقل انسان ایسی بےہودہ باتیں تصور بھی نہیں کرسکتا ارشاد فرمایا۔ ن۔ خدا تعالیٰ ہی اس کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–9

6:۔ ” فلا تطع المکذبین “ فاء تفریعیہ ہے۔ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ آپ بحمد اللہ مجنون نہیں ہیں، بلکہ یہ آپ کے مخالفین مجانین ہیں۔ اس لیے آپ ان حق کا انکار کرنے والوں کی اطاعت نہ کریں اور ان کی کوئی بات نہ مانیں۔ ” ودوا لو تدھن فیدھنون “ یہ سورت کا دعوی ہے۔ ” فیدھنون “ تمنی کا جواب نہیں ورنہ ” فیدھنوا “ ہوتا۔ اس لیے یہ اصل میں ” فھم یدھنون “ ہے۔ مشرکین کی تمنا اور خواہش ہے کہ آپ توحید کے معاملے میں نرم ہوجائیں یعنی ان کو شرک سے نہ روکیں اور ان کے معبودوں کی عاجزی اور بےبسی کا ذکر نہ کیا کریں، ویسے خود بڑی خوشی سے اپنے معبود کی عبادت کریں اور اس کے صفات و کمالات بیان کیا کریں اور اس کو برکات…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–16

گذشتہ سے پیوستہ (ربط) : جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو نبوت اور رسالت عطا فرمائی اور آپ نے آپ کے ساتھیوں نے وضو کرنا شروع کیا ، نماز پڑھنا شروع کیا تو مکہ کے مشرک سرداروں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ العیاذ باللہ یہ لوگ مجنون ہوگئے ہیں۔ پاگلوں کی سی حرکتیں کرتے ہیں۔ ان مشرکین میں ولید بن مغیرہ ، ابوجہل ، اخنس بن شرق وغیرہ زیادہ پیش پیش تھے۔ یہ حضور ﷺ کے بارے میں مجنون کا لافظ استعمال کرتے تھے کہ انکے دماغ ٹھکانے نہیں رہے۔ عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہیں۔ شروع سورة میں اللہ تعالیٰ نے اس الزام کا جواب دیا اور ثابت کیا کہ حضور ﷺ اللہ کے فضل و احسان سے دیوانے نہیں ہے۔ بلکہ آپ تو بلند اخلاق پر ہیں۔ اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِيْنَ۝ 8 لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

ترکیب : ن۔ قریٔ بادغام النون الثانیہ من ہجائھانی الواوقریٔ بالاظہار وبالفتح وبالکسر وبالضم اما الفتح فباضمار فعل والفتح علی اضمارا لقسم اولالتقاء الساکنین والضم علی النبائ۔ والقلم الواوللقسم وماموصولۃ یسطرون صلۃ والعائد محذوف والجملۃ معطوفۃ علی القلم ما انت الجملۃ جواب القسم وان لک الجملۃ معطوفۃ علی الجملۃ السابقۃ و انک ایضا معطوفۃ علیھا والجملات الثلاث جواب القسم۔ بایکم المفتون الباء زائدۃ ویمکن ان یکون المفتون مصدر امثل المعقول والمیسور ای بایکم الجنون۔ تفسیر : جمہور کے نزدیک یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ حسن و عکرمہ وعطاء کا بھی یہی قول ہے۔ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ سب سے اول اقرء نازل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَلاَ تُطِعِ الْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (القلم : 8) (پس ان جھٹلانے والوں کی باتوں میں ہرگز نہ آیئے۔ ) تبلیغ و دعوت کے ضمن میں آپ کو ہدایت معلوم ہوتا ہے کہ مخالفین نے اسلام کی مخالفت میں خوب دھول اڑا رکھی تھی اور آنحضرت ﷺ کیخلاف ہر طرح کا پروپیگنڈا خوب زور پکڑ چکا تھا اور ایسا ہنگامہ برپا تھا کہ تبلیغ و دعوت میں مشکلات پیش آرہی تھیں۔ آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ ﷺ ہرگز ان باتوں کا اثر قبول نہ کریں، مخالفین تو اپنی روایت کے مطابق جو ان کا بس چلے گا وہ کریں گے۔ ان کے مقابلے کی صورت یہ ہے کہ آپ ﷺ اپنی تبلیغی مساعی میں کمی نہ آنے دیں۔ لیکن اگر آپ ﷺ ان کی ہنگامہ آرائی اور ژاژخائی سے اثر قبول کرنے لگے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–9

فہم القرآن ربط کلام : آپ ﷺ کو یوانہ کہنے والوں کا انجام کفار قرآن مجید اور دعوت توحید کی مخالفت کی وجہ سے آپ ﷺ کو مجنون کہنے کے ساتھ یہ الزام بھی دیتے تھے کہ آپ راہ راست سے بھٹک گئے ہیں کیونکہ آپ جو انہیں دعوت دیتے تھے وہ انہوں نے پہلے نہیں سنی تھی۔ وہ اس دعوت کو اپنی مذہبی اور معاشرتی روایات کے خلاف سمجھتے تھے اس لیے پراپیگنڈہ کرتے کہ آپ صراط مستقیم سے بھٹک گئے ہیں۔ سورة یٰس کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی ذات اور قرآن کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ آپ ﷺ صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔ یہاں یہ ارشاد فرمایا کہ آپ کا رب اچھی طرح جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک چکا ہے اور کون سیدھے راستے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

8 : فَـلَا تُطِعِ الْمُکَذِّبِیْنَ (تو آپ ان تکذیب کرنے والوں کا کہنا نہ مانیں) اس میں ان کی نافرمانی پر مضبوطی سے قائم رہنے پر آپ کو آمادہ کیا گیا ہے۔ کفار تو یہ چاہتے تھے کہ کچھ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور کچھ عرصہ آپ ان کے معبودوں کی عبادت کرلیں تو وہ اپنی شرارتیں اور سختیاں آپ سے بند کرلیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–16

8۔ 16۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے مشرکوں میں سے کوئی شخص اگر آداب دنیا کے برخلاف کچھ کہے تو باقتضا حسن اخلاق اس سے درگزر بہتر ہے ان آیتوں میں اس کی صراحت فرمائی کہ یہ مشرک لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ ان کو شرک پر اڑے رہنے سے کوئی نہ روکے تو وہ بھی مسلمانوں کی ایذا کم کردیں لیکن اللہ تعالیٰ کو اصلاح دین منظور ہے اس لئے دین کی خرابی کی کوئی بات ان میں سے کوئی شخص کہے تو وہ ہرگز نہ سننی جائے اور اس کے سننے میں کسی طرح کی مدارات ان لوگوں کے ساتھ نہ برتی جائے وہ دین کی خرابی کی باتیں ایسی ہی ہیں جیسے ان لوگوں نے ایک یہ بات کہی تھی کہ کچھ دنوں تک مسلمان ہمارے بتوں کی بڑائی مان لیں تو ہم بھی اتنے ہی دنوں تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 8–9

اللہ تبارک وتعالی اپنے نبی سے فرماتا ہے (فلا تطع المکذبین) جنہوں نے آپ کو جھٹلایا اور حق کے ساتھ عناد رکھا یہ لوگ اس قابل نہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے کیونکہ یہ صرف اسی بات کا حکم دیتے ہیں جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہوتی ہے اور یہ باطل کے سوا کچھ نہیں چاہتے، پس ان کی اطاعت کرنے والا اس چیز کی طرف بڑھتا ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ آیت کریمہ ہر جھٹلانے والے اور ہراس اطاعت کے لیے عام ہے جو تکذیب سے جنم لیتی ہے اگرچہ اس کا سیاق ایک خاص معاملے میں ہے اور وہ یہ ہے کہ کفار نے آپ سے مطالبہ کیا تھا کہ آپ ان کے معبودوں اور ان کے دین کے بارے میں خاموش ہوجائیں وہ بھی آپ کے بارے میں خاموش رہیں گے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 5–8

6 مکذبین و منکرین کی اطاعت و فرمانبرداری سے ممانعت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا پس حق اور حقیقت کی وضاحت ہوگئی تو آپ بھی کہا نہیں ماننا جھٹلانے الوں کا جیسا کہ اب تک نہیں مانا کیونکہ حق اور باطل کا توافق اور جوڑ ممکن ہی نہیں، کہ باطل دوئی پسند ہے اور حق لاشریک، شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول، سوس اس ارشاد میں بھی خطاب اگرچہ پیغمبر سے ہے لیکن سنانا دراصل آپ ﷺ کے انہی منکروں کو ہے، جو حق بات کو سننے اور ماننے کو تیار نہیں ہے۔ بلکہ اس کے برعکس اس طرح کی خبیث کوششوں میں لگے ہوئے تھے کہ کسی طرح آپ ﷺ ان کی باتوں میں آ کر، اور ان کا کہا مان کر ان کے طور طریقوں کو اپنا لیں، جیسا کہ آگے بھی آ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

رسول کریم ﷺ کا خلق عظیم اور کفار کی اطاعت سے بچنے کا حکم تشریح : جیسا کہ پہلے بھی سورتوں میں مختلف چیزوں کی قسم مختلف چیزوں کے صحیح ثابت کرنے کے لیے کھائی گئی ہے تو یہاں نبی پاک ﷺ کے حسن کردار اور صفات کے بلند پایہ ہونے کے لیے قلم و قرآن کی قسم کھائی گئی ہے۔ آپ ﷺ تو مجسم صفات ہیں قرآن و احادیث میں جگـہ جگہ آپ ﷺ کی جملہ صفات کا ذکر بڑے مستند حوالوں سے کیا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو آپ ﷺ دنیا کے بہترین انسان اور پیغمبر ہیں آپ ﷺ رحمت حیا، جودوسخا، وفا، صبر، زہد وتقویٰ حسن سلوک اور حسن تادیب کے لحاظ سے بلکہ ہر لحاظ سے بےمثال ہیں آپ ﷺ کو انسان کامل ہونے کا رتبہ حاصل ہے۔ آپ ﷺ محسن انسانیت اور رحمۃ للعٰلمین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–33

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔ مجنون۔ جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:8) فلا تطع المکذین :سببیہ ہے۔ یعنی جب یہ بات کھل گئی کہ آپ ہدایت پر ہیں اور آپ کو جھوٹا قرار دینے والے بھٹکے ہوئے ہیں ۔ تو اب ان کے کہنے پر نہ چلئے۔ لاتطع : فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ اطاعۃ (افعال) مصدر۔ تو اطاعت مت کر۔ تو کہا مت مان۔ المکذبین اسم فاعل صیغہ جمع مذکر۔ تکذیب (تفعیل) مصدر سے، جھٹلانئے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–33

لغات القرآن۔ یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔ تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–9

مصلحت پرستی کی ممانعت۔ (ف 2) شان نزول : کفار مکہ حضور ﷺ سے کہتے تھیے کہ آپ بت پرستی کی نسبت اپناسخت رویہ ترک کردیں اور ہمارے معبودوں کی تردید نہ کریں ہم بھی آپ کے خدا کی تعظیم کریں گے اور آپ کے طورطریق اور مسلک ومشرب سے معترض نہ ہوں گے ممکن تھا کہ ایک مصلح اعظم کے دل میں جو خلق عظیم پر پیدا کیا گیا ہے نیک نیتی سے یہ خیال آجائے کہ تھوری سی نرمی اختیار کرنے اور ڈھیل دینے کام بنتا ہے تو برائے چندے نرم روش اختیار کرنے میں کیا مضائقہ ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمادیا کہ آپ ان مکذبین کا کہنا نہ مانئے ان کی غرض محض آپ کو نرم کرنا ہے ایمان لانا، اور صداقت کو قبول کرنا مقصود نہیں، راہ پر آنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–8

[4] یعنی آپ ﷺ کا بلند اخلاق ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کفار کا آپ ﷺ کو مجنون کہنا سراسر جھوٹ ہے کیونکہ بلند اخلاق اور جنون ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–12

سورة القلم اور جنون وخرد 2: حضور ﷺ کے متعلق مکہ والوں کی رائے تھی ۔ کہ ان کو خلل دماغ ہے ۔ یورپ کے بعض متعصب مشنریوں نے بھی یہ کہا ہے ۔ کہ نبوت محض مرض ضرع کا دوسرا نام تھا ۔ معاذ اللہ مگر قرآن حکیم فرماتا ہے ۔ کہ قلم اور تحریر کا جتنا اندوختہ اس وقت فطرت نے محفوظ رکھا ہے ۔ اور جس قدر کہ اس میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ اس سارے ذخیرہ ادب و عظمت کو میزان کے چڑے میں رکھو ۔ اور اس کے بعد اس پیغام کو دوسرے پلڑے میں رکھو ۔ جس کو معاذ اللہ اس حکیم امی نے پیش فرمایا ہے ۔ جس کے متعلق موازنہ ، اس کے پیش کردہ پیغام کی برکات سے استفادہ کرتی رہے گی ۔ اور بس سرچشمہ معارف میں مکھی پیدا نہ ہوگی ۔ یہ کتنی بڑی فریب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) لہٰذا آپ ان تکذیب کرنے والوں اور دین حق کو جھوٹا بتانے والوں کا کہنا نہ مانیے اور ان کی اطاعت نہ کیجئے۔ یعنی اے پیغمبر جب آپ کو ان مکذبین کی حالت معلوم ہوگئی تو اب ان کے کہنے میں نہ آئیے اور ان کی بات نہ مانیے کیونکہ یہ کوئی درمیانی بات نکالنے کی کوشش کریں اور آپ کو صلح پر آمادہ کریں گے جیسا کہ دنیوی معاملات میں مبتلا کرتا ہے کہ کچھ تم دب جائو کچھ ہم دب جائیں اور باہمی سمجھوتہ کرلیاجائے تو دین کے معاملہ میں آپ ان کو کوئی ایسی بات نہ مانیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–8

ف 7۔ یعنی جنون کی حقیقت ہے زوال عقل، اور عقل کی غایت ہے ادراک نفع و ضرر، اور نفع و ضرر معتدبہ وہ ہے جو ابدی ہو، پس قیامت میں ان کو یہی معلوم ہوجاوے گا کہ عاقل اہل حق تھے جنہوں نے اس نفع کو حاصل کیا، اور مجنون یہ خود تھے جو اس نفع سے محروم رہ کر ضرر ابدی میں مبتلا ہوئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ ان جھٹلانے والوں کی بات کو بالکل نہ سنیں 8 ؎ (فلا تطع) اور تو حکم نہ مانے یا تو حکم نہ مانے گا۔ اطاعت سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر اور لانفی کے لئے ہے اور (تطع) اصل میں تطبع تھا اور ان شرطیہ کے آنے سے ” ی “ جو حرف علت ہے حذف ہوگیا۔ اور ” تطبع “ سے تطع ہوگیا اور اس طرح آپ ﷺ کو جھٹلانے والوں کی بات کو نہ ماننے کا حکم دیا گیا۔ اس میں دیکھنے اور سمجھنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا آپ ﷺ ان کی باتوں کو ماننے لگے تھے یا آپ ﷺ پر ان کی باتوں کے ماننے کا شبہ ہوا تھا ؟ اگر نہیں تو اس کے معنی کیا ہوئے ؟ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ جب لوگوں کی باتوں کو سنتا ہے تو قدرتاً اس پر ان کی باتوں کا کچھ نہ کچھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–9

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ (So, do not obey those who reject [ the true faith ]. They wish that you become flexible [ in your faith ], and they will become flexible [ in their hostile attitude.]....68:8-9]. The interpretation of this verse as adopted in this translation is based on the interpretation of Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ as reported by Qurtubi. Ruling This verse indicates that any such compromise with the unbelievers is tantamount to mudahanah fid-din, flexibility in religion, and this is forbidden. [ Mazhari ]. Such a pact of leniency in matters of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–8

4 Here, this sentence gives two meanings: (1) "That you stand exalted to a high and noble character; that is why you are enduring all these hardships in your mission of guiding the people to the Right Way, otherwise a tnan of weak character could not have done so;" and (2) "that besides the Qur'an, your high and noble character also is a clear proof that the accusation of madness that the disbelievers bring against you is absolutely false, for high morals and madness cannot co-exist in one and the same person. " A madman is he whose balance of mind is upset, who has lost his temperamental…

Read the full tafseer →