68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 68:1

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader

ن قسم ہے قلم کی اور فرشتوں کے لکھنے کی

1۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ وابن ابی حاتم وابو الشیخ فی العظمہ والحاکم وصححہ والبیہقی فی الاسماء والصفات والخطیب فی تاریخہ اور الضیاء فی المختارہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا فرمایا۔ پھ سا سے فرمایا لکھ اس نے کہا اے میرے رب میں کیا لکھوں ؟ فرمایا تو تقدیر کو لکھ۔ تو وہ قلم جاری ہوگیا اور اس نے اس دن سے لے کر قیامت کے قائم ہونے تک جو کچھ ہونے والا ہے سب کچھ لکھ دیا پھر کتاب لپیٹ دی گئی اور قلم اٹھالیا گیا۔ اور اس کا عرش پانی پر تھا پھر پانی کے بخارات اوپر اٹھے تو اس سے آسمان بن گئے پھر نور کو پیدا کیا گیا اور اس پر زمین بچھادی گئی اور زمین مچھلی کی پیٹھ پر ہے۔ مچھلی مضطرب ہوئی تو زمین ہلنے لگی تو پہاڑوں کے ساتھ زمین کو ثابت کردیا گیا بیشک پہاڑ قیامت کے دن تک زمین پر فخر کرتے رہیں گے پھر ابن عباس ؓ نے یہ آیت پڑھی ن والقلم وما یسطرون۔ 2۔ ابن جریر والطبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم اور مچھلی کو پیدا کیا۔ پھر قلم سے فرمایا لکھ۔ اس نے پوچھا کیا لکھوں ؟ فرمایا ہر وہ چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی آیت ن والقلم وما یسطرون اور قلم کی قسم اور اس چیز کی قسم جس کو وہ لکھتے ہیں پس نون سے مراد ہے مچھلی اور قلم سے مراد ہے قلم۔ 3۔ ابن ابی شیبہ واحمد والترمذی وصححہ وابن مردویہ نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا فرمایا پھر اس سے فرمایا لکھ تو قلم جاری ہوگیا جو ابد تک ہونے والا تھا۔ 4۔ ابن جریر نے معاویہ بن قرہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت ن والقلم وما یسطرون کے بارے میں فرمایا کہ لوح یعنی تختی نور میں سے ہے اور قلم بھی نور میں سے ہے اور اس قلم نے جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے ہر چیز کے بارے میں لکھ دیا۔ 5۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے نون کو پیدا فرمایا اور وہ دوات ہے اور قلم کو پیدا کیا پھر فرمایا لکھ اس نے کہا کیا لکھوں ؟ فرمایا لکھ جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے۔ 6۔ الرافعی فی تاریخ قزوین نے جویبر کے طیرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نون لوح محفوظ ہے اور قلم انتہائی روشن نور میں سے ہے۔ 7۔ الحکیم الترمذی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا فرمایا۔ پھر نون کو پیدا فرمایا اور وہ دوات ہے۔ پھر اس سے فرمایا لکھ۔ اس نے کہا میں کیا لکھو ؟ فرمایا جو ہوچکا اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب لکھ دو ۔ عمل میں سے ہو یا اثر میں سے۔ یا رزق میں سے۔ سو اس نے لکھا جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے اور اسی کو فرمایا آیت ن والقلم وما یسطرون پھر ختم ہوگیا جو کچھ قلم میں تھا۔ پھر وہ نہیں بولی اور نہ قیامت تک بولے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے عقل کو پیدا فرمایا اور فرمایا میری عزت کی قسم ! میں تجھ کو ان میں ضرور کامل بناؤں جن کو میں نے محبوب بنایا۔ اور میں ضرور تجھ کو ان میں ناقص رکھوں گا جن کو میں نے مبغوض قرار دیا۔ 8۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ن والقلم میں ن سے مراد ہے دوات اور قلم سے مراد ہے قلم۔ 9۔ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” ن “ یہ اللہ کی قسم کے مشابہ ہے اور یہ اللہ کے ناموں میں سے ہے۔ 10۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ اور حسن رحمہما اللہ سے روایت کیا کہا آیت ن سے مراد ہے دوات۔ 11۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ن “ وہ مچھلی ہے جس پر زمین ہے۔ 12۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ن سے مراد وہ مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے اور قلم وہ ہے جس سے ذکر لکھا گیا۔ سب سے پہلے قلم پیدا کیا 13۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا فرمایا۔ اور اس کو اپنے داہنے ہاتھ میں لیا اور اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں۔ پھر نون کو پیدا فرمایا اور وہ دوات ہے پھر لوح کو پیدا فرمایا اور اس میں لکھا گیا پھر آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ اور قلم نے اس وقت سے جو دنیا میں ہورہا ہے سے لے کر جو کچھ قیامت تک ہوگا سب اس میں لکھ دیا۔ یعنی مخلوق کی پیدائش نیک یا برے اعمال، ہر قسم کا رزق حلال یا حرام اور تر یا خشک (سب کچھ قلم نے لکھ دیا) 14۔ عبدبن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ قلم اللہ کی طرف سے بڑی نعمت ہے۔ اگر قلم نہ ہوتا۔ نہ دین قائم ہوتا۔ اور نہ زندگی کی اصلاح ہوتی۔ اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں کہ اس چیز کے بارے میں جو اس کی مخلوق کی اصلاح کرتی ہے۔ 15۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ن والقلم وما یسطرون سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا فرمایا۔ پھر اس سے فرمایا جاری ہوجا یعنی لکھ۔ تو وہ جاری ہوا یعنی اس نے لکھنا شروع کیا۔ جو کچھ قیامت تک ہونے والا تھا۔ پھر مچھلی کو پیدا فرمایا اور وہ وہ نون ہے۔ اس پر زمین کو بچھا دیا۔ پھر فرمایا آیت ن والقلم وما یسطرون۔ 16۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ن والقلم کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نون وہ مچھلی ہے جس پر زمینیں ٹھہری ہوئی ہیں۔ اور قلم وہ ہے کہ جس کے ساتھ ہمارے رب عز وجل نے تقدیر کو لکھا چاہے وہ تقدیر اچھی ہو یابری، نفع دینے والی ہو یا نقصان دینے والی آیت وما یسطرو اس سے مراد کراما کاتبین ہیں۔ 17۔ عبد بن حمید ابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ من طریق ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومایسطرون سے مراد ہے جو وہ لکھتے ہیں۔ 18۔ عبد بن حمید نے مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 19۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وما یسطرون سے مراد ہے کہ جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں۔
Ayah 68:2

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader

آپ اپنے رب کی نعمت کی وجہ سے مجنون ہیں

20۔ ابن المنذر نے ابن جریر رحمہ سے روایت کیا کہ وہ لوگ نبی ﷺ کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ مجنون ہے اور اس کے ساتھ شیطان ہے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی آیت ماانت بنعمۃ ربک بمجنون آپ اپنے رب کی نعمت سے مجنون نہیں ہیں۔
Ayah 68:3

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader

اور بلاشبہ آپ کے لیے ایسا اجر ہے جو ختم ہونے والا نہیں

21۔ عبد بن حمیدوابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وان لک لا اجرا غیر ممنون اور آپ کے لیے غیر منقطع اجر ہوگا۔ یعنی آپ کے لیے بغیر حساب کے اجر ہے۔
Ayah 68:4

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader

اور بیشک آپ بڑے اخلاق والے ہیں

رسول اللہ ﷺ اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے 22۔ ابن مردویہ وابو نعیم نے الدلائل میں اور الواحدی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کوئی اچھے اخلاق والا نہیں تھا آپ کے اصحاب میں سے اور آپ کے گھر والوں میں سے کوئی آپ کو بلاتا تو آپ نے فرمایا لبیک یعنی میں حاضر ہوں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت وانک لعلی خلق عظیم۔ بلاشبہ آپ بڑے اخلاق کے مالک ہیں۔ 23۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید ومسلم وابن المنذر والحاکم وابن مردویہ نے سعد بن ہشام (رح) سے روایت کیا کہ میں عائشہ ؓ کے پاس آیا اور میں نے کہا اے ام المومنین ! مجھے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں بتائیے۔ تو انہوں نے فرمایا آپ کا خلق قرآن ہے۔ کیا تو نے قرآن کو نہیں پڑھا۔ آیت وانک لعلی خلق عظیم۔ 24۔ ابن المنذر وابن مردویہ اور بیہقی نے الدلائل میں ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا تو فرمایا آپ کا خلق قرآن ہے۔ آپ راضی رہتے ہیں اس کی رضا کے ساتھ اور ناراض ہوجاتے ہیں اس کی ناراضگی کے ساتھ۔ 25۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن شقیق عقیلی (رح) سے روایت کیا کہ میں عائشہ ؓ کے پاس آیا اور میں رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں سوال کیا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ آپ لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے تھے آپ کا اخلاق قرآن ہے۔ 26۔ ابن ابی شیبہ والترمذی وصححہ وابن مردویہ نے ابو عبداللہ الجدلی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کیسے تھے انہوں نے فرمایا آپ نہ فحش بات کرنے والے اور نہ باتکلف فحش بات کہنے والے تھے اور نہ بازاروں میں شور مچانے والے تھے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دینے والے تھے لیکن آپ درگذر کرنے والے اور معاف کرنے والے تھے۔ 27۔ ابن مردویہ نے زینب یزید بن وسق رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ میں عائشہ ؓ کے پاس تھی اچانک اہل شام کی عورتیں آئیں۔ انہوں نے کہا اے ام المومنین ! ہم کو رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں بتائیے۔ تو انہوں نے فرمایا آپ کا اخلاق قرآن تھا۔ اور آپ کنواری لڑکیوں سے بڑھ کر لوگوں سے حیا کرنے والے تھے جو اپنے پردے میں ہوتی ہیں۔ 28۔ ابن المبارک وعبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی نے الدلائل میں عطیہ عوفی (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانک لعلی خلق عظیم۔ سے مراد ہے کہ بیشک آپ قرآن کے آدب پر ہیں۔ 29۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وانک لعلی خلق عظیم سے مراد ہے قرآن 30۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وانک لعلی خلق عظیم سے مراد ہے دین۔ 31۔ عبد بن حمید نے ابو مالک ؓ سے روایت کیا کہ آیت وانک لعلیٰ خلق عظیم سے مراد ہے اسلام۔ 32۔ عبد بن حمید نے ابن ابزی اور سعید بن جبیر ؓ دونوں سے روایت کیا کہ آپ عظیم دین پر تھے۔ 33۔ الخرائطی نے مکارم الاخلاق میں انس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی گیارہ سال خدمت کی آپ نے کبھی مجھے نہیں فرمایا تو نے یہ کام کیوں کیا یا تو نے یہ کام کیوں نہیں کیا۔ ثابت (رح) نے فرمایا میں نے کہا اے حمزہ کہ وہ ایسے ہی تھے جیسے ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا وانک لعلیٰ خلق عظیم۔ 34۔ الخرائطی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی۔ اور میں آٹھ سال کا تھا اور آپ نے مجھے کسی دن کسی کام پر ملامت نہیں کی۔ اگر کوئی ملامات کرنے والے مجھے ملامت کرتا تو آپ فرماتے اس کو چھوڑدو۔ اگر یہ چیز مقدر میں ہوتی تو اس طرح ہوجاتا۔ رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کا ایک نمونہ 35۔ ابن سعد نے میمونہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک رات میرے پاس سے باہر تشریف لے گئے۔ میں نے آپ کے پیچھے دروازہ بند کردیا۔ آپ واپس تشریف لائے اور دروازہ کھولنے کو فرمایا۔ میں نے اس کو کھولنے سے انکار کردیا۔ آپ نے فرمایا میں تجھ کو قسم دیتا ہوں کہ تو میرے لیے دروازہ کھول دے۔ میں نے ان سے کہا میری رات میں آپ اپنی دوسری بیویوں کی طرف چلے جاتے ہیں آپ نے فرمایا میں نے ایسا نہیں کیا۔ لیکن میں نے اپنے پیشاب کو رکا ہوا پایا۔
Ayah 68:5

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader

سو عنقریب آپ دیکھ لیں گے اور یہ لوگ بھی دیکھ لیں گے

36۔ ابن المنذر نے ابن عباس رضی اللہما سے روایت کیا کہ آیت فستبصر ویبصرون۔ یعنی قیامت کے دن آپ بھی دیکھ لیں گے اور کافر بھی۔ یعنی آپ بھی جان لیں گے اور وہ بھی جان لیں گے قیامت کے دن۔ آیت بایکم المفتنون تم میں سے کون مفتون ہے۔ یعنی تم میں سے کون شیطان ہے اور وہ لوگ کہا کرتے تھے کہ وہ شیطان ہے اور مجنون ہے۔ 37۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فستبصر ویبصرون بایکم المفتون۔ قیامت کے دن آپ بھی دیکھ لیں گے اور کافر بھی کہ کون تم میں سے دیوانہ تھا۔ یعنی تمہارے لیے مفتون ظاہر ہوجائے گا۔ 38۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت فستبصر ویبصرون بایکم المفتون کے بارے میں روایت کیا کہ کون تم میں مفتون ہے۔ عنقریب جان لیں گے۔
Ayahs 68:6–8

بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader

کہ تم میں سے کس کو جنون تھا

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader

بلاشبہ آپ کا رب اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جانتا ہے

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader

سو آپ تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے

39۔ عبد بن حمیدوابن المنذر نے سعید بن جبیر اور ابن ابزی رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ آیت بایکم المفتون یعنی کون تم میں سے مجنون ہے۔ 40۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بایکم المفتون یعنی کون تم میں سے مجنون ہے۔ 41۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ بایکم المفتون سے مراد ہے مجنون۔ 42۔ عبد بن حمید نے ابوالجوزاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت بایکم المفتون سے مراد ہے شیطان۔ 43۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت بایکم المفتون سے مراد ہے کہ تم میں سے کون زیادہ قریب ہے شیطان کے۔ 44۔ ابن المنذر نے حسن (رح) سے آیت فستبصر ویبصرون۔ بایکم المفتون۔ کے بارے میں روایت کیا کہ کون تم میں سے شیطان سے زیادہ قریب ہے پس وہی لوگ شیطان کے زیادہ قریب ہیں۔
Ayah 68:9

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ ڈھیلے پڑجائیں تو وہ بھی ڈھیلے ہوجائیں

45۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ودوا لو تدہن فیدہنون۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ کہیں آپ نرمی کریں تو وہ بھی نرمی کریں۔ یعنی آپ ان کو رخصت دیں گے تو وہ بھی آپ کو رخصت دیں۔ 46۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت ودو لوتدہن فیدھنون کے بارے میں روایت کیا کہ اگر آپ ان کی طرف مائل ہوئے اور آپ اس حق کو چھوڑدیں گے جس پر آپ ہیں تو وہ بھی آپ کی طرف جھک جائیں گے۔ 47۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ودو لو تدہن فیدہنون سے مراد ہے کہ اگر وہ اس بات کو دوست رکھتے ہیں کہ اگر اللہ کے نبی ﷺ کے بارے میں کچھ نرمی اختیار کریں گے تو وہ بھی آپ سے نرمی اختیار کریں گے۔ 48۔ عبد بن حمید نے عکرمہ سے آیت ودو لو تدہن فیدہنون کے بارے میں روایت کیا کہ اگر آپ ان کو کافر کہیں گے تو وہ بھی کفر کا الزام لگائیں گے۔
Ayah 68:10

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader

اور آپ کسی ایسے شخص کی بات نہ مانئیے جو بہت قسمیں کھانے والا ہے

1۔ ابن مردویہ نے ابو عثمان النہدی (رح) سے روایت کیا کہ مروان بن الحکم (رح) نے کہا جب لوگوں نے یزید کی بیعت کی ابوبکر وعمر ؓ کی سنت سمجھ کر تو عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ نے کہا یہ ابوبکر وعمر ؓ کی سنت نہیں ہے لیکن یہ ہرقل کی سنت ہے۔ مروان نے کہا یہ وہی ہے کہ جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی آیت والذی قال لوالدیہ اف لکما (الاحقاف : آیت 17) اور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ تم پر تف ہے۔ فرمایا میں نے عائشہ ؓ سے سنا کہ انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت عبدالرحمن کے بارے میں نازل نہیں ہوئی۔ لیکن تیرے باپ کے بارے میں نازل ہوئی۔ آیت ولا تطع کل حلاف مہین۔ ہماز مشاء بنمیم۔ اور ہر قسمیں کھانے والا ذلیل کا کہنا نہ مان۔ جو طعنے دینے والاچغلی کھانے والا ہو۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولا تطع کل حلاف الایۃ۔ سے مراد اسود بن عبد یغوث ہے۔ 3۔ عبد بن حمید نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تطع کل حلاف، سے قبیلہ ثقیف میں سے ایک آدمی اخنس بن شریق مراد ہے۔ 4۔ عبد الرزاق وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولاتطع کل حلاف مہین، میں حلاف سے مراد ہے بہت قسمیں کھانے والا اور مہین سے مراد ہے ضعیف اور کمزور۔ 5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تطع کل حلاف مہین۔ سے مراد ہے کمزور دل ” عتل “ بدخلق، یعنی بہت سخت مزاج ” زنیم “ کمینہ یعنی جو کہ دوسرے کے نسبت میں ملایا گیا ہو۔ ابن عباس ؓ کا یہی خیال ہے۔
Ayahs 68:11–12

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader

ذلیل ہے جو دوسری کو عیب لگاتا ہے، چغل خور ہے

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader

خیر سے رکنے والا ہے، گناہ کا ارتکاب کرنے والا ہے

6۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تطع کل حلاف مہین میں مہین سے مراد ہے بہت فساد کرنے والا ” ہماز “ جو لوگوں کے گوشت کھاتا ہے یعنی چغل خور۔ آیت مناع للخیر۔ خیر سے روکنے والا جو خیر اور نیکی نہ کرتا ہو۔ معتد حسد سے بڑھا ہوا یعنی جو اپنے قول اور عمل میں حد سے تجاوز کرنے والا ہو۔” اثیم “ بڑا گنہگار اپنے رب کا ” عتل “ یعنی فاخر آدمی جو انتہائی کمینہ ہو اور ہم کو ذکر کیا گیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ فحش بات کرنے والا اور باتکلف فحش کہنے والا اور برا پڑوسی اور قطع رحمی ظاہر نہ ہوگی۔
Ayah 68:13

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader

سخت مزاج ہے اور اس کے بعد منقطع النسب بھی ہے

7۔ عبد بن حمید نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت عتل بعد ذلک زنیم۔ یہ خلق بعد اس کے بغیر باپ کی طرف منسوب۔ یعنی وہ فحش بکنے والا اور کمینہ بھی ہے۔ 8۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے حسن اور ابوالعالیہ رحمہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا کہ۔ 9۔ عبد بن حمید وابن عساکر نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” زنیم “ سے مراد ہے زنا سے پیدا ہونے والا جس کے بارے میں صرف دعویٰ کیا جائے کہ یہ فلاں کا ہے۔ کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا۔ زنیم تداعاہ الرجال زیادۃ کما زید فی عرض الادیم اکارعہ ترجمہ : زنیم وہ ہوتا ہے جس کے بارے میں لوگ زیادتی اور اضافہ کے لیے دعویٰ کرتے ہیں جیسا کہ چمڑے کے سامان میں اس کے کھروں کا اضافہ کردیا جائے۔ 10۔ ابن الانباری نے الوقف والابتداء میں عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ” زنیم “ کے بارے میں پوچھا۔ فرمایا اس سے زناہ کی اولاد مراد ہے اور اس کی مثال شاعر کے اس قول کے ساتھ بیان کی زنیم لیس یعرف من ابوہ یعنی الام ذو حسب لئیم ترجمہ : زنیم وہ ہوتا ہے جس کے بارے میں یہ معلوم نہ ہو کہ اس کا باپ کون ہے ماں زانیہ ہو اور کمینہ حسب والا ہو۔ 11۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت عتل بعد ذلک زنیم سے مراد ہے سخت موٹا اور اس کے حلق کے نیچے کا لٹکنے والاگوشت اس کے قبضے میں زائد ہو۔ اور یہ اس کی علامت ہے۔ 12۔ عبد بن حمید نے شہر بن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ ” عتل “ سے مراد ہے صحت مند بہت کھانے والا اور بہت پینے والا اور زنیم سے مراد ہے فاجر یعنی بدکار آدمی۔ 13۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت عتل بعد ذلک زنیم سے مراد ہے کہ کافر کو مومن سے پہچانا جاسکتا ہے انما بکری کی طرح اور زنماء سے مراد وہ ہے جس کے حلق کے نیچے کا گوشت اس طرح لٹکا ہوا اپنے جس طرح بکری کے حلق میں کوئی چیز لٹکی ہوئی ہے۔ 14۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ” زنیم “ اس سے اس وصف پہچانا جاتا ہے جس طرح زنماء بکری اس سے پہچانی جاتی ہے جس کے گلے میں کچھ نہ ہو۔ 15۔ عبد بن حمید نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ آیت عتل بعد ذلک زنیم سے وہ شخص مراد ہے جو کسی قوم میں سے ملا ہوا تو ہو لیکن ان میں سے نہ ہو۔ چھ قسم کے لوگوں پر جنت حرام ہے۔ 16۔ عبد بن حمید نے شہر بن حوشب سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ چھ آدمی جنت میں کبھی داخل نہ ہوں گے نافرمان اور شراب کا عادی، جعل، جو اظ قتات عتل زنیم میں نے کہا اے ابن عباس کہ پہلی دو چیزوں کو تو میں جانتا ہوں۔ آخری چار کے بارے میں مجھے بتائیے یہ کون ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جعشل سے مراد ہے سخت بدخلق اور جو اظ سے مراد ہے کہ جو مال کو جمع کرتا ہے اور روک لیتا ہے اور قتات سے مراد ہے جو لوگوں کے گوشتکھاتا ہے یعنی غیبت کرنے والا اور عتل زنیم سے مراد ہے جو لوگوں کے درمیان چغلی کے ساتھ چلتا ہے۔ 17۔ احمد وعبد بن حمید وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابن عساکر نے شہر بن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ مجھے عبدالرحمن بن غنم ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں جواظ، جعظری اور العتل الزنیم داخل نہو ہوں گ۔ مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے آپ سے پوچھا کہ جواظ، جعظری، عتل اور زنیم سے کون لوگ مراد ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو اظ وہ ہے جو مال جمع کرے اور روک لے اس کے بارے میں یہ آیت انہا لظی۔ نزاعۃ للشوی۔ (المعارج) وہ تو ایک آگ ہے کھالوں کو اتارنے والی۔ اور جعظری سے مراد سخت بدخلق۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت فبما رحمۃ من اللہ لنت لہم ولو کنت فظا غلیظ القلب لانفضوا من حولک۔ (العمران آیت 199) پھر اللہ کی رحمت کے سبب سے تو ان کے لیے نرم ہوگیا۔ اور اگر تو تند خو اور سخت دل ہوتا تو البتہ تیرے گرد سے بھاگ جاتے۔ اور العتل الزنیم سے مراد ہے سخت مزاج والا، وسیع پیٹ والا، صحت مند بہت شراب پینے والا، بہت کھانے پینے والا اور لوگوں پر بہت ظلم کرنے والا۔ 18۔ ابن سعد وعبد بن حمید نے عامر (رح) سے روایت کیا کہ ان سے زنیم کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا وہ آدمی جس کو شر غالب ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ وہ پہچانا جاتا ہے اور وہ آدمی تھا قبیلہ بنو ثقیف میں سے جس کو اخنس بن شریق کہا جاتا ہے۔ 19۔ ابن ابی شیبہ وابن الانباری نے الوقف الابتداء میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” زنیمت “ سے مراد ہے ایسا آدمی جو ولدالزنا ہو۔ فحش بکنے والا انتہائی کمینہ اور کسی قوم میں باہر سے ملا ہوا پھر شاعر کا یہ قول پڑھا۔ زنیم تداعاہ الرجال زیادۃ کما زید فی عرض اللئیم اکارع ترجمہ : زنیم وہ ہوتا ہے جس کے بارے میں لوگ زیادتی اور اضافہ کے لیے دعویٰ کرتے ہیں کھروں کا اضافہ کردیا جائے۔ 20۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تطع کل حلاف مہین اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی۔ 21۔ عبد الرزاق وابن المنذر نے کلبی (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 22۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تطع کل حلاف مہین اسود بن عبد یغوث کے بارے میں نازل ہوئی۔ 23۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ عنما سے روایت کیا کہ یہ آیت ولاتطع کل حلاف مہین۔ ہماز مشاء بنمیم۔ نبی اکرم ﷺ پر نازل ہوئی تو پہچان ہوئی کہ کس کے بارے میں نازل ہوئی یہاں تک کہ اس کے بعد نازل ہوا ” زنیم “ تو ہم نے اس کو پہچان لیا کہ جس کا گوشت بکری کے گوشت کی طرح لٹکا ہوا تھا۔ 24۔ البخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن مردویہ نے حارثہ بن وہب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں تم کو اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر وہ ضعیف آدمی جس کو انتہائی کمزور سمجھا جاتا ہے اگر وہ اللہ پر قسم کھالے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم کو پورا کردے۔ کیا میں تم کو دوزخ والوں کے بارے میں نہ بتاؤں ہر اکھڑ مزاج بخیل، کنجوس اور سخت بدخلق اور تکبر کرنے والا۔ 25۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس بندے پر آسمان روتا ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے صحت مند جسم دیا ہو اور اس کے پیٹ کو کشادہ رکھا ہو اور اور اس کو وافر دنیا میں سے عطا کیا ہو۔ لیکن وہ لوگوں کے ساتھ انتہائی ظلم کرتا ہو تو وہ آدمی ” العتل والزنیم “ ہے۔ ظالم پر آسمان کا رونا 26۔ ابن ابی حاتم نے قسم، معاویہ کے آزاد کردہ غلام اور موسیٰ بن عقبہ ضی اللہ عنہما دونوں سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ” العتل الزنیم “ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ فحش بکنے والا اور کمینہ۔ 27۔ ابو الشیخ وابن مردویہ والدیلمی نے ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے آیت بعد ذلک زنیم “ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ” العتل “ ہر بڑے پیٹ والے مضبوط اخلاق والا، بہت کھانے اور بہت پینے والا، مال جمع کرنے والا اور اس کو اپنے پاس روکنے والا۔ 28۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت مناع للخیر سے لے کر زنیم تک تلاوت کی اور کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ دوزخ والے سب جعظری سخت بدخلق جو اظ جو مال جمع کرے اور روک لے۔ اور تکبر کرنے والے اور خیر اور نیکی سے روکنے والا۔ اور جنت والے کمزور اور مغلوب ہیں۔ 29۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” العتل “ سے مراد ہے بغیر باپ کی طرف منسوب اور الزنیم وہ متہم آدمی جو شر کے ساتھ معروف اور مشہور ہو۔ 30۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر والخرائطی فی مساوی الاخلاق والحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے آیت عتل بعد ذلک زنیم کے بارے میں روایت کیا وہ آدمی جو شر کے ساتھ اس طرح پہچانا جاتا ہو۔ جیسے بکری گلے میں لٹکے ہوئے گوشت کے لوتھڑے کے ساتھ پہچانی جاتی ہے۔ زنیم کی تعریف 31۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ زنیم وہ آدمی ہے جو کسی قوم پر سے گزرے تو وہ کہیں کہ یہ برا آدمی ہے۔ 32۔ البخاری والنسائی وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابو نعیم نے ابن عباس ؓ سے آیت عتل بعد ذلک زنیم کے بارے میں روایت کیا کہ وہ آدمی قریش میں سے تھا جس کے حلق کے نیچے کا زائد گوشت اس طرح لٹکا ہوا تھا جیسے بکری کا گوشت لٹکا ہوتا ہے اور وہ اسی سے پہچانا جاتا ہے۔ 33۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا اس کی صفت بیان کی گئی مگر نہ پہچانا گیا۔ یہاں تک کہ کہا گیا۔ زنیم اب اس سے مراد ایک ایسا آدمی جس کی گردن کا گوشت لٹکا ہوا تھا جس سے وہ پہچانا جاتا تھا۔ 34۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الزنیم سے مراد ہے باہر سے نسب میں ملنے والا۔ 35۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الزنیم سے مراد ہے بہت ذلم کرنے والا۔ 36۔ الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ” زنیم “ سے کیا مراد ہے تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے زنا کی اولاد۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر و یہ شعر کہتے ہوئے نہیں سنا۔ زنیم تداعاہ الرجال زیادۃ کما زید فی عرض الادیم اکارع ترجمہ : زنیم وہ ہوتا ہے جس کے بارے میں لوگ زیادتی اور اضافہ کے لیے دعویٰ کرتے ہیں جیسا کہ چمڑے کے سامان میں اس کے کھروں کا اضافہ کردیا جائے۔ 37۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ” زنیم “ سے مراد ہے کمینہ اور کافر دوغلی نسل والا۔ 38۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” مہین “ سے مراد ہے جھوٹ بولنے والا ” ہماز “ بہت غیبت کرنے والا ” عتل “ سے مراد ہے سخت جھگڑالو ” زنیم “ یعنی غیر باپ کی طرف منسوب۔ آیت ” سنسمہ علی الخرطوم “ ینقریب ہم اس کی ناک پر داغ لگائیں گے۔ اس نے بدر کے دن مسلمانوں کے خلاف قتال کیا تو لڑائی میں تلوار کے ساتھ اس کی ناک پر زخم لگا۔
Ayahs 68:14–15

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader

اس وجہ سے کہ وہ مال والا، بیٹوں والا ہے

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader

جب اس پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ اگلے لوگوں سے نقل کی جانے والی باتیں ہیں

41۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا اس کو یوں پڑھا آیت ان کان ذامال وبنین دو ہمزوں کے ساتھ جن میں ایک ہمزہ استفہامیہ ہے۔ 42۔ ابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص اس حال میں مرگیا کہ وہ لوگوں میں غیب کرنے والا نکتہ چینی کرنے والا اور عیب تلاش کرنے والا مشہور تھا۔ تو قیامت کے دن اس کی یہ علامت ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اس کی ناک پر داغ لگادیں گے ناک کے دونوں کناروں سے۔
Ayah 68:16

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader

ہم عنقریب اس کی سونڈ پر نشان لگادیں گے

39۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت سنسمہ علی الخرطوم کے بارے میں روایت کیا کہ اس کے ناک پر ایک نشان تھا جو اس سے جدا نہیں ہوگا یعنی وہ نشان ختم نہیں ہوگا۔ 40۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت سنسمہ علی الخرطوم کے بارے میں روایت کیا کہ ” سنسمہ “ سے مراد ہے کہ ہم اس کی ناک پر ایسا نشان لگائیں گے کہ کوئی دوسرا اس کی داغ کو مٹا نہیں سکے گا۔
Ayah 68:17

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے انہیں آزمایا جیسا کہ ہم نے باغ والوں کو آزمایا، جبکہ ان لوگوں نے آپس میں قسم کھائی کہ صبح کو چل کر پھل توڑ لیں گے

43۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انا بلونہم کما بلونا اصحب الجنۃ ہم نے ان کو آزمایا جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا۔ یہ کچھ لوگ تھے کہ جن کا واقعہ اللہ تعالیٰ نے تم پر بیان فرمایا ہے اور تمہارے لیے ان کے معاملے کو واضح بیان فرمایا۔ 44۔ ابن ابی حاتم نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ ابو جہل نے بدر کے دن کہا کہ ان کو پکڑ لو اور ان کو پہاڑوں میں باندھ دو اور تم ان میں سے کسی کو قتل نہ کرو۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت انا بلونہم کما بلونا اصحب الجنۃ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کو ان پر اس طرح قدرت ہے جیسے باغ والوں کو قدرت حاصل تھی باغ پر لیکن ہم ان کو باغ والوں کی طرف آزمایا۔ 45۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت کما بلونا اصحب الجنۃ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ حبشہ والوں میں سے تھے کہ ان کے باپ کا ایک باغ تھا۔ اور وہ اس میں سے سوال کرنے والون کو دیتا تھا۔ ان کا باپ مرگیا تو اس کے بیٹوں نے کہا کہ ہمارا باپ احمق تھا کہ مسکینوں کو دے دیتا تھا۔ آیت اذ اقسموا لیصر منہا مصبحین (انہوں نے قسم کھائی کہ ہم صبح ہوتے ہی پھل توڑیں گے) اور ہم مسکینوں کو نہیں دیں گے۔ سخی باپ کے بخیل بیٹے 47۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ باغ بنی اسرائیل میں سے ایک بوھے آدمی کا تھا اور وہ ایک سال کی خوراک ذخیرہ کرلیتا تھا اور باقی بچا ہوا سب صدقہ کردیتا تھا اور اس کے بیٹے اس کو صدقہ کرنے سے منع کرتے تھے۔ جب ان کا باپ مرگیا تو وہ صبح سویرے اپنے باغ میں آئے اور انہوں نے کہا کہ آج تم پر اس باغ میں کوئی مسکین داخل نہیں ہونا چاہیے آیت وغدوا علی حرد قدرین۔ اور وہ صبح سویرے ہی پھل توڑنے کی قدرت کا خیال کر کے چل پڑے۔ یعنی اپنے کام کے لیے کوشش کرتے ہوئے چل پڑے کہ وہ اس پر قادر ہیں۔ 48۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے آیت کما بلونا اصحب الجنۃ جیسے ہم نے آزمایا باغ والوں کو کے بارے میں روایت کیا کہ یہ باغ یمن کی سرزمین پر تھا جس کو ضرر کہا جاتا تھا۔ اس باغ اور صنعاء کے درمیان چھ میل کا فاصلہ تھا۔
Ayah 68:18

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader

اور انہوں نے انشاء اللہ بھی نہیں کہا

49۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے فرمایا کہ آیت ولا تستثنون (اور انہوں نے انشاء اللہ نہیں کہا) یعنی ان کی استثناء سبحان اللہ تھی۔
Ayah 68:19

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader

سو اس باغ پر آپ کے رب کی طرف سے ایک پھرنے والا پھر گیا اس حال میں کہ وہ سو رہے تھے

50۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فطاف علیہا طائف من ربک۔ تیرے رب کی طرف سے رات کو ایک مصیبت یعنی آگ کا چکر اس باغ پر آیا۔ یعنی وہ اللہ کی طرف سے ایک حکم تھا۔ 51۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت فطاف علیہا طائف من ربک کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ایک عذاب تھا۔ جہنم کی وادی میں سے ایک آگ گردن کی طرح نکلی جس نے باغ کو جلا ڈالا۔ 52۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت فطاف علیہا طائف من ربک وہم نائمون۔ کے بارے میں روایت کیا کہ اس پر رات کے وقت اللہ کا حکم آیا آیت فاصبحت کالصریم اور وہ اجڑے ہوئے باغ کی طرح ہوگیا یعنی کالی رات کی طرح۔ 53۔ عبد بن حمید نے فطر بن میمون (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 54۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : گناہ سے بچو کہ بندہ کوئی گناہ کرتا رہتا ہے تو اس کی وجہ سے علم میں سے ایک باب کو بھول جاتا ہے اور بلاشبہ بندہ کوئی گناہ کرتا رہتا ہے تو قیام اللیل سے محروم کردیا جاتا ہے اور بلاشبہ بندہ کوئی گناہ کرتا رہتا ہے تو رزق سے محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ آیت فطاف علیہا طائف من ربک وہم نائمون۔ فاصبحت کا لصریم۔ یعنی وہ محروم کردئیے گئے اپنے باغ کی خیر و برکت سے اپنے گناہوں کی وجہ سے۔
Ayahs 68:20–21

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader

سو وہ باغ صبح کو ایسا رہ گیا جیسے کٹا ہوا کھیت ہو

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader

سو صبح کے وقت وہ آپس میں ایک دوسرے کو پکارنے لگے

55۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” کالصریم “ سے مراد ہے سیاہ رات کی طرح۔ 56۔ الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” کالصریم “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا ” کالصریم “ سے مراد ہے ختم ہوجانا پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا۔ غدوت علیہ غدوۃ فوجدتہ قعودا لدیہ بالصریم عواذلہ ترجمہ : میں صبح سویرے اس کی طرف گیا تو میں نے اسے پایا حالانکہ وہ کٹے ہوئے کھیت کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور اسے ملامت کرنے والے اس کے پاس تھے
Ayah 68:22

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader

کہ صبح سویرے اپنے کھیت پر چلے چلو اگر تمہیں پھل توڑنا ہے

57۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان اغدوا علی حرثکم۔ صبح سویرے اپنی کھیتی پر چلو اور وہ انگور تھے یعنی ان کا باغ انگوروں کا تھا۔
Ayahs 68:23–24

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

پھر وہ لوگ آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ آج تمہارے پاس کوئی مسکین نہ آنے پائے

58۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وہم یتخافتون۔ اور وہ چپکے چپکے کہتے ہوئے چلے۔ یعنی وہ آپس میں آہستہ آہستہ اور چپکے چپکے باتیں کرنے لگے۔ 59۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وہم یتخافتون سے مراد ہے کہ وہ آپس میں چپکے چپکے باتیں کرنے لگے کہ آج کے دن کوئی مسکین تم پر داخل نہ ہو آیت وغدوا علی حرد قدرین کہ وہ لوگ اپنے باغ کا ارادہ کرتے ہوئے صبح سویرے چل پڑے اپنے دلوں میں یہ سوچتے ہوئے کہ وہ اس پر قدرت رکھتے ہیں۔
Ayah 68:25

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

اور وہ اپنے کو اس کے نہ دینے پر قادر سمجھ کر چلے

60۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت علی حرد قدرین اور وہ پھل توڑنے کی قدرت کا خیال کر کے چل پڑے۔ اپنے آپ کو صاحب قدرت سمجھتے ہوئے۔ 61۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وغدوا علی حرد قدرین۔ یعنی وہ صبح سویرے چلے کہ اپنے کام پر وہ قادر ہوچکے تھے۔ اور انہوں نے ذاتی طور پر اس بات پر اتفاق یا کہ ان پر کوئی مسکین داخل نہیں ہو۔ 62۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے آیت وغدوا علی حرد کے بارے میں روایت کیا کہ وہ غصہ میں تھے۔ 63۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وغدوا علی حرد یعنی مساکین کے آنے سپہلے باغ کو توڑ لیا جائے اس لیے صبح سویرے چل پڑے۔
Ayah 68:26

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

پھر جب اس باغ کو دیکھا تو کہنے لگے کہ بیشک ہم راستہ بھول گئے

64۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قالوا انالضالون کہنے لگے۔ کہ ہم اپنے باغ کا راستہ بھٹک گئے۔ انصاف پسند آدمی کا قول 65۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انا لضالون سے مراد ہے کہ ہم راستہ بھول گئے یہ ہمارا باغ نہیں آیت بل نحن محرومون بلکہ ہم محروم ہوگئے بلکہ ہمارے ساتھ کوئی اور معاملہ کردیا گیا اور ہم کو باغ سے محروم کردیا گیا۔ آیت قال اوسطہم کہا ان میں سے ایک متوسط عمر کے آدمی نے جو قوم میں سب سے زیادہ انصاف پسند اور زیادہ ڈرنے والا تھا جو قوم میں سب سے زیادہ انصاف پسند اور زیادہ ڈرنے والا تھا اور میں سے جو بہتر رجوع کرنے والا تھا پس اس نے کہا۔
Ayah 68:27

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

بلکہ بات یہ ہے کہ ہم محروم کردئیے گئے

66۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت بل نحن محرومون سے مراد ہے کہ جب ان پر صورتحال ظاہر ہوگئی اور انہوں نے پہچان لیا اپنے باغ کی نشانیوں کو تو کہنے لگے۔ آیت بل نحن محرومون یعنی بلکہ ہم محروم کردئیے گئے۔ 67۔ ابن المنذر نے معمر (رح) سے روایت کیا کہ ہم نے قتادہ (رح) سے کہا کہ وہ باغ والے اہل جنت میں سے ہیں یا اہل دوزخ میں سے ؟ تو انہوں نے فرمایا تو نے مجھے مشکل میں ڈال دیا۔
Ayahs 68:28–32

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

ان میں جو اچھا آدمی تھا وہ کہنے لگا کہ کیا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ تم اللہ کی تسبیح کیوں بیان نہیں کرتے

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

کہنے لگے ہم اپنے رب کی پاکی بیان کرتے ہیں بلاشبہ ہم قصور وار ہیں

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر ایک دوسرے پر متوجہ ہو کر باہم الزام دینے لگے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

کہنے لگے ہائے ہماری خرابی بلاشبہ ہم حد سے بڑھ جانے والے تھے

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

امید ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس کے بدلہ اس سے بہتر عطا فرمادے، بلاشبہ ہم اپنے رب کی طرف رغبت کرنے والے ہیں

68۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قال اوسطہم یعنی ان میں جو سب سے زیادہ انصاف پسند تھا (اس نے کہا) ۔ 69۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے آیت قال اوسطہم کے بارے میں روایت کیا یعنی جو ان میں سب سے زیادہ انصاف پسند تھا اور اللہ کی کتاب میں جہاں بھی اوسط کا لفظ ہے اس سے مراد ہے سب سے زیادہ انصاف کرنے والا۔ 70۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قال اوسطہم سے مراد ہے سب سے زیادہ انصاف کرنے والا۔ 71۔ ابن ابی حاتم نے سری (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم اقل لکم لو لا تسبحون کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے کہ ان کا استثنی اس زمانے میں تسبیح تھی۔ 72۔ ابن المنذر نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ آیت لو لاتسبحون یعنی تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے۔ جب انہوں نے یہ بات کہی کہ وہ صبح ہوتے ہی باغ کا پھل توڑ لیں گے اور انہوں نے اس وقت انشاء اللہ نہ کہا اور تسبیح ان کا استثناء تھی۔ جیسے ہم کہتے ہیں ان شاء اللہ۔