Ayah 68:1حرف ’نٓ‘ کے معنی:
جس طرح ’قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ‘ (قٓ ۵۰: ۱) میں ’قٓ‘ سورہ کا نام ہے اسی طرح یہاں ’نٓ‘ اس سورہ کا نام ہے۔ عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق مبتدا یہاں حذف ہو گیا ہے جس کو ہم نے ترجمہ میں کھول دیا ہے۔ سورۂ بقرہ کی تفسیر میں امام فراہی رحمۃ اللہ علیہ کے اس نظریہ کا حوالہ ہم دے چکے ہیں کہ ابتداءً یہ حروف معانی پر دلیل ہوتے تھے، اب ان کے معانی کا علم اگرچہ باقی نہیں رہا تاہم بعض حروف اب بھی معنی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس دعوے کے ثبوت میں استاذ امامؒ نے جن حروف کا حوالہ دیا ہے ان میں یہ حرف بھی شامل ہے۔ جو اب بھی اپنے قدیم معنی (مچھلی) میں مستعمل ہے۔ اس سورہ کو اس نام سے موسوم کرنے میں اشارہ ہے حضرت یونس علیہ السلام کے واقعہ کی طرف جن کو مچھلی نے نگل لیا تھا، چنانچہ سورہ کے آخر میں ’صَاحِبُ الْحُوْتِ‘ (مچھلی والے) کے لقب سے آنجنابؑ کا ذکر آیا بھی ہے۔ سورۂ انبیاء کی آیت ۸۷ میں ’ذُوا النُّوْنِ‘ کے لقب سے بھی آپ کو ملقب فرمایا گیا ہے جس کے معنی بعینہٖ وہی ہیں جو ’صاحب الحوت‘ کے ہیں۔
قلم کی شہادت تین دعاوی پر: ’وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوۡنَ‘ یہ ’وَ‘ قسم کے لیے ہے اور یہ بات ہم بار بار ظاہر کر چکے ہیں کہ قرآن میں قسمیں کسی دعوے پر شہادت کے لیے کھائی گئی ہیں۔ یہاں دعوے کے طور پر، جیسا کہ آگے تفصیل آئے گی، تین باتیں مذکور ہیں جن کو ثابت کرنے کے لیے یہ قسم کھائی گئی ہے۔
ایک یہ کہ مخالفین آپ کو (پیغمبر صلعم) جو دیوانہ کہتے ہیں یہ ان کی خرد باختگی ہے۔ آپ دیوانے نہیں بلکہ اللہ کے فضل سے تمام فرزانوں سے بڑھ کر فرزانے ہیں۔
دوسری یہ کہ مخالفین جو یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ آپ کی یہ ساری سرگرمیاں چند روزہ ہیں جو بہت جلد ہوا میں اڑ جائیں گی، یہ بالکل غلط فہمی ہے۔ آپ کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں ایک غیر منقطع اجر مقدر ہے۔
تیسری یہ کہ آپ ایک اعلیٰ کردار کے مالک ہیں اس وجہ سے جو لوگ آپ کو شاعر، کاہن یا دیوانہ سمجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں وہ اپنی شامت کو دعوت دے رہے ہیں۔
ان دعاوی پر قرآن میں جگہ جگہ خود قرآن ہی کو شہادت میں پیش کیا گیا ہے اس وجہ سے قرینہ اسی بات کا ہے کہ یہاں بھی ’وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوۡن‘ سے قرآن ہی مراد ہو۔ چنانچہ مجاہدؒ سے روایت بھی ہے کہ ’القلم‘ سے مراد وہ قلم ہے جس سے قرآن مجید لکھا جا رہا تھا اور ’وَمَا یَسْطُرُوۡن‘ سے مراد قرآن مجید ہے۔
قلم کی اہمیت کے چند پہلو: یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ ’تعلیم بالقلم‘ اللہ تعالیٰ کے عظیم احسانات میں سے ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے:
’اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ ۵ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۵ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ‘ (العلق ۹۶: ۳-۵)
(پڑھو اور تمہارا رب نہایت ہی بافیض رب ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے تعلیم دی، انسان کو سکھایا وہ کچھ جو وہ نہیں جانتا تھا)
سابق انبیاء علیہم السلام نے جو تعلیم دی وہ زبانی تعلیم کی شکل میں تھی جس کو محفوظ رکھنا نہایت مشکل تھا۔ وہ بہت جلد یا تو محرف ہو کر مسخ ہو جاتی یا اس پر نسیان کا پردہ پڑ جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے دین کو اس آفت سے محفوظ رکھنے کے لیے انسان کو قلم اور تحریر کے استعمال کا طریقہ سکھایا جس سے وہ اس قابل ہوا کہ زبانی تعلیم کی جگہ اس کو تحریر کے ذریعہ سے تعلیم دی جائے۔ چنانچہ سب سے پہلے اس کو تورات کے احکام عشرہ الواح میں لکھ کر دیے گئے۔ پھر دوسرے نبیوں کی تعلیمات بھی قلم بند ہوئی اور سب کے آخر میں سب سے زیادہ اہتمام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب اس طرح محفوظ کی گئی کہ قیامت تک اس میں کسی تحریف و تغیر کا کوئی ادنیٰ احتمال بھی باقی نہ رہا۔
قلم سے مراد: ’قلم‘ کی اسی اہمیت کے سبب سے یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم کھائی ہے۔ ہمارے نزدیک اس سے یہاں کوئی خاص قلم مراد نہیں ہے بلکہ یہ لفظ تعبیر ہے تعلیمات الٰہیہ کے اس پورے مدوّن سرمایہ (WRITTEN RECORD) کی جو قلم کے ذریعہ سے محفوظ ہوا۔ یعنی تورات، زبور، انجیل وغیرہ۔ ان مقدس صحیفوں کی تعلیمات بھی آنحضرت ﷺ کی تصدیق کرتی ہیں اور ان کے اندر آپ کے ظہور کی ناقابل تردید شہادتیں بھی ہیں۔ ان ساری چیزوں کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے۔
’وَمَا یَسْطُرُوۡن‘ کا مفہوم: ’وَمَا یَسْطُرُون‘ سے مراد، قرینہ دلیل ہے کہ، قرآن مجید ہے جو اس وقت نازل بھی ہو رہا تھا اور صحابہؓ کے ہاتھوں لکھا بھی جا رہا تھا۔ پچھلے صحیفوں کی قسم کے بعد یہ خود قرآن مجید کی قسم ہے۔ اس کو آنحضرت ﷺ کی صداقت، رزانت اور رسالت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ جو شخص ایسا اعلیٰ اور برتر کلام پیش کر رہا ہے اس کا یہ کلام ہی دلیل ہے کہ یہ کوئی کاہن یا شاعر یا دیوانہ نہیں ہے بلکہ اللہ کا رسول ہے۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ کفار کے اس قسم کے طعنوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے بالعموم قرآن مجید ہی کو ان کے سامنے پیش کیا ہے کہ وہ اس کو دیکھیں اور انصاف سے فیصلہ کریں کہ یہ کسی دیوانے یا کاہن یا شاعر کا کلام ہو سکتا ہے یا اللہ تعالیٰ کا؟
Ayah 68:2قسم کا مقسم علیہ:
یہ مقسم علیہ ہے۔ یعنی تمام پچھلے آسمانی صحیفے اور یہ قرآن، جو لکھا جا رہا ہے، سب اس بات پر شاہد ہیں کہ تم اللہ کے فضل سے کوئی دیوانے نہیں ہو۔ بلکہ تم انہی باتوں سے لوگوں کو آگاہ کر رہے ہو جن سے آدم علیہ السلام سے لے کر مسیح علیہ السلام تک ہر نبی نے آگاہ کیا اور جن کی صداقت پر تاریخ گواہ ہے۔ اگر یہ مدعیان دانش اس جرم میں تمہیں دیوانہ کہہ رہے ہیں تو اس کا غم نہ کرو، تم دیوانے نہیں بلکہ اپنے رب کے سب سے بڑے فضل سے بہرہ مند ہو البتہ ان دانش فروشوں کی عقل ماری گئی ہے کہ یہ دیوانے اور فرزانے میں امتیاز سے قاصر ہیں۔
آنحضرت صلعم کو مجنون کہنے کی وجہ: آنحضرت ﷺ کو مجنون کہنے کی وجہ ہم اس کے محل میں ظاہر کر چکے ہیں کہ قریش کے لیڈروں کی سمجھ میں یہ بات کسی طرح نہیں آتی تھی کہ آپؐ جس عذاب سے ان کو اس شد و مد اور اس جزم و یقین کے ساتھ ڈرا رہے ہیں کہ گویا اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں آخر وہ کدھر سے آ جائے گا؟ ان کو یہ پریشانی لاحق تھی کہ آپ کے لب و لہجہ میں جو غیر معمولی جزم و یقین، آپ کے انداز دعوت میں جو مافوق العادت بے چینی و بے قراری اور آپ کی تذکیر میں دلوں کو ہلا دینے والی جو درد مندی و شفقت ہے اس سے ان کے عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ اس اثر کو زائل کرنے کے لیے انھوں نے لوگوں کو یہ باور کرانا چاہا کہ اس شخص کی یہ ساری بے چینی و بے قراری اس وجہ سے نہیں ہے کہ فی الواقع کوئی عذاب آنے والا ہے جس سے آگاہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو بھیجا ہے بلکہ بعض اشخاص کو جس طرح کسی چیز کا مالیخولیا ہو جاتا ہے اور وہ اٹھتے بیٹھتے اسی کی رٹ لگائے رکھتے ہیں اسی طرح اس شخص کو بھی عذاب کا مالیخولیا ہو گیا ہے جو اس کو ہر طرف سے آتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس بات کو تقویت دینے کے لیے اس پر وہ یہ اضافہ بھی کر دیتے کہ کسی نے اس پر جادو کر دیا ہے جس کے سبب سے اس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں رہی ہے اور بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔
Ayah 68:3رسول کے لیے ابدی فیروز مندی کی بشارت:
یہ اسی بات کی وضاحت مثبت پہلو سے ہے کہ احمق ہیں وہ جو تمہیں دیوانہ سمجھ کر تمہارے لیے گردش روزگار کے منتظر ہیں جو ان کے خیال میں تمہیں تباہ کر دے گی۔ تباہی تمہارے لیے نہیں بلکہ خود ان کے لیے مقدر ہے۔ تمہارے لیے تو کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے اور مغروروں کو جو دنیا ملی ہے اور جس پر یہ نازاں ہیں یہ اب عذاب کی زد میں ہے اور بہت جلد یہ اس کا انجام دیکھ لیں گے لیکن تمہیں تمہاری حق پرستی کا جو صلہ ملنے والا ہے وہ ابدی ہے جس کے لیے کبھی زوال نہیں ہے۔
’غَیْْرَ مَمْنُوۡنٍ‘ کے معنی غیر منقطع کے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس کے معنی اس سے مختلف بھی لیے ہیں لیکن وہ عربیت اور نظائر قرآن کے خلاف ہے۔
Ayah 68:4رسول کا کردار اس کے دعوے پر عظیم حجت ہے:
یعنی حضرات انبیاء علیہم کی تاریخ نے اعلیٰ کردار کے جو نمونے پیش کیے ہیں تم اسی کی ایک نہایت شان دار مثال ہو اور تمہارا یہ کردار ان لوگوں کے خلاف سب سے بڑی حجت ہے جو تمہیں دیوانہ یا کاہن یا شاعر کہہ کر اپنے کو اور اپنے عوام کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ تمہاری یہ باتیں ہوا میں اڑ جائیں گی۔
قرآن مجید میں جگہ جگہ نبی ﷺ کے اعلیٰ کردار کو آپ کے دعوے کی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سورۂ شعراء میں نہایت تفصیل سے کاہنوں اور شاعروں کے اخلاق کی پستی، ان کی فکری ہرزہ گردی اور ان کے قول و عمل کی بے ربطی کا حوالہ دے کر ان لوگوں کو ملامت کی گئی ہے جو نبی ﷺ کو اس ناپاک زمرے میں شامل کرتے تھے۔ ان سے سوال کیا گیا ہے کہ نبی کے اعلیٰ کردار کو ان کاہنوں اور شاعروں کے کردار سے کیا تعلق جن کا ظاہر و باطن دونوں ہی یکساں تاریک ہے!
Ayah 68:5اہل ایمان کے لیے بشارت اور مخالفوں کے لیے وعید:
یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی اور مخالفین کے لیے دھمکی ہے کہ اگر یہ تمہیں دیوانہ کہہ کر تمہاری باتوں کو بے وزن بنانا چاہتے ہیں تو کچھ دن صبر کرو۔ عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور یہ بھی دیکھ لیں گے کہ دونوں میں سے کس پارٹی کی باگ فتنہ میں پڑے ہوئے لیڈر کے ہاتھ میں ہے؟ اہل ایمان کی باگ، جن کی قیادت تم کر رہے یا قریش کی باگ جن کی قیادت ابولہب اور ابوجہل کر رہے ہیں؟ مطلب یہ ہے کہ اب فیصلہ کا وقت قریب ہے اور حقیقت کے ظاہر ہونے میں زیادہ دیر نہیں رہ گئی ہے۔ بہت جلد سب دیکھ لیں گے کہ کون لوگ شیطان کے فتنہ میں پڑے ہوئے تھے اور انھوں نے اپنی قوم کو تباہی کے کھڈ میں گرایا اور کون شیطان کے فتنوں سے امان میں رہا اور اس نے اپنے پیروؤں کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کی راہ دکھائی!
یہاں وہ حقیقت پیش نظر رکھیے جس کی بار بار یاددہانی کی جا چکی ہے کہ رسولوں کے باب میں سنت الٰہی یہ ہے کہ جب وہ آتے ہیں تو اسی دنیا میں اپنی جماعت اور اپنے مخالفوں کے انجام کا فیصلہ کر کے جاتے ہیں۔ آیت میں اہل ایمان کے لیے جو تسلی اور اہل کفر کے لیے جو وعید ہے وہ جس طرح آخرت سے متعلق ہے اسی طرح اس دنیا سے بھی متعلق ہے۔ سابق سورہ کے آخر میں جو فرمایا ہے کہ ’فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ ہُوَ فِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ‘ یہ اسی کا اعادہ دوسرے الفاظ میں ہے۔
Ayah 68:6’بِأَیْیِّکُمُ الْمَفْتُوْنُ‘ میں ’ب‘ بظاہر ’تُبْصِرُ‘ اور ’یُبْصِرُوْنَ‘ کے ساتھ بے جوڑ سی معلوم ہوتی ہے لیکن یہاں تضمین ہے یعنی ’یُبْصِرُوْنَ‘ متضمن ہے ’یَعْلَمُوْنَ‘ کے معنی پر۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ زمخشری کی رائے یہی ہے اور میرے نزدیک یہ رائے اصول عربیت کے مطابق ہے۔ ’بِأَیْیِّکُمُ‘ کے معنی ’بِاَیِّ الْحِزْبَیْنَ‘ کے ہیں۔
’مَفْتُوْنٌ‘ کے معنی ’مَجْنُوْنٌ‘ کے نہیں ہیں، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ ’مَفْتُوْنٌ‘ ہی کے ہیں۔ یعنی وہ شخص جو دنیا اور شیطان کے جال میں پھنسا ہوا ہو۔ یہاں ’مجنون‘ کے بجائے ’مفتون‘ کا لفظ استعمال کر کے قرآن نے یہ رہنمائی دی ہے کہ جو لوگ دنیا اور شیطان کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں اصلی مجنون وہی ہوتے ہیں اور جس پارٹی کی باگ ایسے مفتونوں کے ہاتھ میں ہو وہ بالآخر جہنم میں گر کے رہتی ہے۔
Ayah 68:7یہ اسی اوپر والے مضمون کی تائید و توثیق ہے کہ تمہارا رب نہ تو ان لوگوں سے بے خبر ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور نہ ان لوگوں سے ناواقف ہے جو ہدایت پر ہیں بلکہ وہ دونوں ہی سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کا وہ مستحق ہو گا۔ نہ یہ ہو سکتا ہے کہ جو ذلت کے مستحق ہیں وہ ہمیشہ عزت سے سرفراز رہیں اور نہ یہ ہو سکتا کہ جو سرفرازی کے حق دار ہیں وہ برابر ظالموں کے ظلم کے ہدف بنے رہیں۔ یہ دنیا اندھیر نگری نہیں ہے بلکہ یہ ایک عظیم و خبیر خالق کی پیدا کی ہوئی دنیا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کے لیے ایک روز انصاف آئے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے اس رب پر بھروسہ رکھو۔ وہ نیکوکاروں اور شریروں کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ نہیں کرے گا۔
Ayah 68:8یعنی جب اصل حقیقت یہ ہے جو بیان ہوئی تو عذاب اور قیامت کی تکذیب کرنے والوں کی باتوں کا دھیان نہ کرو اور ان کی ہفوات پر کان نہ دھرو۔ یہ لوگ اگر نچنت ہیں کہ نہ عذاب ہے نہ قیامت تو انھیں نچنت رہنے دو۔ اگر یہ مطمئن ہیں کہ قیامت ہوئی تو وہاں بھی ان کو وہی کچھ حاصل ہو گا جو یہاں حاصل ہے تو انھیں یہ خواب خوش دیکھ لینے دو۔ یہ دنیا ان کی خواہشوں کے محور پر نہیں گھوم رہی ہے کہ جو کچھ یہ چاہیں گے انھیں مل جائے گا بلکہ یہ ایک حکیم و عزیز کی پیدا کی ہوئی دنیا ہے اور یہ لازم ہے کہ ایک دن اس کی حکمت اور اس کا عدل اپنی کامل صورت میں ظاہر ہو۔
لفظ ’اِطَاعَۃٌ‘ یہاں کسی کی بات کا اثر لینے کے مفہوم میں ہے۔ اس مفہوم میں یہ لفظ کلام عرب میں بھی استعمال ہوا ہے اور قرآن میں بھی۔
Ayah 68:9مخالفین کی اصل پالیسی:
یہ ان مکذبین کی مخالفت کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا ہے کہ ان کی یہ ساری تگ و دو اس مقصد سے ہے کہ تم کچھ اپنے رویہ میں لچک پیدا کرو تو یہ بھی نرم پڑ جائیں۔ یعنی تمہاری باتوں کی صداقت میں انھیں شبہ نہیں ہے لیکن ان کو ماننا ان کی خواہشوں کے خلاف ہے اس وجہ سے انھوں نے یہ طوفان اٹھایا ہے کہ تم پر دباؤ ڈال کر تمہیں کچھ نرم کریں تاکہ تم کچھ باتیں ان کی مان لو اور وہ کچھ باتیں تمہاری مان لیں اور اس طرح ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کے اصول پر باہم سمجھوتہ ہو جائے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی یہ مخالفت اپنے دین جاہلی کے ساتھ کسی اخلاص پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ محض ایک قسم کی (BARGAINING) کی کوشش ہے۔ جب تک انھیں توقع ہے کہ وہ تمہیں دبانے میں کچھ کامیاب ہو جائیں گے ان کی یہ کوشش جاری رہے گی۔ جب یہ توقع ختم ہو جائے گی ان کا حوصلہ پست ہو جائے گا۔
زبان سے متعلق ایک سوال کا جواب: یہاں ایک سوال زبان سے متعلق پیدا ہوتا ہے کہ عربیت کے قاعدے سے تو یہاں ’وَدُّوْا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُوْا‘ ہونا تھا لیکن ہے ’فَیُدْہِنُوْنَ‘۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں اسلوب مختلف اختیار کیا گیا ہے۔ یہاں دراصل مبتدا محذوف کر دیا گیا ہے۔ یعنی اصل میں ’فَھُمْ یُدْہِنُوْنَ‘ ہے۔ مطلب یہ ہو گا کہ ان کی خواہش یہ ہے کہ جب تم کچھ نرم پڑ جاؤ گے تو وہ بھی اپنے رویہ میں نرمی پیدا کر لیں گے۔ اس اسلوب کی مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔
Ayah 68:10قریش کی پوری قیادت کی اخلاقی تصویر:
یہ اسی ’فَلَا تُطِعِ الْمُکَذِّبِیْنَ‘ پر عطف کر کے تاکید کے ساتھ پھر تنبیہ فرمائی کہ تم ہر لپاٹیے ذلیل کی باتوں پر کان نہ دھرو۔ یہ اشارہ کسی خاص شخص کی طرف نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ قریش کی پوری قیادت کی اخلاقی پستی کی تصویر آگے کی چند آیتوں میں کھینچ دی گئی ہے اور مقصود اس سے یہ دکھانا ہے کہ ایک طرف پیغمبر کا وہ بے مثال ’خلق عظیم‘ ہے جس کا آیت ۴ میں حوالہ ہے اور دوسری طرف قریش کے لیڈروں۔۔۔ ابولہب، ولید بن مغیرہ، ابوجہل، اخنس بن شریق۔۔۔ وغیرہ کا یہ کردار ہے جو بیان ہو رہا ہے۔ ان دونوں کو سامنے رکھ کر ہر منصف فیصلہ کر سکتا ہے کہ کون کس انجام سے دوچار ہونے والا ہے!
یہ بات کہ یہ کسی خاص شخص کا نہیں بلکہ قریش کی پوری قیادت کا کردار بیان ہو رہا ہے مختلف پہلوؤں سے واضح ہے۔
اول یہ کہ اس کا عطف ’فَلَا تُطِعِ الْمُکَذِّبِیْنَ‘ پر ہے اور مکذبین سے مراد ظاہر ہے کہ کوئی معین شخص نہیں بلکہ موقع و محل دلیل ہے کہ قریش کی پوری قیادت ہے۔
دوسرا یہ کہ لفظ ’کُلّ‘ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں زیربحث کسی معین شخص کا کردار نہیں بلکہ جماعت کا کردار ہے۔
تیسرا یہ کہ آگے ’اِنَّا بَلَوْنٰہُمْ‘ کے الفاظ آئے ہیں جس میں جمع کی ضمیر ’ہُمْ‘ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا مرجع کوئی فرد نہیں بلکہ جماعت ہے۔
چوتھا یہ کہ یہاں جو کردار بیان ہوا ہے وہ قریش کی پوری قیادت پر تو ٹھیک ٹھیک منطبق ہو جاتا ہے لیکن ہر بات کسی ایک معین شخص پر اگر منطبق کرنے کی کوشش کی جائے تو تکلف کرنا پڑے گا۔
اس اصولی بحث کو ذہن نشین کر لینے کے بعد اب الفاظ پر غور فرمائیے۔
’حَلَّافٌ‘ کے معنی بہت زیادہ قسم کھانے والے کے ہیں۔ لفظ ’حلف‘ جیسا کہ اس کے محل میں وضاحت ہو چکی ہے، اول تو اچھے معنی میں آتا نہیں پھر اس کے ساتھ ’مَّھِیْنٌ‘ کی صفت بھی لگی ہوئی ہے جس کے معنی ذلیل کے ہیں۔ ظاہر ہے کہ زیادہ قسم وہی شخص کھائے گا جس کو اپنی عزت نفس کا خیال نہیں ہو گا۔ جو لوگ کردار کے اعتبار سے پست یا مطعون ہوتے ہیں وہ ہمیشہ احساس کہتری کے سبب سے شک میں مبتلا رہتے ہیں کہ مخاطب ان کی بات اس وقت تک باور نہیں کرے گا جب تک وہ قسم کھا کے اطمینان نہیں دلائیں گے اس وجہ سے وہ بات بات پر قسم کھاتے ہیں۔ چنانچہ منافقین کے متعلق قرآن میں جگہ جگہ یہ بات بیان ہوئی ہے کہ وہ اپنے کردار پر پردہ ڈالے رکھنے کے لیے قسموں کا سہارا لیتے ہیں۔ قریش کے لیڈروں کے پاس نہ تو آنحضرت ﷺ کے کردار پر حرف رکھنے کی گنجائش تھی اور نہ اسلام کے خلاف کوئی مبنی بر دلیل بات کہنے کی۔ عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے واحد سہارا ان کے پاس یہی تھا کہ قسمیں کھا کھا کے لوگوں کو اطمینان دلائیں کہ العیاذ باللہ آپ شاعر، کاہن، مجنون اور مفتری ہیں۔
Ayah 68:11’ھَمَّازٌ‘ ’ھمز‘ سے مبالغہ ہے جس کے معنی اشارہ باز کے ہیں۔ اشارہ بازی اور پھبتی اس قسم کے لوگوں کا خاص شیوہ ہوتا ہے جو کسی کو دوسروں کی نگاہوں سے گرانے کے درپے ہوں۔ یہ اشارہ بازی حرکات اور چشم و ابرو سے بھی ہوتی ہے، الفاظ اور فقروں سے بھی۔ نبی ﷺ اور غریب مسلمانوں کو قریش کے مستکبرین جس قسم کے اشاروں اور فقروں کا ہدف بناتے تھے اس کی مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں اوران کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے۔ ’وَیْلٌ لِّکُلِّ ھُمَزَۃٍ لُّمَزَۃٍ‘ (اللھمزۃ ۱۰۴: ۱) میں اسی کردار کی طرف اشارہ ہے۔ مستکبرین کے پاس دلیل کی قوت نہیں ہوتی اس وجہ سے وہ اسی اوچھے ہتھیار سے حق کو شکست دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس قسم کے تیر تُکے حقیقت کی شمشیر بُرّاں کے مقابل میں کیا کام آ سکتے ہیں!
’مَّشَّآءٍم بِنَمِیْمٍ‘۔ ’نمیمۃ‘ اور ’نمیم‘ کے معنی چغلی اور لگانے بجھانے کے ہیں۔ یہ اشارہ ان مفسرین کے جوڑ توڑ کی خصلت کی طرف ہے کہ یہ رات دن جوڑ توڑ میں سرگرم رہتے ہیں اور اس کے ذریعے چغلی کو ذریعہ بناتے ہیں۔ جس کو بھی دوسرے سے کاٹنا اور اپنے سے ملانا چاہا تو اس کے لیے سب سے بڑا حربہ ان کے پاس یہی ہوتا ہے۔
اسی نسخہ سے وہ اسلام کی مخالفت کا کام بھی لے رہے تھے۔ ان کی رات دن یہی کوشش تھی کہ مختلف قسم کی بے بنیاد غلط فہمیاں مسلمانوں میں پھیلا کر ان کے درمیان پھوٹ ڈلوائیں تاکہ اسلام نے ان کے اندر جو اخوت و مودت پیدا کی ہے وہ مستحکم نہ ہونے پائے اور آنحضرت ﷺ سے لوگوں کے دلوں میں بدگمانی پیدا ہو۔
Ayah 68:12مناع، معتدی اور اثیم:
اوپر کی آیات سے واضح ہوا کہ ان کی قیادت کی پوری عمارت جھوٹ، دوسروں کی تحقیر و توہین اور چغلی و نمامی پر قائم ہے۔ اب یہ واضح فرمایا جا رہا ہے کہ یہ نیکی کے کٹر دشمن، اللہ کے حدود کو توڑنے والے، بندوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے اور ان کو دبا بیٹھنے والے ہیں۔
’مَنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ‘ یوں تو عام ہے کہ وہ ہر نیکی اور بھلائی کی راہ میں ایک بھاری پتھر ہیں لیکن یہاں خاص اشارہ ان کی بخالت کی طرف ہے کہ وہ غرباء و مساکین کی امداد میں نہ خود کوڑی خرچ کرنے کا حوصلہ رکھتے اور نہ دوسروں کو خرچ کرتے دیکھ سکتے بلکہ چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی انہی کی طرح مارگنج بنے بیٹھے رہیں تاکہ ان کی بخالت پر پردہ پڑا رہے۔ قرآن مجید میں مختلف اسلوبوں سے بخیلوں کے کردار کا یہ پہلو واضح فرمایا گیا ہے کہ وہ دوسروں کو بھی بخالت کی راہ سجھاتے ہیں تاکہ خود ان کی بخالت کا راز فاش نہ ہو۔
’مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ‘ یعنی صرف یہی نہیں کہ نہ خود خرچ کرتے نہ خرچ کرنے دیتے بلکہ وہ دوسروں کے حقوق پر تعدی کرنے والے بھی ہیں اور جو حقوق ان پر عائد ہوتے ہیں ان کو دبا بیٹھنے والے بھی۔ ان دونوں لفظوں کی تحقیق اس کے محل میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ ’اعتداء‘ میں دوسروں کے حقوق پر دست درازی کا مفہوم پایا جاتا ہے اور ’اِثم‘ میں حق تلفی کا۔
Ayah 68:13’عُتُلٍّ‘ کے معنی سخت دل اور بے مروت کے ہیں۔ جو شخص بخیل ہو گا وہ لازماً سنگ دل بھی ہو گا۔ یہ گویا اوپر کے بیان کردہ کردار کا باطنی پہلو ہے۔ انہی لوگوں کے باب میں ارشاد ہوا ہے:
’اَرَءَ یْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ‘ (الماعون ۱۰۷: ۱-۲)
(ذرا دیکھو تو اس کو جو جزاء کو جھٹلاتا ہے۔ وہی ہے جو یتیموں کو دھکے دیتا ہے)۔
’زنیم‘: ’بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ‘۔ ’زنیم‘ کی وضاحت اہل لغت نے یوں کی ہے:
’الملحق یقوم لیس منھم ولا یحتاجون الیہ‘
(وہ شخص جو کسی قوم کے نسب میں شریک بن بیٹھے درآنحالیکہ نہ وہ ان میں سے ہو اور نہ اہل قوم اس کی کوئی ضرورت محسوس کرتے ہوں)
یہ لفظ ’زنمۃ‘ سے نکلا ہے۔ ’زنمۃ‘ اس غدود کو کہتے ہیں جو بعض بکریوں کی گردن میں لٹک آتا ہے اور جس کی حیثیت جسم میں ایک بالکل فالتو عضو کی ہوتی ہے۔ روایات میں اخنس بن شریق کے متعلق آیا ہے کہ اصلاً وہ ثقیف میں سے تھا لیکن مدعی تھا کہ وہ زہرہ میں سے ہے۔ اسی طرح ولید بن مغیرہ کے متعلق بھی مشہور ہے کہ وہ قریشی ہونے کا مدعی تھا حالانکہ وہ قریش میں سے نہ تھا۔ جو لوگ اپنے نسب کو حقیر سمجھ کر دوسروں کے نسب میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں وہ شیخی باز قسم کے ہوتے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کا زیادہ اعتماد تملق، چاپلوسی اور قومی حمیت و حمایت کی جھوٹی نمائش پر ہوتا ہے تاکہ قوم کے اندر ان کا بھرم قائم رہے۔ چنانچہ اس طرح کے کھوٹے قرشی آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں خاص طور پر پیش پیش تھے۔ وہ اپنی قوم پرستی کا مظاہرہ کرنے کے لیے آنحضرت ﷺ کے خلاف لوگوں کو اکساتے کہ آپ کی دعوت سے قریش کی وحدت و جمعیت میں انتشار پیدا ہو رہا ہے۔ انہی شیخی بازوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن نے فرمایا کہ اور رذالتیں ان کے اندر جو تھیں وہ تو تھیں ہی مزید برآں یہ بھی ہے کہ ان میں کچھ طفیلی بھی ہیں جو اہل قوم سے بھی زیادہ قوم کے وفادار ہونے کے مدعی اور اس کی جاہلی روایات کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔ یعنی یہ کڑوے کریلے تو تھے ہی ستم بالائے ستم یہ ہوا ہے کہ یہ نیم چڑھے بھی ہیں۔ قرآن نے یہ ضرب اس کردار پر لگائی ہے جو اس قسم کے لوگوں کے اندر لازماً پیدا ہو جاتا ہے جو احساس کہتری کے مریض اور خود اعتمادی سے محروم ہوتے ہیں۔
Ayah 68:14فاسد کردار کا سبب:
یہ سبب بیان ہوا ہے اس بات کا کہ ان کے اندر یہ کردار کیوں پیدا ہوا۔ فرمایا کہ اس وجہ سے پیدا ہوا کہ یہ مال و اولاد والے ہوئے۔ یہ فقرہ نہایت بلیغ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ نے ان کو مال و اولاد والا بنایا تو ہونا تو یہ تھا کہ یہ اپنے رب کے شکرگزار، فرماں برداراور اس کے نازل کیے ہوئے حق کے علم بردار بن کر اٹھتے لیکن یہ اس کے برعکس بالکل ناشکرے اور ناہنجار بن کر اٹھے۔ قرآن میں یہ حقیقت جگہ جگہ مختلف اسلوبوں سے واضح فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں جن کو اپی نعمتوں سے بہرہ مند فرماتا ہے وہ ان کا امتحان کرتا ہے کہ دیکھے اس کی نعمتیں پا کر وہ اس کے شکرگزار بنتے ہیں یا غرور میں مبتلا ہو کر شیطان کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ اسی امتحان میں اللہ نے ان لوگوں کو ڈالا لیکن یہ بالکل فیل ہو کر رہ گئے اور اللہ کی نعمت ان کے لیے نقمت کا سبب بن گئی۔
Ayah 68:15غرور و استکبار کی تصویر:
یہ اس غرور و استکبار کی تصویر ہے جس میں یہ لوگ مبتلا ہوئے۔ فرمایا کہ جب ان قوموں کی سرگزشتیں سنائی جاتی ہیں جو انہی کی طرح غرور و استکبار میں مبتلا ہوئیں اور اس کے نتیجہ میں تباہ کر دی گئیں تو ان سے سبق لینے کے بجائے ان کا مذاق اڑاتے ہیں کہ یہ تو پچھلی قوموں کے فسانے ہیں، ان کو حاضر سے کیا تعلق! مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے قصے سنانے والوں کو نہ ہم نبی ماننے کے لیے تیار ہیں اور نہ ان افسانوں سے ہم مرعوب ہی ہونے والے ہیں۔ اس امر کو کسی کی تصدیق یا تکذیب سے کیا تعلق!
Ayah 68:16استکبار کی سزا:
یہ ان مستکبرین کے غرور و استکبار کی سزا بیان ہوئی ہے جو آخرت میں ان کو ملنے والی ہے۔ فرمایا کہ جلد وہ وقت آ رہا ہے جب ہم ان کے ناکڑے پر داغ لگائیں گے۔ ’خرطوم‘ اصل میں سونڈ کو کہتے ہیں۔ یہاں یہ مستکبرین کی ناکوں کے لیے بطریق استعارہ استعمال ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ آنحضرت ﷺ کی مخالفت درحقیقت اپنی ناک ہی اونچی رکھنے کے لیے کر رہے تھے۔ اگر کسی کے اندر ناک اونچی رکھنے کا ایسا جنون پیدا ہو جائے کہ وہ اس کی خاطر بڑے سے بڑے اور واضح سے واضح حق کو بھی جھٹلانے پر کمربستہ ہو جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی ناک صرف ناک نہیں ہے بلکہ اس نے اس کو بڑھا کر اور پھلا کر سونڈ بنا لیا ہے۔ فرمایا کہ اگر انھوں نے اپنی ناک کو ناکڑا بنا لیا ہے تو بنا لیں، ہم عنقریب ان کے ناکڑے پر ذلت کا داغ لگائیں گے جو سب دیکھیں گے۔ یہ استکبار اور اس کی سزا کی بہترین تعبیر ہے جس کی بلاغت احاطۂ بیان میں نہیں آ سکتی۔
Ayah 68:17قریش کے لیڈروں کے لیے ایک تمثیل:
اوپر قریش کے قائدین کا جو کردار بیان ہوا ہے اس کا کھوکھلا بن واضح کرنے کے لیے یہ ان کے سامنے ایک تمثیل بیان فرمائی ہے جس میں ان کو یہ دکھایا ہے کہ اپنے جس اقتدار پر ان کو یہ ناز و اعتماد ہے کہ پیغمبر ﷺ کے انذار کا مذاق اڑا رہے ہیں اس کی بنیاد بالکل ریت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا چشم زدن میں اس کو خاک میں ملا دے گا۔ اس وقت وہ اپنی بدبختی پر سر پیٹیں گے اور توبہ و استغفار بھی کریں گے لیکن ان کا سارا نالہ و شیون بالکل بے سود ہو گا۔
’بَلَوْنَاہُمْ‘ میں ضمیر ’ہُمْ‘ کا مرجع ظاہر ہے کہ وہی لوگ ہوں گے جن کا کردار اوپر زیر بحث آیا ہے۔ یہ اس بات کا، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، نہایت واضح قرینہ ہے کہ یہ کردار کسی معین شخص کا نہیں بلکہ قریش کی پوری قیادت کا ہے۔ اگر کسی ایک شخص کا کردار بیان ہوا ہوتا تو ضمیر جمع کی جگہ واحد کی آتی۔
اسی طرح یہاں زبان کا ایک دوسرا نکتہ بھی قابل لحاظ ہے۔ وہ یہ کہ ’اَصْحَابَ الْجَنَّۃِ‘ میں لفظ ’اَلْجَنَّۃِ‘ پر الف لام داخل ہے جس سے گمان ہوتا ہے کہ یہ کسی خاص باغ والوں کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ تمثیلات میں لام تعریف یا ’اَلَّذِیْ‘ اور ’اَلَّتِیْ‘ وغیرہ جو آتے ہیں تو اس سے مقصود، جیسا کہ ہم ایک سے زیادہ مواقع میں وضاحت کر چکے ہیں، یہ نہیں ہوتا کہ کوئی معین ذات مدنظر ہے بلکہ اس سے مقصود صرف صورت حال کو مشخص و مصور کرنا ہوتا ہے تاکہ قاری کے سامنے واقعے کی پوری تصویر آ جائے۔ اس وجہ سے یہاں یمن یا صنعاء کے کسی خاص باغ کے مالکوں کے واقعہ کی جستجو کی زحمت اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے، جیسا کہ ہمارے مفسرین نے اٹھائی ہے، بلکہ یہ ایک خاکہ ہے جس میں قریش کے لیڈروں کے ذہن اور ان کے انجام کی تصویر اس طرح کھینچ دی گئی ہے کہ اس کا کوئی گوشہ مخفی نہیں رہ گیا۔
’اِذْ أَقْسَمُوۡا لَیَصْرِمُنَّہَا مُصْبِحِیْنَ‘۔ یہ اس اعتماد کی طرف اشارہ ہے جو باغ والوں کو اپنی کامیابی پر تھا۔ وہ نہایت مطمئن اور پر امید تھے کہ ان کا باغ موسموں کے تمام تغیرات سے گزر کر اب اس مرحلہ میں داخل ہو گیا جس میں اس پر کسی آفت کا کوئی اندیشہ نہیں رہا۔ ان کے خیال میں بس اتنا کام باقی رہ گیا تھا کہ کل صبح وہ جائیں اور پھل توڑ کر اپنے گھروں کو لائیں۔ چنانچہ انھوں نے قسم کھا کر یہ ارادہ کیا کہ صبح ہم اس کے پھل ضرور ہی توڑ لیں گے۔
Ayah 68:18ایک عام غلط فہمی:
عام طور پر لوگوں نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ قسم کھاتے ہوئے انھوں نے ’اِنْ شَآءَ اللّٰہ‘ نہیں کہا۔ ان کو اپنی کامیابی اتنی متیقّن نظر آئی کہ یہ وہم بھی نہ گزرا کہ اس میں کوئی رخنہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ اس مطلب پر اگرچہ تمام مفسرین کا اتفاق ہے لیکن میرا دل اس پر نہیں جمتا۔ لفظ ’اِسْتِثْنَاءٌ‘ کے اندر اگرچہ اس مفہوم کی گنجائش ہے لیکن جس اسلوب میں یہاں بات فرمائی گئی ہے وہ اس کے لیے کچھ موزوں نہیں ہے۔ اگر یہ بات کہنی تھی تو ’وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ‘ کی جگہ ’وَلَمْ یَسْتَثْنُوْا‘ یا اس سے ملتا جلتا کوئی اور اسلوب ہونا تھا۔ خود لفظ ’اِسْتِثْنَاءٌ‘ بھی ’اِنْ شَآءَ اللّٰہ‘ کہنے کے مفہوم کے لیے کوئی واضح لفظ نہیں ہے۔ اس کا یہ مطلب جہاں بھی لیا جائے گا قرینہ ہی کی مدد سے لیا جائے گا۔ اور یہاں اس کا قرینہ ایسا واضح نہیں ہے کہ اس پر ذہن پوری طرح مطمئن ہو سکے۔
میرے نزدیک یہاں ’وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ‘ اپنے اصل لغوی مفہوم ہی میں ہے یعنی انھوں نے قسم کھائی کہ کل ہم اپنے باغ کے پھل ضرور ہی توڑ لیں گے اور اس میں سے کچھ بھی چھوڑیں گے نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کا طریقہ نہیں اختیار کریں گے جو باغ کے پھل توڑتے ہیں تو کچھ غریبوں مسکینوں کے نام پر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ باغوں سے متعلق دین دار اور فیاض لوگوں کے اندر یہ طریقہ قدیم زمانہ سے معروف چلا آ رہا ہے کہ جب باغ کے پھل توڑتے تو کچھ حصہ مسکینوں کے حق کے طور پر چھوڑ دیتے۔ انجیلوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی یہ تعلیم مذکور ہے کہ ’جب تو اپنے باغ کے پھل توڑے تو کُل نہ توڑے بلکہ اس کا کچھ حصہ غریبوں اور مسکینوں کے لیے بھی چھوڑ۔‘ اسی معروف طریقہ کو پیش نظر رکھ کر ان لئیموں نے قسم کھائی کہ ہم ایسا ہرگز کرنے والے نہیں ہیں۔ ان کو اپنی اسی بات کو مؤکد کرنے کے لیے قسم کھانے کی ضرورت پڑی ورنہ جملہ میں قسم کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
اس تمثیل میں چونکہ قریش کے ان لیڈروں کا کردار نمایاں کیا جا رہا ہے جن کو اوپر ’مَنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ‘، ’عُتُلٍّ‘ اور ’اَثِیْمٍ‘ کہا گیا ہے اس وجہ سے باغ والوں کی مذکورہ بالا قَسم کا خاص طور پر حوالہ دیا گیا تاکہ دونوں کے کردار کی مشابہت پوری طرح واضح ہو جائے۔ قرآن میں ابولہب اور اس کے ہم مشربوں کی بخالت کی جو تصویر جگہ جگہ کھینچی گئی ہے اس کو بھی یہاں ذہن میں تازہ کر لیجیے۔
Ayahs 68:19–20یعنی مذکورہ فیصلہ بڑے عزم و جزم اور بڑی تاکید و قسم کے ساتھ کر کے وہ رات میں سوئے لیکن ابھی سوئے ہی پڑے تھے کہ ان کے باغ پر کوئی خدائی گردش ایسی آئی جس نے باغ کا ستھراؤ کر دیا اور وہ بالکل کٹی ہوئی فصل کے مانند ہو کر رہ گیا۔ ’طَائِفٌ مِّنۡ رَّبِّکَ‘ میں گردش کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف دو حقیقتوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ ایک اس حقیقت کی طرف کہ یہ بالکل بے سان و گمان نمودار ہوئی، دوسری اس کی بے پناہی کی طرف کہ اس نے چشم زدن میں وہ کرشمہ کر دکھایا کہ ہرا بھرا باغ بے نشان ہو کر رہ گیا۔
’مِّنۡ رَّبِّکَ‘ میں خطاب آنحضرت ﷺ سے تسلی کے لیے ہے۔ ابتدائی آیات میں حضور ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ آج تم ان کو عذاب الٰہی سے ڈراتے ہو تو وہ اپنے ظاہری حالات کو بالکل ہموار و سازگار دیکھ کر تمہیں دیوانہ کہتے ہیں۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی ہے کہ بھلا ان پر عذاب کدھر سے آ جائے گا؟ اس تمثیل میں دکھا دیا کہ تیرے رب کا عذاب جب آتا ہے تو یوں آتا ہے کہ منصوبہ بندی کرنے والے سارے منصوبے، عہد و قسم کے ساتھ بنا کے سوتے ہیں لیکن جب صبح کو اٹھتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ع
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا
Ayahs 68:21–22یہ لوگ ساری اسکیم بنا کے رات میں سوئے اور صبح اٹھتے ہی تمام شرکاء نے ہانک پکار مچائی کہ پھل توڑنے اور فصل اٹھانی ہے تو سویرے سویرے اپنے کھیتوں پر پہنچو۔ ’حَرْثٌ‘ اگرچہ کھیتی کے معنی میں آتا ہے لیکن اس سے مراد وہ باغ ہی ہے جس کا ذکر اوپر سے آ رہا ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم اس کے محل میں واضح کر چکے ہیں، یہ ہے کہ عرب میں باغوں ہی کے اندر مختلف چیزوں کی کاشت کے لیے قطعات بھی ہوتے تھے اس وجہ سے ان کو باغ (جنت) بھی کہہ سکتے تھے اور کھیتی (حرث) بھی۔
’اِنْ کُنْتُمْ صَارِمِیْنَ‘ کے الفاظ شرکاء کو للکارنے اور آمادہ کرنے کے لیے ہیں۔ یعنی یہ کام کرنا ہے تو وقت ضائع نہ کرو۔ فوراً چلو ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔
Ayahs 68:23–24یعنی گھر سے نکلے تو چپکے چپکے ایک دوسرے کو ہوشیار کرتے ہوئے نکلے کہ خیال رکھنا، آج کے دن کوئی فقیر نہ باغ میں گھسنے پائے۔ یہ ان کی اسی خست کی تعبیر دوسرے الفاظ میں ہے جو اوپر ’وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ‘ کے الفاظ سے بیان ہوئی ہے۔
Ayah 68:25لفظ ’حَرْدٌ‘ کے اندر تیز گامی، جوش، امنگ اور نشاط کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ غریبوں اور مسکینوں کے تعاقب سے بچنے کا پورا سامان کر کے وہ بڑے حوصلہ اور پورے اعتماد کے ساتھ باغ کی طرف چلے۔ ’قَادِرِیْنَ‘ یعنی ان کے دل اعتماد و حوصلہ سے معمور تھے کہ اب کیا اندیشہ ہے، باغ اپنا ہے اور پھل تیار ہے، اب ہمارے ارمانوں میں کون خلل انداز ہو سکتا ہے! غریبوں، مسکینوں کے ٹوٹ پڑنے کا اندیشہ تھا سو اس کا بھی سدباب کر لیا ہے۔
Ayahs 68:26–27یعنی جب باغ پر نظر پڑی تو گردش آسمانی نے اس کا حلیہ اس طرح بگاڑ دیا تھا کہ پہلے وہلہ میں اس کو پہچان نہ سکے۔ خیال ہوا کہ شاید اندھیرے میں کسی اور سمت میں نکل آئے۔ بولے کہ ارے! ہم تو راستہ بھول گئے۔ لیکن پھر اصل حقیقت سامنے آئی کہ راستہ نہیں بھولے ہیں بلکہ باغ ہی اجڑ گیا ہے تب نہایت حسرت کے ساتھ بولے کہ یہ تو ہم بالکل ہی محروم ہو کے رہ گئے! ہم کن ارمانوں اور حوصلوں کے ساتھ گھر سے نکلے لیکن یہاں تو خاک نہیں!
Ayah 68:28’اَوْسَطُہُمْ‘ سے مراد ان کے اندر کا سب سے زیادہ میانہ رو اور معقول آدمی۔ برے سے برے معاشرے کے اندر بھی بعض سعید روحیں ہوتی ہیں جو لوگوں کو ان کی بے راہ روی پر ٹوکتی رہتی ہیں خواہ غفلت کے متوالے سنیں یا نہ سنیں۔ اسی طرح کا کوئی اللہ کا بندہ ان کے اندر بھی تھا جو وقتاً وفوقتاً ان کو یاددہانی کرتا رہتا تھا کہ اپنے رب سے غافل نہ رہو بلکہ اس کی تسبیح کرتے رہو۔ لفظ ’تَسْبِیْح‘ ایک جامع کلمہ ہے جو اللہ کی یاد اور اس کی بندگی کے پورے مفہوم پر حاوی ہے۔ پہلے تو اس کا وعظ ان سرمستوں پر کارگر نہ ہوا لیکن جب ان کی غفلت کا انجام ان کے سامنے آ گیا تب ان کو اندازہ ہوا کہ خدا بھی کوئی چیز ہے اور یہ اللہ کا بندہ غلط نہیں کہتا تھا!
Ayah 68:29فوراً بولے کہ لاریب ہمارا رب پاک ہے، یہ اس نے ہمارے اوپر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ ہم ہی اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے بنے کہ اپنی کامیابیوں کے نشہ میں اس کی شانوں کو بھول گئے اور اگر کسی نے ہمیں یاد دلانے کی کوشش کی تو سنی ان سنی کر دی۔۔۔ یہ اسی طرح کا اعتراف ہے جس طرح کا اعتراف فرعون نے اس وقت کیا جب وہ اپنی فوجوں سمیت موجوں کی لپیٹ میں آ گیا۔ اس طرح کی توبہ بعد ازوقت ہونے کے سبب سے بالکل بے سود ہوتی ہے۔
Ayahs 68:30–31جب انجام سامنے آ گیا تو سب ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ کسی نے کسی پر الزام لگایا کہ اس نے صحیح راہ اختیار کرنے نہ دی، کسی نے دوسرے کو مجرم ٹھہرایا کہ اس نے ناصح کی بات سننے نہ دی۔ جو لوگ اپنی عقل سے کام نہیں لیتے وہ اپنی بے عقلی کا انجام دیکھ لینے کے بعد اسی طرح ایک دوسرے کو مطعون کرتے ہیں حالانکہ مجرم سب ہی ہوتے ہیں۔ بس یہ فرق ہوتا ہے کہ کچھ فساد کی راہ کھولتے ہیں اور کچھ آنکھ بند کر کے ان کی پیروی کرتے ہیں۔ بالآخر ان سب کو اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ جرم میں شریک سب ہی ہیں۔
Ayah 68:32یعنی ایک دوسرے پر لعن طعن اور اپنی نالائقی کا اعتراف کرنے کے بعد انھوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ اب ہم اپنے رب کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ وہ اس باغ کی جگہ اس سے بہتر باغ ہمیں عطا فرمائے گا۔
یہاں قرآن نے ان کی اس توقع پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن سنت الٰہی یہ ہے کہ وقت گزر جانے کے بعد جو لوگ توبہ کرتے ہیں ان کی توبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں درخور اعتناء نہیں ٹھہرتی۔
جس مقصد سے قریش کو یہ تمثیل سنائی گئی ہے بعینہٖ اسی مقصد سے اسی طرح کی ایک تمثیل سورۂ کہف آیات ۳۲-۴۳ میں سنائی گئی ہے۔ بہتر ہو گا کہ اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ اس سے اس کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔
Ayah 68:33تمثیل کے بعد قریش کو تنبیہ:
تمثیل سنانے کے بعد یہ قریش کو تنبیہ ہے کہ اللہ کا رسول ان کو جس عذاب سے ڈرا رہا ہے وہ اسی طرح ان پر آ دھمکے گا۔ آج وہ اپنے عیش میں مگن اور خدا کی پکڑ سے بالکل نچنت ہیں۔ رسولؐ ان کو خطرہ سے آگاہ کر رہا ہے تو اس کو خبطی کہتے ہیں۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی ہے کہ ان پر عذاب کدھر سے آ جائے گا۔ وہ ادھر سے آئے گا جدھر سے اس کے آنے کا گمان بھی نہ ہو گا اور اس وقت ان کا وہی حال ہو گا جو باغ والوں کا ہوا لیکن اس وقت ان کا نالہ و شیون بالکل بے سود ہو گا۔
’کَذٰلِکَ الْعَذَابُ‘ میں ’عَذَاب‘ سے اس عذاب کی طرف اشارہ ہے جو سنت الٰہی کے مطابق کسی قوم پر اس وقت آیا ہے جب اس نے اپنے رسول کی تکذیب کر دی اور رسول اپنا فرض بلاغ ادا کر چکا ہے۔ یہ عذاب، جیسا کہ ہم جگہ جگہ وضاحت کر چکے ہیں اس قوم کا فیصلہ کر دیتا ہے۔ اس کے بعد اس کو عذاب آخرت سے سابقہ پیش آئے گا جو اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہوگا۔ اللہ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو ان دونوں ہی عذابوں سے ڈرایا ہے۔
’لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ‘ اظہار حسرت و افسوس کا جملہ ہے کہ عقل کے ان اندھوں کو آخرت بہت بعید از قیاس چیز معلوم ہوتی ہے حالانکہ وہ ایک حقیقت اور اس کا عذاب بڑا ہی ہولناک ہے۔ بشرطیکہ یہ جانیں اور سمجھیں۔
Ayah 68:34نیکو کاروں کا انجام:
مستکبرین کا انجام بیان کر چکنے کے بعد یہ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کا انعام بیان ہو رہا ہے۔ فرمایا کہ جن لوگوں نے اس دنیا میں آخرت کے حساب کتاب سے ڈرتے ہوئے زندگی گزاری ان کے لیے ان کے رب کے پاس نعمت کے باغ ہیں۔ یہ ’مُتَّقِیْن‘ کا ذکر ان مستکبرین کے مقابل میں ہوا ہے جو اپنی دنیوی کامیابیوں کے نشہ میں خدا کی پکڑ اور آخرت کے عذاب سے بالکل نچنت تھے۔ اس تقابل سے اس لفظ کے اصل مفہوم پر روشنی پڑتی ہے کہ متقی وہ لوگ ہیں جو اس دنیا کی ظاہر فریبیوں میں گم نہیں ہوئے ہیں بلکہ اس کے پس پردہ جو حقیقت ہے اس پر بھی ان کی نظر ہے۔
Ayah 68:35نیک اور بد میں امتیاز عدل الٰہی کا لازمی تقاضا ہے:
یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں خدا سے ڈرنے والوں کے لیے نعمت کے باغ ہوں گے۔ فرمایا کہ ایسا ہونا خدا کے عدل اور اس کی رحمت کا لازمی تقاضا ہے۔ ایسا نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس دنیا کے خالق کے نزدیک نیکو کار اور بدکار، وفادار اور غدار، بے ایمان اور ایمان دار دونوں یکساں ہیں۔ یہ بات بالبداہت اللہ تعالیٰ کی اعلیٰ صفات کے منافی ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کی نظر میں نیک اور بد دونوں برابر ہوں۔
Ayah 68:36جزا اور سزا کا انکار انسان کی فطرت اور عقل کے خلاف ہے:
یہ ان مستکبرین سے بانداز تعجب سوال ہے کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے، تمہاری عقل کہاں کھوئی گئی ہے کہ تم اس قسم کے فیصلے کرنے لگے ہو! مطلب یہ ہے کہ اگر تم آخرت اور جزا و سزا نہیں مانتے، تمہارے نزدیک زندگی بس اسی دنیا کی زندگی ہے، یہ یونہی چلتی رہے گی یا یونہی ایک دن تمام ہو جائے گی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تم اس کے خالق کو عدل اور رحم کی صفات سے عاری سمجھتے ہو جس کو اس امر سے کوئی بحث نہیں کہ کس نے نیکی کی زندگی گزاری اور کس نے بدی کی۔ اگر تمہارا فیصلہ یہ ہے تو سوچو کہ یہ فیصلہ عقل اور فطرت سے کتنا بعید ہے! یہ کتنی بڑی تہمت ہے جو اس کائنات کے خالق پر، جس کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور رحمت کی شہادت اس کائنات کے گوشے گوشے سے مل رہی ہے، تم لگا رہے ہو!
قرآن کے اس انداز سوال سے یہ بات صاف نمایاں ہے کہ انسان کی عام عقل اور اس کی عام فطرت اس فیصلہ کو قبول کرنے سے ابا کرتی ہے۔ اگر کچھ لوگ یہ فیصلہ کرتے ہیں تو یہ چیز دو شکلوں سے خالی نہیں۔ یا تو وہ محض اپنی خواہشوں سے بے بس ہو کر اپنی عقل کی آنکھوں میں دھول جھونکتے اور اپنی فطرت کو جھٹلاتے ہیں یا یہ کہ انھوں نے اپنی یہ دونوں صلاحیتیں بالکل برباد کر لی ہیں۔
Ayahs 68:37–38مستکبرین کے ایک مغالطہ پر ضرب:
یہ قریش کے ان مستکبرین کی ایک اور آرزوئے باطل پر ضرب لگائی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ آخرت واخرت اول تو کوئی چیز ہے نہیں اور ہے تو ہمیں جو کچھ یہاں حاصل ہے اس سے بہتر وہاں حاصل ہو گا۔ ان کے اس مغالطہ کی بنیاد اس واہمہ پر تھی کہ اگر وہ خدا کے منظور نظر نہ ہوتے تو یہ عزت و سیادت انھیں اس دنیا میں کس طرح حاصل ہوتی! تو جب خدا کے منظور نظر ہوئے تو جو کچھ انھیں یہاں حاصل ہے اس سے بڑھ کر وہاں حاصل ہو گا۔ فرمایا کہ تم کو اس مغالطہ میں کس چیز نے ڈالا؟ کیا تمہارے پاس خدا کا اتارا ہوا کوئی صحیفہ ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ تمہاری ساری آرزوئیں پوری ہوں گی؟ مطلب یہ ہے کہ جس کی آرزوئیں تم نے اپنے دلوں میں پال رکھی ہیں عقل و فطرت کے اندر تو ان کی کوئی بنیاد ہے نہیں، ہاں اگر کوئی آسمانی صحیفہ تمہارے پاس ہے جس میں یہ باتیں لکھی ہوئی ہیں تو اس کو پیش کرو۔
Ayah 68:39فرمایا کہ کیا خدا نے تم سے قیامت تک کے لیے عہد کر رکھا ہے کہ جو تم چاہو گے تمہارے ساتھ وہی معاملہ ہو گا؟ ظاہر ہے کہ اس قسم کے کسی عہد کی نشان دہی تم نہیں کر سکتے تو آخر وہ کیا چیز ہے جس کے بل پر تمہیں ناز ہے کہ نہ دنیا میں تمہیں کوئی ہلا سکتا اور نہ آخرت میں تم پر کوئی مسؤلیت ہے!
یہ امر یہاں واضح رہے کہ قوموں سے اللہ تعالیٰ نے آخرت کی فوز و فلاح کے جو وعدے فرمائے ہیں وہ ایمان اور عمل صالح اور اس عہد کی پابندی کے ساتھ مشروط ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے واسطہ سے لوگوں سے لیے ہیں۔ کسی قوم سے بھی اس نے کوئی ایسا عہد نہیں کیا ہے جو بالکل غیر مشروط طور پر قیامت تک کے لیے ہو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت کی دونوں شاخوں سے اللہ تعالیٰ نے امامت و پیشوائی کا جو عہد کیا وہ تورات میں بھی مذکور ہوا ہے اور قرآن میں بھی۔ اس میں بالکل واضح طور پر تشریح ہے کہ یہ عہد ان لوگوں سے متعلق نہیں ہے جو خدا کے عہد کو توڑ کر اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بن جائیں گے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے امتحان میں کامیاب ہونے کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قوموں کی امامت پر سرفراز فرمانے کی بشارت دی کہ
’اِنِّیْ جَائِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَامًا‘ (البقرہ ۲: ۱۲۴)
(میں تم کو لوگوں کا ایک عظیم امام بنانے والا ہوں)
تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سوال کیا کہ
’وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ‘
(کیا یہ وعدہ میری ذریت سے متعلق بھی ہے؟)
اللہ تعالیٰ نے اس کا فوراً جواب دیا کہ
’لَا یَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ‘
(میرا یہ عہد ان لوگوں کو شامل نہیں ہے جو تمہاری ذریت میں سے میرے عہد کو توڑ کر اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بن جائیں گے)
اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ظاہر ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل سے متعلق ہے اسی طرح بنی اسماعیل سے بھی متعلق ہے۔ لیکن قریش نے بھی اولاد ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) ہونے کے زعم میں عند اللہ ہر مسؤلیت سے اپنے کو بری سمجھ لیا اور بنی اسرائیل نے بھی ’نَحْنُ أَبْنآؤُا اللّٰہِ وَاَحِبَّاؤُہٗ‘ (المائدہ ۵: ۱۸) کے غرور میں مبتلا ہو کر یہ گمان کر لیا کہ وہ آخرت کی ہر مسؤلیت سے بالاتر ہیں۔