67. Surah Al-Mulk
الملكThe Sovereignty · 30 ayahsتدبرِ قرآن
تعارف
تعارف
تدبر قرآن۔۔۔۔۔ ٦٧۔۔۔ الملک۔۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔ ا۔ سورتوں کے ساتویں گروپ پر ایک اجمالی نظر سورة ملک سے سورتوں کا ساتواں یعنی آخری گروپ شروع ہو رہا ہے۔ اس گروپ میں بھی سورتوں کی ترتیب اسی طرح ہے جس طرح پچھلے گروپوں میں آپ نے دیکھی پہلے مکی سورتیں ہیں آخر میں چند سورتیں مدنی ہیں اور یہ مدنی سورتیں مکی سورتوں کے ساتھ اسی طرح مربوط ہیں جس طرح فرع اپنی اصل سے مربوط ہوتی ہے۔ اس گروپ کی چند سورتوں کے مکی یا مدنی ہونے کے بارے میں اختلاف ہے اس وجہ سے یہاں یہ بتانا مشکل ہے کہ کہاں سے کہاں تک اس کی سورتیں مکی ہیں اور کہاں سے کہاں تک مدنی۔ جب تمام مختلف فیہ سورتوں پر بحث ہو کر بات منفح ہوجائے گی تب ہی یہ قطعی فیصلہ ہو سکے گا کہ کتنی مکی ہیں اور کتنی مدنی تاہم میری اجمالی رائے یہ ہے کہ سورة ملک سے سورة کافرون تک ٤٣ سورتیں مکی ہیں اور سورة نصر سے سورة ناس تک پانچ سورتیں مدنی۔ اس گروپ میں بھی دوسرے گروپوں کی طرح قرآنی دعوت کے تمام اساسات توحید، رسالت اور معاد زیر بحث آئی ہیں اور عورت کے تمام مراحل کی جھلک بھی اس میں موجود ہے۔ لیکن اس پورے گروپ کا اصل مضمون انداز ہے۔ اس کی بیشتر سورتیں مکی زندگی کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتی ہیں اور ان میں انداز کا انداز وہی ہے جس انداز میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوہ صفا پر چڑھ کر انداز فرمایا تھا۔ اس انداز کے تقاضے سے اس میں قیامت اور احوال قیامت کی بھی پوری تصویر ہے اور اس عذاب کو بھی گویا قریش کی نگاہوں کے سامنے کھڑا کردیا گیا ہے جو رسول کی تکذیب کردینے والوں پر لازماً آیا کرتا ہے۔ استدلال میں بیشتر آفاق کے مشاہدات، تاریخ کے مسلمات اور انفس کی بنیات سے کام لیا گیا ہے اور کلام کے زور کا بالکل وہی حال ہے جس کی تصویر مولانا حالی (رح) نے اپنے اس شعر میں کھینچی ہے۔ ع وہ بجلی کا کڑکا نھا یا صورت ہادی عرب کی زمین جس نے ساری ہلا دی ان سورتوں نے سارے عرب میں ایسی ہلچل برپا کردی کہ ایک شخص بھی قرآن کی دعوت کے معاملے میں غیر جانبدار نہیں رہ گیا بلکہ وہ یا تو اس کا جانی دشمن بن کر اٹھ کھڑا ہوا یا سچا فدائی اور ان دونوں کی کشمکش کا نتیجہ بالآخر اس غلبہ حق کی شکل میں نمودار ہوا جس کا ذکر ہر گروپ کی آخری سورتوں میں ہوا ہے اور اس کے آخر میں بھی آئے گا۔ ساتویں گروپ کی تفسیر کا آغاز کرتے ہوئے میں سورة حجر کی آیت ٨٧ (ولقد اتینک سبعا من المثانی والقرآن العظیم) کا پھر حوالہ دیتا ہوں جس کا ذکر میں نے مقدمہ کتاب میں، ساتوں گروپوں کے تعارف کے بعد، اس حقیقت کی طرف توجہ دلانے کے لیے کیا ہے کہ یہ تقسیم ازروئے قرآن منصوص ہے۔ پھر سورة حجر کی تفسیر میں آیت کی وضاحت کرتے ہوئے مندرجہ ذیل باتیں میں نے دلائل کے ساتھ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک یہ کہ قرآن نے کسی خاص سورة کی سبع مثانی نہیں کہا ہے بلکہ ( کتابا متشابھا مثالی) کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ پورا قرآن سبع مثالی ہے۔ دوسری یہ کہ مثانی کسی بار بار دہرائی ہوئی چیز کو نہیں بلکہ اس چیز کو کہتے ہیں جو جوڑا جوڑا ہو۔ تیسری یہ کہ قرآن کی سورتوں کی ترتیب سے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ یہ سات گروپوں میں تقسیم ہیں اور ہر سورة اپنے ساتھ اپنا ایک جوڑا بھی رکھتی ہے جس کی طرف میں برابر اشارہ کرتا آ رہا ہوں۔ یہاں اس بات کی یاددہانی سے مقصود یہ ہے کہ قرآن کے آخری گروپ میں پہنچنے کے بعد آپ بہتر طریقہ سے یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ یہ رائے کچھ وزن رکھتی ہے یا نہیں اور قرآن کی اس ترتیب کے سامنے آنے سے فکر و نظر کے نئے دروازے کھلتے ہیں یا نہیں ؟ میرے نزدیک قرآن کی اسی حقیقت کی طرف وہ حدیث بھی اشارہ کر رہی ہے جو حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ (انزل القرآن علی سبعۃ احرف) (قرآن سات حرنوں پر اتارا گیا ہے) سات حرفوں کے معنی اگر یہ لیے جائیں کہ قرآن کے تمام الفاظ سات طریقوں پر پڑھے جاسکتے ہیں تو یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ اس صورت میں قرآن ایک معمہ بن کے رہ جائے گا درآنحالیکہ قرآن خود اپنے بیان کے مطابق کتاب مبین ہے اور قریش کی ٹکسالی زبان میں نازل ہوا ہے۔ جو لوگ قرأتوں کے اختلاف کو بڑی اہمیت دیتے ہیں وہ بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ قرآن کے کسی لفظ کی قرأت سات طریقے پر کی گئی ہو۔ ابن جریر (رح) قرأتوں کے اختلاف نقل کرنے میں بڑے فیاض ہیں لیکن مجھے یاد نہیں کہ کسی لفظ کی انہوں نے دو تین سے زیادہ قرأتیں نقل کی ہیں۔ غور کرنے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ قرأتوں کا اختلاف دراصل قرأتوں کا اختلاف نہیں بلکہ بیشتر تاویل کا اختلاف ہے۔ کسی صاحب تاویل نے ایک لفظ کی تاویل کسی دوسرے لفظ سے کی اور اس کو قرأت کا اختلاف سمجھ لیا گیا حالانکہ وہ قرأت کا اختلاف نہیں بلکہ تاویل کا اختلاف ہے ابھی سورة تحریم کی تفسیر میں آپ پڑھ آئے ہیں کہ بعض لوگوں نے ( فقد صغت) کو ( فقد زاعت) بھی پڑھا ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس نے بھی یہ پڑھا ہے اس نے یہ قرأت نہیں بتائی ہے بلکہ اپنے نزدیک اس نے ( فقد صغت) کے معنی بتائے ہیں جس کی غلطی، کلام عرب کے دلائل کی روشنی میں، اچھی طرح ہم واضح کرچکے ہیں۔ پھر یہ بات بھی ملحوظ رکھنے کی ہے کہ اگر قرأتوں کا اختلاف ہے بھی تو متواتر قرأت کا درجہ تو صرف اس قرأت کو حاصل ہے جس پر مصحف، جو تمام امت کے ہاتھوں میں ہے، ضبط ہوا ہے۔ اس قرأت کے سوا دوسری قرارتیں ظاہر ہے کہ غور متواتر اور شاذ کے درجہ میں ہوں گے جن کو متواتر قرأت کی موجودگی میں کوئی اہمیت نہیں دی جاسکتی۔ چناچہ میں نے اس تفسیر میں اختلاف قرأت سے مطلق تعرض نہیں کیا بلکہ صرف مصحف کی قرأت کو اختیار کیا ہے اور مجھے تاویل میں کہیں تکلف نہیں کرنا پڑا بلکہ ہر جگہ نہایت صاف دل نشین، سیاق وسباق اور نظائر قرآن سے قرین تاویل سامنے آگئی ہے جو اصل مطلوب و مقصود ہے۔ قرارتوں کے اختلاف میں پڑنے کے معنی تو یہ ہیں کہ آپ ان الجھنوں میں پڑنے کے خود خواہاں ہیں جن سے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عثمان (رض) نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امت کو محفوظ کرنے کی کوشش فرمائی۔ بہر حال اس حدیث میں سبعۃ احرف سے سات قرأتیں مراد لینے کا تو کوئی قرینہ نہیں ہے البتہ اگر حرف کو عبارت، بیان اور اسلوب کے معنی میں لیں، جس کی زبان اور لغت کے اعتبار سے پوری گنجائش ہے، تو اس کی تاویل یہ ہوگی کہ قرآن سات اسلوبوں یا عبارتوں میں نازل ہوا ہے اور اس سے اشارہ انہی سات گروپوں کی طرف ہوگا جو قرآن میں ہر تلاوت کرنے والے کو نظر آتے ہیں۔ ان گروپوں کی نوعیت، جیسا کہ ہم وضاحت کرچکے ہیں، یہ ہے کہ ہر گروپ میں ایک جامع عمود کے تحت قرآنی دعوت کے تمام بنیادی مطالب مختلف اسلوبوں سے اس طرح بیان ہوئے ہیں کہ ہر بات بار بار سامنے آنے کے باوجود پڑھنے والا ان سے کبھی تکان محسوس نہیں کرتا بلکہ طرز بیان اور نہج استدلال کے تنوع، پیش و عقب کی تبدیلی، اطراف و جوانب کے فرق اور لواحق و تضمنات کی گوناگونی کے سبب سے ہر بار وہ ایک نیا لطف و حفظ حاصل کرتا ہے۔ قرآن کی اسی خصوصیت کا ذکر بعض حدیثوں میں یوں آیا ہے کہ اہل علم اس سے کبھی آسودہ نہیں ہوتے اور اس کی تازگی پر کبھی خزاں کا گزر نہیں ہوتا۔ یہی ساتوں گروپ مل کر قرآن عظیم کی شکل اختیار کرتے ہیں، جیسا کہ سورة حجر کی مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں ہم نے واضح کیا ہے کہ (والقرآن العظیم) میں و تفسیر کے ہے۔ ب۔ سورة کا عمود اس سورة کا عمود انداز ہے اور اس انداز میں دونوں ہی عذاب شامل ہیں۔ وہ عذاب بھی جس سے رسولوں کے مکذبین کو لازماً اس دنیا میں سابقہ پیش آیا ہے اور وہ عذاب بھی جس سے آخرت میں دو چار ہونا پڑے گا۔ استدلال اس میں آفاق کی نشانیوں سے ہے۔ یعنی اس میں بتایا گیا ہے کہ کائنات کے مشاہدہ سے اس کے خالق کی جو صفات سامنے آتی ہیں وہ اس بات کو مستلزم ہیں کہ یہ دنیا ایک دن اپنی انتہاء کو پہنچے گی۔ جن لوگوں نے اس کے اندر بالکل اندھے بہرے بن کر زندگی گزاری وہ جہنم میں جھونک دیے جائیں گے اور جنہوں نے اپنی عقل و فہم سے کام لیا اور غیب میں ہوتے خدا سے ڈرتے رہے اور اجر عظیم کے مستحق ٹھہریں گے۔ ج۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ (١١۔ ٥) ۔ اس کائنات کے مشاہدے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس کے ہاتھ میں اس کی باگ ہے وہ بڑی ہی بابرکت اور بےنہایت قدرت والی ہستی ہے۔ اس نے موت اور زندگی کا یہ کارخانہ عبث نہیں بنالیا ہے۔ جو اسی طرح چلتا رہے یا یوں ہی ختم ہوجائے بلکہ لوگوں کے امتحان کے لیے بنایا ہے کہ کون اس میں نیکی کی زندگی اختیار کرتا ہے، کون بدی کی ؟ اس امتحان کا لازمی تقاضا ہے کہ ایک جزاء و سزا کا دن آئے جس میں نیکو کار اپنی نیکیوں کا صلہ پائیں اور بد کاری اپنی بدیوں کی سزا بھگتیں۔ اس کائنات کے خالق کی عظیم برکت وقدرت کے مشاہدے کے لیے ان آسمانوں پر ایک نظر ڈالو اور غور سے مشاہدہ کرو، کیا اس عظیم و نا پیدا کنار چھت میں تم کہیں کسی معمولی خلل کی بھی نشان دہی کرسکتے ہو ؟ بار بار نگاہ دوڑانے کے بعد بھی تم اس میں کوئی نقص نہ پا سکو گے۔ پھر تم اپنے آسمان زیریں کو دیکھو اس کو خالق نے ستاروں کے قمقوں سے کیسا سجایا ہے جن سے تمہیں رہنمائی بھی ملتی ہے اور شیاطین پر ان سے سنگ باری بھی ہوتی ہے۔ (٦۔ ١١) اللہ تعالیٰ کی یہ قدرت و ربوبیت اس بات کی دلیل ہے کہ جو جزا و سزا کو جھٹلائیں گے ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔ ان کو دیکھ کر جہنم بھوکے شیر کی طرح دھاڑے گی۔ جب جب ان کی کوئی بھیڑ جہنم میں جھونکی جائے گی اس کے داروغے ان کو ملامت کریں گے کہ بدبختو ! کیا اس روز بد سے تمہیں کوئی خبردار کرنے نہیں آیا ؟ وہ اعتراض کریں گے کہ ایک نذیر آیا تو سہی لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ خدا نے کوئی چیز نہیں اتاری ہے ؟ جو لوگ اس کے مدعی ہیں وہ کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ وہ اعتراف بھی کریں گے کہ ہم نے سننے سمجھنے کی کوشش نہیں کی ورنہ اس انجام سے دو چار نہ ہوتے۔ (١٣۔ ١٤) ان لوگوں کے صلہ کا بیان جو اس دنیا میں اپنے رب سے ڈرتے رہیں گے۔ ان کو یہ اطمینان دہانی کہ ان کی ہر نیکی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور وہ ہر نیکی کا صلہ دے گا۔ اللہ تعالیٰ خالق بھی ہے اور لطیف و خیبر بھی، اس سے کوئی چیز بھی محض نہیں رہے گی۔ (١٥۔ ١٦) اس زمین کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے نہایت مطیع و فرمانبردار بنایا ہے۔ یہ اپنے وجود سے انسان کو یہ رہنمائی دے رہی ہے کہ وہ اس میں چلے پھرے۔ اس کی نعمتوں سے بہرہ مند ہو لیکن اس بات کو یاد رکھے کہ یہ سامان پرورش مقتضی ہے کہ ایک دن اس کو اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ ہر نعمت کے متعلق مسئول ہوگا۔ انسان کو ایک لمحہ کے لیے بھی اپنے رب کی پکڑ سے نچنت نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر وقت یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے اس کے اوپر سے یا نیچے سے کوئی آفت ارضی و سماوی بھیج کر اس کو تباہ کر دے۔ تاریخ میں اس کی کتنی عبرت انگیز مثالیں موجود ہیں۔ (١٩۔ ٢١ ) ۔ یہ تنبیہ کو جو چیز بھی اس فضائے لا متناہی میں ٹکی ہوئی ہے خدا کے تھامے ٹکی ہوئی ہے۔ وہ ہی ہر چیز کی نگرانی کر رہا ہے۔ اگر اس کے سہارے سے محروم ہو جائو تو کوئی بھی نہیں ہے جو تمہاری مدد کرسکے اگر وہ اپنے رزق سے محروم کردے تو کوئی بھی نہیں ہے جو رزق دینے والا بن سکے۔ (٢٢۔ ٢٣ ) ۔ جو لوگ اپنی خواہشوں کے غلام بن کر زندگی گزاریں گے وہ منزل پر پہنچنے والے نہیں بنیں گے، منزل پر وہی پہنچیں گے جو سیدھی راہ اختیار کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سمع و بصر اور عقل و دل کی صلاحیتیں اسی لیے دی ہیں کہ لوگ سیدھی راہ اختیار کریں، لیکن ان نعمتوں کی قدر کرنے والے بہت تھوڑے ہیں۔ (٢٤۔ ٢٧ ) ۔ اللہ ہی نے اس زمین میں انسان کو پھیلایا اور وہ اس کو ایک دن ضرور اکٹھا کرے گا۔ رہا یہ سوال کہ یہ دن کب آئے گا تو اس کا جواب ان کو یہ دے دو کہ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ میں اس سے آگاہ کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں اس کا وقت بتانے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہوں۔ البتہ جب وہ دن ظاہر ہوگا تو ان سب کے چہرے اس دن بگڑ جائیں گے جو آج اکڑ رہے ہیں۔ (٢٩۔ ٣٠) اگر یہ لوگ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے گردش روزگار کے منتظر ہیں تو ان سے کہو کہ بالفرض ہمارے ساتھ وہی معاملہ ہوا جو تم سمجھ رہے ہو تو اس میں تمہارے لیے کیا اطمینان کا پہلو ہے ؟ کافروں کو تو بہر حال اس عذاب سے دو چار ہونا ہے جس کی انہیں خبر دی جا رہی ہے۔
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader
بری ہی عظیم اور با فیض ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں اس کائنات کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader
جس نے پیدا کیا ہے موت اور زندگی کو تاکہ تمہارا امتحان کرے کہ تم میں کون سب سے اچھے عمل والا بنتا ہے اور وہ غالب بھی ہے اور مغفرت فرمانے والا بھی۔
الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader
جس نے بنائے سات آسمان تہ بہ تہ۔ تم خدائے رجحان کی صنعت میں کوئی خلل نہیں پائو گے۔ نگاہ دوڑائو، کیا تمہیں کوئی نقص نظر آتا ہے
ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader
پھر باز باز نگاہ دوڑائو، تمہاری نگاہ ناکام تھک کر واپس آجائے گی
وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader
اور ہم نے آسمان زیریں کو چراغوں سے سجایا اور ان کو شیاطین کو سنگ سار کرنے کا ٹھکانہ بھی بنایا اور ان شیاطین کے لیے دوزخ کا عذاب بھی ہم نے تیار کر رکھا ہے
وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader
اور جنہوں نے اپنے رب کا کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے
اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader
جب وہ اس میں جھونکے جائیں گے اس کا دھاڑنا سنیں گے اور وہ جوش مارتی ہوگی۔
تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader
معلوم ہوگا کہ غصہ سے پھٹی پڑ رہی ہے۔ جب جب ان کی کوئی بھیڑ اس میں جھونکی جائے گی اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمہارے پاس اس دن سے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا !
قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader
وہ جواب دیں گے کہ ایک خبردار کرنے والا آیا تو سہی لیکن ہم نے اس کو جھٹلادیا اور کہہ دیا کہ اللہ نے کوئی چیز نہیں اتاری، تم لوگ بس ایک بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو !
وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader
اور وہ کہیں گے کہ ہم سننے والے یا سمجھنے والے ہوتے تو ہم دوزخ والوں میں سے نہ بنتے
فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader
تو وہ اپنے گناہ کا اعتراف کرلیں گے۔ پس لعنت ہو دوزخ والوں پر ! !
اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader
بیشک جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں غیب میں رہتے، ان کے لیے مغفرت اور ایک بہت بڑا اجر ہے
وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader
اور تم اپنی بات کو چھپا کر کہو یا علانیہ کہو وہ اس کو جانتا ہے۔ وہ تو دلوں کے بھیدوں سے بھی باخبر ہے۔
اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader
کیا وہ نہ جانے لگا جس نے پیدا کیا ہے تو بڑا ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader
وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو ایک فرمانبردار ناقہ کے مانند بنایا تو تم اس کے مونڈھوں میں چلو پھرو اور اپنے رب کے بخشے ہوئے رزق میں سے بر تو اور اس کی طرف پھر اکٹھے ہونا ہے
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader
کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نچنت ہوگئے کہ وہ تمہارے سمیت زمین کو دھنسا دے اور وہ وقعتا بگئٹ چل پڑے
اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader
کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نچنت ہوگئے کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی ہوا مسلط کر دے تو تم جان لو گے کہ میرا انداز کیسا ہوتا ہے۔
وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader
اور ان لوگوں نے بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے گزرے تو دیکھو کیسی ہوئی ان پر میری پھٹکار۔
اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader
کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا، وہ پروں کو پھیلائے اڑتے ہیں اور ان کو سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ ان کو خدائے رحمان ہی سنبھالتا ہے۔ بیشک وہی ہر چیز کی نگرانی رکھنے والا ہے۔
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader
بتائو تمہارے پاس وہ کون سا لشکر ہے جو خدائے رحمان کے مقابل میں تمہاری مدد کرسکے گا ! یہ کافر بالکل دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں !
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader
بتائو، وہ کون ہے جو تمہیں روزی دے گا اگر وہ اپنی روزی روک لے ! بلکہ یہ لوگ سر کشی اور حق بیزاری پر اڑ گئے ہیں !
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader
کیا وہ جو اوندھے منہ چل رہا ہے راہ یاب ہونے والا بنے گایا وہ جو سیدھا ایک سیدھی راہ پر چل رہا ہے ؟
قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader
کہہ دو کہ وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے۔ پر تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو !
قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader
کہہ دو کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا ہے اور تم اسی کی طرف اکٹھے کیے جائو گے
وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader
اور وہ کہتے ہیں کہ یہ دھمکی کب پوری ہوگی، اگر تم لوگ سچے ہو !
قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader
کہہ دو ، یہ علم اللہ ہی کے پاس ہے، میں تو بس ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔
فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader
پس جب وہ اس کو دیکھیں گے قریب آتے تو ان لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنہوں نے کفر کیا۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کا تم مطالبہ کر رہے تھے
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader
ان سے پوچھو، بتائو اگر اللہ مجھ کو اور ان لوگوں کو جو میرے ساتھ ہیں ہلاک کر دے یا ہم پر رحم فرمائے تو کافروں کو ایک درد ناک عذاب سے کون پناہ دے گا !
قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader
کہہ دو رحمان ہے۔ ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور اسی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے تو تم عنقریب جان لوگے کہ کھلی ہوئی گمراہی میں کون ہے !
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader
ان سے پوچھو کہ بتائو اگر تمہارا یہ پانی نیچے اتر جائے تو تمہارے لیے صاف و شفاف پانی کون لائے گا ؟