67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

تدبر قرآن۔۔۔۔۔ ٦٧۔۔۔ الملک۔۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔ ا۔ سورتوں کے ساتویں گروپ پر ایک اجمالی نظر سورة ملک سے سورتوں کا ساتواں یعنی آخری گروپ شروع ہو رہا ہے۔ اس گروپ میں بھی سورتوں کی ترتیب اسی طرح ہے جس طرح پچھلے گروپوں میں آپ نے دیکھی پہلے مکی سورتیں ہیں آخر میں چند سورتیں مدنی ہیں اور یہ مدنی سورتیں مکی سورتوں کے ساتھ اسی طرح مربوط ہیں جس طرح فرع اپنی اصل سے مربوط ہوتی ہے۔ اس گروپ کی چند سورتوں کے مکی یا مدنی ہونے کے بارے میں اختلاف ہے اس وجہ سے یہاں یہ بتانا مشکل ہے کہ کہاں سے کہاں تک اس کی سورتیں مکی ہیں اور کہاں سے کہاں تک مدنی۔ جب تمام مختلف فیہ سورتوں پر بحث ہو کر بات منفح ہوجائے گی تب ہی یہ قطعی فیصلہ ہو سکے گا کہ کتنی مکی ہیں اور کتنی مدنی تاہم میری اجمالی رائے یہ ہے کہ سورة ملک سے سورة کافرون تک ٤٣ سورتیں مکی ہیں اور سورة نصر سے سورة ناس تک پانچ سورتیں مدنی۔ اس گروپ میں بھی دوسرے گروپوں کی طرح قرآنی دعوت کے تمام اساسات توحید، رسالت اور معاد زیر بحث آئی ہیں اور عورت کے تمام مراحل کی جھلک بھی اس میں موجود ہے۔ لیکن اس پورے گروپ کا اصل مضمون انداز ہے۔ اس کی بیشتر سورتیں مکی زندگی کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتی ہیں اور ان میں انداز کا انداز وہی ہے جس انداز میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوہ صفا پر چڑھ کر انداز فرمایا تھا۔ اس انداز کے تقاضے سے اس میں قیامت اور احوال قیامت کی بھی پوری تصویر ہے اور اس عذاب کو بھی گویا قریش کی نگاہوں کے سامنے کھڑا کردیا گیا ہے جو رسول کی تکذیب کردینے والوں پر لازماً آیا کرتا ہے۔ استدلال میں بیشتر آفاق کے مشاہدات، تاریخ کے مسلمات اور انفس کی بنیات سے کام لیا گیا ہے اور کلام کے زور کا بالکل وہی حال ہے جس کی تصویر مولانا حالی (رح) نے اپنے اس شعر میں کھینچی ہے۔ ع وہ بجلی کا کڑکا نھا یا صورت ہادی عرب کی زمین جس نے ساری ہلا دی ان سورتوں نے سارے عرب میں ایسی ہلچل برپا کردی کہ ایک شخص بھی قرآن کی دعوت کے معاملے میں غیر جانبدار نہیں رہ گیا بلکہ وہ یا تو اس کا جانی دشمن بن کر اٹھ کھڑا ہوا یا سچا فدائی اور ان دونوں کی کشمکش کا نتیجہ بالآخر اس غلبہ حق کی شکل میں نمودار ہوا جس کا ذکر ہر گروپ کی آخری سورتوں میں ہوا ہے اور اس کے آخر میں بھی آئے گا۔ ساتویں گروپ کی تفسیر کا آغاز کرتے ہوئے میں سورة حجر کی آیت ٨٧ (ولقد اتینک سبعا من المثانی والقرآن العظیم) کا پھر حوالہ دیتا ہوں جس کا ذکر میں نے مقدمہ کتاب میں، ساتوں گروپوں کے تعارف کے بعد، اس حقیقت کی طرف توجہ دلانے کے لیے کیا ہے کہ یہ تقسیم ازروئے قرآن منصوص ہے۔ پھر سورة حجر کی تفسیر میں آیت کی وضاحت کرتے ہوئے مندرجہ ذیل باتیں میں نے دلائل کے ساتھ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک یہ کہ قرآن نے کسی خاص سورة کی سبع مثانی نہیں کہا ہے بلکہ ( کتابا متشابھا مثالی) کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ پورا قرآن سبع مثالی ہے۔ دوسری یہ کہ مثانی کسی بار بار دہرائی ہوئی چیز کو نہیں بلکہ اس چیز کو کہتے ہیں جو جوڑا جوڑا ہو۔ تیسری یہ کہ قرآن کی سورتوں کی ترتیب سے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ یہ سات گروپوں میں تقسیم ہیں اور ہر سورة اپنے ساتھ اپنا ایک جوڑا بھی رکھتی ہے جس کی طرف میں برابر اشارہ کرتا آ رہا ہوں۔ یہاں اس بات کی یاددہانی سے مقصود یہ ہے کہ قرآن کے آخری گروپ میں پہنچنے کے بعد آپ بہتر طریقہ سے یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ یہ رائے کچھ وزن رکھتی ہے یا نہیں اور قرآن کی اس ترتیب کے سامنے آنے سے فکر و نظر کے نئے دروازے کھلتے ہیں یا نہیں ؟ میرے نزدیک قرآن کی اسی حقیقت کی طرف وہ حدیث بھی اشارہ کر رہی ہے جو حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ (انزل القرآن علی سبعۃ احرف) (قرآن سات حرنوں پر اتارا گیا ہے) سات حرفوں کے معنی اگر یہ لیے جائیں کہ قرآن کے تمام الفاظ سات طریقوں پر پڑھے جاسکتے ہیں تو یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ اس صورت میں قرآن ایک معمہ بن کے رہ جائے گا درآنحالیکہ قرآن خود اپنے بیان کے مطابق کتاب مبین ہے اور قریش کی ٹکسالی زبان میں نازل ہوا ہے۔ جو لوگ قرأتوں کے اختلاف کو بڑی اہمیت دیتے ہیں وہ بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ قرآن کے کسی لفظ کی قرأت سات طریقے پر کی گئی ہو۔ ابن جریر (رح) قرأتوں کے اختلاف نقل کرنے میں بڑے فیاض ہیں لیکن مجھے یاد نہیں کہ کسی لفظ کی انہوں نے دو تین سے زیادہ قرأتیں نقل کی ہیں۔ غور کرنے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ قرأتوں کا اختلاف دراصل قرأتوں کا اختلاف نہیں بلکہ بیشتر تاویل کا اختلاف ہے۔ کسی صاحب تاویل نے ایک لفظ کی تاویل کسی دوسرے لفظ سے کی اور اس کو قرأت کا اختلاف سمجھ لیا گیا حالانکہ وہ قرأت کا اختلاف نہیں بلکہ تاویل کا اختلاف ہے ابھی سورة تحریم کی تفسیر میں آپ پڑھ آئے ہیں کہ بعض لوگوں نے ( فقد صغت) کو ( فقد زاعت) بھی پڑھا ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس نے بھی یہ پڑھا ہے اس نے یہ قرأت نہیں بتائی ہے بلکہ اپنے نزدیک اس نے ( فقد صغت) کے معنی بتائے ہیں جس کی غلطی، کلام عرب کے دلائل کی روشنی میں، اچھی طرح ہم واضح کرچکے ہیں۔ پھر یہ بات بھی ملحوظ رکھنے کی ہے کہ اگر قرأتوں کا اختلاف ہے بھی تو متواتر قرأت کا درجہ تو صرف اس قرأت کو حاصل ہے جس پر مصحف، جو تمام امت کے ہاتھوں میں ہے، ضبط ہوا ہے۔ اس قرأت کے سوا دوسری قرارتیں ظاہر ہے کہ غور متواتر اور شاذ کے درجہ میں ہوں گے جن کو متواتر قرأت کی موجودگی میں کوئی اہمیت نہیں دی جاسکتی۔ چناچہ میں نے اس تفسیر میں اختلاف قرأت سے مطلق تعرض نہیں کیا بلکہ صرف مصحف کی قرأت کو اختیار کیا ہے اور مجھے تاویل میں کہیں تکلف نہیں کرنا پڑا بلکہ ہر جگہ نہایت صاف دل نشین، سیاق وسباق اور نظائر قرآن سے قرین تاویل سامنے آگئی ہے جو اصل مطلوب و مقصود ہے۔ قرارتوں کے اختلاف میں پڑنے کے معنی تو یہ ہیں کہ آپ ان الجھنوں میں پڑنے کے خود خواہاں ہیں جن سے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عثمان (رض) نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امت کو محفوظ کرنے کی کوشش فرمائی۔ بہر حال اس حدیث میں سبعۃ احرف سے سات قرأتیں مراد لینے کا تو کوئی قرینہ نہیں ہے البتہ اگر حرف کو عبارت، بیان اور اسلوب کے معنی میں لیں، جس کی زبان اور لغت کے اعتبار سے پوری گنجائش ہے، تو اس کی تاویل یہ ہوگی کہ قرآن سات اسلوبوں یا عبارتوں میں نازل ہوا ہے اور اس سے اشارہ انہی سات گروپوں کی طرف ہوگا جو قرآن میں ہر تلاوت کرنے والے کو نظر آتے ہیں۔ ان گروپوں کی نوعیت، جیسا کہ ہم وضاحت کرچکے ہیں، یہ ہے کہ ہر گروپ میں ایک جامع عمود کے تحت قرآنی دعوت کے تمام بنیادی مطالب مختلف اسلوبوں سے اس طرح بیان ہوئے ہیں کہ ہر بات بار بار سامنے آنے کے باوجود پڑھنے والا ان سے کبھی تکان محسوس نہیں کرتا بلکہ طرز بیان اور نہج استدلال کے تنوع، پیش و عقب کی تبدیلی، اطراف و جوانب کے فرق اور لواحق و تضمنات کی گوناگونی کے سبب سے ہر بار وہ ایک نیا لطف و حفظ حاصل کرتا ہے۔ قرآن کی اسی خصوصیت کا ذکر بعض حدیثوں میں یوں آیا ہے کہ اہل علم اس سے کبھی آسودہ نہیں ہوتے اور اس کی تازگی پر کبھی خزاں کا گزر نہیں ہوتا۔ یہی ساتوں گروپ مل کر قرآن عظیم کی شکل اختیار کرتے ہیں، جیسا کہ سورة حجر کی مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں ہم نے واضح کیا ہے کہ (والقرآن العظیم) میں و تفسیر کے ہے۔ ب۔ سورة کا عمود اس سورة کا عمود انداز ہے اور اس انداز میں دونوں ہی عذاب شامل ہیں۔ وہ عذاب بھی جس سے رسولوں کے مکذبین کو لازماً اس دنیا میں سابقہ پیش آیا ہے اور وہ عذاب بھی جس سے آخرت میں دو چار ہونا پڑے گا۔ استدلال اس میں آفاق کی نشانیوں سے ہے۔ یعنی اس میں بتایا گیا ہے کہ کائنات کے مشاہدہ سے اس کے خالق کی جو صفات سامنے آتی ہیں وہ اس بات کو مستلزم ہیں کہ یہ دنیا ایک دن اپنی انتہاء کو پہنچے گی۔ جن لوگوں نے اس کے اندر بالکل اندھے بہرے بن کر زندگی گزاری وہ جہنم میں جھونک دیے جائیں گے اور جنہوں نے اپنی عقل و فہم سے کام لیا اور غیب میں ہوتے خدا سے ڈرتے رہے اور اجر عظیم کے مستحق ٹھہریں گے۔ ج۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ (١١۔ ٥) ۔ اس کائنات کے مشاہدے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس کے ہاتھ میں اس کی باگ ہے وہ بڑی ہی بابرکت اور بےنہایت قدرت والی ہستی ہے۔ اس نے موت اور زندگی کا یہ کارخانہ عبث نہیں بنالیا ہے۔ جو اسی طرح چلتا رہے یا یوں ہی ختم ہوجائے بلکہ لوگوں کے امتحان کے لیے بنایا ہے کہ کون اس میں نیکی کی زندگی اختیار کرتا ہے، کون بدی کی ؟ اس امتحان کا لازمی تقاضا ہے کہ ایک جزاء و سزا کا دن آئے جس میں نیکو کار اپنی نیکیوں کا صلہ پائیں اور بد کاری اپنی بدیوں کی سزا بھگتیں۔ اس کائنات کے خالق کی عظیم برکت وقدرت کے مشاہدے کے لیے ان آسمانوں پر ایک نظر ڈالو اور غور سے مشاہدہ کرو، کیا اس عظیم و نا پیدا کنار چھت میں تم کہیں کسی معمولی خلل کی بھی نشان دہی کرسکتے ہو ؟ بار بار نگاہ دوڑانے کے بعد بھی تم اس میں کوئی نقص نہ پا سکو گے۔ پھر تم اپنے آسمان زیریں کو دیکھو اس کو خالق نے ستاروں کے قمقوں سے کیسا سجایا ہے جن سے تمہیں رہنمائی بھی ملتی ہے اور شیاطین پر ان سے سنگ باری بھی ہوتی ہے۔ (٦۔ ١١) اللہ تعالیٰ کی یہ قدرت و ربوبیت اس بات کی دلیل ہے کہ جو جزا و سزا کو جھٹلائیں گے ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔ ان کو دیکھ کر جہنم بھوکے شیر کی طرح دھاڑے گی۔ جب جب ان کی کوئی بھیڑ جہنم میں جھونکی جائے گی اس کے داروغے ان کو ملامت کریں گے کہ بدبختو ! کیا اس روز بد سے تمہیں کوئی خبردار کرنے نہیں آیا ؟ وہ اعتراض کریں گے کہ ایک نذیر آیا تو سہی لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ خدا نے کوئی چیز نہیں اتاری ہے ؟ جو لوگ اس کے مدعی ہیں وہ کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ وہ اعتراف بھی کریں گے کہ ہم نے سننے سمجھنے کی کوشش نہیں کی ورنہ اس انجام سے دو چار نہ ہوتے۔ (١٣۔ ١٤) ان لوگوں کے صلہ کا بیان جو اس دنیا میں اپنے رب سے ڈرتے رہیں گے۔ ان کو یہ اطمینان دہانی کہ ان کی ہر نیکی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور وہ ہر نیکی کا صلہ دے گا۔ اللہ تعالیٰ خالق بھی ہے اور لطیف و خیبر بھی، اس سے کوئی چیز بھی محض نہیں رہے گی۔ (١٥۔ ١٦) اس زمین کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے نہایت مطیع و فرمانبردار بنایا ہے۔ یہ اپنے وجود سے انسان کو یہ رہنمائی دے رہی ہے کہ وہ اس میں چلے پھرے۔ اس کی نعمتوں سے بہرہ مند ہو لیکن اس بات کو یاد رکھے کہ یہ سامان پرورش مقتضی ہے کہ ایک دن اس کو اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ ہر نعمت کے متعلق مسئول ہوگا۔ انسان کو ایک لمحہ کے لیے بھی اپنے رب کی پکڑ سے نچنت نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر وقت یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے اس کے اوپر سے یا نیچے سے کوئی آفت ارضی و سماوی بھیج کر اس کو تباہ کر دے۔ تاریخ میں اس کی کتنی عبرت انگیز مثالیں موجود ہیں۔ (١٩۔ ٢١ ) ۔ یہ تنبیہ کو جو چیز بھی اس فضائے لا متناہی میں ٹکی ہوئی ہے خدا کے تھامے ٹکی ہوئی ہے۔ وہ ہی ہر چیز کی نگرانی کر رہا ہے۔ اگر اس کے سہارے سے محروم ہو جائو تو کوئی بھی نہیں ہے جو تمہاری مدد کرسکے اگر وہ اپنے رزق سے محروم کردے تو کوئی بھی نہیں ہے جو رزق دینے والا بن سکے۔ (٢٢۔ ٢٣ ) ۔ جو لوگ اپنی خواہشوں کے غلام بن کر زندگی گزاریں گے وہ منزل پر پہنچنے والے نہیں بنیں گے، منزل پر وہی پہنچیں گے جو سیدھی راہ اختیار کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سمع و بصر اور عقل و دل کی صلاحیتیں اسی لیے دی ہیں کہ لوگ سیدھی راہ اختیار کریں، لیکن ان نعمتوں کی قدر کرنے والے بہت تھوڑے ہیں۔ (٢٤۔ ٢٧ ) ۔ اللہ ہی نے اس زمین میں انسان کو پھیلایا اور وہ اس کو ایک دن ضرور اکٹھا کرے گا۔ رہا یہ سوال کہ یہ دن کب آئے گا تو اس کا جواب ان کو یہ دے دو کہ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ میں اس سے آگاہ کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں اس کا وقت بتانے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہوں۔ البتہ جب وہ دن ظاہر ہوگا تو ان سب کے چہرے اس دن بگڑ جائیں گے جو آج اکڑ رہے ہیں۔ (٢٩۔ ٣٠) اگر یہ لوگ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے گردش روزگار کے منتظر ہیں تو ان سے کہو کہ بالفرض ہمارے ساتھ وہی معاملہ ہوا جو تم سمجھ رہے ہو تو اس میں تمہارے لیے کیا اطمینان کا پہلو ہے ؟ کافروں کو تو بہر حال اس عذاب سے دو چار ہونا ہے جس کی انہیں خبر دی جا رہی ہے۔

Ayah 67:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

بری ہی عظیم اور با فیض ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں اس کائنات کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اس کائنات کے خالق سے متعلق صحیح تصور کی راہ: ’تَبَارَکَ‘ کے اندر عظمت اور برکت دونوں کے مفہوم پائے جاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ صیغہ مبالغہ کا بھی ہے اس وجہ سے اس کے معنی ہوں گے کہ بڑی ہی باعظمت اور بافیض ہے وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں اس کائنات کی باگ ہے۔ ’وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘ اور باعظمت و بافیض ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ہر چیز پر قادر بھی ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا اور مشکل سے مشکل کام بھی ایسا تصور نہیں کیا جا سکتا جو اس کے حیطۂ امکان سے خارج ہو۔؂۱ یہ حال بیان ہوا ہے اس مشاہدے کا جو ایک عاقل اور صاحب فکر کے سامنے آتا ہے یا آنا چاہیے جب وہ اس کائنات کی نشانیوں پر غور کرتا ہے۔ اس کی دلیل آگے آ رہی ہے۔ یہاں خلاصۂ فکر پہلے بیان کر دیا ہے تاکہ ہر شخص کے سامنے یہ حقیقت آ جائے کہ اس کائنات پر غور کرنے والا کبھی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ اس کا خالق کوئی کھلنڈرا ہے یا وہ کوئی لاابالی اور غیر ذمہ دار ہے جس نے یہ دنیا پیدا تو کر ڈالی لیکن اس کو اس کے خیر و شر سے کوئی دلچسپی نہیں، یا وہ محض ایک محرک اول ہے جس سے ایک حرکت تو صادر ہو گئی لیکن اس حرکت کے نتائج سے اسے کچھ بحث نہیں، یا وہ صرف ایک خاموش علۃ العلل ہے جس کو اپنی معلولات سے علت ہونے کے سوا کوئی اور واسطہ نہیں ہے۔ اس کائنات کے خالق سے متعلق اس قسم کے تصورات میں جو لوگ مبتلا ہوئے یا تو اس وجہ سے ہوئے کہ انھوں نے اس کا صحیح تصور کرنا ہی نہیں چاہا تاکہ ان کی ہوا پرستی میں یہ تصور خلل انداز نہ ہو سکے یا کرنا تو چاہا لیکن اس کی صفات کا عکس اس کی پیدا کی ہوئی وسیع و عظیم کائنات کے آئینہ میں دیکھنے کے بجائے انھوں نے اپنی ان چھوٹی چھوٹی عینکوں سے دیکھنے کی کوشش کی جو ان کے اپنے ہاتھوں کی ایجاد تھیں۔ حالانکہ اس کا صحیح طریقہ صرف ایک ہی تھا کہ بالکل بے لوث اور غیر جانبدار ہو کر اس کی پیدا کی ہوئی کائنات کا مشاہدہ کرتے اور اس کے اندر اس کی صفات کا جلوہ دیکھتے۔ اگر ایسا کرتے تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوتی کہ اس کا خالق بڑا ہی عظیم بھی ہے اور بڑا ہی بافیض اور حکیم بھی اور ساتھ ہی اس کی قدرت بھی بے پناہ ہے۔ وہ جو چاہے کر سکتا ہے، کوئی کام بھی اس کے لیے مشکل یا ناممکن نہیں۔ اس تصور سے ظاہر ہے کہ ان تمام باطل تصورات کی جڑ بھی کٹ جاتی ہے جن میں مشرک قومیں مبتلا ہوئیں اور ان اوہام کے لیے بھی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ہے جن میں فلاسفہ اور سائنس دان مبتلا ہوئے۔ _____ ؂۱ لفظ ’تَبَارَکَ‘ کے تضمنات پر سورۂ فرقان کی آیات ۱ ، ۱۰ اور ۶۱ کے تحت بحث ہو چکی ہے۔
Ayah 67:2

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

جس نے پیدا کیا ہے موت اور زندگی کو تاکہ تمہارا امتحان کرے کہ تم میں کون سب سے اچھے عمل والا بنتا ہے اور وہ غالب بھی ہے اور مغفرت فرمانے والا بھی۔

صحیح تصورکے لازمی نتائج: یہ اوپر والی ہی بات دوسرے اسلوب میں فرمائی گئی ہے جس سے اس کی قدرت، حکمت اور فیض بخشی کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔ فرمایا کہ وہی ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا ہے۔ ان میں سے کسی پر بھی کسی دوسرے کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ پھر موت زندگی پرمقدم ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور اسی کے فیض سے پردۂ عدم سے عالم وجود میں آئی ہے، وہ نہ چاہتے تو کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔ عدم کے بعد زندگی اور زندگی کے بعد پھر موت اس بات کی شہادت ہے کہ اس دنیا کا کارخانہ بے غایت و بے مقصد نہیں ہے یہ یوں ہی چلتا رہے یا یوں ہی ایک دن ختم ہو جائے۔ اگر ایسا ہو تو یہ ایک کارعبث ہو گا جو ایک حکیم و قدیر اور بافیض ہستی کی شان کے خلاف ہے بلکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں جس کو زندگی بخشتا ہے اس امتحان کے لیے بخشتا ہے کہ دیکھے کون اس کی پسند کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے اور کون اپنی من مانی کرتا ہے۔ اس امتحان کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں لوگوں کو ازسرنو زندہ کرے، ہر شخص کی نیکی اور بدی کا حساب ہو اور وہ اپنے عمل کے مطابق جزا یا سزا پائے۔ علاوہ بریں وہ ’عزیز‘ ہے اس وجہ سے جو سزا کے مستحق ہوں گے ان کو اس کی پکڑ سے کوئی بچا نہیں سکتا اور وہ ’غفور‘ بھی ہے اس وجہ سے جو اس کی مغفرت کے مستحق ہوں گے ان کو وہ اس سے محروم نہیں فرمائے گا بلکہ وہ کسی کی سعی و سفارش کے بغیر اس کے حق دار ٹھہریں گے۔
Ayah 67:3

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

جس نے بنائے سات آسمان تہ بہ تہ۔ تم خدائے رجحان کی صنعت میں کوئی خلل نہیں پائو گے۔ نگاہ دوڑائو، کیا تمہیں کوئی نقص نظر آتا ہے

مشاہدۂ کائنات کی دعوت: پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت اور جس فیض بخشی و ربوبیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے اس آیت میں اس کا مشاہدہ کرنے کی دعوت دی ہے کہ آؤ، دیکھو اس کائنات کے خالق کی عظمت و شان، اس کی بے مثال صنعت گری اور اس کا کمال فن کہ اس نے تہ بہ تہ سات آسمان بنا ڈالے اور تم اس میں کہیں ڈھونڈھے سے بھی کوئی ناہمواری یا کوئی نقص و خلل نہیں پا سکتے۔ کیا کوئی چیز آسمانوں سے بھی بڑی ہو سکتی ہے لیکن اس وسیع و عریض اور ناپیدا کنار چیز کے اندر بھی اس کے خالق کے کمال فن کا حال یہ ہے کہ مجال نہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا ماہر فن بھی کہیں انگلی رکھ سکے کہ اس جگہ کسی جوڑ بند کو ہموار کرنے میں کوئی کسر رہ گئی۔ لفظ ’تَفٰوُتٌ‘ کے معنی فرق و اختلاف اور ناہمواری کے ہیں۔ اسی مضمون کو آگے لفظ ’فُطُوْرٌ‘ سے بھی تعبیر فرمایا ہے جس کے معنی نقص و خلل کے ہیں۔ اسی مضمون کی تعبیر کے لیے سورۂ قٓ آیت ۶ میں لفظ ’فُرُوْجٌ‘ استعمال فرمایا ہے: ’أَفَلَمْ یَنظُرُوْا إِلَی السَّمَآءِ فَوْقَہُمْ کَیْفَ بَنَیْنَاہَا وَزَیَّنَّاہَا وَمَا لَہَا مِن فُرُوْجٍ‘ (کیا انھوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا، ہم نے کیسا اس کو بنایا اور سنوارا اور کہیں اس میں کوئی دراڑ اور شگاف نہیں)۔
Ayah 67:4

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

پھر باز باز نگاہ دوڑائو، تمہاری نگاہ ناکام تھک کر واپس آجائے گی

اتمام حجت کے لیے پھر دعوت دی کہ ایک ہی بار نہیں بلکہ باربار ناقدانہ نگاہ دوڑاؤ، تمہاری نگاہ تھک کر واپس آ جائے گی لیکن کہیں کوئی نقص یا خلل نہیں پا سکے گی۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا کی یہ بے مثال قدرت و حکمت اپنے سروں پر اس طرح پھیلی ہوئی دیکھتے ہو کہ نہ تم اس کا احاطہ کر سکتے اور نہ اس میں کوئی معمولی سے معمولی نقص ڈھونڈھ سکتے اس کے لیے وہ کون سا کام ہے جو دشوار ہو سکتا ہے؟ کیا مرکھپ جانے کے بعد تم کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا اور جزا اور سزا دینا یا تم کو کسی آفت ارضی و سماوی سے چشم زدن میں یہیں تباہ کر دینا اس آسمان کے پیدا کر دینے سے زیادہ مشکل کام ہے؟
Ayah 67:5

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان زیریں کو چراغوں سے سجایا اور ان کو شیاطین کو سنگ سار کرنے کا ٹھکانہ بھی بنایا اور ان شیاطین کے لیے دوزخ کا عذاب بھی ہم نے تیار کر رکھا ہے

قدرت کے پہلو بہ پہلو رحمت کے جلوے: سات آسمانوں کا حوالہ دینے کے بعد آسمان زیریں کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی جس کے عجائب کا نسبۃً آسانی سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ فرمایا کہ اس کو دیکھو کس طرح ہم نے اس کو قمقموں سے آراستہ کیا ہے! مطلب یہ ہے کہ ان قمقموں کو دیکھو گے تو تمہارے سامنے یہ پہلو بھی آئے گا کہ اس جہان کا خالق صرف قدرت والا ہی نہیں بلکہ عظیم رحمت والا بھی ہے، جس نے اس چھت کو ایسے قمقموں سے جگمگایا ہے جن کی حسن افروزی اور فیض بخشی کا کوئی اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ اوپر ’مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ‘ میں صفت رحمان کا حوالہ آیا ہے۔ یہ اسی ایک پہلو کی طرف اشارہ ہے گویا یہ دنیا اپنے وجود سے صرف اس بات کی شہادت نہیں دیتی کہ یہ ایک عظیم قدرت والے کی پیدا کی ہوئی دنیا ہے، ساتھ ہی یہ اس بات کی بھی شہادت دیتی ہے کہ وہ نہایت رحمان، نہایت کریم اور نہایت ہی بندہ نواز بھی ہے جس نے اپنے بندوں کے لیے ایسے لاجواب قمقموں سے آراستہ چھت بنائی ہے۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ کی صفت رحمان کا حوالہ بار بار آئے گا۔ ہر جگہ اس کے اس خاص پہلو پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ ورنہ کلام کا اصلی حسن نگاہوں سے اوجھل رہے گا۔ ستاروں کے ایک ضمنی فائدہ کی طرف اشارہ: ’وَجَعَلْنَاہَا رُجُوۡمًا لِّلشَّیَاطِیْنِ‘ کے الفاظ سے ان ستاروں کے ایک اور ضمنی فائدہ کی طرف اشارہ فرما دیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ شیاطین کو سنگ سار کرنے کے لیے ٹھکانوں کا کام بھی لیتا ہے۔ یہاں بات اجمال کے ساتھ فرمائی گئی ہے۔ اس کی تفصیل قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں آئی ہے کہ ان ستاروں کے اندر اللہ تعالیٰ نے دید بان (بُرُوْجٌ) بنائے ہیں جن میں اس کے کروبی ہر وقت پہرہ دیتے ہیں۔ اگر شیاطین عالم بالا کی سن گن لینے کے لیے اوپر چڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ان پر شہابوں کے راکٹ پھینک کر ان کو کھدیڑتے ہیں۔ ان شہابوں کی نوعیت پر سورۂ رحمان کی تفسیر میں ہم بحث کر چکے ہیں، تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لیجیے۔ اس ضمنی اشارہ سے یہاں مقصود اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو اس شان و اہتمام کے ساتھ پیدا کرنے کے بعد اس کو چھوڑ نہیں دیا ہے کہ شیاطین اس کو اپنی بازی گاہ بنا لیں بلکہ اس نے اس کی نگرانی کا بھی سامان کیا ہے اور جب وہ حدود سے تجاوز کرتے ہیں تو ان کی سرکوبی بھی ہوتی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خلق بے راعی کا گلہ نہیں ہے بلکہ جس نے اس کو خلق کیا ہے وہ پوری بیداری کے ساتھ اس کی نگرانی فرما رہا ہے اور ایک دن وہ تمام جن و بشر اپنے کیفر کردار کو پہنچیں گے جو اس میں دھاندلی مچائیں گے۔ ان کے لیے دوزخ کا عذاب تیار ہے، ’وَأَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ‘۔
Ayah 67:6

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور جنہوں نے اپنے رب کا کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے

قیامت کا انکار خدا کے انکار کے ہم معنی ہے: اوپر شیاطین کے ساتھ جو معاملہ مذکور ہوا ہے اس سے یہ ان انسانوں کے انجام کے ذکر کی طرف گریز ہے جو اپنے رب کا کفر کریں گے۔ ’رب کے کفر‘ سے یہاں مراد قیامت اور جزاء و سزا کا انکار ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم جگہ جگہ اس کتاب میں تفصیل سے واضح کرتے آ رہے ہیں، یہ ہے کہ قیامت کے انکار سے اللہ تعالیٰ کی تمام بنیادی صفات۔۔۔ قدرت، عدل، رحمت اور ربوبیت۔۔۔ کی نفی ہو جاتی ہے۔ ان صفات کی نفی کر کے خدا کو ماننا اور نہ ماننا دونوں یکساں ہے۔ چنانچہ قرآن نے اسی بنیاد پر مشرکین کو جگہ جگہ کفار سے تعبیر کیا ہے حالانکہ وہ خدا کے منکر نہیں تھے۔ ’وَبِئۡسَ الْمَصِیْرُ‘۔ فرمایا کہ یہ نہایت برا ٹھکانا اور مرجع ہے جو انھوں نے اپنے لیے انتخاب کیا۔ اس کے برے ہونے کے بعض پہلوؤں کی وضاحت آ گے آ رہی ہے۔
Ayah 67:7

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

جب وہ اس میں جھونکے جائیں گے اس کا دھاڑنا سنیں گے اور وہ جوش مارتی ہوگی۔

فرمایا کہ جب یہ منکرین دوزخ میں جھونکے جائیں گے تو ان کو دیکھ کر جہنم اس طرح دھاڑے گی جس طرح بھوکا شیر شکار کو دیکھ کر دھاڑتا ہے اور وہ جوش مار رہی ہو گی۔ یعنی اس کا بھڑکنا اپنے پورے شباب پر ہو گا۔
Ayah 67:8

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

معلوم ہوگا کہ غصہ سے پھٹی پڑ رہی ہے۔ جب جب ان کی کوئی بھیڑ اس میں جھونکی جائے گی اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمہارے پاس اس دن سے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا !

جہنم کے جوش غضب کی تصویر: یہ جہنم کے غصہ کی تعبیر ہے کہ معلوم ہو گا کہ وہ غضب سے پھٹی پڑ رہی ہے۔ اس کے اس غیظ و غضب کی وجہ ظاہر ہے کہ یہی ہو گی کہ اس کے نزدیک اس ہولناک دن سے جن لوگوں نے بے پروا ہو کر زندگی گزاری انھوں نے بالکل آنکھیں اور کان بند کر کے زندگی گزاری۔ ورنہ اس دنیا میں نہ قیامت اور جزا و سزا کی نشانیوں کی کمی تھی اور نہ کبھی یہ منذروں سے خالی رہی۔ پس جن لوگوں نے آنکھیں اور کان رکھتے ہوئے ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا وہ ہرگز کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ جہنم کے داروغے ان کو ملامت کریں گے کہ بدبختو! کیا تمہارے پاس اس دن سے آگاہ کرنے کے لیے کوئی نذیر نہیں آیا کہ تم نے اپنی یہ شامت بلائی! اس وقت یہ لوگ اعتراف کریں گے کہ اس میں تو شبہ نہیں کہ اس سے آگاہ کرنے کے لیے نذیر ہمارے پاس آئے لیکن ہم نے ان کو جھٹلا دیا اور یہ کہہ دیا کہ خدا نے کوئی چیز نہیں اتاری ہے، تم محض ہم پر دھونس جمانے کے لیے یہ دعویٰ کر رہے ہو کہ تم کو خدا نے بھیجا ہے کہ ہمیں اس دن سے آگاہ کرو اور خدا کی خوشنودی کے لیے جن تیاریوں کی ضرورت ہے ان کی ہمیں تعلیم دو۔
Ayah 67:9

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے کہ ایک خبردار کرنے والا آیا تو سہی لیکن ہم نے اس کو جھٹلادیا اور کہہ دیا کہ اللہ نے کوئی چیز نہیں اتاری، تم لوگ بس ایک بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو !

جہنم کے جوش غضب کی تصویر: یہ جہنم کے غصہ کی تعبیر ہے کہ معلوم ہو گا کہ وہ غضب سے پھٹی پڑ رہی ہے۔ اس کے اس غیظ و غضب کی وجہ ظاہر ہے کہ یہی ہو گی کہ اس کے نزدیک اس ہولناک دن سے جن لوگوں نے بے پروا ہو کر زندگی گزاری انھوں نے بالکل آنکھیں اور کان بند کر کے زندگی گزاری۔ ورنہ اس دنیا میں نہ قیامت اور جزا و سزا کی نشانیوں کی کمی تھی اور نہ کبھی یہ منذروں سے خالی رہی۔ پس جن لوگوں نے آنکھیں اور کان رکھتے ہوئے ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا وہ ہرگز کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ جہنم کے داروغے ان کو ملامت کریں گے کہ بدبختو! کیا تمہارے پاس اس دن سے آگاہ کرنے کے لیے کوئی نذیر نہیں آیا کہ تم نے اپنی یہ شامت بلائی! اس وقت یہ لوگ اعتراف کریں گے کہ اس میں تو شبہ نہیں کہ اس سے آگاہ کرنے کے لیے نذیر ہمارے پاس آئے لیکن ہم نے ان کو جھٹلا دیا اور یہ کہہ دیا کہ خدا نے کوئی چیز نہیں اتاری ہے، تم محض ہم پر دھونس جمانے کے لیے یہ دعویٰ کر رہے ہو کہ تم کو خدا نے بھیجا ہے کہ ہمیں اس دن سے آگاہ کرو اور خدا کی خوشنودی کے لیے جن تیاریوں کی ضرورت ہے ان کی ہمیں تعلیم دو۔ ’إِنْ اَنتُمْ إِلَّا فِیْ ضَلَالٍ کَبِیْرٍ‘۔ یعنی یہی نہیں کہ ہم نے ان کی کوئی بات مانی نہیں اور اپنی گمراہی پر متنبہ نہیں ہوئے بلکہ الٹے ان کو گمراہ ٹھہرایا کہ ہم نہیں بلکہ تم ایک بہت بڑی گمراہی میں مبتلا ہو کر ہمیں یہ ڈراوے سنا رہے ہو کہ مرکھپ جانے کے بعد ہم ازسرنو زندہ کیے جائیں گے، ہمارے ایک ایک قول و فعل کا حساب ہو گا اور ہم اور ہمارے آباء و اجداد جہنم میں پڑیں گے۔ ’اَنتُمْ‘ کی ضمیر جمع ہے حالانکہ اوپر لفظ ’نَذِیْرٌ‘ واحد ہے اس سے یہ اشارہ نکل رہا ہے کہ یہ لوگ یہ اعتراف بھی کریں گے کہ یہی جواب ہم نے ہر اس شخص کو دیا جس نے ہمیں اس دن سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ خواہ وہ اللہ کا رسول رہا ہو یا اس کے ساتھی رہے ہوں۔
Ayah 67:10

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے کہ ہم سننے والے یا سمجھنے والے ہوتے تو ہم دوزخ والوں میں سے نہ بنتے

جہنمیوں کا اعتراف کہ انھوں نے اپنی عقل سے کام نہیں لیا: اتنا ہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر وہ یہ اعتراف بھی کریں گے کہ اگر وہ بات کے سننے والے اور اپنی عقل سے کام لینے والے ہوتے تو حقیقت اتنی واضح تھی کہ وہ بھی ہدایت پر اور جنت کے حق دار ہوتے، جہنم والوں کے ساتھی نہ بنتے۔ لیکن نہ ہم نے ناصحوں کی بات سننے کے لیے اپنے کان کھولے اور نہ خود اپنی عقل سے کام لیا اس وجہ سے اس انجام بد کو پہنچے۔
Ayah 67:11

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

تو وہ اپنے گناہ کا اعتراف کرلیں گے۔ پس لعنت ہو دوزخ والوں پر ! !

فرمایا کہ اس طرح وہ اپنے گناہ کا اعتراف کر لیں گے اور خود اپنے اعتراف کی رو سے جہنم کے مستحق بن جائیں گے تو ان بدبختوں پر خدا کی پھٹکار ہو جنھوں نے جانتے بوجھتے اپنے لیے جہنم کا سامان کیا۔
Ayah 67:12

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

بیشک جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں غیب میں رہتے، ان کے لیے مغفرت اور ایک بہت بڑا اجر ہے

منکرین قیامت کے انجام کے بعد یہ ان لوگوں کا صلہ بیان فرمایا ہے جو قیامت کو آنکھوں سے دیکھے بغیر، اس دنیا میں اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے بے شک ایک عظیم رحمت و مغفرت اور ایک بہت بڑا اجر ہے۔ عقل سے کام لینے والوں کا صلہ: ’یَخْشَوْنَ رَبَّہُم بِالْغَیْْبِ‘ کے الفاظ سے ان لوگوں کا صاحب عقل و بصیرت ہونا واضح ہوتا ہے کہ انھوں نے کان اور آنکھیں بند کر کے زندگی گزاری اور نہ اس بات کے منتظر رہے کہ جب سب کچھ سامنے آ جائے گا تب مانیں گے بلکہ اس کائنات کی نشانیوں پر انھوں نے غور کیا، جن لوگوں نے ان کو ہوشیار کیا ان کی باتیں انھوں نے توجہ سے سنیں اور ان پر غور کیا اس وجہ سے یہ مستحق ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل عظیم سے نوازے۔ اس دنیا میں انسان کا اصلی امتحان یہی ہے کہ وہ اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر ان حقائق پر ایمان لائے جن کی خبر اللہ کے رسولوں نے دی ہے۔ جس نے یہ امتحان پاس کر لیا وہ اللہ تعالیٰ کے ہر انعام کا حق دار ہے اور جو اس میں ناکام رہا وہ جانور بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہے اگرچہ وہ کتنا ہی بڑا فلسفی اور سائنس دان مانا گیا ہو۔
Ayah 67:13

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

اور تم اپنی بات کو چھپا کر کہو یا علانیہ کہو وہ اس کو جانتا ہے۔ وہ تو دلوں کے بھیدوں سے بھی باخبر ہے۔

منکروں کو تہدید مومنوں کو تسلی: یہ آیتیں تہدید کے محل میں بھی ہو سکتی ہیں اور تسلی کے محل میں بھی۔ یہاں یہ دونوں ہی کے محل میں ہیں۔ اوپر جن منکرین قیامت کا ذکر ہوا ہے ان کے لیے ان میں تہدید و وعید ہے کہ اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ تمہارا رب تمہارے کسی جلی یا خفی سے بے خبر رہ سکتا ہے۔ تم پوشیدہ طور پر اپنی بات کہو یا علانیہ طور پر، وہ سب کو جانتا ہے۔ وہ سینوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے تو اس کے سامنے سرّ و علانیہ کا کیا سوال! منکرین قیامت کے بعد غیب میں رہتے خدا سے ڈرنے والوں کا بیان ہوا ہے۔ ان کے لیے اس میں تسلی ہے کہ تمہارے کسی قول و فعل کا غیب یا شہادت میں ہونا خدا کے لیے بالکل یکساں ہے۔ رات کی خلوتوں میں تم اپنے رب سے راز و نیاز کی جو باتیں کرتے ہو وہ بھی اس کے علم میں ہیں اور دن کی جلوتوں میں جو کچھ تم کرتے ہو اور کرو گے وہ بھی اس کے سامنے ہے اور تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے وہ بھی اس سے مخفی نہیں تو جب اس سے کوئی چیز مخفی نہیں تو اطمینان رکھو کہ تمہاری رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی نیکی رائگاں جانے والی نہیں بلکہ تم انے ہر عمل کا بھرپور صلہ پاؤ گے۔
Ayah 67:14

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

کیا وہ نہ جانے لگا جس نے پیدا کیا ہے تو بڑا ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے

’اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ‘۔ یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں اللہ تعالیٰ تمہارے ہر ظاہر و باطن سے آگاہ ہے یا اسے آگاہ ہونا چاہیے۔ فرمایا کہ جب وہ تمہارا خالق ہے اور اس کے خالق ہونے سے کسی کے لیے مجال انکار نہیں تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ خالق اپنی مخلوق سے ناواقف ہو۔ جس نے تمام قابلیتوں اور صلاحیتوں کو وجود بخشا اور جس کے حکم سے ساری مشینری حرکت کر رہی ہو وہ اپنی مخلوق کی کسی نقل و حرکت سے کس طرح بے خبر رہ سکتا ہے! ’وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ‘۔ ’لَطِیْفٌ‘ کے معنی، جیسا کہ جگہ جگہ اس کی وضاحت ہو چکی ہے، باریک بین اور دقیقہ رس کے ہیں۔ فرمایا کہ حقیقی باریک بین اور باخبر تو وہی ہے۔ دوسرا اگر کسی کی زندگی کے کسی پہلو سے واقف ہوتا ہے تو اس کی واقفیت جزوی اور ناتمام ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ سب کو وجود میں لانے والا اور سب کو رزق و زندگی بخشنے والا ہے اس وجہ سے اس کا علم ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ شرک کے عوامل میں سے ایک بہت بڑا عامل وہ گمراہی بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم کے باب میں قوموں کو لاحق ہوئی۔ جب تک خدا کے علیم و خبیر ہونے کا صحیح تصور دل میں راسخ نہ ہو اس وقت تک انسان کے اندر نہ اس کی خشیت پیدا ہو سکتی اور نہ وہ خدا کے اعتماد و توکل کی حقیقی لذت سے آشنا ہو سکتا۔
Ayah 67:15

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو ایک فرمانبردار ناقہ کے مانند بنایا تو تم اس کے مونڈھوں میں چلو پھرو اور اپنے رب کے بخشے ہوئے رزق میں سے بر تو اور اس کی طرف پھر اکٹھے ہونا ہے

زمین کے آثار ربوبیت کی طرف اشارہ: اوپر آسمان کے عجائب قدرت و حکمت سے استشہاد کیا تھا یہ زمین کے آثار ربوبیت سے قیامت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ فرمایا کہ وہی خدا ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو نہایت مطیع و فرماں بردار بنایا ہے کہ تم اس کی بلندیوں اور پستیوں، اس کی وادیوں اور کوہساروں میں چلو پھرو اور اس میں تمہارے رب نے تمہارے لیے جو رزق پھیلا رکھا ہے اس سے بہرہ مند ہو اور اس حقیقت کو یاد رکھو کہ ایک دن اسی کے حضور میں سب کو اکٹھے ہونا ہے۔ لفظ ’ذَلُوْلٌ‘ اور ’مَنَاکِبُ‘ پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس آیت میں ایک تمثیل مضمر ہے۔ یعنی اس زمین کی مثال ایک فرماں بردار ناقہ سے دی گئی ہے۔ اس کے اندر جو درے اور راستے اور جو وادی و کہسار ہیں ان کو ناقہ کے ’مناکب‘ یعنی مونڈھوں اور کندھوں سے تشبیہ دی گئی ہے اور انسانوں کو اس ناقہ کے جسم پر اس طرح فرض کیا گیا ہے گویا وہ اس کے مونڈھوں اور کندھوں میں جوئیں ہوں ان کی پرورش کا سارا سامان ناقہ کے مونڈھوں اور شانوں ہی میں موجود ہوتا ہے۔ وہ انہی کے اندر چلتی پھرتی بھی ہیں اور وہیں سے اپنی غذا بھی حاصل کر لیتی ہیں۔ ربوبیت کا لازمی تقاضا: ’کُلُوْا مِنۡ رِّزْقِہٖ وَإِلَیْْہِ النُّشُوْرُ‘۔ یہ وہ اشارہ ہے جو ربوبیت کا یہ اہتمام و انتظام زبان حال سے انسان کو کر رہا ہے کہ اس رزق و امن سے فائدہ اٹھاؤ اور اس حقیقت کو یاد رکھو کہ جس خدا نے تمہارے لیے بلا استحقاق یہ اہتمام کیا ہے وہ تمہیں شتر بے مہار اور غیر مسؤل بنا کے چھوڑے نہیں رکھے گا بلکہ ایک دن تمہیں مرنا ہے اور مرنے کے بعد پھر اٹھنا اور اپنے رب کی طرف لازماً جانا ہے۔ اس لیے کہ یہ بات عقل اور فطرت کے بالکل خلاف ہے کہ انسان کو نعمتیں اور حقوق تو حاصل ہوں لیکن وہ مسؤلیت سے بری رہے۔
Ayah 67:16

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نچنت ہوگئے کہ وہ تمہارے سمیت زمین کو دھنسا دے اور وہ وقعتا بگئٹ چل پڑے

ایک مور ناتواں کے لیے اپنی ہستی پر غرور جائز نہیں: اوپر کی آیت میں انسان کی ناتوانی اور بے حقیقتی کا جو ذکر ہے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ تنبیہ ہے کہ جو انسان اس زمین کے وسیع و عریض اطراف و اکناف میں جوؤں کی طرح رینگ رہا ہے اس کو اپنی طاقت اور اپنے وسائل پر اتنا غرہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسے خدا کے عذاب سے ڈرایا جائے تو وہ اس کا مذاق اڑائے کہ اس پر کدھر سے عذاب آئے گا اور کون عذاب لائے گا! فرمایا کہ کیا تم اس عظیم ہستی سے جو آسمانوں میں ہے بالکل بے خوف اور نچنت ہو گئے کہ وہ زمین کو تمہارے سمیت دھنسا دے اور وہ بالکل بَگ ٹُٹ ہو کر کسی سمت کو چل پڑے! ’مُوْرٌ‘ کے معنی تیزی سے حرکت کرنے کے ہیں، جیسا کہ ’یَوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًا‘ (الطور ۵۲: ۹) سے واضح ہے۔ اس کے مختلف ترجمے لوگوں نے کیے ہیں لیکن میرا ذہن بار بار اس طرف جاتا ہے کہ یہاں یہ بَگ ٹُٹ چل پڑنے کے معنی میں ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ’مور‘ کے اصل معنی حرکت سریع ہی کے ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اوپر اس زمین کو ناقۂ ذلول (فرماں بردار اونٹنی) سے تشبیہ دی ہے۔ اس تعلق سے دیکھیے تو یہ معنی یہاں زیادہ موزوں معلوم ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تو خدا کی عنایت ہے کہ اس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے اور وہ تمہاری خدمت کے لیے ایک فرماں بردار اونٹنی بنی ہوئی ہے لیکن خدا اس کی باگ ذرا ڈھیلی کر دے تو پھر دیکھو وہ کس طرح بھاگ کھڑی ہوتی ہے کہ کسی کے سنبھالے نہ سنبھلے۔
Ayah 67:17

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نچنت ہوگئے کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی ہوا مسلط کر دے تو تم جان لو گے کہ میرا انداز کیسا ہوتا ہے۔

فضائی عذاب کی دھمکی: اوپر کی آیت میں قدموں کے نیچے سے کسی عذاب کے نمودار ہو جانے کا اشارہ تھا یہ سر کے اوپر سے کسی عذاب کے آ دھمکنے کی دھمکی ہے کہ کیا تم اپنے اس خداوند سے، جو آسمان میں ہے نچنت ہو کہ وہ تم پر کنکر پتھر برسا دینے والی ہوا مسلط کر دے۔ ’حَاصِبٌ‘ کنکر پتھر برسا دینے والی طوفانی ہوا کو کہتے ہیں۔ اس کی وضاحت ہم اس کتاب میں جگہ جگہ کر چکے ہیں۔ سورۂ ذاریات کی تفسیر میں ہم نے اس کے متعلق استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق بھی نقل کی ہے۔ پچھلی قوموں کی ہلاکت میں اس کو ایک اہم عامل کی حیثیت حاصل رہی ہے، خاص طور پر قوم لوط تو اسی عذاب سے ہلاک ہوئی۔ قریش کو قوم لوط کی تباہ شدہ بستیوں پر سے گزرنے کے مواقع اکثر حاصل ہوتے رہتے تھے اس وجہ سے قوم لوط کی تمثیل ان کے لیے موثر ہو سکتی تھی۔ ’نَذِیْرِ‘ یہاں مصدر کے معنی میں ہے اور اس معنی میں اس کا استعمال معروف ہے۔ یعنی آج تو تمہیں میرا انذار مذاق معلوم ہوتا ہے لیکن جب وہ سامنے آ جائے گا تب تمہیں پتہ چلے گا کہ جس چیز کا تم مذاق اڑا رہے ہو وہ کس طرح حقیقت بنتی ہے اور کیسی ہولناک شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔
Ayah 67:18

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے گزرے تو دیکھو کیسی ہوئی ان پر میری پھٹکار۔

تاریخ سے سبق لینے کی ہدایت: یہ قریش کو تاریخ سے سبق لینے کی ہدایت ہے کہ یہ عذاب اگر ان کے اوپر ابھی نہیں آیا ہے تو اس کے سبب سے اس کا مذاق نہ اڑائیں۔ یہ کوئی دانش مندی کی بات نہیں ہے کہ جو کچھ آدمی کے اپنے سر پر گزر جائے اسی کو مانے بلکہ دوسری قوموں کی سرگزشت سے انھیں سبق لینا چاہیے جن کو انہی کی طرح انذار کیا گیا لیکن انھوں نے اس کا مذاق اڑایا بالآخر وہ عذاب ان پر مسلط ہو کر رہا جس کا انھوں نے مذاق اڑایا۔ ’فَکَیْْفَ کَانَ نَکِیْرِ‘ تو دیکھیں کس طرح ان پر میری پھٹکار ہوئی! یعنی میں نے کس نفرت و بیزاری کے ساتھ ان کو اپنے عذاب کا ہدف بننے کے لیے چھوڑ دیا اور کوئی ان کو بچانے والا نہ بن سکا۔
Ayah 67:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا، وہ پروں کو پھیلائے اڑتے ہیں اور ان کو سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ ان کو خدائے رحمان ہی سنبھالتا ہے۔ بیشک وہی ہر چیز کی نگرانی رکھنے والا ہے۔

ہر چیز خدا ہی کے تھامے تھمی ہوئی ہے: یعنی اس دنیا میں کوئی چیز بھی، خواہ اوپر ہو یا نیچے، نہ خود کار ہے نہ اپنے بل بوتے پر ٹکی ہوئی ہے بلکہ اللہ ہی اس کو حرکت دیتا ہے اور وہی اس کو تھامتا ہے۔ زمین ہمارے قدموں کے نیچے ٹکی ہوئی ہے تو اس وجہ سے ٹکی ہوئی ہے کہ خدا نے اس کو ٹکا رکھا ہے۔ اگر وہ اس کو نہ تھامے رکھے تو، جیسا کہ اوپر اشارہ ہے، وہ سب کے سمیت کہیں سے کہیں جا نکلے۔ اسی طرح آسمان اگر ہمارے سروں پر تھما ہوا ہے تو خود نہیں تھما ہوا ہے بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے تھام رکھا ہے۔ اگر وہ اس کو چھوڑ دے تو کیا عجب وہ ہمارے اوپر ہی گر پڑے۔ اسی حقیقت کو یہاں مثال سے سمجھایا ہے کہ کیا یہ لوگ اپنے سروں پر پرندوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ پروں کو پھیلائے ہوئے بھی اڑتے ہیں اور پروں کو سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ ان دونوں ہی حالتوں میں خدائے رحمان ہی ہے جو ان کو فضا میں تھامے رہتا ہے۔ وہ نہ تھامے تو وہ فوراً گر پڑیں۔ مطلب یہ ہے کہ انہی پر قیاس کرو اس فضائے لامتناہی کے کواکب و نجوم اور اس کے ثوابت اور سیاروں کو۔ وہ اگر ٹکے ہوئے ہیں تو اس وجہ سے کہ خدا نے ان کو سنبھال رکھا ہے ورنہ ان میں سے کوئی ایک بھی گر کر پورے کرۂ زمین کو تہ و بالا کر دے۔ ’اِنَّہُ بِکُلِّ شَیْءٍ بَصِیْرٌ‘۔ یعنی یہ خدائے رحمان ہی کی رحمت ہے کہ وہ ہر چیز کی دیکھ بھال کر رہا ہے اور اس کو سنبھالے ہوئے ہے ورنہ کسی چیز کا کوئی ایک پیچ بھی ذرا سا ڈھیلا ہو جائے تو یہ سارا عالم چشم زدن میں تباہ ہو جائے۔
Ayah 67:20

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

بتائو تمہارے پاس وہ کون سا لشکر ہے جو خدائے رحمان کے مقابل میں تمہاری مدد کرسکے گا ! یہ کافر بالکل دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں !

کوئی فوج خدائی حملہ کا دفاع نہیں کر سکتی: یعنی اگر تم عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو کہ تمہیں دکھا دیا جائے تو تمہارے پاس کون سا لشکر ہے جو خدائے رحمان کے مقابل میں تمہاری مدد کرے گا؟ ’اِنِ الْکَافِرُوْنَ إِلَّا فِیْ غُرُورٍ‘۔ یہ ان لوگوں کی بدبختی پر اظہار افسوس ہے کہ ان کے طنطنہ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بڑا ہی ناقابل تسخیر دفاعی حصار ان لوگوں نے تعمیر کر رکھا ہے جس کو کوئی طاقت بھی توڑ نہیں سکتی لیکن یہ لوگ سخت دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ عذاب الٰہی کا کوئی معمولی سا جھونکا بھی آ گیا تو ان کے سارے قلعے اور حصار خس و خاشاک کی طرح اڑ جائیں گے۔
Ayah 67:21

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

بتائو، وہ کون ہے جو تمہیں روزی دے گا اگر وہ اپنی روزی روک لے ! بلکہ یہ لوگ سر کشی اور حق بیزاری پر اڑ گئے ہیں !

قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ’رِزُق‘ یہاں بارش کی تعبیر ہے جو رزق کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ تعبیر قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوئی ہے۔ فرمایا کہ فرض کرو اللہ تعالیٰ اس بارش ہی کو روک لیتا ہے جو تمہارے لیے رزق رسانی کا ذریعہ ہے تو کیا تمہارے پاس ہے کوئی ایسا زور آور جو اس بند دروازے کو ازسر نو کھول دے؟ ’بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَنُفُوْرٍ‘۔ یہ ان لوگوں کی ہٹ دھرمی پر اظہار افسوس ہے کہ اگرچہ ان میں سے کسی سوال کا جواب بھی یہ اثبات میں دینے کی جرأت نہیں کر سکتے لیکن اس کے باوجود یہ اپنی سرکشی اور حق بیزاری پر بضد ہیں۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ سوچنے سمجھنے والے ہوں تو ان کو بات سمجھائی جا سکتی ہے لیکن ضد اور ہٹ دھرمی کا کیا علاج!
Ayah 67:22

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

کیا وہ جو اوندھے منہ چل رہا ہے راہ یاب ہونے والا بنے گایا وہ جو سیدھا ایک سیدھی راہ پر چل رہا ہے ؟

گمراہی کی اصل علت: اب یہ وضاحت فرمائی ہے اس بات کی کہ کیوں ان لوگوں پر ہدایت کی راہ نہیں کھل رہی ہے اور سمجھانے کے باوجود یہ گمراہی میں بھٹک رہے ہیں؟ فرمایا کہ یہ لوگ کتے کے مانند اپنی خواہشوں کے غلام ہیں جس طرح کتا زمین کو سونگھتا ہوا چلتا ہے کہ شائد کوئی چیز کھانے کی مل جائے اسی طرح ان لوگوں کی رہنما بھی عقل کی جگہ ان کی خواہش ہے اور یہ سرجھکائے، آنکھ بند کیے، اپنی خواہش کے پیچھے چل رہے ہیں۔ خواہش کے پیچھے چلنے والا کبھی ہدایت کی راہ نہیں پا سکتا۔ ہدایت کی راہ اس کو ملتی ہے جو سیدھی راہ پر، سر اٹھا کر، دہنے بائیں اور آگے پیچھے کا جائزہ لیتا ہوا چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی وجہ سے انسان کو مستوی القامت پیدا کیا، جانوروں کی طرح زمین کی طرف جھکا ہوا نہیں پیدا کیا، لیکن بہت سے انسان جانوروں ہی کی روش کی تقلید کرتے ہیں اور اس طرح وہ اس اعلیٰ خصوصیت کو کھو بیٹھتے ہیں جو انسان کا اصلی شرف اور تمغۂ امتیاز ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ خواہشوں کے پیچھے چلنے والوں کی مثال قرآن میں جگہ جگہ جانوروں بالخصوص کتوں سے دی گئی ہے۔
Ayah 67:23

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

کہہ دو کہ وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے۔ پر تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو !

یہ ان لوگوں کی محرومی اور ناقدرشناسی پر اظہار افسوس ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے تو تمہیں نہایت بلند مقصد کے لیے سمع و بصر اور دل و دماغ کی نہایت اعلیٰ صلاحیتوں سے آراستہ کر کے پیدا کیا لیکن تم نہایت ناقدرے اور ناشکرے نکلے کہ ان صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے بجائے تم نے کتوں اور چوپایوں کی تقلید کی اور عقل و دل کی جگہ اپنی خواہشوں کو اپنا امام بنایا۔
Ayah 67:24

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

کہہ دو کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا ہے اور تم اسی کی طرف اکٹھے کیے جائو گے

اصل حقیقت کی یاددہانی نئے اسلوب میں: اب یہ اس اصل حقیقت کی پھر یاددہانی کر دی کہ اگر تم عقل سے کام لو تو یہ واضح حقیقت نہایت آسانی سے سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ جس خدا نے تم کو زمین میں بویا اور تمہاری پرورش کر رہا ہے وہ تم کو یونہی چھوڑے نہیں رکھے گا بلکہ وہ اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹ کر اپنے کھلیان میں جمع کرے گا۔ پھر اس کے دانے کو بھس سے الگ کرے گا اور اس کو کھتے میں جمع کر کے بھس کو جلا دے گا۔ ایک کسان جب اپنے کھیت میں کوئی فصل بوتا ہے، اس کو کھاد اور پانی دیتا ہے، چرند و پرند سے اس کی حفاظت کرتا ہے تو ہر شخص بن بتائے یہ جانتا ہے کہ ایک دن وہ اس کو کاٹے گا، اور اس کے دانے اور بھس کو الگ الگ کرے گا۔ آخر یہی واضح حقیقت خدا کے متعلق تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آتی؟ کیا تم کو خدا نے بالکل عبث پیدا کیا ہے اور تمہاری ربوبیت کا یہ سارا سامان بالکل بے مقصد ہے؟ یہ امر واضح رہے کہ قرآن نے یہاں جو حقیقت نہایت سادہ لفظوں میں بیان کر دی ہے قدیم صحیفوں، خصوصاً انجیل میں، مختلف اسلوبوں سے، بیان ہوئی ہے۔ یہ آیت سورۂ مومنون میں بھی گزر چکی ہے اور ہم وہاں بھی اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔ تفصیل مطلوب ہو تو آیت ۷۹ پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
Ayahs 67:25–26

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ یہ دھمکی کب پوری ہوگی، اگر تم لوگ سچے ہو !

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

کہہ دو ، یہ علم اللہ ہی کے پاس ہے، میں تو بس ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔

منکرین کا ایک سفیہانہ معارضہ: یعنی یہ سب کچھ سننے کے بعد اگر وہ کہتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ اچھا یہ وعدہ کب پورا ہو گا؟ ان کے پاس قیامت کو جھٹلانے کی واحد دلیل یہی ہے کہ اس کا آنا ضروری ہے تو وہ آ کیوں نہیں جاتی اور اس سے ڈرانے والے ٹھیک ٹھیک اس کا وقت کیوں نہیں بتاتے؟ ان کے خیال میں چونکہ وہ اس کا وقت نہیں بتاتے یا بتا سکتے اس وجہ سے جھوٹے ہیں۔ فرمایا کہ ان نادانوں کو یہ جواب دے دو کہ میں تو بس صرف ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ اس کے وقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ وہ کب آئے گی پر وہ آئے گی ضرور۔ یہ معارضہ چونکہ ایک بالکل ہی لغو معارضہ ہے اس وجہ سے یہاں اس کے جواب کی زیادہ تفصیل نہیں کی ہے لیکن دوسرے مقامات میں اس کی تفصیل بھی فرمائی ہے کہ کسی حقیقت کو مجرد اس بنیاد پر جھٹلانا کہ اس کے ظہور کا صحیح وقت نہیں بتایا جا سکتا، کھلی ہوئی سفاہت ہے۔ اس دنیا کے کتنے واقعات کا تجربہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کرتے ہیں جن کے ظہور کا صحیح وقت اگرچہ کوئی نہیں بتا سکتا لیکن ان کے وقوع کو سب مانتے ہیں۔
Ayah 67:27

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

پس جب وہ اس کو دیکھیں گے قریب آتے تو ان لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنہوں نے کفر کیا۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کا تم مطالبہ کر رہے تھے

منکرین کے غرور کی بے ثباتی: یعنی ابھی تو بڑے طنطنہ اور غرور سے یہ عذاب کو دکھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن یہ ساری شیخی اسی وقت تک ہے جب تک وہ سامنے نہیں آ جاتا۔ جب اس کو قریب آتا دیکھیں گے تو ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور سب کی سٹی بھول جائے گی۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہ تو وہی چیز ہے جس کا مطالبہ کر رہے تھے تو اب اس کو دیکھتے ہی بدحواسی کیوں طاری ہو رہی ہے! یہ تو تمہاری مانگی ہوئی مراد ہے تو اب اس کا مزہ چکھو!
Ayah 67:28

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

ان سے پوچھو، بتائو اگر اللہ مجھ کو اور ان لوگوں کو جو میرے ساتھ ہیں ہلاک کر دے یا ہم پر رحم فرمائے تو کافروں کو ایک درد ناک عذاب سے کون پناہ دے گا !

طفل تسلیوں کے بجائے حقیقت کو مواجہہ کرنے کی دعوت: جب کفار کو عذاب سے ڈرایا جاتا تو وہ اپنے عوام کو مطمئن رکھنے کے لیے یہ بھی کہتے کہ اس شخص کی دھونس میں نہ آؤ۔ یہ عذاب وغیرہ کی دھمکی محض اس کی خطابت اور شاعری ہے۔ بہت جلد دیکھو گے کہ یہ بھی ختم ہو جائے گا اور اس کی یہ ساری باتیں بھی ہوا میں اڑ جائیں گی۔ یہ ہمیں عذاب سے ڈراتا ہے حالانکہ ہم اس کے اور اس کے ساتھیوں ہی کے لیے گردش روزگار کے منتظر ہیں۔ قرآن میں یہ مضمون جگہ جگہ بیان ہوا ہے۔ ہم سورۂ طور سے ایک مثال پیش کرتے ہیں۔ فرمایا ہے: أَمْ یَقُولُوۡنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوۡنِ ۵ قُلْ تَرَبَّصُوۡا فَإِنِّیْ مَعَکُمۡ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَ (الطور ۵۲: ۳۰-۳۱) ’’کیا یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے اور ہم اس کے لیے گردش روزگار کا انتظار کر رہے ہیں۔ کہہ دو، تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ مطلب یہ ہے کہ تم اپنے گمان کے مطابق ہمارے لیے گردش روزگار کے منتظر ہو اور ہم تمہارے لیے اس عذاب کے منتظر ہیں جس سے ڈرانے کے لیے خدا نے ہمیں ہدایت فرمائی ہے۔ ہم تمہارے گمان کے باب میں تم سے جھگڑنا نہیں چاہتے۔ یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ ہمیں ہلاک کرے گا یا ہم پر رحم فرمائے گا۔ ہم نے اسی پر بھروسہ کیا ہے اس وجہ سے امید یہی ہے کہ وہ ہم پر رحم فرمائے گا لیکن فرض کیا کہ تمہارا ہی گمان سچا ثابت ہوتا ہے اور ہم گردش روزگار کے شکار ہو جاتے ہیں تو اس میں تمہارے لیے تسلی کا کیا پہلو ہے؟ آخر تم کو خدا کے قہر و غضب سے بچانے والا کون بنے گا؟ قیامت بہرحال شدنی ہے۔ اس کے شدنی ہونے کے دلائل اٹل ہیں۔ جزا اور سزا یقینی ہے جس کے انکار یا جس سے فرار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کافر اور مومن، نیکوکار اور بدکار دونوں یکساں نہیں ہو سکتے، یہ ایک مسلم حقیقت ہے تو تھوڑی دیر کے لیے مان لو کہ ہم فنا ہو گئے تو اس سے تمہارا کیا بھلا ہو گا، تمہیں تو پھر بھی ان حقائق کا مواجہہ کرنا پڑے گا جن سے ہم تمہیں آگاہ کر رہے ہیں! مطلب یہ ہے کہ اس قسم کی طفل تسلیوں سے اپنی شامت کو دعوت نہ دو بلکہ ع ڈرو اس سے جو وقت ہے آنے والا
Ayah 67:29

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

کہہ دو رحمان ہے۔ ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور اسی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے تو تم عنقریب جان لوگے کہ کھلی ہوئی گمراہی میں کون ہے !

یعنی ان لوگوں کو بتا دو کہ ہم اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کرتے کہ ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہو گا۔ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ رحمٰن و رحیم ہے، ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے اس پر بھروسہ کیا ہے اس کی وجہ سے ہمیں امید یہی ہے کہ ہمارے حال پر وہ رحم فرمائے گا۔ اس معاملے میں اگر تم جھگڑتے ہو تو انتظار کرو جلد تم جان لو گے کہ کھلی ہوئی گمراہی میں کون ہے؟ ہم کہ تم؟
Ayah 67:30

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

ان سے پوچھو کہ بتائو اگر تمہارا یہ پانی نیچے اتر جائے تو تمہارے لیے صاف و شفاف پانی کون لائے گا ؟

’مَآءٌ مَّعِیْنٌ‘ صاف شفاف، خالص اور بے آمیز پانی۔ ایک قریب الفہم استدلال: پانی کے نیچے اتر جانے کی دو شکلیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ پانی کی سطح ہی اتنی نیچی ہو جائے کہ زمین سے پانی حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے ہم معنی بن جائے۔ کتنے علاقے ہیں جہاں پانی کی سطح اتنی نیچی ہے کہ وہاں کنوئیں تو درکنار ٹیوب ویل سے بھی پانی حاصل کرنا ایک کار عظیم ہے۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ بارش نہ ہونے یا کم ہونے کے سبب سے نہروں، چشموں اور ندیوں کا پانی کم ہو کر گدلا ہو جائے۔ یہاں یہ دونوں مفہوم لینے کی گنجائش ہے۔ ’مَآءٌ مَّعِیْنٌ‘ کے لفظ کی وجہ سے میرا ذہن اس دوسرے مفہوم کی طرف جاتا ہے۔ عذاب الٰہی کا مذاق اڑانے والے متمردین کو اوپر متعدد قریب الوقوع چیزوں سے ڈرایا گیا ہے کہ اس کو بعید از امکان نہ خیال کرو۔ خدا جہاں سے چاہے تمہیں پکڑ سکتا ہے۔ اسی سلسلہ کی یہ آخری بات فرمائی کہ دور کیوں جاتے ہو اپنے اس پانی ہی کو دیکھو کہ اگر اس کی سطح نیچی ہو جانے کے سبب سے یہ گدلا ہو جائے تو تمہیں صاف شفاف، تازہ و شیریں پانی کون فراہم کر سکتا ہے؟ تو جس خدا کے قبضہ میں تمہاری زندگی کی رگ رگ ہے اس سے نچنت اور بے خوف ہونے کے کیا معنی!