Ayahs 68:40–41فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ ان میں سے کون اس بات کا ضامن بنتا ہے کہ ان کے لیے خدا نے نجات و فلاح کا غیر مشروط ابدی پروانہ جاری کر رکھا ہے؟ اگر ان کے کچھ شرکاء ہیں جن کی نسبت ان کا گمان ہے کہ وہ ان کے اوپر خدا کو ہاتھ ڈالنے نہ دیں گے تو ان کو پیش کریں اگر وہ اپنے اس دعوے میں سچے ہیں۔ یعنی ان کو دکھائیں ورنہ کم از کم ان کے نام ہی لیں تاکہ دوسروں کو بھی ان کی حیثیت و حقیقت کا کچھ اندازہ ہو۔۔۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مشرکین کو اپنے جن معبودوں پر ناز تھا کہ وہ خدا کے بڑے چہیتے ہیں وہ ان کو اس کی پکڑ سے بچا لیں گے ان کی بے حقیقتی قرآن نے ہر پہلو سے اس طرح واضح کر دی ہے کہ اس چیلنج کے جواب میں وہ ان میں سے کسی کا نام لینے کی جرأت نہیں کر سکتے تھے۔
Ayahs 68:42–43’کَشْف ساق‘ کا مفہوم: ’کَشْف ساق‘ شدت امر کی تعبیر کے لیے عربی زبان کا معروف محاورہ ہے۔ شعرائے جاہلیت نے مختلف طریقوں سے اس کو استعمال کیا ہے۔ حاتم کا مشہور شعر ہے:
اخوا لحرب ان عضّت بہ الحرب عضّھا
وان شمرت عن ساقہا الحرب شمرا
(ممدوح جنگ کا مرد میدان ہے۔ اگر جنگ اس پر حملہ آور ہوتی ہے تو وہ بھی اس سے نبر آزما ہوتا ہے۔ اور اگر گھمسان کا رن پڑتا ہے تو وہ بھی اس میں بے خطر کود پڑتا ہے)۔
اس شعر میں گھمسان کے رن کے لیے ’شمرت عن ساقھا الحرب‘ کا محاورہ استعمال کیا ہے۔
شدت امر کی تعبیر کے لیے اس محاورے کے وجود میں آنے کی وجہ یہ ہوئی کہ جب کوئی بری ہلچل برپا ہوتی ہے تو اس وقت کنواریاں اور شریف زادیاں بھی اپنے پائنچے اٹھا کر بھاگنے پر مجبور ہوتی ہیں جس سے ان کی پنڈلیاں اور ان کے پاؤں کے زیورات کھل جاتے ہیں۔ چنانچہ ایک شاعر کہتا ہے:
تذھل الشیخ عن بنیہ
وتبدی عن خدام العقیلۃ العذراء
(ایسی ہلچل جو بوڑھوں کو ان کی اولاد سے غافل کر دے گی اور کنواریوں کی پنڈلیوں اور ان کی پازیبوں کو بے نقاب کر دے گی)۔
مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ تو یہ لذیذ خواب دیکھ رہے ہیں کہ جس عیش میں یہ یہاں ہیں اسی عیش میں وہاں بھی رہیں گے لیکن وہ دن بڑی ہلچل کا ہو گا۔ آج تو ان کو خدا کے آگے سربسجود ہونے کی دعوت دی جاتی ہے تو اکڑتے ہیں لیکن اس دن سجدے کو کہا جائے گا تو سجدہ کے لیے جھکنا چاہیں گے لیکن ان کی کمریں اس طرح تختہ بن جائیں گی کہ کوشش کے باوجود نہیں جھک سکیں گے۔ ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان کے اوپر ذلت چھائی ہوئی ہو گی۔ ان کا پورا سراپا ان کی ذلت اور بے بسی کی گواہی دے رہا ہو گا۔
سجدہ کا یہ حکم ظاہر ہے کہ محض اتمام حجت اور رسوا کرنے کے لیے دیا جائے گا کہ ان کی سرکشی اور ان کی محرومی پر خود ان کا وجود ایسی گواہی ثبت کر دے جس کا وہ انکار نہ کر سکیں گے۔
بعینہٖ یہی مضمون سورۂ معارج میں بدیں الفاظ میں بیان ہوا ہے:
یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّہُمْ اِلٰی نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَ خَاشِعَۃً اَبْصَارُھُمْ تَرْھَقُہُمْ ذِلَّۃٌ ذٰلِکَ الْیَوْمُ الَّذِیْ کَانُوْا یُوْعَدُوْنَ.(المعارج ۷۰: ۴۳-۴۴)
(جس دن کہ وہ قبروں سے نکلیں گے تیزی سے، گویا کہ وہ نشانوں کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہو گی۔ یہ وہ دن ہو گا جس کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے)۔
وہی مضمون جو سورۂ قلم میں ’یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ‘ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے اس آیت میں ’یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا‘ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے، اس طرح لغت اور نظیر قرآن دونوں سے اسی مطلب کی تائید ہوتی ہے۔ جو ہم نے لیا ہے۔
بعض لوگوں نے ایک روایت کی بنا پر اس کے معنی یہ بھی لیے ہیں کہ ’جس دن اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا‘ لیکن متعدد ائمۂ تفسیر سے وہی تاویل منقول ہوئی ہے جو ہم نے اختیار کی ہے۔ عکرمہؓ اور ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ’ھُوَ یَوْمُ القیٰمۃ یوم کرب وشدۃ‘ (اس سے مراد قیامت کا دن ہے جو کرب و شدت کا دن ہو گا)۔ ابن جریرؒ نے ابن مسعودؓ یا ابن عباسؓ کے حوالہ سے کسی شاعر کا قول بھی مذکورہ معنی کی تائید میں نقل کیا ہے جس نے ’شالت الحرب عن ساق‘ کا محاورہ استعمال کیا ہے۔ مشہور امام تفسیر مجاہدؒ نے بھی اس کو شدت امر ہی کے مفہوم میں لیا ہے۔
Ayah 68:44مکذبین کو دھمکی:
یہ ان مکذبین قرآن کو دھمکی ہے۔ جن کا ذکر آیت ۱۵ میں گزر چکا ہے کہ
’إِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ آیَاتُنَا قَالَ أَسَاطِیْرُ الْأَوَّلِیْنَ‘
(جب ان کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں کہتے ہیں یہ اگلوں کے فسانے ہیں)
ان کو دھمکی کے ساتھ ہی نبی ﷺ کے لیے اس میں بہت بڑی تسلی بھی ہے۔ آپ کو خطاب کر کے فرمایا کہ اب ان مکذبین قرآن کا معاملہ مجھ پر چھوڑو۔ تمہارے اوپر بلاغ کی جو ذمہ داری تھی وہ تم ادا کر چکے۔ اب تم بیچ سے ہٹو اور مجھے تنہا ان سے نمٹ لینے دو۔ میں درجہ بدرجہ ان کو وہاں سے ہلاکت کے کھڈ میں لے جاؤں گا جہاں سے ان کو علم بھی نہ ہو گا۔ اس وقت ان کو جو ڈھیل دے رہا ہوں اس کو وہ اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں حالانکہ وہ موت کے پھندے میں آئے ہوئے ہیں۔
Ayah 68:45یعنی میں اس استدراج کے دوران ان کو اس لیے ڈھیل دے رہا ہوں کہ یہ اپنی جولانیاں دکھا لیں اور اپنا زور صرف کر لیں۔ ان کی رسی دراز کرنے میں یہ اندیشہ نہیں ہے کہ یہ میرے قابو سے باہر نکل جائیں گے۔ میری تدبیر نہایت ہی محکم ہوتی ہے۔
Ayah 68:46مکذبین کو ان کی محرومی پر ملامت:
یہ قرآن سے ان لوگوں کے فرار پر تعجب کا اظہار بھی ہے اور ان کو ملامت بھی۔ مطلب یہ ہے کہ آخر یہ لوگ تمہاری بات سنتے کیوں نہیں؟ سننے میں ان کا کیا حرج ہوتا ہے؟ تم ان سے سنانے کا کوئی معاوضہ تو مانگ نہیں رہے ہو کہ یہ اس کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہوں؟ ان میں ضمناً نبی ﷺ کے لیے تسلی بھی ہے کہ اگر یہ نہیں سن رہے ہیں تو اس کا غم نہ کرو۔ اگر یہ اس نعمت سے بھاگ رہے ہیں تو اس میں انہی کی محرومی ہے۔ تم اپنے رب کے ہاں سرخ رو ہو کر یہ دولت آسمانی مفت لٹا رہے ہو۔
Ayah 68:47یہ بھی ان لوگوں کی اس بے پروائی اور بے نیازی پر اظہار تعجب ہے کہ آخر یہ کس بل بوتے پر اس انذار کو اس بے نیازی سے نظرانداز کر رہے ہیں! کیا ان کے پاس علم غیب ہے جو وہ لکھ رہے ہیں کہ آخرت میں (اگر وہ ہوئی) ان کے لیے نہایت اعلیٰ مدارج ہیں؟ مطلب یہ ہے کہ بغیر کسی دلیل اور سند کے محض خواہشوں کی مدد سے اپنے لیے خیالی جنت آراستہ کر لینا اور زندگی کے حقائق سے آنکھیں موند لینا دانش مندی نہیں بلکہ اپنے لیے ابدی ہلاکت کا سامان کرنا ہے۔
یہ آیت سورۂ طور میں بھی گزر چکی ہے۔ وہاں اس کے سیاق و سباق کی روشنی میں ہم نے اس کی وضاحت کی ہے۔ سورۂ نجم میں یہ جس سیاق و سباق کے ساتھ آئی ہے اس سے اس کا پورا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ ارشاد ہے:
أَعِندَہُ عِلْمُ الْغَیْْبِ فَہُوَ یَرَی ۵ أَمْ لَمْ یُنَبَّأْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوسَی ۵ وَإِبْرَاہِیْمَ الَّذِیْ وَفَّی ۵ أَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی(النجم ۵۳: ۳۵-۳۸)
’’کیا اس کے پاس علم غیب ہے پس وہ دیکھ رہا ہے (آخرت میں اپنے مدارج کو)؟ کیا موسیٰ کے صحیفوں میں جو بات بتائی گئی ہے اس کی خبر اس کو نہیں ملی؟ اور اس ابراہیم کی تعلیمات میں بھی جس نے اپنے رب کے ہر حکم کو پورا کیا؟ کہ کوئی جان بھی کسی بھی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی۔‘‘
Ayah 68:48نبی صلعم کو اپنی دعوت پر جمے رہنے کی تلقین: ’فَاصْبِرْ‘ یہاں ’اِنْتَظِرْ‘ کے مفہوم پر متضمن ہے اس وجہ سے اس کے بعد ’ل‘ کا صلہ آیا ہے۔ یہ آخر میں نبی ﷺ کو صبر و ثبات کی تلقین کے ساتھ تسلی دی جا رہی ہے کہ تم ثابت قدم رہو اور اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو اور اس طرح کی جلد بازی سے بچو جو مچھلی والے (حضرت یونسؑ) سے صادر ہو گئی۔
’مچھلی والے‘ سے اشارہ ظاہر ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی طرف ہے۔ اس لقب سے ان کو ملقب کرنے میں ایک قسم کا پیار بھی ہے اور اس آزمائش کی طرف اشارہ بھی جو آنجنابؑ کو پیش آئی۔
حضرت یونس علیہ السلام کے واقعہ کی پوری تفصیل اس کے محل میں ہم پیش کر چکے ہیں کہ ان کی قوم نے ان کی دعوت کی جو ناقدری کی تو حق کی اس توہین سے وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ اس پر ان کو عتاب ہوا جس کے نتیجہ میں ان کو مچھلی والا امتحان پیش آیا۔ اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نبی ﷺ کو تلقین فرمائی گئی ہے کہ ہر چند تمہاری قوم بھی دعوت کی ناقدری اور تمہاری تکذیب پر مصر ہے لیکن تم میدان میں ڈٹے رہو اور اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو۔ جب تک تمہارے رب کا حکم نہ ہو اپنی جگہ چھوڑنے کی غلطی نہ کرنا۔ مبادا تمہیں بھی اسی طرح کا کوئی امتحان پیش آ جائے جس طرح کا امتحان حضرت یونس علیہ السلام کو پیش آ گیا۔
’إِذْ نَادٰی وَہُوَ مَکْظُوْمٌ‘۔ یہ اجمالاً اس رویہ کی طرف اشارہ ہے جو امتحان کے بعد حضرت یونسؑ نے اختیار فرمایا۔ وہ فوراً ہی اپنی غلطی پر متنبہ ہوئے اور نہایت شدید قسم کے غم سے گھٹے ہوئے انھوں نے مچھلی کے پیٹ کے اندر اپنے رب سے فریاد کی۔ یہ فریاد جن زندۂ جاوید الفاظ۱ میں انھوں نے کی وہ دوسرے مقام میں نقل ہوئے ہیں اور ان کی بلاغت ہم واضح کر چکے ہیں۔ یہاں یہ بات بطور بدرقہ ارشاد ہوئی ہے۔ تاکہ ’لَا تَکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوۡتِ‘ کے الفاظ سے حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق کوئی غلط فہمی نہ ہو بلکہ یہ واضح ہو جائے کہ اگرچہ شدت تاثر سے مغلوب ہو کر ان سے ایک غلطی صادر تو ہو گئی لیکن فوراً ہی توبہ سے انھوں نے اس کی اصلاح کر لی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو پھر برگزیدگی سے نوازا، جیسا کہ آگے تفصیل آ رہی ہے۔
_____
۱ لَّا اِلٰہَ إِلَّا أَنۡتَ سُبْحَانَکَ إِنِّیْ کُنۡتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ (الانبیاء ۲۱: ۸۷)۔
Ayahs 68:49–50’نِعْمَۃٌ‘ سے یہاں مراد اللہ تعالیٰ کا وہ فضل ہے جو توبہ کے بعد ان کو قبولیت توبہ اور ازسرنو فریضۂ رسالت پر ماموریت کی شکل میں حاصل ہوا۔ فرمایا کہ اگر ان پر اللہ کا یہ فضل نہ ہوا ہوتا تو جس ریت پر مچھلی نے ان کو ڈالا تھا اسی پر نہایت مذموم حالت میں وہ پڑے ہی رہ جاتے لیکن اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، ان کو اپنی رحمت سے نوازا، ان کو ان کے مقدس مشن کی تکمیل کے لیے ازسرنو برگزیدہ کیا اور زمرۂ صالحین میں شامل فرمایا۔ یعنی اس دنیا سے وہ ناکام و نامراد نہیں گئے بلکہ بامرادوں کے زمرہ۔۔۔ صالحین۔۔۔ میں وہ شامل ہوئے۔
Ayah 68:51اس آیت کا تعلق بھی تلقین صبر و ثبات کے اس مضمون ہی سے ہے جو ’فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ‘ میں بیان ہوا ہے۔ یعنی اگرچہ حالات نہایت سخت ہیں۔ کفار جب قرآن سنتے ہیں تو تمہیں اس طرح گھورتے اور ایسی تیز نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کے زور سے تمہیں دھکیل کر تمہارے مقام سے تمہیں پھسلا دیں گے اور جوش غضب میں تمہیں خبطی اور مجنوں بتاتے ہیں لیکن ان کے اس رویہ کے باوجود تم اپنے موقف پر ڈٹے رہو۔ یہاں ابتدائے سورہ کی آیت ’مَا أَنتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوۡنٍ‘ ذہن میں تازہ کر لیجیے۔ سورہ جس مضمون سے شروع ہوئی تھی اسی پر ختم ہو رہی ہے۔
Ayah 68:52یعنی اگر اس بات کو سن کر یہ تمہیں دیوانہ کہتے ہیں تو کہیں، لیکن یہ یاد رکھیں کہ یہ کسی دیوانے کی بڑ نہیں بلکہ دنیا والوں کے لیے یاددہانی ہے۔ اس یاددہانی سے انھوں نے فائدہ نہ اٹھایا تو پچھتائیں گے لیکن یہ پچھتانا بے سود ہو گا۔