68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsبیان القرآن

Ayah 68:1

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader

ن (علیہ السلام) قسم ہے قلم کی اور (قسم ہے) ان (فرشتوں) کے لکھنے کی۔

Ayahs 68:2–3

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader

(جو کہ کاتب الاعمال ہیں) کہ آپ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں۔ (ف 5)

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader

اور بیشک آپ کے لئے (اس تبلیغ احکام پر) ایسا اجر ہے جو (کبھی) ختم ہونے والا نہیں۔

ف 5۔ مطلب یہ کہ آپ نبی برحق ہیں اور یہ قسمیں اس مدعا کے نہایت مناسب ہیں کیونکہ منجملہ مقادیر کے نزول قرآن بھی ہے، پس اس میں اشارہ ہے کہ نبوت آپ کی علم الہی میں پہلے ہی سے محقق و موکد ہے، پس ثبوت اس کا متعین ہوا اور کاتبان اعمال آپ کے مصدقین و منکرین کے اعمال کو لکھ رہے ہیں، پس انکار نبوت پر سزا ہوگی، اس سے ڈر کر ایمان لانا واجب ہے۔
Ayahs 68:4–5

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader

اور بیشک آپ اخلاق (حسنہ) کے اعلیٰ پیمانہ پر ہیں۔ (ف 6)

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader

سو (ان کے مہملات کا غم نہ کیجئے کیونکہ) عنقریب آپ بھی دیکھ لیں گے۔

ف 6۔ چناچہ ہر فعل آپ کا موصوف باعتدال اور قرین رضائے ایزو متعال ہے۔
Ayahs 68:6–8

بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader

کہ تم میں کس کو جنون تھا۔ (ف 7)

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader

آپ کا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ راہ (راست) پر چلنے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader

تو آپ ان تکذیب کرنے والوں کا کہنا (کبھی) نہ ماننا۔

ف 7۔ یعنی جنون کی حقیقت ہے زوال عقل، اور عقل کی غایت ہے ادراک نفع و ضرر، اور نفع و ضرر معتدبہ وہ ہے جو ابدی ہو، پس قیامت میں ان کو یہی معلوم ہوجاوے گا کہ عاقل اہل حق تھے جنہوں نے اس نفع کو حاصل کیا، اور مجنون یہ خود تھے جو اس نفع سے محروم رہ کر ضرر ابدی میں مبتلا ہوئے۔
Ayahs 68:9–12

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ (تبلیغ) میں ڈھیلے ہوجائیں۔ (ف 1)

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader

اور آپ (بالخصوص) کسی ایسے شخص کا کہنا نہ مانیں جو بہت (جھوٹی) قسمیں کھانے والا ہو۔

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader

بےوقعت ہو طعنے دینے والا ہو چغلیاں لگاتا پھرتا ہو۔

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader

نیک کام سے روکنے والا ہو ․حد ِ (اعتدال) سے گزرنے والا ہو۔

ف 1۔ آپ کا ڈھیلا ہونا یہ کہ بت پرستی کی مذمت نہ کریں اور ان کا ڈھیلا ہونا یہ کہ آپ کی مخالفت نہ کریں۔
Ayahs 68:13–15

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader

گناہوں کا کرنے والا ہو اور سخت مزاج ہو علاوہ ازیں اپنے کو دوسرے خاندان کی طرف منسوب کرنے والا ہو۔ (ف 2)

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader

اس سبب سے کہ وہ مال و اولاد والا ہو۔

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader

جب ہماری آیتیں اس کے سامنے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ بےسند باتیں ہیں جو اگلوں سے منقول ہوتی چلی آئی ہیں۔

ف 2۔ زنیم لغت عرب میں اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے آپ کو کسی دوسری قوم یا خاندان کی طرف منسوب کرے یہ آیت ولید بن مغیرہ مخزومی کے بارے میں نازل ہوئی تھی جس میں دوسرے ذمائم کے علاوہ یہ برائی بھی تھی کہ اپنے آپ کو ایک اور خاندان کی طرف منسوب کرتا تھا۔
Ayah 68:16

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader

ہم عنقریب اسکی ناک پر داغ لگادینگے۔ (ف 3)

ف 3۔ یعنی قیامت میں اس کے چہرہ اور ناک پر اس کے کفر کی وجہ سے کوئی علامت ذلت اور پہچان کی لگا دیں گے جس سے خوب رسوا ہو۔
Ayahs 68:17–31

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader

ہم نے ان کی آزمایش کر رکھی ہے (ف 4) ۔ جیسا کہ ہم نے باغ والوں کی آزمایش کی تھی جبکہ ان لوگوں نے (یعنی اکثر یا بعض نے) قسم کھائی کہ اس (باغ) کا پھل ضرور صبح چل کر توڑ لینگے۔

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader

اور (ایسا وثوق ہوا کہ) انہوں نے انشاء اللہ بھی نہ کہا۔

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader

سو اس باغ پر آپ کے رب کی طرف سے ایک پھرنے والا (عذاب) پھر گیا اور وہ سو رہے تھے۔

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader

پھر صبح کو وہ باغ ایسا رہ گیا جیسے کٹا ہوا کھیت (کہ خالی زمین رہ جاتی ہے ) ۔

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader

سو صبح کے وقت (سو کر جو اٹھے تو) ایک دوسرے کو پکارنے لگے۔

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader

کہ اپنے کھیت پر سویرے چلو اگر تم کو پھل توڑنا ہے۔

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

پھر وہ لوگ آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے چلے۔

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ آج تم تک کوئی محتاج نہ آنے پائے۔

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

اور (بزعم خود) اپنے کو اس کے نہ دینے پر قادر سمجھ کر چلے۔

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

پھر جب (وہاں پہنچے اور) اس باغ کو (اس حالت میں) دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم بیشک راستہ بھول گئے ہیں۔

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

بلکہ ہماری قسمت ہی پھوٹ گئی۔

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

ان میں جو (کسی قدر) اچھا آدمی تھا وہ کہنے لگا کہ کیوں میں نے تم کو کہا نہ تھا اب (توبہ اور) تسبیح کیوں نہیں کرتے۔

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

سب (توبہ کے طور پر) کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بیشک ہم قصور وار ہیں۔

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر ایک دوسرے کو مخاطب بناکر باہم الزام دینے لگے۔

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

(پھر سب متفق ہو کر کہنے لگے) بیشک ہم حد سے نکلنے والے تھے (سب مل کر توبہ کرلو) ۔

ف 4۔ یعنی ان اہل مکہ کو سامان عیش دے رکھا ہے تاکہ دیکھیں کہ نعمتوں کے شکر میں ایمان لاتے ہیں یا ناشکری و بےقدری کر کے کفر کرتے ہیں۔
Ayah 68:32

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

شاید (توبہ کی برکت سے) ہمارا پروردگار ہم کو اس سے اچھا باغ اس کے بدلے میں دے (اب) ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ (ف 5)

ف 5۔ یعنی توبہ کرتے ہیں اور بدلنا عام ہے خواہ دنیا میں نعم البدل مل جاوے خواہ آخرت میں، اور ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ مومن تھے مرتکب معصیت ہوئے تھے۔
Ayahs 68:33–40

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

اس طرح عذاب ہوا کرتا ہے (ف 6) اور آخرت کا عذاب اس (عذاب دنیوی) سے بھی بڑھ کر ہے کیا خوب ہوتا کہ یہ لوگ (اس بات کو) جان لیتے (تاکہ ایمان لے آتے ) ۔

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 68:34 in the Quran reader

بیشک پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے نزدیک آسایش کی جنتیں ہیں۔

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader

کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں کے برابر کردینگے۔

مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:36 in the Quran reader

تم کو کیا ہوا تم کیسا فیصلہ کرتے ہو۔

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 68:37 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس کوئی (آسمانی) کتاب ہے جس میں پڑھتے ہو۔

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ Open ayah 68:38 in the Quran reader

کہ اس میں تمہارے لئے وہ چیز (لکھی) ہو جسکو تم پسند کرتے ہو۔

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:39 in the Quran reader

کیا ہمارے ذمہ کچھ قسمیں چڑھی ہوئی ہیں جو تمہاری خاطر سے کھائی گئی ہوں اور قسمیں قیامت تک باقی رہنے والی ہوں کہ تم کو وہ چیزیں ملیں گی جو تم فیصلہ کررہے ہو (یعنی جنت ) ۔

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ Open ayah 68:40 in the Quran reader

ان سے پوچھئے کہ ان میں اس کا کون ذمہ دار ہے۔

ف 6۔ یعنی اے اہل مکہ تم بھی ایسے ہی عذاب کے مستحق ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ کے کیونکہ عذاب مذکور تو محض معصیت پر تھا، تم تو کفر کرتے ہو۔