68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsبیان القرآن

Ayah 68:41

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ Open ayah 68:41 in the Quran reader

کیا انکے ٹھیرائے ہوئے شریک (خدائی) ہیں سو ان کو چاہیئے کہ یہ اپنے شریکوں کو پیش کریں اگر یہ سچے ہیں۔ (ف 1)

ف 1۔ غرض جب یہ مضمون کسی آسمانی کتاب میں نہیں ویسے بلا کتاب دوسرے طرق وحی سے ہمارا وعدہ نہیں جو مثل قسم کے ہوتا ہے، پھر ایسی حالت میں کون شخص ان میں سے یا ان کے شرکاء میں سے اس کی ذمہ داری کرسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں پھر دعوی کس بنا پر ہے ؟
Ayah 68:42

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ Open ayah 68:42 in the Quran reader

(وہ دن یاد کرنے کے قابل ہے) جس دن کہ ساق کی تجلی فرمائی جاویگی (ف 2) اور سجدہ کی طرف لوگوں کو بلایا جاوے گا (ف 3) سو یہ (کافر) لوگ سجدہ نہ کرسکیں گے۔

ف 2۔ ساق کہتے ہیں پنڈلی کو اور یہ کوئی خاص صفت ہے جس کو کسی مناسبت سے ساق فرمایا جیسا قرآن میں ہاتھ ایا ہے اور ایسے مفہومات متشابہات میں سے کہلاتے ہیں۔ 3۔ بلائے جانے سے مراد امر بالسجود نہیں ہے بلکہ اس تجلی میں یہ اثر ہوگا کہ سب بالاضطرار سجدہ کرنا چاہیں گے۔
Ayahs 68:43–47

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ Open ayah 68:43 in the Quran reader

(اور) انکی آنکھیں (مارے شرمندگی کے) جھکی ہوں گی (اور) ان پر ذلت چھائی ہوگی اور (وجہ اسکی یہ ہے کہ) یہ لوگ (دنیا میں) سجدہ کی طرف بلائے جایا کرتے تھے اور وہ صحیح سالم تھے (یعنی اسپر قادر تھے ) ۔ (ف 4)

فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 68:44 in the Quran reader

تو مجھ کو اور جو اس کلام کو جھٹلاتے ہیں ان کو (اس حالت موجودہ پر) رہنے دیجئے ہم ان کو بتدریج (جہنم کی طرف) لئے جارہے ہیں اس طور پر کہ ان کو خبر بھی نہیں۔

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 68:45 in the Quran reader

اور (دنیا میں عذاب نازل کر ڈالنے سے) ان کو مہلت دیتا ہوں بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ Open ayah 68:46 in the Quran reader

کیا آپ ان سے کچھ معاوضہ مانگتے ہیں کہ وہ اس تاوان سے دبے جاتے ہیں (اسلئے آپ کی اطاعت سے نفرت ہے ) ۔

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 68:47 in the Quran reader

یا ان کے پاس غیب (کاعلم) ہے کہ یہ (اسکو لکھ لیا کرتے ہیں۔

ف 4۔ دنیا میں امتثال امر نہ کرنے سے آج ان کو یہ رسوائی و ذلت ہوئی۔
Ayahs 68:48–52

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ Open ayah 68:48 in the Quran reader

تو آپ اپنے رب کی (اس) تجویز پر صبر سے بیٹھے رہیے اور (تنگدلی میں) مچھلی کے پیٹ میں جانے) والے پیغمبر یونس ( علیہ السلام) کی طرح نہ ہوجائیے جبکہ یونس (علیہ السلام) نے دعا کی اور وہ غم سے گھٹ رہے تھے۔ (ف 5)

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ Open ayah 68:49 in the Quran reader

اگر خداوندی احسان انکی دستگیری نہ کرتا تو وہ (جس) میدان (میں مچھلی کے پیٹ سے نکال کر ڈالے گئے تھے اسی) میں بدحالی کے ساتھ ڈالے جاتے (دستگیری سے مراد قبول توبہ ہے ) ۔

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 68:50 in the Quran reader

پھر ان کے رب نے ان کو ( اور زیادہ) برگزیدہ کرلیا اور ان کو صالحین میں سے کردیا۔

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ Open ayah 68:51 in the Quran reader

اور یہ کافر جب قرآن سنتے ہیں تو (شدت عداوت سے) ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا آپ کو اپنی نگاہوں سے پھسلاکر گرادیں گے (یہ ایک محاورہ ہے) اور کہتے ہیں کہ یہ مجنون ہیں۔

وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 68:52 in the Quran reader

حالانکہ یہ قرآن (جس کے ساتھ آپ تکلم فرماتے ہیں) تمام جہان کے واسطے نصیحت ہے۔

ف 5۔ یہ غم مجموعہ تھا کئی غموں کا ایک قوم کے ایمان نہ لانے کا، ایک عذاب کے ٹل جانے کا، ایک بلا اذن صریح حق تعالیٰ کے وہاں سے چلے آنے کا، ایک مچھلی کے پیٹ میں محبوس ہوجانے کا، اور وہ دعا یہ ہے : لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین، جس سے مقصود استغفار اور طلب نجات عن الحبس ہے، چناچہ اس پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا، اور مچھلی کے پیٹ سے نجات ہوئی۔