67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsبیان القرآن

Ayah 67:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

(ف 3) وہ (خدا) بڑاعالی شان ہے جس کے قبضہ میں تمام سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

ف 3۔ اوپر کی سورت میں حقوق رسالت کا بیان تھا، اس سورت میں حقوق توحید کا، اور ان کے ایفاء و اخلال پر جزاء و سزا کا بیان ہے ونیز آخر سورت سابقہ میں بعض اہل سعادت و بعض اہل شقاوت کا ذکر تھا، اس میں مطلقا سعداء و اشقیاء کا ذکر ہے۔
Ayahs 67:2–3

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے (ف 4) اور وہ زبردست (اور) بخشنے والا ہے۔

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے تو خدا کی اس صنعت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا سو تو (اب کی بار) پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے (یعنی بلاتامل تو نے بہت بار دیکھا ہوگا ․ اب کی بار تامل سے نگاہ کر) ۔

ف 4۔ حسن عمل میں موت کا تو یہ دخل ہے کہ موت کے مشاہدہ سے انسان دنیا کو فانی اور بعث کے اعتقاد سے آخرت کو باقی سمجھ کر وہاں کے ثواب حاصل کرنے اور وہاں کے عقاب سے بچنے کے لئے مستعد ہوسکتا ہے، اور حیات کا دخل یہ ہے کہ اگر حیات نہ ہو تو عمل کس وقت کرے، پس حسن عمل کے لئے موت بمنزلہ شرط کے اور حیات بمنزلہ ظرف کے ہے اور چونکہ موت عدم محض نہیں، اس لئے اس پر مخلوقیت کا حکم صحیح ہے۔
Ayahs 67:4–7

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

پھر باربار نگاہ ڈال کر دیکھ (آخر کار) نگاہ ذلیل اور درماندہ ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔ (ف 5)

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

اور ہم نے قریب کے آسمانوں کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے آراستہ کر رکھا ہے اور ہم نے ان (ستاروں) کو شیطان کے مارنے کا ذریعہ بھی بنایا ہے اور ہم نے ان (شیاطین) کے لئے ( آخرت میں) دوزخ کا عذاب (بھی) تیار کر رکھا ہے۔

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے رب (کی توحید) کا انکار کرتے ہیں ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

جب یہ لوگ اس میں ڈالے جاوینگے تو اسکی بڑی زور کی آواز سنیں گے اور وہ اس طرح جوش مارتی ہوگی۔

ف 5۔ یعنی وہ جس چیز کو جیسا چاہے بنا سکتا ہے، چناچہ آسمان کو مضبوط بنانا چاہا تو کیسا بنایا کہ باوجود مرور زمان دراز اب تک اس میں کوئی خلل نہیں آیا، اسی طرح کسی شے کو ضعیف و منفعل بنادیا، غرض اس کو ہر طرح قدرت ہے۔
Ayah 67:8

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

جیسے معلوم ہوتا ہے کہ (ابھی) غصہ کے مارے پھٹ پڑیگی جب اس میں کوئی گروہ ڈالا جا ویگا تو اس کے محافظ ان لوگوں سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانیوالا پیغمبر نہیں آیا تھا۔ (ف 6)

ف 6۔ یہ سوال بطور توبیخ کے ہے۔
Ayah 67:9

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

وہ کافر کہیں گے کہ واقعی ہمارے پاس ڈرانے والا (پیغمبر) آیا تھا سو (یہ ہماری شامت تھی کہ) ہم نے (اسکو) جھٹلادیا اور کہہ دیا کہ اللہ نے (ازقبیل احکام وکتب) کچھ نازل نہیں کیا (اور) تم بڑی غلطی میں پڑے ہو۔ (ف 1)

ف 1۔ یعنی ہماری مجمعہ جماعات نے مجموعہ نذر ورسل کو یوں کہہ دیا جس کا حاصل یہ ہے کہ اپنے اپنے رسول کو ہر ایک نے یوں کہہ دیا۔
Ayahs 67:10–12

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور (کافر فرشتوں سے یہ بھی) کہیں گے کہ ہم اگر سنتے یا سمجھتے (ف 2) تو ہم اہل دوزخ میں (شامل) نہ ہوتے۔

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

غرض اپنے جرم کا اقرار کرینگے سو اہل دوزخ پر لعنت ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے بےدیکھے ڈرتے ہیں ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم (مقرر) ہے۔

ف 2۔ یعنی پیغمبروں کے کہنے کو قبول کرتے اور مانتے۔
Ayahs 67:13–14

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

اور تم لوگ خواہ چھپاکر بات کہو یا پکار کر اس کو سب خبر ہے (کیونکہ) وہ دلوں تک کی باتوں سے خوب واقف ہے۔ (ف 3)

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

(اور بھلا) کیا وہ نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے اور وہ باریک بین (اور) پورا باخبر ہے۔

ف 3۔ حاصل استدلال کا یہ ہے کہ وہ ہر شے کا خالق مختار ہے، پس تمہارے احوال و اقوال کا بھی خالق ہے اور خلق بالاختیار مسبوق بالعلم ہوتا ہے پس علم ضروری ہوا، اور تخصیص اقوال کی مقصود نہیں بلکہ حکم عام ہے تخصیص ذکری شاید اس بنا پر ہو کہ اقوال کثیر الوقوع ہیں، غرض اس کو سب علم ہے وہ ہر ایک کو مناسب جزا دے گا۔
Ayahs 67:15–16

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

وہ ایسا (مُنعم) ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو مسخر کردیا (ف 4) سو تم اس کے رستوں میں چلو (پھرو) اور خدا کی روزی میں سے کھاؤ (پیو) اور اسی کے پاس دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے۔ (ف 5)

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم لوگ اس سے بیخوف ہوگئے ہو جو کہ آسمان میں (بھی اپنا حکم و تصرف رکھتا) ہے کہ وہ تم کو زمین میں دھنسادے پھر وہ زمین تھرتھرا (کرالٹ پلٹ ہو) نے لگے۔

ف 4۔ چناچہ وہ تمہارے تصرفات کی قابلیت رکھتی ہے۔ 5۔ پس یہ اس کو مقتضی ہے کہ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو جو کہ ایمان وطاعت ہے۔
Ayah 67:17

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

یا تم لوگ اس سے بیخوف ہوگئے ہو جو کہ آسمان میں (بھی اپنا حکم و تصرف رکھتا) ہے کہ وہ ایک ہوائے تند بھیج دے (ف 6) سو عنقریب (مرتے ہی) تمکو معلوم ہوجاوے گا کہ میرا ڈرانا (عذاب سے) کیسا (صحیح) تھا۔

ف 6۔ یعنی مقتضاء تمہارے کفر کا یہی ہے۔
Ayahs 67:18–20

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

اور ان سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں انہوں نے جھٹلایا تھا سو میرا عذاب کیسا (واقع) ہوا۔ (ف 7)

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر پرندوں کی طرف نظر نہیں کی کہ پر پھلائے ہوئے (اڑتے پھرتے) ہیں اور (کبھی اسی حالت میں) پر سمیٹ لیتے ہیں بجز (خدائے) رحمٰن کے ان کو کوئی تھامے ہوئے نہیں ہے بیشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

(اور جس طرح چاہے اسمیں تصرف کررہا ہے) ہاں رحمٰن کے سوا وہ کون ہے کہ وہ تمہارا لشکر بن کر (آفات سے) تمہاری حفاظت کرسکے (اور) کافر (جو اپنے معبودوں کی نسبت ایسا خیال رکھتے ہیں) تو کافر نرے دھوکے میں ہیں۔

ف 7۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ کفر مبغوض ہے، پس اگر کسی حکمت سے یہاں عذاب تل گیا تو دوسرے عالم میں حسب وعید واقع ہوگا۔
Ayah 67:21

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

(اور) ہاں (یہ بھی بتلاؤ کہ) وہ کون ہے جو تم کو روزی پہنچادے اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی بند کرلے (مگر یہ لوگ اس سے بھی متاثر نہیں ہوتے) بلکہ یہ لوگ سرکشی اور نفرت (عن الحق) پر جم رہے ہیں۔ (ف 8)

ف 8۔ خلاصہ یہ کہ تمہارے معبودات باطلہ نہ دفع مضار پر قادر ہیں اور نہ ایصال منافع پر قادر ہیں، پھر ان کی عبادت محض سفاہت ہے۔
Ayahs 67:22–26

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

(پس اس کافر کے متعلق سوچو کہ) جو شخص منہ کے بل گرتا ہوا چل رہا ہو وہ منزل مقصود پر زیادہ پہنچنے والا ہوگا یا وہ شخص جو سیدھا ایک ہموا سڑک پر چلا جارہا ہو۔ (ف 1)

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

آپ (ان سے) کہئیے کہ وہی (ایسا قادر ومنعم) ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تم کو کان اور آنکھیں اور دل دیے (مگر) تم لوگ بہت کم شکر کرتے ہو۔

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

(اور) آپ (یہ بھی) کہئیے کہ وہی ہے جس نے تم کو روئے زمین پر پھیلایا اور تم اسی کے پاس (قیامت کے روز) اکٹھے کئے جاؤ گے۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو (تو بتلاؤ) ۔

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

آپ (جواب میں) کہہ دیجئے کہ یہ (تعیین کا) علم تو خدا ہی کو ہے اور میں تو محض (علی الاجماع مگر) صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔

ف 1۔ یہی حال ہے مومن و کافر کا کہ مومن کے چلنے کا رستہ بھی دین مستقیم ہے اور چلتا بھی ہے وہ سیدہا ہوکر، اور افراط وتفریط سے بچ کر، اور کافر کے چلنے کا رستہ بھی زیغ و ضلالت کا ہے، اور چلنے میں بھی ہر وقت مہالک و مخاوف میں گرتا جاتا ہے، پس ایسی حالت میں کیا منزل مقصود پر پہنچے گا۔
Ayahs 67:27–28

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

پھر جب اس (عذاب موعود) کو پاس آتا ہوا دیکھیں گے (ف 2) تو (اس وقت مارے غم کے) کافروں کے منہ بگڑ جاوینگے اور (ان سے) کہا جاوے گا یہی ہے وہ جس کو تم مانگا کرتے تھے (کہ عذاب لاؤ عذاب لاؤ) ۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

آپ (ان سے) کہئیے کہ تم یہ بتلاؤ اگر خدا تعالیٰ مجھ کو اور میرے ساتھ والوں کو ہلاک کردے یا ہم پر رحمت فرماوے تو کافروں کو عذاب دردناک سے کون بچالے گا۔

ف 2۔ پاس آتا ہوا دیکھنا یہ کہ اعمال کا محاسبہ ہوگا دوزخ میں جانے کا حکم ہوگا جس سے متیقن ہوجائے گا کہ اب عذاب سر پر آیا۔
Ayah 67:29

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

آپ کہئے کہ وہ بڑا مہربان ہے ہم اس پر ایمان لائے اور ہم اس پر توکل کرتے ہیں (ف 3) سو عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں کون ہے (یعنی تم یا ہم ) ۔

ف 3۔ پس ایمان کی برکت سے تو وہ ہم کو آخرت کے عذاب سے محفوظ رکھے گا، اور توکل کی برکت سے حوادث دنیویہ کو دفع یا سہل کردے گا۔
Ayah 67:30

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ اچھا یہ بتلاؤ کہ اگر تمہارا پانی نیچے کو غائب ہی ہوجاوے سو وہ کون ہے جو تمہارے پاس سوت کا پانی لے آئے۔ (ف 4)

ف 4۔ پس جب خدا کے مقابلہ میں کسی کو اتنی بھی قدرت نہیں کہ معمولی طبعی واقعات میں تصرف کرسکے تو عذاب آخرت سے بچانے کی تو کیا قدرت ہوگی۔