66. Surah At-Tahrim
التحريمThe Prohibition · 12 ayahsبیان القرآن
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 66:1 in the Quran reader
اے نبی جس چیز کو اللہ نے آپ کے لئے حلال کیا ہے آپ (قسم کھا کر) اسکو (اپنے اوپر) کیوں حرام فرماتے ہیں (پھر وہ بھی اپنی بیبیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے) اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ (ف 1)
قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 66:2 in the Quran reader
اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لئے تمہاری قسموں کا کھولنا (یعنی قسم توڑنے کے بعد اس کے کفارہ کا طریقہ) مقرر فرمادیا ہے اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہ بڑا جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔
وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 66:3 in the Quran reader
اور جب کہ پیغمبر (علیہ السلام) نے اپنی کسی بی بی سے ایک بات چپکے سے فرمائی (ف 2) پھر جب اس بی بی نے وہ بات (دوسری بی بی کو) بتلادی اور پیغمبر کو اللہ تعالیٰ نے (بذریعہ وحی) اس کی خبر کردی تو پیغمبر نے (اس ظاہر کردینے والی بی بی کو) تھوڑی سی بات تو جتلادی اور تھوڑی سی بات کو ٹال گئے سو جب پیغمبر نے اس بی بی کو جتلائی وہ کہنے لگی کہ آپ کو اس کی کس نے خبر کردی آپ نے فرمایا کہ مجھ کو بڑے جاننے والے خبر رکھنے والے (یعنی خدا) نے خبر کردی۔
اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ Open ayah 66:4 in the Quran reader
اے (پیغمبر کی) دونوں بی بیو اگر تم اللہ کے سامنے تو بہ کرلو تو تمہارے دل مائل ہورہے ہیں اور اگر (اسی طرح) پیغمبر کے مقابلہ میں تم دونوں کا روائیاں کرتی رہیں تو (یاد رکھو کہ) پیغمبر کا رفیق اللہ ہے اور جبرئیل (علیہ السلام) ہے اور نیک مسلمان ہیں اور (ان کے علاوہ) فرشتے (آپ کے) مددگار ہیں۔ (ف 3)
عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا Open ayah 66:5 in the Quran reader
اگر پیغمبر تم عورتوں کو طلاق دے دیں تو ان کا پروردگار بہت جلد تمہارے بدلے ان کو تم سے اچھی بیبیاں دیدے گا جو اسلام والیاں ایمان والیاں فرمانبرداری کرنے والیاں توبہ کرنے والیاں عبادت کرنے والیاں روزہ رکھنے والیاں ہونگی کچھ بیوہ اور کچھ کنواریاں۔ (ف 1)1۔ بعض مصالح سے بیوی بھی مرغوب ہوتی ہے جیسے تجربہ، سلیقہ، ہم عمری وغیرہ، اس لئے اس کو بھی اوصاف مرغبہ میں فرمایا۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader
اے ایمان والو تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو (دوزخ کی) اس آگ سے بچاؤ (ف 2) جس کا ایندھن (اور سوختہ) آدمی اور پتھر ہیں جس پر تند خو (اور) مضبوط فرشتے (متعین) ہیں جو خدا کی (ذرا) نافرمانی نہیں کرتے کسی بات میں جو انکو حکم دیتا ہے . اور جو کچھ ان کو حکم دیا جاتا ہے اس کو فوراً بجالاتے ہیں۔ (ف 3)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader
(اور کافروں کو دوزخ میں داخل کرتے وقت ان سے کہا جائے گا کہ) اے کافرو آج تم عذر (ومعذرت) مت کرو (کہ بےسود ہے) بس تم کو تو اسی کی سزا مل رہی ہے جو کچھ تم (دنیا میں) کیا کرتے تھے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 66:8 in the Quran reader
اے ایمان والو تم اللہ کے آگے سچی توبہ کرو (ف 4) (توبہ کا ثمرہ فرماتے ہیں کہ (امید یعنی وعدہ) ہے کہ تمہارا رب (اس توبہ کی بدولت) تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تم کو (جنت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی (اور یہ اس روز ہوگا) جس دن کہ اللہ تعالیٰ نبی (علیہ السلام) کو اور جو مسلمان (دین کی رو سے) ان کے ساتھ ہیں ان کو رسوا نہ کریگا۔ (ف 5) ان کا نور ان کے داہنے اور ان کے سامنے دوڑتا ہوگا (اور) یوں دعا کرتے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہمارے لیے ہمارے اس نور کو اخیر تک رکھئے (یعنی راہ میں گل نہ ہوجائے) اور ہماری مغفرت فرمادیجئے آپ ہر شے پر قادر ہیں۔
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 66:9 in the Quran reader
اے نبی (علیہ السلام) کفار (سے بالسنان) اور منافقین سے (باللسان) جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے (دنیا میں تو یہ اس کے مستحق ہیں) اور (آخرت میں) ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔
ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ Open ayah 66:10 in the Quran reader
اللہ تعالیٰ کافروں کے لئے نوح (علیہ السلام) کی بی بی کا اور لوط (علیہ السلام) کی بی بی کا حال بیان فرماتا ہے وہ دونوں ہمارے خاص بندوں میں سے دو بندوں کے نکاح میں تھیں سو ان عورتوں نے ان دونوں بندوں کا حق ضائع کیا تو وہ دونوں نیک بندے اللہ کے مقابلے میں ان کے ذراکام نہ آسکے اور ان دونوں عورتوں کو (بوجہ کافر ہونے کے) حکم ہوگیا کہ اور جانے والوں کے ساتھ تم دونوں بھی دوزخ میں جاؤ۔ (ف 6)
وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 66:11 in the Quran reader
اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں (کی تسلی) کے لئے فرعون کی بی بی (حضرت آسیہ (علیہ السلام) کا حال بیان کرتا ہے جبکہ ان بی بی نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار میرے واسطے جنت میں اپنے قرب میں مکان بنائیے اور مجھ کو فرعون (کے شر) سے اور اسکے عمل (کفر کے ضرر اور اثر) سے محفوظ رکھئے اور مجھ کو تمام ظالم (یعنی کافر) لوگوں سے محفوظ رکھئے۔ (ف 1)
وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠ Open ayah 66:12 in the Quran reader
اور ( نیز مسلمانوں کی تسلی کے لئے) عمران کی بیٹی ( حضرت) مریم ( علیہا السلام) کا حال بیان کرتا ہے جنہوں نے اپنے ناموس کو محفوظ رکھا (ف 2) سو ہم نے ان کے چاک گریباں میں اپنی روح پھونک دی اور انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغاموں کی (جوان کو ملائکہ کے ذریعے پہنچے تھے اور اسکی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت والوں میں سے تھیں۔