65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsبیان القرآن

Ayah 65:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا Open ayah 65:1 in the Quran reader

اے پیغمبر (آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ) جب تم لوگ (اپنی) عورتوں کو طلاق دینے لگو تو ان کو (زمانہٴ) عدّت (یعنی حیض) سے پہلے (یعنی طہر میں) طلاق دو اور تم عدّت کو یاد رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے . ان عورتوں کو ان کے (رہنے کے) گھروں سے مت نکالو (کیونکہ سکنیٰ مطلقہ کا مثل منکوحہ کے واجب ہے) اور نہ وہ عورتیں خود نکلیں مگر ہاں کوئی کھلی بےحیائی کریں تو اور بات ہے (ف 1) ․ اور یہ سب خدا کے مقرر کئے ہوئے احکام ہیں اور جو شخص احکام خداوندی سے تجاوز کرے گا (مثلا ً اس عورت کو گھر سے نکالدیا) اس نے اپنے اوپر ظلم کیا ․تجھ کو خبر نہیں شاید اللہ تعالیٰ بعد اس (طلاق دینے) کے کوئی نئی بات (تیرے دل میں) پیدا کردے (مثلاً طلاق پر ندامت ہو تو رجعی میں اسکا تدارک ہوسکتا ہے ) ۔

ف 1۔ یعنی مثلا مرتکب بدکاری یا سرقہ کی ہو تو سزا کے لئے نکالی جاویں، یا بقول بعض علماء زبان درازی اور ہر وقت کا رنج و تکرار رکھتی ہوں تو ان کو نکال دینا جائز ہے۔
Ayah 65:2

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ Open ayah 65:2 in the Quran reader

پھر جب وہ (مطلقہ) عورتیں اپنی عدت گزرنے کے قریب پہنچ جائیں (تو تم کو دو اختیار ہیں یا تو) ان کو قاعدے کے موافق نکاح میں رہنے دو یا قاعدے کے موافق انکو رہائی دو (ف 2) . اور آپس میں سے دو معتبر شخصوں کو گواہ کرلو (اے گواہو اگر گواہی کی حاجت پڑے تو) ٹھیک ٹھیک اللہ کے واسطے (بلا رورعایت) گواہی دو ․ اس مضمون سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور یوم قیامت پر یقین رکھتا ہو (ف 3) ․ اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے (مضرتوں سے) نجات کی شکل نکال دیتا ہے۔

ف 2۔ مطلب یہ کہ تیسری بات مت کرو کہ رکھنا بھی مقصود نہ ہو مگر تطویل مدت کے لئے رجعت کرلو۔ 3۔ مطلب یہ کہ ایمان دار ہی نصائح سے منتفع ہوتے ہیں، اور یوں تو نصائح سب کے لئے عام ہیں۔
Ayah 65:3

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader

اور اسکو ایسی جگہ سے رزق پہنچاتا ہے جہاں سے اسکا گمان بھی نہیں ہوتا۔ (ف 4) اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس (کی اصلاح مہمات) کے لئے کافی ہے (ف 5) . اللہ تعالیٰ اپنا کام (جس طرح چاہے) پورا کرکے رہتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہر شے کا ایک اندازہ (اپنے علم میں) مقرر کر رکھا ہے۔ (ف 6)

ف 4۔ اگر ضرر و نفع و رزق اخروی لیا جاوے تب تو یہ معنی ہوں گے کہ عذاب سے نجات دے گا، اور جنت کا رزق دے گا اور اگر ضرر و نفع دنیوی مراد ہے تو اس کے تحقق کی دو صورتیں ہیں، ایک حسا کہ اکثری ہے کہ وہ بلا ٹل جاوے اور رزق وغیرہ کی فراخی ہوجاوے، دوسرے بطنا کہ کلی ہے کہ اس بلا پر صبر ہوجاوے کہ یہ بھی حکما مثل رزق حسی کے ہے اثر سکون و طمانینت میں اور اس کو لا یحتسب کہنا بایں معنی ہوگا کہ ظاہرا تو سکون نفس کا طریقہ فراخی رزق ہے قناعت سے سکون من حیث لا یحتسب ہے۔ 5۔ یعنی اپنی کفایت کا اثر خاص اصلاح مہمات ظاہر فرماتا ہے۔ 6۔ آگے پھر عود ہے احکام کی طرف۔
Ayahs 65:4–5

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

(اوپر عدّت کا اجمالاً ذکر تھا) اور (تفصیل یہ کہ) تمہاری (مطلقہ) بیبیوں میں جو عورتیں (بوجہ زیادت سن کے) حیض آنے سے مایوس ہوچکی ہیں اگر تم کو (ان کی عدّت کی تعیین میں) شبہ ہو تو ان کی عدّت تین مہینے ہیں اور اسی طرح جن عوتوں کو (اب تک بوجہ کم عمری کے) حیض نہیں آیا اور حاملہ عورتوں کی عدّت اس حمل کا پیدا ہوجانا ہے (ف 1) . اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے ہر کام میں آسانی کردے گا۔

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ (جو کچھ مذکور ہوا) اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہارے پاس بھیجا ہے اور جو شخص (ان معاملات میں اور دوسرے امور میں بھی) اللہ تعالیٰ سے ڈریگا اللہ تعالیٰ اس کے گناہ دور کردے گا اور اسکو بڑا اجر دے گا۔

ف 1۔ خواہ کامل ہو یا ناقص بشرطیکہ کوئی عضو بن گیا ہو گو ایک انگلی ہی سہی۔
Ayahs 65:6–7

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ Open ayah 65:6 in the Quran reader

تم ان (مطلقہ) عورتوں کو اپنی وسعت کے موافق رہنے کا مکان دو جہاں تم رہتے ہو (ف 2) اور ان کو تنگ کرنے کے لئے (اس کے بارے میں) تکلیف مت پہنچاؤ اور اگر وہ (مطلقہ) عورتیں حمل والیاں ہوں تو حمل پیدا ہونے تک ان کو (کھانے پینے کا) خرچ دو پھر اگر وہ (مطلقہ) عورتیں (جبکہ پہلے ہی سے بچے والیاں ہوں یا بچہ ہی پیدا ہونے سے ان کی عدت ختم ہوئی ہو) تمہارے لئے (بچہ کو اجرت پر) دودھ پلادیں تو تم ان کو (مقررہ) اجرت دو اور (اُجرت کے بارے میں) باہم مناسب طور پر مشورہ کرلیا کرو (ف 3) ․ اور اگر تم باہم کشمکش کروگے تو کوئی دوسری عورت دودھ پلاوے گی ․

لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠ Open ayah 65:7 in the Quran reader

(آگے بچہ کے نفقے کے بارے میں ارشاد ہے کہ) وسعت والے کو اپنی وسعت کے موافق (بچہ پر) خرچ کرنا چاہئیے اور جس کی آمدنی کم ہو اسکو چاہئیے کہ اللہ نے جتنا اس کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرے خدا تعالیٰ کسی شخص کو اس سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا جتنا اسکودیا ہے۔ خدا تعالیٰ تنگی کے بعد جلدی فراغت بھی دے گا (گو بقدر ضرورت و حاجت روائی سہی) ۔

ف 2۔ یعنی عدت میں سکنی بھی مطلقہ کا واجب ہے، البتہ طلاق بائن میں ایک مکان میں خلوت کے ساتھ دونوں کا رہنا جائز نہیں بلکہ حائل ہونا ضرور ہے۔ 3۔ یعنی نہ تو عورت اس قدر زیادہ مانگے کہ مرد کو دوسری انا ڈھونڈنی پڑے اور نہ مرد اس قدر کم دینا چاہئے کہ عورت کا کام نہ چل سکے بلکہ حتی الامکان دونوں اس کا خیال رکھیں کہ ماں ہی دودھ پلاوے کہ بچہ کی اس میں زیادہ مصلحت ہے۔
Ayahs 65:8–9

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں تھیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم (ماننے) سے اور اسکے رسولوں سے سرتابی کی سو ہم نے ان (کے) اعمال کا سخت حساب کیا (ف 4) اور ہم نے ان کو بڑی بھاری سزا دی (کہ وہ سزا ہلاک بالعذاب ہے ) ۔

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا Open ayah 65:9 in the Quran reader

غرض انہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھا اور ان کا انجام کار خسارہ ہی ہوا۔

ف 4۔ مطلب یہ کہ ان کے اعمال کفریہ میں سے کسی عمل کو معاف نہیں کیا، بلکہ سب پر سزا تجویز کی اور پرستش کے طور پر حساب مراد نہیں۔
Ayah 65:10

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ Open ayah 65:10 in the Quran reader

(یہ تو دنیا میں ہوا اور آخرت میں) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایک سخت عذاب تیار کر رکھا ہے (اور جب انجام نافرمانی کا یہ ہے) تو اے سمجھدارو جو کہ ایمان لائے ہو تم خدا سے ڈرو۔ (ف 5)

ف 5۔ ڈرنا یہ کہ اطاعت کرو۔
Ayahs 65:11–12

رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا Open ayah 65:11 in the Quran reader

خدا نے تمہارے پاس ایک نصیحت نامہ بھیجا (اور وہ نصیحت نامہ دے کر) ایک ایسا رسول (بھیجا) جو تم کو اللہ کے صاف صاف احکام پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ ایسے لوگوں کو جو ایمان لاویں اور اچھے عمل کریں (کفر و جہل کی) تاریکیوں سے (ایمان وعلم وعمل کے) نور کی طرف لے آویں (ف 6) اور (آگے ایمان وغیرہ طاعت پر وعدہ ہے کہ) جو شخص اللہ پر ایمان لاوے گا اور اچھے عمل کرے گا خدا اس کو (جنت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں ان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے بلا شک اللہ نے (ان کو بہت) اچھی روزی دی۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ Open ayah 65:12 in the Quran reader

(آگے اللہ کا واجب الاطاعت ہونا بیان کیا جاتا ہے یعنی) اللہ ایسا ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ان ہی کی طرح زمین بھی (اور) ان سب میں (اللہ تعالیٰ کے) احکام نازل ہوتے رہتے ہیں (اور یہ اس لیے بتلایا گیا) کہ تم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے اور اللہ ہر شے کو (اپنے) احاطہ علمی میں لئے ہوئے ہے۔

ف 6۔ مطلب یہ کہ جو نصیحت اس رسول کے ذریعے سے پہنچے اس پر عمل کرنا بھی اطاعت ہے۔