Ayahs 68:1–3رسول اللہ ﷺ سے خطاب کہ آپ کے لیے بڑا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا اور آپ صاحب خلق عظیم ہیں
یہاں سے سورة ٴ القلم شروع ہو رہی ہے (ن ٓ) حروف مقطعات میں سے ہے جو متشابہات میں سے ہیں، اللہ تعالیٰ نے قلم کی اور فرشتے جو کچھ لکھتے ہیں اس کی قسم کھا کر فرمایا کہ اے محمد ﷺ آپ اپنے رب کے انعام کی وجہ سے مجنون نہیں ہیں، مشرکین جو بطور عناد رسول اللہ ﷺ کو العیاذ باللہ دیوانہ بتاتے تھے اس میں ان کی تردید فرمائی۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ قلم سے وہ قلم مراد ہے جس نے لوح محفوظ میں کائنات کے بارے میں اللہ کے حکم سے وہ سب کچھ لکھ دیا تھا جو آئندہ وجود میں آنے والا تھا اور ﴿وَ مَا يَسْطُرُوْنَۙ001﴾ سے ان فرشتوں کا اعمال لکھنا مراد ہے جو بندوں کے اعمال لکھتے ہیں (علی ان ما مصدریة) حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا پھر فرمایا کہ لکھ قلم نے کہا کیا لکھوں ؟ فرمایا وہ سب چیزیں لکھ دے جو مقدر ہوچکی ہیں۔ لہٰذا قلم نے وہ سب کچھ لکھ دیا جو ہمیشہ آئندہ تک ہونے والا ہے۔ (رواہ الترمذی وقال حدیث اسنادہ غریب کما فی المشکوٰۃ صفحہ 21)
اور بعض حضرات نے فرمایا کہ آیت کریمہ میں القلم سے مطلق قلم مراد ہے جو قلم تقدیر کو اور فرشتوں اور انسانوں کے قلموں کو شامل ہے اللہ تعالیٰ نے قلم اور جو کچھ قلم سے لکھا جاتا ہے اس کی قسم کھا کر فرمایا ہے ﴿ مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ002 ﴾ (آپ اپنے رب کی نعمت کی وجہ سے مجنون نہیں ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو نعمت دی ہے۔ اپنے فضل سے نوازا ہے اور یہ نعمت نبوت ہے اس نعمت کی وجہ سے آپ انہیں توحید کی دعوت دیتے ہیں اس دعوت کو سن کر یہ لوگ آپ کو مجنون کہتے ہیں حالانکہ جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت مکمل ہو وہ مجنون نہیں ہوسکتا۔ قال صاحب الروح والمعنی انتفی عنک الجنون فی حال کو نک متلبسا بنعمة ربك۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ شانہ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے وہ مذکورہ مضمون (مقسم بہ) کے بارے میں ایک قسم کی شہادت ہوتی ہے۔ یہاں جو ﴿ وَ الْقَلَمِ وَ مَا يَسْطُرُوْنَۙ001 ﴾ فرمایا اس میں یہ بتادیا کہ لوگو ! دنیا کی تاریخ دیکھ لو کیا کیا لکھا ہے اور کیا کیا حالات اور وقائع سنتے آ رہے ہو کیا ایسے اعلیٰ اعمال اور اکمل اخلاق والے بھی دیوانے ہوا کرتے ہیں خود ان لوگوں کی عقلیں کہاں ہیں جو ایسے عاقل کامل اور صاحب خلق عظیم کو مجنون بتا رہے ہیں۔ ﴿ وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَيْرَ مَمْنُوْنٍۚ003 ﴾ ( اور بلاشبہ آپ کے لیے ایسا اجر ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے) ۔ یعنی یہ لوگ آپ کو دیوانہ کہہ رہے ہیں اور آپ انہیں توحید کی دعوت دے رہے ہیں انجام کار دعوت کی مشغولیت پر اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو بڑا اجر وثواب ملے گا جو کبھی بھی ختم نہ ہوگا۔
Ayah 68:4پھر فرمایا ﴿ وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ 004﴾ اور بیشک آپ بڑے اخلاق والے ہیں۔
اس میں رسول اللہ ﷺ کی خلق عظیم کی تعریف بھی ہے اور آپ کے دشمنوں کی تردید بھی ہے آپ کو اللہ تعالیٰ نے اخلاق فاضلہ کاملہ سے نوازا ہے آپ کے اخلاق ان لوگوں کی تردید کر رہے ہیں جو آپ کو مجنون کہتے تھے۔ آپ کے اخلاق کریمانہ کی ایک جھلک دیکھنا چاہیں تو احادیث شریفہ میں جو آپ کے مکارم اخلاق اور معاشرت و معاملات کے واقعات لکھے ہیں ان کا مطالعہ کرلیا جائے توراۃ شریف تک میں آپ کے اخلاق فاضلہ کا ذکر پہلے ہی سے موجود تھا۔ (دیکھو صحیح بخاری صفحہ 185)
آپ صاحب خلق عظیم تھے اپنی امت کو بھی اخلاق حسنہ کی تعلیم دیتے تھے موطا امام مالک میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ : بعثت لاتمم حسن الاخلاق کہ میں اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔
حضرت ابو الدرداء ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ قیامت کے دن مومن کی ترازو میں جو سب سے زیادہ بھاری چیز رکھی جائے گی وہ اس کے اچھے اخلاق ہوں گے اور یہ بھی فرمایا کہ فحش گو اور بدکلام کو اللہ تعالیٰ مبغوض رکھتا ہے۔
(رواہ الترمذی وقال حدیث حسن صحیح)
آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مجھے تم میں سے سب سے زیادہ وہ لوگ محبوب ہیں جن کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ ایمان والوں میں کامل ترین وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح 431)
حضرت عائشہ ؓ سے ان کے ایک شاگرد نے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ گھر میں کس طرح رہتے تھے انہوں نے کہا کہ اپنے گھر والوں کے کام کاج میں رہتے تھے۔ جب نماز کا وقت ہوجاتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے، حضرت عائشہ ؓ نے یہ بھی بیان کیا کہ آپ نے کبھی کسی کو اپنے دست ِ مبارک سے نہیں مارا نہ کسی عورت کو نہ کسی خادم کو ہاں اگر فی سبیل اللہ جہاد میں کسی کو مارا ہو تو اور بات ہے اور اگر کسی سے آپ کو تکلیف پہنچی ہو تو اس کا انتقام نہیں لیا۔ ہاں اگر اللہ کی حرمت والی چیزوں میں سے کسی کی بےحرمتی ہونے لگتی تو آپ اس کا انتقام لے لیتے تھے۔ (رواہ مسلم)
حضرت عائشہ ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ آپ نہ فحش گو تھے نہ بتکلف فحش گو بنتے تھے اور نہ بازاروں میں شور مچاتے تھے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے بلکہ معاف فرماتے اور درگزر فرما دیتے تھے۔ (رواہ الترمذی)
حضرت انس ؓ نے بیان کیا کہ میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی مجھ سے کوئی نقصان ہوگیا تو کبھی ملامت نہیں فرمائی، اگر آپ کے گھر والوں میں سے کسی کی طرف سے ملامت ہوتی تو فرماتے کہ چھوڑو جانے دو جو چیز مقدر میں تھی وہ پیش آنی ہی تھی۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 519 عن المصابیح)
حضرت انس ؓ نے یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے کوئی شخص مصافحہ کرتا تو آپ اس کی طرف سے اپنا چہرہ نہیں پھیر لیتے تھے جب تک وہ ہی اپنا چہرہ نہ پھیر لیتا اور آپ کو کبھی نہیں دیکھا گیا کہ کسی پاس بیٹھنے والے کی طرف ٹانگیں پھیلائے ہوئے ہوں۔ (رواہ الترمذی)
حضرت عبداللہ بن حارث ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر مسکرانے والا میں نے نہیں دیکھا۔
(مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 520)
حضرت معاذ بن جبل ؓ کو جب آپ نے (یمن جانے کے لیے) رخصت فرمایا تو جب انہوں نے رکاب میں پاؤں رکھا تو آخری وصیت یہ فرمائی کہ احسن خلقک للناس کہ لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آنا۔ (رواہ مالک)
ام المومنین سیّدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک مومن آدمی اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے راتوں کو نمازوں میں قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کا درجہ پا لیتا ہے۔ (رواہ ابو داؤد)
Ayahs 68:5–6﴿فَسَتُبْصِرُ وَ يُبْصِرُوْنَۙ005﴾ (سو آپ دیکھ لیں گے اور وہ لوگ بھی دیکھ لیں گے) ﴿ بِاَىيِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ 006﴾ (کہ تم میں سے کسے جنون ہے) جو لوگ آپ کو دیوانہ کہتے تھے (العیاذ باللہ) پہلے دلائل سے ان کی تردید کی پھر فرمایا کہ عنقریب ہی آپ بھی دیکھ لیں گے اور یہ لوگ بھی دیکھ لیں گے کہ دیوانہ کون ہے ؟ حضرت ابن عباس ؓ سے اس کا مطلب یوں منقول ہے کہ یہ اہل باطل جو آپ کو دیوانہ بتا رہے ہیں روز قیامت ان کو پتہ چل جائے گا کہ یہ خود ہی دیوانہ تھے۔ اور بعض حضرات نے آیت کا یہ مطلب بتایا ہے کہ عنقریب ہی سب کے سامنے اسی دنیا میں بات آجائے گی کہ دیوانہ کون ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ کی بات پھیلی دعوت آگے بڑھی، اہل عرب مسلمان ہوئے اور جو دشمن تھے جانثار ہوگئے اور جنہیں قبول حق کی توفیق نہ ہوئی وہ ذلیل اور خوار ہوئے غزوہٴ بدر کے واقعہ نے سب کو بتادیا کہ دیوانہ کہنے والے ہی دیوانے تھے۔ (روح المعانی صفحہ 29: ج 29)
Ayah 68:7﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ 1۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ 007﴾ (بلاشبہ آپ کا رب اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جانتا ہے) ہر ایک کو اس کے مطابق جزا دے گا۔
Ayahs 68:8–16آپ کی تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے، وہ آپ سے مداہنت کے خواہاں ہیں
یہ نو آیات کا ترجمہ ہے ان میں سے پہلی دو آیتوں میں یہ فرمایا کہ آپ تکذیب کرنے والوں کی بات نہ مانیے وہ چاہتے ہیں کہ آپ کچھ نرم پڑجائیں تو وہ بھی آپ کے معاملہ میں نرمی اختیار کرلیں، اہل باطل کا یہ طریقہ رہا ہے کہ خود تو حق کی طرف جھکتے نہیں ان کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ داعیان حق کو دعوت دیں کہ تم اپنی دعوت چھوڑ دو اور ہمارے کفر و گمراہی میں شریک ہوجاؤ، جب اس پر قابو نہیں چلتا تو کہتے ہیں کہ اچھا آپ کچھ نرم پڑجائیں اپنی دعوت اور دعوت کے کاموں میں نرمی اختیار کرلیں ہم بھی اپنی مخالفت میں اور سختی میں کمی کردیں گے رسول اللہ ﷺ کو اللہ نے حکم دیا کہ ان کی باتوں میں نہ آئیں جو حکم ہوا ہے اس کے مطابق دعوت دیتے رہیں اور دعوت میں کسی بھی طرح کی نرمی اور مداہنت کو منظور نہ فرمائیں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مشرکین مکہ نے یوں کہا تھا کہ آپ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں ہم بھی آپ کی مخالفت نہ کریں گے۔ اس پر مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی۔ معلوم ہوا کہ مخلوق کو راضی کرنے کے لیے کسی حق کام یا حق بات کا چھوڑ دینا جائز نہیں۔
ایک کافر کی دس صفات ذمیمہ :
اس کے بعد جو سات آیات ہیں ان میں کسی کا نام نہیں لیا البتہ دس صفات ذمیمہ کا تذکرہ فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ ان صفات والے شخص کا اتباع نہ کیجئے اس سے ان صاحب کی مذمت بھی ہوگئی اور جو شخص ان صفات سے متصف ہو اس کی مذمت بھی ہوگئی مفسرین نے لکھا ہے کہ اہل مکہ میں جو لوگ اسلام اور داعی اسلام ﷺ کے شدید ترین دشمن تھے ان میں ایک شخص ولید بن المغیرہ بھی تھا۔ یہ شخص بہت ہی زیادہ مخالفت پر اترا ہوا تھا۔ ان آیات میں اسی کا ذکر ہے، نام لیے بغیر ارشاد فرمایا کہ ایسے ایسے شخص کی اطاعت نہ کیجئے۔ اول تو ﴿ حَلَّافٍ ﴾ فرمایا یعنی بہت زیادہ قسمیں کھانے والا۔ دوسرے ﴿ مَّهِيْنٍ﴾ فرمایا یعنی ذلیل تیسرے ﴿هَمَّازٍ﴾ فرمایا جو دوسروں کو عیب لگاتا ہے غیبتیں کرتا ہے۔ چوتھے ﴿مَّشَّآءٍۭ بِنَمِيْمٍۙ0011﴾ یعنی چغل خور ہے جو لوگوں کے درمیان فساد پھیلانے کے لیے چغلی کرتا ہے اور اس مشغلہ میں خوب آگے بڑھا ہوا ہے۔ پانچویں ﴿مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ﴾ یعنی خیر سے روکنے والا، اس میں ہدایت سے روکنا بھی آگیا اور جہاں اللہ کی رضا مندی کے کاموں میں مال خرچ کرنے کی ضرورت ہو وہاں ہاتھ روک لینے اور کنجوسی کرنے کو بھی شامل ہوگیا۔ چھٹے ﴿ مُعْتَدٍ﴾ فرمایا یعنی حد سے بڑھنے والا ظلم کرنے والا۔ ساتویں ﴿اَثِيْمٍۙ0012﴾ فرمایا یعنی گناہگار۔ آٹھویں ﴿ عُتُلٍّۭ﴾ فرمایا یعنی سخت مزاج، نویں فرمایا ﴿ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْمٍۙ0013﴾ یعنی یہ جو کچھ مذکور ہوا اس کے بعد یہ بھی ہے کہ وہ منقطع النسب ہے۔ یہ شخص ثابت النسب نہیں تھا یعنی اس کا باپ معلوم نہ تھا حقیقت میں قریشی نہ تھا مغیرہ نے اس کی اٹھارہ سال عمر ہونے کے بعد اسے اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا اسی وجہ سے بعض مفسرین نے لفظ زنیم کا ترجمہ حرام زادہ کیا ہے۔ یہاں یہ جو سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو بچہ ثابت النسب نہ ہو اس کا کیا قصور ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پیدا ہونے پر ملامت نہیں ہے حرام زادوں میں افعال قبیحہ اور اخلاق ذمیمہ تربیت نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوجاتے ہیں لہٰذا ان میں ثابت النسب والے افراد والی شرافت عموماً نہیں پائی جاتی، اس کی دسویں صفت ذمیمہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ چونکہ یہ مال والا اور بیٹوں والا ہے اس لیے یہ حرکت کرتا ہے کہ جب اس پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو جھٹلانے کے طور پر کہہ دیتا ہے کہ یہ پرانے لوگوں کی چیزیں ہیں جو نقل در نقل چلی آرہی ہیں چاہیے تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر کرتا اور اس کی آیات کی تصدیق کرتا لیکن اس نے مال اور اولاد پر گھمنڈ کر کے آیات قرآنیہ کی تکذیب پر کمر باندھ لی۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ جہاں تک ہمارا علم ہے اللہ تعالیٰ نے کسی بھی فرد کو اتنی صفات ذمیمہ کے ساتھ موصوف نہیں فرمایا جو ولید بن المغیرہ کی صفات فرمائیں۔ آخرت میں جو کفر پر مرجانے کی سزا ہے وہ اپنی جگہ ہے دنیا میں اس کو یہ سزا دی کہ اس کی ناک پر غزوہٴ بدر کے موقع پر ایک تلوار لگی جس کی وجہ سے ناک پر زخم آگیا اور مستقل ایک نشان بن گیا اس کی ناک بھی بڑی تھی جسے خرطوم سے تعبیر فرمایا ہے خرطوم ہاتھی کی ناک کو کہتے ہیں یہ شخص زندگی بھر اپنی اس عیب دار ناک کو لیے پھرتا تھا اور سب کے سامنے اس کی بدصورتی عیاں تھی۔
Ayahs 68:17–32ایک باغ کے مالکوں کا عبرت ناک واقعہ
رسول اللہ ﷺ کے ہجرت فرمانے کے بعد مکہ معظمہ کے مشرکوں پر اللہ تعالیٰ نے قحط بھیج دیا تھا۔ قحط کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھائی، اس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے مکہ والوں کو آزمائش میں ڈالا جیسا کہ باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، یہ باغ کہاں تھا باغ والے کون تھے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ باغ یمن میں شہر صنعاء سے دو فرسخ کے فاصلہ پر تھا اسے نمازی لوگوں نے بویا تھا جو لوگ اس کے وارث چلے آ رہے تھے وہ بڑے سخی تھے جس دن باغ کے پھل کاٹتے تھے مساکین جمع ہوجاتے تھے اسی طرح کھیتی کاٹنے کے دن اور جس دن بھوسہ اور دانہ الگ کرتے تھے مساکین آجاتے تھے، یہ لوگ مساکین کو دل کھول کر پھل اور کھیتی اور بھوسہ سے نکالے ہوئے دانے دے دیا کرتے تھے۔ آخر یہ ہوا کہ ان میں سے ایک شخص کی موت ہوگئی اس نے اپنے تین لڑکے وارث چھوڑے اب جو کھیتی کاٹنے کا موقع آیا تو ان تینوں بھائیوں نے مشورہ کیا کہ مال کم ہے اہل و عیال زیادہ ہیں اب اگر ہم اسی طرح سخاوت کرتے رہیں اور مسکینوں کو دیتے رہیں تو ہمارے لیے مال کم پڑجائے گا اب تو مسکینوں سے جان چھڑانا چاہیے لہٰذا انہوں نے آپس میں یہ طے کرلیا کہ آئندہ ہم بالکل صبح صبح باغ میں پہنچ جائیں گے اور مسکینوں کے آنے سے پہلے کاٹ کر گھر والوں میں لے آئیں گے۔ مشورے سے آپس میں یہ باتیں طے کیں اور قسمیں بھی کھائیں کہ ہم ضرور ایسا کریں گے۔ لیکن انشاء اللہ کسی کے منہ سے بھی نہ نکلا، اول تو مسکینوں کو محروم کرنے کی قسم کھائی دوسرے انشاء اللہ کہنا بھول گئے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے راتوں رات اس باغ پر آفت بھیج دی، یہ لوگ سو ہی رہے تھے انہیں پتہ بھی نہ چلا کہ باغ کا کیا بنا رات کو جو آفت آئی تو وہ کھیتی ایسی ہوگئی کہ پہلے سے کاٹ دی گئی ہو اسی کو ﴿ فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِيْمِۙ0020﴾ سے تعبیر فرمایا، وہاں پہنچے تو کچھ بھی نہ پایا حضرت ابن عباس ؓ نے ﴿كَالصَّرِیْمِ﴾ کا ترجمہ کالرماد الا سود کیا اور فرمایا ہے کہ بنی خزیمہ کے لغت میں اس کا یہی ترجمہ ہے یعنی ان لوگوں کی کھیتی سیاہ راکھ کی طرح ہوگئی۔
صبح کو جو یہ لوگ اٹھے تو آپس میں ایک دوسرے کو بلایا کہ آؤ اگر تمہیں اپنی کھیتی کی پیداوار پوری لینی ہے اور مسکینوں کو کچھ نہیں دینا ہے تو صبح صبح چلے چلو اور جلدی چلو ورنہ عادت کے مطابق مساکین آجائیں گے، چناچہ یہ تینوں بھائی چل دیئے چلے جا رہے تھے اور آپس میں چپکے چپکے یوں کہہ رہے تھے کہ دیکھو آج ہم تک کوئی مسکین نہ پہنچنے پائے، جو کچھ مشورہ کیا ہے اس پر قابو پانے کی کوشش کرو اور اپنے مال کو اپنے قبضہ میں کرلو۔
باغ میں پہنچے تو دیکھا کہ باغ تو جلا ہوا ہے کہنے لگے کہ ( علیہ السلام) جی یہ ہمارا باغ نہیں ہے ہم تو راستہ بھٹک گئے ہیں چلو اپنا باغ تلاش کرو، ان میں سے بعض نے کہا کہ ارے یہ بات نہیں ہے ہمارا باغ یہیں تھا ہم اس کی خیر سے محروم کردیئے گئے ہیں کیونکہ ہم نے یہ ٹھان لیا تھا کہ مساکین کو کچھ نہیں دینا ہے اس پر ہماری گرفت ہوئی ہے جس وجہ سے ہمیں کچھ بھی نہیں ملا، ان میں سے جو سب سے اچھا آدمی تھا اس نے کہا کہ کیا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ تم اللہ کی تسبیح کیوں نہیں بیان کرتے یعنی انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے اب جب ان لوگوں نے باغ کو برباد دیکھا تو بڑی ندامت ہوئی اور کہنے لگے کہ ہم اپنے رب کی پاکی بیان کرتے ہیں بلاشبہ ہم نے ظلم کا فیصلہ کیا تھا کہ مسکینوں کو کچھ نہ دیں گے۔
اس کے بعد آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور الزام دینے لگے کہ تو نے یہ رائے دی تھی اور تو نے یوں کہا تھا اور کہنے لگے کہ ہائے ہماری خرابی ہم نے سرکشی والا کام کیا اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرتے۔ مساکین کو دیتے تو اچھا ہوتا سرکشی کر کے ہم نے اس محرومی کو خود مول لیا (اب سمجھ میں آگیا کہ ہمیں وہی کرنا چاہیے تھا جو ہمارے باپ دادا کرتے تھے) امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس باغ سے بہتر عطا فرمائے گا جو باغ جل کر خاکستر ہوگیا ہم اپنے رب کی طرف راغب ہوتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ان لوگوں نے اخلاص کے ساتھ توبہ کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک باغ عطا فرما دیا جس کے انگور کے خوشے اتنے بڑے بڑے تھے کہ ایک خوشہ ایک خچر پر لاد کرلے جاتے تھے۔
Ayah 68:33آخر میں فرمایا ﴿ كَذٰلِكَ الْعَذَابُ 1ؕ﴾ (اسی طرح عذاب ہے) جو شخص ہماری حدود سے آگے بڑھتا ہے اور حکم کی مخالفت کرتا ہے ہم اسے اسی طرح عذاب دیتے ہیں۔ ﴿ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ 1ۘ﴾ اور البتہ آخرت کا عذاب بہت بڑا ہے۔
﴿ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ (رح) 0033﴾ تاکہ یہ لوگ جانتے ہوتے۔
Ayahs 68:34–36متقیوں کے لیے نعمت والے باغ ہیں اور مسلمین و مجرمین برابر نہیں ہو سکتے
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے متقی بندوں کے انعامات بیان فرمائے ہیں اولاً ارشاد فرمایا کہ انہیں ان کے رب کے پاس نعمتوں والے باغ ملیں گے، اس کے بعد فرمایا کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی طرح کردیں گے ؟ یعنی جو لوگ مجرم ہیں انہیں اپنے جرم کی سزا ملے گی اور فرماں بردار بندے اپنے ایمان اور اعمال صالحہ کا پھل پائیں گے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی نوازش ہوگی اور نعمتیں ملیں گی، نہ تو یہ ہوگا کہ فرمانبردار نعمتوں سے محروم ہو کر مجرمین کے برابر ہوجائیں اور نہ یہ ہوگا کہ کافرین کو نعمتیں دے دی جائیں، جب اہل ایمان اور اہل تقویٰ کی نعمتوں کا تذکرہ ہوتا تھا تو اہل کفر یوں کہتے تھے کہ دنیا میں ہمیں بھی یہ نعمتیں ملیں گی بلکہ ہم نعمتوں کے زیادہ مستحق ہیں ان کی اس بات کی تردید فرما دی کہ ﴿ اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ كَالْمُجْرِمِيْنَؕ0035﴾ اور مزید فرمایا ﴿ مَا لَكُمْز كَيْفَ تَحْكُمُوْنَۚ0036﴾ (تمہیں کیا ہوا تم کیسا فیصلہ کرتے ہو) تمہارا یہ فیصلہ تو عقل کے اور دنیا داری کے اصول کے بھی خلاف ہے دنیا میں جو اہل انصاف ہیں کیا مجرم اور غیر مجرم کے ساتھ برابری کا برتاؤ کرتے ہیں ؟ تم نے یہ کیسے کہا کہ اللہ تعالیٰ جو احکم الحاکمین اور سب سے بڑا انصاف والا ہے وہ مجرموں اور غیر مجرموں کے ساتھ برابری کا برتاؤ کرے گا۔
Ayahs 68:37–40﴿اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِيْهِ تَدْرُسُوْنَۙ0037﴾ (الی آخر الآیات) یہ بات جو تم نے کہی ہے تمہارے پاس اس کی کیا دلیل ہے ؟ کیا تمہارے پاس آسمان سے کوئی کتاب نازل ہوئی ہے جسے تم آپس میں پڑھتے ہو ؟ اور کیا اس کتاب میں یہ مضمون ہے کہ تم جو چاہو اپنے پاس سے اپنی خواہش کے مطابق کہہ دو گے اسی کے مطابق فیصلہ ہوجائے گا ؟ پھر فرمایا کیا تمہارے لیے ہمارے اوپر قسمیں ہیں جو قیامت تک باقی رہنے والی ہیں کہ تمہیں وہ دیا جائے گا جس کا تم فیصلہ کرتے ہو ؟ مطلب یہ ہے کہ تم بتاؤ کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا عہد ہے کہ جو تم کہہ دو گے ہم وہی کردیں گے اور تمہارے کہنے کے مطابق فیصلہ ہوگا ؟ ایسا نہیں ہے پھر بڑھ چڑھ کر یہ باتیں اپنی طرف سے کیسے تجویز کر رہے ہو ؟ پھر رسول اللہ ﷺ سے خطاب فرمایا ﴿ سَلْهُمْ اَيُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِيْمٌۚۛ0040﴾ (آپ ان سے دریافت کرلیجئے کہ ایسا کون شخص ہے جو ان کی باتوں کو صحیح ثابت کرنے کا ذمہ دار ہے) ۔ یعنی ان کی نامعقول باتوں کو کوئی عاقل صحیح نہیں کہہ سکتا۔