68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 68:1–2

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader

قسم ہے قلم کی اور جو کچھ لکھتے ہیں

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader

تو نہیں اپنے رب کے فضل سے دیوانہ4

4 مشرکین مکہ حضور ﷺ کو (العیاذ باللہ) دیوانہ کہتے تھے۔ کوئی کہتا کہ شیطان کا اثر ہے جو یک بیک تمام قوم سے الگ ہو کر ایسی باتیں کرنے لگے ہیں جن کو کوئی نہیں مان سکتا، حق تعالیٰ نے اس خیال باطل کی تردید اور آپ ﷺ کی تسلی فرما دی۔ یعنی جس پر اللہ تعالیٰ کے ایسے ایسے فضل و انعام ہوں جن کو ہر آنکھ والا مشاہدہ کر رہا ہے۔ مثلاً اعلیٰ درجہ کی فصاحت اور حکمت و دانائی کی باتیں۔ مخالف و موافق کے دل میں اس قدر قوی تاثیر اور اتنے بلند اور پاکیزہ اخلاق کیا اسے دیوانہ کہنا خود اپنی دیوانگی کی دلیل نہیں ؟ دنیا میں بہت دیوانے ہوئے ہیں اور کتنے عظیم الشان مصلحین گزرے ہیں جن کو ابتداء ً قوم نے دیوانہ کہہ کر پکارا ہے۔ مگر قلم نے تاریخی معلومات کا جو ذخیرہ بطون اوراق میں جمع کیا ہے وہ ببانگ دہل شہادت دیتا ہے کہ واقعی دیوانوں، اور ان دیوانہ کہلانے والوں کے حالات میں کس قدر زمین و آسمان کا تفاوت ہے۔ آج آپ کو (العیاذ باللہ) مجنون کے لقب سے یاد کرنا بالکل وہی رنگ رکھتا ہے کہ جس رنگ میں دنیا کے تمام جلیل القدر اور اولوالعزم مصلحین کو ہر زمانہ کے شریروں اور بےعقلوں نے یاد کیا ہے۔ لیکن جس طرح تاریخ نے ان مصلحین کے اعلیٰ کارناموں پر بقاء و دوام کی مہر ثبت کی، اور ان مجنون کہنے والوں کا نام و نشان باقی نہ چھوڑا۔ قریب ہے کہ قلم اور اس کے ذریعہ سے لکھی ہوئی تحریریں آپ ﷺ کے ذکر خیر اور آپ ﷺ کے بےمثال کارناموں اور علوم و معارف کو ہمیشہ کے لیے روشن رکھیں گی۔ اور آپ ﷺ کو دیوانہ بتلانے والوں کا وجود صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ کر رہے گا۔ ایک وقت آئے گا جب ساری دنیا آپ ﷺ کی حکمت و دانائی کی داد دے گی اور آپ ﷺ کے کامل ترین انسان ہونے کو بطور ایک اجماعی عقیدہ کے تسلیم کرے گی۔ بھلا خداوند قدوس جس کی فضیلت و برتری کو ازل الآزال میں اپنے قلم نور سے لوح محفوظ کی تختی پر نقش کرچکا، کسی کی طاقت ہے کہ محض مجنون و مفتون کی پھبتیاں کس کر اس کے ایک شوشہ کو مٹا سکے ؟ جو ایسا خیال رکھتا ہو پرلے درجہ کا مجنون یا جاہل ہے۔
Ayah 68:3

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader

اور تیرے واسطے بدلہ ہے بےانتہا5

5 یعنی آپ غمگین نہ ہوں۔ ان کے دیوانہ کہنے سے آپ کا اجر بڑھتا ہے اور غیر محدود فیض ہدایت بنی نوع انسان کو آپ کی ذات سے پہنچنے والا ہے اس کا بےانتہاء اجرو ثواب آپ ﷺ کو یقیناً ملنے والا ہے کیا دیوانوں اور پاگلوں کا مستقبل ایسا پائدار اور شاندار کسی نے دیکھا ہے ؟ یا کسی مجنون کی اسکیم اس طرح کامیاب ہوتے سنی ہے ؟ پھر جس کا رتبہ اللہ کے ہاں اتنا بڑا ہو اس کو چند احمقوں کے دیوانہ کہنے کی کیا پروا ہونی چاہیے۔
Ayah 68:4

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader

اور تو پیدا ہوا ہے بڑے خلق پر6

6 یعنی اللہ تعالیٰ نے جن اعلیٰ اخلاق و ملکات پر آپ ﷺ کو پیدا فرمایا، کیا دیوانوں میں ان اخلاق و ملکات کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ ایک دیوانے کے اقوال و افعال میں قطعاً نظم و ترتیب نہیں ہوتی، نہ اس کا کلام اس کے کاموں پر منطبق ہوتا ہے برخلاف اس کے آپ ﷺ کی زبان قرآن ہے اور آپ ﷺ کے اعمال و اخلاق قرآن کی خاموش تفسیر۔ قرآن جس نیکی، جس خوبی اور بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے وہ آپ ﷺ میں فطرۃً موجود، اور جس بدی وزشتی سے روکتا ہے آپ طبعاً اس سے نفوروبیزار ہیں۔ پیدائشی طور پر آپ ﷺ کی ساخت اور تربیت ایسی واقع ہوئی ہے کہ آپ کی کوئی حرکت اور کوئی چیز حد تناسب و اعتدال سے ایک انچ ادھر ادھر ہٹنے نہیں پاتی۔ آپ ﷺ کا حسن اخلاق اجازت نہ دیتا تھا کہ جاہلوں اور کمینوں کے طعن وتشنیع پر کان دھریں جس شخص کا خلق اس قدر عظیم اور مطمح نظر اتنا بلند ہو، بھلا وہ کسی مجنون کے مجنون کہہ دینے پر کیا التفات کرے گا۔ آپ ﷺ تو اپنے دیوانہ کہنے والوں کی نیک خواہی اور درد مندی میں اپنے کو گھلائے ڈالتے تھے جس کی بدولت (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) 18 ۔ الکہف :6) کا خطاب سننے کی نوبت آتی تھی۔ فی الحقیقت اخلاق کی عظمت کا سب سے زیادہ عمیق پہلو یہ ہے کہ آدمی دنیا کی ان حقیر ہستیوں سے معاملہ کرتے وقت خداوند قدوس کی عظیم ہستی سے غافل و ذاہل نہ ہو۔ جب تک یہ چیز قلب میں موجود رہے گی تمام معاملات عدل و اخلاق کی میزان میں پورے اتریں گے۔ کیا خوب فرمایا شیخ جنید بغدادی نے " سمی خلقہ عظیما اذلم تکن لہ ہمۃً سوی اللہ تعالیٰ عاشر الخلق بِخُلْقِہٖ وزایلہم بقلبہ فکان ظاہرہ مع الخلق و باطنہ مع الحق " وفی وصیتہ بعض الحکماء " عَلَیْکَ بالْخُلْقِ مَعَ الْخَلْقِ وَبِالصِّدْقِ مَعَ الْحَقِّ ۔ "
Ayahs 68:5–6

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader

سو اب تو بھی دیکھ لے گا اور وہ بھی دیکھ لے گا

بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader

کہ کون ہے تم میں جو بچل رہا ہے7

7 یعنی دل میں تو پہلے سمجھتے ہیں، لیکن عنقریب فریقین کو آنکھوں سے نظر آجائے گا دونوں میں سے کون ہوشیار اور عاقبت اندیش تھا اور کس کی عقل ماری گئی تھی جس کی وجہ سے پاگلوں کی طرح بچلی بچلی باتیں کرتا تھا۔
Ayah 68:7

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader

بیشک تیرا رب وہی خوب جانے اس کو جو بہکا اس کی راہ سے اور وہی خوب جانتا ہے راہ پانے والوں کو8

8 یعنی پوری طرح علم تو اللہ ہی کو ہے کہ کون لوگ راہ پر آنے والے ہیں اور کون بھٹکنے والے لیکن نتائج جب سامنے آئیں گے تو سب کو نظر آجائے گا کہ کون کامیابی کی منزل پر پہنچا اور کون شیطان کی رہزنی کی بدولت ناکام و نامراد رہا۔
Ayahs 68:8–9

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader

سو تو کہنا مت مان جھٹلانے والوں کا

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader

وہ چاہتے ہیں کسی طرح تو ڈھیلا ہو تو وہ بھی ڈھیلے ہوں9

9 یعنی راہ پر آنے والے نہ آنے والے سب اللہ کے علم محیط میں طے شدہ ہیں۔ لہذا دعوت و تبلیغ کے معاملہ میں کچھ رو و رعایت کی ضرورت نہیں۔ جس کو راہ پر آنا ہوگا آرہے گا اور جو محروم ازلی ہے وہ کسی لحاظ و مروت سے ماننے والا نہیں۔ کفار مکہ حضور ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ ﷺ بت پرستی کی نسبت اپنا سخت رویہ ترک کردیں اور ہمارے معبودوں کی تردید نہ کریں، ہم بھی آپ ﷺ کے خدا کی تعظیم کریں گے اور آپ ﷺ کے طورو طریق اور مسلک و مشرب سے متعارض نہ ہوں گے۔ ممکن تھا کہ ایک مصلح اعظم کے دل میں جو " خلق عظیم " پر پیدا کیا گیا ہے۔ نیک نیتی سے یہ خیال آجائے کہ تھوڑی سی نرمی اختیار کرنے اور ڈھیل دینے سے کام بنتا ہے تو برائے چند نرم روش اختیار کرنے میں کیا مضائقہ ہے۔ اس پر حق تعالیٰ نے متنبہ فرما دیا کہ آپ ﷺ ان مکذبین کا کہنا نہ مانیے۔ ان کی غرض محض آپ ﷺ کو ڈھیلا کرنا ہے۔ ایمان لانا اور صداقت کو قبول کرنا مقصود نہیں۔ آپ کی بعثت کی اصلی غرض اس صورت میں حاصل نہیں ہوتی۔ آپ تو ہر طرف سے قطع نظر کر کے اپنا فرض ادا کرتے رہیے۔ کسی کو منوا دینے اور راہ پر لے آنے کے آپ ذمہ دار نہیں۔ (تنبیہ) " مداہنت " اور " مدارات " میں بہت باریک فرق ہے۔ اول الذکر مذموم ہے۔ اور آخرالذکر محمود۔ فلا تغفل "
Ayah 68:10

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader

اور تو کہا مت مان کسی قسمیں کھانے والے بےقدر کا10

10 یعنی جس کے دل میں خدا کے نام کی عظمت نہیں، جھوٹی قسم کھا لینا ایک معمولی بات سمجھتا ہے اور چونکہ لوگ اس کی باتوں پر اعتبار نہیں کرتے۔ اس لیے یقین دلانے کے لیے بار بار قسمیں کھا کر بےقدر اور ذلیل ہوتا ہے۔
Ayahs 68:11–13

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader

طعنے دے چغلی کھاتا پھرے،

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader

بھلے کام سے روکے حد سے بڑھے بڑا گنہگار

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader

اُجڈ ان سب کے پیچھے بدنام11

11 یعنی ان خصلتوں کے ساتھ بدنام اور رسوائے عالم بھی ہے حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " کہ یہ سب کافر کے وصف ہیں آدمی اپنے اندر دیکھے اور یہ خصلتیں چھوڑے۔ " (تنبیہ) " زنیم " کے معنی بعض سلف کے نزدیک ولد الزنا اور حرام زادے کے ہیں۔ جس کافر کی نسبت یہ آیتیں نازل ہوئیں اور ایسا ہی تھا۔
Ayah 68:14

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader

اس واسطے کہ رکھتا ہے مال اور بیٹے12

12 یعنی ایک شخص اگر دنیا میں طالع مند اور خوش قسمت نظر آتا ہے، مثلاً مال و اولاد وغیرہ رکھتا ہے تو محض اتنی بات سے اس لائق نہیں ہوجاتا کہ اس کی بات مانی جائے۔ اصل چیز انسان کے اخلاق و عادات ہیں، جس شخص میں شرافت اور خوش اخلاقی نہیں اللہ والوں کا کام نہیں کہ اس کی ابلہ فریب باتوں کی طرف التفات کریں۔
Ayah 68:15

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader

جب سنائے اس کو ہماری باتیں کہے یہ نقلیں ہیں پہلوں کی13

13 یعنی اللہ کی باتوں کو یہ کہہ کر جھٹلاتا ہے۔
Ayah 68:16

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader

اب داغ دیں گے ہم اس کو سونڈ پر1

1 کہتے ہیں قریش کا ایک سردار ولید بن مغیرہ تھا اس میں یہ سب اوصاف مجتمع تھے اور ناک پر داغ دینے سے مراد اس کی رسوائی اور روسیاہی ہے۔ شاید دنیا میں حسی طور پر بھی کوئی داغ پڑا ہو یا آخرت میں پڑے گا۔
Ayah 68:17

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader

ہم نے ان کو جانچا ہے جیسے جانچا تھا باغ والوں کو2 جب ان سب نے قسم کھائی کہ اس کا میوہ توڑیں گے صبح ہوتے

2 یعنی مال و اولاد کی کثرت کوئی مقبولیت کی علامت نہیں، نہ اللہ کے ہاں اس کی کچھ قدروقیمت ہے لہذا کفار مکہ اس چیز پر مغرور نہ ہوں یہ تو اللہ کی طرف سے ان کی آزمائش اور جانچ ہے جیسے پہلے بعض لوگوں کی جانچ کی گئی۔
Ayah 68:18

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader

اور انشاء اللہ نہ کہا3

3 کئی بھائی جن کے باپ نے ترکہ میں میوے کا ایک باغ چھوڑا تھا، اس میں کھیتی بھی ہوتی ہوگی۔ سارا گھر اس کی پیداوار سے آسودہ تھا، باپ کے زمانہ میں عادت تھی کہ جس دن میوہ توڑا جاتا یا کھیتی کٹتی تو شہر کے سب فقیر محتاج جمع ہوجاتے۔ یہ سب کو تھوڑا بہت دے دیتا اسی سے برکت تھی، اس کے انتقال کے بعد بیٹوں کو خیال ہوا کہ فقیر جو اتنا مال لے جاتے ہیں، وہ اپنے ہی کام آئے تو خوب ہو۔ کیونکہ ہم ایسی تدبیر نہ کریں کہ فقیروں کو کچھ دینا نہ پڑے اور ساری پیداوار گھر میں آجائے۔ پھر آپس میں مشورہ کر کے یہ رائے قرار پائی کہ صبح سویرے ہی توڑ کر گھر لے آئیں۔ فقیر جائیں گے تو وہاں کچھ نہ پائیں گے۔ اور اپنی اس تدبیر پر ایسا یقین جمایا کہ " انشاء اللہ " بھی نہ کہا۔
Ayahs 68:19–20

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader

پھر پھیرا کر گیا اس پر کوئی پھرجانے والا تیرے رب کی طرف سے اور وہ سوتے ہی رہے

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader

پھر صبح تک ہو رہا جیسے ٹوٹ چکا4

4 یعنی رات کو بگولا اٹھا آگ لگی یا اور کوئی آفت پڑی، سب کھیت اور باغ صاف ہو رہا۔
Ayahs 68:21–25

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader

پھر آپس میں بولے صبح ہوتے

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader

کہ سویرے چلو اپنے کھیت پر اگر تم کو توڑنا ہے

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

پھر چلے اور آپس میں کہتے تھے چپکے چپکے

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ اندر نہ آنے پائے اس میں آج تمہارے پاس کوئی محتاج

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

اور سویرے چلے لپکتے ہوئے زور کے ساتھ5

5 یعنی یہ یقین کرتے ہوئے کہ اب جا کر سب پیداوار اپنے قبضہ میں کرلیں گے۔
Ayahs 68:26–27

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

پھر جب اس کو دیکھا بولے ہم تو راہ بھول آئے

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

نہیں ہماری تو قسمت پھوٹ گئی6

6 وہ زمین کھیتی اور درختوں سے ایسی صاف ہوچکی تھی کہ وہاں پہنچ کر پہچان نہ سکے، سمجھے کہ ہم راہ بھول کر کہیں اور نکل آئے۔ پھر جب غور کیا تو سمجھے کہ نہیں، جگہ تو وہی ہے۔ مگر ہماری قسمت پھوٹ گئی اور حق تعالیٰ کی درگاہ سے ہم محروم کیے گئے۔
Ayah 68:28

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

بولا بچلا ان کا میں نے تم کو نہ کہا تھا کہ کیوں نہیں پاکی بولتے اللہ کی7

7 منجھلا بھائی ان میں زیادہ ہشیار تھا۔ اس نے مشورہ کے وقت متنبہ کیا ہوگا کہ اللہ کو مت بھولو۔ یہ سب اسی کا انعام سمجھو اور فقیر محتاج کی خدمت سے دریغ نہ کرو۔ جب کسی نے اس کی بات پر کان نہ دھرا، چپ ہو رہا اور ان ہی کا شریک حال ہوگیا۔ اب یہ تباہی دیکھ کر اس نے وہ پہلی بات یاد دلائی۔
Ayahs 68:29–30

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

بولے پاک ذات ہے ہمارے رب کی ہم ہی تقصیر وار تھے

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر منہ کر کر ایک دوسرے کی طرف لگے الا ہنا (الزام) دینے8

8 اب اپنی تقصیر کا اعتراف کر کے رب کی طرف رجوع ہوئے اور جیسا کہ عام مصیبت کے وقت قاعدہ ہے ایک دوسرے کو الزام دینے لگے، ہر ایک دوسرے کو اس مصیبت اور تباہی کا سبب گردانتا تھا۔
Ayahs 68:31–32

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

بولے ہائے خرابی ہماری ہم ہی تھے حد سے بڑھنے والے

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

شاید ہمارا رب بدل دے ہم کو اس سے بہتر ہم اپنے رب سے آرزو رکھتے ہیں9

9 آخر میں سب مل کر کہنے لگے کہ واقعی ہماری سب کی زیادتی تھی کہ ہم نے فقیروں محتاجوں کا حق مارنا چاہا اور حرص و طمع میں آکر اصل بھی کھو بیٹھے۔ یہ جو کچھ خرابی آئی اس میں ہم ہی قصور وار ہیں، مگر اب بھی ہم اپنے رب سے ناامید نہیں کیا عجب ہے وہ اپنی رحمت سے پہلے باغ سے بہتر باغ ہم کو عطا کر دے۔
Ayah 68:33

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

یوں آتی ہے آفت اور آخرت کی آفت تو سب سے بڑی ہے اگر ان کو سمجھ ہوتی10

10 یعنی یہ تو دنیا کے عذاب کا ایک چھوٹا سا نمونہ تھا جسے کوئی ٹال نہ سکا۔ بھلا آخرت کی اس بڑی آفت کو تو کون ٹال سکتا ہے۔ سمجھ ہو تو آدمی یہ بات سمجھے۔
Ayah 68:34

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 68:34 in the Quran reader

البتہ ڈرنے والوں کو ان کے رب کے پاس باغ ہیں نعمت کے11

11 یعنی دنیا کے باغ و بہار کو کیا لیے پھرتے ہو جنت کے باغ ان سے کہیں بہتر ہیں جن میں ہر قسم کی نعمتیں جمع ہیں۔ وہ خاص متقین کے لیے ہیں۔
Ayahs 68:35–36

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader

کیا ہم کردیں گے حکم برداروں کو برابر گناہ گاروں کے

مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:36 in the Quran reader

کیا ہوگیا تم کو کیسے ٹھہراتے ہو بات1

1 کفار مکہ نے غرور وتکبر سے اپنے دل میں یہ ٹھہرا رکھا تھا کہ اگر قیامت کے دن مسلمانوں پر عنایت و بخشش ہوگی تو ہم پر ان سے بہتر اور بڑھ کر ہوگی۔ اور جس طرح دنیا میں ہم کو اللہ نے عیش و رفاہیت میں رکھا ہے وہاں بھی یہ ہی معاملہ رہے گا۔ اس کو فرمایا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے اگر ایسا ہو تو یہ مطلب ہوگا کہ ایک وفادار غلام جو ہمیشہ اپنے آقا کی حکم برداری کے لیے تیار رہتا ہے، اور ایک جرائم پیشہ باغی دونوں کا انجام یکساں ہوجائے، بلکہ مجرم اور باغی، وفاداروں سے اچھے رہیں یہ وہ بات ہے جس کو عقل سلیم اور فطرت صحیحہ رد کرتی ہے۔
Ayahs 68:37–40

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 68:37 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں پڑھ لیتے ہو

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ Open ayah 68:38 in the Quran reader

اس میں ملتا ہے تم کو جو تم پسند کرلو

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:39 in the Quran reader

کیا تم نے ہم سے قسمیں لے لی ہیں ٹھیک پہنچنے والی قیامت کے دن تک کہ تم کو ملے گا جو کچھ تم ٹھہراؤ گے

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ Open ayah 68:40 in the Quran reader

پوچھ ان سے کون سا ان میں اس کا ذمہ لیتا ہے2

2 یعنی یہ بات کہ مسلم اور مجرم دونوں برابر کردیے جائیں ظاہر ہے عقل و فطرت کے خلاف ہے۔ پھر کیا کوئی نقلی دلیل اس کی تائید میں تمہارے پاس ہے ؟ کیا کسی معتبر کتاب میں یہ مضمون پڑھتے ہو کہ جو تم اپنے لیے پسند کرلو گے وہ ہی ملے گا ؟ اور تمہاری من مانی خواہشات پوری کی جائیں گی۔ یا اللہ نے قیامت تک کے لیے کوئی قسم کھالی ہے کہ تم جو کچھ اپنے دل سے ٹھہرالو گے وہ ہی دیا جائے گا ؟ اور جس طرح آج عیش و رفاہیت میں ہو۔ قیامت تک اسی حال میں رکھے جاؤ گے ؟ جو شخص ان میں سے ایسا دعویٰ کرے اور اس کے ثابت کرنے کی ذمہ داری اپنے اوپر لے، لاؤ، اسے سامنے کرو۔ ہم بھی تو دیکھیں کہ وہ کہاں سے کہتا ہے۔