68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 68:1–2

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader

ن قلم کی اور جو (اہل قلم) لکھتے ہیں اس کی قسم

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader

کہ (اے محمد ﷺ تم اپنے پروردگار کے فضل سے دیوانے نہیں ہو

(1۔ 2) قسم ہے ن کی اور قلم کی اور ان کے لکھنے کی، نون یہ ایک مچھلی ہے جس نے ساتوں زمینوں کو اپنی پشت پر اٹھا رکھا ہے اور یہ پانی میں ہے۔ اور اس کے نیچے بیل ہے اور بیل کے نیچے پتھر ہے اور اس کے نیچے نرم مٹی ہے اور مٹی کی تہ میں کیا چیز ہے اس کا علم اللہ کے علاوہ اور کسی کو نہیں اور اس مچھلی کا نام لیواش ہے یا یہ کہ لوتیاہ اور بیل کا نام بھ موت ہے اور بعض تلہوت ذکر کیا ہے، یا یہ کہ لیوتا ہے اور یہ مچھلی سمندر میں ہے اسے عفواص کہا جاتا ہے اور جیسا کہ بڑے دریا میں چھوٹا بیل ہوتا ہے یہ اس کی طرح ہے اور یہ دریا جو فاء پتھر میں ہے اور اس پتھر میں چار ہزار شکنیں ہیں۔ ایک شکن سے پانی نکل کر زمین تک آتا ہے اور وہ اسماء خداوندی میں سے ایک اسم ہے اور وہی نون رحمن ہے، اور نون کے معنی دوات کے بھی بیان کیے گئے ہیں اور یہ قلم نور کا ہے اس کا طول آسمان و زمین کی مسافت کے برابر ہے اور اسی سے لوح محفوظ پر لکھا گیا ہے کہ قلم فرشتوں میں سے ایک ہے۔ اسی کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے اور قسم ہے اس کی جو کہ فرشتے انسانوں کے اعمال لکھتے ہیں۔ آگے جواب قسم ہے کہ محمد اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت و اسلام کی فضیلت عطا فرمائی ہے آپ مجنون نہیں ہیں۔ شان نزول : مَآ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍ (الخ) ابن منذر نے ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ کفار رسول اکرم کے متعلق کہا کرتے تھے کہ معاذ اللہ ! آپ مجنون ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 68:3

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader

اور تمہارے لئے بےانتہا اجر ہے۔

اور آپ کو جنت میں نبوت و اسلام کی وجہ سے ایسا اجر ملنے والا ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں اور نہ وہ اس کا آپ پر احسان فرمائے گا۔
Ayahs 68:4–6

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader

اور تمہارے اخلاق بہت (عالی) ہیں

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader

سو عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور یہ (کافر) بھی دیکھ لینگے۔

بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader

کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے

(4۔ 6) اور آپ اللہ کے پاکیزہ مکرم دین پر ہیں یا یہ کہ آپ اخلاق حسنہ کے اعلی پیمانہ پر ہیں۔ نزول عذاب کے وقت عنقریب آپ دیکھ لیں اور یہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں کون مجنون تھا۔ شان نزول : وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ (الخ) ابو نعیم نے دلائل میں اور واحدی نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم سے بڑھ کر کوئی بلند اخلاق نہیں تھا آپ اپنے ساتھیوں اور گھر والوں میں سے جس کو پکارتے تھے تو وہ آپ کی پکار پر لبیک کہتا تھا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی ہے۔
Ayah 68:7

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader

تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اسکے راستے سے بھٹک گیا۔ اور انکو بھی خوب جانتا ہے جو اسکے راستہ پر چل رہے ہیں

اور آپ کا رب ابو جہل کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے دین سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ ابوبکر اور عمر سے بھی واقف ہے جو اس کے دین پر قائم ہیں۔ سو آپ مکہ کے سرداروں کا کہنا نہ مانیے جو کہ اللہ اور اس کی کتاب اور رسول کو جھٹلانے والے ہیں یہ تو اس بات کے خواہش مند ہیں کہ گر آپ ان کے ساتھ تبلیغ میں نرم ہوجائیں تو یہ بھی آپ کے بارے میں نرم ہوجائیں یا یہ کہ اگر آپ ان کی مطابقت کریں تو یہ بھی آپ کی مطابقت کریں۔
Ayahs 68:8–12

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader

تو تم جھٹلانے والوں کا کہا نہ ماننا۔

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم نرمی اختیار کرو تو بھی نرم ہوجائیں

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader

اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آجانا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل اوقات ہے۔

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader

طعن آمیز اشارتیں کرنیوالا چغلیاں لئے پھرنے والا

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader

مال میں بخل کرنیوالا حد سے بڑھا ہوا بدکار

(8۔ 12) اور آپ خصوصا ولید بن مغیرہ مخزومی کا کہنا نہ مانیے جو کہ بہت جھوٹی قسمیں کھانے والا وہ دین خداوندی میں ذلیل ہو، طعنہ دینے والا، آتے جاتے لوگوں سے غیبت کرنے والا، وہ لوگوں کے درمیان چغلیاں لگاتا پھرتا ہو تاکہ ان کے درمیان فساد برپا کرے۔ اپنی اولاد اور کنبہ قبیلہ کو دین اسلام سے روکتا ہو حق سے اعتدال کرنے والا اور ان پر ظلم کرنے والا ہو فاجر ہو، جھوٹ اور ؟ شان نزول : وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ (الخ) ابن ابی حاتم نے سدی سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے بارے میں اتری ہے۔ ابن منذر نے کلبی سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور ابن ابی حاتم نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت اسود بن یغوث کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور ابن جریر نے ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم پر جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی، تو ہم نے اس شخص کو نہیں پہچانا تاآنکہ بعد میں یہ جملہ نازل ہوا کہ بعد ذلک زنیم۔ تو پھر ہم نے اس کو پہچان لیا اس کا بھی ہر ایک کے ساتھ ہونا ایسا تھا جیسا کہ بکری ہر ایک بکری کے ساتھ مل جاتی ہے۔
Ayahs 68:13–14

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader

سخت خو اور اسکے علاوہ بد ذات ہے

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader

اس سبب سے کہ مال اور بیٹے رکھتا ہے۔

(13۔ 14) باطل پر سخٹ جھگڑنے والا ہو، یا یہ کہ بہت کھانے پینے والا، صحیح تندرست اور لالچی ہو، اور اس کے علاوہ حرام زادہ ہو، یا یہ کفر و شرک فسق و فجور اور شرارتوں میں مست ہو۔ وہ یہ کہتا ہے کہ آپ کی اطاعت نہ کرو اس وجہ سے کہ وہ مال والا اور اولاد والا ہے اور اس کے پاس نو ہزار مثقال چاندی تھی اور اس کے دس بیٹے تھے۔
Ayah 68:15

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader

جب اس کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ اگلے لوگوں کے افسانے ہیں

جب قرآن پاک کی آیات اس کے سامنے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ بےبنیاد باتیں ہیں جو پرانے لوگوں سے منقول چلی آتی ہیں۔
Ayah 68:16

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader

ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے

ہم عنقریب اس کی صورت پر یا یہ کہ اس کی ناک پر داغ لگا دیں گے، یا یہ کہ اس کی صورت کو سیاہ کردیں گے۔
Ayahs 68:17–20

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader

ہم نے ان لوگوں کی اس طرح آزمائش کی ہم جس طرح باغ والوں کی آزمائش کی تھی جب انہوں نے قمسیں کھا کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہوتے ہم اس کا میوہ توڑ لیں گے

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader

اور انشاء اللہ نہ کہا

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader

سو وہ ابھی سو ہی رہے تھے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے (راتوں رات) اس پر ایک آفت پھر گئی

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader

تو وہ ایسا ہوگیا جسے کٹی ہوئی کھیتی

(17۔ 20) اور ہم نے مکہ والوں کی بدر کے دن قتل و قید اور شکست کے ساتھ اور ترک استغفار کے ساتھ اور بدر میں رسول اکرم کی بددعا کی وجہ سے سات سالہ قحط اور بھوک کی شکایت سے آزمائش کر رکھی ہے جیسا ہم نے باغ والوں یعنی بنی ضروان، بھوک کی شکایت اور ان کے باغوں کو آگ لگا کر آزمائش کی تھی۔ جب انہوں نے قسم کھائی تھی کہ اس باغ کا پھل ضرور صبح سویرے چل کر توڑ ڈالیں گے اور انہوں نے انشاء اللہ بھی نہ کہا۔ سو اس باغ پر رات ہی میں عذاب آپڑا سو وہ باغ جل کر ایسا رہ گیا جیسا کہ تاریک رات۔ شان نزول : اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ (الخ) ابن ابی حاتم نے ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ ابو جہل نے بدر کے دن اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ ان مسلمانوں کو پکڑ کے رسیوں سے باندھ لو اور ان میں سے کسی کو قتل مت کرو تب یہ آیت نازل ہوئی تو جیسا کہ باغ والے پھل توڑنے پر اپنے آپ کو قادر سمجھ کر باتیں ملا رہے تھے اسی طرح ابوجہل مسلمانوں پر اپنے آپ کو قادر سمجھ کر یہ کہہ رہا تھا۔
Ayahs 68:21–22

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader

جب صبح ہوئی تو وہ لوگ ایک دوسرے کو پکارنے لگے

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader

کہ اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو

(21۔ 22) چناچہ صبح صادق کے وقت جب وہ اٹھے تو ایک دوسرے کو پکارنے لگے کہ اپنے کھیت پر سویرے چلو اگر تمہیں مساکین کو خبر ہونے سے پہلے پھل توڑنا ہے۔
Ayahs 68:23–27

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

تو وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ آج یہاں تمہارے پاس کوئی فقیر نہ آنے پائے

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

اور کوشش کیساتھ سویرے ہی جا پہنچے (گویا کھیتی پر) قادر (ہیں)

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

جب باغ کو دیکھا تو (ویران) کہنے لگے کہ ہم راستہ بھول گئے ہیں

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

نہیں بلکہ ہم (برگشتہ) بےنصیب ہیں

(23۔ 27) چناچہ پھر وہ لوگ باغوں کی طرف آہستہ آہستہ باتیں کرتے چلے کہ آج باغ تک کوئی محتاج نہ آنے پائے اور خود اپنے آپ کو اس کے نہ دینے پر، یا یہ کہ باغ کا پھل توڑنے پر قادر سمجھ کر چلے۔ پھر جب باغ کو جلا ہوا دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم راستہ بھول گئے، پھر سوچ کر کہنے لگے کہ پیداوار کی خرابی سے ہم باغ کے نفع ہی سے محروم ہوگئے۔
Ayah 68:28

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

ایک جو ان میں فرزانہ تھا بولا کہ میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟

ان میں سے درمیانہ عمر والے نے یا یہ کہ جو بات میں یا عقل میں کسی قدر اچھا آدمی تھا اس نے کہا کہ کیوں میں نے تمہیں کہا نہ تھا کہ انشاء اللہ کیوں نہیں کہہ لیتے اور اس شخص نے اپنے ساتھیوں سے جبکہ وہ قسمیں کھا رہے تھے تب یہ بات کہی تھی سو سب کہنے لگے کہ ہم اپنے پروردگار سے توبہ کرتے ہیں۔
Ayahs 68:29–30

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

(تب) وہ کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بیشک ہم ہی قصوروار تھے

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر لگے ایک دوسرے کو رو در رو ملامت کرنے

(29۔ 30) بیشک ہم نے قصور کر کے اور انشاء اللہ نہ کہہ کر اور محتاجوں کو نہ دینے کی نیت کر کے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا ہے، پھر ایک دوسرے کو مخاطب کر کے باہم الزام دینے لگے کہ فلاں تو نے ایسا کیا اور فلاں تو نے ایسا کیا۔
Ayahs 68:31–33

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

کہنے لگے ہائے شامت ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

امید ہے کہ ہمارا پروردگار اس کے بدلے میں ہمیں اس سے بہتر باغ عنایت کرے ہم اپنے پروردگار کی طرف رجوع لاتے ہیں

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

(دیکھو) عذاب یوں ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کاش یہ لوگ جانتے ہوتے۔

(31۔ 33) اور پھر متفق ہو کر کہنے لگے بیشک ہم مسکینوں کو نہ دینے کی نیت کر کے نافرمانی کرنے والے تھے، شاید ہمارا پروردگار ہمیں اس باغ سے اچھا باغ جنت میں بدلہ میں دے دے ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ جو اپنے مال میں سے اللہ کا حق ادا نہ کرے دنیا میں اس کو اسی طرح عذاب ہوا کرتا ہے جیسا کہ ان لوگوں کا باغ جل گیا اور اس کے بعد بھوک کی تکلیف میں گرفتار ہوئے یا یہ کہ دنیا کا عذاب اسی طرح ہوا کرتا ہے جیسا کہ مکہ والے قتل اور بھوک کے عذاب میں گرفتار ہیں اور جو شخص توبہ نہ کرے اس کے لیے آخرت کا عذاب اس دنیا کے عذاب سے بھی بڑھ کر ہے۔ کیا اچھا ہوتا اگر اہل مکہ اس چیز کو جان لیتے مگر نہ یہ لوگ اس کو جانتے ہیں اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 68:34

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 68:34 in the Quran reader

پرہیزگاروں کے لیے ان کے پروردگار کے ہاں نعمت کے باغ ہیں

کفر و شرک اور بےحیائی کے کاموں سے بچنے والوں کے لیے آخرت میں آسائش کی جنتیں ہیں، جن کی نعمتیں ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 68:35

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader

کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں کی طرح (نعمتوں سے محروم) کردیں گے ؟

اور کہا گیا ہے کہ عتبہ بن ربیعہ نے کہا کہ محمد اپنے ساتھیوں سے جنت اور اس کی نعمتوں کا جو بیان کرتے ہیں اگر یہ بات صحیح ہے تو ہم ان لوگوں سے آخرت میں بھی اچھے ہوں گے جیسا کہ دنیا میں اچھے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کیا ہم جنت میں مسلمانوں کے ثواب کو مشرکین کے بدلہ کے برابر کردیں گے یا یہ کہ کیا آخرت میں ہم مشرکین کے بدلہ کو مسلمانوں کے ثواب کے برابر کردیں گے۔
Ayah 68:36

مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:36 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ کیسی تجویزیں کرتے ہو ؟

ہرگز نہیں مکہ والو تمہیں کیا ہوا اپنے لیے کیسا برا فیصلہ کرتے ہو کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو۔
Ayahs 68:37–39

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 68:37 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں (یہ) پڑھتے ہو۔

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ Open ayah 68:38 in the Quran reader

کہ جو چیز تم پسند کرو گے وہ تم کو ضرور ملے گی ؟

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:39 in the Quran reader

یا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں جو قیامت کے دن تک چلی جائیں گی کہ جس چیز کا تم حکم کرو گے وہ تمہارے لئے حاضر ہوگی

(37۔ 39) کیا اس کتاب میں تمہارے لیے وہ چیز لکھی ہو جس کو تم پسند کرتے ہو یعنی جنت ملنا، کیا ہمارے ذمہ کچھ قسمیں چڑھی ہوئی ہیں کہ تمہیں آخرت میں جنت ملے جس کا تم اپنے لیے فیصلہ کر رہے ہو۔